Dr.Muhammad Azam Nadwi

Dr.Muhammad Azam Nadwi

Share

Islamic scholar

03/11/2025

أنين الصباح

د. محمد أعظم الندوي

إلهي! عشتُ عصياني
وقد هدّمتُ بُنْياني

وقعت في أمانيَّ
فقدتُّ نورَ إيماني

نسيتُ وعدكَ الأسمى
وقد ضيّعت عرفاني

لقد أنْسَانِ شيطاني
بصدري حفظ قرآني

وصرتُ خاملَ الذكر
كأنّي دونَ عنوانِ

فجئتُ اليوم مكسورًا
بظهري حِمل طغياني

بكيت ذنوبَ أيامي
وإسرافي وعدواني

إلهي! أنتَ مقصودي
ببابك كلُّ سلطاني

لك الحمدُ، لك الشكر
بأنغامي وألحاني

بأفراحي وأشواقي
وأتراحي وأحزاني

بذكركَ يُورِقُ الزمنُ
ويزهو لحنُ أوزاني

لك الأكوانُ خاضعةٌ
فؤادي، جُلُّ وجداني

فإنْ سامحتَ زلّاتي
فذاك محض إحسان

وإنْ أطردتَّني طَردًا
فما ليَ غيرُ حرمانِ

لك العتبى متى ترضى
لقد أدمعتُ أجفاني

وأنت الواحد الصمد
فأبعِد لهَب نيران

15/08/2025

اپنی غلطیوں سے سیکھیں
مولانا مفتی محمد اعظم ندوی

انسان، ازل سے اپنے وجود کے سوال میں گم رہا ہے—وہ کیا ہے؟ کہاں سے آیا؟ کہاں جا رہا ہے؟ اور اس راستے میں جو کچھ وہ کرتا ہے، اس میں سب سے نمایاں پہلو اس کی غلطی ہے، غلطی محض ایک واقعہ نہیں، یہ دراصل انسان کی بشریت کا بیان ہے؛ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ وہ جاننے کی جستجو میں ہے، اور ہر قدم جو وہ آگے بڑھاتا ہے، اس میں لغزش کا احتمال موجود ہے، مگر لغزش ہی وہ محرک ہے جو انسان کو شعور کی اگلی سیڑھی پر لے جاتی ہے، بشرطیکہ وہ آنکھیں بند نہ کرے، غلطی کو اگر صرف عملی ناکامی سمجھا جائے تو ہم اس کی معنویت سے محروم رہتے ہیں، غلطی دراصل ہمارے باطن کی پکار ہے، جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہمارے علم، ادراک، نیت یا ارادے میں کوئی کمی رہ گئی ہے، یہ وہ شیشہ ہے جس میں ہمارا باطن ہمیں دکھائی دیتا ہے—بے نقاب، سادہ، اور اکثر شرمندہ۔ مگر اس شرمندگی میں ایک جمال بھی پوشیدہ ہے، کیونکہ یہی شرمندگی انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے، جیسا کہ مشہور مصنف رائے ایچ ولیمز (پ: 1958) نے لکھا ہے :
"A smart man makes a mistake, learns from it, and never makes that mistake again"
(ایک تیز طرار آدمی ایک غلطی کرتا ہے، اس سے سیکھتا ہے، اور وہ غلطی دوبارہ نہیں کرتا)۔
لیکن جو بات اس نے آگے کہی وہ زیادہ قابل توجہ ہے:
"But a wise man finds a smart man and learns from him how to avoid the mistake altogether"

( لیکن ایک دانا شخص کسی سمجھدار آدمی کو تلاش کرتا ہے اور اس سے یہ سیکھتا ہے کہ اس غلطی سے کلی طور پر کس طرح بچا جائے)
یہ قول دراصل شعور کی مسلسل تطہیر کا نقشہ کھینچتا ہے اور کسی آئیڈیل کی تلاش کا درس دیتا ہے۔

علمِ نفسیات کے جدید مناہج، مثلاً MindTools جیسے ادارے سکھاتے ہیں کہ خود احتسابی (Self-Reflection) اور اعترافِ خطا، انسان کی شخصیت کو گمنامی اور غفلت سے نکال کر بیداری کی جانب لے جاتے ہیں، خود احتسابی پر مبنی ڈائری لکھنا "Reflective Journaling" ہو یا اپنی کارکردگی کا جائزہ"Self-Appraisal"، یہ دراصل وہ ذرائع ہیں جن سے انسان اپنے وجود کے اندر چھپی کمزوریوں کو دیکھ سکتا ہے، اور انہیں خاموشی سے بدل سکتا ہے، یہ عمل صرف بیرونی اصلاح کا نہیں، بلکہ ایک باطنی انکشاف (inner revelation) کا ہے—جہاں آدمی اپنی اصل کو جاننے لگتا ہے۔

اسلامی روایت میں خطا کا تصور نہایت گہرا اور انسان دوست ہے، قرآن کی زبان میں شیطان کی سرکشی اور آدم کی توبہ دونوں ایک ہی وقت میں موجود ہیں، ایک حکم عدولی پر بھی دلیر، دوسرا خطا پر بھی نادم، ان کے نتائج الگ ہیں—کیونکہ ایک نے انکار کیا، دوسرے نے اعتراف، نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: "«كُلُّ بني آدَمَ خَطَّاءٌ، وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ» (صحيح ابن ماجہ، حدیث نمبر: 3447، )—گویا انسان ہونا خطاکار ہونا ہے، اور بہتر انسان وہ ہے جو اپنی خطا پر لوٹ آئے، یہ تعلیم دراصل وجودی بیداری کی وہ شکل ہے جہاں انسان اپنی کمزوری کو تسلیم کرکے ایک نئی اخلاقی بلندی پر پہنچتا ہے، کیا کبھی ہم نے سوچا کہ جو لوگ اپنے آپ سے لڑتے ہیں، وہی دنیا سے جیتتے ہیں؟ جو اپنی کمزوریوں کو پہچان لیتے ہیں، وہی دراصل طاقتور ہوتے ہیں؟ غلطی اس وقت خطرناک بنتی ہے جب ہم اسے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر جو شخص اپنی غلطی کو اظہارِ حق سمجھ کر قبول کرے، وہ نہ صرف اپنے اندر کی گرہیں کھولتا ہے، بلکہ دوسروں کے دل میں اپنی جگہ بناتا ہے، وہ شخصیت جو مسلسل خطاؤں سے سیکھتی ہے، وہ زندگی کے کینوس پر ایک تیز رفتار اور مسلسل ارتقائی سفر طے کر جاتی ہے۔

انسانی زندگی ایک متحرک متن ہے، جس میں ہر غلطی ایک حاشیہ ہے—کبھی سوالیہ، کبھی تنبیہی، اور کبھی توضیحی، ان حاشیوں کو نظر انداز کر دینا صرف ایک علمی خطا نہیں، بلکہ وجودی غفلت ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم غلطی کو دشمن نہ بنائیں، بلکہ استاد مانیں؛ کیونکہ وہی غلطی ہمیں خود سے ملاتی ہے، خود کو بدلنے کی ترغیب دیتی ہے، اور وجود کو ایک نئی جہت عطا کرتی ہے، یہی فلسفۂ زندگی ہے: گرنا حیات کی علامت ہے، اور سیکھ کر اٹھنا شعور کی۔

غلطی کے بارے میں ہماری عام فہم رائے یہ ہے کہ یہ ناکامی کی علامت ہے، لیکن دراصل یہ ہماری داخلی ساخت کا ایک ضروری جزو ہے، اگر ہم اس حقیقت کو مان لیں کہ خطا نہ صرف ایک حادثہ بلکہ ایک پیغام بھی ہے، تو یہ پیغام ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہم کس مقام پر کھڑے ہیں اور کہاں تک جانا باقی ہے، زندگی کا راستہ ایک ناہموار زمینی نقشہ ہے، اور اس پر چلنے والا ہر مسافر کبھی نہ کبھی ٹھوکر کھاتا ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ وہ اس ٹھوکر کو محض درد کا باعث سمجھے یا راستہ دکھانے والا اشارہ، کچھ لوگ ٹھوکر کھا کر رک جاتے ہیں، اور کچھ اسی لمحے اپنے اندر ایک نئی آنکھ کھول لیتے ہیں—ایسی آنکھ جو پہلے کے مقابلے میں زیادہ گہری اور دور رس نگاہ رکھتی ہے، یہ وہ کیفیت ہے جسے فلاسفۂ اخلاق "تجدیدِ ادراک" کہتے ہیں، یعنی اپنے شعور کو نئی تشکیل دینا، اس عمل میں غلطی محض ماضی کا واقعہ نہیں رہتی بلکہ مستقبل کا معمار بن جاتی ہے۔

ایک اہم مرحلہ وہ ہے جب انسان اپنے آپ سے بات کرنا سیکھتا ہے، یہ خاموش گفتگو اکثر دردناک ہوتی ہے، کیونکہ اس میں ہم اپنے چہرے سے وہ تمام نقاب اتار دیتے ہیں جو ہم نے دنیا اور خود اپنے لیے پہن رکھے ہوتے ہیں، یہی وہ مقام ہے جہاں "انکار" اور "اعتراف" کے دو دروازے کھلتے ہیں—ایک دروازہ ہمیں جمود اور فریب کی طرف لے جاتا ہے، اور دوسرا ہمیں تبدیلی اور ارتقا کی سمت، اس داخلی مکالمے کو اگر مسلسل جاری رکھا جائے تو یہ ہمیں اس جگہ لے جاتا ہے جہاں ہر فیصلہ ایک نئی اخلاقی بصیرت کے ساتھ کیا جاتا ہے، غلطی کے اعتراف میں ایک عجیب طرح کا سکون چھپا ہے، کیونکہ یہ ہمیں اپنے بارے میں وہ سچ سننے پر مجبور کرتا ہے جس سے ہم اکثر بھاگتے ہیں۔

قرآنِ کریم نے بارہا اس اصول کو بیان کیا کہ انسان کو اس کی کوتاہیوں سے جھنجھوڑا جائے تاکہ وہ جاگے اور پلٹ آئے: {وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ} (آل عمران: 139)
(کمزور نہ پڑو اور غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان والے ہو)

یہ آیت دراصل شکست یا غلطی کے بعد کی کیفیت کے بارے میں ہے، ایمان کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان کبھی نہ گرے، بلکہ یہ کہ گرنے کے بعد خود کو اس یقین کے ساتھ اٹھائے کہ اس کے پاس اب بھی سب کچھ درست کرنے کا موقع ہے۔

غلطی کو صرف ایک بوجھ سمجھنے والے لوگ اپنے ماضی کو کچلتے ہیں، مگر جو اسے سرمایہ سمجھتے ہیں، وہ اپنے ماضی کو ایک بنیاد بنا لیتے ہیں، تاریخ میں بڑے مصلحین اور مفکرین کا مطالعہ کیجیے، آپ دیکھیں گے کہ ان کی زندگیوں میں بڑی تبدیلیاں اکثر کسی شدید خطا یا ناکامی کے بعد آئیں، وہ لمحہ ان کے لیے ایک موڑ ثابت ہوا، جہاں سے ان کا فکری اور اخلاقی سفر ایک نئی سمت میں شروع ہوا، غلطی کے ساتھ اصل امتحان یہ نہیں کہ ہم اسے پہچان لیں، بلکہ یہ کہ ہم اس کی روشنی میں ایک نیا فیصلہ کیسے کریں، بعض اوقات ہمیں اپنی زندگی کے نقشے میں کچھ راستے ہمیشہ کے لیے بند کرنے پڑتے ہیں، اور کچھ نئے راستے کھولنے ہوتے ہیں، یہ جرات کہ ہم اپنی عادتوں، تعلقات، یا حتیٰ کہ اپنے خوابوں تک پر نظرِ ثانی کریں—یہی وہ جرات ہے جو ایک شخص کو عام مسافر سے ایک باشعور راہرو بنا دیتی ہے۔

انسان کے لیے سب سے بڑی شکست یہ نہیں کہ وہ گرے، بلکہ یہ کہ وہ گرا رہ جائے، گرنے کا فن سیکھنا مشکل نہیں، اصل ہنر یہ ہے کہ ہم اٹھنے کا شعور حاصل کریں، غلطی کا اعتراف اور اس سے حاصل ہونے والی بصیرت کو اپنے آنے والے ہر قدم میں شامل کرنا وہ راز ہے جو زندگی کو صرف وقت کا بہاؤ نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے ایک بامعنی سفر بنا دیتا ہے۔

08/08/2025

بے سمت ہوتی خواہشات اور اسلامی ہدایات
مولانا مفتی محمد اعظم ندوی
Follow the Dr.Muhammad Azam Nadwi channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VaLb1iDBlHpbdyDNKW3E

ہماری زندگی فتنوں، خواہشات، آزمائشوں اور مجاہدات کا ایک ایسا دائرہ ہے جس سے کوئی فرد بشر باہر نہیں، دل کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی نفسانی خواہشات کی آگ جب بھڑکتی ہے تو انسان اپنے آپ سے ہی برسرِ پیکار ہو جاتا ہے، اور اس آتش سوزاں میں جھلس جاتا ہے، یہ معرکہ باہر نہیں، انسان کے اندرون میں بپا ہوتا ہے؛ ایک خاموش مگر شدید جنگ، نفس کی شورش، خواہشات کا شور اور شیطان کی سرگوشیاں جب ایک ساتھ حملہ آور ہوتی ہیں تو بہت سے لوگ اس میدان میں شکست کھا جاتے ہیں، اور کامیاب ہونے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر رہ جاتی ہے، لیکن جو اس جنگ میں سرخرو ہو جاتا ہے، اسے صرف فتح نہیں ملتی، بلکہ زندگی کا حسن بھی اسی کے قدم چومتا ہے، وہ اپنے وقار واعتبار کی حفاظت کرتا ہے، عزت وناموس کو آلودگیوں سے بچاتا ہے، نفس کی پاکیزگی اسے جسمانی راحت بخشتی ہے، دل کو قوت اور روح کو اطمینان عطا کرتی ہے، ایمان کی بشاشت اسے سرشار رکھتی ہے، سینہ روشن ہو جاتا ہے، فکر وغم اور حزن وملال کے بادل چھٹ جاتے ہیں، اور اللہ سے اچھی امیدوں کی ایک دنیا آباد ہوجاتی ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: "إن للحسنة لنورا في القلب وضياء في الوجه، وسعة في الرزق وقوة في البدن، ومحبة في قلوب الخلق. وإن للسيئة لسوادا في الوجه، وظلمة في القلب، ووهنا في البدن ونقصا في الرزق، وبغضا في قلوب الخلق" (تفسیر ابن القیم، سورۂ شوری: 30) {نیکی دل میں نور، چہرے پر چمک، جسم میں طاقت، رزق میں وسعت اور لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتی ہے، جب کہ گناہ چہرے کو سیاہ، دل کو تاریک، ، جسم کو کمزور، رزق کو تنگ کرتا ہے، اور لوگوں کے دلوں میں نفرت کا سبب ہوتا ہے، اور یہ اثرات وہی شخص محسوس کرسکتا ہے جو صاحبِ بصیرت ہو، جو انہیں اپنی ذات میں بھی دیکھتا ہے اور دوسروں میں بھی مشاہدہ کرتا ہے}

اللہ تعالیٰ نے ہمیں شہوات کے خطرے سے خبردار فرمایا ہے، ارشاد ہے: {زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ} [آل عمران: 14] یعنی لوگوں کے لیے عورتوں کی محبت اور دیگر خواہشات کو خوشنما بنا دیا گیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا: "مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ " (میں اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ کوئی فتنہ چھوڑ کر نہیں جا رہا ہوں) {بخاری: کتاب النکاح، باب مایتقی من شؤم المرأة، حدیث نمبر: 5096}
اور ایک اور موقع پر فرمایا: "وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ " {عورتوں سے بچو، کیونکہ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں ہی کے سبب ہوا تھا}، حضرت یحی بن معاذ رازی (م:258ھ) فرماتے ہیں: "من أرضى الجوارح باللذات فقد غرس لنفسه شجر الندامات"{جس نے اپنے اعضا وجوارح کو لذتوں سے راضی کیا، اس نے خود اپنے لیے ندامتوں کا درخت لگا دیا}، کسی صاحب نظر کا قول ہے: "من لم يعلم أن الشهوات فخوخ فهو لعاب" {جو یہ نہیں جانتا کہ خواہشات در اصل پھندے ہیں، وہ کھلنڈرا ہے}۔

لیکن افسوس کہ تاریخ میں کبھی کوئی ایسا دور نہ آیا تھا جس میں خواہشات کو اس قدر تقدیس کا درجہ دیا گیا ہو جتنا کہ آج کے جدید دور میں دیا جا رہا ہے، پہلے خواہشات کو قابو میں رکھنے کا نام تہذیب تھا، آج خواہشات کی پیروی کو ہی تہذیب قرار دیا جا رہا ہے، میڈیا، فیشن، انٹرٹینمنٹ، تعلیم، حتیٰ کہ قانون سازی، ہر میدان میں نفس کو معبود بنانے کی مہم چل رہی ہے، اور "اتباع ھدی" کے بجائے "اتباع ھوی" کی گرم بازاری ہے، جو چیز خواہش نفس کو تسکین دے، وہ حق ہے؛ اور جو چیز اسے روکے، وہ ظلم، انسانیت کی اس سے بڑی ہلاکت اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے خالق کی وحی کو پس پشت ڈال کر اپنی جبلّت کو رہبر بنا لے، اور پھر اسی کو آزادی، ترقی اور شناخت کا نام دے دے۔

مغربی تہذیب نے خواہشات کو محض فرد کا مسئلہ نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے معاشرتی قدر، ثقافتی شناخت، اور آئینی حق بنا دیا، دونوں صنفوں کی فطری ساخت کو رد کرتے ہوئے 'ایل جی بی ٹی کیو پلس' (LGBTQ+) جیسے نظریات کو اس شد ومد سے اپنایا گیا کہ اب مرد مرد سے اور عورت عورت سے خواہشات پوری کریں، یہ عین تہذیب ہے، یہاں تک کہ انسان اپنی جنس خود متعین کرنے لگا، جیسے خالق کا فیصلہ نہیں بلکہ انسان کی مرضی اصل معیار ہے، یہ وہ باغیانہ رویہ ہے جو فطرت کی توہین بھی ہے اور عقل کی تحقیر بھی، اور جسے آج روشن خیالی، سائنسی شعور اور انسانی حقوق کا نام دے کر پھیلایا جا رہا ہے، اور دن بدن اس کے خلاف آواز اٹھانا جرم ہوتا جارہا ہے۔
یہ گراوٹ یہیں نہیں رکی، وہ دروازے جو کبھی بند رکھے جاتے تھے، وہ اب نہ صرف کھول دیے گئے بلکہ ان پر قالین بچھا کر دعوت عام دی جا رہی ہے، زوفیلیا Zo*****ia یعنی جانوروں سے جنسی تعلق جیسے حیوانی رجحانات، جنہیں پہلے نفسیاتی بیماری سمجھا جاتا تھا، اب کچھ حلقے ان کے لیے بھی قبولیت کی راہیں ہموار کر رہے ہیں، مغرب میں بعض دانشور، فنکار، اور ماہرین نفسیات، "کِنک کلچر" (kink culture) اور "کَنسینشوئل نان-ہَیومن" (Consensual Non-Human) جیسے نظریات کے تحت ان افعال کو "متبادل شناخت" کا حصہ قرار دیتے ہیں، یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی انسانیت سے دستبردار ہو کر حیوانیت پر فخر کرنے لگا ہے، جدید دور میں لا جنسیت Asexuality کو بھی ایک شناخت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، ایسے افراد خود کو نہ مردوں کی طرف مائل سمجھتے ہیں نہ عورتوں کی طرف، بلکہ ہر طرح کی جنسی کشش سے لاتعلق ہوتے ہیں، مغرب میں اسے جنسی آزادی کی ایک شکل اور "متبادل شناخت" قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ فطرت کی رو سے یہ ایک انحراف ہے۔ اسلام میں جنسی کشش کو نکاح، محبت، اور نسل کی بقا کا ایک فطری ذریعہ مانا گیا ہے، اور اس سے گریز یا بغاوت ایک غیر طبعی رویہ ہے، جسے افتخار کا عنوان نہیں بنایا جا سکتا، کچھ افراد مکمل طور پر جنسی کشش سے خالی ہوتے ہیں، جب کہ بعض کو مخصوص حالات یا جذباتی تعلق کے بعد تھوڑی بہت کشش محسوس ہو سکتی ہے، اسے "demisexual" کہا جاتا ہے۔
اس فکری و اخلاقی زوال کے پس پشت ایک ہی اصول کارفرما ہے کہ نفس جو چاہے، وہی حق ہے، یہ درحقیقت ابلیس کی ایجاد کی ہوئی وہی صدیوں پرانی روش ہے جس میں وہ آدمی کو فطرت سے ہٹا کر خواہشات کے راستے پر لانا چاہتا ہے، تاکہ وہ اپنے رب کا نافرمان اور اپنی جبلّت کا غلام بن جائے، مگر ایک باشعور مومن اس فریب میں نہیں آتا، وہ جانتا ہے کہ خواہشات کا بندہ دراصل عزت، سکون اور نجات سے محروم ہوتا ہے، اور نفس کو قابو میں رکھنے والا ہی دنیا و آخرت کی حقیقی فلاح پاتا ہے۔

یہ معرکہ، جو انسان کے باطن میں ہر لمحہ جاری ہے، محض ایک نفسیاتی کشمکش نہیں بلکہ ایک روحانی جہاد ہے، نفس کی لگام کو آزاد چھوڑ دینا بظاہر آزادی ہے، مگر درحقیقت یہ غلامی کی بدترین صورت ہے۔ مغرب نے جس آزادی کا پرچم اٹھایا ہے، وہ انسان کو انسان نہیں رہنے دیتا؛ وہ اسے فطرت سے بغاوت سکھاتا ہے، اور خواہشات کی غلامی کو زندگی کا منتہا قرار دیتا ہے۔ لیکن ایک مومن جانتا ہے کہ اصل آزادی رب کے حکم کی اطاعت میں ہے، اصل سکون خواہشات کو قابو میں رکھنے میں ہے، اور اصل عزت وہی ہے جو تقویٰ کے سائے میں نصیب ہوتی ہے۔ پس جو اس معرکے میں اپنے نفس پر غالب آ گیا، وہی کامیاب ہے، اور جو اس میں ہار گیا، اس کے لیے دنیا بھی خسارے کی جگہ ہے اور آخرت بھی، یہی وہ فیصلہ کن جنگ ہے جس کے انجام پر انسان کی دائمی قسمت کا دار ومدار ہے، اس لیے یاد رکھنا چاہیے کہ جو اپنے نفس پر غالب آ جاتا ہے، وہی دراصل زمانے پر غالب آتا ہے۔

03/08/2025

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
*Juma Khutba* at
*Masjid E Baqi*
*Friday, 1st Aug 2025*
إن شاء الله
by: *Dr. M***i Muhammad Azam Nadwi*

Topic : *Superstition and Islam*
*اوہام پرستی اور اسلام*

Timings : Urdu lecture from *12.35pm* followed by Juma Khutba.

Please come early and park your vehicle properly.

Separate arrangements for *Ladies*. Please spread the word.
*جزاكم الله خير*

Kindly Note & Share with others.

https://maps.app.goo.gl/QP5kCLeCRhdUimsm8

28/07/2025

انتہائی افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے

28/07/2025

26/07/2025

23/07/2025

بھوک سے دم توڑتے بھائیوں کا نوحہ

ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

غزہ اب ایک شہر نگاراں نہیں، شہر خموشاں بنتا جا رہا ہے، جہاں قبریں کھودنے کے لیے ہاتھ کم پڑ گئے ہیں، گور کن زندہ در گور ہیں، جہاں مائیں اپنے ننھے بچوں کی لاشوں کو آنکھوں سے لگاتی ہیں اور خود بھوک کی تاب نہ لاکر موت کی آغوش میں سو جاتی ہیں، جہاں موت اب محض گولی یا بم سے نہیں، بلکہ گرسنگی اور شدت جوع سے آتی ہے، یہاں خیموں میں رہنے والے بے بس ہوتے مردان حر صرف دو چیزوں کا سامنا کر رہے ہیں: اوپر سے اترتی آگ، اور اندر سے اٹھتی بھوک کی چیخ، دوائیں ختم ہو چکی ہیں، دواخانوں میں گنجائش باقی نہیں، اوپر کھلے آسمان کا دھواں دھواں سائبان اور نیچے کھلی جیل میں روٹی کی تلاش، انسانی جسم اب صرف شبیہوں میں تبدیل ہوچکے ہیں، جھلسی ہوئی کھال، ابھری ہوئی ہڈیاں، اور کراہتی ہوئی پکاریں، مگر دنیا نے ان پکاروں پر بھاری قسم کے noise-cancelling ہیڈفون پہن رکھے ہیں۔

یونیسف (UNICEF) کے مطابق اس وقت غزہ کے کم از کم 470,000 افراد Integrated Food Security Phase Classification کے تحت مرحلہ پنجم (IPC Phase 5) یعنی تباہ کن سطح (Catastrophic Level) کے قحط کا سامنا کر رہے ہیں، جو قحط کی آخری اور سب سے ہلاکت خیز حالت ہے، اس درجہ میں انسان خوراک تک رسائی سے مکمل محروم ہوتا ہے، اور موت کی دہلیز پر کھڑا ہوتا ہے، مزید یہ کہ 71,000 سے زیادہ بچے شدید نوعیت کی غذائی قلت یا سوء تغذیہ (Severe Acute Malnutrition) کے شکار ہو چکے ہیں، جنہیں فوری اور ایمرجنسی سطح کے علاج کی ضرورت ہے، ان کے ساتھ تقریباً 17,000 مائیں بھی ایسی ہی حالت سے دوچار ہیں، جو سخت بھوک سے موت وحیات کی کشمکش میں ہیں، یہ صرف اعداد وشمار نہیں، بلکہ ہر ہندسہ کے پیچھے ایک ہڈیوں کا ڈھانچہ، ایک ماں کی کراہ، ایک باپ کی حسرت، ایک بچہ کی بد دعا اور انسانیت کے اجتماعی ضمیر کی بے غیرتی ہے۔

الجزیرہ کے سینئر صحافی انس الشریف، جنہوں نے گزشتہ 21 مہینوں سے غزہ کے میدان میں مستقل رپورٹنگ کی، آج خود کیمرہ کے سامنے لڑکھڑاتے ہوئے کہنے پر مجبور ہوتے ہیں: "میں بھوک سے کانپ رہا ہوں، نقاہت سے گرا جارہا ہوں، اور ہر لمحہ اپنے اوپر چھا جانے والی نیم بے ہوشی سے لڑ رہا ہوں، ہم کیمرے کے سامنے جتنے بھی مضبوط نظر آئیں، اندر سے ہم بکھر چکے ہیں، غزہ مر رہا ہے، اور ہم اس کے ساتھ مر رہے ہیں، اگر دنیا نے آج حرکت نہ کی تو کل شاید کوئی باقی نہ بچے جو نجات کی امید رکھے، یہ موت رکنی چاہیے، یہ محاصرہ ٹوٹنا چاہیے، یہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔"

غزہ میں قحط کی نوعیت نہ صرف عمومی قلتِ خوراک کی ہے، بلکہ یہ بھوک بطور ہتھیار starvation as a weapon کا زندہ مظہر ہے، اسرائیلی افواج امدادی مراکز، بڑے باورچی خانوں، راشن کی تقسیم کے مقامات اور یکجا افراد کے مجمع کو نشانہ بناتی ہیں، ایک راشن کٹ تک پہنچنے کی کوشش میں کوئی بچہ شہید ہو جاتا ہے، یا کسی ماں کے ہاتھ میں روٹی آنے سے پہلے ہی اس پر آگ برسائی جاتی ہے، Relief centers اب "مصائد الموت" یعنی موت کے پھندے کہلاتے ہیں، یہاں خوراک لینے والے کھانوں کے بجائے لاشیں اٹھائی جاتی ہیں۔

غزہ کی گلیوں میں اب ہر لب پر ایک سوال ہے: "هل إلى لقمةٍ من سبيل؟" — کیا ایک نوالہ مل پائے گا؟ یہ سوال صرف ایک بچہ، ایک ماں، یا ایک بوڑھے انسان کی آہ نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے تقریباً 2 ارب افراد کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی سرگوشی ہے، امت جو اپنے اسراف، عیاشی اور مجازی سرگرمیوں virtual activism کے خمار میں مبتلا ہے، جس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تو آن ہیں، مگر ان کے دل کے دروازے بند ہو ہیں، 71 ہزار بچوں کی خالی آنتیں امت کی فکری بانجھ پن پر سب سے بڑی گواہی ہیں۔

ابو عبیدہ، قسام بریگیڈ کے ترجمان، جب عرب دنیا کو آواز دیتے ہیں تو کچھ لمحے کے لیے سوشل میڈیا پر احتجاج، ہیش ٹیگ، اور وقتی مہمات کی لہر اٹھتی ہے، مگر پھر وہی معمول، وہی خواب غفلت، اور وہی "ڈیجیٹل ماتم" جس میں عملی قدم کا کوئی تصور نہیں ہوتا، حالانکہ ابو عبیدہ کی ہر پکار اس جذبہ کو جگانے کے لیے کافی ہے جس نے صدیوں تک اقوام کو زندہ رکھا تھا۔

اس منظرنامہ میں ایک سوال تمام انسانیت سے ہے: کیا تاریخ ہمیں معاف کرے گی؟ غزہ اب صرف فلسطین کا خطہ نہیں، بلکہ انسانیت کے وجود کا ٹیسٹ کیس ہے، یہ ہماری تہذیب، ہماری روح، نبی سے ہماری نسبت، اور ہماری اجتماعی اخلاقیات کا امتحان ہے، اگر ہم خاموش رہے، اگر ہم نے محض رپورٹس پڑھی، آنکھ نم کی، اور آگے بڑھ گئے، تو کل جب تاریخ لکھی جائے گی تو شاید یہ سطریں بھی اس میں ہوں گی:

"جب بچے بھوک سے مر رہے تھے، تب انسانیت نیٹ فلکس دیکھ رہی تھی… اور مسلمان خاموش تھے۔"

اور جب قبریں بھر جائیں گی، آنکھیں خشک ہو جائیں گی، اور اذانیں بند ہو جائیں گی، تب غزہ کی ایک ماں ہماری روح کو جھنجھوڑ کر کہے گی:
"اے زندہ کہلانے والے محروم ومرحوم انسان! میں نے اپنا بچہ بھوکا دفنایا، اور تم خاموش تھے!"

عبد العزیز فضلی نے لکھا ہے:
ہم نے بوسنیا کی جنگ (1992–1995) کے ایام میں بہت دُکھ سہے، جب ہم نے دیکھا کہ کس طرح سرب فوج نے بوسنیائی مسلمانوں پر ہولناک مظالم کیے، ان کی عزتوں کو پامال کیا، ان کے شہروں کو راکھ کا ڈھیر بنادیا، اس جنگ میں ایک لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہوئے، لاکھوں زخمی و معذور ہوئے، اور 20 ہزار سے زائد لڑکیاں اور عورتیں درندگی کا نشانہ بنیں، جب کہ 40 ہزار سے زیادہ افراد ہمیشہ کے لیے لاپتہ ہو گئے، سراييو (Sarajevo) کا محاصرہ ہوا، شدید بمباری ہوئی، جس کے نتیجہ میں 11 ہزار انسان شہید ہوئے، جن میں 1600 بچے بھی شامل تھے۔

یہ جنگ دسمبر 1995 میں ختم ہوئی…
اور ہم نے گمان کیا کہ شاید یہ مسلمانوں کی آخری بڑی مصیبت ہو گی، ہم نے اس وقت کہا تھا: اگر بوسنیا کے گرد اسلامی ممالک کی سرحدیں ہوتیں،
تو شاید وہاں کے مسلمانوں کو یہ مظالم نہ سہنے پڑتے، لیکن یہ گمان (اور گمان کا بعض حصہ گناہ ہے) آج جھوٹا ثابت ہوا! کیوں کہ آج غزہ کے ہمارے اہلِ وطن
جس وحشیانہ قتلِ عام، جس اجتماعی نسل کشی، جس خونی محاصرہ اور جس قحط وفاقہ کا سامنا کر رہے ہیں
وہ بوسنیا کی ہولناکیوں سے بھی بڑھ چکا ہے، غزہ میں اب تک دو لاکھ سے زائد افراد یا تو شہید ہو چکے ہیں یا زخمی، جن میں ایک تہائی خواتین اور بچے ہیں، محاصرہ اتنا سخت ہو چکا ہے کہ لوگ بھوک اور نقاہت سے سڑکوں پر گرنے لگے ہیں، بچوں کی لاشیں ہڈیوں کے ڈھانچے بن چکی ہیں۔

ہم نے اپنی آنکھوں سے خون میں بھیگے ہوئے روٹی کے ٹکڑے دیکھے،ایسے تھیلے دیکھے جو کھانے کے لیے اٹھائے گئے تھے،
لیکن اُن میں واپس کھانا نہیں بلکہ اُن کے اٹھانے والے شہداء لوٹے! یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب
غزہ۔کے ارد گرد مصر واردن جیسے مسلم ممالک ہیں، ہم اللہ کے سامنے کیا عذر پیش کریں گے؟! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "وہ شخص مجھ پر ایمان نہیں لایا، جو خود شکم سیر ہو اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو، اور اسے علم بھی ہو!" نبی اکرم ﷺ نے تو یہاں تک فرمایا کہ: "ایک عورت صرف اس لیے جہنم میں داخل ہوئی کہ اس نے ایک بلی کو بند کر کے رکھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی!"
امام ماوردی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "الأحکام السلطانیة" میں ذکر کیا ہے کہ
خلیفہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں سے ایک پیاسے کی دیت لی تھی جنہوں نے ایک شخص کو پانی نہ دیا، جس کے نتیجہ میں وہ ہلاک ہو گیا، اسی طرح امام الجوینی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "الغياثي" میں لکھا ہے: "اگر کوئی غریب شخص بھوک سے مر جائے
اور مال دار لوگ اس کے بارے میں جانتے ہوں تو وہ سب گناہگار ہوں گے،
اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے بازپرس کرے گا!"


20/07/2025
05/06/2025

عشرۂ ذی الحجہ: بندگی کی جولاں گاہ اور تسلیم ورضا کا موسمِ بہار

مولانا مفتی محمد اعظم ندوی

خداوندِ قدوس کی حکمتِ بالغہ نے انسانی زندگی میں کچھ ایسے روحانی موسم رکھ دیے ہیں جن میں اطاعت و بندگی کے دروازے اور زیادہ کشادہ ہو جاتے ہیں اور جن میں عبادتوں کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے، ان ہی مقدس دنوں میں انتہائی برگزیدہ، بہت بابرکت اور عظیم ایام عشرۂ ذی الحجہ کے ہیں، جن کی عظمت کا اظہار خود رب کائنات نے اپنی کتاب میں فرمایا: "والفجر، ولیال عشر" (الفجر: ۱-۲)، یہ وہ دن ہیں جن میں عبادتوں کی تمام اصناف جمع ہو جاتی ہیں: نماز، روزہ، صدقہ، حج، ذکرودعا، تلاوت، قربانی،اور مبارک ایام بھی جیسے یوم النحر یعنی دس ذی الحجہ،یوم عرفہ یعنی نو ذی الحجہ اور یوم الترویہ یعنی آٹھ ذی الحجہ ، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں: ’’والذي يظهر أن السبب في امتياز عشر ذي الحجة لمكان اجتماع أمهات العبادة فيه وهي الصلاة والصيام والصدقة والحج، ولا يتأتى ذلك في غيره‘‘(ذی الحجہ کے دس دنوں کے امتیازات کے سلسلہ میں بہ ظاہر مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہان دس دنوں کی خصوصیت اس لیے ہے کہ ان میں اہم عبادات کی تمام اقسام جمع ہو جاتی ہیں، جیسے نماز وروزہ، اور صدقہ وحج،یہ شان کسی اور موقع کو حاصل نہیں)۔ (فتح الباری: ج2، ص460)
یہ وہ دن ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کو ان دنوں میں کیے جانے والے اعمال جتنے محبوب ہیں، باقی دنوں میں اتنے محبوب نہیں—حتی کہ جہاد بھی نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی جان ومال لے کر نکلا اوراس نے اپنا سب کچھ اللہ کے لیے قربان کر دیا" (صحیح بخاری : ابواب العیدین، باب فضل العمل في أيام التشريق، حدیث نمبر:969)، سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ان دنوں میں کثرت سے تہلیل، تکبیر اور تحمید کیا کرو" یعنی لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر اور الحمد للہ کا ورد کرتے رہا کرو‘‘(العجم الکبیرللطبراني، مجاہد عن ابن عباس، حدیث نمبر:11116)، حضرت سعید بن جبیرؒ، جو ابن عباسؓ کے شاگردِ رشید تھے، ان کا حال یہ تھا کہ’’ وكان سعيد بن جبير إذا دخل أيام العشر اجتهد اجتهادا شديدا، حتى ما يكاد يقدر عليه‘‘ (مسند الدارمي: ومن كتاب الصيام، باب في فضل العمل في العشر،حدیث نمبر: 1798) (جب یہ عشرہ آتا تو اپنی عبادت میں اتنا انہماک پیدا کرتے کہ ان کے لیے اس کی تاب لانا دشوار ہو جاتا، ان کا ہی یہ قول بھی منقول ہے:’’لا تطفئوا سرجكم ليالي العشر‘‘ (لطائف المعارف لابن رجب، ص263)، (عشرہ کی راتوں میں چراغ مت بجھاؤ)، گویا کہ ہر لمحہ عبادت سے معمور اور خصوصاً تہجد سے روشن ہو، لیکن اصل فضیلت ان راتوں سے زیادہ دنوں کی ہے،شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ دنوں کے اعتبار سے عشرۂ ذی الحجہ رمضان کے آخری عشرہ سے افضل ہے، البتہ راتوں کے اعتبار سے رمضان کا آخری عشرہ افضل ہے، (مجموع الفتاوی الکبری لابن تیمیہ: ج2،ص477)،اور یہی تو حکمت ہے… کہ اللہ نے عبادت کے عاشقوں کو ہر سمت سے مواقع دیے ہیں: کسی کے لیے دن، کسی کے لیے رات، کسی کے لیے عرفہ کا روزہ، کسی کے لیے تہجد کی خلوتیں۔
عرفہ کا دن، جو ان دس دنوں کا نواں دن ہے، اپنے اندر عرفان، خشیت، مغفرت اور رب کریم کے قرب کی وہ سرشاری رکھتا ہے کہ کوئی دوسرا دن اس کے مثل نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ عرفہ کے دن کا روزہ ایک سال پچھلے اور ایک سال اگلے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا" (صیح مسلم:كتاب الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة أيام من كل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء والاثنين والخميس، حدیث نمبر: 1162)، عشرۂ ذی الحجہ فقط حاجیوں کا نصیب نہیں،جو لوگ حج پر نہیں جا سکتے، ان کے لیے بھی میدانِ بندگی وسیع ہے، ان کے لیے نمازیں ہیں، تلاوت ہے، صدقہ ہے، والدین کی خدمت ہے، مساکین کی اعانت ہے، صلہ رحمی ہے، قیام اللیل ہے، ذکر و اذکار ہیں، اور سب سے بڑھ کر دل کا تقویٰ ہے جو قربانی میں مطلوب ہے: ’’لن ینال اللہ لحومھا ولا دماؤھا ولکن ینالہ التقوی منکم‘‘ (الحج: 37)۔قربانی ایک رسم نہیں، بلکہ حضرت ابراہیمؑ کی سنت اور حضرت اسماعیلؑ کی تسلیم و رضا کی یاد گارہے، یہی وہ مقام ہے جہاں ہم اپنے "نفس" کو ذبح کرتے ہیں، اپنی انا کو قربان کرتے ہیں، اور بندگی کی خلعت پہنتے ہیں،اور مقصود خود کو اس کا عادی بنانا ہے،دو چار روز کا تقوی نہیں۔
اس عشرہ میں مستحب یہ بھی ہے کہ جس شخص کو قربانی کرنی ہو، وہ ذی الحجہ کا چاند نظر آتے ہی اپنے ناخن اور بال نہ کاٹے، جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں آیا: ’’جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھو اور کسی کا ارادہ ہو کہ قربانی کرے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے‘‘ (مسلم:كتاب الأضاحي، باب نهي من دخل عليه عشر ذي الحجة...حدیث نمبر: 1977)،تکبیرات تشریق بھی ان دنوں کی ایک خاص سنت ہے، جو 9 ذی الحجہ کی فجر سے لے کر 13 کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز میں کہی جاتی ہے: ’’اللّٰہُ أَكْبَرُ، اللّٰہُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَكْبَرُ، اللّٰہُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰہِ الْحَمْد‘‘۔
یہ عشرہ صرف عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ تقویٰ کا آئینہ ہے، دل کی صفائی کا موقع ہے، اور عملی انقلاب کا آغاز ہوسکتاہے، ان دنوں میں غیبت، جھوٹ، نظر کی خیانت، زبان کی آفت، دل کی کجی اور نیت کی ملاوٹ سے بچنا عین عبادت ہے؛بندے کو چاہیے کہ ان دنوں میں ہر لمحہ کو قیمتی جانے، سحر خیزی کو شعار بنائے، والدین کے قدموں کو جنت سمجھے، رشتہ داروں کی دلجوئی کرے، گناہوں سے توبہ کرے، مسجد کو اپنا مسکن بنائے، اور ہر لمحہ اللہ کی رضا کی جستجو میں لگا رہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “ذٰلِکَ وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰہِ فَإِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ” (الحج: 32)۔(جو شخص اللہ کی نسبت رکھنے والی یادگاروں کا ادب کرتا ہے تو یہ اس وجہ سے ہے کہ دلوں میں اللہ کا ڈر ہے)۔
یاد رکھیں! عشرۂ ذی الحجہ وقت کے صحیفہ میں ان سطروں کا نام ہے جن پر مغفرت، قربت، اور ابدی فوز و فلاح کے عنوان ثبت ہیں،یہ دن اگر غفلت میں گزر گئے، تو شاید پھر ایسے لمحے نہ آئیں، آئیے، ان ایّام کو معرفت کی سیڑھی، قربانی کی منزل، اور بندگی کے راستے کا چراغ بنائیں۔
اے وہ ذات جس نے ان دنوں کو بخشش کا موسم بنایا! ہمیں ان میں خود کو تلاش کرنے، گناہوں پر رونے، عبادات سے جڑنے، اور اپنی رضا میں گم ہو جانے کی توفیق عطا فرما!

16/05/2025

پانی: نعمت بھی، امانت بھی
مولانا مفتی محمد اعظم ندوی

پانی… یہ محض ایک بے رنگ سیال نہیں، بلکہ زندگی کی خاموش نبض ہے، جو ہر شے میں دھڑکتی ہے، یہ قدرت کا وہ نغمہ ہے جو بادلوں کے ساز پر بجتا ہے، زمین کی کوکھ سے ابھرتا ہے، اور ہر جاندار کے وجود میں اثر انداز ہوتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جو ہر وقت ہماری نگاہ کے سامنے رہتی ہے مگر افسوس، شعور کی آنکھ سے اوجھل ہے، اگر یہ ایک لمحے کے لیے رُک جائے، تو زمین کے سینے پر سانس لینا دشوار ہو جائے، بستیوں کے چراغ بجھ جائیں، تہذیبیں ماضی کی قبروں میں دفن ہو جائیں، اور جب یہی پانی اترتا ہے تو صحرا نخلستان بن جاتے ہیں، ویران میدان گلزاروں میں ڈھلتے ہیں، اور مردہ زمین زندہ ہو اٹھتی ہے، قرآن کہتا ہے:
"اور تم دیکھتے ہو کہ زمین مرجھائی ہوئی پڑی ہے، پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ حرکت میں آتی ہے، اس میں بڑھوتری ہوتی ہے، اور وہ ہر قسم کی خوشنما چیزیں اگاتی ہے" (الحج:5)

قرآن مجید میں اور بھی متعدد مقامات پر پانی کی اہمیت اور اس کی معنوی افادیت کو اجاگر کیا گیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا" (الأنبیاء: 30)، یہ محض ایک دینی بیانیہ نہیں بلکہ ایک سائنسی صداقت بھی ہے، جدید علم الحیات کی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہر جاندار کی ترکیب میں ایک خاص لطیف مادہ پایا جاتا ہے، جسے نخز مایہ اور پروٹو پلازما protoplasm کہتے ہیں، یہ وہ بنیادی جوہر ہے جس سے خلیے بنتے ہیں، اور جس کی ساخت کا بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہے، گویا پانی محض بیرونی زندگی ہی نہیں، بلکہ اندرونی وجود کا بھی جوہر ہے، بعض مفسرین نے "پانی" کی تفسیر میں اسے نطفۂ حیات حیاتی مادہ seminal fluid قرار دیا ہے، اور بعض نے اسے پروٹو پلازما کے وسیع مفہوم میں دیکھا ہے۔ طبِ جدید اور علمِ حیوانات biology کے مطابق، تمام جانداروں کے جسمانی نظام میں پانی نہ صرف بطورِ مرکب موجود ہے بلکہ جسمانی افعال کی تکمیل کا ذریعہ بھی ہے، "کل" کا لفظ یہاں عمومی ہے، اور اگر چند استثنائی مثالیں بھی ہوں، تو وہ اس قاعدہ کلیہ کے مفہوم کو ختم نہیں کرتیں، جیسا کہ علمِ بلاغت میں معروف ہے۔

یہی پانی جب آسمان سے برستا ہے، تو زمین کے مردہ ذرات میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے، بارش کا ہونا، چشموں کا ابلنا، نہروں کا بہنا، سب قدرت کے ایک ایسے نظامِ فیض کا حصہ ہے، جو انسان کو اپنی بے بسی اور اللہ کی قدرت کا احساس دلاتا ہے، قرآن میں فرمایا گیا: "کیا تم نے اس پانی پر غور کیا جو تم پیتے ہو؟ کیا تم نے اسے بادلوں سے برسایا یا ہم برسانے والے ہیں؟" (الواقعہ: 68-69)۔ یہ سوال محض استفسار نہیں، بلکہ ایک تنبیہ ہے—کہ جس نعمت کو تم نے روزمرہ کی عادت سمجھ رکھا ہے، وہ دراصل ایک عطیہ ہے، ایک امانت ہے، جو کسی بھی لمحے واپس لی جا سکتی ہے، اس لیے ہر حال میں اس کے بے جا استعمال سے منع کیا گیا، امام احمد اور امام ابن ماجہ نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد کے پاس سے گزرے، جب وہ وضو کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: "اے سعد! یہ کیسا اسراف ہے؟" انہوں نے عرض کیا: "کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟" تو آپ نے فرمایا: "ہاں، اگرچہ تم جاری نہر پر ہی کیوں نہ ہو۔"(احمد:6768، ابن ماجہ:419)

اس ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی کی قدر صرف قلت کے وقت ہی نہیں، فراوانی کے عالم میں بھی کی جاتی ہے، یہ شعور، یہ وقار، اور یہ تمیز ہی دراصل اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے، وضو جو ایک روحانی عمل ہے، اس میں بھی پانی کے استعمال میں میانہ روی کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ انسان اپنے رویّے سے اللہ کی نعمت کی قدر اور اس کے آداب کو سمجھے۔

اسلام صرف عبادت کا دین نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے، جس میں ماحولیات، وسائل، اور فطری توازن کو خاص مقام حاصل ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: "کھاؤ، پیو، لیکن اسراف نہ کرو، بے شک اللہ فضول خرچوں کو پسند نہیں کرتا" (الأعراف: 31)، اور مزید فرمایا: "بے شک فضول خرچ شیطانوں کے بھائی ہیں" (الإسراء: 27)۔ یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ پانی کا بھی فضول استعمال ایک اخلاقی انحطاط ہے، جو انسان کو شیطانی راستوں کی طرف لے جاتا ہے۔

بدقسمتی سے جدید دنیا، جو سائنس، ترقی اور ٹکنالوجی کے زعم میں آسمانوں کو چھو رہی ہے، وہ زمین پر بہتے پانی کے احترام سے محروم ہوتی جا رہی ہے، کارخانوں کا فضلہ، کیمیائی زہر، زرعی بے احتیاطیوں اور شہری غفلت نے پانی کے صاف ذخائر کو آلودگی کے گڑھے میں تبدیل کردیا ہے، برفانی دریا یعنی گلیشیئر Glacier تیزی سے پگھل رہے ہیں، زیرزمین ذخائر گھٹ رہے ہیں، بارشیں بے موسم ہو چکی ہیں، اور دریاؤں کے دھارے سوکھ رہے ہیں، اگر آج ہم نے سنجیدگی سے اصلاح نہ کی تو مستقبل کی نسلیں پیاس، ہجرت، بیماری اور خانہ جنگی جیسے المیوں سے دوچار ہو سکتی ہیں، قرآنِ کریم میں ہے: "اور ہم نے آسمان سے ایک خاص مقدار میں پانی نازل کیا، پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیا، اور ہم اسے لے جانے پر بھی قادر ہیں" (المؤمنون: 18)۔ یہ آیت ایک طرف اللہ کے علم اور قدرت کی وسعت کو بیان کرتی ہے، تو دوسری طرف انسان کو خبردار بھی کرتی ہے کہ اگر تم نے اس نعمتِ ربانی کو ضائع کیا، تو تم اس سے محروم کیے جا سکتے ہو۔

لہٰذا پانی صرف ایک قدرتی مظہر نہیں، بلکہ ایک تہذیبی امتحان بھی ہے، یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس نعمت کی حفاظت کو عبادت کا درجہ دیں، گھروں، اداروں، مسجدوں، کھیتوں اور کارخانوں میں اس کے استعمال کو منظم کریں، اور نئی نسل کے دل ودماغ میں یہ شعور بیدار کریں کہ یہ مائع صرف مادی نہیں، بلکہ روحانی، تہذیبی اور اخلاقی امانت ہے—جس کی حفاظت نہ صرف ایمان کی علامت ہے، بلکہ بقاء کی ضمانت بھی، یہی وہ لمحہ جہاں دین، سائنس، عقل اور فطرت ایک دوسرے سے ہم آغوش ہو کر ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں: پانی کو بہاؤ نہیں، سنبھالو… یہ رب کی عطا ہے، اور تمہاری اخلاقیات کا امتحان، جنید حزیں نے کیا خوب کہا ہے:
قطرہ نہ ہو تو بحر نہ آئے وجود میں
پانی کی ایک بوند سمندر سے کم نہیں

Want your school to be the top-listed School/college in Jamshedpur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Jamshedpur
831001