21/08/2023
Syed ahmed shamim
Information
21/08/2023
نااس قدر ٹوٹ کے مت پیار کیاکر مجھکو
تجھ سے چھوٹوں تو کبھی تجھکو بھلا بھی نہ سکوں
تمام اسی آرزو میں بیت گئ
وہ میرا ھے تو کبھی
مجھ کو میرا اپنا لگلاللل
میں اپنے آپ کو بھی سوچنے سے
ڈرتا ہوی
کہ اپنی ذات ہی مجھ کو
عجب تماشا لگے
ہوا تیز ھے
ہوا تیز ھے
بادباں کو نہ کھولو
یہ کشتی یوں ہی تیز
چلتی رہی تو چٹانوں سے
انجام کیا ہو
نہ تم جانتی ہو
نہ میں جانتا ہوں
ہوا تیز ھے
بادباں کو نہ کھولو
کیسی یاری کیا دلداری
سارا سکھ ھے اپنے من میں
چاند چاند چہرہ تجھے کہوں کیسے
چاند میں کتنے داغ ہوتے ہیں
زخم تازہ تھا تو گہرائ کا اندازہ نہ تھا
اب گماں ہوتا ھے اس کو چاہنا اچھا نہ تھا
چاند چاند چہرہ تجھے کہوں کیسے
چاند میں کتنے داغ ہوتے ہیں
ندی کے جوش کو جب ہمسنبھال دیتے ہیں
تولمحے یاد کے پتھر اچھال دیتے ہیں
یہ بھول تھی کہ نہ امڈے گا اب کبھی دریا
کبھی کبھی تو کنویں بھی ابال دیتے ہیں
ہماری یاد کو محفوظ کوی کیوں رکھتا
کہ سب مکان سے لاشہ نکال دیتے ہیں
کہاں سے لے گئی مجھکوہوا اڑا کے کہاں
کہ دوست دوست ہیں دشمن مثال دیتے ہیں
شمیم پانہ سکے اپنی تہ کے موتی کو
اگرچہ پل میں سمندر کھنگال دیتے ہیں
سید احمد شمیم
میرے حصے میں بے دلی آی ء
موت آی نہ زندگی آی ء
کوئی منظر کھلا نہ آنکھوں میں
جو بھی رت آی
شبنمی آی ء
لہر سی دور تک اٹھی دل میں
آج پھر یاد آپ کی آی ھ
کوی لمحہ چمک اٹھا دل میں
ورنہ آنکھوں میں
کیوں نمی آی ء
آینہ دیکھا دیکھ کر رویا
خود کو سوچا تو پھر ہنسی آی ء
اب تو ہر شہر مقل ھے
جو ہوا آی ء
آگہی کر گیء بہت گمراہ
کام آی ء تو عاشقی آی ء
شب بلاتی ھے وحشتوں کو شمیم
کیا قیامت کی چاندنی آی ء
سید احمد شمیم
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Jamshedpur