27/12/2025
جمشید پور میں عقیدت کا سیلاب یا "خواجہ غریب نواز "کی صداؤں سے گنج اٹھا جامعہ فیض العلوم
شہر جمشید پور کے تاریخی تعلیمی ادارہ جامعہ فیض العلوم جمشید پور سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے عرس پاک کی تقریب میں ایک نیا تاریخ ساز باب رقم کر دیا۔ عقیدت و محبت کا ایسا والہانہ منظر دیکھا گیا کہ ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل عشق اولیاء سے سرشار نظر آیا۔ محفل کی رونق اس وقت دو بالا ہو گئی جب جامعہ کے نامور علمائے کرام اور معزز عمائدین نے اپنی شرکت سے تقریب کو وقار بخشا۔ جامعہ کے قادری دارالمطالعہ میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ اساتذہ اور طلباء کے جوش و خروش نے فضا کو روحانیت کے رنگ میں رنگ دیا۔ پروگرام کا اغاز روح پرور تلاوت کلام پاک سے شعبہ "حفظ حبیبی" کے طالب علم محمد دانش رضا نے کیا جبکہ نقابت کے فرائض محمد ریحان رضا نے انجام دیا۔ اس کے بعد بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور سلطان الہند خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں ایسے نظرانۂ عقیدت پیش کیے گئے کہ سامعین وجد میں اگئے۔قاضی جھارکھنڈ و شیخ الحدیث جامعہ فیض العلوم حضرت علامہ مفتی محمد عابد حسین نوری مصباحی صاحب نے حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ غریب نماز کی تعلیمات ہی انسانیت کی بقا کا راستہ ہے۔ بعدہ مفتی ابوہریرہ مصباحی استاذ جامعہ فیض العلوم و خطیب و امام فیض العلوم مکہ مسجد دھتکیڈیہہ جمشید پور کا خصوصی خطاب ہوا جس میں انہوں نے حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کو محض تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی کا مکمل ضابطہ حیات بتایا۔ مفتی ابوہریرہ صاحب نے ملک و ملت کی سلامتی امن و امان اور بھائی چارے کے لیے خصوصی دعائیں کی نیز ان کی رقت امیز دعاؤں نے مجمع پر سحر طاری کر دیا۔ جامعہ فیض العلوم کے تقریب نے ثابت کر دیا کہ اج بھی عوام و خاص کے دلوں میں اولیاء اللہ کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے انتظام و انصرام اتنا مثالی تھا کہ ہر انے والے نے اسے سراہا۔ اس موقع سے مفتی محمد صلاح الدین نظامی صاحب پرنسپل جامعہ فیض العلوم جمشید پور ، مولانا عبدالحنان صاحب، مولانا شمس تبریز ازہری صاحب،مولانا احتشام رضا ازہری صاحب،مولانا امتیاز احمد نعمانی صاحب، قاری صداقت حسین ازہری صاحب،حافظ و قاری عبدالحمید مصباحی صاحب، ماسٹر یعقوب انصاری صاحب، حافظ شمیم احمد صاحب، حافظ میکائیل رضا صاحب، کاتب معراج الحق صاحب موجود رہے۔ پروگرام کے جملہ تقریبات پرنسپل حضرت علامہ مفتی محمد صلاح الدین نظامی صاحب کی صدارت میں انجام دیا گیا اور ملک و ملت کی امن و سلامتی اور بانیٔ جامعہ حضور قائد اہل سنت حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی بلندیٔ درجات کی دعاؤں پر مجلس کا اختتام ہوا۔
15/12/2025
مدرسہ فیض العلوم، دھتکیڈیہ، جمشید پور کی طرف سے حکومتِ جھارکھنڈ کا تہہ دل سے شکریہ!
ہمارے صدر و مہتمم حضرت علامہ ڈاکٹر غلام زرقانی قادری صاحب نے حکومتِ جھارکھنڈ کے ایک تاریخی فیصلے پر ا ظہارِ تشکر کیا ہے۔
جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل (JAC) سے جاری کردہ "عالم" اور "فاضل" کی اسناد کی بحالی کا فیصلہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے۔ اس اقدام سے نوکریوں اور تنخواہوں پر منڈلاتا خطرہ ٹل گیا ہے۔
ہم معزز وزیر اعلیٰ جناب ہیمنت سورین صاحب، وزیر اقلیتی فلاح و بہبود جناب حفیظ الحسن صاحب، چیئرمین اقلیتی کمیشن جناب ہدایت اللہ خان صاحب، اور ڈاکٹر عرفان انصاری صاحب کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
اب بھی بنیادی مسئلہ مدرسہ بورڈ کا عدم قیام ہے۔ ہم محترم وزیر فلاح و بہبود اور چیئرمین اقلیتی کمیشن سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ جھارکھنڈ میں جلد از جلد "مدرسہ بورڈ" قائم کیا جائے تاکہ تعلیمی نظامت، تسلسل اور معیار یقینی ہو سکے۔
"اردو اکیڈمی" کا قیام بھی عمل میں لایا جائے تاکہ اہلِ اردو مستفیض ہو سکیں۔
24/11/2025
جامعہ فیض العلوم جمشید پور میں عرس حافظ ملت علیہ الرحمہ کا عظیم الشان انعقاد
جامعہ فیض العلوم میں مورخہ ۲۳ نومبر ۲۰۲۵ء کو عظیم المرتبت بزرگ، مصلح قوم و ملت، عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے ۵۱ واں سالانہ عرس مبارک کا روحانی اور پُر وقار اجلاس منعقد ہوا۔ اس پروگرام کی صدارت حضرت علامہ مفتی محمد صلاح الدین نظامی صاحب پرنسپل جامعہ فیض العلوم جمشید پور نے فرمائی۔تقریب میں جامعہ کے اساتذہ و طلبہ کے ساتھ ساتھ علاقے کی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی، جس سے ماحول روحانیت، عقیدت اور محبتِ اولیاء سے سرشار رہا۔پروگرام کا آغاز جامعہ کے مدرس قاری میکائل صاحب کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد نعت پاک کی پرنور محفل سجی، جس میں جامعہ کے طالب علم ریحان رضا سلمہ، محمد شہنواز عالم سلمہ، محمد حسنین رضا سلمہ، محمد فہیم اختر نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں عقیدتوں کے پھول نچھاور کیے۔ بعد ازاں جامعہ کے جماعت تخصص فی الفقہ سال دوم کے ایک طالب علم مفتی ساجد حسین سلمہ نے یادگار اور فکر انگیز خطاب کیا بعدہ فاضل جامعہ مقرر خصوصی قاری محمد صداقت حسین ازہری صاحب نےحافظِ ملت علیہ الرحمہ کی علمی خدمات، دینی جد وجہد، روحانی عظمت اور مسلکِ اہلِ سنت کی ترویج و اشاعت میں ان کی گراں قدر قربانیوں کا تفصیلی ذکر کیا۔ اس موقع پر طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لۓ من جانب تحریک اردو جمشید پور زیر اہتمام دارین اکیڈمی کے مقابلہ جاتی پروگرام میں انعامات حاصل کرنے والے کامیاب طلبہ کو خصوصی انعامات سے نوازا گیا۔ انعامات کی تقسیم نے طلبہ میں بھرپور جوش و ولولہ پیدا کیا۔انعامات کا اعلان کرتے ہوۓ جامعہ فیض العلوم کے پرنسپل حضرت علامہ مفتی محمد صلاح الدین نظامی صاحب نے کہا کہ حافظِ ملت علیہ الرحمہ کا علمی و روحانی فیضان آج بھی مسلم معاشرے کی اصلاح اور نئی نسل کی تربیت کا سرچشمہ بنا ہوا ہے۔پروگرام کا پُرنور اختتام مفتی محمد عابد حسین صاحب کی رقت آمیز دعا پر ہوا۔ انہوں نے ملک و ملت، امن و سلامتی، ادارے کی ترقی اور تمام مرحومین خصوصاً حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ و قائد اہل سنت علیہ الرحمہ کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
تقریب میں جملہ اساتذہ کرام کے علاوہ متعدد اہم شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں،سابق پرنسپل حضرت مولانا نصیر احمد قادری صاحب، جامعہ کے جنرل سیکرٹری خادم قوم و ملت محترم جناب محمد بلال ناصر صاحب،معروف سماجی شخصیت اور جامعہ کےخزانچی غلام احمد رضا خان عرف بابو بھائی،سماجی خادم الحاج عبد الرؤف عرف منا بھائی کے نام خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ کافی تعداد میں عقیدتمند عوام کی شرکت نے اس روحانی محفل کو بے مثال کامیابی سے ہمکنار کیا۔جامعہ فیض العلوم کی جانب سے اس خوبصورت اور شاندار انتظامات پر شرکاء نے اطمینان و مسرت کا اظہار کیا۔
جاری کردہ: شعبۂ اطلاعات و نشریات جامعہ فیض العلوم جمشید پور جھارکھنڈ
13/11/2025
حبیبِ ملت کے لیے جامعہ فیض العلوم میں دعائے صحت
آج مورخہ ۱۳ نومبر ۲۰۲۵ء بروز جمعرات جامعہ فیض العلوم، جمشید پور میں بعد مناجات ایک بابرکت دعائیہ مجلس کا انعقاد زیر صدارت حضرت علامہ مفتی محمد صلاح الدین نظامی صاحب پرنسپل جامعہ ہذا کیا گیا۔اس موقع پر تمام اساتذۂ کرام اور طلبۂ عظام بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ مجلس کا آغاز کلماتِ خیر سے ہوا، طلبہ کے درمیان حبیب ملت کا مختصر تعارف پیش کیا گیا۔حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عابد حسین مصباحی صاحب، شیخ الحدیث جامعہ فیض العلوم،جمشید پور نے نہایت رقت انگیز انداز میں دعائے صحت فرمائی کہ اللہ تعالی حبیب ملت کو جلد از جلد مکمل صحت و عافیت عطا فرمائے۔ ذرائع سے معلوم ہوا کہ حضرت حبیب ملت کی طبیعت کولکاتا کے ایک پروگرام کے دوران بگڑ گئ،انہیں ایک مقامی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں وہ امراضِ قلب کے سلسلے میں زیر علاج ہیں۔
مجلس میں سبھی اساتذہ و طلبہ نے دل کی گہرائیوں سے ان کی صحت کی تمنا کی۔اللہ تعالیٰ حبیب ملت کو شفاۓ کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔
آمین یا رب اعالمین۔
نوٹ:حضرت کے مریدین و متوسلین سے دعاء کی اپیل ہے۔
جاری کردہ : شعبۂ اطلاعات،جامعہ فیض العلوم جمشید پور جھارکھنڈ
09/10/2025
جامعہ فیض العلوم جمشیدپور میں ۱۵۰۰ سالہ جشن بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک عظیم الشان سیمینار کا انعقاد
07/10/2025
"مولانا توقیر رضا صاحب کی بلا شرط رہائی کا مطالبہ"
ملک میں مسلمانوں کے اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس پر مذہبی و سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جمہوری ملک کے ہر شہری کو اپنی رائے کے آزادانہ اظہار کا حق حاصل ہے، مگر موجودہ حکومت کے دور میں اس حق کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں کانپور میں چند نوجوانوں نے "I love Mohammad" لکھ کر اس کے بینر لگوائے ، جس کے خلاف پولیس نے ایف۔آئی۔آر درج کر کے انہیں جیل بھیج دیا۔ دوسری جانب، جب مسلمانوں نے ان مظلوم عاشقانِ رسول کی حمایت میں پُرامن جلوس نکالنے کی کوشش کی تو انہیں بھی روک دیا گیا۔ حالانکہ "محض عشقِ رسول کا اظہار کرنے والوں کو جیل میں ڈال دینا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے جسے سلب نہیں کیا جا سکتا۔"
دریں اثنا، بریلی میں پُرامن احتجاج کے دوران پولیس کی وحشیانہ لاٹھی چارج کی کارروائی کی بھی سخت مذمت کے قابل ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ مکمل طور پر پُرامن انداز میں احتجاج کر رہے تھے، لیکن پولیس نے بلاجواز طاقت کا استعمال کرتے ہوئے متعدد افراد کو زخمی کر دیا۔
مدرسہ فیض العلوم، جمشید پور کے کارکنان و منتظمین نے اس پولیس بربریت کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "پُرامن احتجاج پر لاٹھی چارج جمہوری اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو شہریوں کے بنیادی حقوق کو پامال کرتے ہیں۔"
نیز انہوں نے حکومت کے اس طرزِ عمل کو آئینِ ہند کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج کو "غدّاری" سے یا "غزوہ ہند" سے جوڑنا سراسر غیر جمہوری رویہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ آئین کی روح کے مطابق شہریوں کو رائے دینے اور عقیدے کے اظہار کی آزادی فراہم کرے۔
اسی بنیاد پر کارکنان مدرسہ فیض العلوم حکومت وقت سے مولانا توقیر رضا صاحب اور دیگر علما کی فی الفور اور بلا شرط رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں ، مسلمانوں کے عقائد وشعائر پر حملے روکنے کی بھی پر زور مانگ کرتے ہیں ۔
24/09/2025
حضرت علامہ و مولانا مفتی فیضان المصطفے صاحب کی جامعہ فیض العلوم، جمشیدپور آمد
تعلیمی جائزہ، طلبہ کا انفرادی امتحان، اساتذہ و طلبہ کے ساتھ اہم میٹنگیں
الحمدللہ! جمعہ، ۱۹ ستمبر ۲۰۲۵ء کو جامعہ فیض العلوم، جمشیدپور کے لیے ایک خوشی اور مسرت افزا دن ثابت ہوا۔ اس دن حضرت علامہ و مولانا مفتی فیضان المصطفے صاحب دامت برکاتهم، ناظمِ تعلیمات جامعہ فیض العلوم دھتکیڈیہ، جمشیدپور، جامعہ میں تشریف لائے۔ ان کی آمد جامعہ کے لیے بڑی سعادت کی بات تھی، جس سے طلبہ اور اساتذہ کو نیا حوصلہ اور تازگی ملی۔حضرت کا قیام ادارہ میں ۲۳ ستمبر تک رہا۔ اس دوران حضرت نے جامعہ کے تمام تعلیمی شعبوں کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ اعدادیہ سے لے کر فضیلت، اور تخصصات جیسے فقہ و قراءت تک، ہر کلاس کا دورہ کیا۔ طلبہ سے ان کے اسباق، دینی علوم، اور عصری مضامین پر سوالات کیے، اور انفرادی طور پر ٹیسٹ لیے تاکہ ہر طالب علم کی علمی قابلیت، فہم و فراست، اور درسی استعداد کو جانچا و پرکھا جا سکے۔
شعبۂ حفظ و قراءت کے طلبہ سے قرآنِ کریم کی تلاوت، تجوید کے قواعد اور قراءت کا عملی مظاہرہ سنا۔ حضرت نے طلبہ کی محنت کو سراہا اور اساتذہ کی کوششوں کی بھرپور تعریف کی۔ جہاں بہتری کی گنجائش محسوس ہوئی، وہاں رہنمائی فرمائی اور اصلاحی مشورے دیے۔
حضرت نے جامعہ کے تعلیمی معیار، نظم و ضبط اور تربیتی ماحول کو دیکھ کر دلی خوشی کا اظہار فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ "جامعہ فیض العلوم ایک پرانا اور معتبر دینی ادارہ ہے، جہاں دین کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور عملی تربیت پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔"
اس موقع پر حضرت کو جامعہ کا شعار بھی پیش کیا گیا
علم، عمل، اخلاص ۔۔۔ یہی ہے فیض العلوم کا اساس
یہ سادہ لیکن پُراثر شعار جامعہ کی تعلیمی و تربیتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جو طلبہ میں دین کی گہری سمجھ، عمل کی طاقت، اور اخلاص کی روح بیدار کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
اس دورے کے دوران حضرت نے جامعہ کے طلبہ کے ساتھ بھی ایک خصوصی میٹنگ فرمائی۔ اس میٹنگ میں حضرت نے طلبہ کو ان کی تعلیمی کوششوں پر حوصلہ افزائی فرمائی، اور انفرادی و اجتماعی کمی کوتاہیوں کی نشاندہی بھی کی۔
حضرت نے نہایت شفقت بھرے انداز میں طلبہ کو آئندہ کے لیے مزید محنت، نظم و ضبط، اور اپنے وقت کے صحیح استعمال کی ترغیب دی، اور یہ بھی فرمایا کہ طلبہ اپنے مقصد کو سامنے رکھ کر دینی و دنیاوی ترقی کے لیے خود کو تیار کریں۔حضرت نے یہ بھی واضح فرمایا کہ ایک عالمِ دین صرف کتابوں کا حافظ نہیں ہوتا بلکہ عمل، کردار، اخلاص اور بصیرت کا حامل ہونا چاہیے۔ حضرت کے یہ کلمات طلبہ کے دلوں میں اُتر گئے اور ان کے اندر ایک نئی روح پیدا ہو گئی۔
اس دورے کے آخر میں حضرت نے جامعہ کے تمام اساتذہ کے ساتھ ایک خصوصی میٹنگ بھی کی۔ اس میٹنگ میں تعلیمی نظام کو مزید مؤثر بنانے، طلبہ کی فکری و اخلاقی تربیت، اور تدریسی حکمت عملیوں پر مفید بات چیت ہوئی۔
اساتذہ نے اپنے تجربات اور موجودہ چیلنجز پر بات رکھی، جن پر حضرت نے قیمتی مشورے دیے اور ان کی رہنمائی فرمائی۔
آخر میں حضرت مفتی صاحب نے تمام اساتذہ و طلبہ کو دعاؤں سے نوازا اور جامعہ کی ترقی، اور علم و عمل کے سفر کو مزید بہتر بنانے کی تلقین فرمائی۔ حضرت کی یہ مبارک آمد جامعہ کے لیے یقینی طور پر علم و تربیت کی ایک نئی لہر لے کر آئی، جس کے اثرات ان شاء اللہ دیرپا ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ حضرت کی خدمات کو قبول فرمائے، اور جامعہ فیض العلوم کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین۔
بحکم: صدر المدرسین
جاری کردہ: شعبۂ اطلاعات، جامعہ فیض العلوم، جمشیدپور
03/09/2025
جامعہ فیض العلوم دھتکیڈیہ جمشیدپور جھارکھنڈ کا ششماہی امتحان کامیابی کے ساتھ آج مکمل ہوا۔
اس امتحان میں اعدادیہ سے تخصص فی الفقہ تک کل ۱۷۳ طلبہ نے شرکت کی، جبکہ درجۂ حفظ میں ۹۷ طلبہ اور تخصص فی التجوید والقرات کے۲۱ طلبہ نے امتحان دیا۔
امتحان کے نظم و ضبط کے لئے جامعہ کی طرف سے ۱۵ محافظین مقرر کۓ گۓ تھے۔ اس کے علاوہ ۲ فلائنگ گارڈ اور ایک ابزرور بھی موجود تھے۔ ان سب کی وجہ سے امتحان پُرسکون اور شفاف ماحول میں ہوا۔
امتحان ہال کی تیاری اچھی تھی۔ طلبہ وقت پر پہنچے اور پورے نظم و ضبط کے ساتھ امتحان دیا۔ ان کے انداز میں سنجیدگی اور محنت نظر آ رہی تھی، جس سے تعلیمی معیار میں اضافہ ہوا۔
امتحانات صاف شفاف ماحول میں اختتام پذیر ہوں جس کے لۓ فلائنگ گارڈز اور ابزرور نے پوری توجہ سے نگرانی کی، اس لئے امتحان صاف ستھرا اور پُراعتماد ماحول میں ہوا۔
آپسی گفتگو سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ امتحان کا معیار برقرار رہا اور مزید بہتر ہوا۔ اساتذہ اور انتظامیہ کی باہمی محنت قابلِ تعریف ہے۔ طلبہ کی محنت اور اساتذہ کی رہنمائی ادارے کے علمی وقار کو ظاہر کرتی ہے۔
امتحان کے اختتام پر جامعہ کی انتظامیہ نے اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا، طلبہ کے روشن مستقبل کے لئے دعا کی اور اساتذہ و معاونین کی کوششوں کو سراہا۔
بحکم
صدر المدرسین
جاری کردہ: شعبۂ اطلاعات، جامعہ فیض العلوم دھتکیڈیہ جمشیدپور
27/08/2025
جامعہ فیض العلوم میں درجۂ حفظ کے طلبہ نے ریاضی،سائنس اور جغرافیہ کا امتحان دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیض العلوم نے قائم کی نئی مثال۔
مدارس کے تعلیمی نظام کے بارے میں عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ درجۂ حفظ کے طلبہ کو صرف قرآن یاد کرایا جاتا ہے اور عصری علوم کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کے بیشتر مدارس میں درجۂ حفظ کے طلبہ قرآن کریم کو اپنے سینے میں محفوظ کرلیتے ہیں مگر ریاضی، سائنس، جغرافیہ اور انگریزی جیسے مضامین سے محروم رہ جاتے ہیں لیکن جامعہ فیض العلوم دھتکیڈیہ جمشید پور جھارکھنڈ اس روایت کو توڑتے ہوئے ایک انقلابی قدم کے ذریعہ سرخیوں میں ہے۔ جامعہ کے درجۂ حفظ کے طلبہ نے آج عصری علوم کا امتحان دیا جو کہ مدارس کے روایتی تصور کو ہلا دینے والی بات ہے۔جامعہ کے صدر المدرسین حضرت علامہ مفتی محمد صلاح الدین نظامی صاحب کے مطابق مجلس انتظامیہ جامعہ فیض العلوم جمشید پور نے ایک ایسا نصاب تیار کیا ہے جس سے بچے قرآن کے حافظ بھی ہوں اور زمانے کی رفتار کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے والے باصلاحیت افراد بھی ہوں۔جامعہ کے تعلیمی ماہرین نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر ملک بھر کے مدارس اسی طرز کو اپنائیں تو چند سالوں بعد ملت کو ایسے نوجوان میسر آئیں گے جو دین و دنیا دونوں میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔یہ منفرد کوشش نہ صرف طلبہ کے لیے ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے بلکہ مدارس کے نظام تعلیم میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے مترادف ہے۔
25/08/2025
آج سے جامعہ فیض العلوم دھتکیڈیہ جمشیدپور میں ششماہی امتحان 2025 کا آغاز
جامعہ فیض العلوم دھتکیڈیہ جمشیدپور میں آج بروز پیر 25 اگست 2025 ء بمطابق یکم ربیع الاول شریف سے ششماہی امتحان کا آغاز ہوگیا ہےاور یہ سلسلہ 3 ستمبر2025ء بروز بدھ تک جاری رہے گا۔ اس موقع پر جامعہ کے پرنسپل حضرت علامہ مفتی محمد صلاح الدین نظامی صاحب نے مناجات کے فورا بعد تمام طلبہ کو ضروری ہدایت دیا اور اساتذہ کرام نے بھی طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ امتحان محض پرچہ لکھنے کا نام نہیں بلکہ یہ اپنی محنت اور صلاحیت کو جانچنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔امتحان میں حفظ، تجوید،عربی ادب، اردو ادب،نحو، صرف، قوعد و انشاء، حدیث، فقہ، تفسیر اور دیگر دینی و عصری علوم کے پرچے شامل ہیں۔ جامعہ کے پرنسپل نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام طلبہ کو کامیابی و کامرانی عطا فرمائے اور ان کے علم میں برکت نصیب کرے۔جامعہ کے جنرل سکریٹری محترم جناب محمد بلال ناصر صاحب نے بھی مختلف کمروں کا دورہ کیا اور امتحان کے نظام کا باریکی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے اساتذہ کرام کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ امتحان علم کے معیار کو جانچنے اور طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ مزید کہا کہ جامعہ کی جانب سے ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ طلبہ پوری یکسوئی کے ساتھ امتحان دے سکیں۔
ادھر طلبہ میں بھی امتحان کے سلسلے میں جوش و خروش پایا جا رہا ہے اور وہ بھرپور تیاری کے ساتھ امتحان ہال میں شریک ہو رہے ہیں۔