28/01/2024
Juf Indore tv
وَّ ذَکِّرۡ فَاِنَّ الذِّکۡرٰی تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
ترجمہ
اور نصیحت کرتے رہیں یقیناً یہ نصیحت ایمانداروں کو نفع دے گی۔
28/01/2024
بات آئی عمر کی!
عزت مآب مدارس کے ذمہ داران کے نام!
اہل مدارس کا ماننا ہے کہ دینی تعلیم کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں۔ کتنی سادہ سی بات ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ مگر غور کرنے کی بات ہے، دینی تعلیم کے لئے عمر کی شرط ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو دین سیکھنا اور سکھانا چاہتے ہیں مگر اس کو عمومی طور پر لیا گیا اور مدارس میں عمر کی قید ہٹادی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مدرسہ سے عالمیت کرتے کرتے ایک طالب علم اس عمر کو پہونچ جاتا ہے کہ وہ کسی اور جگہ تعلیم حاصل کرنا چاہے تو اس کا ایڈمیشن نہیں ہوپاتا۔ اور اگر فضیلت یا افتا کرنے لگے تو بوڑھا ہوجاتا ہے۔
اس میں کوئی شک مجھے نہیں ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ دانا، زیرک اور ہوشیار صرف ہمارے مدارس کے ذمہ داران اور علماء کرام ہیں، عصری تعلیم والے تو احمق اور دنیا دار ہیں۔ علماء کو روحانی غذا ملتی ہے، فقر ودرویشی ان کی چادر اور قناعت ان کا اوڑھنا بچھونا ہے، ان کے بچوں کو اچھے کپڑے دستیاب نہ ہوں، ان کی بیوی علاج کے بغیر تڑپ کر مر جائے، ایک عالم دین اپنے ماں باپ کا سہار بننے کے بجاے ایک بوجھ بن جائے یہی تو دراصل دین کی خدمت ہے۔ قربانی اور قناعت ہے۔
عصری تعلیم میں نرسری میں تین سال اور بارہویں کرنے کے لئے سترہ سال عمر کی قید ہے، عصری تعلیم والوں نے ایسا اس لئے بنایا ہے تاکہ بارہویں کے بعد جو طالب علم گریجویشن کسی بھی مضمون میں کرکے نکلے تو اس کی عمر ایکیس سے تئیس سال ہو، اگر ماسٹر ڈگری کرے تو پیچیس سال تک اس کی پڑھائی ختم ہوجائے، پچیس سال تک پڑھائی ختم ہونے کے بعد وہ اب اپنے کیرئیر کا آغاز کرے۔
حکومت مدارس کے عالمیت کی سرٹیفکٹ بارہویں کے برابر تسلیم کرتی ہے، جب بارہویں میں ایک طالب علم کی عمر بائیس تئیس سال ہوجائیگی تو پھر گریجویشن وہ کب کرے گا۔ تیس سال کی عمر تک پڑھتا ہی رہے گا تو کمائے گا کب اور کب اپنے پاوں پر کھڑا ہوگا۔یہی وجہ ہے بہت سارے مضامین میں مدارس کے طلباء کا ایڈمیشن نہیں ہوپاتا۔
مگر مدارس کے ذمہ داروں کویہ بات سمجھ میں نہیں آئیگی۔ شاید اس کے لئے بھی کسی مودی یا یوگی کے چابک کا انتظار ہوگا۔
ہر ہر شہر میں ہزاروں کی تعداد میں بڑے بڑے مدارس جو کھول رکھے ہیں اگر وہاں سے صرف مسجد کا امام اور مکتب کا استاذ ہی نکالنا مقصد ہے تو پھراس کے لئے تو تبلیغی جماعت ہی کافی ہے وہ بھی دین بہت سارے مدارس سے زیادہ بہتر سکھاتے ہیں، بلکہ ایسی ایسی تقریر سکھادیتے ہیں کہ ایک آدمی اپنا گھر بار چھوڑ کر دیوانہ کی طرح در در بھٹکنا ہی سنت نبوی سمجھنے لگتا ہے اور وہ سنتیں جو گھر کی ذمہ داریوں، سماج اور دیگر امور کے متعلق ہیں ان کو سننا بھی گوارہ نہیں کرتا۔ تو پھر مدرسہ اور تبلیغی جماعت میں فرق کیا رہ گیا۔
اس لئے عالمیت کے کورس کو مختصر کرنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ طلباء کو عمر کی وجہ اپنے روشن مسقتبل کی آبیاری میں دقت نہ ہو۔ غور رکریں اور جن کو ایسی تبدیلی کا اختیار ہے وہ اللہ کے واسطے اپنی امت کے نونہالوں کے مستبقل کی خاطر ضرور تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Website
Address
Indore
452007