جمہور علماء کے نزدیک قربانی کا گوشت غیر مسلم پڑوسیوں یا ضرورت مندوں کو دینا بھی جائز ہے۔
Parwaaz Aap Tak
Knowledge is power.
Aap ki kiya rae hai
(مہمان پوسٹ)
امریکہ اور اسرائیل ایران سے لڑ رہے ہیں، اس پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے۔
ایران کس سے لڑ رہا ہے؟
وہ کس پر حملے کر رہا ہے؟
اسرائیل اور امریکہ سے؟
یا عربوں پر؟
ایرانی حملوں کو دیکھ کر تو ایسا نہیں لگتا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل سے جنگ کر رہا ہے۔ انھیں دوبدو جواب دے رہا ہے۔
اس کے حملوں سے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ عربوں سے لڑ رہا ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ جن عرب ممالک میں امریکی بیسیز ہیں بھی انن بیسیز کو بھی کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا ہے۔ زیادہ تر نقصان ان عرب ممالک، ان کی معیشت، انرجی اور دیگر عسکری اور سول اداروں کو پہنچایا جا رہا ہے۔ امریکہ اور اس کے اڈے سب سے کم نقصان اٹھا رہے ہیں۔
اس پر بھی کوئی رافضی، کوئی فارسی مجوسی، کوئی سر پھرا تحریکی، کوئی نام نہاد دانش ور، کوئی ڈھل مل یقین سہولت کار؛ یہ شکوہ کرے کہ اسلامی ممالک ایران کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہیں، تو اس کے شکوہ کی حیثیت وحقیقت کیا ہوگی؟
غور کریں!
اگر ایران اپنے اوپر ہوئے حملوں کے جواب میں پوری قوت سے اسرائیل پر حملہ کرتا۔ پوری یکسوئی سے اس فتنہ پرور خبیث صیہونی ملک کو نشانہ بناتا۔ یہ سیکڑوں میزائل تابڑ توڑ اس پر گراتا؛ تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا؟
ایسی صورت میں نہ صرف اس صیہونی غبارے کہ ہوا نکل جاتی، اور اس مزعوم سلطنت کی میڈیائی طاقت کا ڈھول پھٹ جاتا، بلکہ پورے عالم اسلام کی ہمدردی اور مدد بھی اسے حاصل ہوتی۔ دنیا کا شاید ہی کوئی اسلامی ملک ایسا ہوتا جو کم از کم اس کے لیے نرم جذبہ اور ہمدردی نہ رکھتا۔ جنگ پر بھی اس کا نہایت مثبت اثر پڑتا۔
اسرائیل جیسے چھوٹے ممالک کے لیے اتنا آسان نہیں ہے کہ لمبے دنوں تک شدید حملے جھیل سکے۔ رقبہ چھوٹا ہو، سیکڑوں میزائل برس رہے ہوں؛ تو اچھے اچھے اوقات میں آجاتے ہیں۔ ماضی میں اس کا واضح تجربہ ہو چکا ہے۔
تاہم ایسا بالکل نہیں ہوا۔ اس مجوسی حکومت نے شروع سے ہی حسب عادت جھوٹ پر جھوٹ گڑھ کر خیلجی ممالک کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایران کو اتنی واضح چیزیں نہیں پتہ ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ایران خلیجی ممالک میں امریکیوں سے زیادہ عرب ممالک کے عسکری شعبوں، انرجی تنصیبات، اور سول اداروں کو نشانہ بنا رہا ہے؟ اسرائیل کو جھوڑ کو خلیج کی معیشت پر مسلسل حملے کر رہا ہے؟ وقت کے ساتھ ساتھ ان حملوں میں شدت آتی جارہی ہے۔
بہت ساری توجیہات ہو سکتی ہیں۔ ایک طبقہ تو اس پر خوش ہے۔ اس کی وہی تاویلات ہیں جو اس رافضی حکومت کی ہیں۔ دجل وفریب سے پر اور زور وبہتان سے لبریز!
جہاں نہ امریکی اڈے ہیں نہ وہاں کی زمین ایران کے خلاف استعمال ہو رہی ہے وہاں بھی اسی شدت سے رافضی حملے جاری ہیں۔
سعودی عرب ہی کی مثال لے لیں۔ یہاں نہ کوئی امریکی بیس ہے نا ہی اسرائیل سے کوئی تعلق، نہ ہی اس کی زمین ایران کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
بلکہ سعودی عرب شروع سے کھل کر اس امریکی و اسرائیلی حملے کا مخالف اور جارحیت کا معارض ہے۔
خود ایران کی مردار و منافق حکومت اس موقف پر سعودی عرب کا ایک سے زائد بار شکریہ ادا کر چکی ہے۔
ایک طرف یہ حال ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کے تیل اور گیس کے ذخائر و تنصیبات اور عام شہریوں پر مجوسی حملے بھی جاری ہیں۔ اس منافقت اور اس خست کو کیا نام دیا جائے گا؟
کیا یہ سب چیزیں اتنی غامض ہیں کہ ہمیں سمجھ میں نہ آئیں؟
اس مجوسی حکومت اور فارسی سلطنت کے بارے میں اگر واقعی کبھی ایسی سچویشن بن جائے کہ آپ کو کچھ نہ سمجھ میں آئے تو رافضیت کے گٹر میں ڈوبی اس قوم کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ -رحمہ اللہ- کے چند اقوال جو اصول کی حیثیت رکھتے ہیں؛ ہمیشہ یاد رکھیں اور انتظار کرتے رہیں، ان شاء اللہ دھیرے دھیرے سب واضح ہو جائے گا اور پورا پس منظر سمجھ میں آجائے گا۔
شيخ الإسلام ابن تيمية -رحمہ اللہ- فرماتے ہیں:
«فقد عُرف -الرافضة- من موالاتهم لليهود والنصارى والمشركين ومعاونتهم على قتال المسلمين ما يعرفه الخاص والعام حتى قيل: إنه ما اقتتل يهودي ومسلم، ولا نصراني ومسلم، ولا مشرك ومسلم، إلا كان الرافضي مع اليهودي والنصراني والمشرك» (منهاج السنة ٤٥٢/٣)۔
یعنی: ان رافضیوں کی یہود و نصاریٰ اور مشرکین سے دوستی اور مسلمانوں کے خلاف جنگ میں ان کا تعاون اس قدر معروف و مشاہد ہے کہ اسے عام وخاص سب جانتے ہیں۔
یہانتکہ کہا جاتا ہے کہ کوئی یہودی، نصرانی یا مشرک، کسی مسلمان سے جنگ نہیں کرتا مگر یہ رافضی اس مسلمان کے خلاف اس یہودی، نصرانی اور مشرک کے ساتھ ہوتا ہے۔
ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:
"الرّافِضَةُ لَيسَ لَهُمْ سَعْيٌ إلّا في هَدمِ الإسلامِ،ونَقْضِ عُرَاهُ، وإفسَادِ قَواعِدِهِ"
(منهاج السّنّة)(٧/ ٤١٥)
یعنی: رافضیوں کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے وہ کسی طرح اسلام کو ختم کردیں، اس کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیں اور اس کی بنیادوں کو اجاڑ دیں۔
مزید فرمایا:
"والرافضة أمة مخذولة، ليس لهم عقل ولا نقل ولا دين صحيح، ولا دنيا منصورة. (مجموع الفتاوى جـ٢٧صـ٥٤).
یعنی: روافض ایک نا مراد قوم ہیں۔ نہ صرف وہ عقل سے پیدل، نصوص سے محروم، اور درست دین سے دور ہیں بلکہ ان کی دنیا بھی بامراد نہیں ہے۔ مطلب دنیا وآخرت دونوں سے محروم اور شقاوت کے شکار ہیں۔
یہ قوم اپنی حماقت میں بھی ضرب المثل رہی ہے۔ سلف کی ایک جماعت نے اس کی باقاعدہ صراحت کی ہے کہ اس سے احمق قوم دنیا میں کوئی اور نہیں ہے۔
رافضیوں کی پوری تاریخ ان اقوال کی تصدیق کرتی ہے۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھیں اور ان اقوال پر غور کریں سارا منظر بالکل صاف نظر آئے گا۔ چاہے وہ ان کی اسلام دشمنی کے بارے میں ہو یا ان کی حماقت کے بارے میں۔
غالبا انھیں سب چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ -رحمہ اللہ- نے فرمایا تھا:
"سَعي المسلمين في قهر الروافض من أعظم الطاعات والعبادات"- (جامع المسائل ٤٣٨/٧).
يعني: مسلمانوں کی ہر وہ کوشش جو رافضیوں کو مقہور و مغلوب کرنے کے لیے ہو اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین اطاعت اور اس کی بیش بہا عبادت ہے۔
اللهم إني أسألك في هذا الشهر المبارك وفي هذه الليلة المباركة بوجهك الكريم، وبأسمائك الحسنى وصفاتك العليا أن تحفظ المسلمين وبلادهم من كل سوء ومكروه وشر. اللهم اغفر لهم وارحمهم، وعافهم واعف عنهم.
اللهم أهلك الصهاينة والروافض ودمرهم وزلزل أقدامهم وأزل ملكهم، واكسر شوكتهم للأبد، اللهم رد كيدهم في نحرهم، وشتت شملهم، وفرق جمعهم، وخالف بين كلمتهم، واحفظ المسلمين من شرهم.
اللهم احفظ بلاد الحرمين الشريفين من كيد الصهاينة وشر الروافض، اللهم من أراد بها سوءا فاجعل كيده في نحره، اللهم احفظها من كيد الكائدين، ومكر الماكرين، وحقد الحاقدين.
اللهم أدم علی أراضيها الأمن والإيمان والسلامة والإسلام. اللهم زدها خيرا وبركة وظهورا وتنمية. اللهم اجعلها دائما حصنا حصينا ومعقلا أمينا للإسلام والمسلمين. اللهم اجعلها دائما خادمة للإسلام والمسلمين وذخرا لهم. اللهم أدم عليها نعمتك الظاهرة والباطنة، واملأها سكينة وسعادة، وأمنا وطمأنينة.
ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار.
ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم.
وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم.
(دکتور وسيم المحمّدي )
#إيران #حرب
خلیجی ممالک پر ایران کی جانب سے 18 مارچ کو ہونے والی حالیہ جارحیت نے اب ہر قسم کے ابہام کو ختم کر دیا ہے۔
قطر کی نارتھ فیلڈ (North Field) جیسی دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈز میں سے ایک کو نشانہ بنانا، سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع توانائی تنصیبات کی طرف بیلسٹک میزائل داغنا، اور متحدہ عرب امارات خصوصاً دبئی اور ابوظہبی کی سمت درجنوں ڈرونز اور میزائل بھیجنا، یہ سب کسی “محدود دفاعی ردعمل” کا حصہ نہیں بلکہ ایک مکمل علاقائی آگ بھڑکانے کی کھلی حکمت عملی ہے۔ مختلف عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق صرف 18 مارچ کے دن خلیجی فضائی دفاعی نظاموں نے مجموعی طور پر 200 سے زائد ڈرونز اور 70 کے قریب میزائل انٹرسیپٹ کیے، جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ تعداد 1000 ڈرونز اور 250 سے زائد میزائلوں تک جا پہنچی. یہ اعداد و شمار خود اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ معاملہ محض “چند فوجی اہداف” تک محدود نہیں رہا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں جیسے کہ Reuters، Al Jazeera، Associated Press اور Bloomberg کی رپورٹس میں واضح طور پر یہ ذکر کیا گیا کہ قطر کی گیس فیلڈ پر ہونے والے حملے نے عارضی طور پر پیداوار کو متاثر کیا، جبکہ سعودی عرب کے آرامکو انفراسٹرکچر کو بھی ہدف بنایا گیا۔ اسی طرح UAE کے حوالے سے Gulf News اور Khaleej Times نے رپورٹ کیا کہ فضائی دفاعی نظام نے متعدد اہداف کو فضا میں ہی تباہ کیا، تاہم شہری علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خطرہ صرف “فوجی اڈوں” تک محدود نہیں تھا بلکہ شہری فضا اور آبادی بھی اس کی زد میں آئی۔
اب سوال یہ ہے کہ ایران کے مداحین جو یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ
“ایران تو صرف امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے”
وہ ان کھلی حقیقتوں کو کس کھاتے میں ڈالیں گے؟ کیا قطر کی نارتھ فیلڈ کوئی امریکی فوجی اڈہ ہے؟ کیا سعودی آرامکو کی تنصیبات پینٹاگون کے زیرِ انتظام ہیں؟ کیا دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ جو دنیا کے مصروف ترین سول ایوی ایشن حبز میں سے ایک ہے کو گزشتہ سات دنوں سے مسلسل نشانہ بنانا کسی بھی زاویے سے “فوجی ہدف” قرار دیا جا سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ زمینی حقائق نے اس جھوٹے دعوی کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
یہ حملے نہ صرف جنگی اصولوں (Rules of Engagement) بلکہ بین الاقوامی جنگی اخلاقیات کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاں شہری انفراسٹرکچر، توانائی کے مراکز اور کمرشل ایوی ایشن کو دانستہ طور پر خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ اگر واقعی ہدف صرف امریکی اڈے ہوتے تو ان حملوں کی نوعیت، سمت اور شدت کچھ اور ہوتی، مگر یہاں تو معاملہ صاف ہے، معاشی شہ رگوں پر وار، شہری آبادیوں کو خوف میں مبتلا کرنا، اور خلیجی استحکام کو ہلا کر رکھ دینا۔
ایران کا یہ طرزِ عمل دراصل اس کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔ برسوں تک پراکسی جنگوں کے پردے میں رہ کر جو کھیل کھیلا گیا، اب وہ براہِ راست عرب سرزمین تک آ پہنچا ہے۔ یہ وہی سوچ ہے جو یمن میں حوثیوں کے ذریعے سعودی عرب کو نشانہ بناتی رہی، عراق اور شام میں عدم استحکام کو ہوا دیتی رہی، اور اب کھل کر خلیج کے قلب میں حملہ آور ہو رہی ہے۔ اس میں نہ کوئی “مزاحمت” ہے، نہ کوئی “دفاع”۔ یہ سیدھی سادی عرب دشمنی ہے جو اب کسی لفاظی کے پردے میں چھپنے کے قابل نہیں رہی۔
18 مارچ کے یہ حملے محض ایک دن کی خبر نہیں بلکہ ایک واضح اعلان ہیں کہ ایران اب خطے میں کشیدگی کو انتہا تک لے جانے پر تُلا ہوا ہے۔ اور اگر اب بھی کوئی یہ کہے کہ
“یہ صرف امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے”
تو اسے یا تو زمینی حقائق کا علم نہیں، یا وہ دانستہ طور پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔
(محمد فھد حارث)
#ایران #إيران
हमें गर्व है मेहनत और लगन पर। हम भविष्य में अच्छे अवसर की कामना करते हैं। 🌟💫🎉👏💕
https://www.facebook.com/share/v/1AHjra7Lps/
انسانیت کا خیر خواہ
23/11/2025
See full details: click here 👇👇👇
https://youtu.be/PZ9xHuEPm6c
🌐 Special Intensive Revision (SIR): Complete Guide by the Election Commission of India (ECI)
🌐 स्पेशल इंटेंसिव रिविज़न (SIR): भारत निर्वाचन आयोग (ECI) की सम्पूर्ण मार्गदर्शिका
🌐 المراجعة المكثفة الخاصة (SIR): الدليل الكامل من المفوضية الانتخابية الهندية (ECI)
🌐 اسپیشل اِنٹینسو ریویژن (SIR): الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کی مکمل رہنمائی.
What is SIR in English Hindi Urdu Arabic 🌐 Special Intensive Revision (SIR): Complete Guide by the Election Commission of India (ECI)🌐 स्पेशल इंटेंसिव रिविज़न (SIR): भारत निर्वाचन आयोग (ECI) की सम...
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Hafez Baba Nagar Block C South
Hyderabad
500058
Opening Hours
| Monday | 9am - 5pm |
| Tuesday | 9am - 5pm |
| Wednesday | 9am - 5pm |
| Thursday | 9am - 5pm |
| Friday | 9am - 5pm |
| Saturday | 9am - 5pm |
| Sunday | 9am - 5pm |