Iqbal Studies Hyderabad

Iqbal Studies Hyderabad

Share

Education shapes the future. Allama Iqbal

15/12/2025

انٹرنیشنل اقبال سوسائٹی کے زیر اہتمام ہونے والے کورس
اسرار خودی و رموز بے خودی
کی تمام ویڈیوز مندرجہ ذیل لنکس پر موجود ہیں۔

مکمل پلے لسٹ:
https://www.youtube.com/watch?v=B03pmu5NRas&list=PLbODfJjlAfyxDsPKvEuO_sgulftWIkeCr

پہلی نشست: سروش عالمگیر صاحب
https://www.youtube.com/watch?v=B03pmu5NRas&list=PLbODfJjlAfyxDsPKvEuO_sgulftWIkeCr&index=1&pp=iAQB

دوسری نشست: ڈاکٹر معین نظامی صاحب
https://www.youtube.com/watch?v=p6sGqVKQp-4&list=PLbODfJjlAfyxDsPKvEuO_sgulftWIkeCr&index=2&pp=iAQB

تیسری نشست: ڈاکٹر فاطمہ فیاض صاحبہ
https://www.youtube.com/watch?v=kocwWyIh7z0&list=PLbODfJjlAfyxDsPKvEuO_sgulftWIkeCr&index=3&pp=iAQB

چوتھی نشست: ڈاکٹر فاطمہ فیاض صاحبہ
https://www.youtube.com/watch?v=jXKNWUGphiM&list=PLbODfJjlAfyxDsPKvEuO_sgulftWIkeCr&index=4&pp=iAQB

پانچویں نشست: ڈاکٹر بصیرہ عنبرین صاحبہ
https://www.youtube.com/watch?v=TtNlcN5o_WE&list=PLbODfJjlAfyxDsPKvEuO_sgulftWIkeCr&index=5&pp=iAQB

چھٹی نشست: ڈاکٹر شعیب احمد صاحب
https://www.youtube.com/watch?v=cs_gIIICweQ&list=PLbODfJjlAfyxDsPKvEuO_sgulftWIkeCr&index=6&pp=iAQB

ساتویں نشست: ڈاکٹر طاہر حمید تنولی صاحب
https://www.youtube.com/watch?v=0_RpW-bvkQk&list=PLbODfJjlAfyxDsPKvEuO_sgulftWIkeCr&index=7&pp=iAQB

آٹھویں نشست: ڈاکٹر شعیب احمد صاحب
https://www.youtube.com/watch?v=83-JHVCcves&list=PLbODfJjlAfyxDsPKvEuO_sgulftWIkeCr&index=8&pp=iAQB

نویں نشست: ادریس آزاد صاحب
https://www.youtube.com/watch?v=fPCBqBrZ_Xg&list=PLbODfJjlAfyxDsPKvEuO_sgulftWIkeCr&index=9&pp=iAQB

دسویں نشست: ڈاکٹر وحید الزمان طارق صاحب
https://www.youtube.com/watch?v=HlNWBPf2LUE&list=PLbODfJjlAfyxDsPKvEuO_sgulftWIkeCr&index=10&pp=iAQB

گیارہویں نشست: ڈاکٹر اقصیٰ ساجد صاحبہ
https://www.youtube.com/watch?v=gG3TJxXenQo&list=PLbODfJjlAfyxDsPKvEuO_sgulftWIkeCr&index=11&pp=iAQB

بارہویں نشست: ڈاکٹر معین نظامی صاحب
https://www.youtube.com/watch?v=Smj-KAEuIIg&list=PLbODfJjlAfyxDsPKvEuO_sgulftWIkeCr&index=12&pp=iAQB

ٹیم انٹرنیشنل اقبال سوسائٹی

05/12/2025

آوازِ غیب

آتی ہے دمِ صبح صدا عرشِ بریں سے
کھویا گیا کس طرح ترا جوہرِ ادراک!

آسمانوں سے بھی کہیں آگے موجود اللہ تعالٰی کے تخت کے جانب سے آج کے مسلمانوں کو غیب کی ایک صدا صبح کے وقت پوچھتی ہے کہ اے مرد مسلمان تیرے اندر کائنات سے استفادہ کرنے کا جو جوہر یا قوت کبھی موجود تھی وہ آج کیوں نہیں ہے۔ وہ علم اور شعور جس سے کبھی تو کائنات میں تصرف کرتا تھا اب تجھ میں کیوں موجود نہیں۔

کس طرح ہُوا کُند ترا نشترِ تحقیق
ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک

کبهی تحقيق کے میدانوں میں تو سرگرم عمل تھا اور تو زندگی کے مختلف شعبوں میں نئی نئی ایجادات اور تحقیقات کے کرشمے لوگوں کو دکھاتا تھا لیکن آج کیا ہوا۔ تحقیق کے نشتر کی دھار آج تیز کیوں نہیں۔ آج تو اس میدان میں سرگرم عمل نہیں ہے۔ دوسری اقوام کائنات کی مختلف اشیاء کی تسخیر اور تحقیق میں پیش پیش ہیں۔ چاند، سورج اور ستاروں تک کی طاقتوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں لیکن تجھ کو کیا ہو گیا ہے۔ تجھ میں ان کو تسخیر کرنے اور ان قوتوں کو کام میں لانے کی استعداد کیوں موجود نہیں۔

تُو ظاہر و باطن کی خلافت کا سزاوار
کیا شُعلہ بھی ہوتا ہے غلامِ خس و خاشاک

اے مسلمان اللہ نے تو تجھے کائنات کی ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی خلافت عطا کی تھی اور تجھے دنیاوی و روحانی دونوں طرح سے اپنا نائب بنا کر بھیجا تھا اور تجھے اپنی نیابت کا اہل سمجھا تھا لیکن آج تجھے کیا ہوا ہے بجائے اس کے تو اس کائنات پر حکمران ہوتا تو ان کا غلام بن چکا ہے۔ کیا کسی نے کبھی دیکھا ہے کہ آگ کو گھاس اور تنکے بجھا دیں لیکن تیری صورت میں یہ انہونی ہو چکی ہے اور تو ہر شعبہ زندگی میں غلاموں کی سی بے بسی کی زندگی گزار رہا ہے۔

مِہر و مہ و انجم نہیں محکوم ترے کیوں
کیوں تیری نگاہوں سے لرزتے نہیں افلاک

اللہ تعالٰی نے تو تجھ میں اپنا خلیفہ بنانے کی صورت میں ایسی قوتیں رکھی ہوئیں ہیں کہ جن سے تو آسمان، سورج، چاند اور ستاروں کو اپنے بس میں کر سکتا ہے لیکن آج یہ کیا ہو گیا ہے کہ تیری اس نگاہ سے یہ چیزیں کیوں نہیں کانپ رہی اور کیوں وہ خدشہ محسوس نہیں کر رہیں کہ تو ان کو اپنا غلام بنا سکتا ہے اور ان کی قوتوں کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر سکتا ہے۔

اب تک ہے رواں گرچہ لہُو تیری رگوں میں
نے گرمیِ افکار، نہ اندیشۂ بے باک

اگرچہ تو زندہ ہے اور تیری رگوں میں خون دوڑ رہا ہے لیکن کیا بات ہے کہ نہ تیرے خیالات میں کوئی حرارت ہے اور نہ ہی تیری سوچ میں کوئی بے خوفی ہے۔

روشن تو وہ ہوتی ہے، جہاں بیں نہیں ہوتی
جس آنکھ کے پردوں میں نہیں ہے نگَہِ پاک

جس آنکھ کے پردوں کے پیچھے وہ نظر نہ ہو جو عشق حق میں دھل کر پاک ہو چکی ہو اور کائنات میں ان چیزوں کو دیکھنے سے رکی ہو جن کو دیکھنے سے حق تعالٰی نے منع کیا ہے وہ آنکھ تو ضرور کہلاتی ہے اور اس میں دیکھنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے لیکن وہ دنیا کے معاملات اور اونچ نیچ کی حقیقت کو سمجھنے کے قابل نہیں ہوتی۔

باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری
اے کُشتۂ سُلطانی و مُلّائی و پیری!

اے مسلمان کبھی تیرا ضمیر آئینے کی طرح شفاف ہوتا تھا اور تو اس میں اچھائی اور برائی کے فرق کو دیکھ کر ہمیشہ برائی سے بچا ہوا اور اچھائی پر مائل رہتا تھا لیکن اب تجھ میں وہ قوت نہیں رہی اور اسی وجہ سے تو نیکی اور اچھائی کو چھوڑ کر بدی اور برائی کی طرف مائل رہتا ہے اگر تیرا ضمیر زندہ ہوتا تو پھر تو بادشاہ، نام نہاد ملا اور جعلی پیروں کے فریب میں مبتلا نہ ہوتا۔ اگر تجھے معلوم ہوتا کہ اصلی بادشاہی، اصلی ملائی اور اصلی پیری کیا ہے تو ان جعل سازوں کے فریب میں گرفتار ہونے کی بجائے ان کا احتساب کرتا۔ خلق خدا کو لوٹنے والے ان جعل سازوں، پیشہ وروں اور جابروں سے خود بھی بچتا اور دوسروں کو بھی بچاتا۔

(شرح اسرار زیدی)
کتاب: ارمغان حجاز

12/11/2025

On National Education Day, we honor Maulana Abul Kalam Azad and his vision of education as a force for transformation.
At Jamia Hamdard, we remain committed to fostering knowledge, character, and progress.

23/10/2025

ماہرین اقبال کون ؟؟

آج ہم ایک اور بلند پایہ اقبال شناس ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کا تعارف کرائیں گے۔ ڈاکٹر صاحب ایک اعلی درجے کے ماہر ریاضیات، ماہر طبیعیات اور اقبال شناس تھے۔ وہ حیدر آباد دکن میں 1905 میں پیدا ہوئے۔ عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد دکن سے گریجوایشن کیا۔ پھر ان کو کیمبرج یونی ورسٹی میں سکالر شپ مل گیا وہ داخلے کے امتحان میں اول آئے تھے۔ کیمبرج میں وہ نوبل انعام یافتہ سائنس دان پال ڈیراک کے شاگرد رہے۔ وہ نامور سائنس دان ایڈنگٹن کے بھی شاگرد رہے۔ آئن سٹائن کے لیکچرز میں بھی شرکت کرتے رہے۔ 1930 میں
Theory of Non Linear Differential Equations
کے موضوع پر جرمنی سے پی ایچ ڈی کی۔ جرمنی میں وہ ہائزن برگ کے شاگرد رہے۔ پھر پیرس چلے گئے۔ وہاں کے سائنسی جرائد میں ان کے بہت سے مقالات شائع ہوئے جن پر مبنی ایک کتاب بھی شائع کرائی جسے ہائزن برگ کے نام منسوب کیا۔ اس کتاب کو آئن سٹائن ، ہائزن برگ اور ڈیراک نے بہت سراہا۔ ڈیراک نے تو باقاعدہ تعریفی خط بھی لکھا۔ کتاب نظریہ اضافیت علامہ اقبال کی فرمائش پہ لکھی۔ " اقبال کا تصور زمان و مکاں " ان کی بہت اہم کتاب ہے۔ ان کی خدمات پہ انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی نے گولڈ میڈل دیا جو نہرو نے انھیں پہنایا۔

12/10/2025

That’s a beautiful and deeply moving piece — gentle yet powerful. It honors the quiet, unseen labor that sustains families everywhere. If you’d like, I can help you:

Complete the final sentence (“…of mother”) into a full poetic closing.

Or reformat this into a short poetic prose or social post caption.

Or expand it into a full story or reflection on the invisible strength of mothers.

05/10/2025

Ibn Khaldun's Contributions to Sociology

Ibn Khaldun, a 14th-century Arab scholar, made significant contributions to sociology, earning him recognition as the "father of sociology" by many. His groundbreaking work, "Muqaddimah," introduced a scientific approach to studying civilizations and laid the foundation for modern social sciences.

Key Contributions

- *Theory of Asabiyyah: Ibn Khaldun's concept of Asabiyyah, or social cohesion, explains how group solidarity drives the rise and fall of civilizations. This theory highlights the importance of social bonds and collective identity in shaping societal dynamics.
- *Cyclical Model of History: Ibn Khaldun's cyclical model of history posits that civilizations go through stages of growth, development, and decline. This framework helps understand the dynamics of social change and the factors that influence the trajectory of societies.
- *Economic Theories: Ibn Khaldun's economic ideas, including the labor theory of value and taxation insights, were well ahead of his time. He recognized the importance of labor in creating value and the impact of taxation on economic activity.
- *Scientific Methodology*: Ibn Khaldun's emphasis on empirical research, observation, and critical analysis laid the groundwork for modern sociological research methods.

Why Ibn Khaldun Should be Considered the Father of Sociology

- *Pioneering Work: Ibn Khaldun's "Muqaddimah" was a pioneering work that introduced a scientific approach to studying society, making him a precursor to modern sociology.
- *Influence on Western Thinkers*: Ibn Khaldun's ideas influenced Western thinkers, including Arnold Toynbee, Karl Marx, and Adam Smith, who built upon his theories.
- *Comprehensive Framework*: Ibn Khaldun's work provides a comprehensive framework for understanding social phenomena, including the role of Asabiyyah, economic factors, and environmental influences.
- *Timeless Relevance*: Ibn Khaldun's theories remain relevant today, offering insights into the dynamics of social change, the rise and fall of civilizations, and the importance of social cohesion.

Legacy and Impact

- *Recognition by Scholars: Many scholars recognize Ibn Khaldun as a foundational figure in sociology, and his work continues to inspire research and study.
- *Cross-Cultural Significance: Ibn Khaldun's ideas have cross-cultural significance, offering insights into the dynamics of social change and the importance of social cohesion in diverse contexts.
- *Interdisciplinary Approach: Ibn Khaldun's work demonstrates an interdisciplinary approach, incorporating insights from sociology, economics, history, and philosophy.
Department of sociology university of jos

25/08/2025

During the Islamic Golden Age (8th-14th centuries), Baghdad became a learning hub, with the House of Wisdom, built by Caliph Harun al-Rashid, containing past books and objects. Scholars exchanged ideas, translated old books, and wrote new ones. Mathematicians also established a program to collect and update mathematical knowledge (Snezana Lawrence, 2025).

16/08/2025

"بااختیار اور باوقار لوگ عقاب کی مانند ہوتے ہیں، جو ہمیشہ تنہا پرواز کرنا پسند کرتے ہیں۔"

عقاب ایک ایسا پرندہ ہے جو اپنی بلند پروازی، خودداری اور تنہائی پسند طبیعت کے لیے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح طاقتور، صاحبِ بصیرت اور باکردار لوگ اکثر بھیڑ سے الگ رہتے ہیں، وہ اپنی راہ خود متعین کرتے ہیں، اپنے فیصلوں کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرتے۔ وہ تنہائی میں سکون اور ارتقاء تلاش کرتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ بلندی کا راستہ ہمیشہ الگ اور تنہا ہوتا ہے۔

عظمت ہمیشہ ہجوم میں نہیں، بلکہ انفرادیت اور تنہا جدوجہد میں پنہاں ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Hyderabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Dr. Majeed Bedar, President. Institute Of Iqbal Studies Magulpura Hyderabad, Telangana
Hyderabad
500002