16/02/2026
AQF Learning Center
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from AQF Learning Center, Education, Tolichowki, Hyderabad.
Ruhani Parwaz —
where knowledge inspires,
thoughts empower,
and words create inner transformation
روحانی پرواز ایک ایسا پلیٹ فارم ہے
جہاں علم، فکر اور حوصلہ
انسان کو اندر سے مضبوط بناتے ہیں۔
یہاں لفظ نصیحت نہیں،
زندگی بدلنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
16/02/2026
علم مقصد ہے، مال ذریعہ ہے
علم قدر ہے، مال قیمت ہے
علم حقیقت ہے، مال سہولت ہے
اَلنَّفْسُ إِنْ لَمْ تَشْغَلْهَا بِالْحَقِّ شَغَلَتْكَ بِالْبَاطِلِ.
نفس کو حق میں مصروف نہ کرو تو وہ تمہیں باطل میں مصروف کر دے گا۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لبريدة رضى الله عنه
"ان كنت تحبه (اي: عليا كرم الله وجهه)فازدد له حبا"
قال: فما كان من الناس اخد بعد قول رسول الله صلى الله عليه وسلم احب الي من علي ابن ابي طالب
فضايل الصحابة- احمد ابن حنبل- حديث: ١١٨٠
علم دین کی رہنمائی اور جنت کا راستہ ہے
علم:
دین میں راہنمائی کرتا ہے
خوشی و غم دونوں میں توازن سکھاتا ہے
دوستوں میں مشیر اور اجنبیوں میں سہارا بنتا ہے
جنت کی طرف جانے والا چراغِ راہ ہے
یہ سب اس لیے کہ علم انسان کو حالات کا غلام نہیں بلکہ شریعت کا تابع بناتا ہے۔
فضیلت کو سمجھے بغیر کسی چیز کی فضیلت ثابت نہیں ہو سکتی
وَمَا لَمْ تُفْهَمِ الْفَضِيلَةُ فِي نَفْسِهَا لَا يَتَحَقَّقُ الْمُرَادُ مِنْهَا
امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
جب تک فضیلت کی حقیقت خود سمجھ میں نہ آئے، تب تک یہ جاننا ممکن ہی نہیں کہ کوئی چیز (مثلاً علم) صاحبِ فضیلت ہے یا نہیں۔
🔎 عقلی قاعدہ:
کسی صفت کو کسی چیز کے لیے ثابت کرنے سے پہلے، خود اس صفت کی تعریف اور حقیقت معلوم ہونی چاہیے۔
یہی منطق اصولِ فقہ اور منطقِ دونوں میں مسلم ہے۔
٢) مثال: حکمت کو سمجھے بغیر حکیم کا فیصلہ گمراہی ہے
فَلَقَدْ ضَلَّ عَنِ الطَّرِيقِ مَنْ طَمِعَ أَنْ يَعْرِفَ أَنَّ زَيْدًا حَكِيمٌ...
امام غزالي رحمۃ اللہ علیہ ایک واضح مثال دیتے ہیں:
اگر کوئی شخص یہ فیصلہ کرنا چاہے کہ زید حکیم ہے یا نہیں، مگر وہ خود حکمت کی حقیقت سے ناواقف ہے، تو وہ لازماً غلطی کرے گا۔
📌 مطلب یہ کہ:
لقب سے پہلے مفہوم
دعویٰ سے پہلے معیار
حکم سے پہلے تصور
ضروری ہے۔
یہ امام غزالیؒ کی وہی تنقیدی فکر ہے جس کے تحت وہ محض الفاظ اور القابات کے پیچھے چلنے کو علم نہیں مانتے۔
٣) فضیلت کی لغوی و عقلی تعریف
وَالْفَضِيلَةُ مُشْتَقَّةٌ مِنَ الْفَضْلِ، وَهُوَ الزِّيَادَةُ
یہاں امام غزالیؒ لسانی (لغوی) بنیاد پر فلسفیانہ تعریف قائم کرتے ہیں:
فضل = زیادتی
فضیلت = ایسی زیادتی جو کمال کے دائرے میں ہو
ہر زیادتی فضیلت نہیں ہوتی، بلکہ:
وہ زیادتی جو کسی شے کو اس کے مقصد اور کمال کے قریب لے جائے۔
٤) اشتراک + امتیاز = فضیلت
فَإِذَا تَشَارَكَ شَيْئَانِ فِي أَمْرٍ، وَاخْتَصَّ أَحَدُهُمَا بِمَزِيدٍ، قِيلَ: فَضَلَهُ
یہ امام غزالیؒ کا عقلی فارمولا ہے:
دو چیزیں کسی بنیادی وصف میں شریک ہوں
ایک میں وہی وصف زیادہ کامل ہو
➡️ تو وہی افضل کہلائے گی
مثلاً:
دونوں دیکھ سکتے ہیں
ایک زیادہ واضح دیکھتا ہے
تو وہ افضل ہے
٥) نتیجہ (علم کے باب کی تمہید)
اس پوری تشریح کا مقصد یہ ہے کہ قاری یہ اصول ذہن نشین کر لے:
علم اس لیے افضل نہیں کہ لوگ اسے عظیم کہتے ہیں،
بلکہ اس لیے کہ وہ انسان کو حقیقت، ہدایت اور کمال تک پہنچاتا ہے۔
یہی بنیاد ہے جس پر آگے چل کر امام غزالیؒ:
علم کو عبادت پر
اور علم کو مال و اقتدار پر
عقلاً و شرعاً افضل ثابت کرتے ہیں۔
مختصر خلاصہ
فضیلت کو سمجھے بغیر کسی چیز کی فضیلت کا فیصلہ ممکن نہیں
فضیلت محض زیادتی نہیں بلکہ کمال میں زیادتی ہے
علم چونکہ انسان کو انسان بناتا ہے، اس لیے وہ اعلیٰ ترین فضیلت رکھتا ہے
یہ پوری بحث امام غزالیؒ کے منہجِ عقل + وحی کی نمائندہ ہے
تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ کون گناہگار تھا
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کون پلٹا اور کون اڑا
نجات کا معیار پاک ہونا نہیں
نجات کا معیار رجوع کرنا ہے
ہلاکت کا سبب گناہ نہیں
ہلاکت کا سبب انکار اور تکبر ہے
علم کے بغیر ہر کامیابی وہم ہے
علم کے ساتھ ہر محرومی وہم ہے
یا دوسرے لفظوں میں:
علم کے بغیر دولت = خسارہ
علم کے بغیر اقتدار = فتنہ
علم کے بغیر ترقی = گمراہی
علم کے بغیر تہذیب = زوال
اور
علم کے ساتھ فقر = وقار
علم کے ساتھ سادگی = حکمت
علم کے ساتھ خاموشی = وقار
علم کے ساتھ قلت = کثرتِ معنی
31/01/2026
فَقَدْ قَالَ سَيِّدُنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِكُمَيْلٍ:
يَا كُمَيْلُ، الْعِلْمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَالِ،
الْعِلْمُ يَحْرُسُكَ وَأَنْتَ تَحْرُسُ الْمَالَ،
وَالْعِلْمُ حَاكِمٌ وَالْمَالُ مَحْكُومٌ عَلَيْهِ،
وَالْمَالُ تَنْقُصُهُ النَّفَقَةُ،
وَالْعِلْمُ يَزْكُو بِالْإِنْفَاقِ.
🔹 اردو ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کمیل سے فرمایا:
اے کمیل! علم مال سے بہتر ہے۔
علم تیری حفاظت کرتا ہے، جبکہ مال کی حفاظت تُو کرتا ہے۔
علم حاکم ہے اور مال محکوم (تابع) ہے۔
مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے،
اور علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔
30/01/2026
مَنْ اتَّخَذَ الْحِكْمَةَ لِجَامًا اتَّخَذَهُ النَّاسُ إِمَامًا
📝 ترجمہ:
جو شخص حکمت کو اپنی زندگی کی لگام (کنٹرول) بنا لیتا ہے، لوگ اسے اپنا امام اور رہنما بنا لیتے ہیں۔
📖 مختصر تشریح:
یہ جملہ ایک عظیم فکری حقیقت بیان کرتا ہے کہ حقیقی قیادت طاقت، شہرت یا منصب سے نہیں بلکہ حکمت، بصیرت اور دانائی سے پیدا ہوتی ہے۔
جو انسان اپنے فیصلوں، گفتار اور کردار کو حکمت کے اصولوں کے تابع کر لیتا ہے، وہ خود بخود لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔
ایسے افراد کو معاشرہ زبردستی نہیں بلکہ اعتماد کے ساتھ رہنما مانتا ہے۔
👉 حکمت انسان کو:
جذبات کے اندھے فیصلوں سے بچاتی ہے
عدل و توازن سکھاتی ہے
فکری پختگی عطا کرتی ہے
اخلاقی قیادت پیدا کرتی ہے
💡 پیغام:
قائد بننے کے لیے تخت نہیں چاہیے،
حکمت چاہیے۔
قَالَ فَتْحُ الْمَوْصِلِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:
أَلَيْسَ الْمَرِيضُ إِذَا مُنِعَ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ وَالدَّوَاءَ يَمُوتُ؟
قَالُوا: بَلَى.
قَالَ: كَذٰلِكَ الْقَلْبُ إِذَا مُنِعَ عَنْهُ الْحِكْمَةَ وَالْعِلْمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ يَمُوتُ.
اردو ترجمہ:
فتح موصلیؒ نے فرمایا:
“کیا تم دیکھتے نہیں کہ اگر کسی مریض کو کھانا، پینا اور دوا سے روک دیا جائے تو وہ مر جاتا ہے؟”
لوگوں نے کہا: “ہاں (مر جاتا ہے)۔”
فرمایا: “اسی طرح دل بھی اگر تین دن تک حکمت اور علم سے محروم رہے تو مر جاتا ہے۔”
مختصر تشریح:
جس طرح جسمانی زندگی کے لیے غذا، پانی اور دوا ضروری ہیں، اسی طرح روحانی زندگی کے لیے علم اور حکمت ضروری ہیں۔ اگر دل کو مسلسل دینی علم، ذکر، فہمِ دین اور بصیرت نہ ملے تو دل مردہ ہو جاتا ہے—یعنی ایمان کی حرارت، شعور اور ہدایت کی روشنی ختم ہونے لگتی ہے۔ یہ قول دل کی روحانی غذا کی ناگزیریت کو نہایت بلیغ انداز میں واضح کرتا ہے۔
امام عبداللہ بن مبارکؒ کا یہ قول علم، تقویٰ اور اخلاقی اقدار کا گہرا معیار متعین کرتا ہے:
1️⃣ “لوگ کون ہیں؟ فرمایا: علما”
یعنی حقیقی معنوں میں انسان وہی ہیں جو علم رکھتے ہیں، کیونکہ علم ہی انسان کو شعور، سمت اور مقصد دیتا ہے۔
2️⃣ “بادشاہ کون ہیں؟ فرمایا: زاہد”
اصل بادشاہ وہ ہیں جو دنیا کے غلام نہیں بلکہ دنیا ان کے ہاتھ میں ہو، دل میں نہیں۔ زہد انسان کو باطنی اقتدار عطا کرتا ہے۔
3️⃣ “گھٹیا لوگ کون ہیں؟ فرمایا: جو اپنے دین کے بدلے دنیا کھائیں”
یہ سب سے سخت تنبیہ ہے:
جو شخص ذاتی مفاد، مال یا شہرت کے لیے دین کو استعمال کرے، وہ اخلاقی پستی کی انتہا پر ہوتا ہے۔
👉 یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل عزت علم میں، اصل طاقت زہد میں، اور اصل ذلت دین فروشی میں ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Tolichowki
Hyderabad
500008