16/05/2026
The Prophet *Muhammad* (ﷺ) beautifully highlighted the spiritual rewards and the immense significance of this act of worship:
The Most Beloved Deed on Eid Day:
Aisha (R.A.) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"There is nothing dearer to Allah during the days of Sacrifice than the sacrificing of animals." (Jami` at-Tirmidhi)
A Reward for Every Single Hair:
The Companions asked, "O Messenger of Allah, what are these sacrifices?" He replied, "The Sunnah of your father Ibrahim." They asked, "What is there for us in it?" He said:
"For every hair (of the sacrificed animal), there is a reward (Hasanah)." (Sunn Ibn Majah)
A Warning for Those Who Neglect It:
To emphasize how essential this duty is for those who can afford it, the Prophet (ﷺ) gave a stern warning:
"Whoever has the financial capacity to sacrifice but does not do so, let him not come near our Eid prayer place." (Sunan Ibn Majah)
رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے فضائل اور اس کی اہمیت کو مختلف مقامات پر بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے:
اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ عمل:
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"عید الاضحیٰ کے دن ابنِ آدم (انسان) کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے۔" (جامع ترمذی)
ہر بال کے بدلے نیکی:
صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان قربانیوں کی حقیقت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔" انہوں نے عرض کیا: اس میں ہمارے لیے کیا اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
"تمہیں قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی۔" (سنن ابن ماجہ)
قربانی نہ کرنے والوں کے لیے وعید:
قربانی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صاحبِ حیثیت ہونے کے باوجود جو قربانی نہیں کرتا، آپ ﷺ نے اس سے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا:
"جس شخص میں قربانی کرنے کی وسعت (طاقت) ہو اور وہ پھر بھی قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔" (سنن ابن ماجہ) #مدرسة #دارالتعلیم #قرآن #بقرعید #جانور #قربانی #حصہ
Madrasa Darut Taleem Wat Tarbiyah
12/02/2026
تکمیلِ امتحاناتِ سالانہ: علمی و روحانی سفر کا ایک اہم سنگِ میل
مدرسہ دارالتعلیم و التربیہ، گرامر کالونی، ٹولی چوکی، حیدرآباد
الحمدللہ! اللہ رب العزت کا بے انتہا فضل و کرم ہے کہ مدرسہ دارالتعلیم و التربیہ میں تعلیمی سال کا اختتام ایک پروقار اور بابرکت انداز میں ہوا۔ شعبہ دینیات، ناظرہ قرآن کریم اور شعبہ تحفیظ کے سالانہ امتحانات کا بحسن و خوبی انعقاد، ادارے کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کی محنتوں کا ثمر ہے۔
ممتحن حضرات کی تشریف آوری اور نگرانی
امتحانات کی شفافیت اور طلبہ کی علمی استعداد کو جانچنے کے لیے جید علمائے کرام نے بطور ممتحن شرکت فرمائی۔ ان میں حضرت مولانا اسلم صاحب (امام مسجد بلال، سمتا کالونی) اور معروف سماجی شخصیت و عالم دین حضرت مولانا غفار غازی ندوی صاحب (سوشل ایکٹیویسٹ) شامل تھے۔ ان حضرات نے نہایت گہرائی کے ساتھ طلبہ کا جائزہ لیا اور ان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ علمائے کرام کی موجودگی نے طلبہ کے حوصلوں کو مہمیز کیا اور تقریب کو علمی وقار بخشا۔
امتحانات کا نظم اور طلبہ کی کارکردگی
مدرسہ دارالتعلیم و التربیہ میں منعقدہ ان امتحانات میں طلبہ نے جس نظم و ضبط اور ذوق و شوق کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ دید تھا۔
شعبہ دینیات: طلبہ نے اپنی بنیادی اسلامی معلومات، فقہی مسائل اور اخلاقیات کے میدان میں اپنی استعداد کا لوہا منوایا۔
شعبہ ناظرہ: تجوید و قراءت کے قواعد کے ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت نے ایک روحانی سماں باندھ دیا۔
شعبہ تحفیظ: کلامِ الٰہی کو سینوں میں محفوظ کرنے والے نونہالانِ امت نے اپنی یادداشت اور پختگی سے ممتحنین کو متاثر کیا۔
اساتذہ کی محنت اور سرپرستوں کا تعاون
اس کامیابی کے پیچھے جہاں طلبہ کی شبانہ روز محنت شامل ہے، وہیں اساتذہ کرام کی مخلصانہ تربیت اور نگرانی کا کلیدی کردار ہے۔ اساتذہ نے نہ صرف علمی پیاس بجھائی بلکہ طلبہ کی اخلاقی آبیاری بھی کی۔ ساتھ ہی، والدین اور سرپرستوں کا تعاون اس تعلیمی مشن کو آگے بڑھانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
مدرسہ کا پیغام: تعلیم کے ساتھ تربیت
مدرسہ دارالتعلیم و التربیہ کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ یہاں صرف الفاظ نہیں سکھائے جاتے، بلکہ ان کے معانی اور تقاضوں کو زندگی میں اتارنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ گرامر کالونی، ٹولی چوکی کے اس تعلیمی مرکز نے علاقے میں دینی بیداری اور قرآنی تعلیمات کے فروغ میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
دعائیہ کلمات
اللہ تعالیٰ اس مدرسے کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، ممتحن حضرات اور اساتذہ کی خدمات کو قبول فرمائے اور یہاں سے فارغ ہونے والے طلبہ کو دین و ملت کا روشن ستارہ بنائے۔ آمین
18/01/2026
With The Following – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
08/01/2026
مدرسہ میں معزز مہمانوں کی آمد: ایک یادگار دن
مدرسہ صرف تعلیم حاصل کرنے کی جگہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ تہذیب، اخلاق اور روحانیت کا مرکز بھی ہوتا ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے کی رونق اس وقت دوبالا ہو جاتی ہے جب وہاں کسی علمی شخصیت یا معزز مہمان کی آمد ہوتی ہے۔ حال ہی میں ہمارے مدرسہ میں چند جید علماء اور اہل علم حضرات تشریف لائے، جس نے پورے ماحول کو پرنور بنا دیا۔
مہمانوں کی آمد کی خبر سنتے ہی مدرسہ میں ایک خاص قسم کا جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ تمام طلبہ اپنے صاف ستھرے لباس میں ملبوس، مہمانوں کی ایک جھلک دیکھنے اور ان سے مستفید ہونے کے لیے بے تاب تھے۔
آمد اور پرجوش استقبال
یہ منظر دیکھ کر محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے علم کی شمع روشن کرنے والوں کے لیے فرشتے بھی پر بچھاتے ہیں۔
علمی نشست اور نصائح
استقبال کے بعد مدرسہ کے ہال میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ مہمانِ خصوصی نے اپنے خطاب میں علم کی اہمیت، وقت کی قدر اور اخلاقِ حسنہ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا:
"علم صرف کتابیں پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کا نام ہے۔"
ان کی باتوں نے طلبہ کے دلوں میں حصولِ علم کا ایک نیا جذبہ پیدا کر دیا۔ تمام طلبہ ہمہ تن گوش ہو کر ان کے قیمتی ارشادات سن رہا تھے۔
دعائیہ کلمات اور رخصتی
پروگرام کے اختتام پر مہمانوں کی خدمت میں بریانی کا ضیافت پیش کیگئ۔ آخر میں ملک و ملت کی سلامتی اور مدرسہ کی ترقی کے لیے رقت آمیز دعا کی گئی۔ مہمانوں نے مدرسہ کے تعلیمی نظام اور نظم و ضبط کی تعریف کی اور طلبہ کو اپنی دعاؤں سے نوازتے ہوئے رخصت ہوئے۔
حاصلِ کلام
مہمانوں کی یہ آمد ہمارے لیے محض ایک تقریب نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا علمی تجربہ تھا جس نے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔ ایسی ملاقاتیں طلبہ کے حوصلوں کو جلا بخشتی ہیں اور انہیں مستقبل میں قوم کا معمار بننے کے لیے تیار کرتی ہیں ۔جزاکم اللہ خیرا کثیرا ۔🤲
Madrasa Darut Taleem Wat Tarbiyah Facebook Facebook for Creators