07/08/2026
اگر سوال یہ ہے کہ **"دنیا کی ابتدا سے، حضرت آدم علیہ السلام سے آج تک سب سے پہلا اور اصل دین کون سا ہے؟"** تو قرآن و سنت کی روشنی میں جواب یہ ہے:
# # قرآن کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
> **إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ**
>
> "بے شک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔"
>
> **(سورۃ آل عمران: 19)**
اور فرمایا:
> **وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ**
>
> "جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اختیار کرے گا، وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔"
>
> **(سورۃ آل عمران: 85)**
# # حضرت آدم علیہ السلام کا دین
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے نبی تھے، ان پر وحی نازل ہوئی، اور انہوں نے اپنی اولاد کو اللہ کی عبادت، اطاعت اور توحید کی تعلیم دی۔ یہی اسلام ہے، کیونکہ اسلام کے معنی ہیں **اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا**۔
# # تمام انبیاء کا دین
اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیاء کے بارے میں فرمایا:
* حضرت نوح علیہ السلام:
> **وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ**
>
> "مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے رہوں۔"
* حضرت ابراہیم علیہ السلام:
> **مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا**
>
> "ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی، بلکہ یکسو مسلمان تھے۔"
>
> **(آل عمران: 67)**
* حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد سے فرمایا:
> **فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ**
>
> "تمہیں موت آئے تو صرف اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔"
>
> **(البقرہ: 132)**
* حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
> **إِنْ كُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُسْلِمِينَ**
>
> **(یونس: 84)**
* حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے کہا:
> **اشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ**
>
> "گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں۔"
>
> **(آل عمران: 52)**
# # حدیث کی روشنی میں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> **الأنبياء إخوة لعلات، أمهاتهم شتى، ودينهم واحد**
>
> "تمام انبیاء آپس میں (دینی اعتبار سے) بھائی ہیں، ان کی شریعتیں مختلف ہو سکتی ہیں، مگر ان کا دین ایک ہی ہے۔"
>
> **(صحیح بخاری، صحیح مسلم)**
یعنی تمام انبیاء کا اصل دین **اسلام (توحید)** تھا، اگرچہ شریعت کے بعض احکام زمانے کے لحاظ سے مختلف رہے۔
# # تاریخ کیا کہتی ہے؟
اسلامی تاریخی مصادر کے مطابق:
* حضرت آدم علیہ السلام پہلے انسان اور پہلے نبی تھے۔
* ابتدا میں پوری انسانیت توحید پر تھی۔
* بعد میں لوگوں نے شرک اختیار کیا، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے کیا۔
* پھر اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے انبیاء بھیجے تاکہ لوگوں کو اصل دین یعنی اسلام کی طرف واپس بلائیں۔
یہودیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل سے منسوب ہوئی، جبکہ عیسائیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد وجود میں آئی۔ اس لیے تاریخی اعتبار سے بھی یہ دونوں بعد کے مذاہب ہیں، ابتدا سے موجود نہیں تھے۔
# # خلاصہ
1. حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء کا اصل دین **اسلام** تھا۔
2. اسلام سے مراد اللہ کی توحید، اس کی عبادت، اور اس کے احکام کے سامنے مکمل اطاعت ہے۔
3. مختلف انبیاء کی شریعتوں میں بعض عملی احکام مختلف تھے، مگر عقیدہ اور اصل دین ایک ہی رہا۔
4. یہودیت، عیسائیت اور دیگر مذاہب بعد میں تاریخی طور پر وجود میں آئے، جبکہ اصل الٰہی دین ابتدا ہی سے اسلام تھا۔
لہٰذا **قرآن، صحیح سنت اور اسلامی تاریخ کے مطابق دنیا کا سب سے پہلا اور اصل دین "اسلام" ہے، جس کی بنیاد حضرت آدم علیہ السلام سے رکھی گئی اور جس کی تکمیل خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے ذریعے ہوئی۔**