جامعة الهدى الإسلامية، كولكاتا

come to our high school for higher education

Operating as usual

Photos from ‎جامعة الهدى الإسلامية، كولكاتا‎'s post 23/08/2021

Photos from ‎جامعة الهدى الإسلامية، كولكاتا‎'s post

15/08/2021
Photos from ‎جامعة الهدى الإسلامية، كولكاتا‎'s post 15/08/2021

Photos from ‎جامعة الهدى الإسلامية، كولكاتا‎'s post

Photos from ‎جامعة الهدى الإسلامية، كولكاتا‎'s post 15/08/2021

Photos from ‎جامعة الهدى الإسلامية، كولكاتا‎'s post

15/08/2021

جامعہ الہدی الاسلامیہ والہدی انٹرنیشنل اسکول میں جشن آزادئ ہند
جامعہ الہدی الاسلامیہ والہدی انٹرنیشنل اسکول ہوڑہ(کولکاتا) میں بروز اتوار بتاریخ 15 اگست 2021م بوقت :9:30 بجے صبح نہایت تزک واحتشام کے ساتھ جشن آزادئ ہند منائی گئی۔اس موقع سے منعقد کی جانے والی پرچم کشائی کی تقریب میں جامعہ واسکول کے اساتذہ وطلبہ نے شرکت کی، پرچم کشائی کا عمل جامعہ کے پرنسپل شیخ اعزاز الرحمن تیمی مدنی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔
اللہ سے دعا ہے اللہ تعالی اس ملک کی حفاظت فرمائے۔

24/06/2021
14/06/2021
01/06/2021
16/05/2021
13/05/2021
Photos from ‎جامعة الهدى الإسلامية، كولكاتا‎'s post 31/03/2021

Photos from ‎جامعة الهدى الإسلامية، كولكاتا‎'s post

Photos from ‎جامعة الهدى الإسلامية، كولكاتا‎'s post 31/03/2021

اعلان براے داخلہ
جامعہ الہدی الاسلامیہ ہوڑہ(کولکاتا)

26/01/2021
26/01/2021

72ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر "جامعہ الہدی الاسلامیہ"و"الہدی انٹرنیشنل اسکول"(منشی ڈانگہ،ہوڑہ)کے احاطہ میں پرچم کشائی کا ایک دلفریب منظر۔

24/12/2020

جامعہ الہدی الاسلامیہ کولکاتا کے نصاب تعلیم میں جامع تبدیلی
مقررات علوم دینیہ وشرعیہ کے ساتھ انگلش میڈیم کی باضابطہ تعلیم

جامعہ الہدی الاسلامیہ ،کولکاتا کا ایک ممتاز و منفرد دینی ادارہ ہے، جہاں اولی متوسطہ سے فضیلت تک کی تعلیم جاری و ساری ہے۔یہ ادارہ سعودی جامعات سے منظور شدہ ہے۔ یہاں ایک مستقل شعبہ حفظ و تجوید "معہد زید بن ثابت"قائم ہے ،جس میں حفظ قرآن کریم کے ساتھ چوتھے کلاس تک کی عصری تعلیم کا بہترین انتظام ہے۔ یہاں تمام دینی علوم صرف عربی زبان میں پڑھائے جاتے ہیں اور متوسطہ سے فضیلت تک عصری علوم کے بعض مواد انگریزی و و ریاضی داخل نصاب ہیں، مگر یہ عصری تقاضہ کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ اور تقریبا ایک صدی سے مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم میں تبدیلی لانے اور اسے عصری تقاضے سے ہم آہنگ کرنے کی آواز اٹھتی رہی ہے،مگر اس جانب آج تک کوئی خاص اقدام نہیں ہو سکا ،الا ماشاء اللہ۔ الحمد للہ جامعہ الہدی الاسلامیہ نے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ایک مستحسن اقدام کا فیصلہ کیا ہے کہ متوسطہ سے ہی طلبہ کو انگلش میڈیم کا مکمل نصاب پڑھایا جائے، تاکہ طلبہ جہاں ایک طرف عالم اور فاضل بن کر نکلیں، وہیں عا لمیت و فضیلت کی تکمیل تعلیم تک مغربی بنگال انگلش میڈیم حکومتی بورڈ سے دسویں اور بارہویں کلاس کا امتحان پاس کر لیں۔واضح رہے کہ حکومتی بورڈ کاامتحان ادارہ اپنے طلبہ کو لازمی طور پر دلائے گا، اس کے بعد ان کے لیے عصری و دینی دونوں مجالات میں مواقع دستیاب ہوں گے، اور وہ دینی یا عصری یونیورسٹیوں کے کسی بھی فیکلٹی( آنرس،ایم اے، پی ایچ ڈی، میڈیکل اور انجنیئرنگ وغیرہ )میں داخلہ کے اہل ہوں گے اور اعلی تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ نیز اس سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر ملک کے کسی بھی مقابلہ جاتی امتحانات سی ٹیٹ، نیٹ، آئی اے ایس اورآئی آئی ٹی (CTET,NEET,IAS,IIT)وغیرہ میں شریک ہو کر کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں گے ان شاء اللہ۔
دینی و عصری تعلیم کے اس جامع نصاب تعلیم سے مستفید ہونے کا ایک سنہرا موقع آگیا ہے، لہذا ذمہ داران اور گارجین حضرات اپنی توجہ اس ادارہ کی طرف مبذول کریں اور دینی و دنیاوی دونوں قسم کی سعادت مندی سے سرفراز ہوں۔واضح ہو کہ متوسطہ اولی انگلش میڈیم کا 5 کلاس ہوگا۔اگر کچھ بچے 5اسٹنڈرڈکے اہل نہیں ہوں گے تو انہیں شعبہ حفظ کے گریڈ فور میں ایڈمیشن لے کرایک سالہ کورس کے ذریعہ5 کلاس کا اہل بنایاجائے گا،البتہ کلاس 5 کے اہل طلبہ کو ترجیح دی جائے گی۔جامعہ میں داخلہ آئندہ شوال 1442ھ سے شروع ہوگا۔ متوسطہ کے لیے 30سیٹیں خاص ہیں ،جبکہ دیگر درجات میں حسب معمول داخلہ جاری رہے گا ان شاء اللہ۔

عمید الجامعہ اعزاز الرحمن مدنی

08777054275
Munshidanga,Sardarpar,Near Lake Land Country Club,Kona Express Highway,Howrah,711403(W.B)

18/03/2020

انجمن نادی الطلبہ کا سالانہ خطابتی مسابقہ اختتام پذیر
———————
ہورہ(کولکاتا)،۱۸ مارچ ۲۰۲۰،بروز بدھ،گذشتہ کل الہدی کیمپس میں انجمن نادی الطلبہ (جامعہ الہدی الاسلامیہ) کا سالانہ خطابتی مسابقہ متنوع مضامین کے ساتھ انتہا کو پہنچا ۔طلبہ کی مجموعی کارکردگی توقع سے بہت زیادہ عمدہ اور شاندار رہی۔یہ پروگرام پانچ نشستوں کو شامل تھا، ابتدائی چار نشستوں میں مختلف درجات کے طلبہ نے منتخب موضوعات پر روشنی ڈالی،جن میں قابل ذکر یہ ہیں:محبت رسول اور اس کے تقاضے(مرحلہ متوسطہ)،فتنوں کے دور میں مسلمانوں کا کردار(مرحلہ ثانویہ)،جدید قانون شہریت اور آئین ہند (مرحلہ عالمیہ وفضیلہ)۔اور تمام مراحل کے لیے عربی زبان میں‘‘آداب طلب العلم’’ کا موضوع منتخب تھا۔ان تمام موضوعات پر طلبہ کی ایک کثیر تعداد نے اپنا علمی جوہر دکھایا اور سامعین کو محظوظ کیا ۔اس سالانہ انجمن کی آخری نشست بصدارات مدیر جامعہ مولانا ذکی احمد مدنی بعد نماز مغرب منعقد ہوئی، جس میں کولکاتا ومضافات سے مولانا معروف سلفی،مولانا اسحاق مدنی،مولانا آصف اقبال مدنی،مولانا انتخاب سلفی،مولانا عبداللہ سلفی اور مولانا عبد الواجد سلفی کے علاوہ دیگر اہل علم و گارجین حضرات کی شکت رہی، جس میں طلبہ کی تقریروں کے کچھ نمونے پیش کیے گئے۔اس کے بعد مولانا محمد عالمگیر تابش تیمی نے جامعہ میں ہونے والے مسابقات وگراں قدر انعامات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے صدر انجمن نادی الطلبہ مولانا تسلیم الدین عالی کو فائزین کی تفاصیل پیش کرنے کے لیے مدعو کیا۔انہوں نے یکے بعد دیگرے تمام مراحل میں اول ،دوم اورسوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو دعوت دی ،جنہیں مہمانوں کے ہاتھوں گراں قدر انعامات سے نوازا گیا۔نیز اسی پروگرام میں مسابقہ حفظ قرآن کریم اور نصوص ومتون میں شریک ہونے والے طلبہ بھی بالترتیب اول ،دوم اور سوم انعام سے سرفراز کیے گئے۔
واضح رہے کہ مدیر جامعہ مولانا ذکی احمد مدنی نے تین نشستوں میں مکمل قرآن کریم سنانے والے طلبہ کو پانچ ہزارنقدی انعام اور سرٹیفیکٹ عطا کیا۔ساتھ ہی آپ نے انجمن نادی الطلبہ کے ذمہ داران کی سالانہ کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے،تحائف کی شکل میں ان کی تشجیع وہمت افزائی بھی کی۔تقسیم انعامات کے بعد خصوصی مہمانوں کا خطاب ہوا جس میں سب سے پہلے مولانا اسحاق مدنی نے اپنی بات رکھی اور طلبہ کو محنت ولگن کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی،اور ذمہ داران جامعہ و اساتذہ کرام کی محنتوں کو سراہا۔ دوسرے مہمان مولانا آصف اقبال مدنی تشریف لائے اور انہوں نے تعلیم وتربیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے طلبہ کو نصیحت کی۔پھر مولانا معروف سلفی نے سامعین سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے تعلیم کے ساتھ تبلیغ کی ضرورت پر زور دیا اور قرآن وحدیث کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے طلبہ کو تلقین کی۔اخیر میں صدر مجلس مولانا ذکی احمد مدنی نے طلبہ واساتذہ کرام کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسابقات تو تعلیمی لیاقت کو پروان چڑھانے کا ایک ذریعہ ہیں،ورنہ حقیقت یہ ہے کہ آپ ہرمیدان کے لیے خود کو تیارکریں، چاہے وہ میدان تدریس کا ہو یا تبلیغ کا،صحافت کا ہو یا خطابت کا ۔اگر آپ کسب معاش کے ساتھ دنیا وآخرت میں سرخروئی اور عزت ووقار چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو ہرمیدان میں سخت جدجہد کی ضرورت ہے۔چاہے کوئی بھی مسابقہ ہو،اس میں شرکت کرنا ہی کامیابی کی دلیل ہے۔ ہم اپنے طلبہ کے اس شوق اور اساتذہ کرام کی محنت ولگن پر انہیں مبارکبادی پیش کرتے ہیں،اور مستقبل میں اس سے بھی بہتر کارکردگی کی امید کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی آپ سب کو دنیا وآخرت کی بھلائی عطا فرمائے۔اخیر میں عمید جامعہ مولانا اعزازالرحمن مدنی نے جملہ مہمانان وشرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مجلس کے اختتام کا اعلان کیا۔
(ابواریبہ تیمی)
ج

07/02/2020

🍎 *جامعہ الہدی الاسلامیہ کولکاتا میں ماہانہ تربیتی پروگرام*🍎
*"آداب عيادة المريض" کے موضوع پر خطاب*
جامعہ الہدی الاسلامیہ، کولکاتا میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہر ماہ طلبہ کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔ اخلاقِ جمیلہ، مواعظِ حسنہ،خصائصِ حمیدہ، عاداتِ شریفہ اور آدابِ شرعیہ کے زیور سے طلبہ کو آراستہ و پیراستہ کرنے کے لئے جامعہ کی جامع مسجد میں ہر ماہ اساتذہ کی جانب سے محاضرات پیش کیے جاتے ہیں ۔طلبہ کی دلچسپی کو شروع سے آخر تک برقرار رکھنے کے لئے محاضرہ ختم ہونے کے بعد ان سے سوالات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور جواب دینے والے طلبہ نقد انعامات سے سرفراز ہوتے ہیں ۔
اسی مقصد کے پیش نظر جامعہ کی مسجد میں ایک پروگرام رکھا گیا جس میں عمید الجامعہ، اساتذہ ،اور تمام طلبہ شریک ہوئے اور ناچیز کو "مریض کی عیادت کے آداب" کے عنوان پر محاضرہ پیش کرنے کا حسین موقع ملا۔
صحت اور مرض زندگی کے دو لازمی جزء ہیں ۔کبھی ہم صحت کی دولت سے مالا مال رہتے ہیں تو کبھی بیماری کے تلخ تجربے سے بھی گزرنا پڑتا ہے ۔اس لئےشریعت اسلامیہ میں مریض کی عیادت کرنے کا نا صرف ثواب بیان کیا گیا ہے بلکہ اس کا اس قدر تاکیدی حکم دیا گیا ہے کہ بعض علماء نے اسے فرض عین قرار دیا ہے۔دیگر عبادات کی طرح بیمار پرسی بھی ایک عبادت ہے لہذا اس کے بھی چند آداب،اصول اور ضابطے ہیں جن سے ناواقفیت کی بنا پر بعض حضرات کی طرف سے مریض کو کافی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس لیے جامعہ کے ذمہ داران نے اس حساس موضوع کی وضاحت کرنے کے لئے مجھے مکلف کیا۔ اس محاضرہ کا خلاصہ قارئین کے افادہ کی خاطر پیش خدمت ہے۔
★ *عیادت کی تعریف* :یہ لفظ عَادَ یَعُوْدُ باب نصر کا مصدر ہے ۔جس کا اصلی معنی لوٹنا، اور دوبارہ آنا ہے۔عادَ المریضَ کا معنی :بیمار کی مزاج پرسی کرنا۔
عادَ الطبیبُ المریضَ کا معنی :برائے علاج مریض کا معاینہ کرنا۔
◆اس کا استعمال مریض کی زیارت کے لئے مشہور ہوگیا کیونکہ لوگ عیادت کرنے کے لئے مریض کے پاس بار بار آتے ہیں ۔
★ *مرض کی تعریف* :ابن منظور لسان العرب کے اندر فرماتے ہیں :مرض سُقْم(بیماری) کو کہتے ہیں اور وہ صحت کی ضد ہے۔
فیروزآبادی کے نزدیک:طبیعت کے معتدل رہنے کے بعد اس کا بگڑ جانا مرض کہلاتا ہے ۔
مرض کا اصلی معنی :الضَّعْفُ و النُّقْصان ہے۔
★اہل تفسیر کے نزدیک قرآن مجید کے اندر مرض کا لفظ تین معانی کے لئے مستعمل ہوا ہے :
(1)مرض البدن:اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان "فمن کان منکم مریضا او بہ اذی من راسہ" ہے۔البقرہ:196
(2)الشک:اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا کلام"فی قلوبہم مرض، فزادہم اللہ مرضا"ہے ۔البقرہ:10
(3)الفسق و الفجور:اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان :"فیطمع الذی فی قلبہ مرض "ہے ۔الاحزاب:32
★مرض کی اقسام
◆فقہاء کے نزدیک مرض کی دو قسمیں ہیں:
(1)وہ بیماری جس سے شفا کی امید ہو.
(2)وہ بیماری جس سے شفا کی امید نہ ہو.
◆اطباء کے نزدیک بھی مرض کی دو قسمیں ہیں:
(1)متعدی بیماریاں (2)غیر متعدی بیماریاں.
◆مرض کی تیسری تقسیم بھی کی گئی ہے :
(1)جسمانی مرض (مرض الابدان.
(2)نفسیاتی مرض (مرض القلوب).
★ *مریض کی عیادت کا حکم*:
اس سلسلے میں علمائے اسلام کے تین اقوال ہیں
(1)سنت مؤکدہ
(2)واجب(فرض عین)
(3)فرض کفایہ
تینوں فریق کے دلائل مندرجہ ذیل احاديث ہیں :
(1)"اطعموا الجائع،و عودوا المريض، و فكوا العاني"-رواه البخاري
(2)"حق المسلم علي المسلم خمس:رد السلام، وعيادة المريض، واتباع الجنائز، واجابة الدعوة، وتشميت العاطس"-رواه البخاري
(3)عن البراء بن عازب رضي الله عنه قال:أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبع ونهانا عن سبع:أمرنا بعيادة المريض........ الخ"-رواه البخاري
★ *مریض کی عیادت کے فضائل*:
(1)اللہ تعالی کی معیت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إن الله عز وجل يقول يوم القيامة :يا ابن آدم مرضت فلم تعدني. قال :يا رب كيف أعودك وانت رب العالمين؟ قال:أما علمت أن عبدي فلانا مرض فلم تعده، أما علمت انك لو عدته لوجدتني عنده".رواه مسلم.
(2)جنت کا پھل چننا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :من عاد مريضا لم يزل في خرفة الجنة....... الخ" رواه مسلم
(3)فرشتوں کی دعا حاصل ہوتی ہے :
حضرت علی کا فرمان:ما من مسلم يعود مريضا إلا خرج معه سبعون الف ملك كلهم يستغفر له، وان كان مصبحا حتي يمسي، وكان له خريف في الجنة...... الخ". رواه احمد باسناد حسن.
★ *عیادت کے چند مسائل*
(1)مشرک کی عیادت کرنا جائز ہے کیونکہ سرور کائنات نے اپنے چچا ابوطالب اور ایک یہودی لڑکے کی عیادت فرمائی تھی(بخاری،اور احمد)
(2)مردوں کا عورتوں کی عیادت کرنا جائز ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام السائب رضی اللہ عنہا جسے بخار ہوا تھا کی عیادت فرمائی۔(مسلم)
☆لیکن دو شرطوں کی پاسداری لازمی ہے
(1)فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔ (2)خلوت نہ ہو۔
⇦(3)عورتوں کا مردوں کی عیادت کرنا بھی جائز ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما کی عیادت کی تھی. (بخاری ومسلم)
☆لیکن چند شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے
(1)فتنہ کا ڈر نہ ہو
(2)ولی کی اجازت ہو
(3)مریض کے ساتھ خلوت نہ ہو
★ *مریض کی عیادت کے آداب*:
یوں تو مریض کی عیادت کے بہت سارے آداب ہیں لیکن ان میں چند اہم آداب کا سرسری تذکرہ درج ذیل ہے ۔
◆وہ آداب جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں :
(1)عیادت میں جلدی کرنا
(2)مریض کے سرہانے بیٹھنا
(3)مریض پر ہاتھ رکھنا
(4)مریض کی حالت کے بارے میں سوال کرنا
(5)مریض کے لئے دعا کرنا۔
(6)مریض کو ایسی بات بتلانا جو اس کو فائدہ پہنچائے۔
(7)مریض کے سامنے دل خوش کن بات کرنا
(8)مریض کو موت کی تمنا کرنے سے روکنا
(9)مریض کو مرض کے ثواب کی خوش خبری دینا اور مرض کو گالی دینے سے منع کرنا
(10)مریض کے سامنے اس کے اچھے اعمال کی تعریف کرنا
(11)مریض کو صبر کی تلقین کرنا
(12)عیادت کے لئے پیدل چل کر جانا.
◆اور کچھ آداب ایسے ہیں جو احادیث سے ثابت تو نہیں ہیں لیکن ان کی رعایت بھی ضروری ہے :
(1)مناسب وقت کا انتخاب کرنا
(2)مریض کو تحفہ دینا
(3)عیادت کے وقت مریض کے پاس زیادہ دیر تک نہ بیٹھنا
(4)سوال کم کرنا
یہ چند آداب ہیں جن کی رعایت کرنے سے مریض کی عیادت کرنے کا اصلی مقصد حاصل ہوسکتا ہے ۔
◈محاضرہ کے اختتام پر صدر مجلس جناب شیخ مولانا اعزاز الرحمن تیمی مدنی حفظہ اللہ کو اپنے تاثرات پیش کرنے کے لئے مدعو کیا گیا ۔عمید الجامعہ صاحب نے عیادت کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا اور سارے طلبہ و اساتذہ کو مریض کی عیادت کرنے پر ابھارا۔
☆سابقہ روایت کے عین مطابق طلبہ کی یاد داشت کو پرکھنے اور انہیں انعامات سے نوازنے کیلئے مذکورہ محاضرہ کے مواد سے متعلق سوالات پوچھے گئے جن کا طلبہ نے بڑی چابکدستی اور پوری تیاری کے ساتھ اطمینان بخش جواب دیا۔کچھ طلبہ نے اپنی حاضر دماغی اور دلچسپی کا بھرپور مظاہرہ کیا ۔ان کی کاوشوں سے مسرور ہوکر عمید الجامعہ نے اپنے ہاتھوں سے جواب دینے والے طلبہ کو تحائف سے نوازا۔
فضیلۃ الشیخ جناب مولانا تسلیم الدین عالی کی نظامت میں یہ پروگرام بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا.
تحریر:انوار الاسلام السلفی

27/01/2020

🍏 *جامعۃ الہدی الاسلامیہ میں یوم جمہوریہ کی شاندار تقریب کا انعقاد* 🍏
ہندوستان جب 1947ء کو برطانیہ کی غلامی سے آزاد ہوا تب اسے ایک آئین کی ضرورت پڑی ۔تقریباً تین سال کی مسلسل کاوشوں کے بعد دستور ہند کا ایک خاکہ تیار ہوا جسے 26 جنوری 1950ء کو نافذ کیا گیا ۔اس دستور کے مطابق 565 ریاستوں سے مل کر بھارت ایک جمہوری ملک قرار پایا۔
اسی مناسبت سے جامعۃ الہدی الاسلامیہ اور الہدی انٹرنیشنل اسکول میں ایک شاندار پروگرام منعقد ہوا جس میں جامعہ و اسکول کے مدیر اعلیٰ فضیلۃ الشیخ جناب مولانا ذکی احمد مدنی، معلمین و معلمات، طلبہ اور گارجین شریک ہوئے ۔
صبح ساڑھے دس بجے سب سے پہلے مدیر عام نے پرچم کشائی کی ۔اس کے بعد جامعہ و اسکول کے طلبہ نے یوم جمہوریہ سے متعلق متعدد تقاریر اور نظمیں پیش کی۔
★جامعہ کے طالب یوسف جمیل نے اپنے رفقاء کے ساتھ علامہ اقبال کی مشہور نظم" سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا " نہایت سریلی اور مترنم آواز میں گنگنایا ۔
★سامعین کو دستور ہند کی بنیادی معلومات سے آگاہ کرنے کے لئے طالب محمد مصیب کو دعوت دی گئی ۔موصوف نے آئین کے معمار،دفعات کی تعداد، بنیادی حقوق اور خصوصیات کو اختصار سے بیان کیا۔
★جمہوریت کی تعریف اور تاریخ سے واقف کرنے کے لئے اسکول کے ایک طالب فیضان احمد کو بلایا گیا۔موصوف نے یوم جمہوریہ کے موضوع پر معلوماتی تقریر پیش کرکے سامعین سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔
★دستور ہند میں اقلیتوں کے حقوق کو بیان کرنے کے لئے عبد اللہ قسیم کو دعوت دی گئی ۔موصوف نے مائنریٹی کے حقوق بالتفصیل پیش کیا۔
★اکثر اوقات برادرانِ وطن کی جانب سے مدارس اسلامیہ کی حب الوطنی پر شکوک وشبہات پیدا کیے جاتے ہیں ۔اس لیے "جنگ آزادی میں مدارس اسلامیہ کا حصہ "جیسے مہتم بالشان موضوع کی وضاحت کے لئے طالب امان اللہ کو بلایا گیا ۔طالب علم نے متعدد دلائل اور مختلف مثالوں کے ذریعے ثابت کیا کہ تحریک آزادی میں سب سے زیادہ قربانی مسلمانوں نے پیش کی ہیں ۔چنانچہ انگریزوں کے خلاف سب سے پہلے جہاد کا فتوی شاہ ولی اللہ کے فرزند ارجمند شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نےصادر کیا۔شاہ اسماعیل شہید اور سید احمد شہید رحمہما اللہ کی پوری زندگی انگریزوں سے جہاد کرتے ہوئے گزری۔علمائے صادق پور کی قربانی تاریخ کا ایک نہایت درخشاں باب ہے ۔دلی سے لاہور تک کوئی بھی درخت علماء کی لاشوں سے خالی نہ تھا۔
★جامعہ کے چند طلبہ نے ایک نظم "آزادی کی جنگ میں سب سے پہلا نام ہمارا ہے" انتہائی دلکش اسلوب میں پیش کیا۔
☆آخر میں صدر حفلہ مدیر اعلیٰ فضیلۃ الشیخ جناب مولانا ذکی احمد مدنی صاحب کو اپنے تاثرات پیش کرنے کے لئے مدعو کیا گیا ۔مدیر عام نے فرمایا کہ یوم جمہوریہ ہمیں دستور ہند کی پابندی اور اس کے تئیں ہماری ذمہ داری کو یاد دلاتا ہے۔اس روز ملک کے تمام چھوٹے بڑے اداروں میں آئین کی سربلندی اور بقا کا عہد دلایا جاتا ہے۔کوئ بھی حکومت اگر دستور ہند کے خلاف کوئی قانون بنائے گی تو وہ ہمیں قطعی منظور نہیں ہوگا۔آئین ہند کے تحفظ کے لئے ہم اپنی جان تک قربان کردیں گے مگر اسے کسی طرح کی آنچ آنے نہیں دیں گے۔یہ وطن ہمارے لئے بہت عزیز ہے اور اس کی جانب اٹھنے والی ہر نظر بد کا فی الفور خاتمہ کرکے ہی دم لیں گے ۔
◆صدر مجلس کا خطاب مکمل ہونے کے بعد طلبہ میں شیرینی تقسیم کی گئی اور اساتذہ کے لئے پرتکلف ناشتہ کا اہتمام کیا گیا ۔

22/12/2019
11/10/2019

"جامعہ الہدی الاسلامیہ "کولکاتا میں مولانا فضل اللہ سلفی کی آمد
--------------------------------------
اللہ تعالی کی جملہ نعمتوں میں علم کو ترجیحی طور پر پہلا مقام حاصل ہے:فضل اللہ سلفی/حفظه الله
--------------------------------------
09/اکتوبر،2019"جامعہ الہدی الاسلامیہ" کے احاطہءِعلم وفن میں آج ایک تعارفی مجلس کا انعقاد عمل میں آیا،جس میں طلبہ واساتذہ کرام کی شرکت رہی ۔آج کے پروگرام کی ایک خاص بات یہ رہی کہ اس میں صوبہ بہار سے تشریف لائے صحافت وخطابت کے شہسوار ،کئی کتابوں کے مؤلف،ناظم ضلعی جمعیت اہل حدیث،مدھوبنی بہار،مولانا فضل اللہ انصاری سلفی موجود تھے۔سب سے پہلے ناظم مجلس مولانا عالمگیر تابش تیمی صاحب نے مہمان گرامی کی ہمہ جہت شخصیت کا تعارف پیش کیا اور موصوف کے دعوتی واصلاحی جہود کو سامعین کے سامنے رکھا۔بعد ازیں پروگرام کا آغاز محمد فرحان طالب جامعہ کی خوش کن تلاوت سے ہوا۔موصوف نے سورہ یوسف کی (53-57)آیات کی تلاوت کی۔جب کہ نبی کریم ﷺ کی مدحت میں طالب یوسف جمیل نے مترنم آواز میں نعتیہ کلام پیش کیا۔اس کے بعد یکے بعد دیگرے متنوع موضوعات ومضامین پرمختلف زبانوں میں طلبہ جامعہ نے دینی واصلاحی باتیں پیش کیں۔
طلبہ کے پروگرام کے بعد ناظم جلسہ نے صوبہ بہار سےتشریف لائے مہمان گرامی مولانا فضل اللہ انصاری سلفی صاحب کو دعوت اسٹیج دیا۔موصوف نے اللہ تعالی کی تعریف وتوصیف کے بعد جامعہ میں اپنی تشریف آوری پر خوشی کا اظہار کیا اور مدیر جامعہ مولانا ذکی احمد مدنی صاحب وجملہ اراکین جامعہ اور اساتذہ کرام کا بھی شکریہ ادا کیا۔اس کے بعد موصوف نے فارسی کا ایک شعر پڑھا ،جس کا مفہوم یہ ہے کہ مشک وہ ہے کہ جس کی کی بُو خود کہہ دے کہ وہ مُشک ہے۔اس شعر کے ذریعے آپ نے نَوعمر"جامعہ الہدی الاسلامیہ"کی اطمینان بخش اور حیرت انگیز کارکردگیوں کو سراہا اور اس کی تعریف کی۔انہوں نے طلب علم کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئےسعودی عرب کے مشہور ومعروف عالم دین محمد صالح فوزان کے ایک قول کو نقل کیا "طلب العلم افضل من العبادۃ النافلۃ"علم کا حاصل کرنا نفلی عبادت سے بہتر ہے۔علم کی فضیلت کے باب میں موصوف نے قرآن میں موجود سلیمان علیہ السلام کے اس قول کو نقل کیا:"علمنا منطق الطیر واوتینا من کل شئی"۔اس آیت کریمہ میں سلیمان علیہ السلام نے دو قسم کی نعمتوں کا ذکر کیا ہے۔ لیکن علم کو ترجیحی طور پر پہلے بیان کیا اور بے مثل سلطنت جیسی عطاءات کو ثانوی درجے میں رکھا۔
اس کے بعد مہمان گرامی نے ديوان امام شافعی رحمہ اللہ سے عربی کا مشہور شعر پڑھا،جس کا مفہوم ہےکہ ذکاوت،حرص،محنت،توشہ،استاذ کی صحبت اور لمبا وقت دیے بغیر حصول علم کا تصور محال جیسا ہے۔
مولانا محترم نے اساتذہ کرام کےادب واحترام میں ائمہ کرام کے اقوال بھی پیش کیے،جیسے:امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا اپنے استاذ کی عزت وتوقیر میں یہ فرمانا:"ما مددت رجلي نحو دار أستاذي حماد وفاء له"میں نے اپنے استاذ حماد کی وفاء میں اپنے دونوں پاؤں ان کے گھر کی جانب نہیں پھیلا یا۔اخیر میں موصوف نے حصول علم کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:حصول علم کا مقصد ہرگز دنیا کی چاہت اور اس کا کسب نہیں ہونا چاہیے۔اس کا مقصد تو رب تعالی کی پہچان ،انسانیت نوازی اور سماجی فلاح وبہبود کا کام ہے۔
گرامی قدر مولانا فضل اللہ سلفی حفظہ اللہ کے اس تربیتی واصلاحی خطاب کے بعد مدیر جامعہ الہدی الاسلامیہ مولانا ذکی احمد مدنی حفظہ اللہ نے طلبہ سے روبرو ہوئے۔اللہ تعالی کی تعریف وتوصیف کے بعد موصوف نےاپنے مہمان گرامی مولانا فضل اللہ انصاری سلفی حفظہ اللہ کا شکریہ ادا کیا اورآپ کی علمی ودعوتی خدمات کو بیان کیا اور سراہا۔موصوف نے علم اور دولت کے مابین کے امتیازی فروق کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ دولت وقتی ہے،وہ کسی کے پاس دائمی نہیں رہتی ۔علم کو دوام ہے،جب تک اس کی زکوۃ نکلتی رہتی ہے ،اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔استاذمحترم نے کتابوں کے مطالعہ اور اس کے خلاصہ کو صحافت سے جوڑتے ہوئے فرمایا:دورہ طالب علمی میں کتابوں کا مطالعہ اور اس کا خلاصہ لکھنا آپ کے علم اور صحافتی صلاحیتوں کو جلا بخشے گا ۔انہوں نے طلب رزق کے لیے فکرمند رہنے والے طلباء وفضلاء سے خطاب کرتے ہوئےقرآن کی یہ عظیم آیت تلاوت کی "وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا"۔زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالی پر ہیں۔اخیر میں مدیر جامعہ نے جملہ شرکاء کے شکریے کے ساتھ اپنی بات ختم کی۔واضح رہے کہ اس پروگرام میں کولکاتا ومضافات کے مہمان سامعین بھی شریک تھے۔

ابو اریبہ تیمی

Videos (show all)

Location

Category

Telephone

Website

Address


Munshidanga
Howrah
711403

Opening Hours

Monday 7:45am - 3pm
Tuesday 7:45am - 3pm
Wednesday 7:45am - 3pm
Thursday 7:45am - 3pm
Friday 7:45am - 3pm
Other Schools in Howrah (show all)
Dhulagori Youth Computer Training Centre Dhulagori Youth Computer Training Centre
VILLAGE & POST - DHULAGORI, P.S. - SANKRILE, DIST - HOWRAH, PIN NO - 711302
Howrah, 711302

DYCTC offers short term classes on many popular software & Hardwear applications. We'll teach you how to work BETTER & FASTER

Shibpur Jasodamoyee Vidyalaya Ex Student Association - EXSA Shibpur Jasodamoyee Vidyalaya Ex Student Association - EXSA
19/1, P.K. Roychowdhury 2nd Bye Lane, B.Garden, Shibpur, Howrah, Howrah, India 711103
Howrah, 711103

This is the official page of Ex - Student Association (EXSA) of Shibpur Jasodamoyee Vidyalaya .... S.J.V is a temple of learning and a training ground for future citizens. "Sradhaban Labhate Gyanam."

Jhapordah DUKE Institution Jhapordah DUKE Institution
Dakshin Jhapardaha Road
Howrah, 711405

It's The Original Facebook verified Official page Of JHAPORDAH DUKE INSITUTION, like it and stay joined,

Alhoda International School Howrah Alhoda International School Howrah
Mushidanga Sardarpara
Howrah, 711403

Alhoda International School is one of the most distinguished and reputed English medium institute in Howrah, West Bengal.

Sohanlal Deoralia Balika Vidyalaya Liluah Howrah Sohanlal Deoralia Balika Vidyalaya Liluah Howrah
268/1 G.T. Road,
Howrah, 711204

Established in 1962. the best school for girls in howrah with medium of Instruction in Hindi

A.R.D Science Experts A.R.D Science Experts
57/8, Dewangazi Road, Bally - Howrah.
Howrah, 711201

In this club you can know different facts on Science, answers of questions of Physical science and enjoy Brain Teasers.

Salkia Balika Bidyalaya-O-Silpasram Salkia Balika Bidyalaya-O-Silpasram
37, Kshetra Mitra Lane, Salkia, Howrah-711106
Howrah

Situated in 1929. Though it's a small school, but here are the love of our teachers that we feel... It is great school. We really love it.

St. Thomas' Church School,Howrah St. Thomas' Church School,Howrah
3,church Road Howrah
Howrah, 711101

Manasri Gayaram High School Manasri Gayaram High School
Uttar Manasri
Howrah, 711401

গ্রামের মধ্যেকার একটা ছোট্ট ইস্কুল সুন্দর মানুষে ভরা