17/07/2026
✊ تعلیم اور نوجوانوں کے حقوق کے لیے دہلی کے جنتر منتر سے بڑی خبر! 🇮🇳
جو انسان ہمیشہ ملک کو نئے اور اختراعی (innovative) آئیڈیاز دیتا رہا، آج وہی لداخ کے مشہور ماہرِ ماحولیات اور تعلیمی مصلح سونم وانگچک (Sonam Wangchuk) ہمارے ملک کے نوجوانوں اور طلبہ کے مستقبل کے لیے دہلی کے جنتر منتر پر مرن برت (Indefinite Hunger Strike) پر بیٹھے ہیں۔
اس تصویر میں یوتھ لیڈ پولیٹیکل گروپ 'کاکروچ جنتا پارٹی' (CJP) کے فاؤنڈر ابھیجیت دیپکے، سونم وانگچک سر کی نبض (Pulse)チェック کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ 28 جون سے شروع ہونے والی اس بھوک ہڑتال کو اب دو ہفتے سے بھی زیادہ کا وقت ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے ان کی صحت پر کافی برا اثر پڑا ہے اور ان کی طبیعت لگاتار بگڑ رہی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے بھی انتظامیہ کو ان کی صحت پر کڑی نظر رکھنے کے احکامات دیے ہیں۔
آخر یہ احتجاج کس بات کے لیے ہے؟ 📋
پیچھے لگا بینر صاف صاف پیغام دے رہا ہے— "DHARMENDRA PRADHAN MUST RESIGN"۔ انڈیا میں NEET اور UGC-NET جیسے بڑے اور اہم امتحانات میں ہونے والی دھاندلی، بے ضابطگیوں اور لگاتار سامنے آنے والے پیپر لیک کے معاملات کے خلاف یہ ایک فیصلہ کن لڑائی ہے۔ طلبہ کے غصے اور ملک گیر احتجاج کے بیچ، مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے اور پورے ایجوکیشن سسٹم میں بڑے سدھاروں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
لداخ سے لے کر ملک کے نوجوانوں تک: 🏔️➡️👨🎓
اس سے پہلے سونم وانگچک نے جب بھی بھوک ہڑتال کی، وہ لداخ کے ماحولیاتی تحفظ، وہاں کے آئینی حقوق اور اسٹیٹ ہوڈ (ریاستی درجے) کے لیے تھی۔ لیکن اس بار، انہوں نے سیاست سے اوپر اٹھ کر ملک کے کروڑوں طلبہ اور نوجوانوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے، جو دن رات محنت کر کے اپنے مستقبل کی تیاری کرتے ہیں۔
یہ لڑائی صرف کسی ایک امتحان کی نہیں ہے، بلکہ پورے تعلیمی نظام میں شفافیت اور جوابدہی (Accountability) طے کرنے کی ہے۔ جب تک ہمارے ملک کا نوجوان محفوظ نہیں ہوگا، تب تک انڈیا کا مستقبل کیسے محفوظ ہو سکتا ہے؟
آپ کی اس پر کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں اور اس آواز کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے شیئر کریں! 👇