madrasa Ashraful Uloom Ghorthamba

madrasa Ashraful Uloom Ghorthamba "یہ صفحہ دینی تعلیم، اخلاقی تربیت اور قرآن و سنت کی اشاعت کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

🔅68 سال قبل افغانستان کے بادشاہ محمد ظاہر شاہ صاحب دارالعلوم دیوبند کی زیارت کے لیے تشریف لائے تھے۔آپ کے عَطِیَّہ سے آپ ...
19/08/2026

🔅68 سال قبل افغانستان کے بادشاہ محمد ظاہر شاہ صاحب دارالعلوم دیوبند کی زیارت کے لیے تشریف لائے تھے۔

آپ کے عَطِیَّہ سے آپ ہی کے نام پر ایک عظیم الشان انتہائی خوبصورت دروازہ بابُ الظّاہر کے نام سے `حکیم الاسلام حضرت قاری محمد طیّب صاحب رحمہ اللّٰہ` کے دورِ اہتمام میں بنوایا گیا تھا، یہ دروازہ آج تک اپنی شان و شوکت کے ساتھ قائم تھا لیکن اب یہ تاریخی دروازہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہے گا اور ماضی کی تاریخ بن کر بار بار یاد آتا رہے گا۔
دھونڈو گے مجھے بابوں بابوں،
ملنے کا نہیں نایاب ہوں میں!

18/08/2026

محبتِ رسول کا تقاضاجشن نہیں سنت کی پیروی
سامعین ۔
آج کا موضوع ایسا موضوع ہے کہ جس پر گفتگو کرتے ہوئے زبان کو بھی احتیاط کی ضرورت ہے اور دل کو بھی۔ کیونکہ بات اس ذاتِ اقدس کی ہے جن کے قدموں کی خاک کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اپنی آنکھوں کا سرمہ سمجھتے تھے، جن کے ایک اشارے پر جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتے تھے، جن کی محبت کو ایمان کا حصہ سمجھا گیا
ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی بعض علاقوں میں ایک خاص طرز کی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ گلیاں سجائی جاتی ہیں، جھنڈے لگائے جاتے ہیں، جھالر اور روشنیوں سے راستے آراستہ کیے جاتے ہیں، جلوس نکالے جاتے ہیں اور بعض جگہ ایسی حرکتیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں جو شریعت، اخلاق اور وقارِ مسلمانی کے سراسر خلاف ہوتی ہیں۔ افسوس اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب کوئی شخص ان رسومات میں شریک نہ ہو تو اسے طعنہ دیا جاتا ہے، اس کی محبتِ رسول ﷺ پر سوال اٹھایا جاتا ہے، بلکہ بعض اوقات اسے مشرکینِ مکہ سے تشبیہ دینے تک کی جسارت کی جاتی ہے۔
محبتِ رسول ﷺ کسی جھنڈے کا نام نہیں، محبتِ رسول ﷺ کسی جلوس کا نام نہیں، محبتِ رسول ﷺ گلیوں کی سجاوٹ اور شور و ہنگامے کا نام نہیں۔ محبتِ رسول ﷺ کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے تابع کردے۔
سوال یہ ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں، مگر کیا ہماری نماز نبی ﷺ والی ہے؟ ہمارا اخلاق نبی ﷺ والا ہے؟ ہماری زبان جھوٹ، غیبت اور گالی سے محفوظ ہے؟ ہمارے معاملات دیانت داری والے ہیں؟ ہمارے گھروں میں سنت زندہ ہے؟ ہم والدین، پڑوسیوں اور مسلمانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں؟
محبت کا دعویٰ آسان ہے، محبت کا حق ادا کرنا مشکل ہے۔
نبی کریم ﷺ نے دین میں نئی چیز داخل کرنے سے سختی سے منع فرمایا:
«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»
یعنی جو شخص ہمارے دین میں ایسی چیز ایجاد کرے جو اس میں نہیں، وہ مردود ہے۔
اسی لیے اہلِ علم کے ایک بڑے طبقے نے بارہ ربیع الاول کو ایک مخصوص مذہبی جشن کے طور پر منانے کو شریعت سے ثابت نہیں مانا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور خیر القرون میں اس طرح کا مخصوص جشن ثابت نہیں۔
اور یہاں ایک اور بات سمجھنے کی ہے: خود بارہ ربیع الاول کو ولادتِ نبوی ﷺ کی قطعی تاریخ قرار دینا بھی محلِ اختلاف ہے۔ سیرت نگاروں اور اہلِ علم نے ولادت کی تاریخ کے بارے میں متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔
مگر سب سے خطرناک چیز کیا ہے؟
سب سے خطرناک یہ نہیں کہ کسی نے گھر پر جھنڈا لگایا یا روشنی لگائی؛ سب سے خطرناک یہ ہے کہ انسان ان چیزوں کو دین کا لازمی حصہ سمجھنے لگے اور جو شخص نہ کرے اسے برا بھلا کہنے لگے۔
کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جو میرے میلاد کا جھنڈا نہیں لگائے گا وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا؟
کیا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک دوسرے کے ایمان کو گھروں کی سجاوٹ اور جھنڈوں سے ناپا؟
کیا کسی صحابی نے یہ کہا کہ جو اس مخصوص دن جلوس میں نہ نکلے وہ مشرکینِ مکہ جیسا ہے؟
ذرا اپنے دل سے پوچھیں:
اگر ہم واقعی رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ایک دن کا جشن کیوں؟ پوری زندگی سنت کیوں نہیں؟
ربیع الاول آئے تو سیرت پڑھیں۔
اپنے بچوں کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی سنائیں۔
درود شریف کی کثرت کریں۔
نمازوں کی پابندی کریں۔
جھوٹ چھوڑیں۔
غیبت چھوڑیں۔
والدین کی خدمت کریں۔
پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں۔
حضور ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں لائیں۔
یہ محبتِ رسول ﷺ کا زندہ ثبوت ہے۔
اور یاد رکھیے!
محبت شور نہیں مانگتی، کردار مانگتی ہے۔
محبت جھنڈا نہیں مانگتی، اتباع مانگتی ہے۔
محبت جلوس نہیں مانگتی، سنت مانگتی ہے۔
محبت دعویٰ نہیں مانگتی، قربانی مانگتی ہے۔
لہٰذا کسی مسلمان کو صرف اس وجہ سے مشرکینِ مکہ کہنا کہ وہ کسی مخصوص جلوس یا رسم میں شریک نہیں ہوا، انتہائی سنگین اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ اختلاف ہو تو دلیل سے بات کی جائے، اصلاح ہو تو حکمت سے کی جائے، مگر مسلمانوں کی عزت اور ایمان سے کھیلنے کی اجازت کسی کو نہیں۔
آئیے بارہ ربیع الاول کو جھگڑے کا دن نہیں، سیرت سمجھنے کا موقع بنائیں؛
رسومات کے بجائے سنت کو زندہ کریں؛
نمائش کے بجائے عمل کریں؛
اور زبان سے محبتِ رسول ﷺ کہنے کے ساتھ اپنی پوری زندگی کو سنتِ رسول ﷺ کا آئینہ بنائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت، کامل اتباع اور آپ ﷺ کی سنت پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین۔

عطاءاللہ

لاڈ تو ہر ماں کی فطرت ہے، بس غربت میں انداز بدل جاتے ہیںماں… یہ لفظ ہی اپنے اندر محبت، شفقت، قربانی اور بے غرض چاہت کی پ...
16/08/2026

لاڈ تو ہر ماں کی فطرت ہے، بس غربت میں انداز بدل جاتے ہیں

ماں… یہ لفظ ہی اپنے اندر محبت، شفقت، قربانی اور بے غرض چاہت کی پوری دنیا سمیٹے ہوئے ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ماں ایسی ہو جو اپنے بچے کو لاڈ نہ کرے، اس کی خوشی میں خوش نہ ہو اور اس کے دکھ میں تڑپ نہ اٹھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی ماں کے پاس محبت کو سجانے کے وسائل ہوتے ہیں اور کسی ماں کے پاس صرف محبت ہوتی ہے۔

امیر ماں اپنے بچے کو مہنگے کپڑے پہنا کر کہتی ہے:
"بیٹا! تم پر یہ لباس بہت اچھا لگ رہا ہے۔"

غریب ماں شاید اپنے بچے کے لیے نیا لباس نہ خرید سکے، مگر پرانے کپڑے کو دھو کر، استری کرکے، بڑے شوق سے بچے کو پہناتی ہے اور دل ہی دل میں کہتی ہے:
"میرا بچہ آج کتنا پیارا لگ رہا ہے!"

کسی ماں کے پاس بچے کی فرمائش پوری کرنے کے لیے پیسے ہوتے ہیں، تو کسی ماں کے پاس صرف دعا ہوتی ہے۔ ایک ماں بچے کو پسندیدہ کھانا کھلاتی ہے، دوسری ماں خود بھوکی رہ کر اپنی پلیٹ کا نوالہ بچے کے منہ میں ڈال دیتی ہے۔ محبت دونوں کے دل میں برابر ہوتی ہے، بس اظہار کے طریقے مختلف ہوتے ہیں۔

غریبی ماں کی محبت کو کبھی اس کے وسائل سے مت ناپنا۔ اس کے پاس شاید کھلونے نہ ہوں، مگر بچے کے لیے اپنی دعاؤں کا خزانہ ہوتا ہے۔ اس کے پاس شاید مہنگے جوتے نہ ہوں، مگر بچے کے پاؤں میں کانٹا چبھ جائے تو سب سے پہلے اسی کا دل زخمی ہوتا ہے۔ اس کے پاس شاید بڑے بڑے تحفے نہ ہوں، مگر اس کی راتیں بچے کے مستقبل کی فکر میں گزر جاتی ہیں۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ایک بچہ کبھی کبھی اپنے دوست کے نئے کپڑے، جوتے یا کھلونے دیکھ کر اپنی ماں سے شکوہ کرتا ہے:
"امی! آپ میرے لیے یہ کیوں نہیں لاتیں؟"

وہ معصوم بچہ کیا جانے کہ ماں نے اس کی خواہش پوری کرنے کے لیے کتنی خواہشیں اپنے دل میں دفن کی ہیں۔ وہ کیا جانے کہ جس چیز کو خریدنے کے لیے چند سو روپے کم پڑ رہے تھے، اس کے لیے ماں نے اپنی ضرورت کی کوئی چیز چھوڑ دی ہوگی۔

ماں کبھی اپنے بچے کو یہ نہیں بتاتی کہ آج گھر میں پیسے نہیں ہیں۔ وہ بس مسکرا کر کہہ دیتی ہے:
"بیٹا! اگلی بار لے دیں گے۔"

اور "اگلی بار" کے انتظار میں نہ جانے کتنی مائیں اپنی پوری زندگی گزار دیتی ہیں۔

یاد رکھیں! غربت محبت کو کم نہیں کرتی، صرف محبت کے اظہار کا انداز بدل دیتی ہے۔
امیر ماں بچے کے لیے کیک منگوا سکتی ہے، غریب ماں آٹے اور چینی سے کچھ میٹھا بنا کر اس کے سامنے رکھ دیتی ہے۔ امیر ماں بچے کو گاڑی میں بٹھا کر سیر کراتی ہے، غریب ماں بچے کا ہاتھ پکڑ کر گلی کے نکڑ تک چلی جاتی ہے—اور بچے کو لگتا ہے کہ دنیا کی سب سے خوبصورت سیر یہی ہے۔

اس لیے کبھی کسی غریب ماں کی محبت کو اس کے لباس، گھر، کھانے یا وسائل سے نہ پرکھیں۔ اس کے ہاتھوں کی سختی میں برسوں کی محنت چھپی ہوتی ہے، اس کے چہرے کی تھکن میں اولاد کے لیے قربانیاں چھپی ہوتی ہیں، اور اس کی آنکھوں کی نمی میں وہ دعائیں ہوتی ہیں جن کا کوئی مول نہیں۔

ماں کے پاس دولت کم ہو سکتی ہے، محبت نہیں۔
گھر چھوٹا ہو سکتا ہے، دل نہیں۔
وسائل محدود ہو سکتے ہیں، دعائیں نہیں۔

لہٰذا اگر اللہ نے آپ کو ایسی ماں دی ہے جو آپ کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کا خیال رکھتی ہے، تو اس کی قدر کیجیے۔ اور اگر آپ کی ماں غریب ہے، تو اس کی غربت پر نہیں، اس کی محبت پر نظر کیجیے۔ کیونکہ دنیا میں بہت سے لوگ دولت دے کر بھی وہ سکون نہیں دے سکتے جو ایک ماں اپنی جھولی میں دعا بھر کر دے دیتی ہے۔

آخر میں بس اتنا یاد رکھیے:

لاڈ تو ہر ماں کی فطرت ہے،
بس غربت میں انداز بدل جاتے ہیں؛
کسی ماں کے پاس تحفے ہوتے ہیں،
کسی کے پاس دعائیں ہوتی ہیں؛
کسی کے پاس الفاظ ہوتے ہیں،
کسی کے پاس خاموش قربانیاں؛
مگر ماں کا دل… ہر حال میں اولاد کے لیے ایک جیسا دھڑکتا ہے۔

لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ — شکر کرو، نعمتیں بڑھتی جائیں گیامحترم بزرگو، عزیز دوستو اور میرے اسلامی بھائیو! آج م...
09/08/2026

لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ — شکر کرو، نعمتیں بڑھتی جائیں گی

ا

محترم بزرگو، عزیز دوستو اور میرے اسلامی بھائیو! آج میں آپ کے سامنے قرآنِ کریم کی ایک ایسی آیت کے بارے میں چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں جس کے اندر انسان کی پوری زندگی سنوارنے کا پیغام موجود ہے، جس کے اندر خوشحالی کا راز بھی ہے، سکون کا راستہ بھی ہے، نعمتوں کی حفاظت کا ذریعہ بھی ہے اور نعمتوں میں اضافے کا وعدہ بھی ہے۔ وہ آیت اللہ رب العزت کا یہ فرمان ہے: ﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ﴾، یعنی جب تمہارے رب نے اعلان فرما دیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔

ذرا غور کیجیے! یہ کسی انسان کا وعدہ نہیں، کسی بادشاہ کا اعلان نہیں، کسی دولت مند کی یقین دہانی نہیں؛ یہ اس ذات کا وعدہ ہے جس کے قبضۂ قدرت میں پوری کائنات ہے، جس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے، جس کے ایک حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، جس کے اختیار میں ہماری زندگی بھی ہے، ہماری موت بھی ہے، ہماری عزت بھی ہے، ہماری ذلت بھی ہے، ہماری صحت بھی ہے اور ہماری بیماری بھی۔ وہ رب العالمین فرما رہا ہے: لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ، اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا۔

میرے بھائیو! شکر کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان مصیبت ٹلنے کے بعد زبان سے "الحمدللہ" کہہ دے، بلکہ شکر ایک مکمل زندگی کا نام ہے۔ دل سے یہ یقین رکھنا کہ جو کچھ میرے پاس ہے، میرے رب کی عطا ہے، زبان سے اپنے رب کی حمد بیان کرنا اور اپنے عمل سے اس نعمت کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا، یہی حقیقی شکر ہے۔ اگر اللہ نے آنکھیں دی ہیں تو ان آنکھوں کا شکر یہ ہے کہ انہیں حرام دیکھنے سے بچایا جائے۔ اگر زبان دی ہے تو اس زبان کا شکر یہ ہے کہ اس سے جھوٹ، غیبت، چغلی، گالی اور کسی کی دل آزاری نہ کی جائے۔ اگر کان دیے ہیں تو ان کا شکر یہ ہے کہ انہیں حرام اور ناجائز چیزیں سننے سے بچایا جائے۔ اگر مال دیا ہے تو اس کا شکر یہ ہے کہ مال کو حلال طریقے سے کمایا جائے، زکوٰۃ ادا کی جائے اور اللہ کی رضا کے کاموں میں خرچ کیا جائے۔ اگر علم دیا ہے تو اس کا شکر یہ ہے کہ علم پر عمل کیا جائے اور دوسروں تک پہنچایا جائے۔ اگر اولاد عطا کی ہے تو اس کا شکر یہ ہے کہ ان کی دینی و اخلاقی تربیت کی جائے۔ اگر جوانی عطا کی ہے تو اس کا شکر یہ ہے کہ جوانی اللہ کی نافرمانی میں نہیں بلکہ اللہ کی عبادت اور جائز کاموں میں گزاری جائے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نعمتوں کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں، لیکن پھر بھی ناشکری کرتے ہیں۔ ہمارے پاس آنکھیں ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں؛ کان ہیں، ہم سن رہے ہیں؛ زبان ہے، ہم بول رہے ہیں؛ ہاتھ ہیں، ہم کام کر رہے ہیں؛ پاؤں ہیں، ہم چل رہے ہیں؛ عقل ہے، ہم سوچ رہے ہیں؛ صحت ہے، ہم اپنے کام کر رہے ہیں؛ گھر ہے، اہل و عیال ہیں؛ کھانے کو رزق ہے؛ پہننے کو لباس ہے؛ رہنے کو جگہ ہے؛ سب سے بڑھ کر اللہ نے ہمیں ایمان جیسی عظیم دولت عطا فرمائی ہے، قرآن عطا فرمایا، نماز عطا فرمائی، سجدے کی توفیق عطا فرمائی، لیکن انسان ان نعمتوں کو معمولی سمجھ کر بھول جاتا ہے۔

ذرا اس شخص سے پوچھو جو ہسپتال کے بستر پر پڑا ہوا ہے کہ صحت کتنی بڑی نعمت ہے۔ اس شخص سے پوچھو جس کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے کہ دیکھنا کتنی بڑی نعمت ہے۔ اس شخص سے پوچھو جو بولنے کی طاقت سے محروم ہے کہ زبان کتنی بڑی نعمت ہے۔ اس شخص سے پوچھو جس کے والدین دنیا سے جاچکے ہیں کہ ماں باپ کا سایہ کتنی بڑی نعمت تھا۔ لیکن افسوس! انسان نعمت کی قدر اس وقت کرتا ہے جب نعمت اس کے ہاتھ سے نکلنے لگتی ہے۔

ہمیں اللہ نے صحت دی تو ہم نے شکر نہیں کیا، جب بیماری آئی تو رونا شروع کردیا۔ اللہ نے مال دیا تو اللہ کو بھول گئے، مال کم ہوا تو اللہ کو یاد کرنے لگے۔ اللہ نے وقت دیا تو اسے فضول کاموں میں برباد کردیا، وقت ختم ہونے لگا تو افسوس کرنے لگے۔ اللہ نے جوانی دی تو اسے غفلت میں گزار دیا، بڑھاپا آیا تو کہتے ہیں کاش! جوانی میں کچھ کر لیا ہوتا۔ اللہ نے والدین عطا کیے تو ان کی قدر نہ کی، جب وہ دنیا سے چلے گئے تو آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔ لیکن یاد رکھو! جو نعمت وقت پر پہچانی نہ جائے، بعد کی حسرت اکثر اس کا بدل نہیں بن سکتی۔

قرآنِ کریم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے مثال سلطنت عطا فرمائی۔ ایسی حکومت اور ایسی نعمتیں عطا فرمائیں جن کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ لیکن اتنی عظیم سلطنت ملنے کے باوجود جب انہوں نے نعمت دیکھی تو تکبر نہیں کیا، اپنی قابلیت کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا، بلکہ فرمایا: ﴿هَٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ﴾، یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔
یہی مومن کی شان ہے کہ کامیابی ملے تو کہتا ہے: یہ میرے رب کا فضل ہے۔ عزت ملے تو کہتا ہے: یہ میرے رب کا فضل ہے۔ علم ملے تو کہتا ہے: یہ میرے رب کا فضل ہے۔ رزق ملے تو کہتا ہے: یہ میرے رب کا فضل ہے۔ کوئی نیکی کی توفیق ملے تو کہتا ہے: اے اللہ! یہ تیرا کرم ہے کہ تو نے مجھے اپنے دربار میں جگہ دی۔
اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تو شکر کا سب سے عظیم نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے محبوب ہیں، آپ کے لیے اللہ تعالیٰ نے بے شمار خصوصی فضائل عطا فرمائے، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو اتنی عبادت فرماتے کہ قدم مبارک پر اثر ظاہر ہوجاتا۔ جب عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنا مقام عطا فرمایا ہے، پھر آپ اتنی مشقت کیوں کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا"، کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

ذرا اپنے دل سے پوچھو! ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نعمتوں کے باوجود شکر میں جھکے ہوئے ہیں، اور ہم معمولی سی نعمت ملنے پر اکڑ جاتے ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو عبادت کرتے ہیں، اور ہم چند رکعت نماز کے لیے بہانے تلاش کرتے ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں، اور ہم اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اللہ ہی کی نافرمانی میں استعمال کرتے ہیں۔

اللہ نے آنکھ دی اور ہم اسی آنکھ سے حرام دیکھتے ہیں۔ اللہ نے زبان دی اور اسی زبان سے جھوٹ بولتے ہیں، غیبت کرتے ہیں، دوسروں کی عزت اچھالتے ہیں۔ اللہ نے مال دیا اور اسی مال سے گناہ کے راستے کھولتے ہیں۔ اللہ نے جوانی دی اور اسی جوانی کو غفلت میں برباد کرتے ہیں۔ پھر بھی زبان پر "الحمدللہ" ہے۔ میرے بھائیو! صرف زبان سے الحمدللہ کہہ دینا شکر کی تکمیل نہیں؛ حقیقی شکر یہ ہے کہ جس اللہ نے نعمت دی، اسی اللہ کی نافرمانی میں اس نعمت کو استعمال نہ کیا جائے۔

ذرا سوچو! اگر آج اللہ ہماری ایک ایک نعمت واپس لے لے تو ہمارے پاس کیا بچے گا؟ اگر آنکھوں کی روشنی چلی جائے تو دنیا کی ساری دولت کس کام کی؟ اگر صحت ختم ہوجائے تو محل اور مکان کس کام کے؟ اگر سکونِ قلب چھین لیا جائے تو بڑی سے بڑی دولت کس کام کی؟ اگر ایمان ہی چلا جائے تو پوری دنیا مل کر بھی اس کا بدل نہیں بن سکتی۔

اس لیے سب سے پہلے اپنے ایمان کی نعمت پر شکر ادا کرو۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان پیدا فرمایا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں کلمہ نصیب فرمایا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں قرآن عطا فرمایا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں سجدہ کرنے والا بنایا۔

میرے بھائیو! شکر انسان کو دوسروں کی نعمت دیکھ کر جلنے سے بھی بچاتا ہے۔ جو شخص اللہ کی نعمتوں کو پہچان لیتا ہے، وہ دوسروں کی زندگی دیکھ کر حسرت میں نہیں جلتا۔ وہ کہتا ہے: اللہ نے اسے دیا ہے، اللہ اسے مبارک کرے، میرے رب نے مجھے بھی بے شمار نعمتیں دی ہیں۔ لیکن جو شخص ناشکرا بن جاتا ہے، اس کے پاس جتنا بھی ہو، وہ دوسرے کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔ اس کے پاس گھر ہے، مگر دوسرے کا گھر دیکھ کر پریشان؛ اس کے پاس لباس ہے، مگر دوسرے کا لباس دیکھ کر پریشان؛ اس کے پاس رزق ہے، مگر دوسرے کی آمدنی دیکھ کر پریشان۔ ناشکری انسان کو نعمتوں کے باوجود فقیر بنا دیتی ہے، جبکہ شکر انسان کو کم کے باوجود دل کا غنی بنا دیتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ اپنے والدین کی نعمت کی قدر کریں۔ جب تک ماں زندہ ہے، اس کی خدمت کریں؛ جب تک باپ کا سایہ ہے، اس کی قدر کریں۔ کتنے لوگ آج قبروں کے پاس بیٹھ کر یہ کہتے ہیں: کاش! میں نے والدین کی بات مان لی ہوتی، کاش! میں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہوتا، کاش! میں نے ان کی خدمت کی ہوتی۔ لیکن جب ماں باپ دنیا سے چلے جاتے ہیں تو پھر انسان کے پاس صرف افسوس رہ جاتا ہے۔ اس لیے نعمت کو اس وقت پہچانو جب وہ تمہارے پاس موجود ہے۔

اور اگر اللہ نے تمہیں علم کی نعمت دی ہے تو اس کا شکر کرو۔ اگر دینی ماحول دیا ہے تو اس کا شکر کرو۔ اگر قرآن پڑھنے کا موقع ملا ہے تو اس کا شکر کرو۔ اگر مسجد کا راستہ معلوم ہے تو اس کا شکر کرو۔ اگر نیک لوگوں کی صحبت ملی ہے تو اس کا شکر کرو۔ لیکن یاد رکھو! علم کا شکر صرف یہ نہیں کہ کتابیں پڑھ لی جائیں؛ علم کا شکر عمل ہے۔ قرآن کی نعمت کا شکر قرآن کے احکام پر چلنا ہے۔ نماز کی نعمت کا شکر نماز کی پابندی ہے۔ دین کی نعمت کا شکر دین کو زندگی میں لانا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا: ﴿ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ﴾، پھر اس دن تم سے ضرور نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ذرا سوچو! قیامت کا دن ہوگا، انسان اپنے اعمال کے ساتھ کھڑا ہوگا، اس وقت سوال ہوگا کہ اے بندے! میں نے تجھے آنکھ دی تھی، کہاں استعمال کی؟ زبان دی تھی، کہاں استعمال کی؟ مال دیا تھا، کہاں خرچ کیا؟ وقت دیا تھا، کہاں گزارا؟ جوانی دی تھی، کہاں لگائی؟ علم دیا تھا، اس پر کتنا عمل کیا؟ صحت دی تھی، اس سے کیا فائدہ اٹھایا؟ ایمان دیا تھا، اس کی حفاظت کیسے کی؟

اس لیے میرے عزیزو! آج ہی فیصلہ کرلو کہ ہم ناشکری کی زندگی نہیں گزاریں گے۔ نعمت ملے گی تو اللہ کا شکر ادا کریں گے۔ کامیابی ملے گی تو تکبر نہیں کریں گے۔ مال ملے گا تو اللہ کو نہیں بھولیں گے۔ علم ملے گا تو عمل کریں گے۔ اولاد ملے گی تو ان کی تربیت کریں گے۔ صحت ملے گی تو عبادت میں لگائیں گے۔ وقت ملے گا تو اسے ضائع نہیں کریں گے۔ اور اگر کبھی کوئی مصیبت آجائے گی تو اللہ سے بدگمان نہیں ہوں گے، بلکہ صبر کریں گے، دعا کریں گے اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں گے۔

کیونکہ مومن کی زندگی عجیب ہے؛ نعمت آئے تو شکر، مصیبت آئے تو صبر، کامیابی آئے تو عاجزی، ناکامی آئے تو اللہ پر بھروسہ، رزق بڑھے تو سخاوت، علم بڑھے تو تواضع، عزت ملے تو اللہ کی حمد، اور آزمائش آئے تو اللہ کی طرف رجوع۔

اور آخر میں اپنے رب کے اس عظیم وعدے کو اپنے دل میں بسا لو:

﴿لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾

اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا۔

یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ لہٰذا نعمتوں کی کمی کا رونا رونے سے پہلے اپنی ناشکری کو دیکھو۔ دوسروں کے پاس کیا ہے یہ گننے سے پہلے اپنے رب کی عطاؤں کو گنو۔ شکایتوں کی فہرست بنانے سے پہلے اللہ کے احسانات کی فہرست بناؤ۔ شاید تمہیں معلوم ہوجائے کہ تم جس چیز کو اپنی زندگی کی کمی سمجھ رہے ہو، اس کے مقابلے میں اللہ نے تمہیں اتنی نعمتیں دے رکھی ہیں جنہیں تم شمار بھی نہیں کرسکتے۔

قرآن کہتا ہے: ﴿وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا﴾، اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو انہیں شمار نہیں کرسکتے۔

لہٰذا اے میرے بھائی! شکر کرو، کیونکہ شکر نعمت کی حفاظت کرتا ہے۔ شکر کرو، کیونکہ شکر نعمت میں اضافہ کرتا ہے۔ شکر کرو، کیونکہ شکر دل کو سکون دیتا ہے۔ شکر کرو، کیونکہ شکر انسان کو تکبر سے بچاتا ہے۔ شکر کرو، کیونکہ شکر اللہ کو پسند ہے۔ اور سب سے بڑھ کر شکر کرو، کیونکہ تمہارے رب نے خود اعلان فرمایا ہے: لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ۔

اے اللہ! ہم تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے عاجز ہیں، تو ہمیں اپنا شکر گزار بندہ بنا دے۔ اے اللہ! ہمارے ایمان کی حفاظت فرما، ہمارے دلوں میں اپنی محبت پیدا فرما، ہماری زبانوں کو اپنے ذکر سے تر رکھ، ہماری آنکھوں کو حرام سے بچا، ہمارے ہاتھوں اور قدموں کو اپنی نافرمانی سے محفوظ فرما، ہمارے والدین پر رحم فرما، ہمارے اساتذہ اور محسنین کو جزائے خیر عطا فرما، ہماری اولاد کو نیک بنا، ہمارے مال و جان و وقت میں برکت عطا فرما، اور جو نعمتیں تو نے ہمیں عطا فرمائی ہیں ان کو اپنی رضا کے کاموں میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرما۔

یا اللہ! ہمیں ناشکری سے بچا، غفلت سے بچا، تکبر سے بچا، حسد سے بچا، اور اپنے ان بندوں میں شامل فرما جن کے بارے میں تیرا وعدہ ہے:

﴿لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾

اے اللہ! ہمیں شکر دے، شکر کی توفیق دے، شکر کی حقیقت سمجھا دے، اور ہماری زندگی کو شکر والی زندگی بنا دے۔

آمین یا رب العالمین۔

08/08/2026
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں، مگر ان نعمتوں میں ایک عظیم نعمت اولاد ہے۔ یہی اولاد اگر نیک ہو تو دن...
06/08/2026

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں، مگر ان نعمتوں میں ایک عظیم نعمت اولاد ہے۔ یہی اولاد اگر نیک ہو تو دنیا میں آنکھوں کی ٹھنڈک بنتی ہے اور مرنے کے بعد بھی والدین کے لیے ثواب کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن اگر یہی اولاد دین سے دور، بے نمازی، بدکردار اور نافرمان ہو جائے تو یہی نعمت بہت بڑی آزمائش بن جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾
"اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔" (سورۃ التحریم: 6)
اس آیت میں صرف اپنی فکر کا حکم نہیں، بلکہ اہل و عیال کی دینی تربیت کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
اولاد صرف کھلانے پلانے کا نام نہیں
آج بہت سے والدین بچوں کے لیے اچھے کپڑے، اچھا موبائل، اچھی تعلیم اور اچھی کمائی کا انتظام تو کرتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ:
میرا بیٹا نماز پڑھتا ہے یا نہیں؟
قرآن پڑھنا جانتا ہے یا نہیں؟
اس کے دوست کیسے ہیں؟
اس کے موبائل میں کیا چل رہا ہے؟
اس کا دل اللہ اور رسول ﷺ سے جڑا ہے یا نہیں؟
ہم نے دنیا بنائی، مگر دین چھوڑ دیا۔
اگر بچہ ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بن جائے، لیکن اللہ کا نافرمان ہو، تو وہ دنیا میں بھی حقیقی کامیاب نہیں اور آخرت میں بھی نہیں۔
قیامت کا سب سے دردناک منظر
قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا، نہ اولاد۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ۝ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ﴾
"اس دن نہ مال فائدہ دے گا اور نہ اولاد، مگر وہ شخص کامیاب ہوگا جو اللہ کے پاس پاک دل لے کر آئے۔" (سورۃ الشعراء: 88-89)
سوچئے!
اگر ہماری اولاد نماز چھوڑ دے، گناہوں میں پڑ جائے، والدین کی نافرمان بن جائے، تو دنیا میں بھی دل جلائے گی اور آخرت میں بھی کوئی فائدہ نہ دے سکے گی۔
نیک اولاد مرنے کے بعد بھی سرمایہ ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے... ان میں ایک نیک اولاد ہے جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔" (صحیح مسلم)
ذرا اپنے دل سے پوچھئے!
اگر آج میری آنکھ بند ہو جائے، کیا میرا بیٹا میرے لیے دعا کرے گا؟ یا موبائل میں مصروف رہے گا؟
تربیت کہاں سے خراب ہو رہی ہے؟
آج گھروں میں:
قرآن کی آواز کم،
موبائل کی آواز زیادہ ہے۔
نماز کی فکر کم،
دنیا کی فکر زیادہ ہے۔
دینی مجلسیں کم،
فضول مشغلے زیادہ ہیں۔
بچہ وہی سیکھتا ہے جو گھر میں دیکھتا ہے۔
اگر باپ مسجد سے دور ہوگا تو بیٹا کیسے نمازی بنے گا؟
اگر ماں پردے کی پابند نہیں ہوگی تو بیٹی کیسے پردہ کرے گی؟
اگر گھر میں جھوٹ، غیبت اور گالی ہوگی تو بچے بھی وہی سیکھیں گے۔
حضرت لقمان کی نصیحت
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا:
"اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے روکو، اور جو مصیبت آئے اس پر صبر کرو۔" (سورۃ لقمان: 17)
دیکھئے! سب سے پہلے نماز کی تعلیم دی گئی۔
والدین کی چند بڑی غلطیاں
دین سے زیادہ دنیا کو اہمیت دینا۔
بچوں کو موبائل دینا مگر نگرانی نہ کرنا۔
نماز پر سختی نہ کرنا۔
دینی ماحول سے دور رکھنا۔
علماء اور مسجد سے تعلق نہ جوڑنا۔
خود عمل نہ کرنا اور بچوں سے توقع رکھنا۔
کامیاب تربیت کا راستہ
اگر اپنی اولاد کو دنیا و آخرت میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو:
خود نمازی بنیں۔
گھر میں قرآن کی تلاوت کا ماحول بنائیں۔
بچوں کو مسجد سے جوڑیں۔
نیک دوست اور نیک ماحول فراہم کریں۔
ان کے سوالات محبت سے سنیں۔
دعا کریں، کیونکہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
دینی تعلیم کو زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
دل ہلا دینے والی بات
ذرا تصور کریں...
آپ قبر میں ہیں...
آپ کو ہر نیکی کی ضرورت ہے...
اور آپ کا بیٹا کسی گناہ کی مجلس میں بیٹھا ہے...
وہ آپ کے لیے دعا بھی نہیں کرتا...
سوچئے! اس وقت آپ کی کیا کیفیت ہوگی؟
اور دوسری طرف ایک نیک بیٹا سجدے میں رو رہا ہے:
"اے اللہ! میرے والدین کی مغفرت فرما، ان کی قبر کو جنت کا باغ بنا دے۔"
بتائیے! کون سا منظر آپ اپنے لیے چاہتے ہیں؟
اختتام
میرے بزرگوں اور دوستو!
اولاد کو صرف وراثت نہ دیں، دین بھی دیں۔
صرف جائیداد نہ چھوڑیں، نماز چھوڑ کر جائیں۔
صرف دولت نہ کمائیں، نیک تربیت بھی کمائیں۔
ہر باپ اور ہر ماں آج یہ عہد کرے کہ ہم اپنی اولاد کو اللہ، رسول ﷺ، قرآن، نماز، اخلاق اور دینی ماحول سے جوڑیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہماری اولاد کو نیک، صالح، باعمل، باحیا اور والدین کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائے، اور ہمیں اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین

02/08/2026

وندے ماترم ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا خطرہ ہے؟
" ہم اس مشرکانہ گیت میں شرکت کی بجائے موت کو ترجیح دیں گے " ~مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ
مفکراسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ نے وندے ماترم کی مخالفت میں یہ تاریخ ساز ایمان افروز کلمات کوئی اپنی جوانی میں نہیں کہے تھے بلکہ اس مشرکانہ گیت کےخلاف انہوں نے یہ مزاحمتی کلمات اپنی زندگی کے اس پڑاو پر کہے تھے جب وہ پوری طرح اللہ اللہ اور محمد الرسول اللہﷺ کے عشق میں پک چکے تھے، جب چہار دانگ عالم نے انہیں اہل حق مشائخ و اہل اللہ کا اس دور میں رہنما تسلیم کرلیا تھا، تو کیا آج ان کا نام لینے والے اس مشرکانہ گیت کو مسلط کیے جانے کی سنگینی نہیں سمجھ رہے یا وہ بالارادہ منہ موڑ رہےہیں بخدا یہ بڑی منحوس بات ہوگی !
وندے ماترم اور سرسوتی وندنا کی مخالفت میں حضرت مولانا رحمہ اللہ نے مزید سخت مزاحمتی انداز میں فاشسٹ ہندوتوادی حکومت کو واضح الفاظ میں خبردار کیا تھا کہ " اگر اسکولوں میں مشرکانہ گیت کے اس حکم کو واپس نہ لیا گیا تو مسلمان اپنے بچوں کو درسگاہوں اور اسکولوں سے نکال لیں گے "
کیا قائدینِ ملت اسلامیہ ہندیہ کو خبر نہیں کہ اس ملک میں اب " وندے ماترم " نامی مشرکانہ گیت کو باضابطہ تھوپا جاچکا ہے پارلیمنٹ میں وندے ماترم کی بے احترامی کا قانون پاس ہوگیا ہے یہ دیگر الفاظ میں اب وندے ماترم کو قانونی درجہ دیتا ہے اب اس نام پر بڑے پیمانے پر قانونی کارروائیاں ہوں گی اور نشانہ مسلمان ہوں گے، جو اس کو نہیں پڑھے گا اسے بھی اس مشرکانہ گیت کی بے احترامی کا مجرم قرار دیا جاسکتا ہے،
مثال کے طور پر سمجھیے، یعنی یہ جو تحریر میں لکھ رہا ہوں اسے بھی اس قانون کی رو سے مجرمانہ عمل قرار دیا جاسکتا ہے یہ معاملہ ہوا ہے، ہم شرک کو شرک نہیں کہہ سکتے شرک کی مخالفت نہیں کرسکتے یہ خطرہ بھی اب ہند میں پھٹ پڑا ہے، لیکن کیا اب زبان و قلم سے بھی آئینی و جمہوری دائروں میں اپنی آواز بلند نہ کریں؟ اپنے ایمانی نظریات کا اظہار نہ کریں ؟ وہ بھی ایسے شرک کو پورے ملک پر تھوپے جانے کےخلاف بھی خاموش رہیں تو پھر ہمارا زندہ رہنا کس فائدے کا؟ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو اس کا یہی مطلب کہ ہمارے دل کے ایمان کی موت واقع ہوچکی ہے اور جوکچھ ظاہر میں ہے وہ بس چند رسومات!!!
یہ معاملہ کوئی جذباتی بیانیے سے جڑا ہوا نہیں ہے بلکہ یہ ایسا سنگین اور نازک معاملہ ہے مسلمانوں کے لیے کہ غالباً 1998 میں جب اتر پردیش کے اسکولوں میں اس گیت کو زبردستی تھوپا جارہا تھا تب اس وقت مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ نے اس کے خلاف ایسی شدید مزاحمت کی تھی کہ فاشسٹ ہندوتوادی حکومت نے حضرت مولانا علیہ الرحمہ کے گھر پر اور ندوے پر چھاپہ مارا تھا، حضرت مولانا اس وقت اپنی زندگی کے آخری پڑاؤ پر تھے اور تب ان کی پوری زندگی اللہ اللہ اور محمد الرسول اللہ کے رنگ میں پک چکی تھی، تب انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا اور دوٹوک جواب دیا تھا کہ مسلمان اس گیت کو گانے کے مقابلے میں موت کو ترجیح دیں گے، چنانچہ اس مردِ باخدا کے اس ایک ایمان افروز اقدامی بیانیے اور ایمانی حرارت و توحیدی جرات سے یہ مشرکانہ آفت مسلمانوں پر سے ٹلی تھی، اگر یہ معاملہ ادنیٰ سی بھی نظر اندازی کے قابل بھی ہوتا تو مفکر اسلام کبھی ایسی مزاحمت نہ کرتے،
پتا نہیں آج ان کے نام لیوا اور ان کی جانشینی کا دم بھرنے والے ایسی گھٹا ٹوپ تحریفات اور مادیت کے عہد میں اس گیت کو مسلط کرنے کے خلاف کیا مزاحمت کرتے ہیں؟
یقیناً اس گیت کا نفاذ مسلمانوں کے عقائد و ایمانیات کی روح کو سبوتاژ کرنے والا ہے لیکن صد افسوس کہ قائدین ملت اسلامیہ ہندیہ اہل ایمان کی روح پر شب خون کی سنگینی بھی محسوس کرتے دکھائی نہیں دے رہےہیں ایمانی غیرت و توحیدی حرارت کی کوئی رمق اب تک اتنے بڑے سانحہ پر نظر نہیں آئی , اب تک مسلمانوں کی جان و مال اور حرمت و شعائر کا مسئلہ درپیش تھا اب تو ایمانی وجود پر سوالیہ نشان ہے؟ آئینی و جمہوری مزاحمت کی کال دینے کے لیے آخر مسلمانوں کی قیادت کس گھڑی کی منتظر ہے؟ جب ملت کے کچے اذہان شرک میں مبتلا ہوجائیں گے شرک و توحید کو صرف زبانی تلفظ سمجھ بیٹھیں گے تب بہت دیر ہوجائے گی اور اس غفلت و مصلحت کی کوئی معافی تاریخ میں نہیں ہوگی !
مسلمان ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے جتنی دیر میں اٹھیں گے اتنے زیادہ مسائل کا انبار لگےگا اتنی ہی زیادہ قربانیاں دینی پڑیں گی !
اللھم ثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکافرین
✍️: سمیع اللہ خان

01/08/2026

*مدرسہ میں خواتین کا تعلیم دینا کیسا ہے ؟؟*

بسم اللہ الرحمن الرحیم: لڑکیوں کی تعلیم کا مسئلہ بڑا نازک ہے، ایک طرف ان کی دینی تعلیم بھی ضروری ہے دوسری طرف ان کی عفت و عصمت کی حفاظت کا انتظام کامل بھی ضروری ہے۔
اس لئے اولا تو بچیوں کو گھروں میں کسی خاتون کے ذریعہ تعلیم دینے کی کوشش کی جائے لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مجبوری میں لڑکیوں کے مدرسہ میں داخل کیا جاسکتاہے جہاں پڑھانے والی خواتین ہوں۔ اور ایسے مدرسے بھی قائم کئے جاسکتے ہیں ۔ *اور اس سلسلہ میں بہتر یہ ہے کہ مدرسہ غیراقامتی ہو کہ لڑکیاں محرم کے ساتھ پڑھنے جائیں اورمحرم کے ساتھ گھر واپس آئیں، اور مردوں سے بالکل اختلاط نہ ہو اور پردہ کا پورا اہتمام رہے۔* اور اگر اقامتی ادارہ کی سخت ضرورت ہو تو مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ اس کی گنجائش ہوگی، *اور مہتمم وغیرہ سب پر معقول اور مناسب پردہ لازم ہوگا۔ مہتمم نیک طبیعت ہو اور پورے طور چوکنا اور محتاط رہے کہ کہیں کوئی بے احتیاطی نہ ہونے پائے اور کسی فتنے کا دروازہ نہ کھلے۔*

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند

غلط فہمیاںشوہر خاموش تھا، بیوی ناراض تھی۔دونوں ایک دوسرے سے محبت تو بہت کرتے تھے، مگر بات کرنے کے بجائے خاموش رہنے لگے۔ب...
28/07/2026

غلط فہمیاں

شوہر خاموش تھا، بیوی ناراض تھی۔
دونوں ایک دوسرے سے محبت تو بہت کرتے تھے، مگر بات کرنے کے بجائے خاموش رہنے لگے۔

بیوی کو لگتا تھا کہ شوہر بدل گیا ہے، اور شوہر کو محسوس ہوتا تھا کہ بیوی اسے سمجھنا ہی نہیں چاہتی۔

دوسری طرف دونوں کے والدین بھی اپنی اپنی باتوں سے حالات کو مزید الجھا رہے تھے۔
کبھی بیوی سے کہا جاتا، "تم ہی کیوں جھکو؟"
اور کبھی شوہر سے کہا جاتا، "زیادہ اہمیت مت دو۔"

یوں انا، خاموشی اور دوسروں کی باتوں نے ایک خوبصورت رشتے کے درمیان دیوار کھڑی کر دی۔

ایک دن شوہر نے دل ہی دل میں سوچا:

"اگر میں ہی خاموش رہوں، ہر الزام برداشت کروں، اور ہر طرف سے دباتا رہوں... تو آخر میں کیا کروں؟ میں بھی تو انسان ہوں، میرے دل کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔"

اس نے بیوی سے صرف ایک بات کہی:

"ہم دونوں اگر دوسروں کی باتوں کے بجائے ایک دوسرے کی بات سن لیں، تو شاید ہمارے درمیان کوئی غلط فہمی باقی نہ رہے۔"

رشتہ جیتنے کے لیے ہمیشہ کسی ایک کا جھکنا ضروری نہیں، بلکہ دونوں کا ایک دوسرے کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔
کیونکہ والدین اپنی جگہ قابلِ احترام ہیں، مگر شوہر اور بیوی کا رشتہ اعتماد، گفتگو اور محبت سے ہی مضبوط رہتا ہے۔

Address

‌etochanch More Bakenia Kodwadih Ghorthamba Giridih
Giridih
825418

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when madrasa Ashraful Uloom Ghorthamba posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category