19/06/2026
مستعصم کی ایک ہاشمی بیوی ہلاکو خان کی قید میں تھی۔ ہلاکو خان چاہتا تھا کہ خلیفہ کی ملکہ کو اپنے بستر کی زینت بنائے ۔ اس ہاشمی غیرت مند خاتون نے اس رسوائی سے بچنے کے لیے اس بدبخت کو انواع و اقسام کے عمدہ و نفیس تحائف بھیجے اور اس غلیظ ارادے سے باز رہنے کی درخواست کی مگر وہ نہ مانا اور اسے زبردستی اپنے پاس طلب کیا۔
ملکہ نے اس کی ہوس سے بچنے کے لیے ایک تدبیر سوچی۔ وہ اپنی خاص باندی کو سارا منصوبہ سمجھا کر اس کے ساتھ ہلاکو کے پاس گئی۔ اسے ایک مرصع شمشیر پیش کرتے ہوئے بولی:
”یہ خلیفہ کی تلوار آپ کی نذر ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ خلیفہ کے سوا کسی اور کے ہاتھ میں ہو تو اس کی ضرب کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔“
ہلا کو نے اس عجیب دعوے کی تصدیق چاہی ۔ ملکہ نے باندی کو سامنے کھڑا کیا اور تلوار اس پر سونت لی۔ باندی چیخنے چلانے لگی ۔ ملکہ نے کہا:
” تم تو جانتی ہو کہ یہ تلوار خلیفہ کے سوا کوئی اور استعمال کرے تو کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔ اچھا! تم ڈرتی ہو تو یہ تلوار لو۔ مجھ پر وار کر کے دیکھ لو۔“
ملکہ نے پہلے ہی باندی کو سمجھا دیا تھا کہ پوری قوت سے وار کرنا۔ باندی نے تلوار چلائی اور ملکہ کا جسم دو ٹکڑے ہو گیا۔ ہلاکو خان تب سمجھا کہ یہ ملکہ کی چال تھی ۔ وہ اس پاکباز عورت کی عزت سے کھیلنے کا ارمان پورا نہ کر سکا۔
.....
سقوط بغداد کے بعد آخری عباسی خلیفہ کا
مستعصم کے اہل و عیال کا کیا بنا؟
یہ پڑھیے آج کی کی قسط میں۔
17/06/2026