عملیات روح قرآن کتاب المظاھر

عملیات روح قرآن کتاب المظاھر

Share

Mazid Malumat Ke Liye call +919470966960
Khanqah e Mazahirya
Qazi Syed Shah Taquee Imam Mazahiri Ali Imam E Manastam Manam Gulam E Ali

01/10/2025
23/06/2024

اَلْقُدُّوس
مزاج: جمالی اعداد: 170
◙ پاکیزگی اور دل کی صفائی
حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ جو شخص زوال آفتاب کے وقت ایک سو ستر 170 مرتبہ
یَا قُدُّوْسُ پڑھے تو اُس کا دِل نُورانی ہو گا اور شیطانی وسوسے سے محفوظ رہے گا ۔ ان شاء اللہ ۔ حوالہ: کلیات مفاتیح الحاجات۔

◙ بچوں کا اخلاق درست ہو
بچوں کو مؤدب بنانے کے لیے مہینے میں ایک بار جمعہ کے دن گیارہ سو مرتبہ یَا قُدُّوسُ پانی پر پڑھ کر پلاتے رہیں ۔بچے مؤدب ہوں گے اور سب انہیں پسند کریں گے ۔

◙ شوگر/ بلڈ پریشر/بواسیر اور دیگر امراض
ان بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے روزانہ صبح و شام 33 مرتبہ یا مَالِکُ یا قُدُّوسُ کا وِرد کیا کریں تو اِن شاء اللہ اِن بیماریوں سے محفوظ رہیں گے ۔

◙ بے مثال ازدواجی خوشی
یامَالِکُ یَا قُدُّوسُ سے بیماریوں سے تحفظ کی تحریر پڑھ کر ایک معتبر دوست نے کال کی اور کہا کہ خان صاحب اس اسم کی شِفائی تاثیر کا ایک حیران کن ذاتی مشاہدہ سناتا ہوں ۔ کہنے لگے ایک وقت آیا کہ ازدواجی تعلقات بالکل سرد ہو گئے ، ذہنی و جسمانی رغبت اور صحت ختم ہو گئی تب ایک بزرگ نے مجھے اس طرح تسبیحات کرنے کا مشورہ دیا۔
صبح اور شام کی نماز کے بعد یَامَالِکُ یَاقُدُّوسُ کی ایک ایک تسبیح پڑھنے کو کہا۔ اگر حسب ضرورت فائدہ نہ ہو تو مزید تعداد بڑھا لیں مگر 500 سے زیادہ نہیں پڑھنا ۔ بزرگ کی ہدایت پر عمل کیا اور قلیل مدت میں الحمد للہ جیسے نئی زندگی حاصل ہو گئی ہو ۔
نوٹ: 444 روپے صدقہ دے کر پڑھائی شروع کیجیے!

◙ دولت/پراپرٹی محفوظ
ہر جمعرات بعد نماز عشاء ایک ہزار مرتبہ
یَامَالِکُ یَاقُدُّوسُ
کی تلاوت کرنے کے فوائد پڑھیے:
○ کرائے دار سے جائیداد محفوظ
○ قبضہ مافیا سے جائیداد محفوظ
○ ظالم سے جائیداد محفوظ . . .
○مزارعوں سے جائیداد محفوظ

اسم الہی یاقُدُّوسُ کا نقش معظم چاندی یا پیپر پر لکھ کر پاس رکھنے سے:
◘ قلب و روح کی پاکیزگی حاصل ہو گی ۔
◘ برائیوں سے نفرت ہو گی ۔
◘ لوگ عزت سے پیش آئیں گے ۔
◘ اپنے غیر مسخر ہوں گے ۔
◘ مقاصد میں کامیابی ہو گی ۔
◘ غیبی مدد شامل حال ہو گی ۔
◘ روحانیت بڑھے گی ۔

21/06/2024

سات سلام مشہور ہے کہ مشہور ہے کہ جو شخص یہ سات سلام نو روز کے دن مشک و زعفران سے کسی چینی کے برتن پر لکھ کر گلاب کے عرق سے دھوئے اور اس میں سے پیئے تو آئندہ سال تک کوئی رنج و درد
اُس کو نہ ستائے گا۔ اگر زہریلا جانور کاٹے تو اس پر اثر نہ ہوگا۔
(1) - سَلَامٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رَّحِيمٍ ،
(2) - سَلَامٌ عَلَى نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ ،
(3) - سَلَامٌ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ،
(4) - سَلَامٌ عَلَى مُوسَى وَهَارُونَ ،
(5) - سَلَامٌ عَلَى إِلْ يَاسِينَ ،
(6) - سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ
(7) - سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ

12/03/2024

اے جان عزیز عـلماء کی طرح پڑھ پڑھ کر اور واعظ کرکے تو سُکھ نہیں پا سکتا نہ گھر بیٹھ کر نہ سوچ بچار چھوڑ کر نہ اجلے کپڑے پہن کر نہ کھیل تماشوں میں مشغول ھو کر سُکھ پاسکتا ھے اگر تو سُکھ پاکتا ھے تو غوروفکر کر اپنے آپ میں کیوں کہ یہی راستہ سُکھ چین کا ھے۔ اے دلبر آیات واحادیث اور اقوال عارفاں حقیقی کے جو لوگ مخالف ھیں وہ گمراھی کے جنگل میں سرگرداں ھیں ان کی عبادت روزہ مقبول نہیں جب تک مسلمان ھوکر مومن کے درجے کے مستحق نہیں ھوتے ۔ کلمہ طیبہ وکلمہ شہادت حق تعالیٰ کی معرفت ھے ، علم معرفت سوائے کامل مرشد کے محال ھے کیوں کہ زبانی کلمہ غیر مذاھب بھی پڑھ لیتے ھیں لیکن جب تک حقیقت سے آشنا نہ ھو مسلمانی محال ھے ۔
ارشد باری تعالیٰ ھے " ۔ فازکرونی اذکرکم واشکروا الی ولا تکفرون ۔ البقرہ 152
پس تم پر لازم ھے کہ میرا زکر کرو میں تمہیں یاد کروں گا اور شکر ادا کیا کرو میرااور میری ناشکری نہ کیا کرو۔
جان لو کہ معارف کے حاصل ھونے کا طریقہ صرف اور صرف القاء اور انعکاس ھے ۔ زکر الہیٰ اور مراقبہ سے ھی دل میں استعداد پیدا ھوتی ھے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ پرنور سے بلا واسطہ یا بالواسطہ فیضان والقاء قبول کر سکے اس لیے حکم دیا کہ میرا زکر کیا کرو ۔ کثرت ِ زکر سے ھی تم اس مقام پر فائز کیے جاؤ گے جہاں انوار و تجلیات کی بےمحابا بارش ھوتی ھے اور دوری کے حجاب یکسر الٹ دیے جاتے ھیں ۔ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا اس سے بڑھ کر بھی بندہ کی کوئی عزت افزائی ھوسکتی ھے کہ اس کا خالق ومالک اس کو اپنی یاد سے سرفراز فرما دے ۔
ایک حدیث قدسی بھی ملاحظہ ھو تا کہ اپنے رب کریم کی بندہ نوازی کا تمہیں اندازہ ھو سکے ۔ " میرا بندہ جیسے مجھ سے گمان رکھتا ھے ویسا ھی میں اس کے ساتھ برتاؤ کرتا ھوں ۔ اگر وہ مجھے دل سے یاد کرے میں بھی اسے ایسے ھی یاد کرتا ھوں اور اگر مجمع عام میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر مجمع میں اسے یاد کرتا ھوں اور اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک ھو تو میں ایک ھاتھ اس کے نزدیک ھو جاتا ھوں ۔ اگر وہ ایک ھاتھ میرے نزدیک ھوتا ھے تو میں قدم اس کے قریب ھو جاتا ھوں اگر وہ چل کر میری طرف آئے تو میں دوڑ کر اس کی طرف جاتا ھوں ( مسلم )
اے طالب اللہ تعالیٰ نے جو انعام فرمائے ھیں مثلا رسول بھیجے ھدایت کی توفیق بخشی شوق محبت کا جذبہ عطا فرمایا اس پر شکر ادا کرو ۔ نعمتوں کا انکار۔ رسول کی نافرمانی اور غفلت میں وقت ضائع کر کے ناشکری نہ کرو۔ جان لو کہ لفظی ذاکر عام لوگ ھیں جو حصول دنیا وعاقبت کے واسطے سفر ومجاھدہ زکر کرتے ھیں اور معنوی ذاکر خاص لوگ ھیں جو سفر ومجاھدہ زکر و فکر اپنے مولا کے واسطے کرتے ھیں ۔
" محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " نوم العالم افضل من عباد الجاھل " یعنی عالم کا سونا جاھلوں کی عبادت سے افضل ھے "
یہ علمائے ربانی کی طرف اشارہ ھے نہ کہ کسی اور رسمی علم کے عالم کی طرف "
محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ھے ۔ " من عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربہ " جس نے پہچان کی اپنے آپ کی پس اسے پہچان ھوئی رب کی "
انسان جب اپنے آپ میں نظر کرتا ھے تو اسے کوئی جزو ایسا معلوم نہیں ھوتا ، پہچان جو ذات باری تعالیٰ کے سوا کہیں سے حاصل ھو ۔ نہ وہ بذاتہ کسی چیز کا مالک ھے نہ کوئی حرکت اور قوت بغیر حکم ایزدی کے اس کے اختیار میں ھے ۔ وجود ، علم ، ارادہ ، قدرت ۔ سمع ، بصر اور صفت کلام صفات حق تعالیٰ ھیں جو بطور امانت اس کی روح میں ودیعت کی گئی ھیں ۔ لہٰذا اپنے آپ کو سوائے حق تعالیٰ کے من کل الوجود نیست ونابود پاتا ھے اس وقت اسے اپنی ساری ھستی حق تعالیٰ کی ھستی دکھائی دیتی ھے خود آگاھی حاصل ھو جانے پر دکھ دکھ سُکھ گناہ ثواب اور مرگ وزیست کے تمام مسائل حل ھو جاتے ھیں اور انسان فارغ البال ھو کر اس زندگی میں جنگ کی کیفیت محسوس کرنے لگتا ھے ۔
حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ھیں ۔
دین کیا ھے درحقیقت خاک سے اٹھنا ھے تاکہ پاکیزہ روح خود سے آگاہ ھو جائے ۔ یعنی اپنے آپ کو پستی سے بلندی کی طرف لے کر جانا ھے ۔ اگر تو دین کے اسرار سے آگاہ ھونا چاھتا ھے تو اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ تو اپنے ضمیر " نفس ۔ دل روح " کی گہرائی تک جاکر پرکھ لے اور دیکھ لے ۔
پڑھنا گڑھنا تو ایک پیشہ ھے تو اپنی زبان کو اللہ کی یاد میں مصروف رکھ جس علم کے حاصل کرنے سے اللہ ملتا ھے وہ علم تو ھـر کسی کے نصیب میں نہیں ھوتا ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ھے ۔ " من سکتَ سلمَ نجیٰ " یعنی جو خاموش رھا وہ سلامت رھا اور جو سلامت رھا اس نے نجات پائی ۔ اے طالب خاموش ھونا ایک راز ھے جو کامل ولی کی صحبت سے حاصل ھو سکتا ھے ۔
حدیث قدسی میں ارشاد باری تعالیٰ ھے " کنت کنزاََ مخفیاََ فاحببت ان اعرف فخلقت الخلق لاعرف " ۔ یعنی میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا پس میں نے خواھش کی کہ پہچانا جاؤں پس اس مطلب کے لیے میں نے خلقت کو پیدا کیا " ۔
تو اس وقت مخفی خزانہ کی آواز یعنی ندا یہ تھی " لا الہٰ الا انا " یعنی میں ھی خدا ھوں میرے سوا اور کوئی خدا نہیں اور جو کچھ مخفی خزانہ میں موجود تھا وہ عالم ناسوت کے بازار میں لایا گیا تو یہ بھی آتے ھی وھی بولنے لگا یعنی کوئی کہتا ھے کہ میں بڑا عالم ھوں کوئی کہتا ھے میں بڑا دولت مند ھوں کوئی کہتا ھے میں بڑا پہلوان ھوں ، ھر ایک وھی بولی بولتا ھے جو حکیم نے بھر دی تھی ، پس بولی سب کی ایک ھے ۔ کُن فیکون یعنی کُن کہنے والے کے بھی اور فیکون جو کچھ ھو گیا وہ بھی وھی بولی بولتا ھے ۔ یعنی بولی کے مراتب دو ھیں ۔ ھستی مطلق وھی ھستی موھومہ جو لاالہٰ الا اللہ کے پڑھنے اور سمجھنے یا اس پر عمل درآمد کرنے سے ثابت ھو سکتی ھے ۔ جس وقت حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر یہ راز کھل گیا تو آپ نے فرمایا " رایتُ ربی بربی " میں نے اپنے رب کو اپنے رب سے پہچانا "
پھر فرمایا " من رانی فقد رایَ الحقُّ " جس نے مجھے دیکھا بے شک اس نے حق کو دیکھا " ۔ محمد ﷺ نےاپنے صحابہ سے سوال کیا تم نے حق کو کس کس طرح پہچانا ؟ ۔ تو کسی نے کہا صدق وعبادت وسخاوت سے پہچانا اور کسی نے کہا عدل وعبادت وسخاوت سے پہچانا اور کسی نے کہا کہ حیاء اور عبادت وسخاوت سے پہچانا اور کسی نے کہا کہ علم وقدرت سے پہچانا ۔ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کہا " عرفت ربی بعین ربی "یعنی میں نے اپنے رب کو اپنے رب کی آنکھوں سے دیکھا ۔" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " کہ مجھ کو بھی یہی حکم تھا کہ جو یہ جواب دے خرقہ خلافت فقراء اسی کا ھے ۔
سلطان العاشقین عاشق حق عارف حق حضرت بایزید بسطامیؒ نے فرمایا " تخم پاک معرفت کو آدم علیہ السلام کے زمانہ میں خوشہ ظاھر کیا ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں انگور نمایاں کئے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت اس کی صاف شراب کھینچی گئی اور امت کے رندوں نے اس شراب خالص کے پیالے لیے بےخود ھوئے اور بلند آواز سے کہا " سبحان ما اعظم شافی " سبحان اللہ میری شان کیسی اعلیٰ ھے" ولیس فی جبتی سوی اللہ " میرے جُبہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں ۔ وانا الحق اور میں حق ھوں ۔ لا الہٰ الا اللہ اور نہیں ھے کوئی خدا مگر میں " ۔ مارایت شیئی الا ورایت اللہ فیہ یعنی میں نے نہیں دیکھی کوئی چیز مگر میں نے دیکھا اللہ کو اس میں "۔

11/03/2024

کوئی ہے جو میری ایک امانت کا بوجھ اٹھاے…
یہ سن کر سمندر کی سانسیں ٹوٹنے لگیں… پہاڑ ہیبت سے لرزنے لگے… پوری کائنات پر لرزہ طاری ہو گیا… کسسی کو طاقت نہ تھے کہ وہ یہ بوجھ اٹھاتا۔
پھر الله نے وہ امانت انسان کو سونپ دی… اور انسان اسے اٹھاے مضطرب اور سرگرداں ہے… یہ کائنات کا سب سے بڑا صبر ہے…
وہ امانت الله کی تمام صفات کا پر تو ہے… ہلکا سا عکس…
الله نے اپنی تمام صفات انسان کو سونپ دی… رحم، کرم، قہر، جبر، پوری تمام صفات… اور اپنا اسم ذات نور سے لکھ کر پہلے ہی اس کی پیشانی میں رکھ دیا
الله نے جب جن و ملائک کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو وہ شرک کا حکم نعوذ باللہ نہیں دیا تھا… وہ سجدہ آدم کے لئے نہیں تھا بلکے وہ تو پیشانی میں محفوظ اسم ذات کے لئے تھا… الله کے لئے تھا
اس لئے شاعر نے کہا کے میں وہ اسم عظیم ہوں جس کو جن و ملک نے سجدہ کیا تھا
پھر اپنی ٩٩ صفات کا عکس انسان پر ڈالا تو اس نے یہ بتا دیا کہ انسان اس کا خلیفہ، اس کا نائب ہے… اس میں اتنا صبرہے کہ وہ یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے… تو انسان میں رحیمی بھی ہے… جباری بھی ہے…اور قہاری بھی ہے
۔
اب انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ان صفات کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے… رحمتوں کا اور صفات کا یہ توازن صرف ایک انسان نے قائم کر کے دکھایا ہے… اور وہ ہیں…
رحمت العالمین صلی الله علیہ وسلم
یـوں انسـانیت سرخـرو ھـوئی اور امـانت کا حـق ادا ھـوا

Want your school to be the top-listed School/college in Gaya?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Gaya