Idara E Quran

Idara E Quran Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Idara E Quran, Education, IQ colony, Bathdi Road, Sherani Abad, Didwana.

21/05/2025
इदार-ए-क़ुरआन (आई क्यू): एक नया तालीमी इंक़िलाबआज के दौर में तालीम सिर्फ़ एक ज़रूरत ही नहीं, बल्कि हमारी पहचान और हमारे ...
08/03/2025

इदार-ए-क़ुरआन (आई क्यू): एक नया तालीमी इंक़िलाब

आज के दौर में तालीम सिर्फ़ एक ज़रूरत ही नहीं, बल्कि हमारी पहचान और हमारे मुस्तक़बिल भी है। मगर एक लंबे अ़र्से से मुस्लिम समाज दो तालीमी निज़ामों के बीच तकसीम है:
एक तरफ़ वो हैं जो सिर्फ़ मॉडर्न एजुकेशन हासिल कर रहे हैं और उसी की बात करते हैं लेकिन दीनी तालीम से बिल्कुल महरूम हैं और दूसरी तरफ़ वो हैं जो सिर्फ़ मदरसा एजूकेशन की बात करते हैं और नए ज़माने के साथ क़दम से क़दम मिलाने में मुश्किल महसूस कर रहे हैं। इस तालीमी खाई को पाटने के लिए इदार-ए-क़ुरआन (आई क्यू) एक बेहतरीन और दूरअंदेशी तालीमी मॉडल पेश करता है।
आई क्यू: दीन और दुनिया का संगम:-
इदार-ए-क़ुरआन (आई क्यू) राजस्थान के लगभग बीच में वाक़े क़स्बा शेरानी आबाद (ज़िला: डीडवाना-कुचामन) में स्थित एक इंस्टीट्यूशन है, जो एक साथ 100% स्कूल और 100% मदरसा दोनों का रोल अदा कर रहा है। यहाँ स्टूडेंट्स को इंग्लिश मीडियम के साथ-साथ मुकम्मल दर्से निज़ामी भी पढ़ाया जाता है, ताकि वो 12वीं क्लास तक आते-आते आलिमे-दीन भी बन सकें। इस यूनिक सिस्टम की वजह से कोई भी स्टूडेंट ना तो माडर्न एजूकेशन से महरूम रहेगा और ना ही दीन की रौशनी से दूर रहेगा।
आई क्यू की जरूरत क्यों?:-
आज़ादी के बाद से ही हमें ऐसे इदारों की सख़्त ज़रूरत थी, मगर अफ़सोस कि ऐसा ना हो सका, जिसके नतीजे में तीन बड़े नुकसानात हुए:
1. हमारा दीनी तबक़ा माली तौर पर कमज़ोर रहा।
2. मॉडर्न एजुकेशन हासिल करने वाले लोग इस्लामी तालीम से बेगाना हो गए।
और
3. इस्लामी तालीम आ़म नहीं हो सकी और दुनिया के सामने इस्लाम का सही चेहरा नहीं पेश हो सका।
आई क्यू का तालीमी निज़ाम और खूबियां:-
आई क्यू अपने इस तालीमी ख़्वाब को दुनिया में राइज 2 बेहतरीन एजुकेशन सिस्टम्स को एक साथ नाफ़िज़ करके मुमकिन बनाना चाहता है:
1. डे बोर्डिंग एजुकेशन सिस्टम:- स्टूडेंट्स सुबह से शाम तक तालीम हासिल करें, जिससे दोनों निसाब मुकम्मल किए जा सकें।
2. स्मार्ट क्लासेज़ एजुकेशन सिस्टम:- डिजिटल टेक्नोलॉजी का इस्तेमाल करके तालीम को आसान और असरदार बनाया जाए।
आई क्यू की खास बातें:-
✅ मॉडर्न और दीनी तालीम का मुकम्मल इंतज़ाम
✅ सीबीएसई पैटर्न बिल्डिंग और एक्सपीरियंस्ड टीचर्स
✅ इंग्लिश और अरेबिक स्पीकिंग इन्वायरमेंट
✅ कम वक्त़ में ज़्यादा तालीम देने का इनोवेटिव सिस्टम
✅ स्मार्ट क्लासेज और टेक्नोलॉजी का भरपूर इस्तेमाल।
आई क्यू के फ्यूचर प्लान:-
आई क्यू अपने मुकम्मल प्लान में अकेला इदारा नहीं, बल्कि इसके तहत हॉस्टल, डिजिटल लाइब्रेरी, ऑनलाइन दारुल इफ्ता, ई-टीचिंग सिस्टम सहित कई सपोर्टिंग इंस्टिट्यूशंस भी काम करेंगे लेकिन चूंकि इन तमाम मंसूबों को पूरा करने और उम्मत को एक एडवांस तालीमी मिशन देने के लिए इसे क़दम-क़दम पर आपकी मदद दरकार है, जो मदद दर अस्ल उम्मत की तालीमी बेहतरी की मदद होगी और चूंकि यह इदारा किसी की जा़ती मिल्कियत नहीं, बल्कि पूरी मिल्लत की अमानत है, इस लिए यह हम सबकी ज़िम्मेदारी भी है कि हम इसे मुकम्मल करने में अपना हिस्सा डालें।
ताज़ा तरीन बड़ी ज़रूरतें:-
(1) 2019 से बाक़ी ज़मीन का पेमेंट करना
(2) सेकंड फ्लोर की मुकम्मल फिनिशिंग
(3) थर्ड फ्लोर का मुकम्मल तमीराती काम
(4) पांच बीघा ज़मीन की बाउंड्री वॉल
(5) ज़रूरतमंद बच्चों के तमाम इख़राजात
(6) बैरुनी बच्चों के लिए हॉस्टल का इंतजा़म।

📌 तआवुन का तरीका:
A/C Name: IDARA E QURAN
A/C Number: 27170110064085
IFSC Code: UCBA0002717
Branch: SHERANI ABAD, RJ 341302

PhonePe, Paytm, Google Pay: 9828049081

📌 संपर्क करें:
📞 खालिद अयूब मिस्बाही शेरानी
(सेक्रेटरी, इदार-ए-क़ुरआन)
📱 Mob: 9828049081
📩 E-mail: [email protected]

आइए! इदार-ए-क़ुरआन (आई क्यू) को मिलकर एक बेहतरीन तालीमी इदारा बनाएं, ताकि हमारी आने वाली नस्लें एक मुकम्मल तालीमी निज़ाम से फ़ायदा उठा सकें और दुनिया व आख़िरत दोनों में कामयाब हो सकें।

20/08/2024

تحفظ ناموس رسالت: کچھ تشویشیں، کچھ تدبیریں

تحریر:- خالد ایوب مصباحی شیرانی
چیرمین: تحریک علمائے ہند، جے پور

تحفظ ناموس رسالت کی بات کرتے ہوئے ہر مسئلے کی طرح ہماری دو طرح کی ذمہ داریاں ہیں، کچھ کام وہ ہیں، جو ہمیں کرنے ہیں، جنھیں ہم تدبیریں کہہ سکتے ہیں اور کچھ کام وہ ہیں، جو ہمیں چھوڑنے ہوں گے، جنھیں ہم تشویشیں کہہ سکتے ہیں۔
تشویشیں:-
(الف) نوعیت سمجھے بنا زود رد عمل:-
مسئلہ ناموس رسالت ہو یا اسلامیان ہند کو درپیش دیگر مسائل در اصل 2014 سے مرکز میں بھاجپا کے استحکام کے بعد سے ہی ہر دن گئے چن چن کر ان مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے، جن سے ملک میں باہمی نفرت اور قومی عصبیت کا زہر گھلے اور امت مسلمہ متشدد ری ایکشن دینے پر مجبور ہو اور اسی شرارت کے ساتھ یہ فکری جنگ، سرد جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے جسے اگر سرد جنگ کے اصولوں کے مطابق لڑا جائے گا تو ان شاء اللہ تعالی کام یابی مقدر ہوگی، ورنہ نہ صرف یہ کہ ناکامی ہاتھ لگے گی بلکہ بد عنوان میڈیا کے ذریعے بد نامی بھی کروائی جائے گی۔
پچھلی ایک مدت سے درپیش مسائل کی بابت یہ وہ نازک نکتہ ہے، جسے ہم اسلامیان ہند کو بہت سنجیدگی کے ساتھ سمجھنا اور برتنا ہوگا، ورنہ مسائل تو نہ حل ہونے تھے، نہ ہوں گے، ان سے بھی بڑا خسارہ یہ ہوگا کہ ان مسائل بابت ہماری غیرتیں بھی خوابیدہ ہوتی چلی جائیں گی اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ زیاں سے کہیں زیادہ نقصان دہ احساس زیاں کا جاتے رہنا ہوتا ہے۔
بنا سوچے سمجھے رد عمل ظاہر کرنے کی بہترین مثال تقریباً ہر مسئلے سے متعلق شہر شہر منعقد ہمارے وہ احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں، جن کے بیچ ہر بار کوئی ان جانا پتھر آتا ہے، جس کے ردعمل کے طور پر پولیس سے ہماری مڈ بھیڑ ہوتی ہے، جو کیمرے میں قید ہو جاتی ہے اور مظاہرہ ختم ہونے سے پہلے پہلے کیمرے میں قید افراد کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی جاتی ہے اور پھر اس سے پہلے کہ مظاہرہ کوئی رنگ دکھائے، ایک نئی مصیبت گلے لگ جاتی ہے۔ غیروں کا آزمودہ فارمولہ اور ہماری مکرر حماقتوں کا یہ وہ تسلسل ہے، جو پچھلی ایک مدت سے بے خطا تیر کی طرح کام کر رہا ہے۔
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہماری نفسیات نے یہ مان رکھا ہے کہ احتجاج کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے اور وہ ہے مظاہرہ۔ جبکہ ہمارے ملک کی عملی نزاکتیں بار بار کے تجربات کی روشنی میں یہ ثابت کر چکی ہیں کہ سسٹم سے لے کر تعداد تک ہمارا اقلیتی وجود ہمارے حق میں ان احتجاجی مظاہروں کو نیک فال نہیں قرار دیتا۔ اس لیے عقل مندی یہ ہے کہ ہم اپنے غم و غصے کا علاج ان بار بار ڈسنے والے سوراخوں کے علاوہ تلاش کریں، جس کی تفصیل تدبیروں میں آ رہی ہے۔
(ب) مسئلہ سو فیصدی سیاسی ہے:-
زمین ہند کا یہ مشرکانہ مزاج رہا ہے کہ وہ ہر طاقت کے آگے سرینڈر ہو جاتی ہے اور اسے احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہاں محمد صاحب اور پیغمبر اسلام جیسے محترم الفاظ کے ساتھ یاد کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اچانک ان کی شان اقدس میں گستاخیوں اور بے باکیوں کا بڑھ جانا، یہ کوئی ناگہاں حادثہ نہیں بلکہ ایک بڑی سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے اور وہ سازش ہے ایک مخصوص ذہنیت کو سیاسی فائدہ پہنچانا۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں گستاخیاں ہوتی نہیں، پس پردہ رہ کر کروائی جاتی ہیں۔
اس دعوے کو سمجھنے کے لیے گزشتہ دنوں ملعون نرسمہا نند کی گستاخیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
پریس کلب آف انڈیا جو حکومت کا ادارہ ہے، اس میں بیٹھ کر گستاخی کرنا، ملک بھر میں ہوئے نوع بنوع احتجاجات کے باوجود اس کی گرفتاری عمل میں نہ آنا بلکہ اسے زیڈ پلس سیکورٹی فراہم کرنا اور اس کا اب تک وقتاً فوقتاً ہفوات بکے جانا، کیا یہ سب کچھ اتفاق کا نتیجہ ہے؟ اگر نہیں اور سچ مچ نہیں تو کیا اس منظم سازش کا علاج ہمارے غیر منظم احتجاج کر سکتے ہیں؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔
ہاں! یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ اس سیاسی چال کا جواب کسی بہت دانش ورانہ انداز میں کسی دوسری طرح کی سیاسی چال سے دیا جائے اور یہی ردعمل معقول بھی ہے اور کار آمد بھی۔
(ج) باہمی کوسنا چھوڑیں:-
ہم ہر بار یہ دیکھتے ہیں کہ جب بھی کوئی سانحہ گزرتا ہے، ہم آپس میں ہی رسہ کش اور دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ چھوٹوں کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ بڑے کچھ نہیں کرتے اور بڑے اپنے آپ کو اس طرح بے بس ظاہر کرتے ہیں، جیسے وہ بے دست و پا ہیں، کچھ کر ہی نہیں سکتے جبکہ ایمان کی یہ ہے کہ ایک حد تک دونوں ہی اپنی واقعی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہے ہوتے ہیں۔
ایسے موقعوں کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ہم باہمی رنجشیں بھول کر موجودہ صورت حال سے نمٹنے کی تدبیروں پر سنجیدگی سے غور کریں اور ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا سیکھیں ورنہ شک و تشکیک کی فضا نے تو پہلے ہی ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔
آئیے! اپنی ان واضح غلطیوں کی اصلاح کے عہد کے ساتھ ہی ہم اس سب سے نازک اور غیرت مند مسئلے کے تدبیری حل کی طرف بڑھتے ہیں، ممکن ہے اللہ رب العزت کوئی راہ نکال دے اور ہم تحفظ ناموس رسالت کے عنوان سے اپنی غیرت ایمانی کو بچانے میں کام یاب ہو سکیں۔
تدبیریں:-
گستاخیاں ٹیمپریچر کی ٹیسٹنگ ہیں:-
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اہل ایمان کی سب سے بڑی طاقت روح محمد رہی ہے اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ باطل قوتیں ہمیشہ جسم ایمانی سے اس روح محمد کو نکالنے کے لیے ہر ممکن جتن کرتی رہی ہیں، جس میں وہ کئی بار کام یاب ہوئی ہیں اور بارہا ناکام بھی۔
ایسے میں ہمیں سب سے پہلے خود سے یہ عزم کرنا ہوگا کہ جب کبھی بھی کوئی گستاخی سننے میں آئے، ہم مارکیٹ میں اس کا جو بھی ری ایکشن دے پائیں، یا نہ دے پائیں، بہر صورت ہر بار اپنی غیرت ایمانی کو زندہ اور اپنی تحریک عشق سالت کو تیزی ضرور دیں تاکہ ہمیں روحانی غذا ملتی رہے اور وہ نہ ہونے پائے، جو دشمن چاہتے ہیں۔
درود پاک کی کثرت، قرآن پاک کی تلاوت، اپنے گھریلو ماحول کی اصلاح اور اپنے بچوں کو حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت گٹھی میں پلاتے رہنا چاہیے تاکہ یہ تحریک نہ صرف ہماری ذات تک محدود رہے بلکہ ہماری نسلوں میں بھی منتقل ہو یعنی ہمیں دشمن کی اس منشا کو عملاً ناکام کرنا ہوگا کہ ہماری ایمانی حرارت کمزور پڑ چکی ہے۔
احتجاج کے کچھ کار آمد طریقے:-
اکیسویں صدی کا بہت بڑا اچیومنٹ یہ ہے کہ اس میں بات کہنے سننے سے لے کر سوچنے سمجھنے تک ہر طریقے میں واضح تبدیلی آئی ہے اور ڈیجیٹلائزیشن کا رجحان اتنی تیزی کے ساتھ بڑھا ہے کہ اس نے پچھلی کئی صدیوں کے معمولات اور تجربات کو خود کے سامنے پھیکا ثابت کر دیا ہے۔ ازاں جملہ احتجاج کے بھی کچھ نئے طریقے دریافت ہوئے ہیں جو بجائے خود بہت کار آمد بھی ہیں اور سہل بھی۔ ایسے میں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے پرانے اور آزمودہ غیر معقول احتجاجی طریقے بدلیں اور ان نئے تکنیکی وسائل کا بھرپور استعمال کریں‌۔
(الف) مسلسل کئی دنوں ٹویٹر ٹرینڈنگ:-
ٹیوٹر عالمی سطح پر اپنی بات رکھنے کا ایک مؤثر سوشل پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے احتجاج وغیرہ بہت اچھے انداز سے درج کروائے جاسکتے ہیں۔
اس کام کے لیے کوڈ کی شکل میں ہیش ٹیگ ( #) کا استعمال ہوتا ہے جو ہم خیال احباب کو باہم مربوط کرتا ہے۔ اگر ٹویٹر کے ذریعے ایک بار بھی کوئی نیشنل ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا ہے تو اس کا اپنا ایک اثر ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کے اہم ترین مقصد تحفظ ناموس رسالت کے لیے علاقہ وار ٹیمیں بنا کر انھیں ٹیوٹر کی ٹریننگ دینی چاہیے اور پھر ایسے ٹرینڈ تکنیکی احباب کی مدد سے کئی دنوں تک کام یاب ٹرینڈ چلانے چاہیے تاکہ گستاخیوں پر بڑی سطح پر چرچا ہو اور اللہ کرے کوئی قانون بن جائے اور خدا نخواستہ قانون نہ بھی بنے تو عالمی سطح پر حکومت کی ناکامی اور فضیحت درج ہو۔
(ب) وی آئی پی ڈاٹا کلکشن:-
اگر ہم نے مسئلہ تحفظ کو اپنی غیرت کا مسئلہ بنا رکھا ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ ہر مومن کامل کی یہی شان ہوگی تو ہمیں دنیا بھر کا وی آئی پی ڈاٹا جمع کر کے ان تک اپنا مدعا پہنچانا چاہیے۔ چاہے وہ وی آئی پی صاحب ایمان ہوں، یا نہ ہوں کیوں کہ اس وقت پوری دنیا پر جمہوری فکر حاوی ہے اور کوئی بعید نہیں کہ کسی طبقے کا کوئی بڑا سوشل ایکٹوسٹ یہ سودا اپنے سر میں سما لے اور بنیت رفاہ دھمال مچا دے۔
ملکی حد بندیوں سے اوپر اٹھ کر ایسے حکومتی ذمہ داروں، حقوق انسانی کی تنظیموں میں کام کرنے والے رضا کاروں اور عالمی شناخت رکھنے والوں تک خط و کتابت، ای میل اور سوشل میڈیا ٹیگ وغیرہ کے ہر ذریعے سے رسائی حاصل کی جانی چاہیے۔ خدا جانے کہاں کون سی تدبیر کام آ جائے اور کس وقت کس کے دل پر کون سی بات چوٹ کر جائے۔
(ج) جوشیلی نہیں، لیگل باتیں کریں:-
اس میں ذرہ برابر شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ ناموس رسالت کا مسئلہ ہر عام و خاص کے لیے غیرت دینی کا مسئلہ ہوتا ہے۔ فرق یہ ہوتا ہے کہ اہل خطابت کو خطابت کے ذریعے اپنی بات کہنے کا پلیٹ فارم مل جاتا ہے اور اہل قلم، قلم کو ذریعہ بنا لیتے ہیں جبکہ عام آدمی کی دینی حمیت ہم تک پہنچ نہیں پاتی۔
ہاں! اس پورے قضیے میں مشترکہ طور پر ہم سب کے کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم اس بابت جب بھی بات کریں، جوش و جذبات کی بجائے آئین ہند کی روشنی میں لیگل باتیں کریں تاکہ جیسے جمہوری پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے، ویسے ہی بات بھی پریکٹیکل اور معقول ہو۔
قانونی چارہ جوئیوں بابت جہاں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا سہارا لیا جاسکتا ہے، وہیں ماہرین قانون کی مدد سے انٹرنیشنل کورٹ اور حقوق انسانی کی تنظیموں کا بھی سہارا لیا جاسکتا ہے۔
(د) عدم تشہیر کی مہم:-
ان بڑے اقدامات کے علاوہ ایک ضروری اصلاح یہ کی جانی چاہیے کہ ہم کسی بھی قسم کی گستاخی کو فارورڈ کرنے/ کروانے کے کلچر پر روک لگانے کی مہم چھیڑیں تاکہ کوئی غیر شعوری نقصان بھی نہ ہو۔
سوشل میڈیا اوپن پلیٹ فارم ہے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے نکلنے والا مواد کہاں تک جائے گا۔ بہت ممکن ہے وہ نادان دشمن جنھیں کوئی خاطر خواہ مواد حاصل نہیں، ہمارے بے تکے جذبات کی وجہ سے ان بد بختوں کو مزید گستاخیوں کا موقع میسر آئے۔
اس کی بہترین مثال حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا یہ احتیاطی طرز حکمت ہے کہ انھوں نے شان رسالت میں ہونے والی کسی بھی گستاخی کا ریکارڈ محفوظ نہیں رکھا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج وہ ہمیں معلوم نہیں، ورنہ ایسے تیرہ بختوں کا ایک تسلسل رہا ہے۔
(ھ) غلط فہمیوں کا ازالہ:-
شان رسالت مآب کی پہرے داری کسی فصل گل و لالہ کی پابند نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایک عاشق زار کے لیے یہ وہ کار افتخار ہونا چاہیے جو ہر وقت جاری رہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گستاخان رسالت ازلی تیرہ بخت ہوتے ہیں، جن کے حصے میں دنیا کا بد ترین کام آتا ہے لیکن ظاہر ہے مادی طور پر وہ بھی کچھ باتوں کو بنیاد بناتے ہیں۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہونی چاہیے کہ ہر ممکن کوشش کر کے ان کی منہ بندی کرتے رہیں جیسے حضرت رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی کثرت ازدواج اور حضرت عفیفہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی کم عمری کی شادی جیسے ہر اعتراض کا ہر زمانے میں جواب دیا جاتا رہنا چاہیے۔ اس لیے نہیں کہ ان ہفوات میں کوئی دم خم ہے بلکہ محض اس لیے کہ نسلیں ادلتی بدلتی رہتی ہیں، ممکن ہے کوئی ذہن نیا شکار بنے اور ایسے ہر موقع پر پہرے داروں کی ڈیوٹی بڑھ جاتی ہے۔ ورنہ جیسے یہ تسلیم ہے کہ ان گنے چنے اور گھسے پٹے راندہ اعتراضات کے مطول، متوسط اور مختصر ہر نوعیت کے جوابات اب سے پہلے بارہا دیے جا چکے ہیں، جن سے اسلامی کتابیں بھری پڑی ہیں، ویسے یہ بھی آزمایا جا چکا ہے کہ یہ رو سیاہ لوگ اپنے اس مخصوص خ*ل سے باہر نکل بھی نہیں سکتے لیکن بہر صورت یہ غیرت مندی کا ایک مسلسل کام ہے، سو تحریر و تقریر، آڈیو ویڈیو، سائنس اور تکنیک جیسے ہر نئے پرانے طریقے سے کیا جاتا رہنا چاہیے۔
(و) سوشل مواد:-
دشمنوں کی جانب سے داغے گئے مخصوص فرسودہ اعتراضات کے علاوہ بھی نئے ذہنوں میں پیدا ہو سکنے والے اعتراضات اور ممکنہ سائنسی نظریات کے پیشگی مثبت انداز میں جوابات تیار رہنے چاہیے اور جہاں تک شریعت اسلامیہ سے ٹکراؤ یا عقل سلیم سے تصادم نہ ہو حتی الامکان سیرت النبی کی جدید پیمانوں پر تشریح و توضیح جاری رہنی چاہیے تاکہ ہر عہد خود کو حضور رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قدموں میں رکھے جو در اصل اس عہد کی اپنی ضرورت ہے۔ اسی کے بالکل ساتھ ساتھ ایسا ہر نیا پرانا مواد جدید ذرائع ابلاغ پر مسلسل اپلوڈ ہوتے رہنا چاہیے تاکہ دشمنوں کی زباں بندی کا پیشگی انتظام رہے۔
اس موقع پر ہمیں یہ نفسیاتی پہلو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ اعتراض ہونے کے بعد اس کا جواب تلاش کر کے لانے میں جواب تو ہو جاتا ہے لیکن بارہا جواب کی اہمیت کم ہوجاتی ہے جبکہ اگر پہلے سے جواب موجود ہو اور بعد میں اس جواب کے مطابق اعتراض سامنے آئے تو اعتراض ہلکا ہو جاتا ہے۔
(ز) پیغام رسالت کی تبلیغ:-
ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق غلط فہمیوں کی بنیادی وجہ گستاخانہ جسارتیں ہی نہیں ہوتیں بلکہ بہت ممکن ہے اس سائنٹفک دور میں بہت سارے اعتراضات اس لیے پیدا ہوئے ہوں کہ دنیا کو شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ واقعی واقفیت نہیں، جو آپ کی عظمت نشانی کا تقاضا ہے اور ظاہر ہے اس کے لیے ہم کلمہ گو ذمہ دار ہیں کیوں کہ ہم نے پیغام رسالت کی اس تن دہی کے ساتھ ترجمانی اور تبلیغ و اشاعت نہیں کی، جو ایسی بلند پایہ اور عظیم الشان تعلیمات کا حق تھا۔
سو ہمیں چاہیے کہ ہم زندگی کے ہر موڑ پر، زندگی کے ہر موڑ سے متعلق بطور خاص ان تعلیمات رسالت کی تبلیغ و اشاعت کے لیے کوشاں رہیں، جو رفاہ عامہ، خدمت انسانیت، بلندی اقدار اور اخلاقیات سے متعلق ہیں۔ اس طرح کی تعلیمات تہذیب یافتہ قوموں اور منصف مزاج انسانوں کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہیں۔
(ح) تحریک عشق رسالت:-
عشق رسالت مآب کسی ایک تنظیم کا منشور یا کسی خاص موسم کی ہوا نہیں بلکہ اہل ایمان کے لیے مقصد حیات اور روح حیات کا درجہ رکھتی ہے۔ اور ہر صاحب ایمان کا یہ وہ مشترکہ کام ہے جو سب کو، ہر جگہ، ہر بار اور ہر طرح کرنا ہوگا۔ دنیا کی نفسا نفسی، مذہبی رنگوں کی خرید و فروخت اور مادیت کی سرد و گرم ہواؤں کے ساتھ اگر اس چراغ عشق کی لو ماند پڑی ہے تو اس میں درود و سلام کے خوش گوار نغموں، نعتہائے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی عاشقانہ گونج، سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ بول اور اسلاف کرام کی عاشقانہ زندگیوں کے ایمان افروز واقعات جیسے ہر ممکن ذریعے سے پھونک مارنا اور نسلِ نو میں یہ درد دورں منتقل کرنا ایک مستقل ذمہ داری ہے، جو علم و جہالت کی قید کے بنا ہر کلمہ گو آسانی سے کر سکتا ہے۔ ویسے ہی جیسے ہمارے پڑوس میں گزشتہ سالوں ایک عاشق رسول نے اس کی ایک بہترین عملی مشق کی تھی۔
(ط) تکنیکی چارہ جوئی:-
گزشتہ چند سالوں میں گستاخیوں کا جو غیر معمولی ریشو بڑھا ہے، اس میں سوشل پلیٹ فارمز کا بہت اہم کردار ہے کیوں کہ ان اوپن پلیٹ فارمز نے ہر بندر کے ہاتھ میں ڈگڈگی تھما دی ہے، جو جہاں چاہے، بجاتا پھرے، ورنہ یہ بد تہذیب لوگ ہمیشہ سے رہے ہیں لیکن ازیں قبل ایسے پاگلوں کو اپنی ہفوات بکنے کے لیے کوئی پلیٹ فارم مہیا نہ تھا مگر جس طرح سوشل پلیٹ فارم نے ہر عام سے عام انسان کو اپنی بات کہنے کا موقع دیا ہے بلکہ بات کہنا بھی کمائی کا ذریعہ بنا دیا ہے، ویسے ہی انھیں پلیٹ فارمز نے ایسے انتظامات بھی رکھے گئے ہیں کہ کسی بھی بدتمیز کو لگام لگائی جاسکتی ہے۔ تکنیکی زبان میں سوشل میڈیا پر ہونے والی گستاخیوں پر قدغن لگانے کو "رپورٹ" کرنا کہتے ہیں۔ رپورٹ کا مطلب کسی بھی چینل یا سوشل اکاؤنٹ کی بدتمیزی کی شکایت کرنا ہوتا ہے۔ ٹویٹر، فیس بک، انسٹا گرام، یوٹیوب اور وہاٹس ایپ سمیت ہر پلیٹ فارم پر یہ آپشن موجود ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک ٹیم بنا کر ان پلیٹ فارمز کی اس تکنیکی چارہ جوئی کا بھرپور استعمال کریں اور ایسے تمام بدتمیز اکاؤنٹس کو رپورٹ کر کے بلاک کروائیں۔ یہ کام کیوں کر ممکن ہوگا؟ اس کی تفصیلات کا یہ موقع نہیں۔ یہ کام کسی بھی معمولی تکنیکی سمجھ رکھنے والے انسان سے براہ راست سمجھا جا سکتا ہے۔
(ی) ایشو کو انٹرنیشنل لیول دینا:-
اوپر لکھا جا چکا ہے کہ جب تک حقوق انسانی کے ناطے ہم اپنے اس درد کو بین الاقوامی رنگ نہیں دیں گے، شاید درد کا درماں نہ نکلے اور دیدہ و دانستہ گستاخیوں کا ماحول بنانے والے متعصب مشرکین اور ازلی بدبخت اپنی اوچھی حرکتوں سے باز نہ آئیں۔ ایسے میں ہمیں چاہیے کہ ہم سوشل پلیٹ فارمز، غیر متعصب میڈیا ہاؤسز، حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں اور بطور خاص مسلم ممالک کی حکومتوں تک کسی بھی جمہوری اور غیر پریشان کن راستے سے اپنا درد پہنچائیں اور ان سے ان مسائل میں مداخلت کی گزارش کریں۔
بہت ممکن ہے عالمی دباؤ وہ کام کروا دے، جو ہم تصور بھی نہیں کر پا رہے ہیں۔ کیوں کہ ڈپلومیسی کے مطابق عالمی بازار سے لکھے گئے چند خطوط کی اہمیت، گھر کے اندر موجود سروں سے بھی زیادہ ہو جایا کرتی ہے۔
(ک) اقلیتوں سے روابط:-
جس طرح مسلمان حضرت رسالت مآب، اسلام اور اسلامیات کی شان میں کی جارہی گستاخیوں سے پریشان ہیں، اسی طرح ایک حد تک عیسائی اور ایک حد تک سکھ کمیونٹی بھی اسی طرح کی حرکتوں سے مضطرب ہے کیوں کہ گزشتہ سالوں میں ان کے مقدسات کے ساتھ بھی اسی طرح کی چھیڑ خانیاں ہوئی ہیں۔ چناں چہ گزشتہ سالوں پنجاب میں سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب کی توہین کے واقعات سامنے آئے، جس سے وہاں اشتعال پیدا ہوا اور اس وقت برسراقتدار پارٹی کو اس کا خمیازہ اگلے انتخابات میں اپنی حکومت گنوا کر بھگتنا پڑا۔ ایسے میں اگر مسلم کمیونٹی، عیسائیوں اور سکھوں کے ساتھ اتحاد کر لیتی ہے تو ممکن ہے کوئی ایسا بل پاس کروانے میں مدد ملے، جس میں تمام مذہبی مقدسات کو تحفظ فراہم ہو۔ خیال رہنا چاہیے کہ سکھ کمیونٹی اس بابت ایک حد تک پیش رفت کر چکی ہے البتہ ابھی ان کا بل زیرالتوا ہے۔
(ل) بڑوں سے ملاقاتیں:-
ناموس رسالت کو تحفظ فراہم نہ ہونا اگر ایک درد ہے تو اس درد کا رونا ہر اس دروازے پر رویا جانا چاہیے، جہاں سے مداوا کی کوئی موہوم سی بھی امید ہو، چاہے یہ امید کسی برسر اقتدار یا غیر مقتدر سیاسی پارٹی سے ہو، موجودہ وزیر اعظم سمیت کسی بھی بڑے سیاسی رہ نما سے ہو، یا اسمبلیوں کے مسلم/ غیر مسلم ممبران سے ہو، اپنے علاقے کی معزز اور بااثر شخصیات سے ہو، یا کسی اور ذریعے سے۔ ملاقات کرنے میں کوئی مضائقہ یا نقصان نہیں، خدا کرے، امید بر آئے اور خدانخواستہ کچھ حاصل نہ ہو تو کچھ کھونا بھی نہیں۔
(م) قدرے نرم ریاستوں پر محنت:-
ملک کے طول و عرض میں ہر طرح کا سیاسی رنگ موجود ہے۔ کچھ ریاستوں میں نفرتوں کی سیاست ہے ہے، کچھ میں معتدل اور کچھ میں نرم۔ ناموس رسالت بابت جتنی بھی کوششیں ہوں، وہ ایک طے شدہ ہدف کے مطابق سسٹم کے ساتھ ہونی چاہیے، ورنہ محنتیں بھی ہوں گی اور نتیجہ بھی برآمد نہیں ہوگا۔ ہمیں سب سے پہلے ان ریاستی حکومتوں کو اپنا سافٹ ٹارگیٹ ماننا چاہیے، جہاں مسلمانوں کے تئیں کچھ نرمی ہے یا وہاں کے وزرائے اعلی کے مزاج میں سیکولر ازم ہے اور ایسی حکومتوں سے مل کر تحفظ ناموس رسالت بابت بل پاس کروانے کی کوشش ہونی چاہیے۔
اللہ کرے ہم اپنا محاسبہ کرتے ہوئے مقصد میں کام یابی کی تمام لازمی صفات سے لیس ہو کر میدان میں اتریں اور بامراد لوٹیں۔

https://surveyheart.com/form/65029686dcee497bfb46468f*تحریک علمائے ہند* (TUH) نے پچھلے 4 سالوں سے اسلامی بہنوں کے لیے *ا...
15/09/2023

https://surveyheart.com/form/65029686dcee497bfb46468f

*تحریک علمائے ہند* (TUH) نے پچھلے 4 سالوں سے اسلامی بہنوں کے لیے *آن لائن درس نظامی کورس* کا انتظام کر رکھا ہے

جس
کے تحت فی الوقت تجوید کورس، اعدادیہ، اولی، ثانیہ اور ثالثہ میں 9 معلمات کی نگرانی میں 115 بہنیں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

اگر
آپ کے گھر میں بھی کوئی بہن، بیٹی، یا بہو گھر بیٹھے ذمہ دار اور با صلاحیت عالمات سے تجوید کورس، یا آن لائن درس نظامی کورس، یا شارٹ دینیات کورس کرنا چاہتی ہے تو بلا تاخیر اس لنک پر کلک کرکے فارم فل کرکے ایڈمشن دلوا دیں

تاکہ
ربیع الاول شریف کے مبارک موقع پر شروع ہونے والے نئے بیچ سے وہ اپنی با ضابطہ پڑھائی کا آغاز کر سکیں۔

*کورس کی خصوصیات:-*
(1) شارٹ ہونے کے باوجود مضبوط تعلیم
(2) تعلیم کے ساتھ حسن تربیت کا انتظام
(3) پردہ داری کا مکمل خیال اور اہتمام
(4) عربی سے پی ایچ ڈی عالمہ کی تعلیمی نگرانی
(5) تقریباً پارٹ ٹائم اور عام طور پر مناسب وقت

*نوٹ:-* اس وقت جبکہ ہماری بچیاں اعتقادی اور فکری طور پر بڑی تیزی سے بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہیں، حساس والدین کی دوہری ذمہ داری بنتی ہے کہ عالمہ بنانے کے لیے نا سہی، کم سے کم ان کے ایمان و فکر اور اپنی آبرو بچانے کے لیے ہی سہی، اپنی بہن بیٹیوں کو ایسے پاکیزہ نظام سے وابستہ کریں، ممکن ہے کامیابی ملے۔ خیال رہنا چاہیے کہ ایسے حساس مسائل کا حل عملاً پیش رفت ہی ہے، باتیں ہرگز نہیں۔

*ایڈمشن کی آخری تاریخ:-*
30/ ستمبر 2023

وہاٹس ایپ نمبر:-
9772797875

ADDMISSION FOR ONLINE MADARSA LILBANAT

https://surveyheart.com/form/65029686dcee497bfb46468fतहरीक उलमा ए हिंद (TUH) ने पिछले 4 सालों से इस्लामी बहनों के लिए ऑन...
14/09/2023

https://surveyheart.com/form/65029686dcee497bfb46468f

तहरीक उलमा ए हिंद (TUH) ने पिछले 4 सालों से इस्लामी बहनों के लिए ऑन लाइन दर्से निज़ामी कोर्स का इंतज़ाम कर रखा है

जिसके
तहत फ़िल वक़्त तजवीद कोर्स, ऐदादिया, ऊला, सानिया और सालिसा में 9 मुअ़ल्लिमात की निगरानी में 115 बहनें तालीम हासिल कर रही हैं।

अगर
अगर आपके घर में भी कोई बहन, बेटी, या बहू घर बैठे ज़िम्मेदार और बा-सलाहियत अलिमात से तजवीद कोर्स, या ऑन लाइन दर्से निज़ामी कोर्स, या शार्ट दीनियत कोर्स करना चाहती है तो बिला ताख़ीर इस लिंक पर क्लिक करके फार्म फ़िल करके करके एडमिशन दिलवा दें

ताकि
रबीउल अव्वल शरीफ़ के मुबारक मौके़ पर शुरू होने वाले नए बैच से वह अपनी बा-ज़ाब्ता पढ़ाई का आग़ाज़ कर सकें।

कोर्स की ख़ुसूसियात:-
(1) शार्ट होने के बावजूद मज़बूत तालीम
(2) तालीम के साथ तरबियत का इंतज़ाम
(3) पर्दादारी का मुकम्मल ख़याल और एहतमाम
(4) अरबी से पीएचडी आलिमा की तालीमी निगरानी
(5) लगभग पार्ट टाइम और आ़म तौर पर मुनासिब वक़्त

*नोट:-* इस वक़्त जबकि हमारी बच्चियां ऐतक़ादी और फ़िक्री तौर पर बड़ी तेज़ी से बे-राह रवी का शिकार हो रही हैं, हस्सास् वालिदैन की दोहरी ज़िम्मेदारी बनती है कि आलिमा बनाने के लिए ना सही, कम से कम उनके ईमान व फ़िक्र और अपनी आबरु बचाने के लिए ही सही, अपनी बहन बेटियों को ऐसे पाकीज़ा निज़ाम से वाबस्ता करें, मुमकिन है कामयाबी मिले। ख़याल रहना चाहिए कि ऐसे हस्सास मसाइल का प्रैक्टिकल हल ही हल है, बातें हरगिज़ नहीं।

एडमिशन की आख़री तारीख़:- 30/ सितंबर 2023
लिंक:-

व्हाट्सएप्प नंबर:-9772797875

ADDMISSION FOR ONLINE MADARSA LILBANAT

https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSfTQ1vgh1rYbklzpha03wqLPc6xiFZPghffpB-C83O_B8uzJg/viewform?usp=sf_linkहरवह शख़्...
29/04/2023

https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSfTQ1vgh1rYbklzpha03wqLPc6xiFZPghffpB-C83O_B8uzJg/viewform?usp=sf_link

हर
वह शख़्स जिसके घर में कोई बा-शऊर बच्ची है और वह उसे पार्ट टाइम में आ़लिमा बनाना चाहता है, उसके लिए यह बड़ी ख़ुश ख़बरी होगी कि *तहरीक उलमा ए हिंद* ने ऐसी बहनों/ बच्चियों के लिए पिछले तीन सालों से *ऑनलाइन दर्से निजा़मी* का इंतज़ाम कर रखा है, जिसके तहत अभी ऐदादिया, ऊला, सानिया और सालिसा तक का दर्जे जै़ल तफ़सील के मुताबिक़ मुकम्मल इंतिजा़म है।

*ख़ुसूसियात:-*
*(1)* 5 साला ऑनलाइन तालीमी व तरबियती कोर्स
*(2)* रोज़ाना सुबह और शाम का टोटल 3.5 घंटे का साइड टाइम (यानी अगर कोई बच्ची स्कूल/ कॉलेज में पढ़ रही है, या जॉब कर रही है, या कोई बहन हाउस वाइफ़ है, वह भी पार्ट टाइम में आसानी से यह कोर्स कर सकती है।)
*(3)* हर हफ़्ता इस्लामी और फ़िक्री तरबियत
*(4)* बा-सलाहियत मोअ़ल्लिमात के ज़रिए टीचिंग
*(5)* कम फ़ीस में उम्दा क्वालिटी
*(6)* पर्दा दारी का मुकम्मल ख़्याल
*(7)* अ़रबी स्पीकिंग/ टीचिंग के लिए अ़रबी में पीएचडी ख़ुसूसी मुअ़ल्लिमा का इंतज़ाम।

जो भाई भी इस पुर फ़ितन ज़माने में अपनी मेहरम रिश्ते दार ख़वातीन को आ़लिमा कोर्स करवाना चाहते हैं, जो करवाना भी चाहिए, या जो भी इस्लामी बहन आ़लिमा कोर्स करना चाहती हैं, वो ऊपर दिए गए लिंक पर क्लिक करके अपनी/ स्टूडेंट की डिटेल्स भर दें।

*संयोजक:-* हज़रत मौलाना डॉक्टर ग़ौस मोहम्मद अज़हरी
असिस्टेंट प्रोफेसर: दि इंग्लिश एंड फॉरेन लैंग्वेज यूनिवर्सिटी, हैदराबाद

*निगरां:-* हज़रत मौलाना मुफ़्ती ख़ालिद अयूब मिस्बाही
चेयरमैन: तहरीक उलमा ए हिंद, शेरानी आबाद

*एडमिशन की आख़िरी तारीख़:- 31 मई 2023*

राब्ता नंबर:- मोहम्मद अरबाज़ रज़ा क़ादरी
+91 97727 97875

ज़ेरे एहतमाम:- *तहरीक उलमा ए हिंद*
Social Media Links:-
(1) TUH Web:- www.tuhind.in
(2) TUH Email:- [email protected]
(3) TUH page links👇*
https://facebook.com/tuhindoffice
(4) TUH Twitter Account*👇
https://twitter.com/tuhindoffice
(5) TUH INSTAGRAM ACCOUNT👇*
https://Instagram.com/tuhindoffice
(6) TUH Telegram Channel👇*
https://t.me/tuhindoffice
(7) TUH YouTube Channel Link 👇*
https://www.youtube.com/c/TahreekTV

Online Darse Nizami For Female (Aalima Course) Me Addmission Ke Liye Details

 #रमज़ान_हेल्पलाइनके तहत  #दैनिक_भास्कर  #नागौर &  #जयपुर में  के चैयरमेन &  के संस्थापक सेक्रेट्री  #मुफ्ती   #मिस्बाही...
24/03/2023

#रमज़ान_हेल्पलाइन
के तहत #दैनिक_भास्कर #नागौर & #जयपुर में के चैयरमेन & के संस्थापक सेक्रेट्री #मुफ्ती #मिस्बाही #शेरानी से हुए #इस्लामी सवाल/ जवाब पढ़ें और शेयर करें।

Address

IQ Colony, Bathdi Road, Sherani Abad
Didwana
341302

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Idara E Quran posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Idara E Quran:

Shortcuts

Share

Category