علمائے دیوبند کے نقوش

علمائے دیوبند کے نقوش ان شاء اللہ اس گروپ میں اکابر علمائے دیوبند کے سوانح، حالات اور واقعات کو پوسٹ کیا جائے گا تاکہ عوام اکابرین سے باخبر اور آشنا ہو سکیں...

08/09/2025

*حسنِ خاتمہ اور خوفِ خدا*
مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے خوفِ خدا کا یہ حال تھا فرماتے ہیں "اور مدار ساری عمر کا خاتمہ پر ہے، دیکھیے اس وقت کیا رنگ ہو...؟ خاتمہ کے ڈر سے جگر آب اور سب حال خوب خراب ہے- ساری عمر کا کیا کرایا ایک آن بھر میں اکارت ہوجاتا ہے- جو اس معرکے سے ایمان سلامت لے گیا اس کو مبارکب اد اور سو مبارک باد- وہ ہمیشہ ہمیشہ کو نجات پاگیا- اس کا کیا کہنا ہے...؟" (مکتوبِ یعقوبی)

*اکابرین کا مخالفین سے سلوک*اکابرِ دیوبند کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ اپنے مخالف مسلک والوں سے بھی بداخلاقی کا برتاؤ ...
07/09/2025

*اکابرین کا مخالفین سے سلوک*
اکابرِ دیوبند کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ اپنے مخالف مسلک والوں سے بھی بداخلاقی کا برتاؤ نہیں کرت تھے نہ ان کی تردید میں دلآزار اسلوب کو پسند کرتے تھے اور نہ طعن آمیز القاب سے یاد کرنا پسند کرتے تھے بلکہ جہاں تک ہوسکتا بداخلاقی کا جواب خوش خلقی سے دیتے اور مخالفین کی دینی ہمدردی و خیرخواہی کو پیشِ نظر رکھتے تھے- حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے خادمِ خاص حضرت امیر شاہ خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مولانا رحمۃ اللہ علیہ خورجہ تشریف لائے اور وہاں ایک مجلس میں مولوی فضلِ رسول بدایونی کا تذکرہ چل گیا (چونکہ وہ مخالف مسلک کے تھے اس لیے) میری زبان سے (طنز کے طور پر) بجائے فضلِ رسول کے فصلِ رسول نکل گیا- مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے ناخوش ہو کر فرمایا کہ "لوگ ان کو کیا کہتے ہیں"؟ میں نے کہا "فضلِ رسول" آپ نے فرمایا "تم فصلِ رسول کیوں کہتے ہو"؟ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: "یہ حضرت تھے جو لَا تَلْمَزُوْا أَنْفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْأَلْقَابِ
کے پورے عامل تھے حتیٰ کہ مخالفین کے معاملہ میں بھی-" (اکابرِ دیوبند کیا تھے؟)

For Learn Islamic Basic and Advace Knowledge By Online...Flexible Timings...Contact On WhatsApp No.  089229 29786
06/09/2025

For Learn Islamic Basic and Advace Knowledge By Online...
Flexible Timings...
Contact On WhatsApp No. 089229 29786

موجودہ ترقی یافتہ دور میں آپ گھر بیٹھے آنلائن دینی تعلیم حاصل کر سکتے ہیںواٹس اپ پر رابطہ کریں 089229 29786
05/09/2025

موجودہ ترقی یافتہ دور میں آپ گھر بیٹھے آنلائن دینی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں
واٹس اپ پر رابطہ کریں
089229 29786

24/08/2021

ایک بدعتی شاعر کی شہر دیوبند پر تنقید اور
*مولانا عامر عثمانی رحمہ اللہ* کی طرف سے اس کے شعر کا جواب۔

تنقید

دغا کی "دال" ہے یاجوج کی ہے "یا" اس میں
وطن فروشی کا "واؤ" بدی کی "با" اس میں

جو ان کے "نون" میں نار جحیم غلطاں ہے
تو اس کی "دال" سے دہقانیت نمایاں ہے

ملے یہ حرف تو بے چارہ *دیوبند* بنا
برے خمیر سے یہ شہر نا پسند بنا

*جواب تنقید*
از۔ مولانا عامر عثمانی رحمہ اللہ

دعا کی "دال" کو کہتے ہو تم دغا کی ہے
علاجِ چشم کراؤ بڑی خطا کی ہے

یہ " دال" دولت دنیا و دیں سے ہے معمور
دماغ و دیدہ دل اس سے ہوگئے پرنور

غضب ہے " یا " تمہیں یاجوج کی نظر آئی
ضرور ڈوب گئی ہے تمہاری بینائی

نظر جماؤ کہ یاد خدا کی " یا " ہے یہ
یقین و یثرب و یمن و صفا کی " یا" ہے یہ

کہا جو " واؤ " کو تم نے وطن فروشی کا
ثبوت دے دیا اپنی گناہ کوشی کا

ادب کرو کہ وضو کا وفا کا " واؤ " ہے یہ
وقار و وعظ و وصال خدا کا " واؤ " ہے یہ

بدی کی " با " جسے کہتے ہو تم شرارت سے
وہ ہے بہشت بریں برکت و بہار کی " بے "

جو تم نے " نون " میں نار جحیم ہی دیکھی
تو کیا قصور تمہاری تو عاقبت ہے یہی

سنو کہ " نون " ہے نزہت و نفاست کا
نماز و نعمت و نیکی کا نور و نعمت کا

جو تم نے " دال " میں دہقانیت کی بو سونگھی
تو سمجھو اپنی غلاظت ہی ہو بہو سونگھی

ارے یہ " دال " دیانت کی دوستی کی ہے
درود کی ہے دوا کی ہے دل کشی کی ہے

بڑے ہی پاک عناصر سے دیوبند بنا
عدو کی جان جلی شہر دل پسند بنا

منقول

20/08/2021

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمة اللہ علیہ نے دیوبندیت کے بارے میں کیا خوب فرمایا:

”دیوبندیت کوئی مذہب یافرقہ نہیں، جسے معاندین ایک مذہب یافرقہ کانام دے کر عوام کو اشتعال دلانے کی کوشش کرتے ہیں؛بلکہ مسلک اہل السنة والجماعة کا ایک جامع مرقع اور مکمل ایڈیشن ہے، جس میں اہلِ سنت کی ساری شاخیں اپنی اصل سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں-“

شاعرِمشرق علّامہ ڈاکٹر اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اس دیوبندیت کے بارے میں کیاخوب جملہ استعمال فرمایا تھا جو انھیں کو زیب دیتا تھا، جب ان سے کسی نے پوچھا کہ دیوبندی کیا چیز ہے؟ یہ کوئی مذہب ہے یافرقہ؟ تو فرمایا کہ ”نہ مذہب ہے نہ فرقہ؛ بلکہ ہرمعقول پسند دین دار کا نام دیوبندی ہے۔ فللّٰہِ دَرُّ ماقال“۔

*مدینہ شریف میں پیدل چلنا*     حجۃ الاسلام والمسلمين حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ حج کے موقع پر مدینہ شر...
15/08/2021

*مدینہ شریف میں پیدل چلنا*
حجۃ الاسلام والمسلمين حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ حج کے موقع پر مدینہ شریف تشریف لے گئے... ایسا ادب کہ قربان جائیں ہمارے اکابرین پر... اوّل تو آپ منزلوں دور تھے کہ اونٹ سے اتر کر پیدل چلتے رہے اور پھر جب روضۂ اقدس پر نظر پڑی تو جوتے اتار کر بغل میں دبا لیے اور نوکیلے پتھروں سے بھرا ہو راستہ ننگے م پاؤں طے کرتے رہے...
*محمد حسان*

11/08/2021

*گناہ سے بچنے کی ترکیب*
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تم ہر گناہ کے بعد دو رکعت نماز لازم کرلو مگر بعض کا نفس بڑا شریر ہوتا ہے، دو رکعت سے اس کو زجر(ملامت) نہ ہوگا جو ایسا ہو وہ چار رکعت پڑھا کرے، چار کافی نہ ہو تو آٹھ رکعت پڑھا کرے جیسے ایک حکیم صاحب کی حکایت ہے کہ وہ گاؤں میں گئے تو ایک دیہاتی کو دیکھا کہ وہ چنے کی چار روٹیاں موٹی موٹی کھا کر اوپر سے چھاچھ کا پورا مٹکا پی گیا- حکیم صاحب نے کہا ارے! چھاچھ کو درمیان میں پیا کرتے ہیں آخر میں نہیں پیا کرتے- دیہاتی نے اپنے لڑکے کو آواز دی کہ ارے فلانے چار روٹی اور لےآ اس چھاچھ کو بیچ میں کرلوں- چنانچہ چار روٹی اوپر سے اور کھا گیا- حکیم صاحب نے کہا بھائی تیرے واسطے کچھ قاعدہ نہیں تو چاہے بیچ میں پی چاہے اخیر میں...
*محمد حسان*

09/08/2021

*علمائے دیوبند کی خدا ترسی*
سیدالطائفہ امام ابوحنیفہ ثانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے جب ردِ بدعات پر کچھ رسالے لکھے تو اہلِ بدعت کے طرف سے سب و ستم(گالیاں) کی بوچھار ہوئی- بعض مشہور اہلِ بدعت کی طرف سے بہت سے رسالے ان کے خلاف سب و ستم(گالیاں) سے بھرے ہوئے ایک کے بعد دوسرے شائع ہوتے رہے- حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی بینائی اس وقت نہیں رہی تھی- مولانا محمد یحییٰ صاحب کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ(والد ماجد شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ) گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے خادمِ خاص اور معتمد تھے- آنے والی ڈاک کو پڑھ کر سناتے اور جواب لکھنے کی خدمت بھی ان کے سپرد تھی- ان میں وہ رسالے بھی ہوتے جو ان حضرات کی طرف سے آتے تھے- کچھ دن ایسے گزرے کہ مولانا نے ایسا کوئی رسالہ نہیں سنایا تو حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا کہ مولوی یحییٰ کیا ہمارے دوستوں نے ہمیں یاد کرنا چھوڑ دیا ہے- بہت دنوں سے ان کا رسالہ نہیں آیا- مولانا یحییٰ صاحب نے عرض کیا کہ رسالے تو کئی آئے ہیں مگر وہ مجھ سے پڑھے نہیں جاتے- حضرت نے فرمایا کیوں؟ عرض کیا ان میں گالیاں بھری ہیں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے تو فرمایا اے میاں! کہیں دور کی گالی بھی لگا کرتی ہے؟ پھر فرمایا کہ وہ ضرور سناؤ ہم تو اس نیت سے سنتے ہیں کہ *ان کی کوئی بات قابلِ قبول ہو تو قبول کریں، ہماری کسی غلطی پر تنبیہ کی گئی ہو تو اپنی اصلاح کر لیں-*
*محمد حسان*

04/08/2021

*حضرت حاجی رحمۃ اللہ علیہ کا تواضع* حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ جب ہجرت کرکے مکہ تشریف لے گئے تو پہلے ایک رباط(سرائے) میں قیام فرمایا کہ ایک دن کوئی شخص رباط میں رہنے والوں کو ایک ایک دوانی تقسیم کرتا پھر رہا تھا- جب وہ حضرت حاجی صاحب کے حجرہ پر پہنچا تو یہاں شاہانہ دربار تھا- حق تعالیٰ نے حضرت کو لطیف طبیعت عطا فرمائی تھی اس لیے سب سامان صاف ستھرا رہتا تھا- وہ یہ دیکھ کر رکا اور حضرت کو دوانی نہ دی تو آپ خود فرماتے ہیں کہ بھائی تم میرا حصہ نہ دیا- وہ کہنے لگا حضرت آپ کی خدمت میں ایسی حقیر چیز پیش کرنا خلافِ ادب ہے- فرمایا سبحان اللہ! اگر ہر شخص یہی سمجھتا تو پھر یہ سامان کہاں سے ہوتا- کیا تم مجھے فقراء کے زمرے اور فہرست سے خارج سمجھتے ہو، بھائی میں تو فقیر ہی ہوں اور فقیر سمجھ کر ہی کچھ لوگ دے دلا جاتے ہیں اسی سے یہ سامان اکٹھا ہو گیا جو تم دیکھ رہے ہو- لاؤ تم میرا حصہ لاؤ، یہ سن سن کر وہ شخص باغ باغ ہوگیا کہ اللہ اکبر! میرے کہاں نصیب کہ حضرت خود مانگیں اور خوشی خوشی ایک دوانی دے دی-
*محمد حسان*

01/08/2021

*حضرت نانوتوی کا بے نظیر استغناء*
حجۃ الاسلام والمسلمين حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک صاحب ملازم رکھنا چاہتے تھے، تو آپ نے فرمایا کہ علمی لیاقت تو مجھ میں ہے نہیں اسلئے میں بڑا کام تو نہیں کر سکتا البتہ قرآن پاک کی تصحیح کر لیا کروں گا- اس میں مجھے *دس روپئے ماہانہ* دے دیا کرو(اللہ! کیا تواضع اور زہد تھا)-
اسی زمانہ میں ایک ریاست سے *تین سو روپئے ماہانہ* کی نوکری آگئی، مولانا جواب میں لکھتے ہیں کہ آپ کے یاد کرنے کا شکرگزار ہوں مگر مجھ کو یہاں دس روپئے ملتے ہیں، پانچ روپئے تو میرے اہل و عیال کے لیے کافی ہو جاتے ہیں اور پانچ روپئے بچ بھی جاتے ہیں، آپ کے یہاں سے جو تین سو روپئے ملیں گے ان میں سے پانچ روپئے تو خرچ میں آئیں گے، آگے دو سو پچانوے روپئے جو بچیں گے میں ان کا کیا کروں گا- مجھ کو ہر وقت یہی فکر لگی رہے گی کہ ان کو کہاں خرچ کروں، اس لیے معذور ہوں، غرض تشریف نہیں لے گئے-
اللہ اکبر! کس قدر استغناء تھا ان حضرات میں، واقعی اہل اللہ کے دل پر مال کی کثرت سے بھی بار ہوتا ہے، ان کو خیال ہوتا ہے کہ خدا جانے اس کے حقوق ہم سے ادا ہوں یا نہ ہوں؟؟؟
محمد حسان

Address

Deoband
247554

Telephone

+918922929786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when علمائے دیوبند کے نقوش posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to علمائے دیوبند کے نقوش:

Shortcuts

Share

Category