Islamic General Knowledge & Islamic Objections & Inricacies

  • Home
  • India
  • Deoband
  • Islamic General Knowledge & Islamic Objections & Inricacies

Islamic General Knowledge & Islamic Objections & Inricacies Qualified and certified in Quran and islamic studies from Darul uloom deoband
And I want to spread the teachings of the Quran throughout the world.

Research About Qur'an

بسم اللہ الرحمن الرحیممسجد اگر صرف رسمی عبادت گاہ بن جائے اور منبر اگر صرف چند مانوس فضائل، دہرائے ہوئے واقعات اور غیر م...
20/02/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسجد اگر صرف رسمی عبادت گاہ بن جائے اور منبر اگر صرف چند مانوس فضائل، دہرائے ہوئے واقعات اور غیر مستند کہانیوں تک محدود ہو جائے تو سب سے پہلے جو طبقہ بددل ہوتا ہے وہ نوجوان ہوتا ہے۔ نوجوان صرف جذباتی جملے سننے نہیں آتا، وہ سوال لے کر آتا ہے۔ وہ الجھن لے کر آتا ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ قرآن آج کے دور میں اس کی رہنمائی کیسے کرتا ہے۔ جب اسے جمعہ کے دن منبر سے صرف وہی روایتی انداز ملتا ہے جو برسوں سے چلا آ رہا ہے — اور جس میں نہ شرک کی وضاحت ہے، نہ بدعت کی پہچان، نہ توحید کی گہرائی، نہ سود کی قباحت، نہ معاشرتی و سماجی خرابیوں پر کھلی گفتگو — تو وہ مایوس ہو کر مسجد سے ذہنی طور پر دور ہو جاتا ہے۔
پھر وہ یوٹیوب اور فیس بک کا رخ کرتا ہے۔ وہاں اسے ایسے مقررین ملتے ہیں جو پُرجوش بھی ہوتے ہیں، دلائل بھی دیتے ہیں، لیکن بعض اوقات عقیدے میں انحراف رکھتے ہیں۔ نوجوان چونکہ مسجد سے علمی غذا نہیں پا سکا ہوتا، اس لیے وہ ہر چمکتی ہوئی بات کو سچ سمجھ لیتا ہے۔ رفتہ رفتہ وہ بدعقیدگی، الحاد، مادیت پرستی اور دہریت کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ آج کا نوجوان سادہ سوال پوچھتا ہے: اگر دین میں واقعی توحید اتنی اہم ہے تو منبر سے کھل کر کیوں بیان نہیں ہوتی؟ اگر شرک سب سے بڑا ظلم ہے تو اس کی شکلیں واضح کیوں نہیں کی جاتیں؟ اگر سود اللہ اور اس کے رسول سے جنگ ہے تو اس پر خاموشی کیوں ہے؟ اگر معاشرہ بے حیائی، ظلم اور ناانصافی سے بھرا ہوا ہے تو مسجد خاموش کیوں ہے؟
جب امام قرآن کی اصل تفسیر بیان کرتا ہے، آیات کا ربط سمجھاتا ہے، شرک اور توحید کی حقیقت واضح کرتا ہے، تو بہت سے نوجوان حیران ہو کر کہتے ہیں: کیا واقعی قرآن میں یہ سب بھی ہے؟ ہمیں تو ہمیشہ صرف واقعات اور قصے سنائے گئے۔ اس حیرت کے پیچھے خوشی بھی ہوتی ہے اور شکوہ بھی۔ خوشی اس بات کی کہ دین گہرا ہے، مضبوط ہے، عقلی ہے۔ اور شکوہ اس بات کا کہ انہیں برسوں تک اصل علم سے محروم رکھا گیا۔
یہاں اصل سوال ٹرسٹیوں کی ذمہ داری کا ہے۔ ٹرسٹی انتظام کے نگہبان ہیں، دین کے مالک نہیں۔ اگر وہ امام کو یہ کہہ کر روک دیں کہ ہماری مسجد میں شروع سے یہی بیان ہوتا آیا ہے، تو یہ دلیل نہیں، جمود ہے۔ اگر وہ یہ کہیں کہ شرک، بدعت، سود یا معاشرتی خرابیوں پر بات نہ کرو کیونکہ لوگ ناراض ہو جائیں گے، تو وہ وقتی سکون کے بدلے آنے والی نسل کا ایمان داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اگر وہ خود ان برائیوں میں مبتلا ہوں اور اس وجہ سے منبر کو محدود کریں، تو وہ دوہرا نقصان کر رہے ہیں: اپنا بھی اور امت کا بھی۔
قرآن حق چھپانے سے روکتا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ — محمد صلی اللہ علیہ وسلم — نے دین کو مکمل طور پر پہنچایا، کسی طبقے کی ناراضی کے خوف سے اصول نہیں چھپائے۔ مکہ میں توحید بیان ہوئی، مدینہ میں نظام قائم ہوا، ہر مرحلے میں حکمت تھی مگر اصول پر سمجھوتہ نہیں تھا۔ حکمت کا مطلب یہ نہیں کہ موضوعات کو دفن کر دیا جائے؛ حکمت کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ایسے انداز میں پیش کیا جائے کہ دل تک بات پہنچے، مگر حق کمزور نہ ہو۔
یہ بھی سچ ہے کہ امام کو اشتعال انگیزی نہیں کرنی چاہیے، نام لے کر تضحیک نہیں کرنی چاہیے، منبر کو سیاسی جنگ کا میدان نہیں بنانا چاہیے۔ لیکن یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ اگر وہ صرف اس خوف سے خاموش ہو جائے کہ اس کی ملازمت خطرے میں پڑ سکتی ہے تو وہ اپنی امانت کا حق ادا نہیں کر رہا۔ امام کا منصب تنخواہ سے بڑا ہے۔ منبر کی نسبت دنیاوی عہدوں سے اونچی ہے۔
آج الحاد کیوں پھیل رہا ہے؟ کیونکہ نوجوان کو سائنسی، فکری اور فلسفیانہ سوالات کا جواب مسجد سے نہیں مل رہا۔ مادیت پرستی کیوں بڑھ رہی ہے؟ کیونکہ دنیا کی محبت پر وعظ تو ہے مگر اس کے فکری پس منظر کی تحلیل نہیں۔ دہریت کیوں بڑھ رہی ہے؟ کیونکہ خدا کے وجود پر دلائل بیان کرنے کے بجائے ہم صرف جذباتی واقعات سنا رہے ہیں۔ اگر مسجد قرآن کی گہری تفسیر، عقلی استدلال، سیرت کی عملی جہت اور معاصر مسائل پر روشنی نہیں دے گی تو نوجوان لازماً متبادل پلیٹ فارم تلاش کرے گا۔
اور جب وہ گمراہ ہوگا تو ذمہ داری صرف اس کی نہیں ہوگی۔ اس میں حصہ ان لوگوں کا بھی ہوگا جنہوں نے منبر کو محدود رکھا۔ اگر کسی نوجوان کا عقیدہ بگڑتا ہے کیونکہ اسے مسجد سے اصل علم نہیں ملا، تو سوچنا ہوگا کہ خاموشی کی قیمت کتنی بھاری تھی۔
مسجد کو زندہ ہونا ہوگا۔ منبر کو بیدار ہونا ہوگا۔ توحید کو کھل کر بیان کرنا ہوگا۔ شرک کی صورتیں واضح کرنی ہوں گی۔ بدعت کی حقیقت سمجھانی ہوگی۔ سود کی حرمت، معاشرتی ناانصافی، خاندانی ظلم، نوجوانوں کے فکری سوالات — سب پر قرآن و سنت کی روشنی میں بات کرنی ہوگی۔ یہی توازن ہے: نہ جذباتی شور، نہ مصلحت کی چادر۔ نہ ذاتی حملہ، نہ اصول سے پیچھے ہٹنا۔
اگر ٹرسٹی واقعی خیر خواہ ہیں تو انہیں امام کے علم کی پشت پناہی کرنی چاہیے، نہ کہ اس پر قدغن لگانی چاہیے۔ اور اگر امام واقعی امانت دار ہے تو اسے حکمت کے ساتھ مگر جرات کے ساتھ دین بیان کرنا چاہیے۔ مسجد کی روایت وہی زندہ رہتی ہے جو قرآن کے ساتھ جڑی ہو، نہ کہ وہ جو صرف عادت بن چکی ہو۔
نوجوان ایمان کی گہرائی چاہتے ہیں، سچائی چاہتے ہیں، دلیل چاہتے ہیں۔ انہیں کہانیاں نہیں، قرآن کی روشنی چاہیے۔ اگر مسجد انہیں یہ روشنی دے گی تو وہ مسجد کے ہوں گے۔ اگر مسجد خاموش رہے گی تو وہ کہیں اور جائیں گے — اور پھر شکوہ کرنے کا حق کم رہ جائے گا۔
اللہ ہمیں حق کو مکمل طور پر سمجھنے، اسے امانت کے ساتھ بیان کرنے، اور آنے والی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

12/12/2025

من رأى منكم منكرًا فليغيرْه بيدِه فإن لم يستطعْ فبلسانِه . فإن لم يستطعْ فبقلبِه . وذلك أضعفُ الإيمانِ

کیا پاکستان کے مسلمان اتنے زیادہ بےبس ہوچکے ہیں کہ وہ اب اپنے امریکی غلام، فوجی حکمرانوں کی فلسطین سے کھلی غدّاری کے خلا...
02/10/2025

کیا پاکستان کے مسلمان اتنے زیادہ بےبس ہوچکے ہیں کہ وہ اب اپنے امریکی غلام، فوجی حکمرانوں کی فلسطین سے کھلی غدّاری کے خلاف بھی کچھ نہیں کرسکتے ؟
صاف نظر آ رہا ہے کہ عاصم منیر اور شھباز شریف نے پاکستان کو ٹرمپ اور اس کی طالع آزما سیاست کے لیے گروی رکھ دیا ہے،
فلسطین کے مسئلہ پر پاکستان کو بانئ پاکستان کے نظریے سے ہٹانے کے بعد وجودِ پاکستان کا کوئی مطلب ہی نہیں رہ جاتا ہے،
کم از کم اسرائیل کے خلاف تو پاکستان کی مذہبی، سیکولر اور لبرل قیادتیں ایک موقف پر تھیں کیا یہ سب مل کر بھی اپنے ملک کے ان ضمیر فروش اور بےحس حکمرانوں اور امریکا کے غلاموں کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے ہیں ؟ اگر کم از کم پاکستان میں ٹرمپ کے شیطانی غزہ منصوبے کے خلاف انقلاب آتا ہے تو اس کا اثر عالم اسلام پر بھی پڑے گا ۔ اس کے لیے پاکستان کے علمائے حق اور دیگر اہلِ حق کو قربانیاں دے کر تاریخ رقم کرنی چاہیے ۔ ورنہ تو پاکستان کوئی خوددار و خودمختار پاکستان کسی بھی صورت نہ رہا بلکہ وہ یقیناً ایک امریکی کالونی ہے جسے اب اسرائیل کے اشاروں پر ناچنا ہوگا۔
اگر پاکستان میں بھی پاکستانی حکمران فلسطینیوں کے ساتھ غداری کرلے جاتے ہیں اور وہاں کے مسلمان اس کے خلاف کوئی عوامی انقلاب نہیں لاسکتے ہیں تو ان پر افسوس ہے کہ پھر تو آج کے ہندوتوادی بھارت میں ہندی مسلمان جس طرح بڑھ بڑھ کر قربانیاں دے کر بھی اپنے موقف و حقوق کے لیے جدوجھد کرتے ہیں وہ پاکستان کے مسلمانوں سے زیادہ بہادر و غیرت مند ہیں کہ پاکستان تو اسلام اور مسلمانوں کے نام پر بنا اور وہاں پر اگر بنیادِ پاکستان کا اسرائیل مخالف موقف بھی محفوظ نہیں ہے تو اس کا وجود تو بڑا ہی بے کار ہوا۔
✍️: سمیع اللہ خان
Samiullah Khan

वसीला: हकीकत, हदीसें और ग़लत मिसालों का जवाब✦ भूमिकाआज के दौर में कुछ लोग अपने अकीदे साबित करने के लिए ऐसी कमज़ोर और ग़ल...
27/08/2025

वसीला: हकीकत, हदीसें और ग़लत मिसालों का जवाब

✦ भूमिका

आज के दौर में कुछ लोग अपने अकीदे साबित करने के लिए ऐसी कमज़ोर और ग़लत मिसालें देते हैं जो न तो क़ुरआन से साबित हैं और न ही सही हदीसों से। जैसे:

"जैसे छत पर जाने के लिए सीढ़ी ज़रूरी है, वैसे ही अल्लाह तक पहुँचने के लिए वसीला ज़रूरी है।"

"जैसे डी.सी. (अधिकारी) से मिलने के लिए क्लर्क से मिलना पड़ता है, ऐसे ही अल्लाह तक पहुँचने के लिए वसीला चाहिए।"

ये मिसालें दरअसल अल्लाह तआला की सिफ़ात (गुणों) का इन्कार और आम लोगों को गुमराह करने का ज़रिया हैं।

---

✦ अल्लाह की क़ुर्बत और दुआ का रिश्ता

क़ुरआन करीम ने साफ़ बता दिया है कि अल्लाह तआला हर इंसान के क़रीब है:

"नحن أقرب إليه من حبل الوريد"
(हम इंसान की शिरा से भी ज़्यादा क़रीब हैं) – [सूरह क़: 16]

"وإذا سألك عبادي عني فإني قريب أجيب دعوة الداع إذا دعان"
(जब मेरे बंदे मेरे बारे में पूछें तो कह दो कि मैं क़रीब हूँ, दुआ करने वाले की दुआ क़बूल करता हूँ जब वह मुझे पुकारता है) – [अल-बक़रह: 186]

यहाँ किसी फ़रिश्ते, नबी या वली को बीच में लाने की कोई ज़रूरत बयान नहीं की गई।

---

✦ वसीले की क़िस्में (शरीअत की रोशनी में)

उलमा ने वसीले को तीन हिस्सों में बाँटा है:

1. जाइज़ वसीला

अल्लाह के नाम और सिफ़ात (गुणों) से दुआ करना।

नेक आमाल (अच्छे कामों) का वसीला देना।

ज़िंदा नेक बंदों से दुआ की दरख़्वास्त करना।
📖 (अल-माइदा: 35)

2. नाजायज़ वसीला (शिर्क़िया)

फ़ौत (मरे हुए) लोगों को पुकारना या उनसे मदद माँगना।

अल्लाह के बजाय किसी और के सामने हाजत पेश करना।
📖 (फ़ातिर: 13, अज़-ज़ुमर: 3)

3. बिदअती वसीला

छत और सीढ़ी, या डी.सी. और क्लर्क जैसी मिसालें। ये मिसालें अल्लाह की सिफ़त "समीअ" (सब कुछ सुनने वाला) और "क़रीब" (क़रीब होने वाला) के ख़िलाफ़ हैं और लोगों को ग़लतफ़हमी में डालती हैं।

---

✦ वसीले के बारे में हदीसें

1. अल्लाह के नामों का वसीला

रसूलुल्लाह ﷺ ने फरमाया:

> "اللهم إني أسألك بكل اسم هو لك…"
📕 (मुस्नद अहमद, 3712, सहीह)

2. नेक अमल का वसीला

असहाबे ग़ार (तीन लोग जो गुफ़ा में फँस गए थे) ने अपने-अपने नेक अमल (वालिदैन की खिदमत, ज़िना से बचना, मज़दूर की मज़दूरी ईमानदारी से अदा करना) का वसीला देकर दुआ की और अल्लाह ने उनकी मुश्किल दूर कर दी।
📕 (बुखारी: 3465, मुस्लिम: 2743)

3. नबी ﷺ से दुआ करवाना (ज़िंदगी में)

एक अंधे सहाबी ने अर्ज़ किया: या रसूलल्लाह ﷺ! दुआ करें। आप ﷺ ने उन्हें वुज़ू, नफ़्ल नमाज़ और एक खास दुआ सिखाई जिसमें नबी का वसीला दिया गया।
📕 (तिर्मिज़ी: 3578, हदीस सहीह)

⚠️ यह वाक़िआ आप ﷺ की ज़िंदगी में है, वफ़ात के बाद सहाबा ने यह तरीका नहीं अपनाया।

---

✦ वफ़ात के बाद नबी ﷺ का वसीला?

सहाबा कराम ने क़हत (सूखा) के वक़्त नबी ﷺ का वसीला नहीं दिया बल्कि हज़रत उमर رضي الله عنه ने हज़रत अब्बास رضي الله عنه से दुआ करवाई।
📕 (बुखारी: 3710)

इसलिए वफ़ात के बाद "बिहक नबीय्यिका" या "बिजाह नबीय्यिका" कहना न क़ुरआन से साबित है न सुन्नत से।

उलमा-ए-दरुल उलूम देवबंद का موقف

ऐसा कहना शिर्क़ तो नहीं मगर बिदअत और ग़ैर मशरूअ (ग़लत तरीका) है।

अफ़ज़ल तरीका यह है कि इंसान सिर्फ़ अल्लाह के नामों या अपने नेक आमाल का वसीला दे।

---

✦ नतीजा

1. अल्लाह क़रीब है, हमें दुआ के लिए किसी क्लर्क या सीढ़ी की ज़रूरत नहीं।

2. जाइज़ वसीला वही है जो क़ुरआन और सुन्नत ने बताया।

3. "नबी के वसीले से दुआ" ज़िंदगी में जाइज़ थी, मगर वफ़ात के बाद सहाबा ने नहीं किया, इसलिए यह तरीका बिदअत है।

4. सबसे अफ़ज़ल दुआ वह है जो सीधे अल्लाह के नामों और अपने नेक आमाल के वसीले से की जाए।

---

✦ दुआ

अल्लाह तआला हमें शिर्क़, बिदअत और बे-बुनियाद अकीदों से महफ़ूज़ रखे, और सही तौहीद व सुन्नत पर चलने की तौफ़ीक़ अता फरमाए।
आमीन।

وسیلہ: حقیقت، احادیث اور غلط مثالوں کا ردّ

✦ تمہید

آج کے دور میں کچھ لوگ عقائد کے اثبات کے لیے ایسی کمزور اور غلط مثالیں پیش کرتے ہیں جو نہ قرآن سے ثابت ہیں نہ صحیح احادیث سے۔ مثلاً یہ کہنا کہ:

"جیسے چھت پر جانے کے لیے سیڑھی ضروری ہے ویسے ہی اللہ تک پہنچنے کے لیے وسیلہ ضروری ہے۔"

"جیسے ڈی سی سے ملنے کے لیے کلرک سے ملنا پڑتا ہے، ایسے ہی اللہ تک پہنچنے کے لیے وسیلہ چاہیے۔"

یہ مثالیں حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار اور عوام کو گمراہ کرنے کا ذریعہ ہیں۔

---

✦ اللہ کی قربت اور دعا کا تعلق

قرآن کریم نے واضح کر دیا کہ اللہ تعالیٰ تو ہر انسان کے قریب ہے:

نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ
(ہم انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں) – [سورۃ ق: 16]

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
(جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو کہہ دو کہ میں قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے) – [البقرہ: 186]

یہاں کسی فرشتے، نبی یا ولی کو بیچ میں لانے کی ضرورت بیان نہیں کی گئی۔

---

✦ وسیلہ کی اقسام (شریعت کی روشنی میں)

علماء نے وسیلے کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے:

1. جائز وسیلہ

اللہ کے اسماء و صفات کے ساتھ دعا کرنا۔

نیک اعمال کا وسیلہ دینا۔

زندہ نیک بندوں سے دعا کی درخواست کرنا۔
📖 (المائدہ: 35)

2. ناجائز وسیلہ (شرکیہ)

فوت شدگان کو پکارنا یا ان سے مدد مانگنا۔

اللہ کے بجائے کسی اور کے سامنے حاجت پیش کرنا۔
📖 (فاطر: 13، الزمر: 3)

3. بدعی وسیلہ

چھت اور سیڑھی، یا ڈی سی اور کلرک جیسی مثالیں۔ یہ مثالیں اللہ کی صفت "سَمیع" اور "قریب" کے خلاف ہیں اور عوام کو غلط فہمی میں ڈالتی ہیں۔

---

✦ وسیلے کے بارے میں احادیث

1. اللہ کے ناموں کا وسیلہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ…"
📕 (مسند احمد، 3712، صحیح)

2. نیک عمل کا وسیلہ

اصحاب الغار نے اپنے اعمال (والدین کی خدمت، زنا سے بچنا، مزدوری کی امانت داری) کا وسیلہ دے کر دعا کی اور اللہ نے ان کی مشکل دور کردی۔
📕 (بخاری: 3465، مسلم: 2743)

3. نبی ﷺ سے دعا کروانا (زندگی میں)

نابینا صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! دعا کریں۔ آپ ﷺ نے انہیں وضو، نفل اور مخصوص دعا سکھائی جس میں نبی کا وسیلہ دیا گیا۔
📕 (ترمذی: 3578، حدیث صحیح)

⚠️ یہ واقعہ آپ ﷺ کی زندگی میں ہے، وفات کے بعد صحابہ نے یہ طریقہ نہیں اپنایا۔

---

✦ وفات کے بعد نبی ﷺ کا وسیلہ؟

صحابہ کرام نے قحط کے وقت نبی ﷺ کے وسیلے کا ذکر نہیں کیا بلکہ حضرت عمرؓ نے حضرت عباسؓ سے دعا کروائی۔
📕 (بخاری: 3710)

اس لیے وفات کے بعد "بحق نبیك" یا "بجاه نبیك" کہنا نہ قرآن سے ثابت ہے نہ سنت سے۔

علماء دیوبند کا موقف:

ایسا کہنا شرک تو نہیں مگر بدعت اور غیر مشروع ہے۔

افضل طریقہ یہ ہے کہ آدمی صرف اللہ کے ناموں یا اپنے نیک اعمال کا وسیلہ دے۔

---

✦ نتیجہ

1. اللہ قریب ہے، ہمیں دعا کے لیے کسی کلرک یا سیڑھی کی ضرورت نہیں۔

2. جائز وسیلہ وہی ہے جو قرآن و سنت نے بتایا۔

3. "نبی کے وسیلے سے دعا" زندگی میں جائز تھی، مگر وفات کے بعد اس پر صحابہ کا عمل نہیں، اس لیے یہ طریقہ بدعت ہے۔

4. سب سے افضل دعا وہ ہے جو براہِ راست اللہ کے ناموں اور اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے کی جائے۔

---

✦ دعا

اللہ تعالیٰ ہمیں شرک، بدعت اور بے بنیاد عقائد سے محفوظ رکھے، اور صحیح توحید و سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔

26/07/2025
❗️باعزت بری ہونا انصاف نہیں... بلکہ نظام کی ننگی شکست ہے!✍️ از: دردِ دل رکھنے والا مسلمان11 جولائی 2006 کا وہ خونی دن، ج...
21/07/2025

❗️باعزت بری ہونا انصاف نہیں... بلکہ نظام کی ننگی شکست ہے!

✍️ از: دردِ دل رکھنے والا مسلمان

11 جولائی 2006 کا وہ خونی دن، جب ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں دھماکوں نے 189 انسانوں کی جان لی اور 800 سے زیادہ کو زخمی کر دیا۔ لیکن اس واقعے کے بعد جو اصل ظلم ہوا، وہ دھماکوں سے بھی زیادہ تباہ کن اور سنگدل تھا:
12 بےگناہ مسلمانوں کو دہشتگردی کے جھوٹے الزام میں 18 سال کے لیے جیلوں میں سڑنے کے لیے پھینک دیا گیا۔

پانچ کو موت کی سزا، سات کو عمر قید، میڈیا ٹرائل، پولیس کانفرنسیں، قوم پرست چینلوں کے چیختے نعرے، اور ایک پوری قوم کو بدنام کر دینے والا پروپیگنڈا۔
لیکن اب... 18 سال بعد، عدالت نے انہیں باعزت بری کر دیا۔

---

مگر سوال یہ ہے:

> ❓ کیا یہی انصاف ہے؟ ❓ کیا ان کے 18 سالہ جوانی کا حساب کوئی دے گا؟ ❓ کیا وہ بیویاں، مائیں، باپ، بچے، جن کی زندگیاں برباد ہو گئیں، ان کی آہوں کا کوئی مول ہے؟

❌ نہیں! یہ انصاف نہیں، یہ انصاف کا مذاق ہے۔

یہ وہ نظام ہے جو پہلے مسلمان کو مجرم مانتا ہے، پھر ثبوت ڈھونڈتا ہے۔
یہ وہ میڈیا ہے جو TRP کے لیے ایمان فروش ہے، اور
یہ وہ حکومتیں ہیں جن کی ترجیح مسلم خون کی ارزانی ہے۔

---

📜 ہندوستان کا آئین: ایک ادھورا دستور!

ہمیں بار بار بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان کا آئین دنیا کا سب سے عظیم ہے،
لیکن سوال یہ ہے:

> جس آئین میں بےگناہ قید کاٹنے والے کے لیے نہ معاوضے کا قانون ہو، نہ انصاف کا کوئی راستہ،
کیا وہ آئین مکمل کہلانے کے قابل ہے؟

🟥 دنیا کے ممالک میں تو قانون ہے:

امریکہ: $50,000 سالانہ معاوضہ

برطانیہ، جرمنی، جاپان، کینیڈا: ہر بےگناہ قیدی کو مکمل ازالہ

لیکن ہندوستان؟ صرف "باعزت بری" اور "اب گھر جاؤ"!

---

🧭 اگر نظام اسلامی ہوتا...

اسلامی حکومت میں اگر کوئی بےگناہ جیل جائے:

✅ تو ریاست معافی مانگتی
✅ مظلوم کو مالی، سماجی، نفسیاتی بحالی دیتی
✅ اور ظالم پولیس افسر یا قاضی کو سزا دی جاتی

> حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا:
"اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو عمرؓ سے سوال ہوگا۔"

اور یہاں؟ مسلمان 18 سال جیل میں سڑ جائے اور کوئی جواب دہ نہیں!

---

📢 یہ وقت خاموشی کا نہیں

مسلم قیادت کو اب تقریروں سے آگے بڑھ کر
قانونی، سیاسی، اور عوامی سطح پر جدوجہد کرنی ہوگی۔

1. "Wrongful Incarceration Law" بنایا جائے

2. ریاست مظلوموں کو ازخود معاوضہ دے

3. ظالم پولیس افسران کو سزا ملے

4. میڈیا کی زبان پر ضابطہ اخلاق نافذ ہو

---

🗣️ یہ صرف باعزت بری نہیں، یہ نظام کا چہرہ ننگا ہونا ہے!

> جنہیں ہم نے دہشتگرد کہا،
وہ معصوم نکلے،
اور جنہوں نے ظلم کیا،
وہ آج بھی اپنی کرسی پر بیٹھے ہیں —
یہی ہے ہندوستانی انصاف کا چہرہ!

---

✊ آخری بات:

> "اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ باعزت بری ہونا انصاف ہے،
تو تم نہ صرف سادہ لوح ہو، بلکہ اپنے ضمیر کے قاتل بھی ہو۔"

یہ مضمون آپ کے لیے، میرے لیے، اور ہر اس زندہ دل کے لیے ہے جو ظلم سے نفرت کرتا ہے۔

مفتی کفایت اللہ قاسمی

❗️"बाइज्ज़त बरी" होना इंसाफ़ नहीं... बल्कि व्यवस्था की नंगी हार है!✍️ एक दर्दमंद मुसलमान की कलम से( मुफ्ती किफायतुल्लाह ...
21/07/2025

❗️"बाइज्ज़त बरी" होना इंसाफ़ नहीं... बल्कि व्यवस्था की नंगी हार है!

✍️ एक दर्दमंद मुसलमान की कलम से
( मुफ्ती किफायतुल्लाह कासमी)

---

🕯️ 11 जुलाई 2006:
मुंबई लोकल ट्रेन धमाकों का वो खूनी दिन... 189 मासूमों की जान गई, 800 से ज़्यादा घायल हुए।
लेकिन इस हादसे के बाद जो असली ज़ुल्म हुआ — वो इन धमाकों से भी बड़ा था:

> 12 मासूम मुसलमानों को आतंकवाद के झूठे आरोप में 18 सालों तक जेल में सड़ने को छोड़ दिया गया।

किसी को फांसी की सज़ा, किसी को उम्रकैद, मीडिया ट्रायल, पुलिसिया प्रेस कॉन्फ्रेंस, TRP के लिए चिल्लाते न्यूज़ चैनल, और पूरे मुस्लिम समाज को गुनहगार ठहरा देने वाला जहरीला प्रोपेगेंडा।

और आज... 18 साल बाद, हाईकोर्ट कहता है:

> "आप बाइज्ज़त बरी हैं!"

---

❓मगर क्या यही इंसाफ़ है?

क्या कोई उनकी 18 साल की जवानी लौटा सकता है?

क्या उनकी बूढ़ी मांओं की सूनी आंखों का कोई मोल है?

क्या उनके बच्चों की बर्बाद ज़िंदगी की कोई भरपाई है?

> ❌ नहीं! ये इंसाफ़ नहीं है, ये इंसाफ़ का मज़ाक है।
❌ ये सिस्टम की क्रूरता, बेनकाब चेहरा है।
❌ ये उस संविधान की खामोशी है जिसे सबसे बड़ा बताया जाता है।

---

📜 भारत का संविधान — "अधूरा दस्तावेज़!"

हमें सिखाया जाता है कि भारत का संविधान दुनिया का सबसे महान है।

लेकिन सवाल ये है:

> 👉 जिस संविधान में झूठे आरोप में सालों जेल काटने वालों के लिए न माफ़ी है, न मुआवज़ा, न न्याय — क्या वो संविधान पूरा है?

🌍 दुनिया क्या करती है?

अमेरिका: हर साल के लिए $50,000

कनाडा, ब्रिटेन, जर्मनी: मानसिक, आर्थिक और सामाजिक पुनर्वास

जापान: सरकार की ओर से सार्वजनिक माफ़ी और मुआवज़ा

लेकिन भारत?
"जाओ, बाइज्ज़त बरी हो गए हो!"

---

🧭 अगर यहां इस्लामी निज़ाम होता...

> इस्लामी हुकूमत में अगर कोई बेगुनाह जेल चला जाए:

✅ तो सरकार उससे माफ़ी मांगती
✅ उसे इज़्ज़त, माली मदद, और मानसिक राहत देती
✅ और झूठा केस बनाने वाले पुलिस अफ़सर को सज़ा दी जाती

हज़रत उमर फारूक़ रज़ि. ने फरमाया था:

> "अगर फ़ुरात के किनारे एक कुत्ता भी भूख से मर जाए, तो उमर से पूछा जाएगा!"

> और आज...? 12 मुसलमान 18 साल जेल में रहें, और पूछने वाला कोई नहीं!

---

📢 ये वक़्त खामोशी का नहीं

> अब सिर्फ़ बयानबाज़ी नहीं, क़ानूनी और राजनीतिक लड़ाई लड़ने का वक़्त है।

✅ "गलत गिरफ्तारी कानून" (Wrongful Incarceration Act) लाया जाए
✅ मुआवज़ा सरकार खुद दे — कोर्ट का इंतज़ार न करे
✅ झूठे केस बनाने वाले पुलिस अफसरों को बर्खास्त और सज़ा दी जाए
✅ मीडिया पर नैतिक संहिता लागू हो — झूठ फैलाने की छूट न हो

---

⚖️ बाइज्ज़त बरी = व्यवस्था की हार

> जिन्हें आतंकवादी कहकर दुनिया के सामने बदनाम किया,
वो बेगुनाह निकले!
और जिन अफसरों ने ज़ुल्म किया —
वो आज भी कुर्सी पर बैठे हैं!

> यही है "भारत का न्याय"!

---

✊ आख़िरी बात:

> "अगर तुम समझते हो कि 'बाइज्ज़त बरी' हो जाना इंसाफ़ है —
तो तुम सिर्फ़ भोले नहीं, अपने ज़मीर के भी क़ातिल हो!"

---

यह लेख हर उस इंसान के लिए है,
जो ज़ुल्म से नफ़रत करता है।
जो आंखें खोलकर देखना चाहता है कि
हमारे नाम पर, हमारे साथ क्या हो रहा है।

03/07/2025

🟥 "اہلِ حدیث، سعودی حکومت، اور خلافتِ اسلامی: ایک فکری و دینی جائزہ"

✍️ تحریر: ایک درد مند مسلمان

---

🔰 تمہید

آج امتِ مسلمہ ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں:

ظالم حکومتیں حاکم ہیں،

حق گو علما جیلوں میں قید ہیں،

اور امت کا ایک بڑا طبقہ خاموش، غافل، یا مصلحت پسند ہے۔

اس مضمون میں ہم ان چند سوالات کا جائزہ لیں گے:

سعودی عرب کے مظلوم علما کے حق میں آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی؟

امامِ حرم اور دیگر بڑے علماء خاموش کیوں ہیں؟

اہلِ حدیث خاص طور پر سعودی حکومت کا دفاع کیوں کرتے ہیں؟

خلافت کے قیام کی بات کیوں دبائی جاتی ہے؟

کیا امام ابو حنیفہؒ نے ظلم کے خلاف قیام کو جائز کہا؟

اور آج اہلِ سنت کیوں خلافت کے قیام کے لیے عملی کوشش نہیں کرتے؟

---

🟩 قید علما کا المیہ: خاموشی کی گونگی امت

سعودی عرب میں اس وقت درجنوں سچے، مخلص، حق گو علما، مفکرین اور داعیانِ حق جیلوں میں ہیں۔
ان میں سے چند بڑے نام:

شیخ سلمان العودہ

شیخ سفر الحوالی

شیخ عوض القرنی

شیخ علی العمری

شیخ عبد العزیز الطریفی

شیخ ناصر الفھد

شیخ ادریس ابکر

اور درجنوں دیگر

ان پر کوئی مقدمہ نہیں، کوئی جرم نہیں، سوائے اس کے کہ انہوں نے:

> "ظالم ملوکیت کے خلاف زبان کھولی، خلافت کی حمایت کی، فلسطین و یمن کے مظلوموں کے لیے دعا کی، اور امریکہ و اسرائیل کی غلامی کے خلاف آواز بلند کی۔"

📌 آج ان کی بینائی جاتی رہی، جسم ٹوٹ چکے، ذہن مفلوج ہو رہے ہیں — مگر امت خاموش ہے!

---

🟨 امام حرم اور علماءِ دربار کا کردار

شیخ عبد الرحمن السدیس، جو حرم کے امام اور خطیب ہیں،

حکومت کی ہر پالیسی کی حمایت کرتے ہیں،

محمد بن سلمان کو "رحم دل رہنما" کہتے ہیں،

اور ظالم بادشاہوں کی مدح سرائی کو "نصرتِ دین" قرار دیتے ہیں۔

📌 یہ وہی وقت ہے جب نبی ﷺ کا فرمان چیخ چیخ کر کہتا ہے:

> "سب سے افضل جہاد، ظالم حاکم کے سامنے حق بات کہنا ہے"
📚 (ابو داؤد)

---

🟥 اہلِ حدیث کا فکری تضاد

سعودی حکومت کے سب سے بڑے دفاعی حامی اگر کوئی طبقہ ہے تو وہ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش کے اہلِ حدیث حضرات ہیں۔

❓ کیوں؟

سبب وضاحت

ذہنی غلامی سعودی کو خالص اسلام کا مرکز سمجھا گیا
مفادات مدینہ یونیورسٹی، حج کوٹہ، وظائف، ترجمہ شدہ کتب
عقیدت کا فریب حرمین کی محبت میں حکومت کی پالیسیوں کو بھی دین سمجھ لیا
فرقہ وارانہ تعصب "سعودی ہمارے ہیں، حنفی و صوفی بدعتی ہیں" — اس سوچ نے انصاف کا گلا گھونٹ دیا

📌 یہی اہلِ حدیث طبقہ محمد بن سلمان جیسے فاسق و فاجر کو "امیرالمومنین" کہتا ہے،
جبکہ امام حسینؓ کی طرح ظالم کے خلاف زبان نہیں کھولتا!

---

🟩 خلافتِ اسلامی اور امام ابو حنیفہؒ کا موقف

حضرت امام ابو حنیفہؒ نے:

ظالم حکومت کے خلاف قیام کو جائز بلکہ واجب قرار دیا (جب عدد و طاقت ہو)

زید بن علیؒ، نفس زکیہ، اور ابراہیم بن عبداللہؒ کی حمایت کی

خود قید و تشدد برداشت کیا لیکن ظالم کا ساتھ نہ دیا

📚 (سیر اعلام النبلاء، مناقب الامام الاعظم)

لہٰذا خلافت صرف ماضی کی بات نہیں، بلکہ شرعی فریضہ ہے۔

---

🟥 آج خلافت کیوں نہیں قائم ہو رہی؟

رکاوٹ وضاحت

عوامی فکری زوال دین صرف نماز روزے تک محدود سمجھا گیا
علماء کا خوف یا مفاد ظالم کی مخالفت کی بجائے خاموشی یا تائید
عالمی سیاسی رکاوٹ خلافت مغرب، اسرائیل، اور امریکہ کی نظر میں سب سے بڑا خطرہ
فرقہ واریت امت کی تقسیم، قوم پرستی، گروہی تعصب
تنظیمی کمزوری خلافت کے لیے درکار تیاری، قربانی، اور اتحاد ناپید

---

🟨 کیا خلافت پھر کبھی قائم ہوگی؟

جی ہاں — ان شاء اللہ

> "ثم تکون خلافة علیٰ منھاج النبوۃ"
(پھر خلافت نبوت کے طریقے پر واپس آئے گی)

یہ نبی ﷺ کی پیش گوئی ہے — جو ضرور پوری ہوگی۔
مگر اس کے لیے ہمیں:

غلامی کے نظریے کو چھوڑنا ہوگا

حق کے لیے قربانی دینی ہوگی

اور یزید کے ساتھ کھڑے علماء کو پہچاننا ہوگا

---

🕯️ اختتامی پیغام:

آج بھی وقت ہے…
اگر ہم:

حرم کی حفاظت چاہتے ہیں

نبی ﷺ کا دین غالب دیکھنا چاہتے ہیں

مظلوم علما کو رہا کرانا چاہتے ہیں

اور امت کو زندہ دیکھنا چاہتے ہیں…

تو پھر ہمیں حق بات کہنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔

ورنہ ہماری خاموشی، ہماری بزدلی، اور ہمارا تعصب
ہمیں کربلا کے یزیدی لشکر میں کھڑا کر دے گا، حسینؓ کے ساتھ نہیں۔

---

📢 نعرہ:

> "ہم محمد بن سلمان کو نہیں، محمد ﷺ کو مانتے ہیں
ہم یزیدیت کے درباریوں کو نہیں، حسینؓ کی شہادت کو مانتے ہیں
ہم ملوکیت کو نہیں، خلافتِ اسلامی کو چاہتے ہیں!"

Address

Deoband
247554

Telephone

+919649512507

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic General Knowledge & Islamic Objections & Inricacies posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Islamic General Knowledge & Islamic Objections & Inricacies:

Shortcuts

Share

Category