محبان دارالعلوم

محبان دارالعلوم اکابر کی عزت اور ان کے ناموس کی حفاظت محبان دارالعلوم ک?

Copy-Paste*ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کا مستقبل (عالمی تعلیمی کانفرنس)**سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے سایہ تلے علماء و...
17/12/2021

Copy-Paste

*ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کا مستقبل (عالمی تعلیمی کانفرنس)*

*سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے سایہ تلے علماء و مدارس اسلامیہ کا ماضی، حال و مستقبل*

*امت مسلمہ کے واحد تعلیمی نطام کے فوائد و نقصانات اور مستقبل کے تعلیمی نظام پر غور و فکر*

*امت مسلمہ اور مدارس اسلامیہ کے گم گشتہ عزت و وقار کی بحالی کے اسباب و وسائل کی تلاش*

ایک ایسے وقت میں جبکہ ہر سو ہیجان کی کیفیت ہے، ہر فرد ملت حالات کی خرابی کا شکوہ کناں ہے، ہر شخص امت کے سیاسی و فکری، تعلیمی و نظامی زوال کے اسباب تلاش کرنے کے لئے کوشاں ہیں، مغرب اپنی چالیں چلتا جاتا ہے، اور ہمارا شیرازہ بھکرتا جاتا ہے، امت کا ہر فرد اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہا ہے، اور اپنا بوجھ دوسروں کے کاندھو پر دیکھنا چاہتا ہے، ہر سو ہو کا عالم ہے، عالم کفر متحد ہے، اور عالم اسلام انتشار کا شکار ہے، حالانکہ اس پرخطر وقت میں بھی ہر مقام پر کچھ ایسے افراد ہیں جو عرب ہوں یا عجم، ترک ہوں یا افغان، ہندی ہوں یا جاپانی وہ اسی فکر میں مبتلا ہیں کہ آخر امت کے عروج کا سرا کہاں کھویا گیا ہے؟ وہ مقام کہاں ہیں؟ وہ راستہ کون سا ہے؟ وہ نظام کیسا نظام ہے؟ جس پر چل کر، جسے اپنا کر، جسے لاگو کرکے ہم اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرسکتے ہیں؟ بہت سے مفکرین کا ماننا ہے کہ وہ راستہ تعلیم کا راستہ ہے، اس بنیاد پر تقریبا سبھی کا اتفاق ہے کہ اسلام ایک تعلیمی انقلاب لایا تھا اور اس تعلیمی انقلاب نے عرب و عجم اور پوری دنیا کے اندر ایک مسلسل بدلتی ہوئی صورتحال کو جنم دیا، جس نے علم پر قابو کیا اس نے دنیا پر قابو کیا، اور جس کی مٹھی سے علم کی لگام پھسلی وہ زوال پذیر ہوتا چلا گیا.

اسی بنیادی نقطہ نظر کو سامنے رکھتے یوئے اس عالمی تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے، جس میں ملک و بیرون ملک رہنے والے ہندوستانی علماء کرام، مفکرین عظام، دانشوران، اور یونیورسٹیز کے پروفیسران کو دعوت فکر دی گئی ہے، لہذا اللہ نے چاہا تو یہ پروگرام ہندی اور تمام عالم کے مسلمانوں کے لئے ایک اہم موڑ ثابت ہوگا اور ہم کسی ایسے نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہونگے جو امت مسلمہ کو اس راستے پر لے جائے گا جو ترقی کا راستہ ہے، جو عروج کا راستہ ہے، جو کامیابیوں کا راستہ ہے، ان شاء اللہ تعالی.

_کل ہند طلبہ مدارس فورم و انجمن علماء اسلام_

https://youtu.be/-lw50Alo1nc
12/11/2021

https://youtu.be/-lw50Alo1nc

IMPORTANCE OF LEGAL STUDIES FOR MADRASA STUDENTSAdvocate Nehal Ahmad Nadwi.LLM (Business Law) National Law School of India, University of Bangluru.ہماری دیگر...

سر بلف سر بلند دیوبند دیوبندامیر عالی حضرت قائد ملت بلا شرکت غیر جناب سید ارشد مدنی صاحب شیر ہند و امام بر حق دامت برکات...
30/09/2020

سر بلف سر بلند دیوبند دیوبند

امیر عالی حضرت قائد ملت بلا شرکت غیر جناب سید ارشد مدنی صاحب شیر ہند و امام بر حق دامت برکاتھم زندہ باد

میرے عشق کی انتہا تم (آپ) ہوقائد ملت بلا شرکت غیر حضرت علامہ سید ارشد مدنی دامت فیوضھم زندہ بادسر بکف سر بلنددیوبند دیوب...
27/09/2020

میرے عشق کی انتہا تم (آپ) ہو

قائد ملت بلا شرکت غیر حضرت علامہ سید ارشد مدنی دامت فیوضھم زندہ باد

سر بکف سر بلند
دیوبند دیوبند

جمیعت العلماء زندہ باد

*ایک دن قبل ایک سوال کیاتھا!**غیر مسلم پڑوسی یا افریقہ کا مسلمان حبشی؟**ذیل کی سطور میں اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی...
10/04/2020

*ایک دن قبل ایک سوال کیاتھا!*
*غیر مسلم پڑوسی یا افریقہ کا مسلمان حبشی؟*
*ذیل کی سطور میں اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے!*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے...!*

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1131237590577214&id=100010729508809

امت مسلمہ کو اللہ رب العزت نے بہت ساری خصوصیات و امتیازات سے نوازا ہے، ایسی ہی ایک نہایت اہم اور ممتاز خصوصیت عالم گیریت کی بھی عطا کی ہے! یعنی امت محمدیہ ایک عالمی امت ہے جس کا وجود کسی زمان و مکان میں محصور و مخصوص نہیں، بل کہ ہر وہ شخص جو اسلام کے دامن میں پناہ گزین ہے، اس امت کا غیر منفک حصہ ہے، پھر چاہے وہ دنیا کہ کسی بھی کونے میں بستا ہو!
انسانیت کی تقسیم ہی خداوند قدوس نے اس بنیاد پر کی ہے کہ کون اس کے آفاقی پیغام کا اطاعت شعار ہے اور کون روگرداں!
ارشاد باری ہے:
هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ فَمِنۡكُمۡ كَافِرٌ وَّمِنۡكُمۡ مُّؤۡمِنٌ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ۞
(سورۃ نمبر 64 التغابن آیت نمبر 2)
ترجمہ:
وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا سو (باوجود اس کے بھی) تم میں بعضے کافر ہیں اور بعضے مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال (ایمانیہ و کفریہ) کو دیکھ رہا ہے۔
ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا‌ ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ‌ ؕ
(سورۃ نمبر49 الحجرات آیت نمبر13)
ترجمہ:
اے لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف خاندان بنایا ہے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔
اس آیت میں صاف فرمادیا کہ عزت و شرف کا اگر کوئی معیار ہے تو وہ الله سے قربت ہے اس کے سوا جتنی نسبتیں، اور لاحقے ہیں خواہ وہ نسلی ہوں علاقائی ہوں یا کسی اور نوعیت کے ہوں وہ صرف باہمی تعارف اور پہچان کے لیے ہیں، اس سے زیادہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے!

اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں زندگی بسر کرتے وقت ایک بندۂ مؤمن کے تعلقات انسانوں کے ساتھ کس طرح کے ہونے چاہئیں؟
یہ طے ہوچکا کہ انسانیت دو گروہوں میں تقسیم ہے لہذا تعلقات کی اصل بنیادیں بھی ان ہی دو نوعیتوں پر استوار ہوں گی!
پہلی نوعیت : قوم مسلم کے باہمی تعلقات.
مومنین کے باہمی تعلقات کو الله رب العزت نے قرآن کریم میں، "انما المؤمنون اخوۃ"(تمام مسلمان بھائی ہیں) "رحماء بینھم"(آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرنے والے ہیں "والمؤمنون والمؤمنات بعضھم أولیاء بعض"(مسلمان مرد عورتوں میں سے بعض بعض کے دوست ہیں) جیسے الفاظ سے تعبیر کیا ہے، سرور کائنات صلی اللّٰه علیه وسلم نے متعدد مواقع پر اس رشتے کی مزید توضیح فرمائی ہے، ملاحظہ کریں!
عن ابی موسی الاشعری رض قال: قال رسول الله ﷺ: المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضًا، وشبك بين أصابعه. رواہ البخاری.
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے ساتھ ایک عمارت کے حکم میں ہے کہ ایک کو دوسرے سے قوت پہنچتی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے اندر کیا)
عن النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى .
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف و نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ایسا کہ نیند اڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے)
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.
(جریر بن عبد اللہ رض فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم مرنے، زکات ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی)
عن عبد الله ابن عمر رضی اللّٰه عنھما قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم المسلم أخو المسلم، لا يظلمه ولا يسلمه، ومن كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته، ومن فرَّج عن مسلم كربة ف*ج الله عنه كربة من كربات يوم القيامة، ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة. رواه البخاري.
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا)
مندرجہ بالا آیات کریمہ اور احادیث مبارکہ سے امت مسلمہ کے درمیان رشتہ کی نوعیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے!
باہم دست و بازو بن کر قوت و سہارا دینے کا حکم ہے، خیر خواہی کرنے کا درس ہے، جرائم کی پردہ پوشی کرنےکی ترغیب ہے، تعاون و نصرت پر تحریض ہے، باہمی تکالیف دور کرنے اور آسانیاں پیدا کرنے کی تعلیم ہے، اور ان تمام چیزوں کے اندر اس کیفیت کا مطالبہ ہے جو ایک جسم کے مختلف اجزاء کے درمیان پائی جاتی ہے، یعنی اگر ملت کے کسی ایک فرد کو تکلیف ہو تو دنیا کہ ہر کونے میں بس نے والا ملت اسلامیہ کا ہر فرد اس کی تکلیف کا احساس کرے اور اگر ممکن ہو تو بقدر استطاعت درد کا مداوی اور غم کا آسرا بنے، جیسے جسم کا کوئی ایک عضو جب درد میں مبتلا ہوتا ہے تو پورا جسم اس کی پریشانی محسوس کرتا ہے، اور ہر جز ممکنہ حدتک اس پریشانی کو زائل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

دوسری نوعیت: غیر مسلمین کے ساتھ تعلقات۔
اس بابت قرآن کریم میں دو طرح کے احکامات موجود ہیں، ہم ذیل میں دونوں طرح کی آیتیں نقل کرکے مفسرین عظام کے حوالے سے اس کی توضیح کریں گے!
ارشاد باری ہے:
لَا يَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡكٰفِرِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۚ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰ لِكَ فَلَيۡسَ مِنَ اللّٰهِ فِىۡ شَىۡءٍ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡهُمۡ تُقٰٮة ؕ
القرآن
(سورۃ نمبر 3 آل عمران آیت نمبر 28)
ترجمہ:
مسلمانوں کو چاہیئے کہ کفار کو (ظاہرا یا باطنا) دوست نہ بناویں مسلمانوں (کی دوستی) سے تجاوز کرکے اور جو شخص ایسا (کام) کرے گا سو وہ شخص اللہ کے ساتھ (دوستی رکھنے کے) کسی شمار میں نہیں مگر ایسی صورت میں کہ تم ان سے کسی قسم کا (قوی) اندیشہ رکھتے ہو۔
سورہ ممتحنہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے عمل کو ہمارے لیے نمونہ قرار دیتے خداوند جل وعلا نے ارشاد فرمایا:
قَدۡ كَانَتۡ لَـكُمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ فِىۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ‌ۚ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ. (سورہ ممتحنہ آیت4)
ترجمہ:
تمہارے لیے ابراہیم (علیہ السلام) میں اور ان لوگوں میں جو کہ ا (ایمان اور اطاعت میں) ان کے شریک حال تھے ایک عمدہ نمونہ ہے۔ جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن کو تم اللہ کے سوا معبود سمجھتے ہو ان سے بیزار ہیں ہم تمہارے منکر ہیں اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لئے عداوت اور بغض (زیادہ) ظاہر ہوگیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ۔
لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ؕ
(سورۃ نمبر58 المجادلةآیت نمبر22)
ترجمہ:
جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھتے ہیں جو اللہ اور رسول کے برخلاف ہیں گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبہ ہی کیوں نہ ہوں۔
لَا يَنۡهٰٮكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُقَاتِلُوۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوۡكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ‏ ۞
القرآن
(سورۃ نمبر60 الممتحنةآیت نمبر8)
ترجمہ:
اللہ تمہیں نہیں روکتا ان لوگوں سے جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے کبھی جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا کہ تم ان کے ساتھ کوئی بھلائی کرو یا انصاف کا معاملہ کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
متذکرہ بالا آیات کی روشنی میں مفسرین نے غیر مسلمین سے تعلقات کی جو تفصیل بیان کی ہے وہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہم اللّٰہ کی زبانی درج ذیل ہے!
کفار کے ساتھ تین قسم کے معاملے ہوتے ہیں۔ موالات یعنی دوستی۔ مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی۔ مواساة یعنی احسان و نفع رسانی، موالات تو کسی حال میں جائز نہیں، اور مدرات تین حالتوں میں درست ہے۔ ایک دفع ضرر کے واسطے دوسرے اس کافر کی مصلحت دینی یعنی توقع ہدایت کے واسطے، تیسرے اکرام ضیف کے لئے، اور اپنی مصلحت و منفعت مال و جان کے لئے درست نہیں، اور مواسات کا حکم یہ ہے کہ اہل حرب کے ساتھ ناجائز ہے اور غیر اہل حرب کے ساتھ جائز۔
(بیان القرآن سورۃ نمبر 3 آل عمران آیت نمبر 28)
کم و بیش یہی تفصیلات، ابوبکر جصاص، مولنا ادریس صاحب کاندھلوی، مفتی شفیع صاحب عثمانی، ڈاکٹر حمیدالدین فراہی صاحب اور ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے بھی ذکر کی ہیں!
ذکرکردہ آیات اور ان کی تفاسیر کی روشنی میں یہ بات بالکل صاف ہوجاتی ہے کہ غیر مسلم کے ساتھ خواہ وہ پڑوسی، ماں، باپ، اولاد کوئی بھی ہو، موالات اور قلبی دوستی، کسی صورت جائز نہیں، ہاں غیر حربی کافر کے ساتھ ہمدردی و بہی خواہی اور خاص مواقع پر نفع رسانی کی اجازت ہے، اور اگر غیر حربی کافر کے ساتھ کوئی قرابت کا رشتہ ہے تو اس کی بنیاد پر موالات کے بغیر امداد و داد رسی کی مزید وسعت موجود ہے!
(عبد ضعیف کی نظر میں ہندوستان کے اندر ہندوتوا نظریات کے حامل ہندو راشٹر کے لیے کوشاں غیر مسلم، اور ہندوستان کی جمہوریت پر یقین رکھنے والے سیکولر غیر مسلمین کے ساتھ، الگ الگ قسم کے کفار کے سلسلے میں وارد شدہ احکامات کے تناظر میں برتاؤ کرسکتے ہیں! والله اعلم باالصواب)
جب کہ ایک مسلمان سے تعلقات کی نوعیت کیا ہونی چاہیے وہ ابتدا میں بیان کی گئیں آیات و احادیث سے بالکل واضح طور پر عیاں ہے، کہ خواہ دنیا کہ کسی بھی کونے میں موجود مسلمان ہو اس کے ساتھ آپ کے اندر قلبی مودت و ولاء اور دلی ہمدردی و معاطفت کا ہونا ضروری ہے وہ بھی اس درجے کہ پوری امت مسلمہ اعضاء جسم کی مانند متحد اور باہم پیوستہ ہوجائے!
اسلام کی اسی بنیادی تعلیم اور اساسی فکر کو منہدم کرنے کے لیے طاغوتانِ وقت کی کوششوں اور اپنوں کی کوتاہیوں سے عالمی خلافت کا سقوط ہوا اور مسلم امت سیکڑوں سرحدوں میں تقسیم ہوگئی بعد ازاں اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوے مذہب دشمن حلقوں کی جانب سے نہایت زور و شور کے ساتھ نیشنلزم کے نظریہ کو دنیا بھر میں فروغ دیا گیا جس کی تشریح یہ ہے کہ "ہمدردی، دوستی، تعلق اور وفاداری کی بنیاد صرف علاقائیت اور سرحدیں ہیں اس کے علاوہ تمام وابستگیاں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں" تا کہ اسلام کی اس اہم اور بنیادی فکر کو تہ و بالا کرکے امت واحدہ کا جو تصور مذہب حقہ نے دیا ہے اس کو مٹادیا جائے اور ملت اسلامیہ کے اندر مانندِ جسم ہونے کے سبب جو طاقت و توانائی پیدا ہوتی ہے اس سے محروم کردیا جائے!
دور حاضر گواہ ہے کہ دشمن اپنی اس کوشش میں بڑی حد تک کامیاب ہوگیا ہے، حالیہ ہمہ گیر تنزل پذیری اور انحطاط کے جہاں بہت سے اسباب و علل ہیں وہیں بہتیری مصیبتوں اور المیوں کا اہم سبب مسلم قومیت کو بھلا کر وطنیت و سرحدیت کے بت کو دل میں بسا لینا ہے!
اسی کی طرف شاعر اسلام علامہ اقبال نے دہائیوں قبل اشارہ کردیا تھا!
*ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے..*
*جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے..*
ہم میں سے ہر ذی شعور شخص کی ذمہ داری ہے کہ قوم مسلم کو یہ بسرا ہوا سبق پھر سے یاد دلائے اور امت واحدہ کے تصور کو بیدار کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے!
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کی خدمات اور بالادستی کے لیے قبول فرمائے! آمین!!

*سید احمد*

*۵ اپریل کی رات کو وزیر اعظم کی طرف سے شرک کی دعوت قبول نہ کریں!*نو راتری ہندومت کا ایک مشہور تہوار ہے، نو راتری کا مطلب...
03/04/2020

*۵ اپریل کی رات کو وزیر اعظم کی طرف سے شرک کی دعوت قبول نہ کریں!*

نو راتری ہندومت کا ایک مشہور تہوار ہے، نو راتری کا مطلب ہے نو راتیں، ان نو راتوں اور دس دنوں کے درمیان طاقت کی دیوی (مہا لکشمی، سرسوتی، درگا) کے نو روپو کی پوجا کی جاتی ہے، دسوا دن دشہرہ کے نام سے مشہور ہے،
نو راتری سال میں چار بار آتی ہے. یعنی چار مہینوں میں ۱- پوس ۲- چیتر، ۳- آساڑھ ۴- اشون

*دوسرے مہینے یعنی چیتر میں ہندؤون کے فرضی دیوتا "رام" کی پیدائش (رام نومی) ہوئی ہے،*

چیتر کا پہلا دن ۲۵ مارچ سے شروع ہوگیا تھا، اس حساب سے ۹ واں دن ۲ اپریل کو تھا. اس دن رام نومی منائی جانی تھی، جو کہ کورونا کے ڈر کی وجہ سے دھوم دھام سے نہیں منائی گئی، لہذا ہندو احیا پرستون کو اس بات سے تکلیف ہوئی اور انہوں نے اس کا توڑ نکال کر اس غلطی کی اصلاح کرلی ہے، لہذا مودی نے ۵ تاریخ کی رات نو بجے نو منٹ تک دیا جلانے کا مشورہ/حکم دیا ہے!

*اب نو منٹ دیا جلانے کی حقیقت یہ ہے کہ ان کے دھرم میں نو کی گنتی کی بڑی اہمیت ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ نو دنوں میں طاقت کی دیوی کے نو روپوں کی پوجا ہوتی ہے وہیں ان کا فرضی بھگوان بھی نویں دن پیدا ہوا تھا، اس حساب سے یہ نو منٹ بھی ان کے دھرم کا حصہ ہے،*

ہر مہینے مین دو ترتیب ہوتی ہے ۱۵ دن شُکل کی ترتیب اور ۱۵ دن کرشن آسٹمی کے. پہلی ترتیب یعنی شکل میں ۱۱ تاریخ کو ورت رکھنے سے ہندو مت کے سب سے بڑے گناہ (براہمن کے قتل) کی معافی مل جاتی ہے.

*اس حساب سے رام نومی کا دھوم دھام سے نہ منایا جانا بھی ایک گناہ ہے جس کے لئے کل یعنی ۴ اپریل کو یہ لوگ ورت رکھنے والے ہین (جیسا کہ اندازہ ہے) باقی تلاش کرنے کے باوجود ۱۲ ویں تاریخ (یعنی ۵ اپریل) کے پوجا کا کوئی سراغ نہ ملا، لیکن اتنا تو یقین کے ساتھ کہا جاسکتا کہ اس جشن چراغاں میں بھی مذہبی رنگ ہے، کیونکہ پرکاش کے ذریعہ کیڑے مکوڑے اور جواڑں (virus) کے مرنے کا عقیدہ ہندومت میں بہت پہلے سے ہے!*

لہذا اس طرح کے کسی بھی فریب میں آکر شرک کرنے سے خود کو اور اپنے اہل و عیال اور تمام مسلمانوں کو بچانا ہر مسلمان پر فرض ہے، لہذا ۵ تاریخ کو یہ عمل ہو اس سے پہلے پہلے ہم اپنے تمام جاننے والوں کو اس سے آگاہ کردینا چاھئے!

*ابن تاج خان (حکیم ایکس ٹو)*

21/03/2020
نقل و چسپاںمدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں؟۔۔۔۔۔۔(ادتیہ مینن انڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان محقق اور صحافی ہیں۔ ب...
09/03/2020

نقل و چسپاں

مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں؟
۔۔۔۔۔۔
(ادتیہ مینن انڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان محقق اور صحافی ہیں۔ بھارتی سیاست پر ان کے تجزیات اور ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیاتی رپورٹس معروف ویب سائٹ the quintپر شایع ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جمعیت علمائے ہند قائدین کے آر ایس ایس سے رابطوں اور مودی سرکار سے متعلق ان کے بیانات پر ادتیہ مینن کا ایک مضمون شایع ہوا۔ مضمون نگار نے اس کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے، افادہ عام کے لیے ترجمہ پیش ہے)
مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کی زیر قیادت جمعیت علمائے ہند کے دونوں دھڑوں کی جانب سے حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور مودی سرکار سے متعلق مصالحانہ بیانات سامنے آئے ۔
مولانا ارشد مدنی نے حال ہی میں آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک(سربراہ) موہن بھاگوت سے ملاقات کی اور انھیں سراہا۔ ’’دی کوئنٹ‘‘ سے اس ملاقات کے بعد ہونے والی گفتگو کے چند اقتباسات حسب ذیل ہیں:

۔۔۔ ’’بھاگوت جی کی تنظیم (آر ایس ایس) انتہائی منظم ہے۔ میری رائے میں بھارت میں کوئی اور اس جیسا نہیں۔‘‘
۔۔۔’’آرایس ایس اپنے ہندو راشٹر کے تصور سے پیچھے ہٹ سکتی ہے‘‘
۔۔۔۔ ’’اگر آر ایس ایس ہم سے نرمی برتتی ہے تو ہم ایسا کیوں نہ کریں۔‘‘

مولانا محمود مدنی نے بھی آر ایس ایس کے حق میں کئی بیانات دیے اور کشمیر اور نشینل رجسٹر آف سٹیزن شپ(این آر سی) جیسے امور پر مودی سرکار کی حمایت کی۔ ان کے چند بیانات ملاحظہ کیجیے:
۔۔۔’’میرا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں آر ایس ایس نے نرم روی یا آزاد خیالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ایک سنہرا موقع ہے میل جول کی حوصلہ ا فزائی ہونی چاہیے۔‘‘
۔۔۔۔’’این آر سی کی جانچ پڑتال پورے بھارت میں ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہاں کتنے گھس پیٹھیے ہیں‘‘
۔۔۔ کشمیر ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا۔ ہم ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
ان دونوں علما کے بیانات کو مختلف انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بعض کے خیال میں یہ بیانات مدنی صاحبان کے مابین جمیعت کی قیادت کے لیے جاری کھینچ تان کا نتیجہ ہے اور اب ان میں سرکاری سرپرستی حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ دونوں ہی کاتعلق جمیعت کے بانی محمود الحسن اور اس کے سابق صدر حسین احمد مدنی کے خاندان سے ہے۔
سینٹر فور دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز(سی ایس ڈی ایس) کے ہلال احمد کا کہنا ہے کہ جمیعت مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور وہ اس پر کشمیر اور این آر سی کو فرقہ ورانہ رنگ دینے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔
مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم(ہیٹ کرائمز) کو دستاویزی شکل دینے والے محمد آصف خان کے مطابق مدنی صاحبان ہندوتوا کے بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
تاہم مدنی صاحبان کے اس اقدام کو بڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور بالخصوص یہ دو پہلو بہت اہم ہیں۔ پہلے اسے جمیعت کی نظر سے دیکھنا چاہیے اور دوسرا اسے بھارت میں مسلمانوں کو درپیشن بڑے چیلنجز کے سیاق و سباق میں دیکھا جاسکتا ہے۔

جمیعت کا مؤقف کیا ہے:
جمیعت علمائے ہند اتر پردیش کے علاقے دیوبند میں قائم دارالعلوم کے علما کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اگرچہ دیوبندی ہندوستانی مسلمانوں میں اقلیت میں ہیں، اور بعض اندازوں کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں کی کل آبادی میں سے تقریبا پندرہ سے بیس فی صد اپنی شناخت بطور دیوبندی کرواتے ہیں، لیکن بریلویوں کے مقابلے میں ان میں زیادہ مرکزیت پائی جاتی ہے۔
اپنی اسی مرکزیت کی وجہ سے جمیعت بھارت میں مساجد کے سب سے بڑے نیٹ ورک پر کنٹرول رکھتی ہے۔ تاریخ طور پر مسلمانوں کی دیگر تنظیموں کے مقابلے میں جمیعت سیاسی جماعتوں اور حکومت میں زیادہ رسوخ رکھتی ہے۔
متحدہ قومیت:
جمیعت کی سیاسی فکر کی بنیاد متحدہ قومیت کے تصور پر ہے جو مولانا حسین احمد مدنی نے ۱۹۳۸میں اپنی کتاب ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ میں پیش کیا تھا۔
متحدہ قومیت کا تصور اس عقیدے کی مخالفت میں پیش کیا گیا تھا جس کے مطابق ہندو اور مسلمانوں کو دو الگ قومیتیں قرار دیا جاتا تھا اور مسلم لیگ کے محمد علی جناح جس پر یقین رکھتے تھے۔
متحدہ قومیت کے مطابق مختلف مذاہب کو مختلف اقوام کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس کے بجائے قومیت کا تعلق زمینی حدود سے ہے جس میں مسلم و غیر مسلم ایک قوم کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم کے مابین رنگ، نسل زبان یا ثقافت جیسے مشترکات ہوسکتے ہیں۔
مدینہ کی مثال:
حسین احمد مدنی نے مشترکہ قومیت کی سند کے طور پر پیغمبر کے دور کے مدینہ کی نظیر پیش کی۔ ان کے مطابق ، میثاق مدینہ کے تحت یہود اور مسلمان قومیت کا یکساں احساس رکھتے تھے۔
میثاق مدینہ کی طرح ، جمیعت نے آزادی کے بعد یہ خیال پیش کیا کہ اب ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین ہندوستان کو ایک سیکیولر ریاست بنانے کا معاہدہ طے پاچکا ہے۔ بھارت کا آئین اس معاہدے کی نمائندگی کرتا ہے اور اس معاہدے میں شامل ہونے کی وجہ سے ہر مسلمان پر آئین کی پاسداری لازم ہے۔
جمیعت یقین رکھتی تھی کہ مسلمانوں کو عبادات اور عائلی و مخصوص قوانین کی پیروی کے لیے مسلم لیگ کے پاکستان کے بجائے کانگریس کے بھارت میں زیادہ سازگار ماحول میسر آئے گا۔ جمیعت کے قائدین مسلم لیگ کی قیادت کو بے عمل مسلمان سمجھتے تھے اور انھیں مسلم قوانین سے متعلق کانگریس سے وسعت ِقلبی کی توقع تھی۔
جمیعت کے متحدہ قومیت کے تصور پر مسلمانوں کا مکمل اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ دیوبند کے علما میں مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس تصور اور اس کی مدینہ سے تطبیق پر اعتراض کیا اور اسے نصوص کے خلاف قرار دیا۔ بعدازاں شبیر احمد عثمانی نے علیحدہ ہوکر جمیعت علمائے اسلام قائم کرلی اور قیام پاکستان کی حمایت کی۔ حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے تصور پر علامہ اقبال اور بانی جماعت اسلامی سید مودودی جیسی شخصیات نے بھی تنقید کی۔
مدنی صاحبان کا ’’عملی‘‘ نقطہ نظر :
مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کے آر ایس ایس کے ساتھ رابطے ایک اعتبار سے حسین احمد مدنی کے پیش کردہ متحدہ قومیت کے تصور ہی کا پھیلاؤ ہے۔ انہوں نے اس تصور کی خلاف ورزی بھی کی ہے جس پر آگے چل کر بحث کی جائے گی۔
دونوں صاحبان یہ نتیجہ اخذ کرنےمیں حق بجانب ہیں کہ جب مولانا حسین احمد مدنی نے متحدہ قومیت کا تصور پیش کیا تو اس وقت کانگریس ہندووں کی نمائندہ تھی ، اور آج یہ نمائندگی بی جے پی کے پاس ہے۔ اس لیے ان کے تصور جہاں بینی کے مطابق ہندووں سے کسی بھی قسم کے مکالمے کے لیے وزیر اعظم مودی اور سربراہ آرایس ایس موہن بھاگوت سے بات کرنا ہوگی۔
لوک سبھا کے انتخابات میں کام یابی کے بعد مودی کے نام محمود مدنی کے ستایشی خط اور ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ملاقات کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ جمیعت کے نزدیک کانگریس اور سماج وادی پارٹی جیسی سیکیولر جماعتوں کے ذریعے ہندووں سے بات کرنا بے سود ہوچکا ہے اور اس کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس ہی موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ یہ بلا شبہہ ایک معروضی حقیقت ہے اور اس کا ادراک کرنے پر مدنی صاحبان کو مورد الزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔
گومگو کا شکارمسلمان:
مدنی صاحبان کا بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب جھکاؤ دراصل مسلمانوں کی اس گومگو کی کیفیت کا نتجہ ہے جس کی بنیاد یہ سوال ہے کہ ہندووں کی اکثریتی مطلق العنانیت میں اپنی بقا کیسے ممکن بنائی جائے۔
سادہ انداز میں کہا جائے تو آزادی کے بعد ہی سے بھارتی مسلمان سمجھتے تھے کہ ’’سیکیولر ہندو‘‘ کے ذریعے ہی ’’فرقہ پرست ہندو‘‘ کو روکا جاسکتا ہے۔ سیاسی میدان میں اس رائے کا اظہار اس طرح ہوا کہ مسلمانوں نے کانگریس، جنتا دَل اور اس سے ٹوٹنے والی بی ایس پی ، دائین بازو کی جماعتوں جیسی سیکیولر فکررکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو ’’مسلمان‘‘ جماعتوں پر ترجیح دی۔
ہندو ووٹرکی اکثریت مودی کے پیچھے چل پڑی اور بی جے پی نے ان سیکیولر جماعتوں کو پچھاڑ دیا۔ اب مسلمان اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کررہے ہیں۔
مسلمانوں میں کئی حلقوں کا خیال ہے کہ بند گلی سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے روابط بنائے جائیں۔
مدنی صاحبان اس فکر میں تنہا نہیں۔ مسلم اشرافیہ میں سابق مرکزی وزیر عارف محمود خان، کاروباری شخصیت ظفر سریشوالا، اور ماہر تعلیم فیروز بخت احمد اور ان جیسے دوسرے مسلسل کہتے آ رہے ہیں کہ مسلمان اب بی جے پی کو اچھوت سمجھنا چھوڑ دیں۔ بی جے پی بھی خان کو گورنر اور فیروز احمد اور سریشوالا کو مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کاچانسلر بنا کر واضح اشارہ دے چکی ہے کہ اسے کیسے مسلمان درکار ہیں۔
عام خیال یہی ہے کہ (بی جے پی کی )حمایت ایشوز کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
ماہرقانون اور نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ(نالسر) کے وائس چانسلر فیضان مصطفی نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا کہ ریزرویشن پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے خیالات سبھی کو سننے چاہییں۔
آرٹیکل ۳۷۰کے خاتمے کا وسیع پیمانے پر متعدد مسلمانوں نے خیر مقدم کیا،کہنہ مشق صحافی شاہد صدیقی سے لے کر سوشل میڈیا پر حلقہ اثر رکھنے والے تحسین پوناوالا اور زینب سکندر بھی حکومتی اقدامات کو سراہنے والوں میں شامل ہیں۔ مدنیوں کی طرح یہ حلقے بھارت کے موجودہ حقائق(جس سے مراد بی جے پی اور آر ایس ایس کی بالا دستی ہے) کو عملیت کی نظر سے دیکھنے کے قائل ہیں۔
تاہم یہ مکمل طور پر عملی نکتہ نظر نہیں۔
مدنی صاحبان سے کہاں چوک ہوئی:
باوجو یہ کہ مدنی صاحبان اور مسلم اشرافیہ کے چند لوگ بی جے پی اور آر ایس ایس کو ’’مائل‘‘ کرنے اور مخصوص معاملات میں ان کی حمایت کرنے کی ڈگر پر ہیں ، ان میں سے مؤخر الذکر نے مسلمانوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
مدنی صاحبان متحدہ قومیت کے تصور سے اس لیے منحرف ہوتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے یہ حقیقت فراموش کردی ہے کہ سیکیولر ریاست کے قیام کا معاہدہ دو طرفہ تھا اور صرف مسلمان ہی اس کے پابندنہیں تھے۔
بی جے پی اور ہندوتوا نے باضابطہ طور پر بھارت کو ہندو راشٹر قرار نہیں دیا تاہم ان کے متعدد فیصلوں سے بھارتی ریاست کی سیکیولر حیثیت کمزورپڑ رہی ہے اور یہ فیصلے بھارت کے اپنی اقلیتوں سے کیے گئے عہد کے بھی خلاف ہیں۔ مثال کے طور پر:
۔۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں گزشتہ چند برسوں میں اضافہ ہوا اور بی جے پی کی جانب سے انھیں روکنے کے لیے کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس بی جے پی کے لیڈروں نے جھاڑ کھنڈ میں علیم الدین انصاری کے ہجومی قتل میں ملوث افراد کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مغربی اتر پردیش میں محمد اخلاق کے قاتلوں کی عزت افزائی کی۔
۔۔شہریت کے قوانین میں ترمیم کے لیے متعارف کردہ بل میں پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان جیسے مسلم اکثریتی ملکوں کے غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ایک امتیازی قانون ہے جس میں مسلمانوں کو بھارتی شہریت کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔
۔۔۔ گئو رکھشا پر بی جے پی اور آر ایس ایس کا بڑھتا ہوا اصرار نہ صرف ہندو عقائد کی بالادستی کے لیے کیا جارہا ہے بلکہ یہ دیگر لوگوں کے کھانے پینے کے انتخاب کی آزادی پر بھی قدغن ہے۔ گئو رکھشا اب اس حد تک پہنچ چکی ہے جہاں ہندووں کی خواہشات پر قانون کی حکمرانی کو قربان کردیا جاتا ہے۔
۔۔۔ عدالت کی جانب سے منسوخی کے باوجود مسلمانوں میں رائج ایک مجلس کی تین طلاق کو جرم قرار دیا گیا۔
۔۔۔ بی جے پی نے انتخابات ممیں اُس پرگیا ٹھاکر کو ٹکٹ دیا جس پر میلاگاؤں دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے، اس واقعے میں متعدد مسلمان جان سے گئے تھے۔ پرگیا ٹھاکر مہاتما گاندھی کے قاتل ،نتھورام گوڈسے کی تعریف و تحسین بھی کرچکی ہیں۔
۔۔۔ آرٹیکل ۳۷۰کی تنسیخ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے نظریاتی اہداف کے لیے آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ آئین ریاست ہند کے جمیعت کے ساتھ عہد کا مظہر ہے ، اس میں دخل اندازی پر تشویش ہونی چاہیے تھی۔
ان مثالوں سے یہ تو واضح ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سیکیولرزم کے تحفظ کے لیے فکر مند نہیں۔ ابھی تو ہم نے بی جے پی کے قائدین کے ان بیانات پر بات شروع بھی نہیں کہیں جن میں وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر اکساتے اور ملک کو ہندو راشٹربنانے کے دعوے کرتے ہیں۔ اس کے بعد یکساں شہری قوانین اگلا قدم ہوسکتے ہیں، جو نجی زندگی سے متعلق ضابطوں کی آزادی، جمیعت کے نزدیک جس کی بہت قدر ہے، کے برخلاف ہوں گے۔
آر ایس ایس کو خوش کرنے اور ہندوستان میں اکثریت کی مطلق العنانیت کی راہ ہموار کرنے کے بجائے جمیعت اور مسلم اشرافیہ کو سیکیولرزم اور متحدہ قومیت کے تحفظ کے لیے حکومت کو جوابدہ بنانا چاہیے۔

(ترجمہ #رانامحمدآصف)

مضمون کا لنک :

https://www.thequint.com/news/politics/arshad-mahmood-madani-jamiat-mohan-bhagwat-narendra-modi-article-370-muslims

Why Mahmood Madani & Arshad Madani’s overtures to RSS are result of Muslims’ dilemma under Narendra Modi’s rule.

07/03/2020

کھول آنکھ (١)
--------------------------
سلطنت آصفیہ کا دورِ عروج اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا،شاعر،ادیب،صوفی و متکلم اس جانب کھنچے چلے آرہے تھے،اس کی شان و شوکت کی کہانیاں انگریز پرنسس کی نجی محفلوں میں سنائی جاتی تھیں،وہاں کسے گمان تھا کہ ایک صبح اس حال میں سورج طلوع ہوگا کہ ہم پر غلامی کی تلوار لٹک رہی ہوگی؛چنانچہ انہی پرشکوہ ایام کے دوران ایک قیافہ شناس وزیر نے "نظام " کو مشورہ دیا کہ یہاں کے مضافات میں مسلمانوں کی آبادیاں کم ہیں؛لہذا بہت ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے؛اس لئے دیگر علاقوں سے مسلمانوں کو لاکر یہاں بسایا جاۓ؛لیکن افسوس کہ ان کے مشورہ کو ذرہ برابر اہمیت نہ دی گئی،اور کچھ دنوں بعد ان وزیر صاحب کو کسی بنا پر دربار سے بے دخل کر دیا گیا۔۔"ماہر صاحب" نے لکھا ہے کہ وہ وزیر جب حیدر اباد سے بذریعہ رکشہ روانہ ہوا تو کہہ رہا تھا کہ "میں یہاں تڑپتی ہوئی لاشوں کو دیکھ رہا ہوں،جلے اور لٹے ہوۓ مکانات مجھے نظر آرہے ہیں"۔
کچھ سالوں کے بعد سلطنت آصفیہ زوال پذیر ہوئی اور وہاں ظلم و بربریت کے وہ پہاڑ توڑے گئے کہ جسے سن کر زمیں لرز جاۓ،فلک اشک بہانے لگے۔۔
بعینہ ویسی ہی کہانی اور صورت حال سے آج ہم ہندوستانی مسلمان نبرد آزما ہیں،دور رس نگاہیں خطرات کا ادراک کرکے جب ان سے لوگوں کو آگاہ کرتی ہیں تو کچھ مقدس لوگ ان کی ہاں میں ہاں ملانے کو اپنے لئے باعث شرم مانتے ہیں، اپنے اپنے مفادات کی خاطر وہ اتنی دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ سن کر دماغ اپنی کس مپرسی پر ماتم کرنے لگے کہ ہاۓ میں کس واہیات ماحول میں پھنس گیا۔۔۔۔

عبادہ حبیب

*کیا مسلمانوں سے اللہ ناراض ہے*آج تک تاریخ میں ایسی نظیر نہیں ملتی کہ کبھی اک منٹ کیلئے بھی طواف رکا ہو لیکن آج کرونا وا...
05/03/2020

*کیا مسلمانوں سے اللہ ناراض ہے*
آج تک تاریخ میں ایسی نظیر نہیں ملتی کہ کبھی اک منٹ کیلئے بھی طواف رکا ہو لیکن آج کرونا وائرس کے سبب عمرہ بالکل بند کر دیا گیا ہے صرف باہر سے آنے والوں پر پابندی عائد نہیں کی گئی یہاں تک کہ مقامی لوگوں کو بھی عمرہ کرنے سے محروم کر دیا گیا آج ویڈیو اور فوٹو کی شکل میں کچھ مناظر نظر سے گزرے بے ساختہ آنکھیں ڈبڈبا گئیں خانۂِ کعبہ جہاں بمشکل قدم رکھنے کی جگہ ملتی تھی آج ویران پڑا ہے دور تک کوئی آدم زاد نظر نہیں آرہا ہے صحنِ حرم بالکل خالی ہے کیا مسلمانوں سے اللہ اس قدر ناراض ہو گیا ہے کہ طواف کی بھی توفیق چھین لیا مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنا محاسبہ کریں اپنے اعمال درست کریں اپنے کھوئے ہوئے وقار کو واپس لائیں اللہ کی بارگاہ میں اپنی لغزشوں پر نادم ہوں اور کثرت سے استغفار کریں ورنہ وہ دن دور نہیں کہ جب سجدوں کی بھی توفیق چھن جائے گی پچھلی قومیں اس بات کی زندہ مثال ہیں ففرو الی اللہ

01/03/2020

"قرار تو بندر کی فطرت میں نہیں"
::::::::::::::::::::::::::::::::::::

دیکھئے دیسی لبرلز وغیرہ سے تو میری چھیڑخانی بھی چلتی ہے اور کھری کھری بھی۔ اور یہ چلتی رہے گی۔ آج میں ان سے نہیں آپ سے بات کرنے لگا ہوں۔ اور اس کے باوجود کرنے لگا ہوں کہ بدتری اور ذلت میں اگر آپ کا تقابل ایک عام دیسی لبرل سے کیا جائے تو وہ معزز شہری اور آپ کسی خاکروب کے مقام پر بھی نظر نہیں آتے۔ میں آپ کو آئینہ دکھانے جا رہا ہوں تاکہ آپ یہ جان سکیں کہ داڑھی منڈھانے اور پتلون پہننے سے "بندر" مسٹر و معزز نہیں بن جاتا، وہ بندر کا بندر ہی رہتا ہے۔ آپ میں اور بندر میں فرق یہ ہے کہ اسے چند ٹکے بٹورنے کے لئے "مسٹر جمہورا" کا روپ مداری دیتا ہے جبکہ آپ کو مسٹر جمہورا کا روپ کسی مداری نے نہیں خود آپ نے دیا ہے۔ گویا اس باب میں آپ بندر سے بھی نچلے درجے پر ہیں۔ بندر کو کوئی احساس کمتری نہیں، وہ اپنے بندر ہونے پر مطمئن ہے۔ وہ آپ ہیں جو اپنے مولوی ہونے پر احساس کمتری کا شکار ہوئے۔ کیسے ہوئے یہ اگلی سطور میں دیکھئے۔

جب نائن الیون ہوا تو آپ میں سے کچھ انہی دنوں بلوغ کی عمر کو پہنچے تھے اور کچھ نائن الیون کے ایک دو سال بعد بالغ ہوئے۔ نوعمری کے اس دور میں آپ نے خود کو مدرسے کی درسگاہ میں پایا۔ یہ وہ دن تھے جب امریکہ افغانستان میں فوجی اور پاکستان میں "فکری یلغار" کر چکا تھا۔ سی آئی اے کے ترتیب دئے گئے فکری جارحیت کے منصوبے میں تین چار طے شدہ اہداف تھے۔ یہ فکری جنگ سی آئی اے نے پاکستان کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے مورچوں سے مسلط کر رکھی تھی۔ حسن نثار اور نئے اسلام کے خالقین جیسے کرائے کے ٹٹو صبح شام ٹی وی سکرینوں پر سی آئی اے کی یہ جنگ لڑتے رہے۔ پہلی بات وہ یہ کہتے تھے کہ مسلمانوں کی تاریخ خون آشامی سے بھری ہوئی ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کی جنگوں میں 1400 سال کے دوران جتنے انسان مرے ہیں وہ انہی اہل مغرب کی صرف ایک جنگ، جی ہاں صرف ایک جنگ، یعنی دوسری جنگ عظیم سے کم ہیں۔ تاریخ انسانی کا یہ شرمناک ناک دھبہ صرف صلیبیوں کے ماتھے کا جھومر ہے کہ جب وہ بیت المقدس میں داخل ہوئے تو انہوں نے تمام کے تمام مسلمان شہریوں، جن میں مرد و زن۔ بچے، جوان اور بوڑھے تمام کے تمام شامل تھے، ذبح کر ڈالے۔ اور ان نہتے شہریوں کو بالکل اسی طرح ذبح کیا جس طرح قصائی بکرے کو کرتا ہے۔ مگر حسن نثاروں سے وہ کہلواتے اور لکھواتے یہ رہے کہ مسلمان ایک سفاک قوم ہے اور اس کی تاریخ خون آشامی سے بھری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا اور آپ نے یقین کرلیا۔

دوسری بات وہ یہ کرتے رہے کہ "مسلم وحدت" کا تصور باطل ہے۔ اصل وحدت تو دین براہیمی ہے۔ یعنی مسلمان، یہودی اور عیسائی ایک وحدت ہیں۔ آپ قرآن مجید سے براہ راست متصادم اس بکواس پر بھی یقین کر بیٹھے۔ آپ نے اللہ کی کتاب کے بجائے ان کی اس بکواس کو سینے سے لگا لیا۔ تیسری بات وہ یہ کرتے تھے کہ امام غزالی ایک علم دشمن شخص تھا۔ کیونکہ اس نے فلسفے کو کفر قرار دیا تھا جبکہ فلسفہ علوم کی ماں ہے۔ آپ دو منٹ میں ان کی اس بکواس کو اڑا سکتے تھے۔ آپ کہتے کہ چلو مان لیا امام غزالی فلسفے کو کفر قرار دینے کے سبب علم دشمن ہوئے۔ کیا آپ اپنی تاریخ کے اس سچ کو جھٹلا سکتے ہیں کہ آپ کا رینیسانس امام غزالی کی تہافت الفلاسفہ پر کھڑا ہے ؟ کیا آپ اس حقیقت کو جھٹلا سکتے ہیں رینیسانس کے کے بعد آنے والے آپ کے فلاسفہ یونانی فلسفے کے بجائے غزالی کے چراغ کی روشنی میں آگے بڑھتے نظر آتے ہیں ؟ کیا آپ اس حقیقت کا انکار کر سکتے ہیں کہ یونانی فلسفے سے جان چھڑوانے کے معاملے میں خود آپ کے فلاسفہ غزالی کو اپنا محسن مانتے ہیں ؟

دوسری بات یہ کہ علم کے باب میں آپ مغرب کو ایک چیلنج دے کر دیکھئے۔ ان کا باپ بھی اس چیلنج سے جان چھڑا کر نہیں گزر سکتا۔ چیلنج یہ ہے کہ مغرب اپنے علمی ارتقاء میں مسلم اندلس کو بائی پاس کرکے دکھا دے۔ وہ یہ ثابت کردے ان کا تمامتر علم اپنی ارتقائی تاریخ میں مسلم اندلس سے ماخوذ نہیں ہے۔ یہ اتنا بڑا سچ ہے کہ نیشنل جیوگرافک جیسا چینل بھی آج سے اٹھارہ برس قبل تاریخی طور پر یہ تک ثابت کرچکا ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی اساس اندلس سے ماخوذ علوم اور تجربات ہیں۔ وہ یہ تک ثابت کرچکے ہیں کہ آکسفورڈ کے بانی مسلم اندلس کے برطانوی سٹونٹس تھے۔

تیسری بات وہ یہ کرتے تھے کہ اقبال کا فلسفہ "فکری سرقہ" ہے۔ آپ نے اس پر بھی یقین کرلیا۔ چلو اقبال کا فسلفہ نطشے کا چربہ ہے۔ کیا افغان ملا کے حوالے سے اقبال کے خیالات بھی نطشے کا چربہ ہیں ؟ وہ خیالات جو اتنے ٹھوس ہیں کہ اقبال کی موت کے بعد پیدا ہونے والے افغان ملا بھی اس کی دلیل بن کر سامنے آتے چلے جا رہے ہیں۔ وہی ملا جس کے سامنے کل امریکی وزیر خارجہ سر جھکائے کھڑا تھا۔ کسی سپر طاقت کے لئے تاریخ کا اس سے بے رحم منظر اور کیا ہوسکتا ہے کہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی سپر طاقت کا وزیر خارجہ کل ایک ایسے معاہدے پر دستخط کر رہا تھا جس کی ہر شق کا آغاز ان الفاظ میں ہوتا ہے۔

"امریکہ امارت اسلامی افغانستان کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا بلکہ انہیں طالبان کے نام سے ہی پکارتا ہے"

آپ اس کا مطلب سمجھتے ہیں ؟ میں سمجھاتا ہوں۔ تیسری دنیا کے ممالک میں امریکہ اپنے صدر کا جانا اس کی توہین سمجھتا ہے۔ اگر کبھی صدیوں میں ایک بار چلا جائے تو یوں جاتا ہے جیسے کوئی سیٹھ مہاجرین کے کیمپ میں کمبل بانٹنے جاتا ہے۔ تیسری دنیا کے صدور اور وزرائے اعظم سے امریکہ اپنے وزیر خارجہ کے ذریعے معاملات کرتا ہے۔ یعنی ان ممالک کے سربراہان و سربراہان حکومت کو وہ اپنے وزیر خارجہ کے لیول پر رکھتا ہے۔ اگر تیسری دنیا کے ممالک کے وزیر خارجہ سے بات کرنی ہو تو امریکہ اپنا وزیر خارجہ نہیں بلکہ اسسٹنٹ وزیر خارجہ کو بھیجتا ہے۔ اگر ان ممالک کا صدر یا وزیر اعظم امریکہ چلا جائے تو امریکی صدر ملاقات کے لئے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت دیتا ہے اور انہیں وھائٹ ہاؤس کا وہ روایتی عشائیہ بھی پیش نہیں کرتا جو ذرا بہتر حالت والے ممالک کے سربراہان کو پیش کرنا وہاں کی روایت ہے۔ اور یہ ملاقات ہوتی بھی صرف فوٹو سیشن کے لئے ہے۔

اسی فرعون صفت سپر طاقت کا وہی وزیر خارجہ کل 30 ممالک کی گواہی میں ایک ایسے "افغان ملا" کے حضور کھڑا نظر آیا جسے خود معاہدے میں امریکہ "غیر ریاست" تسلیم کر رہا ہے۔ ذرا ماڈرن پولیٹکل تاریخ میں ڈھونڈ کر دکھائے کہ دنیا کا کونسا وزیر خارجہ ہے جس نے کسی "تنظیم" کے درجہ دوم کے لیڈر کے ساتھ بین الاقوامی معاہدہ سائن کیا ہو ؟ امریکہ اپنے جس وزیر خارجہ کو وزرائے اعظم کے لیول پر رکھتا ہے اسی وزیر خارجہ کو طالبان نے ملا ہیبت اللہ کے لیول پر نہیں بلکہ اس کمانڈر کے لیول پر رکھ کر دکھایا یا نہیں ؟ یہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ ایسا حصہ جس پر آنے والی افغان نسلیں بھی فخر کیا کریں گی۔ اقبال کا پورا فلسفہ چھوڑئے، اس کا صرف افغان ملا والا ایک شعر آج کی تاریخ میں پورے مغربی فلسفے کو نگل گیا ہے۔

فکری یلغار کے ضمن میں حسن نثاروں سے اگلی بکواس وہ یہ کراتے رہے کہ "امت مسلمہ" نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔ وہ بڑے تکبر کے ساتھ پوچھا کرتا تھا کہ کدھر ہے امت مسلمہ ؟ مجھے تو امت مسلمہ نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی۔ اس کا جواب بھی بہت آسان تھا۔ بالکل سامنے تھا مگر آپ تو نابالغ تھے، آپ خاک سمجھتے ؟ کیا اسامہ بن لادن کوئی درانی، قندھاری، غزنوی، کاکڑ، اچکزئی یا یوسفزئی تھا ؟ اپنے اس بے وطن مہمان کے لئے طالبان نے دنیا کی سب سے بڑی سپر طاقت اور اس کے 44 معاون ممالک سے تصادم کیوں مول لیا ؟ یہ ہوتی ہے "امت مسلمہ" وہی امت مسلمہ جو حسن نثار جیسے دلالوں کو نظر نہیں آتی۔

اسی ضمن میں امت مسلمہ کی موجودگی کا ایک تازہ ثبوت دکھاؤں ؟ پچھلے 19 سال کے دوران افغان قضیے میں بھارت کا قومی موقف آپ کے لئے کوئی راز تو نہیں ؟ ہم سب اس سے واقف ہیں۔ بھارت اس باب میں امریکہ کا سب سے بڑا حامی و مددگار رہا ہے۔ اس نے افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ آج وہ مکھن سے بال کی طرح نکال کر باہر پھینک دیا گیا ہے تو بھارت کا انٹیلی جنشیا ماتم کر رہا ہے۔ بھارت کی حکومت سکتے سے دوچار ہے۔ لیکن بھارت کے مسلمان کل کے دوحہ والے مناظر پر جشن منا رہے ہیں۔ وہ بھارت کے قومی موقف کے بجائے افغان طالبان کے ساتھ جذباتی وابستگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ کیوں ؟ کیونکہ سرحدیں بھی "امت مسلمہ" کے وجود کو نہیں مٹاسکیں۔ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ اور وہ "جسد واحد" کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہی جسد واحد جسے امت مسلمہ کہتے ہیں۔ (اس پوسٹ کے پہلے کمنٹ میں ایک سکرین شاٹ دے رہا ہوں۔ جسے امت مسلمہ نظر نہیں آتی وہاں دیکھ لے)

فکری یلغار کے محاذ پر اس تمامتر پروپیگنڈے کا مقصد کیا تھا ؟ مسلمانوں کو انکی تاریخ سے بدظن کرنا اور مایوس کرنا۔ انہیں یہ باور کرانا کہ نہ ان کے پاس کوئی ہیرو ہے اور نہ ہی کوئی علمی سرمایہ فخر۔ تاکہ وہ اپنے وجود پر شرمندہ ہوکر مغربی چکاچوند کے اسیر ہوسکیں، فکری غلام بن سکیں۔ آپ پڑھ مدرسے میں رہے تھے۔ اور اس پروپیگنڈے کا ٹارگٹ بھی تھے۔ نتیجہ یہ کہ درجہ اولی سے دورہ حدیث تک پہنچتے پہنچتے آپ اس یلغار کا ذہنی طور پر شکار ہوگئے۔ چنانچہ آپ نے بندر کی طرح "مسٹر جمہورا" کا گیٹ اپ اختیار کرنے کی ٹھان لی۔ آپ نے ٹوپی اتار کر وہ پھینکی۔ نائی سے کہا میری داڑھی فرنچ کٹ کردو۔ لنڈے میں جاکر جینز کی چار پتلونیں اور آٹھ شرٹس خرید لیں۔ درس نظامی کی ڈگری کی بنیاد پر یونیورسٹی کے کسی چھوٹے موٹے کورس کے لئے اپلائی کرلیا۔ اب آپ ایک ہاتھ میں سیل فون اور دوسرے ہاتھ میں گولڈ لیف کا پیکٹ و لائٹر پکڑ کر وہی حسن نثار والے لنڈے کے خیالات پیش کرتے ہوئے سوچتے ہیں کہ آپ "مقام تکریم" پر فائز ہوچکے ہیں تو یہ آپ کی خوش فہمی ہے۔

آپ احساس کمتری کے مارے وہ مسخرے ہیں جو نہ تو مولوی رہا اور نہ ہی مسٹر بن سکا۔ آپ ایک کنگال و قلاش انسان نما وجود ہیں۔ میں چیلنج دیتا ہوں آپ کو کہ کوئی ایک چیز، جی ہاں ! کوئی ایک چیز بھی آپ کے پاس ایسی نہیں جسے آپ اپنا کہہ سکیں۔ جو اپنے خاندانی و علمی پس منظر پر شرمندہ ہوجائے اس سے بڑا بدبخت بھی کوئی ہوسکتا ہے ؟ آپ میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اپنے اس باپ کو بھی اون نہیں کرتے جس کا وہ خون ہیں۔ آپ پر اعتبار کرنا، آپ پر بھروسہ کرنا، آپ پر یقین کرنا دنیا کی سب سے مہلک غلطی ہوگی۔ آپ سے میر جعفر بہتر تھا جو اپنی شناخت اور حلیے پر شرمندہ نہ تھا۔ فقط لالچی تھا۔ اس نے آپ کی طرح اپنی شناخت نہ مٹائی تھی۔ وہ بندر کی طرح "مسٹر جمہورا" نہیں بنا تھا۔ آپ لالچی بھی ہیں۔ اپنے وجود، تعلیم، خاندان، درسگاہ، لباس حتی کہ خوراک تک پر شرماتے ہیں۔ آپ وہ نفسیاتی مریض ہیں جسے کھجور اور انگور میں سے تحریر یا تقریر کے لئے کوئی ایک بطور موضوع چننے کا کہا جائے تو آپ انگور کا انتخاب کریں گے۔ کیونکہ آپ کو لگتا ہے، کھجور پر بات کرنے سے آدمی دقیانوس اور انگور پر بات کرنے سے "دانشور" لگتا ہے۔

مجھے یہ طویل تحریر اس لئے لکھنی پڑی کیونکہ کل شام سے آپ کھسیانی بلی کی طرح کھمبے نوچ رہے ہیں۔ آپ بار بار سوال اٹھا رہے ہیں کہ لوگ امریکی وزیر خارجہ کے ایک ملا کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر خوش کیوں ہیں ؟ لوگ صلاح الدین ایوبی یا دیگر مسلم فاتحین کے حوالے کیوں دے رہے ہیں ؟ اور آپ کی یہ کیفیت اس لئے ہے کیونکہ آپ نے تو یہ یقین کر رکھا تھا کہ مولوی ہونا اچھوت ہونا ہے اور مسٹر ہونے سے انسان برہمن بن جاتا ہے۔ آپ کے لئے یقین کرنا دشوار ہورہا ہے کہ کسی دستار فضیلت کے آگے امریکی پتلون ہاتھ باندھ کر بھی کھڑی ہوسکتی ہے۔ مگر میری یہ کیفیت بھی کیا عجیب کیفیت ہے کہ یہ طویل تحریر لکھنے کے باوجود میں یہ اطمینان نہیں کرسکتا کہ اب آپ کو قرار آجائے گا۔ کیونکہ قرار تو بندر کی فطرت میں نہیں۔

رعایت اللہ فاروقی!

Address

Deoband
247554

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when محبان دارالعلوم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share