🌟 ماڈل مکتب / اسلامک پلے اسکول
گاؤں کی تعلیمی بنیاد کو دوبارہ مضبوط کرنے کا عملی منصوبہ
(اتحاد ایجوکیشن بورڈ کی سرپرستی میں)
ہمارے معاشرے میں تعلیم کی بنیاد ہمیشہ مکتب سے جڑی رہی ہے۔ کبھی یہی مکتب گاؤں کی پہلی درسگاہ، کردار سازی کا مرکز اور بچوں کی ذہنی نشوونما کی مضبوط بنیاد ہوا کرتے تھے۔ مگر گزرتے وقت کے ساتھ یہ نظام کمزور پڑا، اور خاص طور پر 4 سے 8 سال کی عمر — جو کسی بھی بچے کی تربیت اور تعلیم کا سنہری دور ہوتا ہے — وہ گاؤں کی کمزور تعلیمی فضا میں ضائع ہونے لگا۔
🚫 موجودہ حالت — اصل مسئلہ کیا ہے؟
گاؤں کے بیشتر بچے 8، 10 یا 12 سال کی عمر میں مدرسوں یا ہاسٹل اسکولوں میں داخل ہوتے ہیں، مگر ابتدائی تعلیم میں اتنی کمی رہ چکی ہوتی ہے کہ انہیں ABC، 1–10 اور ابتدائی لکھائی تک دوبارہ سیکھنی پڑتی ہے۔
یوں ان کی زندگی کے چار پانچ قیمتی سال ضائع ہو جاتے ہیں۔
اس خرابی کی اصل وجہ یہ نہیں کہ بچے نالائق ہوتے ہیں، بلکہ نظام کمزور ہے:
سرکاری اسکول کمزور معیار پر چل رہے ہیں۔
زیادہ تر پرائیویٹ اسکول گاؤں میں موجود نہیں، یا انتہائی مہنگے ہیں۔
بچوں کو کم عمر میں دور بھیجنا والدین کے لیے مشکل ہوتا ہے۔
مسجد کے مکاتب میں بنیادی دینی تعلیم تو ہوتی ہے، مگر جدید ابتدائی تعلیم شامل نہ ہونے کے برابر ہے۔
نتیجہ یہ کہ تعلیم کی بنیاد کمزور رہ جاتی ہے، اور مستقبل میں بڑی محنت کے باوجود بچے آگے بڑھ نہیں پاتے۔
---
🌿 حل — “اتحاد ماڈل مکتب / اسلامک پلے اسکول”
وقت کی ضرورت ہے کہ گاؤں میں ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جو بچوں کی ابتدائی تعلیم کو صحیح بنیاد پر دوبارہ زندہ کرے۔
اسی مقصد کے لیے اتحاد ایجوکیشن بورڈ نے “Model Maktab / Islamic Play School” کا جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔
✔ ماڈل مکتب کیا ہے؟
یہ 4 سے 8 سال کے بچوں کے لیے ایک مکمل بنیاد رکھنے والا نظام ہے:
جدید تقاضوں کے مطابق
دینی اخلاقیات اور تربیت کے ساتھ
مضبوط دنیاوی بنیادوں پر
زبان، حساب، لکھائی، اخلاق، شخصیت سازی — سب ایک منظم نصاب کے تحت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری
Madrsa School
مربوط تعلیمی مہم. (نفع اور نقصان)
لمرا اسلامک پبلک اسکول
مدرسہ اور اسکول دونوں تعلیمی نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ایک جگہ اخلاق و کردار کے بجائے فقر و فاقہ اور غربت کو ایک کار خیر سمجھایا جاتا ہے، تو دوسری جگہ مال کی ہوس ، لالچ اور صحیح و غلط کسی بھی طریقے سے مال کا حصول عقلمندی اور سب سے بڑی کامیابی تصور کیا جاتا ہے ۔
مدارس کے نصاب و نظام کے سلسلے میں آج تک مدارس والے بھٹک رہے ہیں ، کب کب کیا پڑھایا جائے کیا نہیں، اسی کو اب تک متعین نہیں کر سکے ہیں، یہ بہت ہی افسوس کا مقام ہے۔ کسی بھی اصلاح کا نتیجہ ایک دوسال میں نظر نہیں آیے گا ، بلکہ ایک پیڑھی جب اس ڈھنگ سے پڑھ کر فارغ ہوگی پھر اس کا فائدہ ونقصان کا پتہ چلے گا۔ جو بچے اپنی نصف یا کچھ کم و بیش تعلیم پوری کر چکے ہیں ان کے لیے وقتی طور پر کوئی رہنماء اصول بنانا الگ بات ہے مگر اسی پر پوری تعلیمی بنیاد کو منحصر کرنا پڑا مشکل ہے۔ اس کے لیے از سرے نو بنیاد سے آغاز کرنے کی ضرورت ہے اور پانچ ، سات سال تک زیادہ توجہ ابتدائی اور پرایمری کو درست کرنے کی ہے۔ اسی کے ساتھ تعلیمی مراحل پر غور کرکے اس کے مطابق عصری تعلیم سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ نہ یہ کہ عصری ثانوی یعنی دسویں ، اور بارھویں پڑھ کر پھر مدرسے میں ثانوی عربی اول دوم سے آغاز کرے (جیساکہ ایک نئی تجویز پیش کی گئی ہے)۔ تو وہ کب تک پڑھتا رہے گا اسی پر کبھی نہیں سوچا۔ کوئی عالم فاضل بنانے کے بعد مدارس کے بچوں کو پھر دسویں بارہویں کرانے کی کوشش میں مصروف ہیں، کیا پڑھے کیوں پڑھے کچھ پتہ نہیں؟ ایک تجویز کے ہر پہلو پر غور کرنا ضروری ہے . اور زمانے کے مطابق ہر چیز کو مناسب طریقے پر رکھنا ضروری ہے، کسی قوم کی مستقبل اس کے تعلیمی نظام پر منحصر ہوتا ہے۔ محمد خالد القاسمی ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Delhi
110044
25/09/2023