07/12/2025
🌟 ماڈل مکتب / اسلامک پلے اسکول
گاؤں کی تعلیمی بنیاد کو دوبارہ مضبوط کرنے کا عملی منصوبہ
(اتحاد ایجوکیشن بورڈ کی سرپرستی میں)
ہمارے معاشرے میں تعلیم کی بنیاد ہمیشہ مکتب سے جڑی رہی ہے۔ کبھی یہی مکتب گاؤں کی پہلی درسگاہ، کردار سازی کا مرکز اور بچوں کی ذہنی نشوونما کی مضبوط بنیاد ہوا کرتے تھے۔ مگر گزرتے وقت کے ساتھ یہ نظام کمزور پڑا، اور خاص طور پر 4 سے 8 سال کی عمر — جو کسی بھی بچے کی تربیت اور تعلیم کا سنہری دور ہوتا ہے — وہ گاؤں کی کمزور تعلیمی فضا میں ضائع ہونے لگا۔
🚫 موجودہ حالت — اصل مسئلہ کیا ہے؟
گاؤں کے بیشتر بچے 8، 10 یا 12 سال کی عمر میں مدرسوں یا ہاسٹل اسکولوں میں داخل ہوتے ہیں، مگر ابتدائی تعلیم میں اتنی کمی رہ چکی ہوتی ہے کہ انہیں ABC، 1–10 اور ابتدائی لکھائی تک دوبارہ سیکھنی پڑتی ہے۔
یوں ان کی زندگی کے چار پانچ قیمتی سال ضائع ہو جاتے ہیں۔
اس خرابی کی اصل وجہ یہ نہیں کہ بچے نالائق ہوتے ہیں، بلکہ نظام کمزور ہے:
سرکاری اسکول کمزور معیار پر چل رہے ہیں۔
زیادہ تر پرائیویٹ اسکول گاؤں میں موجود نہیں، یا انتہائی مہنگے ہیں۔
بچوں کو کم عمر میں دور بھیجنا والدین کے لیے مشکل ہوتا ہے۔
مسجد کے مکاتب میں بنیادی دینی تعلیم تو ہوتی ہے، مگر جدید ابتدائی تعلیم شامل نہ ہونے کے برابر ہے۔
نتیجہ یہ کہ تعلیم کی بنیاد کمزور رہ جاتی ہے، اور مستقبل میں بڑی محنت کے باوجود بچے آگے بڑھ نہیں پاتے۔
---
🌿 حل — “اتحاد ماڈل مکتب / اسلامک پلے اسکول”
وقت کی ضرورت ہے کہ گاؤں میں ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جو بچوں کی ابتدائی تعلیم کو صحیح بنیاد پر دوبارہ زندہ کرے۔
اسی مقصد کے لیے اتحاد ایجوکیشن بورڈ نے “Model Maktab / Islamic Play School” کا جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔
✔ ماڈل مکتب کیا ہے؟
یہ 4 سے 8 سال کے بچوں کے لیے ایک مکمل بنیاد رکھنے والا نظام ہے:
جدید تقاضوں کے مطابق
دینی اخلاقیات اور تربیت کے ساتھ
مضبوط دنیاوی بنیادوں پر
زبان، حساب، لکھائی، اخلاق، شخصیت سازی — سب ایک منظم نصاب کے تحت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری