Farhan Riyazi AM हक और सच

Farhan Riyazi AM  हक और सच

Share

Student, Speaker,Scholar �.
हक और सच आप के साथ आप के सामने।

10/09/2024

*نہایت ہی افسوس ناک خبر*

موصول شدہ اطلاعات کے مطابق وقف ترمیمی بل کے حق میں غیر مسلموں کی جانب سے قریب ایک کروڑ ای میل بھیجے جا چکے ہیں، لیکن مسلمانوں کی جانب سے اس کے خلاف تیس لاکھ بھی نہیں بھیجے گئے _______ وقف ترمیمی بل کے خلاف ای میل بھیجنا دور حاضر میں شرعاً واجب و فرض عين کا درجہ رکھتا ہے، کیونکہ اگر خدانخواستہ یہ بل پاس ہوجاتا ہے تو شعائر اسلام، مساجد، مکاتب، مدارس، خانقاہیں، قبرستان، درگاہیں، نیز دیگر وقف املاک بھی مسلمانوں کے اختیارات سے نکل جائیں گے، بقول علامہ بحر العلوم یہ ہماری موت و حیات اور وجود کا مسئلہ ہے، لہٰذا جن حضرات کو اس سلسلے میں معلومات نہیں ہے وہ معلومات حاصل کریں، جن کو معلوم ہے دیگر افراد کی رہنمائی فرمائیں، آخری تاریخ 13 ستمبر ہے، اس سے پہلے زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس میں شرکت کریں
نوٹ :_ اس تحریر کو صدقہ جاریہ کی نیت سے اپنی علاقی زبان میں منتقل کر کے عام کریں،

*افـسـوس صـد افـسـوس*
ھـنـدسـتان میں مـسـلـمـانـوں کی کل تـعـداد تـقـریـباً 34 کـروڑ ہـونے کے بـاوجـود وقـف تـرمـیـمی کے ســلـسلے میں ابھـی تک صـرف اور صـرف 30,27,374 مـسـلـمانـوں کی رائے پـہـونـچی ہے

کـہـاں ہیں وہ نـوجـوان جـو شـوشـل میڈیا پر گھنٹوں گھنٹوں یونہی گزار دیتے ہیں
کیا انھیں یہ وقف ترمیمی کا مسئلہ نہیں نظر آرہا ہے
کیا انھیں معلوم نہیں کہ وقف ترمیمی بل کےفیصلے میں ان کی رائے کی کتنی سخت ضرورت ہے

اگر وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ رائے دینا صرف مولوی و مُلّا کا کام ہے تو وہ بہت بڑی غلط فہمی کے شکار ہیں

ایک بات جان لیں کہ یہ کام کسی ایک جماعت کا نہیں ہے بلکہ ہر ایک مسلمان پر رائے دینا ضروری ہے

اگر وہ آج اپنی زندہ دلی کا ثـبـوت نہیں دیئے تو عنقریب ان سے ان کی مساجد و مدارس چھین لیۓ جائیں گے

اسی لئے آپ تمام مسلمان بھائیوں سے مودبانہ وعزیزانا التماس ( اپیل )ہے کہ اپنی رائے جلد سے جلد بھجنے کی کوشش کریں

*نوٹ ﴾ یہ رائے بھجنے کا وقت صرف اور صرف 13 ستمبر تک ہے*

*مسلمانوں سیاسی جو ہندو سیاسی جماعتیں ہیں یہ ان کے اوپر اپ بھروسہ مت کریے مہربانی کر کے احتجاج کا سہارا لیں ورنہ انے والے حالات مسلمانوں کے لیے مسلمانوں کی جائیداد کے لیے اپ کو پریشان کیا جائے گا دیکھیے حال ہی میں جو الیکشن ہوئے ہیں چندرا بابو نائڈو جو اندھرا کا چیف منسٹر ہے اس نے دھوکہ دیا مسلمانوں کو بی جے پی کو سپورٹ کیا اور نتیش کمار مسلمانوں کو دھوکہ دیا اس نے بھی بی جے پی کو مدد کیا مسلمانوں اپنی ہوش کے ناخن لیں مسلمانوں جاگ جائیے اپنی انے والی نسل اپنے اپ کو بچا لیجیے اپنی جائیدادوں کو بچا لیجئے اٹھیے احتجاج کا سہارا لیجیے مسلمانوں جاگ جائیے*

*کیپٹن محمد تقی سیڑم ، (سماجی کارکن) , ( آسٹریلیا (پرتھ) )* *Live Email Update...Alhamdulillah!*

_*Kindly Mail 👇*_
https://tinyurl.com/is-no-waqf-amendment

07/09/2024

جتنی زکاۃ وخیرات عصری تعلیم والے طلبہ کے لئے دی جاتی ہے اس کا عشر عشیر بھی دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو نہیں دی جاتی ۔
”زکاۃ فاؤنڈیشن“ اور ”فلاں بیت المال“ اور اس جیسے نہ جانے کتنے غیر دینی ادارے ہیں جہاں بڑی مقدار میں زکاہ وصولی جاتی ہے اور عصری تعلیم والوں کی بھاری بھرکم فیس اور دیگر ضروریات پر صرف کی جاتی ہے۔
بلکہ ایک دینی طالب علم پر سالانہ زکاۃ کی جتنی رقم صرف ہوتی ہے بسا اوقات اس سے کہیں زیادہ رقم صرف ایک ماہ میں ایک عصری طالب علم پر صرف کردی جاتی ہے۔
اس لئے یہ سمجھنا کہ صرف دینی تعلیم حاصل کرنے والے زکاۃ کھاتے ہیں غلط ہے ، اور سچائی یہ ہے کہ ان سے کہیں زیادہ عصری تعلیم حاصل کرنے والے زکاۃ وخیرات کھاتے ہیں۔
ہاں دینی اور عصری دونوں ادارہ میں ایسے کئی طلبہ بھی ہوتے جن پر زکاۃ کی رقم صرف نہیں ہوتی ۔
(کفایت اللہ سنابلی)

07/09/2024

When ever you post anything provide the reference please
جب بھی آپ کبھی کوئی تحریر پوسٹ کریں تو دلیل حوالہ ضرو دیا کریں۔

30/08/2024

مساجد کے وہ ذمہ دار...
اگر کسی مسجد کے لیے امام و مؤذن کی ضرورت ہوتی ہے تو اعلان اس طرح لکھتے ہیں کہ پوری ذمہ داری کو واضح کر دیتے ہیں ہیں جب بات تنخواہ کی آتی ہے تو لکھ دیتے ہیں کہ فلاں نمبر پر رابطہ کیجۓ ۔ ایسا کیوں، کیوں کہ تنخواہ کا معیار تو گھٹیا ہی رہے گا تو اتنی بےعزتی کون جائے گا برداشت کرنے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ تنخواہ کم ہی رہے گی۔
لیکن میں مساجد کے ان منتظمین اور ذمہ داران سے مخاطب ہوں جو علماء اور خطباء کو حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں اور تنخواہ کا معیار اس قدر گھٹیا ہوتا ہے کہ اتنی تنخواہ میں گھریلو اخراجات مہیا کرنا ناممکن سا ہوتا ہے-
مساجد کے ایسے ٹرسٹیان سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ہمارے مدرسوں اور مسجدوں کے بیت الخلاء کی صفائی کرنے آئیں ان کی تنخواہ اس سے کہیں بہتر ہوگی جو وہ اپنے امام کو دیتے ہیں ان شاءاللہ–
یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے اماموں کی عزت نہیں کرتے اور ان کے لیے جو کم تنخواہ کی بات کرتے ہیں۔
آج کل لوگ بڑی ہوشیاری سے کام لیتے ہیں ذمہ داریوں کی پوری دیوار کھڑی کر دیتے ہیں جب تنخواہ کی بات آتی ہے تو وہ درج کرتے ہی نہیں اور کہتے ہیں آپسی گفت و شنید کے بعد.......
اور آج کل ایک فتنہ یہ بھی چلا ہوا ہے کہ امام صاحب فارغ اوقات میں کوئی خارجی کام (جیسے ٹیوشن یا کوئی تجارت ) بھی نہیں کر سکتےہیں _
مسائل تو بہت ہیں لیکن..........

ایک دو زخم نہیں سارا بدن ہے چھلنی
درد بیچارہ پریشاں ہے کہاں سے اٹھے

(از قلم).
فرحان عبد المعبود ریاضی
فہیم الرحمٰن کلیم اللہ سلفی

24/08/2024

عظمت والدین پر بہت تقریریں ہوچکی ہیں
والدین اولاد کے درمیان جو نا انصافی کرتے ہیں اگر اولاد میں سے کوئی مالدار ہے تو اسکی کی طرف ان کا جھکاؤ ہوتا ہے کمزور اولاد کو سب مل کر دباتے ہیں حصہ تقسیم کرنے میں عدل نہیں کرتے اور جب عظمت والدین پر تقریر ہوتی ہے تو آنسو ٹپکاتے ہیں اس پر بھی گفتگو ہونی چاہیے

17/08/2024

🛍️ *پلاسٹک کورس (Plactic Covers)کے استعمال سے بچیں*🚫

*ایک 36 سالہ مرد کو کینسر ہوا تھا جو آخری مرحلے پر تھا۔ اپنی اب تک کی عمر میں انہوں نے کبھی بھی گٹکا، سگریٹ اور پان و شراب کا استعمال نہیں کیا تھا۔ وقت پر کام پر جانا، خاندان کے ساتھ خوش رہنا، اس کا زندگی کا معمول تھا، نہ کوئی بیماری تھی نہ ہی کوئی پریشانی۔*
*صرف 2/3 دن سے پیٹ میں درد ہونے کے سبب ڈاکٹر سے رابطہ کیا اور علاج شروع کیا، لیکن کوئی فائدہ نہ ہونے کے سبب بڑے ڈاکٹر سے ملے۔ وہاں کے ڈاکٹر نے ان کی تمام رپورٹیں نکلوائیں تو پتہ چلا کہ پیٹ کے آنتوں میں کینسر ہوا ہے۔*
*ڈاکٹر کے ذریعے علاج کی شروعات ہوئی، علاج کے دوران پوری جمع پونجی کے ساتھ گھر بار بھی بگ گیا، لیکن نتیجہ کے طور پر ان کی موت ہو گئی۔ ڈاکٹر نے خاندان سے ان کا آگنی سنسکار نہ کر کے، انسانیت کی خدمت کے لئے جسم پر ریسرچ کرنے کے لئے ہسپتال میں عطیہ کرنے کی صلاح دی۔ خاندان میں آپسی مشورے کے بعد جسم کو ہسپتال میں ریسرچ کرنے کے لئے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔*
*ریسرچ کے بعد پتہ چلا کہ پلاسٹک میں گرم کھانا اور پلاسٹک کی بوتل میں پانی پینے سے، اس میں سے نکلنے والے کیمیکل کے سبب انہیں کینسر ہوا تھا۔ تب ڈاکٹر کے ذریعے خاندان اور ساتھیوں سے رابطہ کر کے ان کے کھانے پینے کے بارے میں جانچ کی، تو اس جانچ سے پتہ چلا کہ انہیں چائے پینے کی عادت تھی۔ وہ دن میں پانچ سے چھ کپ چائے پیتے تھے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ جہاں سے چائے پیتے تھے وہاں پلاسٹک کی تھیلی میں چائے آتی تھی اور پلاسٹک کے کپ میں چائے دی جاتی تھی۔*
*اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ پلاسٹک کی تھیلیوں میں دکان سے گرم چائے، گرم سبزی یا دیگر سامان منگواتے ہیں اور وہی کھا لیتے ہیں یا پی لیتے ہیں۔ وہی آہستہ آہستہ آپ کے جسم میں کینسر بناتا ہے۔*
*تب ڈاکٹر نے ان کے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں کا بھی میڈیکل ٹیسٹ کرایا تو پتہ چلا کہ اس کے کئی ساتھیوں کو کینسر کا اثر ہے۔ تب ڈاکٹر نے انہیں کینسر کے علاج کی صلاح دی۔*
*ہم سوچتے ہیں کہ حکومت اتنی خراب چیز جو کہ صحت کے ساتھ ساتھ، ماحول کے لئے بھی خطرناک ہی نہیں مہلک ہے، اس کے بنانے کی اجازت کیسے دے دیتی ہے۔*
*حکومت پلاسٹک کا استعمال نہ کرنے کے پرچار پر بھی کروڑوں روپے خرچ کر کے ہمیں سمجھاتی ہے، لیکن ہم بھی کہاں سمجھتے ہیں۔ ہم خود بھی تو اپنا اور اپنے چاہنے والوں کو موت کی طرف دھکیلنے کا کام بے خوفی سے کر رہے ہیں، نہ اپنی اور نہ ہی خاندان کی ہمیں پرواہ ہے، بس موت کے گلے لگانے کے لئے فیشن کی اندھی دوڑ میں بھاگ رہے ہیں۔*
*چھوٹے بچوں کے ٹفن کے ڈبے پلاسٹک کے نہ دیں*
*لہٰذا آپ سب سے دوبارہ عاجزانہ درخواست ہے کہ پلاسٹک کا استعمال کم سے کم کریں، جہاں تک ہو سکے پلاسٹک کے برتن میں گرم کھانا نہ کھائیں، پلاسٹک کی بوتل میں پانی کا استعمال نہ کریں۔ خاص طور پر گرم چائے یا کافی پلاسٹک کپ میں نہ پئیں۔*

15/08/2024

میں کسی بھی غیر مرد کی محتاج نہیں!!

میرا نام لاریب ہے. کالج میں ایک لڑکے نے مجھ سے اظہار محبت کیا. اسے میں نے بہت سمجھایا لیکن اُسے ذرا اثر نہیں ہوا. وہ کٹر ٹھرکی تھا یا پھر اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ کوشش جاری رکھو، ایک نہ ایک دن مان ہی جائے گی. میں اُس کی باتیں سن کر ہنستی تھی، وہ دل میں خوش ہوتا تھا کہ ہنسی تو پھنسی، پر اُسے یہ کہاں معلوم تھا میری ہنسی کا مطلب ہے کہ ہنسوں تو کبھی نہ پھنسوں.

آج پھر وہ چلا آیا تھا.
اچھا تو تمھارا یہ دعوی ہے کہ تم محبت کرتے ہو مجھ سے، کیا ہوتی ہے محبت؟ کچھ معلوم ہے اس کے بارے میں. جس سے محبت ہو اس کے حقوق کا علم ہے تمھیں. یہ فرائض سرانجام دینے کے قابل ہو تم.
اُس کے چہرے پے حیرانیوں کے سائے لہرانے لگے. اُسے ان گہری باتوں کا علم ہی کہاں تھا. وہ تو بس فلموں، ڈراموں کی آغوش میں جوان ہو کر ہزاروں نوجوانوں کی طرح اپنی فطری ضروریات کے ہاتھوں مجبور ہو کر محبت کا نام اپنی روح میں سمو چکا تھا.
سچ میں جب سے تمھیں دیکھا ہے، میرا چین و سکون لٹ گیا ہے. ہر جگہ تم ہی دکھائی دیتی ہو ،میں سچی محبت کرتا ہوں، پلیز مان جاؤ نا.
کیا مان جاؤں؟ میں نے بے نیازی سے پوچھا.
تم بھی محبت کر لو مجھ سے، بہت خوش رکھوں گا تمھیں، ہر بات مانوں گا.
اچھا میری ہر بات مانو گے.
ہاں! ہر بات مانوں گا، تم نہیں جانتی تمھاری یہ عام سی آنکھیں میرے لیے کتنی خاص ہیں.
لوگوں کو تو محبوبہ کی آنکھیں جھیل جیسی گہری لگتی ہیں، تم انھیں عام کہہ رہے ہو.
آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ بناوٹی باتیں آپ کو پسند نہیں، یہ سب جھوٹی تعریفیں ہوتی ہیں، اس لیے سچ بتا رہا ہوں کہ چاہے یہ آنکھیں عام سی ہیں پر میرے لیے تو خاص ہیں.
خاص کیوں ہیں؟ وجہ بتاؤ.
کیونکہ ان سے ذہانت ٹپکتی ہے، جب آپ کے لب پھول برساتے ہیں تب یہ بھی پورا ساتھ دیتی ہیں، ایسا لگتا جیسے یہ بھی بول رہی ہوں..
اوہ! تو محبت کی پہلی سیڑھی چڑھ ہی گئے ہو تم.
اچھا بتاؤ، میری ہر بات مانو گے؟
ہاں ہر بات..
تو پھر میری محبت اپنے دل سے نکال دو، اگر تم سچی محبت کرتے ہو مجھ سے تو میری یہ بات بھی مانو گے.
اُس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا تھا جسے اندر ہی اندر جذب کرنے کی وہ ناکام کوشش کر رہا تھا.
ٹھیک ہے آئندہ آپ نہیں دیکھو گی مجھے..
یہ کہہ کر وہ خاموشی سے چلا گیا.
اس لیےکہ وہ مجھے یقین دلانا چاہتا تھا کہ واقعی مجھ سے سچی محبت کرتا ہے.
میرے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی. میں نے دل میں سوچا کہ تم مجھے بیوقوف نہیں بنا سکتے.
کافی دن گزر گئے، اُس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی، کوئی کال نہ میسیج.

پھر ایک دن وہ خود ہی میرے پاس چلا آیا.
میں نے تمہاری محبت اپنے دل سے نکال دی ہے. اب تم میرے لیے ایک عام عورت ہو.
لفظ عورت سن کر میں کھلکھلا کر ہنس پڑی..
پتہ میری محبت کیوں نکلی ہے تمہارے دل سے؟ کیونکہ یہ محبت کبھی تھی ہی نہیں، محبت کبھی دل سے نہیں نکلتی بشرطیکہ سچی ہو. محبوب کے ساتھ حقیقی پل تو دور کی بات، کبھی خیالوں میں بھی اس کا ہاتھ تک پکڑنا نصیب نہ ہو، اور نہ ہی وہ شدتوں کو جانتا ہو، پھر بھی دل سے محبت نہیں نکلتی.
وہ شرمندہ سا ہوا.
تمھیں کیا پتہ میں کتنا رویا ہوں؟ کتنی راتیں جاگ کر گزاری ہیں؟ کتنا سوچا ہے؟ پھر میں نے خود کو سمجھایا کہ میں تمہاری بات مانوں گا، فریادی بن کر اب نہیں آؤں گا، اس لیے کہہ رہا ہوں محبت ختم ہو گئی. شادی تو ویسے بھی تمہارے ساتھ نہیں ہو سکتی.
کیوں مجھے خارش ہے؟ میری رگ مزاح پھڑک اٹھی.
پھر ہنستے ہوئے اس نے بتایا کہ ہمارے خاندان والے برادری سے باہر شادی نہیں کرتے.
تو کیا تمھارے خاندان والے برادری سے باہر محبت کر لیتے ہیں؟
وہ چپ رہا، کیا جواب دیتا.

خیر میں تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں، تم بہت اچھی لڑکی ہو، اگر تم میری محبت میں گرفتار ہو جاتیں تو میری نظروں میں اپنی اہمیت کھو دیتیں، اور ہم لڑکے واقعی ایسی لڑکیوں سے محبت تو خوب کرتے ہیں پر شادی نہیں.
اب کے حیران ہونے کی باری میری تھی. میری پلاننگ کامیاب ہوئی تھی. وہ سچ مان رہا تھا.
پر میں اس کی دوسری چال بھی سمجھ گئی. مرد کو بسس سیٹیسفیکشن چاہیے ہوتی ہے، چاہے ذہنی ہو یا جسمانی، جب اُسے یقین ہو گیا کہ میں واقعی ہاتھ آنے والی نہیں تو اُس نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا. وہ میرے ساتھ باتوں سے ذہنی تسکین چاہتا تھا، وقت اچھا گزارنا چاہتا تھا.
اچھا دوستی کر کے کیا کریں گے؟ اچھے دوست کیسے ہوتے ہیں؟ میں نے اس سے پوچھا.
ہم اپنی ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کیا کریں گے، میں آپ کو گفٹ دیا کروں گا، اکھٹے شاپنگ پر جائیں گے، خوب گھومیں پھریں گے، کھابے اڑائیں گے، دکھ سکھ کے ساتھی، بالکل اچھے دوست بنیں گے ہمیشہ ساتھ رہنے والے.
محبت کی جگہ اب دوستی کا لفظ آ گیا تھا مگر ترجیحات اور مقاصد و معاملات وہی تھے.
ایک لڑکا لڑکی کبھی دوست نہیں ہو سکتے، ہاں کلاس فیلو ہو سکتے ہیں، جب سٹڈی ختم ہوئی رابطہ ختم. لیکن دوستی تو وہ ہوتی جو مستقل رہے.
محبت تم نہیں کرتی، دوستی پر تمھیں اعتراض ہے. اچھا منہ بولی بہن بن جاؤ. میں اتنی اچھی لڑکی کھونا نہیں چاہتا.
میں بھی اتنی اچھی لڑکی گنوانا نہیں چاہتی. میں نے دل میں سوچا.

یہ اس کا آخری حربہ تھا محبت اور دوستی میں دال نہ گلی تو منہ بولی بہن..
اچھا بھائی بہن بن کر کیا ہوگا؟ میں نے پوچھا
دونوں ساتھ وقت گزارا کریں گے، اپنی ہر بات بتایا کریں گے، صبح صبح اکٹھے سیر کو جایا کریں گے، جاگنگ کریں گے، ٹینیس کھیلیں گے، بہت خوش رہیں گے دونوں. یہ زندگی بورننگ نہیں لگتی تمھیں جو گزار رہی ہو، تھوڑا سا بدلو تم خود کو. دیکھنا کتنی خوشیاں ملتی ہیں، سچی بھائی بہن والا رشتہ ہوگا، کوئی نقصان نہیں…
اور اس دوران تم بہن لفظ کا سہارا لے کر مجھ سے اپنی ذہنی تسکین حاصل کرتے رہو، نظروں سے ہی میرے چہرے کو چھوتے رہو، ٹینس کھیلتے ہوئے میرے بدن کے اتار چڑھاؤ کو للچائی نگاہوں سے دیکھتے رہو، تمھارا وقت رنگین ہو جائے گا.
میں خاموش نظروں سے کہہ رہی تھی، وہ کن اکھیوں سے دیکھتا ہوا جواب کا منتظر تھا..
سوری میری خوشیاں، کھابے، سیر، جاگنگ، زندگی کے رنگ، ٹویسٹ، قہقہے، دکھ سکھ کسی غیر مرد کے محتاج نہیں.
میں اپنے پاپا کے ساتھ سیر کو جاتی ہوں. باپ کی شفقت بھری گفتگو بہت لطف دیتی ہے. میری ماں میری سب سے اچھی دوست ہے، میرے دکھ سکھ کی ساتھی ہے. میری سکھیاں کھابے اُڑانے میں لاجواب ہیں، اُن کے ساتھ میرا وقت بہت اچھا گزرتا ہے. میرے ٹیچرز میرے رہنما ہیں. اپنے بھائی کے ساتھ میں گھنٹوں باتیں کرتی ہوں، معصوم شرارتیں دو منٹ میں ناراض دو منٹ میں راضی، ایک دوسرے کے بنا ذرا وقت نہیں گزرتا، اس کے پیچھے بائیک پر بیٹھے ہوئے میں آزاد فیل کرتی ہوں، اس کے ساتھ شاپنگ کا جواب نہیں. میں بہت خوش ہوں. ایک نیا رشتہ بنا کر میں ان سب رشتوں کی مٹھاس نہیں کھونا چاہتی..
پتہ نہیں لڑکیوں کی حسین زندگی غیر مردوں سے ہی کیوں جڑی ہوتی ہے؟ خوبصورت خوابوں کے چکر میں عمر بھر کے لیے آنکھیں زخمی کروا لیتی ہیں.

اتنا کہہ کر میں چلی آئی. اس کا ری ایکشن کیسا تھا؟ میں نے دیکھا نہیں، لیکن اسے ایک سبق ضرور مل گیا تھا.
میں نے گھر آ کر سجدہ شکر ادا کیا اور آنکھ اشکبار ہو گئی. میرے اللہ تو مجھےایسے ہی ثابت قدم رکھنا، اس عہد کی پیداوار ہو کر بھی میرے قدم ذرا نہ ڈگمگائیں.
Copied

06/08/2024

ہمارے معاشرے میں ایک نیا اور افسوسناک رجحان جنم لے رہا ہے، جہاں دینی مدارس میں بھی رقص کی ایک نئی صورت اختیار کی جا رہی ہے۔ یہ صورت کچھ اس طرح ہے کہ پس منظر میں کوئی اسلامی نشید چلائی جاتی ہے اور نوجوان لڑکیاں اس کے مطابق جسمانی حرکات کرتی ہیں۔ یہ منظر دیکھنے والے افراد بڑی دلچسپی سے اس تقریب کا حصہ بنتے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بے حیائی کے مظاہرے کو اساتذہ بھی بڑی شوق سے دیکھتے اور جھوم رہے ہوتے ہیں۔ یہ ایک نئی شکل ہے جس میں شیطان شریف لوگوں کے درمیان فتنہ برپا کر رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث ہمیں یاد آتی ہے جس میں آپؐ نے فرمایا: "شیطان انسان کے سامنے گناہ کو مزین کر کے پیش کرتا ہے" (صحیح مسلم: 2814)۔ یہ بے حیائی کے فروغ کی ایک ناپسندیدہ صورت ہے جسے ہمیں فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

لہذا ارباب مدارس سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ 15 اگست یا دیگر پروگراموں میں بچیوں سے رقص نہ کروائیں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت دیں تاکہ ہماری نئی نسل کی فکری اور اخلاقی تربیت درست خطوط پر ہو سکے۔

منور بشیر
متعلم جامعہ ملّیہ اسلامیہ، نئی دہلی

06/08/2024

*مسلم لڑکیاں غیروں کے ساتھ مجرم کون .. ؟*
〰〰〰〰〰〰
از قلم
شیخ مقصودالحسن فیضی حفظہ اللہ
〰〰〰〰〰〰
آج چند سالوں سے آئے دن اخبارات میں پڑھنے اور سننے میں یہ خبریں آرہی ہیں کہ فلاں لڑکی اپنے اہل خانہ کی رضامندی کے بغیر اپنے ایک شناسا کے ساتھ گھر سے نکل گئی بلکہ معاملہ اب تو اس قدر آگے بڑھ گیا ہے کہ مسلمان لڑکیاں اپنے غیر مسلم ساتھی ، عاشق اور دوست کے ساتھ نکل جارہی ہیں ، ابھی چند دن پہلے مسلمانوں کے اجتماعی و دینی معاملات میں دلچسپی رکھنے والے ایک صاحب علم نے اس حقیقت کا انکشاف کیا کہ میرے رہائشی شہر کے قریب ایک صنعتی شہر میں 200 سے زائد مسلمان لڑکیوں نے غیر مسلموں سے شادی کرلی ہے اور اس سےبھی کربناک و افسوسناک خبر یہ کہ حیدرآباد کی ایک اعلی تعلیم یافتہ شکل و صورت کی مالک دولت مند باپ کی 24 سالہ بیٹی ایک موچی ذات کے 40 سالہ ہندو سے عشق و معاشقہ کے بعد شادی کرلیتی ہے اور جب اس شادی کو رسمی شکل دینے کی بات آئی تو اس تقریب میں اس لڑکی کا نام نہاد مسلمان باپ اپنے پچاس سے زائد رشتہ داروں کے ساتھ بڑی گرم جوشی سے شرکت کرتا ہے ، یہ اور اس قسم کی خبریں جو آئے دن اخبارات کی زینت بن رہی ہیں اس امر کی عکاسی کررہی ہیں کہ موجودہ دور میں مسلمان نہ صرف اپنا دین و اخلاق بلکہ اپنا تشخص بھی کھوتے جارہے ہیں ۔

ان خبروں سے مسلمان ، خصوصا نوجوان اور بالاخص دیندار نوجوان گہرے قلق و اضطراب کے شکار نظر آرہے ہیں ، بہت سے قومی غیرت رکھنے والے کالم نویس اخبارات میں اپنے رنج و الم غم وغصہ کا اظہار بھی کررہے ہیں ، کوئی اسے آر ایس ایس کی سازش کا نام دے رہا ہے ، کوئی لڑکی کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے اور کچھ لوگ شادی بیاہ سے متعلق معاشرہ میں پائی جانے والی غیر ضروری رسم و رواج کو بیماری کا اصل سبب بتلا رہا ہے ۔

یہ ساری باتیں اپنی جگہ صحیح و مسلم ہیں لیکن آر ایس ایس کا ایجنٹ ان لڑکیوں تک کیسے پہنچا ، ان لڑکیوں نے ایسا باغیانہ قدم کیوں اٹھایا اور ایسے ظالمانہ رسم و رواج کو معاشرہ نے وجوب کی حیثیت کیوں دی ؟ دانستہ یا نادانستہ سارے لوگ ان وجوہات سے چشم پوشی کرتے نظر آرہے ہیں اور اگر کوئی اس طرف توجہ دیتا بھی ہے تو اپنے مضمون کے بالکل آخر میں اور بڑے دبے الفاظ میں اس کا ذکر کرتے نظر آتا ہے ۔

لہذا ضروری ہے کہ قوم کے غیور و دانشور حضرات اصل سبب کو تلاش کریں ، آر ایس ایس کے بجائے حقیقی مجرم کون ہے اس کی نشاندہی کریں اور لڑکیوں کے ایسے باغیانہ قدم اٹھانے پر کیا شرعی احکام مترتب ہوتے ہیں اسے واضح کریں تاکہ مرض کا صحیح علاج کیا جاسکے بصورت دیگر " لیھلک من عن بینۃ و یحی من حی عن بینۃ " تاکہ جو ہلاک ہو دلیل پر ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ بھی دلیل پر [ حق کو پہچان کر ] زندہ رہے ۔

برائی کا اصل سبب :
میری ناقص معلومات میں اس برائی کا اصل سبب دین کی کمی اور مسلم گھرانوں میں دینی ماحول کا فقدان ہے ، آج ہمارے بچے یہ نہیں جانتے کہ ان کے مسلمان ہونے کا معنی کیا ہے ؟ ہم مسلمان کیوں ہیں ؟ ہم میں اور کافر میں کیا بنیادی اور حقیقی فرق ہے ، انہیں معلوم نہیں ہے کہ ایک مسلمان بشرط اسلام اللہ کا ولی ہوتا ہے اور کافر بحالت کفر اللہ کا ، اللہ کے رسول کا اور مسلمانوں کا دشمن ہے : [ إِنَّ الكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُبِينًا ] {النساء:101} " یقین مانو ! کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں " ۔ [ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الحَقِّ ] {الممتحنة:1} " اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناو، تم تو ان کی طرف دوستی سے پیغام بھیجتے ہو اور وہ اس حق [ قرآن و اسلام ] کے ساتھ جو تمہارے پاس آچکا ہے کفر کرتے ہیں"۔

پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کا ولی اللہ تعالی کے دشمن کو اپنا دوست بنائے اور ایک قرآن و رسول پر ایمان لانے والی عورت اپنے منعم حقیقی اللہ کے دشمن اور خود اپنے دشمن کے ساتھ زندگی گزارنے کا عہد وپیمان کرے ؟ کیا اس سے بھی بڑھ کر کوئی دشمنی ہوسکتی ہے کہ کوئی تمہیں ایک لہلاتے باغ اور آرام و آرائش کی جگہ سے نکال کر دہکتی آگ اور نہ ختم ہونے والی الم و حسرت کی جگہ میں ڈال دے : [ اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آَمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ ]{البقرة:257} " اللہ تبارک و تعالی مومنوں کو ولی و کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیاء شیطان ہیں وہ انہیں روشنی سے [ اسلام سے ] نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں ۔

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا جب بیوہ ہوئیں تو مدینہ منورہ کے ایک رئیس زادے ابو طلحہ شادی کا پیغام بھیجتے ہیں ، اس وقت ام سلیم مسلمان ہوچکی تھیں اور ابو طلحہ ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ، لہذا ام سلیم نے یہ دو ٹوک جواب دے کر ان کے پیغام کو رد کردیا کہ اے ابو طلحہ ! اللہ کی قسم آپ کی وہ حیثیت ہے کہ آپ کا پیغام رد نہ کیا جائے ، لیکن مشکل یہ ہے کہ آپ کافر ہیں اور میں مسلمان عورت ہوں ، اور کسی مسلمان عورت کے لئے مناسب نہیں ہے کہ کسی کافر کے ساتھ شادی کرے
{ مسند احمد ، سنن نسائی }

حالانکہ ابھی تک مسلم و کافر کی شادی کے بطلان کا حکم نازل نہیں ہوا تھا پھر بھی ایک مسلمان عورت کی غیرت اور عزت نفس دیکھئے کہ اپنے کو کسی کافر کی قوامیت اور نگرانی میں دینا گوارا نہیں کیا ۔

اصلی مجرم :
میرے تجزئے کے مطابق لڑکیوں کی اس بے راہ روی کا حقیقی مجرم ان کے باپ ہیں اور ان کی ماوں کو بھی اس جرم میں ۔۔۔ حصہ ملا ہے کیونکہ باپ ماں نے نہ تو اپنے گھر کا ماحول دینی رکھا ، نہ ہی اولاد کو دینی اقدار سکھلایا اور نہ مومن و کافر کا حقیقی فرق بتلایا ، ان کی ساری توجہ اس امر پر مرکوز رہی کہ میری بیٹی اعلی تعلیم حاصل کرلے ، اسے اچھی نوکری مل جائے لیکن اس طرف قطعا توجہ نہ دی کہ ان حالات میں میری بیٹی مسلمان بھی رہ جائے گی کہ نہیں ؟ انہیں یہ فکر تو صبح و شام دامن گیر رہی کہ میری بیٹی ڈاکٹر بن جائے ، انجنیئر بن جائے لیکن مومن و مسلمان بھی بنے اس کے بارے میں شاید کبھی سوچا بھی نہ ہو ، ان کی یہ کوشش ضرور رہی کہ میری بیٹی اچھے نمبرات حاصل کرے اسے اچھا ٹیوٹر ملے لیکن اس بارے میں کبھی بھی نہ سوچا کہ میری بیٹی کا استاذ دین و اخلاق کا بھی مالک ہے کہ نہیں ، اگر بیٹی امتحان میں کم نمبر سے پاس ہوتی ہوگی تو سخت برہمی کا اظہار کیا ہوگا مارنے کی دھمکی دی ہوگی لیکن لڑکی نے نماز میں کوتاہی کی ہوگی تو اسکے عوض ماتھوں پر بل نہ آئے ہوں گے ، ان کی توجہ اس پر تو مرکوز رہی ہوگی کہ میری بچی انگریزی زبان بولنے اور سمجھنے لگے لیکن یہ کبھی نہ سوچا ہوگا کہ اسے قرآن مجید کا صرف ترجمہ ہی پڑھا دیا جائے ، غرض یہ کہ اللہ تعالی کی طرف سے سونپی گئی حقیقی ذمہ داریوں کو وہ بھولے رہے ، انہیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے اوپر اولاد کی کیا ذمہ داری رکھی ہے ۔
[ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالحِجَارَةُ ] {التَّحريم:6} " ایمان والو ! تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں " ۔

نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے جس کسی بندے کو اللہ تعالی رعایا کی ذمہ داری دیتا ہے اور اس کی موت اس حالت میں ہوتی ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ کرنے والا ہے تو اللہ تعالی اس پر جنت حرام کردیتا ہے ۔
{ صحیح بخاری و صحیح مسلم } ۔

( 1 ) ہر ذی ہوش ماں باپ سے سوال ہے کہ دنیا میں اس سے بڑا دھوکہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ باپ اپنی اولاد کو دنیا کی عارضی زندگی میں کام آنے والے امور سے آشنا کرائے اور آخرت کی ابدی زندگی میں کام آنے والے امور کی طرف کوئی توجہ نہ ہو ، اللہ کی قسم اس سے بڑا دھوکہ اور خیانت دنیا میں اور کچھ نہیں ہے ، لہذا جوباپ اپنی اولاد کو دین کی بنیادی باتوں سے آشنا نہیں کراتا ، دینی تعلیم نہیں دیتا ، حجاب و پردہ کے احکام نہیں بتلاتا ، غیر مردوں کے ساتھ اختلاط و خلوت سے نہیں روکتا ، عریانیت سے دور نہیں رکھتا وغیرہ وغیرہ تو وہ اپنی اولاد کے ساتھ سب سے بڑا دھوکہ باز اور خائن ہے ، پھر اگر لڑکی کوئی غلط قدم اٹھالیتی ہے تو دنیا میں رسوائی و ذلت اور آخرت میں دردناک عذاب کامستحق سب سے زیادہ اس کا باپ ہے ۔

( 2 ) اس موقعہ پر ایک اہم معاملہ یہ بھی قابل غور ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے لڑکی کی شادی کے لئے اس کے ولی کی اجازت ضروری ہے بلکہ ہر وہ نکاح جو ولی کی اجازت کے بغیر ہو باطل اور غیر شرعی قرار پاتا ہے ، ارشاد نبوی ہے : جو عورت بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کرتی ہے تو اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ۔
{ سنن ابو داود ،سنن الترمذی } ۔

ایک دوسری حدیث میں ارشاد نبوی ہے : کوئی عورت کسی عورت کی شادی نہ کرے اور نہ ہی کوئی عورت خود اپنی شادی کرے اور وہ تو زانیہ اور فاحشہ عورتیں ہیں جو [ ولی کی اجازت کے بغیر ] اپنا نکاح خود کرلیتی ہے ۔
{ سنن ابن ماجہ } ۔

لہذا یہ امر اچھی طرح ذہن نشین رہنا چاہئے کہ کورٹ میرج اور لو میرج کرنے والی لڑکیاں اگر اس کا تدارک نہیں کرتیں تو بحکم شرع زنا کاری کی شکار ہیں اور ان کی اولاد حرام اولاد شمار ہوگی ۔ یہ اس صورت میں ہے کہ جس لڑکے سے وہ لڑکی کورٹ میرج کررہی ہے وہ مسلمان ہے لیکن اگر کوئی لڑکی کسی غیر مسلم سے شادی کرتی ہے ، خواہ ولی کی اجازت ہی سے کیوں نہ ہو تو یہ معاملہ خطرناک سے خطرناک تر ہے کیونکہ شرعی طور پر ایسا نکاح باطل اور مزید یہ کہ ایسا عمل کفر اور دین سے ارتداد ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : [ وَلَا تُنْكِحُوا المُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا ] {البقرة:221} " اور مشرک مردوں کے نکاح میں اپنی عورتوں کو مت دو جب تک کہ وہ ایمان نہ لالیں ، نیز فرمایا : [ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ ] {الممتحنة:10} " یہ مومنہ عورتیں ان کے یعنی کافروں کے لئے حلال نہیں اور وہ کافر مرد ان کے یعنی مسلمان عورتوں کے لئے حلال نہیں "۔ ان دونوں آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ کسی مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر مرد سے اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ برضا و رغبت مسلمان نہ ہوجائے ، لہذا اسے جائز سمجھنا ، اس پر راضی ہونا ، اس پر موافقت کا اظہار کرنا علماء کے نزدیک متفقہ طور پر کفر اور دین سے پھر جانا ہے .

لہذا معاملہ بڑا ہی خطرناک ہے ، وہ لڑکی جو کسی غیر مسلم سے شادی کرنا چاہتی ہے یا کررہی ہے اور اس کے والدین اگرچہ طوعا وکرھا اس پر موافقت ظاہر کررہے ہیں ، انہیں یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ ان کی لڑکی اور وہ خود دین اسلام سے نکل کر دین کفر میں داخل ہورہے ہیں ، اللہ تعالی کے ولیوں کے گروپ سے جدا ہو کر اللہ تعالی کے دشمنوں اور شیطان کے ولیوں میں شامل ہورہے ہیں ، اور بالآخر جنتیوں کے گروہ سے کنارہ کش ہوکر جہنمیوں کے گروہ میں داخل ہوجارہے ہیں ، ایسا شخص اگر نماز بھی پڑھتا ہے ، روزہ بھی رکھتا ہے لیکن چونکہ اللہ تعالی کے حرام کردہ کام کو حلال سمجھ رہا ہے لہذا کافر ہے اور اس کے کفر پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے : [ ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اتَّبَعُوا مَا أَسْخَطَ اللهَ وَكَرِهُوا رِضْوَانَهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ ] {محمد:28} " یہ اس لئے کہ وہ ایسی راہ پر چلے جس سے انہوں نے اللہ تعالی کو ناراض کردیا ، اور اللہ تعالی کی رضامندی کے کام کو ناپسند کیا تو اللہ تعالی نے بھی ان کے تمام اعمال اکارت کردئے ۔

نیز جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے جس میں نہ تو ان کی قضا آئے گی کہ وہ مرجائیں اورنہ دوزخ کا عذاب ہی ان سےہلکا کیا جائے گا ، ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں ، اور کافر لوگ اس [ جہنم ] میں چیخیں ماریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو نکال لے ، اب ہم اچھے کام کریں گے ، برخلاف ان کاموں کے جو کیا کرتے تھے ، [ لیکن جواب میں اللہ تعالی فرمائے گا ] کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس کو سمجھنا ہوتا وہ سمجھ سکتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنچتا تھا ، لہذا مزہ چکھو ، ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ۔ { فاطر : 36-37 } ۔

. هذا والله أعلم ..

04/08/2024

شیخ عبد الرحمن رہبرؔ ( نام فرضی ہے، مگر قصہ حقیقی ہے)
https://whatsapp.com/channel/0029VaAyKKF3rZZZt01lW90b

★✍ تحریر....انظار احمد صادقؔ

*امام صاحب کو تاخیر پر پکڑنے کی نیت سے متولی کی نماز فجر کی صف اول میں حاضری 😭😭*

شیخ عبدالرحمن رہبرؔ چند سالوں سے ایک جامع مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آواز خوب صورت ہے۔ قرآن بالترتیل پڑھتے ہیں۔ حافظ قرآن نہیں ہیں، پھر بھی تجوید اچھی ہے۔ وضع قطع بھی شاندار ہے۔ مؤذن صاحب کی عدم موجودگی میں اذان وغیرہ بھی دے دیا کرتے ہیں۔ مسجد کا خیال بھی خوب رکھتے ہیں۔ مقتدی حضرات امام صاحب سے بہت خوش ہیں اور مسجد کے متولی صاحب کو بھی آج تک شکایت کا موقع نہیں ملا۔ مجموعی طور پر امام صاحب محلے میں سب کے محبوب نظر ہیں، کیوں کہ وہ چھٹیاں کم لیتے ہیں۔

چند ماہ قبل شیخ عبد الرحمن رہبرؔ کی شادی ہوئی۔ اس درمیان کئی بار ان کا گھر آنا جانا ہوا۔ سب نے یہی سوچ کر نظر انداز کیا کہ نئی نئی شادی ہوئی ہے، امام صاحب کا بار بار گھر جانا کوئی عیب کی بات نہیں، انہیں ہر ماہ گھر جانا چاہیے۔

ایک دن مقتدی میں سے ایک نے کہا :” امام صاحب! شادی کے بعد آپ کو ہر ماہ گھر جانا پڑتا ہے، کیوں نہیں اپنی فیملی یہیں لے آتے ہیں۔“
امام صاحب نے کہا : ”اگر مناسب قیمت پر کرائے کا مکان مل جائے تو لاسکتا ہوں۔“

مقتدی نے کہا : ”آپ اپنی فیملی لائیں، میں مکان کا انتظام کردیتا ہوں۔“

اس ماہ امام صاحب گھر گئے تو اپنی فیملی ساتھ لے آئے۔ اب امام صاحب مسجد کے حجرے میں قیام کرنے کی بجائے کرائے والے مکان میں اپنی فیملی کے ساتھ رہنے لگے، بہت خوش خوش اور پوری بشاشت کے ساتھ۔
ابھی ہفتہ عشرہ گزرا رہا ہوگا۔ امام صاحب سے متولی صاحب نے سرگوشی کے انداز میں پوچھا: ”امام صاحب! فیملی لانے کے بعد کوئی دقت تو نہیں، سب ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے نا؟“
امام صاحب نے مسکراتے ہوئے مختصر لفظ میں کہا: ”الحمد للہ! “

اس گفتگو کے بعد اسی دن متولی صاحب خلافِ توقع فجر کی نماز میں پہلی صف میں نظر آئے۔ امام صاحب کو حیرت ہوئی کہ متولی صاحب فجر میں آج تک نہیں دِکھے، مگر آج۔۔۔۔۔! امام صاحب حیرت و استعجاب میں دیکھ کر خاموش رہے، انہیں کچھ ٹوک ٹاک نہیں کیا، البتہ نماز بعد علیک سلیک ہوئی اور بس!
مگر یہ کیا کل بھی متولی صاحب فجر کی نماز میں اول صف میں حاضر ہیں۔ نماز بعد امام صاحب کی پھر عیلک سلیک ہوئی، وہ اپنے گھر اور یہ اپنے کرائے کے مکان میں، تیسرے دن بھی متولی صاحب فجر کی نماز میں حاضر تھے اور اب تو روز ہی نظر آنے لگے۔
ایک دن امام صاحب دو منٹ تاخیر سے مسجد پہنچے۔ متولی صاحب نے کہا : ”آج آپ دو منٹ تاخیر سے مسجد آئے ہیں، وقت کا خیال رکھا کریں۔“
امام صاحب نے کہا :” ان شاء اللہ ضرور۔“

چند دنوں بعد امام صاحب تین منٹ تاخیر سے مسجد پہنچے۔ متولی صاحب نے قدرے آواز بلند کرتے ہوئے کہا : ” امام صاحب! آج آپ تین منٹ تاخیر سے مسجد آئے ہیں، وقت کا خیال رکھیے، فجر کا وقت بڑا نازک ہوتا ہے۔“
امام صاحب نے بجائے کچھ جواب دینے کے خاموشی اختیار کرنے میں عافیت سمجھی۔
پھر چند دنوں بعد یہی کوئی دو تین منٹ تاخیر سے امام صاحب مسجد میں داخل ہوئے۔ اس بار کی تاخیر دیکھ کر متولی صاحب کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا : *”امام صاحب! یہ کیا تماشا بنا رکھا ہے ۔ جب سے آپ نے فیملی لایا ہے، آپ ہمیشہ تاخیر سے مسجد میں آرہے ہیں۔ آپ کی یہ حرکت ناقابل برداشت ہے۔ آئندہ آپ کا یہی حال رہا تو بات اچھی نہیں ہوگی۔“*
امام صاحب نے کہا : ” ہمیشہ تاخیر تو نہیں ہوتی ہے، کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے۔ اتنی سی بات کے لیے آپ کا اتنا چَراغ پا ہونا مجھے اچھا نہیں لگا۔“
متولی صاحب نے چیختے ہوئے کہا : ”آپ مجھ سے بحث مت کیجیے۔ آپ اپنے وقت کا خیال رکھیے۔“
امام صاحب بوجھل قدموں کے ساتھ اپنے ڈیرہ پہنچے۔ چہرے پر اداسی دیکھ کر بیوی نے پوچھا : ” سب خیریت تو! “
امام صاحب نے ٹھہر ٹھہر کر متولی صاحب کا سلوک بتایا۔ شوہر کی بات سُن کر بیوی کے رخسار پر آنسوؤں 😰 کے کئی قطرے لُڑھک گئے۔ اپنی روہانسی آواز میں کہا:
” آپ مجھے گھر پہنچا دیجیے۔ پہلے جس طرح ڈیرھ دو ماہ پر ہفتہ دنوں کے لیے گھر آجایا کرتے تھے ویسے ہی آجایا کیجیے گا۔ میں صبر سے رہ لوں گی، مگر آپ کی یہ سُبکی مجھ سے نہیں دیکھی جاسکتی۔“😭

امام صاحب وفا شعار بیوی کی بات سُن کر آبدیدہ ہوگئے اور کہا : ” سامان سفر تیار کرو۔ آج ہی تم کو گھر چھوڑ آتا ہوں۔“

امام صاحب اسی وقت متولی کے گھر پہنچے اور دروازے پر دستک دی۔ اندر سے متولی نے کہا : ” کون؟“
امام صاحب نے کہا : ”میں عبد الرحمن رہبرؔ “
متولی نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا : ” کیا بات ہے؟“
امام صاحب نے کہا: ” میں چند دنوں کی چھٹی چاہتا ہوں۔“
متولی نے کہا : ” آپ کی فیملی آپ کے ساتھ ہے، پھر چھٹی کاہے کی؟“
امام صاحب نے کہا : ” فیملی کو گھر پہنچانا ہے۔“
متولی نے کہا : ” آپ کی مرضی، آپ جیسا چاہیں۔“
امام صاحب چھٹی لے کر ڈیرہ پہنچے، اس درمیان سامان سفر تہ کرلیا گیا تھا۔ بیوی کو ساتھ لیا اور گھر کے لیے نکل گئے۔
لوٹنے کے بعد امام صاحب کی نگاہیں متولی صاحب کو فجر کی نماز میں ڈھونڈ رہی تھیں، مگر متولی صاحب ندارد۔ دوسرے، تیسرے اور چوتھے دن بھی امام صاحب نے متولی صاحب کو نمازِ فجر میں دیکھنا چاہا مگر وہ نظر نہیں آئے۔
امام صاحب اپنی فیملی کو گھر چھوڑ آئے ہیں، وہ مسجد کے حجرے میں ہی قیام کرنے لگے ہیں۔ متولی صاحب اب فجر میں نظر نہیں آتے۔ (قصّہ سچا ہے آپ نظر انداز ہرگز نہ کریں)۔
★★★۔

Ab aap hi batayen ki aise namaji mutwalli aur jimmedaar ke sath kya kiya jaye aise na ahlon ke sath.

02/08/2024

دوسروں کے کمزور پہلوؤں کو مت چھیڑیں

کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ہر ملاقات میں، ہر ٹیلیفونک گفتگو میں دوسرے کے کمزور پہلوؤں کو ہی چھیڑیں ؟

• تمہاری بچی کا ابھی تک رشتہ نہیں ہوا؟
• بچے کو نوکری نہیں ملی؟
• تمہاری شادی کو اتناااا عرصہ ہو گیا ابھی تک کوئی خوشخبری نہیں سنا رہے؟
• پانچ سالوں میں بس ایک ہی بچہ/بچی؟ یارررر آگے کا بھی سوچو ۔۔۔!!
• رشتے سے انکار کر دیا کیوں بھئی کیوں؟
• اللہ یہ تمہارے چہرے پہ اتنے دانے کیوں نکل آۓ؟ پہلے تو اتنا پیارا سا چہرہ تھا۔
• اتنے موٹے کیوں ہو گئے ہو؟ پہلے اتنا بہترین جسم تھا تمہارا ۔۔!
• ہاااااا یہ تمہارے بالوں کو کیا ہو گیا ہے؟

ذرا ٹھرئیے!!!!
رکئیے....!!!
ذرا سوچئے!!!

آپ کے پاس اگر یہ سب نعمتیں ہیں تو کیا اس میں آپ کا اپنا کمال ہے؟
آپ کے بچہ یا بچی کا رشتہ ہو گیا تو کیا آپ کا اپنا کمال ہے؟؟؟
آپ کے بچے اعلیٰ عہدوں پہ نوکریوں پہ لگ گئے آپ کا اپنا کمال ہے؟

نہیں بالکل بھی نہیں کیونکہ وہ ایک ذات موجود ہے جو جانتی ہے کہ کونسی چیز کس انسان کو کس وقت میں دینی ہے ۔ وہ ذات جانتی ہے کس کے صبر کو کس طرح ٹیسٹ کرنا ہے۔ اور کس کے شکر کو کس طرح جانچنا ہے۔

لہٰذا یہ آپ کا کام نہیں ہے...!!!
اور کیا کبھی آپ کو یہ سوال کرتے ہوئے اگلے کے چہرے کی اذیت نظر نہیں آتی؟؟؟
کیا اس کی بے بسی آپ دیکھتے نہیں ؟

یقیناً .... سب کو نظر آتی ہو گی لیکن کچھ لوگ محض اپنے چسکے اور اپنے دل کی اس فضول ترین تسکین کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ کسی کے بچے کے منفی پہلوؤں کو کبھی بھی نہیں اچھالنا۔ نہ ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کریں جن کا تعلق انسان کی قسمت کے ساتھ ہوتا ہے۔
آخر سوال کرنے والا اتنا بے حس کیوں ہو جاتا ہے؟

اگر ان سب چیزوں کا ڈیپریشن ہوتے ہوئے بھی آپ سے کوئی ملاقات کرنے آ جائے یا آپ سے فون پہ رابطہ کر لے تو ضروری ہے کہ آپ اس کے اُس ڈیپریشن میں اضافے کا ہی باعث بنیں؟
ہو سکتا ہے اس نے Relax ہونے کے لئے آپ سے ملاقات رکھی ہو یا فون کیا ہو ۔

براہِ کرم تکلیف کا باعث مت بنیں۔ اسے تسلیاں بھی مت دیں، جب تک وہ خود اپنا مسئلہ آپ سے ڈسکس نہ کرے۔ بلکہ آپ کسی بھی طرح اس موضوع کو مت چھیڑیں۔

ہر ملاقات میں ایک ہی سوال مت کریں (رشتہ نہیں ہوا، بچہ نہیں ہوا، نوکری نہیں ملی، گھر نہیں خریدا ابھی تک؟؟؟؟ وغیرہ وغیرہ) آپ کو عقل استعمال کرنی چاہیئے اور سوچنا چاہیئے کہ جو بھی ہو گا آپ کو وہ خود بتا دیں گے۔ بار بار پوچھنے کا مقصد؟

اگر آپ کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے تو سوالات کرنے سے پہلے اپنی ذات کو خود اس جگہ پہ رکھ کے سوچئے شاید آپ کچھ سمجھ پائیں۔

آسانیاں کیجیئے😊
محبتیں بانٹیے 🥰
پرسکون رہیے 😇
پرسکون رہنے دیجیے🙃

قاری جنید احمد اشاعتی
جنّت فاونڈیشن

Want your school to be the top-listed School/college in Delhi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Delhi 06
Delhi
110006

Opening Hours

Thursday 9am - 5pm
Friday 9am - 5pm
Sunday 9am - 5pm