Al-Balagh Publications

Al-Balagh Publications

Share

Most welcome to the one & only official fb page of Al-Balagh Publications.

16/05/2026

جلال الدین رومی : انسانی روح کا سرمدی نغمہ
پروفیسر اختر الواسع
تبصرہ: صالح النجاري

مولانا جلال الدین رومی کی شخصیت اسلامی تاریخ، تصوف، ادب اور فکر کی دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ زیر نظر کتاب جلال الدین رومی انسانی روح کا سرمدی نغمہ، مرتبہ اختر الواسع اور فرحت احساس، محض ایک عام سوانحی کتاب نہیں بلکہ مولانا روم کی زندگی، فکر، تصوف، علمی مقام اور ان کے روحانی انقلاب کے مختلف گوشوں کا ایک جامع مطالعہ ہے۔ اس کتاب میں مختلف اہل علم کے مضامین شامل ہیں جن میں مولانا روم کی شخصیت کو مختلف زاویوں سے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کا آغاز مولانا روم کی ابتدائی زندگی سے ہوتا ہے۔ ان کی ولادت بلخ میں ہوئی اور ان کے والد سلطان العلماء بہاؤ الدین ولد اپنے وقت کے ایک عظیم عالم اور روحانی شخصیت تھے۔ مولانا روم نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی جبکہ بعد میں سید برہان الدین محقق ترمذی نے ان کی علمی اور روحانی تربیت کی تکمیل کی۔ کتاب میں یہ واقعہ بھی نہایت دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ جب مولانا روم اپنے والد کے ساتھ فرید الدین عطار سے ملے تو اس وقت وہ بہت کم عمر تھے۔
فرید الدین عطار نے مولانا روم کو دیکھ کر ان کے اندر موجود غیر معمولی صلاحیت کو پہچان لیا اور اپنی کتاب منطق الطیر انہیں بطور تحفہ دی۔ ساتھ ہی یہ پیش گوئی بھی کی کہ یہ بچہ آگے چل کر ایک عظیم انسان بنے گا۔ بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ یہ پیش گوئی بالکل درست تھی۔

ہجرت کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے مولانا روم کا خاندان قونیہ پہنچا جہاں مولانا روم نے علم، تدریس، فتویٰ نویسی اور دینی خدمات میں ایک بلند مقام حاصل کیا۔ وہ ایک عظیم عالم، فقیہ اور مدرس کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کی علمی مجلسیں نہایت مشہور تھیں اور لوگ دور دور سے ان سے استفادہ کرنے آتے تھے۔ لیکن ان کی زندگی کا اصل انقلاب اس وقت آیا جب ان کی ملاقات شمس تبریزی سے ہوئی۔
مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم
تا غلامِ شمسِ تبریزی نہ شد

شمس تبریزی ایک درویش صفت انسان تھے جنہوں نے مولانا روم کی پوری زندگی بدل دی۔ ان کی صحبت نے مولانا روم کے اندر عشق، معرفت اور روحانیت کی ایک نئی دنیا پیدا کر دی۔ روایتوں کے مطابق مولانا روم نے اپنے علمی مشاغل ترک کر دیے اور چالیس دن تک شمس تبریزی کے ساتھ صلاح الدین زرکوب کے حجرے میں خلوت اختیار کیے رکھی جہاں کسی اور کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان دنوں میں تصوف، عشق الٰہی، معرفت اور روحانی اسرار پر گفتگو ہوتی رہی۔ یہی صحبت بعد میں مولانا روم کی فکر اور شاعری کا بنیادی سرچشمہ بنی۔
شمس تبریزی سے مولانا روم کی اس غیر معمولی وابستگی کو بعض شاگرد اور قریبی لوگ پسند نہیں کرتے تھے۔ بعض روایات کے مطابق اسی مخالفت کے باعث شمس تبریزی کو قونیہ چھوڑنا پڑا۔ ان کی جدائی نے مولانا روم کو شدید غم اور روحانی اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ اسی کیفیت میں مولانا روم نے بے شمار اشعار کہے جن میں محبت، جدائی، روحانی تڑپ اور عشق حقیقی کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔
یہی اشعار بعد میں دیوان شمس تبریزی کے نام سے جمع کیے گئے۔ عام طور پر لوگوں کو یہ مغالطہ ہوتا ہے کہ اس دیوان میں شامل اشعار شمس تبریزی کے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام کلام خود مولانا روم کا ہے جو انہوں نے شمس تبریزی کی محبت اور جدائی میں کہا۔ شمس تبریزی کا اپنا مستقل کلام اس طرح محفوظ اور معروف نہیں ہے۔ دراصل مولانا روم نے اپنے مرشد اور محبوب روحانی سے عقیدت کے اظہار کے لیے اپنے اشعار کو شمس تبریزی کے نام سے منسوب کیا اسی وجہ سے یہ مجموعہ دیوان شمس تبریزی کہلاتا ہے۔
بعد میں شمس تبریزی کو واپس بلایا گیا لیکن کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ غائب ہو گئے اور پھر کبھی واپس نہ آئے۔ اسی جدائی، روحانی تڑپ اور باطنی کیفیت کے اثرات بعد میں مثنوی معنوی میں بھی نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔
کتاب میں یہ بات بھی خوبصورتی سے بیان کی گئی ہے کہ مولانا روم کی مثنوی معنوی صرف تصوف کی کتاب نہیں بلکہ علم کلام، عقائد، اخلاق، انسانی نفسیات اور روحانی تربیت کا ایک عظیم خزانہ ہے۔ عام طور پر لوگ مولانا روم کو صرف ایک صوفی شاعر کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک بڑے متکلم اور بلند پایہ عالم بھی تھے۔ انہوں نے مشکل علمی اور اعتقادی مسائل کو تمثیلات، حکایات اور مثالوں کے ذریعے اس انداز میں بیان کیا کہ وہ دل میں اتر جاتے ہیں۔ مثنوی میں بعض حکایات تاریخی حقیقت کے طور پر نہیں بلکہ تمثیلی انداز میں بیان کی گئی ہیں لیکن بعد میں ہمارے بعض خطباء نے انہیں حقیقی واقعات کے طور پر بیان کرنا شروع کر دیا۔
فارسی ادب کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو فردوسی کی شاہنامہ، فرید الدین عطار کی منطق الطیر، نظامی گنجوی کی خمسہ، سعدی کی گلستان و بوستان اور حافظ شیرازی کی غزلوں کو ہمیشہ غیر معمولی مقام حاصل رہا ہے۔ حافظ اور سعدی کا غزل کے میدان میں جو مرتبہ ہے وہ اپنی جگہ مسلم ہے اور مولانا روم کا اسلوب غزل اس درجے سے کچھ مختلف اور کسی حد تک کم سمجھا جاتا ہے لیکن مجموعی اثر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو فارسی ادبیات پر سب سے گہرا اور وسیع اثر مولانا روم کی مثنوی معنوی کا نظر آتا ہے۔ مثنوی نے نہ صرف تصوف بلکہ اخلاقیات، فکر، روحانیت اور انسانی باطن کے موضوعات پر ایسی اثر انگیزی پیدا کی کہ فارسی ادب کے بڑے بڑے شاہکار بھی اس کے سامنے ایک الگ حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو ایک خاص قبولیت اور عظمت عطا فرمائی ہے۔
مولانا روم نے نہ صرف تصوف اور ادب پر بلکہ مشرقی علوم، اخلاقیات اور روحانی روایات پر بھی گہرا اثر چھوڑا۔ ان کی تعلیمات نے برصغیر سمیت پورے مشرقی عالم میں فکری، روحانی اور اخلاقی سطح پر لوگوں کی رہنمائی کی۔ ان کے افکار نے انسان دوستی، عشق، برداشت، اخلاق اور باطنی اصلاح جیسے تصورات کو عام کیا۔ ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر ایک روحانی سلسلہ بھی قائم ہوا جسے جلالیہ یا مولویہ کہا جاتا ہے جس نے بعد میں تصوف اور روحانی تربیت کے میدان میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔

مولانا روم نے اپنی مثنوی میں اہل سنت کے عقائد کا دفاع بھی کیا ہے اور عشق و معرفت کے ساتھ ساتھ ایمان، اخلاق اور انسان کی باطنی اصلاح پر بھی گفتگو کی ہے۔ اسی عظمت کی وجہ سے ان کی مثنوی کے متعلق کہا جاتا ہے۔
مثنوی مولوی معنوی
ہست قرآن در زبان پہلوی

یعنی مثنوی گویا فارسی زبان میں قرآن کے معانی و مطالب کی ایک جھلک ہے۔

اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف مولانا روم کی سوانح بیان نہیں کرتی بلکہ ان کی شخصیت کے اُن اہم پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے جو عام سوانحی کتابوں میں کم نظر آتے ہیں۔ اس میں مولانا روم کے علمی مقام، روحانی انقلاب، شمس تبریزی سے تعلق، مثنوی کی فکری عظمت اور ان کے اثرات کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

میرے نزدیک یہ کتاب ہر اُس شخص کو ضرور پڑھنی چاہیے جو مولانا روم کو صرف ایک شاعر کے طور پر نہیں بلکہ ایک عظیم مفکر، عالم، صوفی اور انسان شناس شخصیت کے طور پر سمجھنا چاہتا ہے۔ یہ کتاب قاری کو نہ صرف مولانا روم کی زندگی سے روشناس کراتی ہے بلکہ انسان کے باطن، عشق، روحانیت، اخلاق اور معرفت کے سفر پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔
صفحات: 283
قیمت: -/250

حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں 099714 77664

14/05/2026

نیا ایڈیشن
جمع و تدوین قرآن کی تاریخ پر مشتمل اہم کتاب
عہدنبوی۔عہد صدیقی۔ عہد عثمانی

جمع و تدوین قرآن
از ڈاکٹر حافظ عبد القیوم

مستشرقین اور معاصر مسلم محققین کے جمع و تدوین قرآن پر اشکالات کا تحقیقی مطالعہ

صفحات: 384
قیمت: -/550

حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں 099714 77664

Photos from Al-Balagh Publications's post 02/05/2026

سوانح امام ابن تیمیہؒ
(امام المفسرین ترجمان السنہ مجددِ عصر شیخ الاسلام علامہ تقی الدین ابوالعباساحمد بن تیمیہ الحرانی الدمشقی المتوفی 827ھ کے حالات
اور ان کے مجددانہ کارناموں کا تفصیلی تذکرہ)

از محمد یوسف کوکن عمری

امام ابن تیمیہؒ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ۔ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھی آپ علوم اسلامیہ کے بحر ذخار تھے۔تمام علوم و فنون پر مکمل دست رس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔
محمد یوسف کوکن عمری ؒکا تعلق مدراس سے ہے۔انھوں نے 1937 ء میں دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کے عہد رفیقی میں علامہ سید سلیمان ندوی ؒکی ایما پر امام ابن تیمیہ ؒکے حالات اور کارناموں پر مواد اکٹھا کرنا شروع کیا لیکن اسی دوران موصوف عصری تعلیم کے حصول لیے مدراس چلے گئے اس طرح تسوید کا کام شروع نہ ہوسکا۔1956 ء میں لکھنے کا کام شروع ہوا اور کتاب مکمل ہوکر 1959 ء میں شائع ہوئی۔
یہ کتاب امام ابن تیمیہؒ کی مکمل سوانح عمری اور مکمل علمی سفر کی روداد پر مشتمل ہے اور بقول مصنف اس موضوع پر جتنی کتابیں نکل چکی ہیں، ان میں یہ کتاب نمایاں اور ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔
البلاغ پبلی کیشنز ، نئی دہلی نے 2008 ء میں سوانح امام ابن تیمیہؒ کا عکسی ایڈیشن شائع کیا تھا۔اب کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کے صبر آزما مراحل سے گزر کر نیا کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن منظر عام پر آرہا ہے۔

صفحات: 698
قیمت: -/1000

حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں 099714 77664

30/04/2026

New Edition
Sawaneh Imam Ibn Taimiyyah
by Muhammad Yusuf Kokan Umri

Pages: 698
Price: Rs. 1000/-

To get a copy, Whatsapp 099714 77664

26/04/2026

Seeratun Nabi (7 vol set)
Vol. 1&2 : Allama Shibli Numani
Vol. 3-7: Syed Sulaiman Nadvi

Published by: Darul Musannefin Shibli Academy

To get this set, contact 09971477664

سیرت النبی (7 جلد سیٹ)
جلد اول ودوم: علامہ شبلی نعمانی
جلد سوم تا ہفتم: سید سلیمان ندوی
ناشر: دارالمصنفین شبلی اکیڈمی
حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں۔

25/04/2026

Khutbat e Iqbal: Ek Mutala
by Prof. Altaf Ahmad Azmi

Pages: 272
Price: 450/-

To get a copy, contact 099714 77664

24/04/2026

نام کتاب: امام شاہ ولی اللہ: افکار و آثار
مرتبہ: پروفیسر اختر الواسع
تجزیہ: عکس مراد Aks Muraad

یہ کتاب دراصل حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی علمی، فکری اور اصلاحی خدمات کا جامع تعارف پیش کرتی ہے۔ اس میں ان کے افکار کو موجودہ نقطہ نظر سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے قاری کو ان کی شخصیت اور پیغام کی گہرائی تک رسائی ملتی ہے۔
یہ تحریر دراصل ایک تحقیقی و فکری نوعیت کی تصنیف ہے جس میں شاہ ولی اللہؒ کی فکر کو صرف تاریخی طور پر نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق بھی پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے مختلف مقالات اور تحریروں کے ذریعے ان کی شخصیت کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔اس کے علاوہ کئی تحقیقی مقالات کتاب میں درج ہے جو اُن کے فکر و فن پر گہری روشنی ڈالتے ہیں۔
مزیذ شاہ ولی اللہ کی تصانیف کو بھی اس کتاب میں قلمبند کیا گیا ہے اور عہد حاضر میں ان کے فلسفہ تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے بھی مضمون ہے جو کہ جدید دور میں ان کی فکر کی افادیت اور معنویت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
شاہ ولی اللہ ایک ہمہ جہت اور ہم گیر شخصیت کے مالک تھے وہ اٹھارہویں صدی کے ایک عظیم مجدد تھے جنہوں نے ایک انتشار زدہ معاشرے میں اعتدال اور وحدتِ امت کا پیغام دیا ۔کتاب میں ان کی انہی اصلاحی کوششوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔
بحیثیت محدث، مفکر اور مفسر کتاب میں اُن کی شخصیت کا بھرپور اور جامع خاکہ پیش کیا گیا ہے۔
کتاب کا اسلوب سادہ مگر علمی ہے جس سے سنجیدہ قاری فائدہ اُٹھا سکتے ہیں
پروفیسر اختر الواسع کا انداز نہایت متوازن اور تحقیقی ہے وہ نہ صرف معلومات فراہم کرتے ہیں بلکہ قاری کو غور و فکر کی دعوت بھی دیتے ہیں
یہ اُن قارئین کے لئے ایک تحقیقی کتاب ہے جو شاہ ولی اللہ کے افکار کو باریک بینی اور تحقیقی نقطہ نظر سے جاننا چاہتے ہیں۔
اگر آپ برصغیر کی علمی وراثت میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ کتاب آپ کے لئے ہیں۔

صفحات: 376
قیمت: /350

حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں 099714 77664

Photos from Al-Balagh Publications's post 13/04/2026

Book Talk on Ziauddin Barani's Tarikh-i-Firoz Shahi by Prof SM Azizuddin Husain (Retd. Prof. Dept of History, Jamia Millia Islamia & Honorary Prof. at Maulana Azad National Urdu University).
Held at National History Conference organised by Indian History Forum at India Islamic Cultural Centre, New Delhi on Sunday, 12th April 2026.

Urdu of translation of Tarikh-i-Firoz Shahi by Dr. Syed Moinul Haq published by Al-Balagh Publications was also discussed.
This edition contains preface of Prof. SM Azizuddin Husain. Also it has urdu translation of preface of English edition by Prof. Ishtiaq Ahmad Zilli (Retd Prof. Dept of History, Aligarh Muslim University & former director, Darul Musannefin Shibli Academy)

To get a copy of Urdu translation, contact 099714 77664

Photos from Al-Balagh Publications's post 11/04/2026

عہد وسطیٰ کی تاریخ کا اہم مآخذ

ضیاء الدین برنی کی تصنیف ” تاریخ فیروز شاہی‘ 1266 ء سے 1358 ء تک برسر اقتدار رہنے والے سلاطین دہلی کی ایک اہم تاریخ ہے۔ برنی کا تعلق بلند شہر، اتر پردیش سے تھا۔ ان کا پرانا نام برن تھا۔ برنی خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کے مرید اور امیر خسرو دہلوی کے قریبی دوست تھے۔ انھوں نے عمر کے آخری حصہ میں تاریخ فیروز شاہی کے علاوہ فتاوی جہانداری ، نعمت محمدی وغیرہ بھی تالیف کیں۔
تاریخ فیروز شاہی سلاطین دہلی کے مستند اور معتبر احوال پر مبنی ہے کیونکہ ضیاء الدین برنی کا خاندان امرائے دہلی میں سے تھا اور اُن کو امور مملکت کے بارے میں اُن معلومات تک بھی رسائی حاصل تھی جو بالعموم مورخین کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں۔ ان کے والد معید الملک ، چچا ملک علاء الملک اور دادا سپہ سالار حسام الدین اپنے دور کے سلاطین کے درباروں سے اہم حیثیت میں وابستہ رہے۔
تاریخ فیروز شاہی ان آٹھ سلاطین کے احوال اور تاریخ پر مبنی ہے جن کے حالات کے ضیاء الدین برنی چشم دید گواہ تھے یا ان واقعات کی اطلاعات دیگر معتبر شخصیات کے ذریعے ان تک پہنچی تھیں ۔ اہم مؤرخین کی رائے کے مطابق یہ تاریخ دراصل منہاج سراج جوزجانی کی طبقات ناصری کا تسلسل ہے۔
ضیاء الدین برنی نے یہ تاریخ 758 ہجری میںمکمل کی جب ان کی عمر 74 سال تھی ۔ یہ تاریخ فارسی میں لکھی گئی اور بعد ازاں اسے اردو زبان میں ایک سے زائد مورخین نے ترجمہ کیا ہے۔ زیر نظر ترجمہ ان میں سے سب سے زیادہ معتبر مانا جاتا ہے۔اس ایڈیشن میں پروفیسر عزیزالدین حسین ہمدانی کے مقدمہ کی شمولیت سے کتاب کی افادیت میں اضافہ ہوا ہے۔مخدوم گرامی پروفیسر اشتیاق احمد ظلّی کے انگریزی ترجمہ کا مقدمہ بھی شامل کتاب کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ بجا طور پر برنی اور تاریخ فیروز شاہی کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کرتا ہے۔

صفحات: 664
قیمت: -/1080

حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں 099714 77664

Photos from Al-Balagh Publications's post 09/04/2026

برصغیر ہند میں شاہ ولی اللہ کی اسلامی عقلیات سے جدید علم کلام کی بنیاد پڑی۔ سرسید نے نصوص کی نئی تعبیر کے حوالے سے اس بحث کوآگے بڑھایا۔شبلی نے اس کے خدوخال مرتب کیے اور اقبال نے اپنے خطبات کے ذریعے اسے ایک باضابطہ نظام فکر کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ زیرنظر کتاب میں ان چاروں شخصیات کے کلامی افکاومناہج کا تفصیل کے ساتھ تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں اس خطے کی اہم علمی شخصیات: مولانا محمد قاسم نانوتوی،مولانا اشرف علی تھانوی،مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی، مولانا حمید الدین فراہی، ڈاکٹرمحمد رفیع الدین، مولانا وحید الدین خاں اوردیگر متعدد اہم اورنمائندہ اہل علم کے کلامی افکارومناہج کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
بقول ڈاکٹرعمارخان ناصر’’یوں یہ کتاب اہل علم کے لیے عموماً اور دینی علوم کے طلبہ کے لیے خصوصاً، گزشتہ دو ڈھائی صدیوں کی علمی وفکری تاریخ کو سمجھنے کا ایک بہت قیمتی وسیلہ بن گئی ہے۔ صاحب کتاب نے اپنی علمی قابلیت اور نکتہ رسی سے جس طرح مختلف مباحث کی منضبط تفہیم پیش کی اور ان پر جچا تلا ناقدانہ تبصرہ کیا ہے، وہ اس پر مستزاد ہے اور اس کتاب کی علمی وقعت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے‘‘۔
ڈاکٹر وارث مظہری متعدد کتابوں کے مصنف ومترجم ہیں اور اس وقت شعبہ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ہمدرد ،نئی دہلی سے بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ ہیں۔

برصغیر ہند میں جدید علم کلام (افکار و مناہج تجزیاتی مطالعہ)
ڈاکٹر وارث مظہری
صفحات: 264
قیمت: -/450

حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں 099714 77664

Photos from Al-Balagh Publications's post 06/04/2026

اسلام دین اعتدال ہے ۔ شدت پسندی اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس وقت بعض مسلم حلقوں میں شدت پسندی کی افسوس ناک صورت حال پائی جاتی ہے جوار باب فکر و دانش کے لیے ایک لمحہ فکر یہ ہے۔ موجودہ دنیا ایک گاؤں میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔ یہ حقیقت میں اللہ کے رسول ﷺکے اس قول و اعتقاد کی عملی تصویر ہے کہ : یہ دنیا اللہ کا کنبہ ہے ۔ ( الخَلقُ عيالُ اللہ) اس کنبے کو نفرت کے بجائے محبت کے رشتے سے باندھنے اور اس کے درمیان تصادم کی جگہ تفاہم کو پروان چڑھانے کے لیے اسلام کی امن و اعتدال کی تعلیمات کو عام کرنے اور بین مذہبی مکالمے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
یہ کتاب اس موضوع پر اسلام کی حقیقی تعلیمات اور تہذیب اسلامی کے درخشاں عملی پہلؤو ں کو اجاگر کرتی ہے۔کتاب کا پہلا ایڈیشن 2017ء میں شائع ہوا تھا۔اب اس کا دوسرا ایڈیشن اہم تبدیلیوں اور اضافوںکے ساتھ پیش خدمت ہے۔
ڈاکٹر وارث مظہری متعدد کتابوں کے مصنف ومترجم ہیں اور اس وقت شعبہ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ہمدرد ،نئی دہلی سے بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ ہیں۔

اسلام کا نظریۂ اعتدال (امن،سماجی،ہم آہنگی اور بین مذہبی تعلقات کے آئنے میں)
ڈاکٹر وارث مظہری
صفحات: 264
قیمت: -/450

حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں 0099714 77664

Want your school to be the top-listed School/college in Delhi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


N-1 Abul Fazal Enclave Jamia Nagar
Delhi
110025