13/12/2025
چند اردو محاورات
If a person is interesting in Urdu for learning , I can help via proper channel ،
13/12/2025
چند اردو محاورات
19/07/2024
https://www.facebook.com/profile.php?id=100063790071045&mibextid=ZbWKwL
پیج کو فالو کریں ادبی و علمی سرگرمیوں کا پلیٹ فارم ہے
سالارِ نصرت ، اردو چینل ہم وقت کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ وقت بھی ہمارے ساتھ ہو
A WhatsApp group
Follow the UPSC Urdu Optional channel on WhatsApp:
28/08/2022
سالار نصرت اردو چینل کو اپنی سبسکرپشن کا حصہ بنا کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔
*🥰خلاصة النحو کی کہانی 🥰*
*گاٶں میں ایک غریب آدمی رہتا تھا جس کا نام لفظ تھا 🤓۔۔
اس کے دو بھائی تھے ایک کا نام موضوع دوسرے کا نام مہمل تھا👬🏻😁
موضوع بہت ہوشیار لڑکا تھا ہر چیز کا معنی بتاتا سمجھ میں آجاتا تھا۔۔۔🤣
اور مہمل وہ پاگل تھا🥴 ہر چیز الٹا بتاتا جس کا کوئی معنی نہ نکلتا تھا۔۔۔😂
اور موضوع کے دو بیٹے تھے ایک کا نام مفرد تھا دوسرے کا نام مرکب تھا 👬🏻۔۔😁
مفرد اکیلا اکیلا ہوتا تھا مرکب سب کے ساتھ مل کر چلتا تھا۔۔😜
مرکب کے بھی دو دوست تھے ایک کا نام مرکب ناقص دوسرے کا نام مرکب تام تھا 👬🏻۔۔😝
مرکب ناقص بڑا نالائق لڑکا تھا😫 ہمیشہ ادھوری بات کرتا کسی کو سمجھ نہیں آتی تھی۔۔😁
مرکب تام بھائی بہت اچھا لڑکا تھا ایسی بات کرتا کہ پاگل بھی سمجھ جاتا تھا وہ ہر چیز کی خبر دیتا تھا سچ جھوٹ ملا کر اس لیے وہ خود کو وزیر نحو کہتا تھا😎 ۔۔۔😜
پھر اچانک گاؤں میں یتیم لڑکا آگیا جس کا نام کلمہ تھا 🥺۔۔😁
جس کے ساتھ تین لوگ اور بھی تھے جن کا نام اسم، فعل، حرف تھا۔۔🤣
اسم تو بہت امیر تھا اپنا سب کچھ خود کرتا کسی سے کچھ مدد نہیں لیتا🤓۔۔😜
فعل بھائی ہمیشہ کنجوسی سے اپنا کام خود بھی کرتا دوسروں کو بھی لیکر آتا اکیلا ڈرتا تھا کوئی کام غلط نا ہو۔۔ 😝
حرف بھائی بہت غریب تھا😔 نا کھانے کو کچھ نا پہننے کو کچھ، اسم فعل سے لیکر اپنا وقت گزارتا تھا۔۔ 🤣
اسم بھائی کی دو بیویاں تھیں👭🏻 ایک کا نام معرفہ تھا دوسری کا نام نکرہ۔۔😁
معرفہ آنٹی ہمیشہ خود کو خاص سمجھتی تھی☺️۔۔😜
نکرہ آنٹی وہ سادہ رہتی تھی خود کو کچھ نہیں سمجھتی تھی😀 ۔۔۔😂
آنٹی معرفہ کے سات بچے تھے تیں لڑکیاں چار لڑکے
*بچوں کے نام* ضمیر۔ علم ۔ اشارہ ۔موصول ۔ معرف بلام ۔ معرف بالاضافتہ ، معرف بالندا 😁۔۔
ضمیر بھائی بس وہ۔ تم میں ،تو ، وہ ، سارا دن کرتا رہتا ۔۔🤣
علم بھائی اپنے آپ کو خاص سمجھتا کہتا میرے جیسا کوئی نہیں😎۔۔۔😝
اشارہ بھائی وہ بس دوسروں پر بلا وجہ اشاروں کے غلط الزام لگاتا رہتا اسے سکون نہیں ملتا
😋
موصول بھائی ہمیشہ وہ اپنے دوست کے ساتھ مل کر کام کرتا 👻۔۔😁
معرف باللام بہن اتنی نخریلی کہ بس ان کی ہمیشہ گھر میں لڑائی رہتی میرے شروع میں الف لام لگاؤ کیوں کہ وہ میری جان ہے ۔۔😂
معرف بالاضافتہ بہن بہت ہوشیار لڑکی اپنے خاص نام کو اپنے خاص پسندیدہ کھانے سے
جوڑتی ہے تاکہ کوئی کھا نا جائے 😇۔۔
معرف بالندا بہن کی آواز اونچی رہتی تھی ۔ وہ ہمیشہ کسی نا کسی کو مدد کیلئے بلایا کرتی😁۔۔۔
👬🏻ندا بہن کے دو پکے دوست تھے ایک کا نام مذکر دوسرے کا نام مونث تھا۔۔😂
مذکر وہ جس میں کوئی لڑکی کی علامت نا ہو😀🙊 جو بتاتا ہے میں میل ہو ں لڑکا ہوں۔۔ 🤣
مونث وہ جو کہتی ہے میں لڑکی ہوں مجھے کبھی کوئی لڑکا غلطی سے بھی نا کرنا میں بہت خطرناک عورت ہوں 😂۔۔
مونث کی 3 بیٹیاں ہیں جن کا نام
گول ة
الف مقصورہ...الف ممدودہ
گول ة بہن بڑی ضدی لڑکی ہے جو کہتی ہے میری شکل کو کبھی پھیرنا مت ۔۔😝
الف ممدودہ بہن بڑی اچھی عزت دار ہمدرد لڑکی ہے جو باجی ہمزہ کو بھی اپنے ساتھ لیکر آتی ہے ۔۔۔۔😜
الف مقصورہ بہن توبہ توبہ وہ باجی ھمزہ سے دور ہوتی ہے ان کو پاس بھی نہیں بیٹھاتی ساتھ تو دور کی بات ۔۔۔۔🤪🤪
پھر مونث کی دو سہیلیاں ایک کا نام آنٹی مونث حقیقی دوسری کا نام آنٹی مونث لفظی 👭🏻۔۔😜
آنٹی مونث حقیقی ہمیشہ اپنا مقابلہ مرد کے ساتھ کرتی ہے 😁💪🏻۔۔
آنٹی مونث لفظی وہ بہت نازک اور bp لو کی مریضہ ہے جس کی وجہ سے وہ مرد کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتی👩🏻🦽۔۔😋
اس لیے آنٹی مونث حقیقی اسے چھوڑ کر واحد کے گھر گئی واحد ہمیشہ اکیلا رہتا کوئی ساتھ نہیں دیتا تھا ۔۔۔۔😛😛
واحد کے دو بھائی ایک کا نام تثنیہ بھائی دوسرے کا نام جمع بھائی ۔۔۔🤩🤩
تثنیہ بس کہتا میں دو لوگ کے ساتھ رہتا ہوں مجھے مزید کوئی نہیں چاہیے ۔۔۔😆
جمع توبہ وہ تو سارا دن دوست بناتا رہتا اس لیے جمع سے گھر والے تنگ آگئے تھے😫 جمع بیچارہ کو گھر سے نکال دیا گیا😁۔۔۔
پھر جمع اپنے دوست جمع سالم جمع مکسر کے پاس گیا👻۔۔
جمع سالم وہ واحد ہمدرد انسان تھے شریف سے🥺🤣۔۔۔
باقی جمع مکسر جب پیسے نہیں ملتے تھے یا کھانا نہیں ملتا تھا تو گھر کے سامان توڑ کر چیزیں بناتے مختلف شکلوں میں ۔۔🤪
🤪🤪🤪🤪🤪
🤣🤣🤣🤣🤣
😜😜😜😜
منقول
11/01/2022
Your teacher Ghulam Mustafa has invited you to
Classroom: I.A.S , K.A.S URDU COACHING
Subject: Urdu competitive
To join the classroom, download Wise App: https://links.wiseapp.live/XVCH
Login as a student, and enter classroom ID:
791208312
WISE - Best Online Teaching App One-stop solution for all your teaching worries. With multiple user-friendly features, host and manage your classes by downloading WISE App today!
مير تقی میر
اردو و فارسی کے ممتاز شاعر
دیگر زبانیں
ڈاؤنلوڈ بشکل پیڈیایف
زیر نظر کریں
ترميم
میر تقی میر (پیدائش: 28 مئی 1723ء— وفات: 22 ستمبر 1810ء) اصل نام میر محمد تقى اردو كے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ انہیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے كے ايك منفرد شاعر تھےـ۔ آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے۔
مير تقی میر
Mir Taqi Mir 1786.jpg
معلومات شخصیت
پیدائش
28 مئی 1723[1] ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آگرہ ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات
20 ستمبر 1810 (87 سال)[1] ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھنؤ، سلطنت اودھ ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش
آگرہ
دہلی
لکھنؤ ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت
Fictional flag of the Mughal Empire.svg مغلیہ سلطنت (28 مئی 1723–20 ستمبر 1810) ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب
اسلام
والد
محمد علی متقی
عملی زندگی
پیشہ
مصنف، شاعر، نثر نگار، مصنف ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان
اردو، فارسی ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب
درستی - ترمیم سانچہ دستاویز دیکھیے
؎
ریختہ كے تمہی استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے ميں كوئى مير بھی تھا
حالات زندگی ترميم
میر تقی میر، آگرہ میں 1723ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد علی تھا لیکن علی متقی کے نام سے مشہور تھے۔ اور درویش گوشہ نشین تھے۔ میر نے ابتدائی تعلیم والد کے دوست سید امان للہ سے حاصل کی مگر مزید تعلیم سے پہلے جب میر ابھی نو برس کے تھے وہ چل بسے تب ان کے بعد ان کے والد نے خود تعلیم و تربیت شروع کی۔ مگر چند ماہ بعد ہی ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ یہاں سے میر کی زندگی میں رنج و الم کے طویل باب کی ابتدا ہوئی۔
ان کے سوتیلے بھائی محمد حسن نے اچھا سلوک نہ کیا۔ تلاش معاش کی فکر میں دہلی پہنچے اور ایک نواب کے ہاں ملازم ہو گئے۔ مگر جب نواب موصوف ایک جنگ میں مارے گئے تو میر آگرہ لوٹ آئے۔ لیکن گزر اوقات کی کوئی صورت نہ بن سکی۔ چنانچہ دوبارہ دہلی روانہ ہوئے اور اپنے خالو سراج الدین آرزو کے ہاں قیام پزیر ہوئے۔ سوتیلے بھائی کے اکسانے پر خان آرزو نے بھی پریشان کرنا شروع کر دیا۔ کچھ غم دوراں، کچھ غم جاناں سے جنوں کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ میر کا زمانہ شورشوں اور فتنہ و فساد کا زمانہ تھا۔ ہر طرف تنگدستی و مشکلات برداشت کرنے کے بعد بالآخر میر گوشہ عافیت کی تلاش میں لکھنؤ روانہ ہو گئے۔ اور سفر کی صعوبتوں کے بعد لکھنؤ پہنچے۔ وہاں ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی۔ نواب آصف الدولہ نے تین سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا۔ اور میر آرام سے زندگی بسر کرنے لگے۔ لیکن تند مزاجی کی وجہ سے کسی بات پر ناراض ہو کر دربار سے الگ ہو گئے۔ آخری تین سالوں میں جوان بیٹی او ر بیوی کے انتقال نے صدمات میں اور اضافہ کر دیا۔ آخر اقلیم سخن کا یہ حرماں نصیب شہنشاہ 87 سال کی عمر پا کر 1810ء میں لکھنؤ کی آغوش میں ہمیشہ کے لیے سو گیا۔ میر کی زندگی کے بارے میں معلومات کا اہم ذریعہ ان کی سوانح عمری "ذکرِ میر"، جو ان کے بچپن سے لکھنؤ میں ان کے قیام کے آغاز کی مدت پر محیط ہے۔ میر نے اپنی زندگی کے چند ایام مغل دہلی میں صر ف کیے۔ اس وقت وہ پرانی دہلی میں جس جگہ رہتے تھے اسے کوچہ چلم، کہا جاتا تھا۔ مولانا محمد حسین آزاد ؔ اپنی کتاب ’’آبِ حیات‘‘ میں لکھتے ہیں۔
” میر تقی میر جب لکھنؤ چلے تو ساری گاڑی کا کرایہ بھی پاس نہ تھا۔ ناچار ایک شخص کے ساتھ شریک ہوگئے تو دلی کو خدا حافظ کہا۔ تھوڑی دور آگے چل کر اس شخص نے کچھ بات کی۔ یہ اس کی طرف سے منہ پھیر کر ہو بیٹھے۔ کچھ دیر کے بعد پھر اس نے بات کی میر صاحب چیں بجبیں ہوکر بولے کہ صاحب قبلہ آپ نے کرایہ دیا ہے۔ بے شک گاڑی میں بیٹھے۔ مگر باتوں سے کیا تعلق! اس نے کہا۔ حضرت کیا مضائقہ ہے۔ راہ کا شغل ہے باتوں میں ذرا جی بہلتا ہے۔ میر صاحب بگڑ کر بولے۔ کہ خیر آپ کا شغل ہے۔ میری زبان خراب ہوتی ہے۔ لکھنؤ میں پہنچ کر جیسا کہ مسافروں کا دستور ہے ایک سرائے میں اترے۔ معلوم ہوا کہ آج یہاں مشاعرہ ہے۔ رہ نہ سکے۔ اسی وقت غزل لکھی۔ اور مشاعرے میں جاکر شامل ہوئے۔ ان کی وضع قدیمانہ تھی۔ کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا جامہ، اک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پٹڑی دار تہہ کیا ہوا اس میں آویزاں، مشروع پاجامہ، جس کے عرض کے پائیچے، ناگ پھنی کی انی دار جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب داخل محفل ہوئے تو وہ شہر لکھنؤ ، نئے انداز ، نئی تراشیں، بانکے ٹیڑھے جوان جمع، انہیں دیکھ کر سب ہنسنے لگے، میرؔ صاحب بیچارے غریب الوطن، زمانے کے ہاتھ سے پہلے ہی دل شکستہ اور بھی دل تنگ ہوئے اور ایک طرف بیٹھ گئے، شمع ان کے سامنے آئی، تو پھر سب کی نظر پڑی۔ بعض اشخاص نے سوچھا! حضور کا وطن کہاں ہے؟ میرؔ صاحب نے یہ قطعہ فی البدیہہ کہہ کر غزل طرحی میں داخل کیا:
؎ کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
سب کو حال معلوم ہوا۔ بہت معذرت طلب کی، میر صاحب سے عفو تقصیر چاہی، کمال کے طالب تھے۔ صبح ہوتے ہوتے شہر میں مشہور ہو گیا کہ میرؔ صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں، رفتہ رفتہ نواب آصف الدولہ مرحوم نے سنا اور دو سو روپیہ مہینہ کر دیا۔ عظمت و اعزاز، جوہر کمال کے خادم ہیں، اگرچہ انہوں نے لکھنؤ میں بھی میر صاحب کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ مگر انہوں نے بد دماغی اور نازک مزاجی کو جو ان کے ذاتی مصاحب تھے، اپنے دم کے ساتھ ہی رکھا۔ چنانچہ کبھی کبھی نواب کی ملازمت میں جاتے تھے۔ ایک دن نواب مرحوم نے غزل کی فرمائش کی۔ دوسرے تیسرے دن جو پھر گئے تو پوچھا کہ میر صاحب! ہماری غزل لائے! میرے صاحب نے تیوری بدل کر کہا: جناب عالی! مضمون غلام کی جیب میں تو بھرے ہی نہیں کہ کل آپ نے فرمائش کی آج غزل حاضر کردے۔ اس فرشتہ خصال نے کہا۔ خیر میرؔ صاحب۔ جب طبیعت حاضر ہوگی کہہ دیجئے گا۔ ایک دن نواب نے بلا بھیجا۔ جب پہنچے تو دیکھا کہ نواب حوض کے کنارے کھڑے ہیں۔ ہاتھ میں چھڑی ہے۔ پانی میں لال، سبز مچھلیاں تیرتی پھرتی ہیں۔ آپ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ میرؔ صاحب کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہا میر صاحب کچھ فرمائیے۔ میرؔ صاحب نے غزل سنانی شروع کی۔ نواب صاحب سنتے جاتے تھے اور چھڑی کے ساتھ مچھلیوں سے بھی کھیلتے جاتے تھے۔ میر صاحب چیں بجبیں ہوتے اور ہر شعر پر ٹھہر جاتے تھے۔ نواب صاحب کہے جاتے تھے کہ ہاں پڑھیے۔ آخر چار شعر پڑھ کر میر صاحب ٹھہر گئے۔ اور بولے کہ پڑھوں کیا آپ مچھلیوں سے کھیلتے ہیں۔ متوجہ ہوں تو پڑھوں۔ نواب نے کہا جو شعر ہوگا۔ آپ متوجہ کرلے گا۔ میر صاحب کو یہ بات زیادہ تر ناگوار گزری۔ غزل جیب میں ڈال کر گھر کو چلے آئے اور پھر جانا چھوڑ دیا۔ چند روز کے بعد ایک دن بازار میں چلے جاتے تھے۔ نواب کی سواری سامنے سے آگئی۔ دیکھتے ہی نہایت محبت سے بولے کہ میرؔ صاحب آپ نے بالکل ہی ہمیں چھوڑ دیا۔ کبھی تشریف بھی نہیں لاتے۔ میرؔ صاحب نے کہا۔ بازار میں باتیں کرنا آداب شرفا نہیں۔ یہ کیا گفتگو کا موقع ہے۔ غرض بدستور اپنے گھر میں بیٹھے رہے اور فقر و فاقہ میں گزارتے رہے۔ آخر1325ھ میں فوت ہوئے اور سو برس کی عمر پائی۔
“
[2]
شعرا کی نظر میں ترميم
مصحفی تو اور کہاں شعر کا دعوی
پھبتا ہے یہ اندازِ سخن میر کے اوپر (مصحفی)
سودا تو اس زمین میں غزل در غزل لکھ
ہونا ہے تم کو میر سے استا د کی طرح (سودا)
ریختے کہ تمہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
اور
غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں (غالب)
نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب
ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا (ذوق)
شعر میرے بھی ہیں پردرد، و لیکن حسرت
میر کا شیوہ گفتار کہاں سے لاؤں (حسرت)
اللہ کرے میر کا جنت میں مکاں ہو
مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی (ابنِ انشا)
معتقد ہیں اگرچہ غالب کے
میر کو بھی سلام کرتے ہیں (حزیں جی)
بقول عبد الحق،
” اُن کا ہر شعر ایک آنسو ہے اور ہر مصرع خون کی ایک بوند ہے۔“ ایک اور جگہ عبد الحق لکھتے ہیں،
” انہوں نے سوز کے ساتھ جو نغمہ چھیڑا ہے اس کی مثال دنیائے اردو میں نہیں ملتی۔“
میر کا زیادہ تر کلام کیفیت اور معنی آفرینی کا ایک دلکش گلدستہ ہے جس کی مثال کسی دوسرے شاعر کے یہاں تلاش کرنا مشکل ہے، یہاں تک کہ غالب کا کلام بھی اس صنعت سے مجرد ہے (شمس الرحمن فاروقی)
خواجہ احمد فارقی لکھتے ہیں: میر کی شاعری آہ ہے اور مرزا کی شاعری واہ ہے۔
فراق گورکھپوری کہتے ہیں: میر کے غم میں زخم ہی مرہم بن جاتے ہیں۔
copied
گزشتہ ادب