22/12/2025
ہندوستان میں مسلم تحریکوں کا زوالِ مسلسل – ٦
ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ
طالب جلال
دارالعصر، نئی دہلی، الہند
تحریک علی گڑھ
تحریکِ علی گڑھ کا ظہور 1857ء کے سانحۂ عظیم کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس تحریک کی بنیاد سر سید احمد خان نے اس گہرے احساس کے تحت رکھی کہ سیاسی شکست، عسکری زوال اور تعلیمی پسماندگی نے مسلمان معاشرے کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں محض مذہبی جذبات یا ماضی کی عظمت کے نعروں سے بقاء ممکن نہیں رہی۔ علی گڑھ تحریک دراصل ایک تہذیبی بقاء کی جدوجہد تھی، جس کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ جدید تعلیم، سائنسی شعور اور انگریزی زبان کے بغیر مسلمان جدید دنیا میں نہ فکری طور پر زندہ رہ سکتے ہیں اور نہ سیاسی و سماجی سطح پر باوقار مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
تحریکِ علی گڑھ کا سب سے بڑا اور ناقابلِ انکار کارنامہ یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں کو زمانے کی حقیقتوں سے آنکھ ملانے کا حوصلہ دیا۔ جدید علوم، مغربی فلسفے، سائنسی طریقِ فکر اور جدید ریاستی نظام کے ساتھ تعارف، یہ سب وہ میدان تھے جن سے روایتی دینی طبقہ فطری طور پر خوف زدہ تھا۔ سر سید احمد خان نے اس خوف کو توڑنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو یہ باور کرایا کہ علم بذاتِ خود نہ کفر ہے اور نہ ایمان دشمن، بلکہ علم سے فرار دراصل اجتماعی خودکشی کے مترادف ہے۔ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج، جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا، اسی فکری جرات اور تہذیبی خود آگاہی کا عملی مظہر تھا۔
تاہم علی گڑھ تحریک کی یہی فکری جرات رفتہ رفتہ ایک یک رُخی عقلی میلان میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ سر سید کے شدید عقلیت پسند رجحان اور مغربی جدیدیت سے گہری مرعوبیت نے مذہبی روایت کے ساتھ ایک فاصلہ پیدا کر دیا۔ قرآن کی تعبیر میں فطری قوانین کو مطلق معیار بنانا، معجزات کو سائنسی تاویلات میں تحلیل کرنا، اور مذہبی روایت کو جدید مغربی عقل کے پیمانوں پر پرکھنا، یہ وہ رجحانات تھے جنہوں نے علی گڑھ کو روایتی مذہبی ذہن سے دور اور ایک مخصوص عقل پرست تعبیر کے قریب کر دیا۔ یوں ایک طرف تقلیدِ جامد سے نجات کا دعویٰ تھا، مگر دوسری طرف ایک نئی قسم کی عقلی تقلید جنم لینے لگی، جس میں مغرب کی فکر کو غیر محسوس طور پر معیارِ حق بنا لیا گیا۔
تحریکِ علی گڑھ کی ایک بنیادی کمزوری یہ بھی تھی کہ اس نے تعلیم کو تہذیب اور دین سے عملاً جدا کر دیا۔ جدید علوم کو تو بھرپور فروغ ملا، مگر ان علوم کے ساتھ اخلاقی، روحانی اور قرآنی بنیادوں پر استوار دینی تشکیل کا کوئی متوازن اور مضبوط نظام وضع نہ ہو سکا۔ نتیجتاً ایک ایسا طبقہ وجود میں آیا جو انگریزی زبان، جدید علوم اور سرکاری اداروں میں تو مہارت رکھتا تھا، مگر اپنی دینی روایت سے یا تو بے نیاز تھا یا محض دفاعی اور رسمی سطح پر وابستہ۔ یہ طبقہ نہ مکمل مغربی شہری بن سکا اور نہ ایک خود اعتماد اسلامی فکری قیادت فراہم کر سکا۔
اسی تناظر میں علی گڑھ تحریک کا ایک نہایت اہم مگر کم زیرِ بحث پہلو یہ ہے کہ جب علی گڑھ میں اسلامیات کے شعبے قائم کیے گئے تو وہاں بڑی حد تک وہ حضرات تدریسی مناصب پر فائز ہو گئے جو روایتی مدارس کے فارغین تھے۔ بظاہر یہ ایک مثبت قدم محسوس ہوتا تھا، مگر عملی طور پر اس کے نتائج مختلف نکلے۔ ان اساتذہ کی علمی تربیت زیادہ تر فقہی، کلامی اور روایتی منہج پر استوار تھی، جس میں قرآن کو بحیثیتِ مرکزی، حاکم اور زندہ نص پڑھنے اور عصرِ حاضر کے حالات کے تناظر میں اس کا تنقیدی و تہذیبی محاکمہ کرنے کی فکری وسعت کم ہی پیدا ہو سکی تھی۔
نتیجتاً اسلامیات کے یہ شعبے وہ کردار ادا نہ کر سکے جو ایک جدید یونیورسٹی کے اندر ان سے متوقع تھا۔ قرآن کو محض نصابی متن یا عقائدی ماخذ کے طور پر پڑھایا گیا، نہ کہ ایک زندہ فکری سرچشمہ، جو تاریخ، سیاست، معاشرت اور تہذیب پر حکم لگانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ علی گڑھ میں جدید علوم اور اسلامیات کے درمیان کوئی حقیقی فکری مکالمہ پیدا نہ ہو سکا، اور اسلامیات کا شعبہ بھی بالآخر ایک نیم مدرسہ، نیم یونیورسٹی طرز کا ادارہ بن کر رہ گیا۔
کم و بیش یہی صورتِ حال بعد میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز میں بھی دیکھنے میں آئی، جہاں ادارہ جاتی سطح پر جدید یونیورسٹی ہونے کے باوجود اسلامی علوم کی تدریس زیادہ تر روایتی، غیر تنقیدی اور غیر تہذیبی فریم میں مقید رہی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جدید ذہن رکھنے والا طالب علم اسلامیات سے فکری رہنمائی حاصل نہ کر سکا، اور دینی ذہن رکھنے والا طالب علم جدید دنیا کے سوالات سے کٹا رہا۔ یوں وہ فکری پل، جو ان اداروں کو تعمیر کرنا تھا، عملاً قائم نہ ہو سکا۔
سیاسی سطح پر علی گڑھ تحریک نے انگریز حکومت کے ساتھ مفاہمت کو ترجیح دی، جسے اس وقت کے حالات میں وقتی حکمتِ عملی کہا جا سکتا ہے، مگر وقت کے ساتھ یہی رویہ سیاسی انفعال اور ذہنی مرعوبیت میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔ قوم کو مزاحمت، خود اعتمادی اور فکری خود مختاری سکھانے کے بجائے، علی گڑھ سے وابستہ طبقہ اکثر ریاستی وفاداری اور ادارہ جاتی مراعات کا اسیر بن کر رہ گیا۔ اس طرزِ فکر نے مسلمان سیاست کو وقتی فائدہ تو دیا، مگر طویل مدت میں قوم کی اجتماعی خودی اور فکری استقلال کو کمزور کیا۔
علی گڑھ تحریک نے ایک جدید تعلیم یافتہ اشرافیہ تو پیدا کی، مگر عوامی سطح پر کوئی ہمہ گیر فکری یا تہذیبی تحریک برپا نہ کر سکی۔ اس کا اثر شہری، متوسط اور بالائی طبقات تک محدود رہا، جبکہ دیہی، مذہبی اور عوامی ذہن اس سے کٹا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ علی گڑھ اور دینی مدارس کے درمیان فکری خلیج بڑھتی چلی گئی، جسے بعد کی کوئی تحریک پوری طرح پاٹ نہ سکی۔
یوں تحریکِ علی گڑھ، اپنی تمام خدمات، اخلاص اور تاریخی اہمیت کے باوجود، ایک متوازن اسلامی تہذیبی ماڈل تشکیل دینے میں ناکام رہی۔ اس نے روایت کے جمود کو تو چیلنج کیا، مگر اس کے بدلے میں کوئی ایسا ہمہ گیر فکری نظام پیش نہ کر سکی جو عقل، وحی، قرآن، اخلاق اور تہذیب کو ایک زندہ وحدت میں جوڑ دیتا۔ علی گڑھ نے مسلمان کو جدید بنایا، مگر اسے مکمل معنوں میں خود شناس، قرآنی شعور سے آراستہ اور تہذیبی طور پر بااعتماد نہ بنا سکا۔
اس کے باوجود تحریکِ علی گڑھ کو محض ایک ناکام تجربہ قرار دینا بھی تاریخی ناانصافی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ علی گڑھ ایک ناگزیر مرحلہ تھا، ایک ایسا عبوری تجربہ جس نے مسلمانوں کو جدید دنیا میں داخل ہونے کا دروازہ تو دکھایا، مگر اس دروازے کے پار مکمل فکری و تہذیبی رہنمائی فراہم نہ کر سکا۔ یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی بھی ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی محدودیت بھی۔
تحریک ندوۃ العلماء
ندوۃ العلماء کا قیام 1894ء میں اس شدید فکری احساس کے تحت عمل میں آیا کہ محض روایت پر جمود بھی امت کو مفلوج کر دیتا ہے اور محض جدیدیت سے مرعوبیت بھی اس کی روح کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اس دور میں شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی اور ان کے رفقاء نے ایک ایسا فکری امکان (Intellectual Possibility) پیش کیا جو اسلامی روایت کو جدید دنیا کے ساتھ ہم کلام کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ ندوہ کی اساس میں یہ تصور کارفرما تھا کہ دین نہ تو ماضی کی منجمد یادگار ہے اور نہ مغرب کی اندھی نقالی، بلکہ ایک زندہ تہذیبی شعور ہے جسے بدلتے زمانے میں فکری اجتہاد، تاریخی شعور اور علمی اعتماد کے ساتھ برتنا ناگزیر ہے۔
ندوۃ العلماء کا سب سے نمایاں اور قابلِ اعتراف کارنامہ یہ تھا کہ اس نے دینی تعلیم کے روایتی سانچے کو، اگرچہ مکمل طور پر نہیں مگر فکری سطح پر ضرور، چیلنج کیا۔ تاریخ نویسی، سیرت نگاری، تقابلی مطالعہ، عربی ادب کی جدید اسلوبیات، اور قدیم مصادر کو جدید ذہن سے پڑھنے کی سنجیدہ کوششیں ندوہ ہی کے حلقے سے اٹھیں۔ شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی نے محض مدرسین یا فقہا پیدا نہیں کیے، بلکہ ایسے اہلِ فکر تیار کیے جو سوال کرنے، تاریخی تناظر کو سمجھنے، اور روایت کو جامد وراثت کے بجائے زندہ شعور کے طور پر برتنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اس اعتبار سے ندوہ، برصغیر کی دینی تاریخ میں محض ایک مدرسہ نہیں بلکہ ایک فکری تجربہ (Experiment) تھا۔
تاہم یہی فکری تجربہ جب ادارہ جاتی سطح پر آگے بڑھا تو اس کے اندر ایک گہرا تضاد پیدا ہوتا چلا گیا۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ ندوہ کے پاس فکر موجود نہ تھی، بلکہ یہ تھا کہ وہ فکر ایک مضبوط تعلیمی، تحقیقی اور تہذیبی نظام میں ڈھل نہ سکی۔ داخلی سطح پر علماء کی قدامت پسند مزاحمت، نصاب اور طریقِ تدریس میں فکری جمود، اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کے ساتھ مستقل، بامعنی اور مؤثر ربط کا فقدان، یہ سب عوامل رفتہ رفتہ ندوہ کے ابتدائی وژن کو کمزور کرتے چلے گئے۔ یوں ندوہ نہ مکمل طور پر روایت کا نمائندہ بن سکا اور نہ جدیدیت کا حقیقی مخاطب، بلکہ ایک معلق فکری کیفیت میں پھنسا رہ گیا۔
ندوہ نے سوالات تو پیدا کیے، مگر ان سوالات کے ادارہ جاتی، منہجی اور تہذیبی جوابات فراہم نہ کر سکا۔ اس نے ذہن تو کھولے، مگر امت کی فکری قیادت کے لیے کوئی مضبوط اور دیرپا ڈھانچہ تشکیل نہ دے سکا۔ جدید دنیا سے مکالمے کی خواہش موجود رہی، مگر اس مکالمے کے لیے درکار علمی اعتماد، تحقیقی گہرائی اور عملی حکمتِ عملی بتدریج کمزور پڑتی چلی گئی۔ نتیجتاً ندوۃ العلماء ایک ایسے فکری مرکز میں تبدیل ہو گیا جو امکانات تو رکھتا تھا، مگر قیادت فراہم نہ کر سکا۔
اس فکری کمزوری کے ساتھ ساتھ ندوہ کے زوال میں ایک نہایت اہم، مگر نسبتاً کم زیرِ بحث آنے والا پہلو یہ بھی ہے کہ رفتہ رفتہ یہ ادارہ اپنے ابتدائی وژن سے ہٹ کر دیوبند طرز کے فقہی تصلب اور تبلیغی جماعت کی دعوتی ترجیحات کے اثر میں آتا چلا گیا۔ وہ ادارہ جو اپنے قیام کے وقت فقہی جمود سے نکل کر قدیم و جدید کے امتزاج، فکری وسعت اور اجتہادی مزاج کا علم بردار تھا، عملی طور پر ایک ایسے سانچے میں ڈھلنے لگا جہاں فقہِ حنفی کی بالادستی غیر محسوس طور پر ایک مسلمہ مفروضہ بن گئی، اور فقہی و فکری تنوع کی گنجائش بتدریج محدود ہوتی چلی گئی۔
اس تبدیلی نے ندوہ کی اصل فکری شناخت کو شدید نقصان پہنچایا۔ ندوۃ العلماء، جو کسی ایک فقہی مسلک کا نمائندہ بننے کے بجائے امت کے علمی تنوع کو سمیٹنے کا دعویٰ رکھتا تھا، آہستہ آہستہ ایک مخصوص فقہی اور دعوتی مزاج کے زیرِ اثر آ گیا۔ تبلیغی جماعت جیسی تحریکیں، اگرچہ اپنی دعوت اور اصلاحِ فرد کے حوالے سے کچھ قابلِ قدر پہلو رکھتی ہیں، مگر جب وہ تعلیمی اداروں پر غالب آ جائیں تو علمی تنوع، تنقیدی شعور اور فکری جرأت کو کمزور کر دیتی ہیں۔ تعلیمی اداروں کا کام سوال پیدا کرنا، فکر کو وسعت دینا، اور تہذیبی و فکری قیادت تیار کرنا ہوتا ہے، جبکہ تبلیغی تحریکوں کا مزاج فطری طور پر تکرار، تقلید اور یک رُخی عملیت پر زیادہ زور دیتا ہے۔
ندوہ میں اس دعوتی غلبے کا نتیجہ یہ نکلا کہ فکری مکالمہ، تحقیقی جستجو اور تہذیبی سوالات پس منظر میں چلے گئے، اور دینی مزاج زیادہ تر ایک مخصوص فقہی و دعوتی سانچے تک محدود ہوتا چلا گیا۔ یوں ندوۃ العلماء، جو کبھی برصغیر میں ایک متبادل فکری مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا تھا، رفتہ رفتہ ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہو گیا جس کی علمی سمت کم و بیش وہی ہو گئی جو پہلے سے موجود دینی مراکز کی تھی، فرق صرف نام، تاریخ اور بعض ظاہری امتیازات کا رہ گیا۔
یہاں راقم الحروف کی ذاتی وابستگی کا ذکر ناگزیر ہے۔ راقم نے خود ندوۃ العلماء سے باضابطہ تعلیم حاصل کی ہے، اور فطری طور پر اس ادارے سے محبت، اپنے اساتذہ کے لیے احترام اور ان کے علمی احسان کا ممنون ہے۔
لیکن محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ تاریخ کو معطل کر دیا جائے یا اداروں کو تنقید سے بالاتر قرار دے دیا جائے۔ بلکہ اصل محبت یہی ہے کہ میراث کا محاکمہ کیا جائے، اس کی کمزوریوں کو پہچانا جائے، اور آنے والی نسلوں کے لیے اس سے بہتر راستہ متعین کیا جائے۔
تاریخ کا تجزیہ، اداروں کا احتساب اور فکری تحریکوں کا بےلاگ محاکمہ کسی عداوت کا اظہار نہیں، بلکہ یہ قوم کی امانت ہے۔ ندوۃ العلماء بھی، اپنی تمام علمی خدمات، خلوصِ نیت اور ابتدائی فکری عظمت کے باوجود، اس احتساب سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ اگر ندوہ اپنی فکری اساس کو ازسرِنو منظم کرنے، قرآن مرکز علمی وژن تشکیل دینے، اور جدید دنیا کے ساتھ مکالمے کو ادارہ جاتی سطح پر مضبوط بنانے میں ناکام رہا، تو یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور حقائق کا اعتراف ہی اصلاح کی پہلی سیڑھی ہوتا ہے۔
یوں ندوۃ العلماء کو محض ایک ناکام ادارہ کہنا بھی ناانصافی ہوگی، اور اسے ایک کامل ماڈل قرار دینا بھی فکری دیانت کے خلاف۔ حقیقت یہ ہے کہ ندوہ ایک عظیم فکری امکان تھا، جسے تاریخ نے مکمل صورت اختیار کرنے کا موقع دیا، مگر امت اسے پوری طرح برت نہ سکی۔ یہی ندوہ کی اصل کامیابی بھی ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی ناکامی بھی۔
فرنگی محل، جامعہ اشرفیہ مبارکپور، جامعہ سلفیہ بنارس، جامعة الفلاح اور دیگر متعدد مدارس اسی عمومی فکری فضا کا حصہ تھے جہاں منطق، فقہ اور جزوی علوم تو محفوظ رہے مگر قرآن کو سماجی، اخلاقی اور تاریخی رہنمائی کے مرکز کے طور پر اختیار نہ کیا جا سکا۔ ان اداروں کے نصابات صدیوں پرانے سانچوں میں مقید رہے اور جدید تحقیق، فلسفہ، عمرانیات اور سیاسی شعور سے دوری بڑھتی چلی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مدرسہ کا فارغ التحصیل عالم اپنے ماحول سے کٹا ہوا، معاشی طور پر کمزور اور سماجی سطح پر غیر مؤثر بنتا چلا گیا۔
مسجد اور منبر، جو کبھی مسلم معاشرے کی فکری تشکیل، اخلاقی تربیت اور سماجی رہنمائی کے مرکزی ادارے ہوا کرتے تھے، بتدریج سطحی خطابت، جذباتی وعظ اور فرقہ وارانہ بیانیے کے مراکز بنتے چلے گئے۔ فکر کی جگہ محض بلند آواز نے لے لی، بصیرت کی جگہ وقتی جوش نے، اور اصلاحِ حال کے بجائے شناخت کے نعروں کو دین کا قائم مقام بنا دیا گیا۔ نتیجتاً دین، جو عام انسان کی زندگی کو بامقصد، متوازن اور آسان بنانے آیا تھا، رفتہ رفتہ ایک پیچیدہ، مناظرانہ اور مخصوص طبقے کی اجارہ داری بنتا چلا گیا۔
اسی دوران مدارس اور یونیورسٹیوں کے درمیان پیدا ہونے والی فکری خلیج نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا۔ علم وحدت پیدا کرنے کے بجائے تقسیم کا ذریعہ بن گیا، اور امت دو متوازی ذہنی دنیاؤں میں بٹتی چلی گئی۔ یہ دوہری ناکامی ایک ایسے منقسم ذہن، کمزور اجتماعی شعور اور غیر مؤثر فکری قیادت پر منتج ہوئی جو نہ روایت کو عصر کے تقاضوں سے جوڑ سکی اور نہ جدید دنیا کو وحیانی بصیرت عطا کر سکی۔
ان تمام تحریکات اور اداروں کا مشترکہ المیہ یہی رہا کہ انہوں نے دین کو بچانے کی سعی تو کی، مگر دین کے ذریعے تاریخ، سماج اور انسانی شعور کو بدلنے کا زندہ احساس پیدا نہ کر سکے۔ قرآن کبھی مرکزِ فکر نہ بن سکا، تنقیدی خود احتسابی کی جگہ خوش فہمی نے لے لی، اور امت کے اجتماعی مسائل کے بجائے مسلکی بقاء اصل ہدف بنتی چلی گئی۔ اسی فکری عدمِ توازن کے باعث مذہبی طبقہ مجموعی طور پر معاشرے میں ایک دفاعی، غیر مستحکم اور اکثر غیر مؤثر کردار ادا کرتا رہا، جو نہ رہنمائی دے سکا اور نہ تہذیبی قیادت۔
بہرحال برصغیر میں مسلم زوال کی بحث اگر محض ریاستی جبر، اکثریتی سیاست یا نوآبادیاتی ورثے تک محدود کر دی جائے تو یہ خود فریبی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا سب سے گہرا اور دیرپا بحران اندر سے پیدا ہوا، خاص طور پر اس طبقے کے ہاتھوں جسے فکری رہنمائی، اخلاقی قیادت اور تمدنی سمت فراہم کرنی تھی۔ علماء اور مدارس نے مذہب کو بچانے کا بیانیہ تو تشکیل دیا، مگر دین کے ذریعے طاقت، علم اور تاریخ کی تشکیل کا فریضہ عملاً ترک کر دیا۔
1857 کے بعد قائم ہونے والے مدارس ایک محصور قلعے میں بدل گئے۔ یہ قلعہ بظاہر مذہب کی حفاظت کے لیے تھا، مگر اس کی دیواریں اتنی بلند کر دی گئیں کہ اندر والوں کو باہر کی دنیا دکھائی دینا ہی بند ہو گئی۔ ریاست، معیشت، سیاست، ٹیکنالوجی، علمِ عمرانیات اور جدید منصوبہ بندی کو یا تو غیر متعلق قرار دے دیا گیا یا خطرناک۔ یوں مدرسہ نے طاقت کے تمام حقیقی مراکز سے شعوری کنارہ کشی اختیار کی، اور اسی کمزوری کو زہد، تقویٰ اور غیرتِ دینی کا نام دے دیا گیا۔
مدارس کا المیہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی داخلی خود کفالت کو کبھی سنجیدگی سے موضوع نہیں بنایا۔ وقف املاک اور عوامی عطیات زیادہ تر بقاء کے لیے استعمال ہوئے، ترقی کے لیے نہیں۔ نہ طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی، نہ تعلیمی انڈومنٹ کلچر، نہ تحقیقی فنڈز، اور نہ ہی کسی صنعتی یا زرعی بنیاد پر غور ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مذہبی ادارے خود بھی محتاج رہے اور امت کو بھی محتاج ہی رکھا۔
علم کے نام پر مدارس میں جو کچھ پڑھایا گیا، وہ زیادہ تر اسلاف کی فکری عمارتوں کی گرد جھاڑنے تک محدود رہا۔ منطق، فلسفہ، فقہ اور کلام کی صدیوں پرانی بحثیں اپنی تاریخی معنویت کھو کر ایک مقدس بوجھ بن گئیں۔ طالب علم یہ تو سیکھتا رہا کہ کس نے کس پر کیا اعتراض کیا، مگر یہ کبھی نہیں سیکھا کہ قرآن آج کے انسان، آج کی ریاست اور آج کی معیشت سے کیا مطالبہ کرتا ہے۔
سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ قرآن، جو ایک زندہ اور تمدن ساز کتاب ہے، عملاً معطل کر دیا گیا۔ تلاوت، حفظ اور حوالہ باقی رہا، مگر اس کا اخلاقی شعور، عدالتی روح اور فکری انقلابی قوت نصاب اور منبر سے غائب ہوتی چلی گئی۔ قرآن کو سمجھنے کے بجائے اس پر پہرہ بٹھا دیا گیا۔
رفتہ رفتہ ہر مکتبِ فکر نے اپنے اپنے بت تراش لیے، کہیں فقہ، کہیں مسلک، کہیں روایت اور کہیں بزرگ اور انہیں اس درجے پر مقدس بنا دیا گیا کہ تنقید فتنہ اور اختلاف گمراہی ٹھہرا۔ یوں مذہبی روایت ایک زندہ ورثے کے بجائے ایک مقدس میوزیم میں بدل گئی جو محفوظ تو تھی لیکن حرکت و شعور سے محروم۔
آزادی کے بعد یہی ذہنیت ہندوستان اور پاکستان دونوں میں مسلم زوال کی اصل وجہ بنی۔ ہندوستان میں مسلمان جدید ریاست، جمہوریت اور سرمایہ داری کا سامنا کرنے کے لیے فکری طور پر تیار نہ تھے۔ ان کے پاس نہ ایسا قرآنی بیانیہ تھا جو شہری حقوق اور آئینی زبان میں بات کر سکے، نہ ایسی قیادت جو اداروں میں داخل ہو کر طاقت کی منطق کو سمجھے۔ نتیجتاً وقف، شہریت، شناخت اور مذہبی آزادی کے مسائل میں وہ مسلسل دفاعی پوزیشن میں چلے گئے۔
پاکستان میں یہی فکری کمزوری ریاست کے اندر ظاہر ہوئی۔ وہاں علماء اقتدار کے قریب ہو کر بھی طاقت کی اخلاقی تربیت نہ کر سکے، بلکہ اکثر طاقت کا حصہ بن گئے۔ دین عدل اور کردار کے بجائے قانون سازی، نعروں اور فرقہ وارانہ بالادستی کا ذریعہ بنتا چلا گیا۔ یوں ایک اسلامی ریاست بھی اسلامی اخلاق پیدا کرنے میں ناکام رہی۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ مذہبی طبقہ آج بھی خود احتسابی سے گریزاں ہے۔ ہر ناکامی کا سبب سازش، دشمن یا مغرب کو قرار دیا جاتا ہے، مگر یہ سوال کم ہی اٹھتا ہے کہ ہم نے قرآن کو کہاں چھوڑا، علم کو کیوں محدود کیا، اور کمزوری کو تقدیس کیوں دے دی۔
حقیقت یہ ہے کہ مدارس نے طویل عرصے سے خود کو احتساب سے بالاتر مقدس ادارے سمجھ لیا ہے، حالانکہ تاریخِ اسلام میں سب سے زیادہ محاسبہ اہلِ علم ہی کا ہوا ہے۔ قرآن مرکز نہ ہو تو نہ تعلیم اسلامی رہتی ہے، نہ سیاست، نہ معیشت، اور نہ ریاست۔ قرآن کو مرکز بنانے کا مطلب محض نصاب میں شامل کرنا نہیں، بلکہ اسے علم، طاقت، قانون اور تاریخ کا فیصلہ کن معیار ماننا ہے جو آج تک نہیں کیا گیا۔
جب قرآن مرکز سے ہٹتا ہے تو تین چیزیں لازماً پیدا ہوتی ہیں: فرقہ واریت، جمود اور کمزوری۔ اور یہی تینوں برصغیر کے مسلمانوں کی پہچان بنتی چلی گئیں۔
اب سوال یہ نہیں کہ اصلاح ممکن ہے یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا مدارس و جامعات اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اصلاح کے لیے ذہنی، فکری اور اخلاقی طور پر تیار ہیں؟
یہ محض ایک قسط نہیں، ایک دعوتِ محاسبہ ہے۔
اور تاریخ گواہ ہے کہ جو قوم خود اپنا محاسبہ نہیں کرتی، تاریخ اس کا محاسبہ بے رحمی سے کرتی ہے۔
اس زمین پر حق اور اس کی نمائندگی کے بارے میں خدا کا قانون بالکل واضح، بے لاگ اور غیر جانبدار ہے۔ اللہ نہ نسل کا پابند ہے، نہ نسب کا، نہ کسی مذہبی لیبل کا۔ جس قوم کے ہاتھ میں حق کی امانت ہوتی ہے، وہی اس کی نمائندہ سمجھی جاتی ہے، اور جب وہ قوم اس امانت میں خیانت کرتی ہے تو خدا بلا تردد اسے معزول کر دیتا ہے۔ اسی اصول کے تحت بنی اسرائیل جو انبیاء کی اولاد اور وحی کی طویل روایت کے امین تھے حق کی عملی ترجمانی میں ناکام ہونے پر مردود قرار دیے گئے، اور وہی ذمہ داری مکہ کے مشرکین کے ماحول سے اٹھائے گئے ایک گروہ کو سونپ دی گئی، جن کے پاس نہ کوئی مقدس روایت تھی، نہ مذہبی اجارہ، مگر جنہوں نے حق کو قبول کر کے اس کی گواہی دینے کا حوصلہ دکھایا۔
بنی اسرائیل کی اصل لغزش یہ نہیں تھی کہ وہ مذہبی اعمال ترک کر چکے تھے، بلکہ یہ تھی کہ وہ اپنی مقدس روایات کے محافظ بن کر حق کی زندہ شہادت سے محروم ہو گئے۔ وہ آج بھی اپنے تئیں منتخب ہونے کے دعوے پر قائم ہیں، نیک نیتی سے مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں، اور روایت کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں، مگر قرآن کے مطابق یہ سب کچھ خدا کے نزدیک قبولیت کی ضمانت نہیں، کیونکہ انتخاب کا معیار نیت یا روایت نہیں بلکہ حق کی عملی نمائندگی ہے۔
یہی اصول مسلمانوں کے لیے بھی ایک سخت اور چونکا دینے والا انتباہ ہے۔ خدا نے مسلمانوں کی روایت پرستی، علمی وراثت یا تاریخی عظمت کی کوئی ضمانت نہیں لی۔ قرآن دو مقامات پر نہایت صراحت کے ساتھ استبدالِ قوم (God’s Replacement of One Community with Another) کی وعید سناتا ہے کہ اگر یہ امت حق کی گواہی اور عدل کی ذمہ داری ادا نہ کرے گی تو خدا اسے ہٹا کر کسی اور قوم کو لے آئے گا جو یہ فریضہ ادا کرے گی۔ اس تناظر میں مسلم تاریخ اور موجودہ حالت محض زوال کی کہانی نہیں بلکہ ایک کھلی ہوئی آزمائش ہے۔
یہ معاملہ محض تاریخی نہیں بلکہ تہذیبی اور اخلاقی ہے۔ جو قوم حق کو روایت میں قید کر دے، اسے شناخت کا حصار بنا لے، اور اسے زندہ انسانی مسائل سے کاٹ دے، وہ چاہے کتنی ہی مذہبی کیوں نہ ہو، خدا کے قانون میں ناقابلِ معافی جرم کی مرتکب ہوتی ہے۔ یہی اس پورے قضیے کی سب سے بڑی عبرت ہے کہ خدا کے یہاں منتخب ہونا مستقل حق نہیں، بلکہ ایک مشروط ذمہ داری ہے اور جب ذمہ داری چھوڑ دی جائے تو انتخاب بھی واپس لے لیا جاتا ہے۔
#دیوبند
#اجتہاد
#تقلید
21/12/2025