Amir Fuzail Markazi

Amir Fuzail Markazi

Share

Islamic Scholar, poet, Writer

03/11/2025

فقیر قادری کی تالیف "کذاب کون ؟"پر قاضی القضاۃ فی الہند جانشین حضور تاج الشریعہ قائد ملت علامہ عسجد رضا خان قادری رضوی دام ظلہ العالی کا تاثر
کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کرے 7492077390

27/10/2025

ان شاءاللہ عزوجل

18/09/2025

اہل سنت کے خلاف دیوبندی مدارس کی محاذ آرائی اور ہماری ذمہ داری 🌹
از : محمد عامر فضیل مرکزی
فاضل جامعۃ الرضا بریلی شریف
آج ایک پرچہ دارالعلوم دیوبند کے ششماہی امتحان کا نظر سے گزرا جس کا عنوان تھا: "ردِّ رضاخانیت"۔(یعنی رد مسلک اعلیٰ حضرت بزعم دیابنہ) یہ دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی کہ ہمارے مخالفین کس قدر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ اور مسلکِ اہلِ سنت و جماعت کے خلاف پروپیگنڈا تیار کر رہے ہیں۔
یہ کوئی اتفاقی امر نہیں، بلکہ یہ دیوبندی مدارس میں ایک منظم منصوبہ بندی ہے کہ طلبہ کی ذہن سازی امام اہلِ سنت کے خلاف کی جائے۔ ان کے نصاب میں صرف درسِ نظامی نہیں، بلکہ باقاعدہ "رد اہلِ سنت" اور "رد علماء مسلک اعلیٰ حضرت" کے عنوان سے کتب پڑھائی جاتی ہیں۔ طلبہ کو اسی نہج پر تیار کیا جاتا ہے اور پھر امتحانات میں انہی موضوعات پر سوالات رکھے جاتے ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں اعلیٰ حضرت اور اہلِ سنت کے خلاف نفرت اور بغض ہمیشہ کے لیے بٹھا دیا جائے۔ گویا ان اداروں میں محض تعلیم نہیں دی جاتی بلکہ ذہن سازی ایک خاص مقصد کے تحت کی جاتی ہے کہ یہ مستقبل میں اہل سنت پر بھونڈے اعتراضات کرے اور علماء اہلسنت کو بدنام کرنے کی ناکام جسارت کرے جس کا نمونہ سوشل میڈیا پر اکثر دیکھنےکو ملتا رہتا ہے ۔

🌹ہماری کوتاہی🌹
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بدمذہب ہمارے خلاف اس قدر منظم محاذ آرا ہیں، تو کیا ہم اہلِ سنت اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو سکتے ہیں؟ کیا یہ کافی ہے کہ ہمارے مدارس صرف درسِ نظامی کی تکمیل پر اکتفا کریں اور تحقیقی و مناظرانہ تیاری کو پسِ پشت ڈال دیں؟
یقیناً نہیں!
حقیقت یہ ہے کہ ہماری غفلت ہی نے ان عناصر کو جرأت بخشی کہ وہ ہمارے امام پر انگلیاں اٹھائیں، ہمارے خلاف پرچے تیار کریں اور اپنی نئی نسل کے ذہنوں کو زہر آلود کریں۔ اگر ہم اپنی نسلوں کو صرف روایتی تعلیم دیں اور دفاعی و تحقیقی پہلو کو چھوڑ دیں تو یہ علمی میدان یک طرفہ ہوتا جائے گا۔اور ہمارے مدارس سے بجاۓ ماہرین فارغ ہونے کے، علم کے کوڑے حضرات فارغ ہونگے ۔

🌹ہماری ذمہ داریاں🌹
اس لۓ اہلِ سنت کے علما اور مدارس پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی پالیسی کو محض روایتی نہ رکھیں بلکہ اسے دفاعی، تحقیقی اور مناظرانہ بنیادوں پر استوار کریں۔ چند نکات درج ذیل ہیں:
1. افکارِ امام احمد رضا کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔
اعلیٰ حضرت کے علمی و تحقیقی کارنامے، فتاویٰ رضویہ کے مباحث، اور ان کے مناظرانہ جوابات کو طلبہ کے نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ طلبہ براہِ راست اپنے امام کی تحریروں سے روشناس ہو۔
2. مناظرانہ و تحقیقی تیاری۔
طلبہ کو محض فقہ، تفسیر اور حدیث کے دروس نہ دیے جائیں بلکہ انہیں اس انداز میں بھی تیار کیا جائے کہ وہ بدمزہب کےہر اعتراض کا علمی اور مدلل جواب دے سکیں۔
3عقائد بدمذہب سے روشناس کرایا جائے ۔
یعنی نصاب میں ایسی کتابیں شامل کی جائے جو بدمذہبوں کے عقائد کو اجاگر کرے خصوصاََ عصر حاضر میں رد دیوبندیت ووہابیت،رد رافضیت اور رد الحاد پر مشتمل کتابوں کو مدارس کے نصاب میں شامل کیا جائے ۔

3. دفاعِ اہلِ سنت کے مستقل پرچے۔
یعنی جس طرح درسی کتابوں کے امتحانات مدارس میں لۓ جاتے ہیں اسی طرح بدمذہبوں کی تردید پر مشتمل کتابوں کا امتحان لیا جائے اور کامیاب طلبا کو انعامات سے بھی نوازا جائے تاکہ دلچسپی بڑھے۔

4. علمی و تحقیقی مواد کا اضافہ۔
اعلیٰ حضرت اور دیگر اکابرِ اہلِ سنت کی تصانیف، مقالات اور تحقیقی رسائل کو باقاعدہ درس کا حصہ بنایا جائے تاکہ طلبہ کے اندر تحقیقی مزاج پیدا ہو۔
5. عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق تیاری۔
آج بدمذہب صرف مدارس کی چار دیواری تک محدود نہیں رہے بلکہ میڈیا، انٹرنیٹ، اور سوشل میڈیاپلیٹ فارمز پر بھی خاصہ پکڑ بناۓ ہوۓ ہیں۔ اس لۓاہلِ سنت کو چاہیے کہ ان پلیٹ فارمز پر بھی مضبوط اور مربوط حکمتِ عملی کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کریں۔تاکہ عوام الناس ان ہلاکت خیز عناصر کے دلدل میں نہ پھنسیں۔
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ ہمیں بدمذہبوں کے شر سے محفوظ فرمائے اور تا دم حیات مسلک اعلیٰ حضرت پر قائم رکھے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم

جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔

09/08/2025

امیرِ شعر و سخن، فاضلِ قرطاس و قلم، استاذُالشعراء، جسیمُ الشعراء حضرت علامہ مولانا حافظ و قاری مفتی محمد جسیم اکرم مرکزی دامت برکاتہم العالیہ کے شکریہ کے ساتھ ۔اللہ تعالیٰ حضرت کے علم وعمل میں بے پناہ برکتیں عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
Jasim Akram Markazi

09/08/2025

حضرت مولانا شمس تبریز خاکی ظہوری مرکزی چشم و چراغ خانقاہ ظہوریہ چشتیہ قادریہ بلگرام شریف کے شکریہ کے ساتھ

*تہنیت بموقع جشن دستار فضیلت محترم المقام جناب مولانا عامر فضیل مرکزی صاحب قبلہ*

عامر مرے اختر کا یہ فیضان مبارک
"مرکز" سے تجھے مرکزی پہچان مبارک

گہوارۂ فن کا تجھے ایوان مبارک
اے وارثِ سلطانِ امم، شان مبارک

دستارِ فضیلت کی گھٹا چھائی ہوئی ہے
یہ لمحہ تجھے "شاہ" کے مہمان مبارک

سرگرداں شب و روز رہے حق کے لیے تو
اے طالبِ حق! دولتِ ایمان مبارک

ہر وقت تری علمی لیاقت کی ہو توقیر
ہر انجمنِ علم میں سمّان مبارک

تنویرِ مہِ علم سے پرنور ہوا تو
استاذ کا، ماں باپ کا احسان مبارک

اے کشتِ حیا! تجھ کو پئے شاہِ مدینہ
تہذیب و تمدن کی یہ باران مبارک

ہر دوست رہا شانہ بشانہ ترے "عامر"
صدیق، تجھے حلقۂ یاران مبارک

فی الفور مسائل کا نکل آئے گا اب حل
اے یار! تجھے تابشِ قرآن مبارک

دستارِ فضیلت پہ ترے پیاروں کو "عامر"
خاکٓی کی طرف سے شبِ ذیشان مبارک

از قلم : *مولانا شمس تبریز خاکٓی ظہوری مرکزی*
چشم و چراغ خانقاہ ظہوریہ چشتیہ قادریہ بلگرام شریف
رابطہ نمبر :8630830445

Photos from Amir Fuzail Markazi's post 07/08/2025

القول الاحسن فی کشف زور الگھمن المعروف بہ "کذاب کون ؟"کی فہرست
کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کرے 7492077390

19/07/2025

🌹حق کی سر بلندی اور باطل کی رسوائی مولانا عامر فضیل مرکزی کے قلم سے🌹
از: محمد انس رضا حامؔی
شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی-25
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیشہ حق کوسر بلند اور باطل کوسر نگوں فرمایا۔ جب جب کفر و شرک و گمراہیت کی ظلمت پوری کائنات پر اپنی چادر بچھانے کی کوشش کی تب تب خدائے ذوالجلال کی عطا سے ایک بندۂ الٰہی سورج بن کر اس ظلمت کو مٹانے اس دنیا میں تشریف لایا۔
ملک عزیز ہندوستان جہاں حبیب رب العٰلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے لخت جگر، نورِ نظر حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ جب اس سر زمین پر انگریزوں کی حکومت نے پیر پھیلائے توان کو جواب دینے اور مزہب کی تبلیغ واشاعت کیلئے بزرگانِ دین ہمہ وقت صف آرا رہے۔ انھیں مبارک، بے خوف، نڈر ہستیوں میں ایک ذات وہ بھی ہے جس کو تاریخ حضرت علامہ نقی علی خان علیہ الرحمۃ کا لخت جگر بھی کہتی ہے، آیۃ من آیات اللہ، معجزۃ من معجزات رسول اللہ بھی کہتی ہے، بہترین عالم، فاضل، قاری، مفتی، سائنٹسٹ بھی کہتی ہے اور جن کو ان کے معاصر اکابر علما نے اپنے وقت کا مجدد تسلیم کیا ہے ، یعنی امام اہل سنت، عاشق ماہِ نبوت ﷺ، امامِ عشق و محبت، پیشوائے اہل سنت، قاطع نجدیت و بدعت حضور سیدی سرکار اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تشریف آوری سے انگریزوں کی حکومت میں زلزلہ برپا ہو گیا۔سرکار اعلیٰ حضرت نے ایمان کی حفاظت فرمائی اور باطل کو منہ چھپانے پر مجبور فرمایا۔ گمراہ کن ملاؤں کا زبردست رد فرمایا۔
مگر یہ بات بھی ظاہر ہے کہ جو حق پر ہوتا ہے تو دشمنانِ دین اس کو راستے سے ہٹانے کی ہر بے جا کوشش ضرور کرتے ہیں، بے جا الزامات لگاتے ہیں، جاہلانہ اعتراض کرکے عوام الناس کے ایمان کو برباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھیں جاہلوں میں ایک نام ”الیاس گھمن“ کا بھی ہے۔ جس نے امامِ اہل سنت پر بے جا اعتراضات کیے اور شیطان کا چیلا بن کر لوگوں کو بہکانے کی پوری کوشش کی۔ مگر حق کبھی مٹتا نہیں اور کبھی ذلیل نہیں ہوتا تو ایسے جاہلوں کو جواب دینے کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں کسی کو منتخب ضرور فرماتا ہے۔ امام اہل سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جو اس جاہل نے بلا وجہ اعتراضات کیے اور ان کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے سترہ جھوٹ ان کی جانب منسوب کۓاان اعتراضات کا یادگارِ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ مرکز الدراسات الاسلامیۃ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف سے تعلیمی سال 26-2025 میں فارغ ہونے والے ہونہارفاضل مولانا محمد عامر فضیل مرکزی صاحب حفظہ اللّٰه تعالیٰ نے زبردست دلائل کی روشنی میں دفع فرمایا ہے۔اور دیابنہ کو ان کے اصول کی روشنی میں کذاب خائن ثابت کیا ہے۔اور اس رسالے کا نام انہوں نے *القول الأحسن فی کشف زور الگھمن المعروف بـہ کذاب کون رکھا ہے۔
یہ رسالہ اللہ تعالیٰ کے ولی سے محبت کی دلیل ہے۔ اور فاضل محترم کی علمی لیاقت کی بین ثبوت ۔ مؤلف کی محنت و محبت کا رنگ رسالہ میں صاف ظاہر ہے۔ ان شاء اللّٰه تعالیٰ جب کتاب اس حقیر کے ہاتھوں میں آئے گی تب رسالے کی علمی اور فنی خوبیوں پرمزید بحث کی جائے گی۔ فی الحال یہ حقیر فاضل مولانا محمد عامر فضیل مرکزی صاحب حفظہ اللّٰه تعالیٰ کو دل کی گہرائیوں سے ان کی اس علمی کاوش پر دلی مبارکبادی پیش کرتا ہے۔کیونک تصنیف و تالیف کا عمل محض چند صفحات لکھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک کٹھن اور صبر آزما مرحلہ ہے جس میں حوالہ جات کی چھان بین، بار بار مطالعہ، کمپوزنگ، پروف ریڈنگ، اساتذہ کی تصدیق، اہلِ علم کی تقریظات، اور آخر کار طباعت جیسے مراحل شامل ہوتے ہیں۔ یقیناً یہ وہ ذمہ داری ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ کیوں کے اس میں وقت بھی لگتے ہیں اور پریشانیوں سے دوچار ہونا بھی پڑتا ہے ۔
مجھے امید ہے کہ ان شاء اللّٰه تعالیٰ مولانا عامر فضیل مرکزی صاحب آئندہ بھی امام اہلسنت پر کۓ گئے دیگر اعتراضات کا جواب دیکر باطل کی زبان کو مکفل کرینگے۔اور دفاع مسلک کی اہم ذمہ داری کو ادا کرتے رہینگے ۔
اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وسیلے سے اس رسالہ کو درجۂ قبولیت عطا فرمائے، مؤلف کو سرکار اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیضان عطا فرمائے، رسالہ کو مقبول خواص و عوام بنائے، نظر بد سے محفوظ فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

18/07/2025

*"کذاب کون"ایک تحقیقی و تنقیدی کتاب کا تعارف و تلخیص*
تحریر
[طالبِ دعا عقیل احمد مرکزی]
فاضل جامعۃ الرضا بریلی شریف
اس پُر آشوب دور میں، جہاں ہر سمت افکار و نظریات کا شور ہے اور حق و باطل کی سرحدیں دھندلا رہی ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے بعض خاص بندوں کو چُن لیتا ہے تاکہ وہ دینِ حق کے دفاع اور اس کے خالص پیغام کی وضاحت کا فریضہ انجام دیں۔
یہ برگزیدہ افراد اگرچہ تعداد میں کم ہوتے ہیں، مگر ان کی فکر، تحریر اور تقریر صدیاں گواہ رہتی ہیں اور دلوں پر گہرے نقش چھوڑتی ہیں۔
خدمتِ دین کی متعدد جہات ہیں، لیکن ان میں ایک اہم و نازک راہ وہ ہے جو اہلِ باطل کے اعتراضات کا حکمت، تحقیق اور تدبر کے ساتھ مدلل جواب دیتی ہے—یہی راہ عوام و خواص کے ذہن و قلب کو مطمئن کرنے کا فریضہ انجام دیتی ہے۔
انہی خوش نصیب خدمت گزاروں میں ایک روشن نام مولانا عامر فضیل مرکزی صاحب کا بھی ہے، جنہوں نے بروقت ایک ایسی کتاب امت کے سپرد کی، جس کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔
بندۂ ناچیز، اختصار کے ساتھ، اس کتاب کا تعارف پیش کرتا ہے تاکہ قارئین اس کی اہمیت، افادیت اور وقت کی ضرورت کے پہلو سے واقف ہو سکیں۔
*کتاب کا تعارف*
زیر نظر کتاب "القول الاحسن فی کشف زور الگھمن المعروف بہ کذاب کون؟" دراصل دیوبندی عالم الیاس گھمن کی جانب سے امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ پر کیے گئے سترہ جھوٹ کے الزامات کا تحقیقی و مدلل رد ہے۔ الیاس گھمن کی کتاب "حسام الحرمین کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ" میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ امام احمد رضا خان نے اپنی کتابوں میں جھوٹ بولا اور اُن کی علمی دیانت مشکوک ہے۔ ان الزامات کا مقصد عوام کا امام احمد رضا پر اعتماد ختم کرنا اور "حسام الحرمین" جیسے تاریخی فتویٰ کو غیر معتبر ثابت کرنا تھا۔
*خلاصہ*
محترم فاضل دوست کتاب کا آغاز ایک فکری اور دینی پس منظر سے کرتے ہیں، جہاں وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح دیوبندی اکابر کی بعض تصانیف میں رسول اکرم ﷺ کی شان میں نازیبا الفاظ درج کیے گئے، جن پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان نے خاموشی اختیار نہ کی، بلکہ علماے حرمین شریفین سے ان کے کفر پر فتویٰ حاصل کر کے "حسام الحرمین" کی صورت میں شائع کیا۔ اس فتویٰ نے اہل سنت کو ان گستاخانہ افکار سے خبردار کیا اور فرقہ وارانہ پردے چاک کر دۓ۔
قارئین! الیاس گھمن نے اس فتویٰ کے خلاف ایک کتاب لکھی اور اِمام اہل سنت امام احمد رضا خان کو جھوٹا اور خائن ثابت کرنے کی کوشش کی۔ میرے فاضل دوست نے موجودہ کتاب میں اسی الزام تراشی کا
علمی ردکیاہے۔
میں ذیل میں چند جوابات کا خلاصہ پیش کر رہا ہوں، جن سے مؤلف کی علمی بصیرت اور سعیِ مسلسل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے
اعتراض نمبر 1: قیامت کے دن پکارنے کا طریقہ
الیاس گھمن نے امام احمد رضا کی کتاب "احکام شریعت" سے دو مختلف اقوال کا تقابل کیا:
ایک قول میں لکھا ہے کہ قیامت کے دن لوگ اپنی ماؤں کے نام سے پکارے جائیں گے۔
دوسرے قول میں عربی حدیث کے مطابق والدوں کے نام سے پکارنے کا ذکر ہے۔
الیاس گھمن نے اس پر اعتراض کیا کہ دونوں اقوال متضاد ہیں، اس لیے پہلا قول جھوٹ ہے۔ جواب میں مصنف نے واضح کیا کہ دونوں اقوال حضور نبی کریم ﷺ کی احادیث سے ثابت ہیں۔ پہلی روایت "عن ابن عباس..." میں قیامت کے دن ماؤں کے نام سے پکارنے کا ذکر ہے (کنز العمال) اور دوسری روایت میں والدوں کے نام سے پکارنے کی بات ہے۔ مختلف حالات و مقاصد کے لیے مختلف انداز اپنائے گئے۔
قرآن کی آیت "يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ" اور اس کی تفسیر میں ماؤں سے نسبت کا ذکر بھی موجود ہے۔ یہ اعتراض حدیث وتفسیر سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔
اعتراض نمبر 2: داڑھی منڈوانے پر لعنت
الیاس گھمن نے دعویٰ کیا کہ امام احمد رضا خان نے داڑھی منڈوانے والے پر لعنت کا حکم قرآن سے منسوب کر کے جھوٹ بولا۔ جواب میں امام احمد رضا کا استدلال قرآن کی آیت "وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ" سے ثابت کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ رسول ﷺ کا حکم اللہ کا حکم ہے۔
چونکہ رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ "داڑھی بڑھاؤ"، اس کی خلاف ورزی اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ عورتوں سے مشابہت اختیار کرنا بھی لعنت کا سبب ہے جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے: "لعن اللہ المتشبھین من الرجال بالنساء"۔ امام ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایسے افعال کو قرآن کا ہی حصہ قرار دیا، اور اسی وجہ سے گودنا گودنے والی اور گود وا نے والی عورتوں پر لعنت فرمایا لہٰذا امام احمد رضا کا استدلال درست اور صحابہ کرام کے طریقے پر ہے۔
مزید برآں، اشرف علی تھانوی، مناظر حسین گیلانی، اور دوسرے دیوبندی علما نے بھی احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے والے احکام کو قرآنی احکام کہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طرزِ استدلال امام احمد رضا تک محدود نہیں۔اگر یہ جھوٹ ہے تو دیوبندی مولوی بھی جھوٹے ہیں ۔
اعتراض نمبر 3: شیطان جھوٹ کو ناپسند کرتا ہے
الیاس گھمن نے امام احمد رضا کی عبارت "شیطان جھوٹ کو اپنے لیے پسند نہیں کرتا" پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ شیطان نے حضرت آدم و حوا سے جھوٹ بولا تھا، لہٰذا یہ قول جھوٹ ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ امام احمد رضا کی مراد یہ نہیں تھی کہ شیطان نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، بلکہ یہ کہ عام حالات میں وہ اپنے لیے جھوٹ کو ناپسند کرتا ہے۔ اس بات کا تعلق ایک مخصوص سیاق میں ہے جہاں وہ وہابیوں کی جھوٹ پر اللہ سے نسبت کے مقابلے میں شیطان کے رویےکا فرق بیان کر رہے تھے۔
یہ صرف اصطلاحی فرق ہے، نہ کہ تضاد۔ عبارت کو سیاق و سباق سے ہٹانا اور اس پر فتویٰ لگانا علمی خیانت ہے۔
اعتراض نمبر 4: کوئی رسول شہید نہیں ہوا
یہ اعتراض ملفوظات کے اس بیان پر ہے کہ "انبیاء شہید ہوئے، رسول نہیں"، حالانکہ قرآن کہتا ہے کہ "فَرِيقًا كَذَّبْوا وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ"۔
جواب میں امام احمد رضا کے طرزِ استدلال کو واضح کیا گیا کہ وہ اصطلاحی طور پر "رسول" کو اس نبی پر اطلاق کرتے ہیں جو نئی شریعت لائے۔ تفاسیر جیسے تفسیر بیضاوی، مدارک، تفسیر الماتریدی وغیرہ میں بھی اس فرق کو بیان کیا گیا ہے۔
اور دلیل کے طور پر امام ماتریدی کے حوالے سے بعض علماء اہلسنت کا قول پیش کیاکہ: اللہ رسولوں کی مدد فرماتا ہے، اور جس کی مدد اللہ کرے وہ قتل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا امام احمد رضا کا استدلال صحیح ہے اور یہ اعتراض غیر علمی ہے۔اور فاضل محترم نے یہ بھی ثابت کیا کہ اگر اس بات کے قائل کو جھوٹا کہا جائیں تو بہت سے علماء اہلسنت اس زد میں آئیں گے ۔
یہ تو صرف ایک نمونہ پیش کیا مکمل جواب آپ آگے پڑھیں اور مولف کو دُعائیں دیں
*خلاصہ کلام*
"القول الاحسن" امام احمد رضا خانؒ پر کیے گئے الزامات کا علمی، تحقیقی، اور الزامی جواب ہے۔ ہر اعتراض کو دلائل، حوالہ جات، اور سیاق و سباق کے ساتھ رد کیا گیا ہے۔ کتاب کا انداز جرات مندانہ، تحقیقی، اور اہل علم کے فہم و نظر کے مطابق ہے۔اورمناظرانہ ذہن رکھنے والے کے لئے کافی حد تک مفید ہے۔
مولیٰ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مولا اس کتاب کو امت کے لیے مفید بنائے، مصنف محترم اور ان کے معاونین کو اس عملِ صالح کا بہتر اجر عطا فرمائے، اور ہمیں دین کی صحیح سمجھ و دفاع کی توفیق مرحمت فرمائے۔
آمین یا رب العالمین، بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
جو حضرات یہ کتاب حاصل کرنا چاہتے ہیں اس نمبر پر رابطہ کریں 7492077390

Want your school to be the top-listed School/college in Darbhanga?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Ramaul
Darbhanga
847304