31/05/2026
نظم برائے نحو
عربی گرامر
..................................................................................................................................................
اسم فعل, حرف لفظ کی اقسام ہیں
تینوں سے مل کر بنتے کلام ہیں
مركب مفيد سے ہے ہر کوئی مستفید
مركب ناقص کو سمجھنے میں ناکام ہیں
نہ بدل سکا کوئی مبنی کے آخر کو
معرب پر آتی حرکتیں تمام ہیں
معرفہ نے خاص کر دیا ہے ورنہ
نکرہ کی نظر میں تو سب عام ہیں
مؤنث نہ ہوا تو یقینا مذکر ہی ہوگا
تیسری جنس کے انسان یہاں گمنام ہیں
فاعل چھپ بھی جاتا ہے کبھی فعل میں
پر مفاعیل آتے ہمیشہ سر عام ہیں
نعم, حبذا سبب ہیں دل کی تسکین کا
بئس, ساء فقط وجہ درد و آلام ہیں
حال کی حالت ہر حال میں نصبی ہے
مگر ذوالحال کے مختلف احکام ہیں
عندي عشرون کی آئی سمجھ درھما سے
دور تمييز نے کیئے سارے ابہام ہیں
مبتداء تو وہی ہے جو آئے ابتداء میں
خبر پر پہلے آئے کے بھی الزام ہیں
موصوف صفت میں دوری بھی ہے ممکن
مضاف, مضاف الیہ میں فاصلے حرام ہیں
...................................................................................................................................................