11/03/2026
*شہادتِ امیر المومنین (ع) اور 'تین افراد کا معاہدہ': ایک تاریخی تجزیہ*
تاریخ کی کتابوں میں یہ روایت کثرت سے ملتی ہے کہ مکہ میں تین خارجیوں (ابن ملجم، برک بن عبداللہ اور عمرو بن بکر) نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ امت کو "فتنے" سے بچانے کے لیے علی بن ابی طالب (ع)، معاویہ بن ابی سفیان اور عمرو بن عاص کو ایک ہی رات قتل کر دیا جائے۔ لیکن جب ہم اس واقعے کے نتائج اور اس کے پسِ پردہ محرکات کا گہری نظر سے مطالعہ کرتے ہیں، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ محض ایک اتفاق تھا یا بنو امیہ کے حق میں کی جانے والی ایک سیاسی سازش؟
۱. روایتی کہانی پر شکوک و شبہات
اس داستان کا سب سے کمزور پہلو یہ ہے کہ اس کا نتیجہ صرف ایک ہی جگہ "کامیابی" کی صورت میں نکلا، اور وہ مقام کوفہ تھا۔
* معاویہ پر حملہ: کہا جاتا ہے کہ برک بن عبداللہ نے معاویہ پر وار کیا لیکن وہ صرف زخمی ہوا اور بچ گیا۔
* عمرو بن عاص پر حملہ: عمرو بن عاص اس رات مصلے پر آیا ہی نہیں، بلکہ اس کی جگہ خارجہ بن حذافہ مارا گیا۔
* علی (ع) پر حملہ: ابن ملجم نے عین حالتِ نماز میں انتہائی سفاکی سے آپ کو شہید کر دیا۔
یہ عجیب "اتفاق" کہ دونوں اموی رہنما بچ گئے اور صرف امیر المومنین (ع) شہید ہوئے، اس شک کو جنم دیتا ہے کہ شاید یہ کہانی بعد میں اس لیے گھڑی گئی تاکہ معاویہ کو علی (ع) کے ہم پلہ قرار دیا جائے اور اسے بھی "خوارج کا مظلوم" ثابت کیا جا سکے۔
۲. سیاسی فائدہ (?Cui Bono)
تاریخ کا اصول ہے کہ کسی بھی بڑے قتل کے پیچھے اس شخص کا ہاتھ تلاش کرو جسے اس سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچ رہا ہو۔ حضرت علی (ع) کی شہادت سے سب سے بڑا سیاسی فائدہ معاویہ کو پہنچا۔ آپ کی شہادت کے بعد خلافتِ راشدہ کا باب بظاہر بند ہو گیا اور معاویہ کے لیے بادشاہت کا راستہ صاف ہو گیا۔
علامہ عسکری اپنی تحقیقات میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بنو امیہ کی خفیہ ایجنسی (جسے اس وقت 'عیون' کہا جاتا تھا) بہت طاقتور تھی اور یہ ناممکن ہے کہ اتنی بڑی سازش ہو رہی ہو اور معاویہ اس سے بے خبر رہے۔
۳. کوفہ میں اموی اثر و رسوخ اور 'قطام' کا کردار
ابن ملجم کا کوفہ میں قیام اور اسے ملنے والی سہولتیں ظاہر کرتی ہیں کہ اسے صرف خوارج کی نہیں بلکہ کوفہ میں موجود اموی حامیوں (عثمانی) کی بھی خاموش حمایت حاصل تھی۔ قطام بنت شجنہ، جس نے ابن ملجم کو اکسایا، اس کا خاندان نہروان میں مارا گیا تھا، لیکن اس کے تعلقات کوفہ کے ان حلقوں سے تھے جو علی (ع) کے مخالف اور شام (معاویہ) کے ہمدرد تھے۔
۴. کتبِ تاریخ کے حوالے اور تجزیہ
* ابن ابی الحدید معتزلی (شرح نہج البلاغہ): ابن ابی الحدید نے مختلف روایات نقل کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابن ملجم کے کوفہ آنے اور وہاں کے اشراف (جو اندرونی طور پر معاویہ سے ملے ہوئے تھے) کے ساتھ اس کے رابطے محض اتفاقی نہیں تھے۔
* طہ حسین (کتاب 'الفتنۃ الکبری'): مشہور مصری ادیب طہ حسین نے بھی اس واقعے کے تضادات پر بحث کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ کہانی کہ تینوں نے ایک ہی وقت میں قتل کا ارادہ کیا، بنو امیہ کے دور میں پروان چڑھی تاکہ معاویہ کے دامن سے علی (ع) کے خلاف دشمنی کا داغ دھویا جا سکے۔
* علامہ سید مرتضیٰ عسکری (نقشِ عائشہ در تاریخِ اسلام): انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اموی دورِ حکومت میں ایسی بہت سی روایتیں وضع کی گئیں جن کا مقصد علی (ع) کی مظلومیت کو تقسیم کرنا اور معاویہ کو ان کا شریکِ غم دکھانا تھا۔
حاصلِ بحث
یہ نظریہ کہ "تین افراد کا معاہدہ" ایک من گھڑت داستان ہے، درج ذیل بنیادوں پر مضبوط نظر آتا ہے:
* تطہیر (Exoneration): معاویہ کو قتلِ علی (ع) کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دینا۔
* برابری (Equating): یہ تاثر دینا کہ معاویہ اور علی (ع) دونوں ایک ہی گروہ (خوارج) کے نشانے پر تھے۔
* توجہ ہٹانا: اس حقیقت کو چھپانا کہ کوفہ کے غداروں اور شام کے کارندوں نے مل کر یہ جال بچھا رکھا تھا۔
نتیجہ: یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ابن ملجم محض ایک مہرہ تھا، جس کی ڈوریں کوفہ کے منافقین اور شام کے سیاسی مفادات سے ہلائی جا رہی تھیں۔Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Mahwer Lucknowi Lucknowi, سکندر کینگس, Nour Cataloonai