23/08/2025
🌱 بیٹی کو 'جاریہ' (رواں چشمہ) کیوں کہا گیا ؟🌱
♦️حافظ جلال الدین سیوطی (المتوفی:911ھ) علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
سُمِّيَت البِنتُ جارِيَةً؛ لِأَنَّها أَسرَعُ جَريًا فِي قُلُوبِ الآبَاء مِنَ الأَبنَاء؛ لِرَأفَتِهم وَشَفَقَتِهم عَليهِنَّ. سُبحَانَ اللهّ!
"بیٹی کو 'جاریہ' اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ باپ کے دل میں بیٹوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اتر (بس جاتی ہیں ، من موہ لیتی ہیں) جاتی ہے، کیونکہ باپ کی ان پر خصوصی شفقت اور نرم دلی ہوتی ہے"۔
سبحان اللہ!"
•[الكنز المدفون، والفلك المشحون، لجلال الدين السيوطي، ص.149]
🔹کسی شاعر نے کہا ہے :
إن البيوت إذا البنات نزلنها
مثل السماء تزيـنت بنجـومها
هن الحياة إذا الشرور تلاطمت
وإلى الفؤاد تسللت بهمومها
"جب گھروں میں بیٹیاں آباد ہوتی ہیں تو گھر اس طرح روشن ہوتا ہے جیسے آسمان ستاروں سے،
جب زندگی میں مصیبتیں اور پریشانیاں آئیں اور دل غم سے گھبرائیں تو بیٹیاں سے دل کو راحت اور طاقت ملتی ہے ".
#متفرقات {➐➒}