Markaz students activities

Markaz students activities

Share

always be with your society. never try to harm them

29/08/2025

Plz listen to this

06/06/2025

🌙 Wishing you peace, prosperity, and countless moments of joy. Eid Mubarak!

01/08/2024

But it destroys the blessings

Photos from Markaz students activities's post 01/08/2024

دیوبندی مذھب کے باطل عقائد و نظریات انہیں کی کتابوں سے تمام کتب کے اسکن شامل کردیئے گئے ہیں مزید اسکن بھی شامل کیئے جائیں گے ان شاء اللہ العزیز ۔

حکیم الامت دیوبند علامہ اشرف علی تھانوی اپنی کتاب حفظ الایمان میں لکھتا ہے کہ : پھر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہوتو دریافت طلب یہ امر ہے کہ غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ۔اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کیا تخصیص ہے ۔ایسا علم غیب تو زید وعمر و بلکہ ہر صبی (بچہ )مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ۔(حفظ الایمان ص8کتب خانہ اشرفیہ راشد کمپنی دیوبند مصنف :اشرف علی تھانوی )
مطلب یہ کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کو پاگل ،جانوروں اور بچوں سے ملایا ۔

بانی دیوبند علامہ محمد قاسم نانوتوی اپنی کتاب تحذیر الناس میں لکھتا ہے کہ : اگر بالغرض زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہوتو پھر بھی خاتمیت محمد ی صلی اللہ علیہ وسلم میں کچھ فرق نہیں آئیگا ۔( تحذیر النّاس ،صفحہ نمبر 34دارالاشاعت مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی ، مصنف :قاسم نانوتوی )
مطلب یہ کہ قاسم نانوتوی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین ماننے سے انکار کیا ۔

مولوی خلیل احمد انبیٹھوی دیوبندی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ : شیطان وملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلادلیل محض قیاسِ فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کاحصّہ ہے شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی ۔
فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے ۔(براہین قاطعہ صفحہ نمبر 51مطبوعہ بلال ڈھور ،مصنف :مولوی خلیل احمد ابنیٹھوی مصدّقہ ،مولوی رشیداحمد گنگوہی )
مطلب یہ کہ سرکار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک سے شیطان وملک الموت کے علم کو زیادہ بتایا گیا مولوی خلیل احمد کی اس کتاب کی دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی نے تصدیق بھی کی ۔

شاہ اسمعیل دہلوی دیوبندی ، وہابی : نے نماز میں سرکار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال مبارک کے آنے کو جانور وں کے خیالات میں ڈوبنے سے بدتر کہا ۔
(صراطِ مستقیم صفحہ 169،اسلامی اکادمی اردو بازار لاھو رمصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )

حکیم الامت دیوبند اشرف علی تھانوی کے ایک مرید نے اپنے پیراشرف علی تھانوی کواپنے خواب اور بیداری کا واقعہ لکھا کہ وہ خوا ب میں کلمہ شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ِ نامی اسمِ گرامی کی جگہ اپنے پیر اشرف علی تھانوی کا نام لیتا ہے یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )کی جگہ لا الہ الا اللہ اشرف علی رسول اللہ (معاذ اللہ )پڑھتا ہے اور اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی اپنے پیر سے معلوم کرتاہے تو جواب میں اشرف علی تھانوی تو بہ و استغفار کا حکم دینے کے بجائے کہتا ہے ۔”اس واقعہ میں تسّلی تھی کہ جسکی طرف تم رجوع کرتے ہو وہ یعونہ تعالیٰ متبع سنّت ہے ۔(الا مداد صفحہ 35مطبع امداد المطا بع تھا نہ بھون انڈیا ،مصنف :اشرف علی تھانوی )
مطلب یہ کہ کلمہ کفر کو اشرف علی تھانوی صاحب نے عین اتباع سنت کہا ۔

مولوی حسین علی دیوبندی نے اپنی کتاب بلغۃ الحیران میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پل صراط سے گررہے تھے میں نے انہیں بچایا ۔(معاذاللہ )(بلغۃ الحیران صفحہ نمبر 7 )

دیوبندی مولوی خلیل احمد انبیٹھوی لکھتا ہے کہ رسول کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں ۔ (براہین قاطعہ ص55،مصنف :خلیل احمد انبیٹھوی )

دیوبندی وہابی مولوی اسمعیل دہلوی لکھتا ہے کہ جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا علی رضی اللہ عنہ ہے وہ کسی چیز کا مالک ومختار نہیں ۔(تقویۃ الایمان مع تذکیر الاخوان صفحہ43مطبوعہ :میر محمد کتب خانہ مرکز علم و ادب آرام باغ کراچی مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم بڑے بھائی کے برابر کرنا چاہئے ۔(معاذ اللہ )
(تقویۃ الایمان ص88:مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )
ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہیں۔(معاذاللہ )
(تقویۃالایمان ص 13مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )
اسی مولوی اسمعیل دہلوی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء باندھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی ایک دن مرکر مٹی میں ملنے والا ہوں ۔(تقویۃ الایمان ص 53)(ترتیب و پیشکش : ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مولوی خلیل احمد انبیٹھوی دیوبندی نے اپنی کتاب براہین قاطعہ کے صفحہ نمبر 52پر لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یومِ ولادت منانا کنھّیا کے جنم دن منانے کی طرح ہے ۔(معاذ اللہ )
مولوی خلیل دیوبندی اپنی کتاب براہین قاطعہ کے صفحہ نمبر 30 پر لکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اردو زبان علماء دیوبند سے سیکھی ۔(معاذاللہ )

حکیم الامت دیوبند مولوی اشرف علی تھانوی اور مولوی فضل الرحمٰن کی زبانی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے خواب میں حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے ہم کو اپنے سینے سے چمٹایا ۔(معاذاللہ )
(الاضافات الیومیہ صفحہ 62/37مصنف :مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی )

بانی دیوبند نانوتوی لکھتا ہے : انبیاءکرام اپنی امت میں ممتاز ہوتے ہیں تو علوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں باقی رہا عمل اس میں بسا اوقات بظاہر امتّی مساوی ہوجاتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں ۔(تحذیرالنّاس ص5،مصنف :مولوی قاسم نانوتوی دیوبندی )
مطلب یہ کہ عمل اگر اُمتّی زیادہ کرلے تو نبی سے بڑھ جاتا ہے ۔(معاذاللہ )

قطب العالم دیوبند رشید احمد گنگوہی لکھتا ہے : لفظ رحمۃ للعالمین صفت خاصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہے اگر (کسی )دوسرے پر اس لفظ کو تباویل بول دیوے تو جائز ہے ۔ (فتاوٰی رشید یہ جلد دوم ص 9،مولوی رشید گنگوہی دیوبندی )
محرم میں ذکر شہادت حسین کرنا اگر چہ بروایات صحیح ہو یا سبیل لگانا ،شربت پلانا چندہ سبیل اور شربت میں دینا یا دودھ پلانا سب ناجائز اور حرام ہے ۔
(فتاوٰی رشیدیہ ص 435مصنف :رشید احمد گنگوہی دیوبندی ) عقیدہ :قبلہ و کعبہ کسی کو لکھنا جائز نہیں ہے ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص265)
عیدین میں (عیدالفطر و عید الاضحی ) کو معائقہ کرنا (گلے ملنا )بد عت ہے ۔
(فتاوٰی رشیدیہ ص243)(ترتیب و پیشکش : ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

حکیم الامتِ دیوبند اشرف علی تھانوی دیوبندی اپنی فتاوٰی کی کتاب امداد الافتاوٰی جلد دوم صفحہ 29/28میں لکھتا ہے کہ شیعہ سنّی کا نکاح ہوسکتا ہے لہٰذا سب اولاد ثابت النسب ہے اور محبت حلال ہے ۔
عقیدہ :مولوی اشرف علی تھانوی اپنی فتاوٰی کی کتاب امدا د الفتاوٰی کا اختلاف ہے راجح اور صحیح یہ ہے کہ حلال ہے ۔
مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی کتاب الاضافات الیومیہ جلد 4ص139پر لکھتا ہے کہ شیعوں اور ہندوؤں کی لڑائی اسلام اور کفر کی لڑائی ہے شیعہ صاحبان کی شکست اسلام اور مسلمانوں کی شکست ہے اسلئے اہلِ تعزیہ کی نصرت (مدد)کرنی چاہئے ۔آپ نے مولوی اسمعیل دہلوی کی گستاخانہ کتاب تقویۃ الایمان کی عبارتیں ملاحظہ کیں اس کتاب کے متعلق دیوبندی اکابر ین کیا لکھتے ہیں ملاحظہ کریں ۔

مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی اکابر اپنی فتاوٰی کی کتاب فتاوٰی رشید یہ میں تقویۃ الایمان کے بارے میں لکھتا ہے :
کتاب تقویۃ الایمان نہایت ہی عمدہ کتاب ہے اسکارکھنا اور پڑھنا اور عمل کرنا عین اسلام ہے ۔ (فتاویٰ رشیدیہ ص351)
جو تقویۃالایمان کو کفر اور مولوی اسمعیل کو کافر کہے وہ خود کافر اور شیطان ملعون ہے ۔ (فتاوٰی رشید یہ ص252،356)
مولوی اسمعیل دہلوی قطعی جنتّی ہیں ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص252)
نذر و نیاز حرام ہے ، پیر یا استاد کی برسی کرنا خلافِ سنّت و بدعت ہے ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص461)
بروز ختم قرآن شریف مسجد میں روشنی کرنا بد عت ونا جائز ہے ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص 460)

مولوی اسماعیل دہلوی لکھتا ہے : اللہ کے مکر سے ڈرنا چاہئیے ۔(تقویۃ الایمان ص55)

اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے اور ہر انسان نقص و عیب اس کے لئے ممکن ہے ۔ ( رسالہ یک روزی)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کہ یمین اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد دیوبندیوں کے نزدیک مشرک ہیں۔ (فتاویٰ رشیدیہ)

دیوبندیوں کے نزدیک یزید (امیر المومنین جنّتی اور بے قصور )ہے ۔ ( رشید ابن رشید ، حیات سیّدنا یزید )

اصل اختلاف کیا ہے ؟ : اہلسنّت وجماعت اور دیوبندیوں کا اصل اختلاف یہ نہیں ہے کہ اہلسنّت کھڑے ہوکر درود و سلام پڑھتے ،نذر و نیاز کرتے ہیں ،وسیلے کے قائل ہیں ،مزارات پر حاضری دیتے ہیں اور دیوبندی اس تما م کارِخیر سے محروم ہیں بلکہ اصل اختلاف جس نے اُمت مسلمہ کو دو دھڑوں میں بانٹ دیا وہ اکابر دیوبند یعنی دیو بندیوں کا پیشواؤں کی وہ کفر یہ عبارات ہیں جو ہم نے پیچھے تحریر کیں جن میں کھلم کھلا سرکارِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کرکے اسلام کی دجیاں بکھیری گئی ہیں ۔دیوبندی ادارے آج بھی ان کفر یہ عبارات کو کتابوں میں شائع کرتے ہیں اس کی تردید بھی نہیں کرتے ،اس کے خلاف بھی کچھ نہیں کہتے ۔
ان میں دارالعلوم دیوبند ،تبلیغی جماعت ،جمعیت علماءاسلام ،جماعتِ اسلامی ،سپاہ صحابہ ،جمعیت علماءہند ،تنظیم اسلامی ،جیشِ محمد ،حزب المجاہدین وغیرہ تمام دیوبندی تنظیمیں ان باطل عقائد پر مشتمل ہیں جو اپنے آپ کو آج کل اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی دیوبند ی مکتبہ فکر کا لیبل لگا کر پیش کرتے ہیں یہ ان کے علماءکفریہ عبارات سے توبہ کرتے ہیں نہ یہ کہتے ہیں کہ ان عبارات کو لکھنے والے ہمارے اکابر ین نہیں ہیں بلکہ ان سب کو اپنا امام مجدّد اور حکیم الامت کہتے ہیں اور مانتے بھی ہیں ۔

اس اختلاف کا حل یہ ہے : اگرآج بھی دیوبندی اپنے ان بڑوں کی کفر یہ عبارات سے توبہ کرکے ان تمام کفر آمیز کتب سے بیزاری کا اظہار کرکے انہیں دریا برد کردیں تو اہلسنّت کا اعلان ہے کہ وہ ہمارے بھائی ہیں ۔

دیوبندی شاطروں کی چال : علماء دیوبند یا عوامِ دیوبند کبھی بھی اپنے ان عقائد کو آپ پر ظاہر نہیں کریں گے بلکہ ان عبارات کا زبان سے انکار بھی کریں گے تاکہ بھولی بھالی عوام کو دھوکہ دے سکیں یاد رکھئے زہر کھلانے والا کبھی بھی سامنے زہر نہیں دیگا ورنہ کوئی اسے نہیں کھائے گا اس کی چال یہ ہوتی ہے کہ مٹھائی کے اندر ڈال کر دیگا اور کہے گا کہ کھاؤ یہ مٹھائی ہے اس مٹھائی کو دیکھ کر قوم اسے کھائے گی ۔
آج دیوبندی یہ چال چل کر لاکھوں لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں نماز نماز کہہ کر لوگوں کو لے کر جاتے ہیں اس طرح انہوں نے لاکھوں لوگوں کو بد مذہب کردیا ،لاکھوں نوجوانوں کو مفتی بنادیا کہ وہ مسلمان پر بدعتی اور مشرک کے فتوے لگائیں یہی وجہ ہے کہ آج گھر میں یہ ماڑ دھاڑ ہے اولاد والدین پر بدعتی اور مشرک کے فتوے لگاتی ہے خدارا !اپنی نوجوان نسل کا خیال رکھو ان کی تربیت کر و،انہیں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مائل کرو یہی فلاح و کامرانی کا راستہ ہے ۔

قرآن مجید کے ترجموں میں خیانتیں و کفریہ عبارات،خود بدلتے نہیں قرآن بدل دیتے ہیں

(1) القرآن :ولما یعلم اللّٰہ الذین جاھد وا منکم۔ (سورہ اٰل عمران آیت نمبر142،پارہ 4)
ترجمہ :حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔(فتح محمد جالندھری دیوبندی )

ترجمہ : حالانکہ ہنوز اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم سے جہاد کیاہو۔(اشرفعلی تھانوی دیوبندی)
ان دونوں دیوبندی مولویوں نے اللہ کو (معاذ اللہ )بے خبر لکھا ہے جو کہ کفر ہے ۔

امام اہلسنّت امام احمد رضا خان صاحب محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا ترجمہ اپنے ترجمہ قرآن کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔ ترجمہ :اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا ۔(امام اہلسنّت )

(2) القرآن :ویمکرون ویمکر اللّٰہ واللّٰہ خیر المٰکرین ۔(سورہ انفال ،پارہ نمبر 9)
ترجمہ :وہ بھی داؤ کرتے تھے اور اللہ بھی داؤ کرتا تھا اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے ۔(محمود الحسن دیوبندی )

ترجمہ :اور وہ بھی فریب کرتے تھے اور اللہ بھی فریب کرتا تھا اوراللہ کا فریب سب سے بہتر ہے ۔(شاہ عبدالقادر )
ان دونوں دیوبندی مولویوں نے اللہ تعالیٰ کو مکرو فریب کرنے والا لکھاہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ایسے الفاظ کا استعمال کفرنہیں ہے ؟

امام اہلسنّت امام احمد رضا خانصاحب محدث بریلی علیہ الرحمہ اس آیت کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔
ترجمہ :اور وہ اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرما تا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر ۔(کنز الایمان)

(3) القرآن :ووجدک ضالا فھدی ۔(سورہ والضحیٰ آیت نمبر 7)
ترجمہ :اور آپ کو بے خبر پایا سو رستہ بتایا ۔(عبدالماجد دریا بادی دیوبندی )

ترجمہ :اور اللہ تعالیٰ نے آپکو شریعت سے بے خبر پایا سو آپ کو شریعت کا رستہ بتلا دیا ۔(اشرف علی تھانوی دیوبندی )
ان دونوں دیوبندی مولویوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بے خبر اور بھٹکا ہوالکھا ہے اگر نبی بھولا بھٹکا اور بے خبر ہوگا تو پھر وہ اُمت کو کیا راستہ دکھائے گا نبی تو پیدائشی نبی اور ہدایت یا فتہ ہوتا ہے ۔

امامِ اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا ن صاحب محدث بریلوی علیہ الرحمہ اس کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔
ترجمہ :اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تواپنی طرف راہ دی ۔

(4) القرآن :ان المنا فقین یخادعون اللّٰہ وھو خاد عھم ۔(سور ہ نساءآیت 142،پارہ 5) ترجمہ :منافقین دغابازی کرتے ہیں اللہ سے اور اللہ بھی ان کو دغا دیگا ۔
(محمود الحسن دیوبندی ، شاہ عبدالقادر )

ان دونوں دیوبندیوں نے اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے والا لکھا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات عیب سے پاک اس طرح کی چیز وں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا کفر ہے ۔

امام اہلسنّت امام احمد رضا خان صاحب محّدث بریلوی علیہ الرحمہ اس آیت کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔
ترجمہ:بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی ان کو غافل کرکے ماریگا ۔ (کنز الایمان ترجمہ قرآن)
آپ حضرات نے دیوبندیوں مولویوں کے تراجم کی جھلک ملاحظہ فرمائی آپ حضرات فیصلہ کریں کہ ان لوگوں نے قرآن مجید کے تراجم میں خیانت نہیں کی کیا ایسے لوگ اسلام کے چہرے کو منع نہیں کررہے ؟کیا ان لوگوں کے پیچھے نماز جائز ہوسکتی ہے؟ کیا ان لوگوں کے تراجم ہمیں پڑھنے چاہئیے ؟ کیا ہم ان لوگوں سے کوئی اصلاحی کوششوں کی امید رکھیں ؟ نہیں ہرگز نہیں ان باطل عقائد رکھنے والوں کا اسلام سے دور تک کابھی کوئی واسطہ نہیں ۔​
اہم نوٹ : مضمون دیئے گئے حوالہ جات کی اصل کتب ہمارے پاس موجود ہیں جب چاہیں جہاں چاہیں ہم دیکھا سکتے ہیں اور تراجم قرآن بھی ہمارے پاس موجود ہیں ۔ کوئی بھی منکر انہیں غلط ثابت کر کے دیکھائے ۔

(ترتیب و پیشکش : ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

20/07/2024

The Prophet ﷺ & Children

There was no one more loving and kinder to children than him. This testimony was from none other than Anas b. Mālik who served him for ten years from when he was a young boy.

Throughout this time, he would recall, the Prophet never cursed him, nor spoke to him harshly, nor asked him “Why did you do so and so?” nor “Why didn’t you do so-and-so?” (Bukhārī)

Many years later, he would say, “Not a single night passes except that I see my beloved ﷺ in my dream.” Anas would say this and then cry. He would say, “I hope I will get to meet him ﷺ on the Day of Judgement – I will say to him: “O Messenger of Allah, your little servant!”

He would ask children about their interests and concerns, and console them for their losses. He would initiate salām when he would pass by them playing. He honoured them and made beautiful duʿās for them in their presence.

Ṣalla Allāhu ʿalayhi wa sallam.

01/07/2024

To join human sahyog foundation contact us

25/06/2024

مکہ سے کربلا تقریباً 1731 کلومیٹر ہے۔
یہ فاصلہ گوگل میپ کے مطابق 18 گھنٹے بذریعہ مشینری مطلب گاڑی وغیرہ میں طے کیا جا سکتا ہے مگر آج سے1381 سال پہلے یہ فاصلہ ایک مُشکل اور تکلیف دہ راستہ تھا، جس پر امام حُسین علیہ السلام نے اپنا سفر 8 ذلحج 60 حجری یعنی 10 ستمبر 680 عیسوی کو اپنے اہل خانہ کیساتھ شروع کیا۔

سفر شروع کرنے کے بعد تاریخ کی کتابوں میں 14 مختلف مقامات کا ذکر ملتا ہے، جہاں امام نے یا پڑاؤ کیا یا مختلف لوگوں سے ملے اور یا لوگوں سے خطاب کیا۔۔
اس آرٹیکل میں ان 14 مقامات کا سرسری ذکر کیا جائے گا تاکہ جو لوگ نہیں جانتے اُنہیں سفر اور راستے کی تھوڑی آگاہی ہوسکے۔

نمبر 1: الصفا
یہ پہلا مقام تھا امام علیہ السّلام اس جگہ پر عرب کے مشہور شاعر الفرزدق سے ملے اور اُس سے کوفہ کے حالات پُوچھے ، شاعر بولا ” کوفہ والوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور اُن کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں”۔
شاعر نے امام کو کوفہ جانے سے روکا، مگر امام علیہ السّلام اپنا سفر شروع کر چُکے تھے۔

نمبر 2: ذات عرق
مکہ سے کوفہ جاتے ہُوئے یہ دوسرا مقام ہے جو مکہ سے تقریباً 92 کلومیٹر پر ہے، اس مقام پر امام علیہ السّلام اپنے کزن عبداللہ ابن جعفر سے ملے اور اس مقام پر عبداللہ ابن جعفر نے اپنے دونوں بیٹوں عون اور مُحمد کو امام علیہ السّلام کی خدمت میں پیش کیا اور ساتھ ہی امام علیہ السّلام کو کوفہ جانے سے روکا، جس پر امام علیہ السّلام نے جواب دیا:
”میری منزل اللہ کے ہاتھ میں ہے”۔

نمبر 3: بطن الروما۔
یہ مقام ذات عرق سے کُچھ کلومیٹر آگے ہے یہاں امام علیہ السّلام نے قیس بن مشیر کے ہاتھ کوفہ والوں کو خط لکھا اور یہاں امام علیہ السّلام کی مُلاقات عبداللہ بن مطیع سے ہُوئی جو عراق سے آرہا تھا۔ عبداللہ نے امام علیہ السّلام کو آگے جانے سے روکا اور بولا ” کوفہ والوں پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا وہ اہل وفا میں سے نہیں" مگر امام علیہ السّلام نے اپنا سفر جاری رکھا۔

نمبر 4: زرود۔۔
حجاز کی پہاڑیوں پر یہ ایک چھوٹا سا ٹاون تھا اور یہاں پر حجاز کی پہاڑیوں کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اور عرب کا تپتا ریگستان شروع ہوتا ہے۔ یہاں امام علیہ السّلام کی مُلاقات زُہیر ابن القین سے ہُوئی۔ اُسے جب پتہ چلا کہ امام علیہ السّلام کس مقصد کے لیے جارہے ہیں تو اُس نے اپنا تمام سامان اپنی بیوی کے حوالے کیا اور اُسے کہا کہ تم گھر جاؤ میری خواہش ہے کہ میں امام علیہ السّلام کے ساتھ قتل ہو جاؤں۔

نمبر 5: زبالہ
اس مقام پر امام علیہ السّلام کی مُلاقات دو آدمیوں سے ہُوئی جن کا تعلق عرب کے قبیلہ اسدی سے تھا انہوں نے امام علیہ السّلام کو کوفہ والوں کے ہاتھوں جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر دی۔
امام علیہ السّلام نے فرمایا "بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں اور بیشک وہ ہماری قُربانیوں کا حساب رکھنے والا ہے”۔
اس مُقام پر امام علیہ السّلام نے اپنے ساتھ چلنے والوں کو بتایا کے جناب مُسلم اور جناب ہانی کو شہید کر دیا گیا ہےاور کوفہ والے ہماری نُصرت نہیں کریں گے، امام علیہ السّلام نے اس مقام پر فرمایا جو چھوڑ کر جانا چاہتا ہے واپس چلا جائے۔

بہت سے قبائل جو راستے میں امام علیہ السّلام کے ساتھ اس اُمید پر چل پڑے تھے کہ اُنہیں مال و دولت ملے گی اس مقام پر ادھر اُدھر بکھر گئے اور واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور امام علیہ السّلام کے ساتھ اُن کے اہل خانہ سمیت تقریباً پچاس لوگ رہ گئے۔

نمبر 6: بطن العقیق
اس مُقام پر امام علیہ السّلام اکرمہ قبیلے کے ایک آدمی سے ملے جس نے امام کو آگاہ کیا کہ "کوفہ میں آپ کا کوئی دوست نہیں، کوفہ کو یزید کے لشکر نے گھیرے میں لے لیا ہے اور اُس کے داخلی اور خارجی دروازے بند کر دئیے ہیں اور کوفہ تشریف نہ لے جائیں” ۔ یہاں بھی امام علیہ السّلام نے اپنا سفر جاری رکھا۔

نمبر 7: Sorat
اس مُقام پر امام علیہ السّلام نے رات بسر کی اور صبح اپنے قافلے سے کہا کہ جتنا پانی ہوسکتا ہے ساتھ لے لیں۔

نمبر 8: شرف
اس مُقام پر امام علیہ السّلام کے ساتھیوں میں سے ایک چلایا کے اُس نے ایک لشکر کو اپنی طرف آتے دیکھا ہے، امام علیہ السّلام فوراً قافلے کا رُخ موڑ کر قریب ایک پہاڑ کے پیچھے لے گئے۔

نمبر 9: ذو حسم۔۔
اس مُقام پر امام علیہ السّلام کی مُلاقات حُر اور اُس کے ایک ہزار سپاہیوں ہُوئی جو پیاسے تھے، امام علیہ السّلام نے سب کو پانی پلانے کا حُکم دیا اور بذات خُود بھی سب کو پانی پلایا اور جانوروں کو بھی پانی پلایا گیا، اس مُقام پر ظہر کی نماز ادا کی گئی اور سب نے ملکر امام علیہ السّلام کی امامت میں نماز ظہر ادا کی۔

اس مُقام پر امام علیہ السّلام نے حُراور اُس کی فوج سےخطاب کیا اور فرمایا ، مفہوم” او اہل کوفہ تُم لوگوں نے میرے پاس اپنے قاصد بھیجے اور مُجھے خطوط لکھے کہ تُم لوگوں کے پاس کوئی امام نہیں اور میں کوفہ آؤں اور تم لوگوں کو اللہ کے راستے میں اکھٹا کرؤں اور تم لوگ میری بیعت کر سکو، تم لوگوں نے لکھا کے آپ اہل بیعت ہیں اور ہمارے معاملات کو اُن لوگوں کی نسبت جو ناانصافی کرتے ہیں اور غلط ہیں، بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں، مگر اگر تُم لوگوں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے اور مُنکر ہوگئے ہو اور اہل بیعت کے حقوق نہیں جانتے اور اپنے وعدوں سے پھر گئے ہوتو میں واپس چلا جاتا ہُوں”۔
حُر کے لشکر نے امام کو واپس نہیں جانے دیا اور اُنہیں گھیر کر کوفہ کی بجائے کربلا کی طرف لے گئے۔

نمبر 10: بیضہ
امام علیہ السّلام اگلے دن بیضہ پہنچے اور اس مقام پر پھر حُر کے لشکر سے خطاب کیا آپ نے فرمایا، مفہوم "لوگو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص ایسے بادشاہ کو دیکھے جو ظالم ہو اللہ کے حرام قرار دئیے کو حلال کہے ، خُدائی عہدوپیمان کو توڑے ، سنت رسول کی مخالفت کرے اور اللہ کے بندوں پر گُناہ اور زیادتی کیساتھ حکومت کرتا ہو، تو وہ شخص اپنی زبان اپنے فعل اور اپنے ہاتھ سے اُس بادشاہ کو نہ بدلے تو اللہ کو حق پہنچتا ہے کے ایسے شخص کو اُس بادشاہ کی جگہ جہنم میں داخل کرے”۔
امام علیہ السّلام نے اس مُقام پر مزید فرمایا ، مفہوم” لوگو تمہیں معلوم نہیں کہ جن لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیارکی اور اللہ سے مُنہ پھیرا، مُلک میں فساد برپا کیا، حدود شرح کو معطل کیا اور مال غنیمت کو اپنے لیے مختص کر دیا، ایسی صورت میں مُجھ سے زیادہ کس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اصلاح کی کوشش کرے، میرے پاس تمہارےقاصد آئے اور خطوط پہنچے کے تُم نے بیعت کرنی ہے اور تُم میرے مدد گار بنو گے اور مُجھے تنہا نہ چھوڑو گے، پس اگر تُم اپنا وعدہ پُورا کرو گے تو سیدھے راستے پر پہنچو گے”۔

امام علیہ السّلام نے یہاں لوگوں کو اپنے حسب اور نسب کا حوالہ دیا اور فرمایا، مفہوم "اگر تُم اپنے وعدے سے پھر جاؤ گے تو تعجب نہیں، تُم اس سے پہلے میرے والد اور میرے چچا زاد بھائی مُسلم کیساتھ ایسا ہی کر چُکے ہو اور عنقریب اللہ مُجھے تمہاری مدد سے بے نیاز کر دے گا”۔

امام علیہ السّلام کی تقریر سُن کر حُر نے امام سے کہا کہ اگر آپ نے جنگ کی تو آپکو قتل کر دیا جائے گا، امام نے فرمایا "تُم مُجھے موت سے ڈراتے ہو اور کیا تمہاری شقاوت اس حد تک پہنچے گی کہ مُجھے قتل کر دو گے”۔

حُر کے لشکر پر کوئی اثر نہ ہُوا اور وہ امام علیہ السّلام کو کربلا کی طرف گھیر کر لیجاتے رہے۔

نمبر 11: عزیب الحجنات۔
اس مُقام پر امام علیہ السّلام کی مُلاقات طرماح بن عدی سے ہُوئی جس نے امام کو کوفے والوں کے خطرناک ارادے سے آگاہ کیا، جسے امام پہلے ہی جانتے تھے اور امام سے اپنے ساتھ کوہ آجاہ چلنے کی درخواست کی تاکہ امام وہاں پناہ لے سکیں۔ امام نے فرمایا، مفہوم "اللہ تعالی تمہیں اور تمہاری قوم کو جزائے خیر دے، ہم میں اور ان لوگوں میں عہد ہو چُکا ہے اور اب ہم اس عہد سے پھر نہیں سکتے”۔

نمبر 12: قصر بنی مقاتل۔۔
فیصلہ ہوچُکا تھا کہ امام کو کوفہ نہیں جانے دیا جائے گا چنانچہ حُر کے لشکر نے کوفہ کا راستہ بدل کر امام علیہ السّلام کوگھیر کر کربلا کی طرف لیجانا شروع کیا اور امام علیہ السّلام راستے میں قصر بنی مقاتل رُکے اور شام کے وقت میں امام نے فرمایا ” بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں”۔

امام کے 18 سالہ بیٹے علی اکبر امام کے قریب آئے تو امام علیہ السّلام نے فرمایا کہ اُنہوں نے خواب میں کسی کو کہتے سُنا ہے کہ یہ لوگ اُنہیں قتل کرنے والے ہیں۔ جس پر جناب علی اکبر نے امام علیہ السّلام کو تسلی دی اور فرمایا، مفہوم ” کیاہم سیدھے راستے پر نہیں ہیں”۔

نمبر 13: نینوا۔۔
اس مُقام پر حُر کو ابن زیاد کا خط ملا جس میں اُس نے لکھا تھا کہ امام علیہ السّلام جہاں ہیں اُنہیں وہیں روک لواور اُنہیں ایسی جگہ اُترنے پر مجبور کردو جہاں پانی اور ہریالی نہ ہو۔
حُر نے امام علیہ السّلام کو ابن زیاد کے خط سے آگاہ کیا۔ آپ نے فرمایا ہم اپنی مرضی سے نینوا میں خیمہ زن ہوں گے۔ جس پر حُر نے کہا کہ ابن زیاد کے جاسوس ہر چیز کی نگرانی کر رہے ہیں لہذا میں آپ کو ایسا نہیں کرنے دے سکتا، پھر امام کا قافلہ ایک مقام پر پہنچا تو امام نے پُوچھا اس جگہ کا کیا نام ہے؟ کسی نے جواب دیا کربلا۔ امام علیہ السّلام نے فرمایا یہ کرب و بلا کی جگہ ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمیں قتل کیا جائے گا۔

نمبر 14: کربلا
امام علیہ السّلام کے حکم پر کربلا کے میدان میں خیمے گاڑ دئیے گئے ۔ دریائے فرات خیموں سے کُچھ میل کے فاصلے پر تھا اور یہ 2 محرم 61 ہجری کا دن تھا اور عیسوی کلینڈر پر 3 اکتوبر 680 کی تاریخ تھی۔

نوٹ: اس آرٹیکل میں کربلا کے حالات تفصیلاً بیان نہیں کیے جارہے ۔
اس آرٹیکل کا مقصد امام علیہ السّلام کے مکہ سے کربلا تک کے سفر میں آنے والی منازل اور چیدہ چیدہ واقعات کا ذکر کرنا تھا تاکہ جو لوگ نہیں جانتے اُنہیں 1731 کلومیٹر کے امام کے اس سفر کی تھوڑی آگاہی ہو۔

12/03/2024

الإيمان :صبر وشكر

Want your school to be the top-listed School/college in Calicut?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Kozhikode
Calicut