29/07/2026
میں نے 24 جولائی 2026 کو اہل حدیث عالم صدیق رضا صاحب کو کہا تھا کہ آپ تین طـلاق کے مسئلے پر اپنا دعویٰ ریکارڈ کروا دیں۔ تو صدیق رضا صاحب نے 27 جولائی 2026 کو دعویٰ ریکارڈ کروایا
جناب صدیق رضا صاحب! میری آپ سے گزارش ہے کہ میں نے آپ کو جو کہا تھا، وہ ذرا آپ دوبارہ سن لیں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اہل حدیث کا دعویٰ یہ ہے کہ اگر کوئی رخصتی کے بعد بیوی کو یوں کہہ دے کہ 'تمہیں طـلاق ہے، طـلاق ہے، طـلاق ہے' تو ناجائز ہونے کی وجہ سے یہ طـلاقیں واقع نہیں ہوتیں یعنی اہل حدیث کا اصل دعویٰ یہ ہے کہ طلاق اگر شر-یع-ت کے خلاف طریقے سے دی جائے تو وہ واقع نہیں ہوتی، شر-یع-ت کے مطابق دی جائے تو وہ واقع ہوتی ہے
اگر یہی دعویٰ ہے آپ کا، تو کائنڈلی صدیق رضا صاحب آپ فوراً سے پہلے یہ ویڈیو اپلوڈ کر دیں کہ "ہاں جی مفتی صاحب! ہمارا یہی دعویٰ ہے کہ رخصتی کے بعد اگر کوئی ناجائز طریقے سے بیوی کو طـلاق دے گا تو طـلاق واقع نہیں ہوگی، جائز طریقے سے دے گا تو طـلاق واقع ہوگی۔"
میں نے 24 جولائی 2026 کو جو ویڈیو ریکارڈ کروائی تھی، اس میں کہا تھا کہ اہل حدیث کا اصل دعویٰ یہ ہے کہ جو بھی طـلاق ناجائز ہوتی ہے وہ واقع نہیں ہوتی۔ تو کیا یہی دعویٰ ہے؟ لیکن جناب صدیق رضا صاحب نے جو اس کا جواب دیا ہے، وہ جواب بہت ہی مبہم جواب ہے انہوں نے کہا کہ نہیں، ایک مجلس کی تین طـلاقیں ایک ہوتی ہیں، یہ ہمارا دعویٰ ہے۔
جناب ایسا نہیں ہے۔ دیکھیں، نہ اپنا ٹائم ضائع کریں، نہ میرا ٹائم ضائع کریں۔ لوگ سمجھیں گے کہ یہ دونوں لوگ جو ہیں نا، آپس میں بیٹھ کے تماشے کر رہے ہیں میڈیا پہ۔ انہوں نے بیٹھنا بٹھنا نہیں ہے
تو آپ صاف لفظوں میں اپنا دعویٰ ریکارڈ کروائیں۔ کیونکہ جب آپ نے یہ کہا نا کہ "ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ایک مجلس کی تین طـلاقیں ایک ہوتی ہیں"، تو اس سے یہ میسج جا رہا ہے گویا کہ تین مجلسوں کی تین طـلاقیں تین ہوتی ہیں
مفتی طارق مسعود