Madarsa Hanfiya Darul Qirat

Madarsa Hanfiya Darul Qirat Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Madarsa Hanfiya Darul Qirat, Education, Jaharlong kander Bokaro, Bokaro Steel City.

۔
روزانہ تھوڑا علم سیکھنا، علم چھوڑ دینے سے بہتر ہے۔
جو علم دوسروں تک پہنچاتا ہے، اس کا اجر جاری رہتا ہے۔
کتاب کو اپنا دوست، استاد کو اپنا رہنما اور علم کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔
علم کے ساتھ ادب نہ ہو تو علم کی برکت کم ہوجاتی ہے۔

مدرسہ اہلسنّت حنفیہ دار القرأت جہارلونگ کی طرف سے 🌹 عید میلاد النبی ﷺ آپ سب کو بہت بہت مبارک ہو! 🌹
26/08/2026

مدرسہ اہلسنّت حنفیہ دار القرأت جہارلونگ کی طرف سے
🌹 عید میلاد النبی ﷺ آپ سب کو بہت بہت مبارک ہو! 🌹

🐑 جانور ذبح کرنے کی فضیلتاسلام میں حلال جانور کو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر شرعی طریقے سے ذبح کرنا ایک جائز اور باعثِ اجر ...
25/08/2026

🐑 جانور ذبح کرنے کی فضیلت
اسلام میں حلال جانور کو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر شرعی طریقے سے ذبح کرنا ایک جائز اور باعثِ اجر عمل ہے، خصوصاً جب اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا، قربانی، صدقہ یا اللہ کی نعمت کا شکر مقصود ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ۝
"پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔"
(سورۃ الکوثر: 2)
قربانی کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنْكُمْ
"اللہ تعالیٰ کو ان قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا، بلکہ تمہاری پرہیزگاری اس تک پہنچتی ہے۔"
(سورۃ الحج: 37)
یعنی اصل چیز جانور کا گوشت یا خون نہیں بلکہ اخلاص اور تقویٰ ہے۔
🌹 ذبح کرتے وقت رحم کا حکم
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ
"بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان کو لازم فرمایا ہے۔ جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، اپنی چھری کو تیز کرلو اور جانور کو آرام پہنچاؤ۔"
(صحیح مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانور ذبح کرنا محض جانور کو مارنا نہیں، بلکہ شرعی طریقے، اللہ کا نام، اور جانور کے ساتھ رحم و احسان ضروری ہے۔
خلاصہ: حلال جانور کو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر شرعی طریقے سے ذبح کرنا جائز ہے، اور اگر نیت اللہ کی رضا، قربانی، صدقہ یا
لوگوں کو کھانا کھلانے کی ہو تو یہ باعثِ ثواب عمل بن جاتا ہے۔

ششماہی امتحان 2026مدرسہ اہلسنّت حنفیہ دار القرأتمقام: جہارلونگ، پوسٹ کنڈر، ضلع بوکارو، جھارکھنڈ
24/08/2026

ششماہی امتحان 2026
مدرسہ اہلسنّت حنفیہ دار القرأت
مقام: جہارلونگ، پوسٹ کنڈر، ضلع بوکارو، جھارکھنڈ

جنت کی نہریں 🌿✨اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک اور پرہیزگار بندوں کے لیے ایسی جنت تیار فرمائی ہے جس کی نعمتوں کا دنیا میں مکمل ت...
24/08/2026

جنت کی نہریں 🌿✨

اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک اور پرہیزگار بندوں کے لیے ایسی جنت تیار فرمائی ہے جس کی نعمتوں کا دنیا میں مکمل تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جنت میں نہ ایسی گرمی ہوگی جو انسان کو تکلیف دے، نہ ایسی سردی جو پریشان کرے، نہ بیماری ہوگی، نہ بڑھاپا، نہ غم اور نہ موت۔ وہاں ہر طرف سکون، خوشی، خوبصورتی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہوں گی۔ انہی عظیم نعمتوں میں جنت کی نہریں بھی شامل ہیں۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے جنت کی نہروں کا بار بار ذکر فرمایا ہے:

﴿جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾

ترجمہ: ایسے باغات جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔

جنت کی نہریں دنیا کی نہروں جیسی نہیں ہوں گی۔ دنیا کا پانی کبھی گدلا ہوتا ہے، کبھی بدبودار اور کبھی آلودہ ہو جاتا ہے، لیکن جنت کی نہریں پاکیزہ، صاف اور بے مثال ہوں گی۔

رسول اللہ ﷺ نے جنت کی ایک نہر کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ اس کے کنارے سونے کے ہوں گے، اس کی گزرگاہیں موتیوں اور جواہرات کی ہوں گی، اس کی مٹی کستوری سے زیادہ خوشبودار ہوگی، اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ سفید ہوگا۔

ذرا تصور کیجیے! ایسی نہر جس کے کنارے سونے کے ہوں، جس کی مٹی سے کستوری جیسی خوشبو آئے، جس کا پانی بے حد صاف، میٹھا اور ٹھنڈا ہو—یہ جنت کی ایک نہر کا حال ہے، تو پوری جنت کی شان و عظمت کیا ہوگی!

احادیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جنت کی نہریں کستوری کے ٹیلوں اور پہاڑوں کے نیچے سے نکلیں گی۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں پانی کا ایک سمندر، دودھ کا ایک سمندر، شہد کا ایک سمندر اور ایک شراب کا سمندر ہوگا، پھر ان سے مختلف نہریں جاری ہوں گی۔

قرآنِ کریم میں بھی جنت کی نہروں کی مختلف اقسام کا ذکر ہے:

﴿فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾

ترجمہ: اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو کبھی بدبودار نہ ہوگا، اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ نہیں بدلے گا، اور پینے والوں کے لیے لذت والی شراب کی نہریں ہیں، اور خالص شہد کی نہریں ہیں۔

یہ جنت کی وہ نعمتیں ہیں جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایمان والے بندوں سے فرمایا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جنت کی یہ نعمتیں کس کو ملیں گی؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴾

ترجمہ: اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم نماز کی پابندی کریں، گناہوں سے بچیں، قرآنِ کریم سے تعلق مضبوط کریں، والدین کی خدمت کریں، لوگوں کے حقوق ادا کریں، حلال رزق کمائیں اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

دنیا کی نہریں چند سال بعد خشک ہو سکتی ہیں، دنیا کی دولت ختم ہو سکتی ہے اور دنیا کی خوشیاں چھن سکتی ہیں، لیکن جنت کی نہریں ہمیشہ جاری رہیں گی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی عارضی نعمتوں کے بجائے جنت کی دائمی نعمتوں کا طلبگار بنائے، ہمیں نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں جنت الفردوس میں داخل فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔
محمد ہاشم رضا حنفی
پرنسپل مدرسہ حنفیہ دار القرأت جہارلونگ بوکارو جھارکھنڈ

23/08/2026
صدقہ کی فضیلتصدقہ اسلام کی نہایت عظیم عبادت ہے۔ صدقہ صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی ضر...
20/08/2026

صدقہ کی فضیلت

صدقہ اسلام کی نہایت عظیم عبادت ہے۔ صدقہ صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، یتیم کا سہارا بننا اور کسی مسلمان کے ساتھ بھلائی کرنا بھی صدقہ ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ

“اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو، اللہ اس کا بدلہ عطا فرماتا ہے، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔”
(سورۃ سبأ: 39)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

> وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ

“اور تم اپنے لیے جو بھلائی آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے پاس موجود پاؤ گے۔”
(سورۃ البقرۃ: 110)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ

“صدقہ گناہ کو اس طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔”
(جامع ترمذی)
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

> مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ

“صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔”
(صحیح مسلم)
یعنی انسان بظاہر اپنا مال اللہ کی راہ میں دیتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اپنا مال ضائع نہیں کرتا بلکہ آخرت کے لیے محفوظ کرتا ہے۔
صدقہ کی ایک بڑی فضیلت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ
“ہر شخص قیامت کے دن اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔”
(مسند احمد)
اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی استطاعت کے مطابق روزانہ یا ہفتہ وار کچھ نہ کچھ صدقہ ضرور کریں۔ رقم کم ہو تو بھی اخلاص کے ساتھ دیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدر مقدار کی نہیں، نیت اور اخلاص کی ہے۔

ایک روٹی کسی بھوکے کو، ایک لباس کسی محتاج کو، ایک دوا کسی مریض کو، ایک کتاب کسی طالب علم کو—یہ سب صدقہ بن سکتے ہیں۔
مدرسہ اہلسنّت حنفیہ دار القرأت جہارلونگ
Mob 9931441876

تنہائی کے گناہ سے بچنے کے 8 مؤثر طریقےانسان جب لوگوں کے درمیان ہوتا ہے تو عموماً اپنے اعمال اور حرکات کا خیال رکھتا ہے، ...
17/08/2026

تنہائی کے گناہ سے بچنے کے 8 مؤثر طریقے

انسان جب لوگوں کے درمیان ہوتا ہے تو عموماً اپنے اعمال اور حرکات کا خیال رکھتا ہے، لیکن جب وہ تنہائی میں ہوتا ہے تو اس کے ایمان کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ تنہائی میں انسان کے سامنے کوئی دنیاوی نگاہ نہیں ہوتی، مگر ایک حقیقت ہمیشہ موجود رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت ہمیں دیکھ رہا ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَىٰ﴾

"کیا انسان نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے؟"

اس لیے مؤمن کی شان یہ ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے بھی اللہ سے ڈرے اور تنہائی میں بھی اللہ کی نافرمانی سے بچے۔

1۔ سونے سے پہلے موبائل کمرے سے باہر رکھ دیں

آج کے دور میں تنہائی کے گناہوں کا ایک بڑا ذریعہ موبائل فون اور انٹرنیٹ ہے۔ انسان بستر پر اکیلا ہوتا ہے، موبائل ہاتھ میں ہوتا ہے اور چند لمحوں میں ایسی چیزیں سامنے آ جاتی ہیں جو دل اور ایمان دونوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

اس لیے کوشش کریں کہ سونے سے پہلے موبائل اپنے کمرے سے باہر رکھ دیں یا کم از کم اسے اپنے بستر سے دور رکھیں۔ جو شخص گناہ کے دروازے سے دور رہے گا، اس کے لیے گناہ سے بچنا آسان ہوگا۔

2۔ اکیلے ہوں تو دروازہ کھلا رکھیں

اگر کسی ایسے کام کے لیے تنہائی ضروری نہ ہو تو کوشش کریں کہ دروازہ کھلا رہے یا ایسی جگہ بیٹھیں جہاں گھر کے دوسرے افراد کی آمدورفت ہو۔

یاد رکھیں! شیطان انسان کو پہلے تنہائی کی طرف لے جاتا ہے، پھر گناہ کو معمولی بنا کر دکھاتا ہے۔ اس لیے احتیاط ایمان کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔

3۔ وضو کی حالت میں رہنے کی کوشش کریں

وضو صرف ظاہری پاکیزگی کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کو عبادت اور اللہ کی یاد کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

جب انسان باوضو رہتا ہے تو اس کے دل میں عبادت کا احساس پیدا رہتا ہے۔ تنہائی میں اگر گناہ کا خیال آئے تو فوراً وضو کریں، دو رکعت نفل پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔

4۔ جب دل گناہ کی طرف جائے تو فوراً جگہ بدل لیں

گناہ کے خیال سے لڑنے کا ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ انسان فوراً اپنی کیفیت اور ماحول کو تبدیل کر دے۔

اگر آپ کمرے میں اکیلے ہیں اور دل کسی گناہ کی طرف مائل ہو رہا ہے تو فوراً وہاں سے نکل جائیں، لوگوں کے درمیان بیٹھ جائیں، مسجد چلے جائیں، قرآن کی تلاوت شروع کر دیں یا کسی مفید کام میں مشغول ہو جائیں۔

گناہ کے مقام پر بیٹھ کر گناہ سے لڑنا مشکل ہے؛ اس لیے گناہ کے ماحول سے نکل جانا ہی بہترین حکمتِ عملی ہے۔

5۔ قرآنِ کریم کی تلاوت کریں، چاہے آڈیو ہی کیوں نہ ہو

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾

"خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔"

جب دل بے چین ہو، نفس گناہ کی طرف کھینچ رہا ہو یا انسان تنہائی میں کمزور محسوس کرے تو قرآنِ کریم کی تلاوت کرے۔ اگر خود پڑھنا ممکن نہ ہو تو قرآن کی آڈیو سن لے۔

قرآن دل کو مضبوط کرتا ہے اور انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی چند لمحوں کی لذت کے مقابلے میں آخرت کی کامیابی کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

6۔ اپنے آپ سے سوال کریں: "اگر ابھی موت آ گئی تو؟"

یہ سوال انسان کی زندگی بدل سکتا ہے:

"اگر میں ابھی مر گیا تو میرا انجام کیا ہوگا؟"

اگر انسان گناہ کرتے وقت یہ سوچ لے کہ شاید یہ میری زندگی کا آخری لمحہ ہے، تو بہت سے گناہ خود بخود چھوٹ جائیں گے۔

موت کسی خاص عمر کا انتظار نہیں کرتی۔ نہ نوجوانی موت سے محفوظ ہے، نہ صحت، نہ مال اور نہ تنہائی۔

اس لیے جب نفس گناہ پر اکسائے تو اپنے دل سے کہیں:

"اگر آج میری زندگی کا آخری دن ہے تو کیا میں اللہ تعالیٰ سے اسی حالت میں ملنا چاہوں گا؟"

7۔ درود شریف اور ذکر کے ذریعے اللہ سے مدد مانگیں

جب انسان تنہائی میں ہو تو اپنے دل کو خالی نہ چھوڑے۔ درود شریف، استغفار اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھے۔

مثلاً:

أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ

کثرت سے پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں:

"یا اللہ! مجھے ظاہر و باطن کے گناہوں سے محفوظ فرما، میرے دل کو پاک فرما اور مجھے اپنی نافرمانی سے بچا۔"

8۔ ایسے دوست بنائیں جو گناہ سے روکیں

انسان کی صحبت اس کی زندگی پر بہت اثر ڈالتی ہے۔ اگر دوست گناہ کی طرف لے جانے والے ہوں تو تنہائی میں بھی انسان کے ذہن میں وہی چیزیں گردش کرتی رہتی ہیں۔

اس لیے نیک، دیندار اور اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔ ایسے دوست بنائیں جو آپ کو نماز کی یاد دلائیں، قرآن سے جوڑیں، برائی سے روکیں اور نیکی کی طرف لے جائیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔"

تنہائی کا اصل امتحان

حقیقی تقویٰ یہ نہیں کہ انسان صرف لوگوں کے سامنے نیک نظر آئے، بلکہ حقیقی تقویٰ یہ ہے کہ جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو تب بھی انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔

لوگوں سے چھپ کر گناہ کرنا ممکن ہے، لیکن اللہ تعالیٰ سے چھپ کر گناہ کرنا ممکن نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ﴾

"وہ آنکھوں کی خیانت اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے۔"

لہٰذا تنہائی میں اپنے دل کو یہ یقین دلائیں کہ:

"میں اکیلا نہیں ہوں، میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔"

اختتامیہ

اگر کبھی تنہائی میں گناہ ہو جائے تو مایوس نہ ہوں۔ فوراً سچی توبہ کریں، گناہ کا راستہ چھوڑ دیں اور دوبارہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ آئیں۔

یاد رکھیں، شیطان چاہتا ہے کہ انسان پہلے گناہ کرے اور پھر یہ سوچ کر مایوس ہو جائے کہ اب اللہ مجھے معاف نہیں کرے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔

آج ہی عہد کریں:

یا اللہ! میں لوگوں کی نظر سے نہیں، تیری نظر سے ڈر کر زندگی گزاروں گا۔ مجھے تنہائی کے گناہوں سے محفوظ فرما، میرے دل کو پاک فرما اور آخری سانس تک ایمان و تقویٰ پر قائم رکھ۔ آمین۔

15/08/2026

Madarsa Hanfiya Darul Qirat Jaharlong

Address

Jaharlong Kander Bokaro
Bokaro Steel City
829123

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madarsa Hanfiya Darul Qirat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category