Khankahe Yasiniya Pamgarh Sharif"

Khankahe Yasiniya Pamgarh Sharif" سلسلہ عالئا یسینیا کالیمیاچشتیاقادریا علم معر فت الھی علم وحدت علم وجود اقوال صو فیا اکرام صوفیاناکلام

Majmaul bahrain Umdatul arifeen pire tariqat rahbare shariyat sufiye millat hazrat sufi syed Hasan ali yasini kalimi chi...
12/08/2026

Majmaul bahrain Umdatul arifeen pire tariqat rahbare shariyat sufiye millat hazrat sufi syed Hasan ali yasini kalimi chishti Qadri nizami faqri Qalandari rehmatullahi aleh pamgarh sharif ka salana urs tamam alame insaniyat ko mubarak

آ میر المؤمنین ، قاسمِ ولایت ، امامِ عادل ، خلیفۂ پنجم  ، امام الاولیاء ، سبطِ رسول پاک صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلّم، شبیہ رسو...
12/08/2026

آ میر المؤمنین ، قاسمِ ولایت ، امامِ عادل ، خلیفۂ پنجم ، امام الاولیاء ، سبطِ رسول پاک صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلّم، شبیہ رسول پاک صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلّم پاک، ریحانۃ النبی پاک صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلّم ، شہزادہ سیدہ فاطمتہ الزہرہ بتول پاک سلام ﷲ علیہا، نورِ چشمانِ سیدنا مولا علی المرتضی پاک علیہ السلام، سید السادات ، سید اوّل ، ، جانشینِ سیدنا یا محمد مصطفیٰ کریم پاک صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلّم پاک، وارثِ مسندِ سیدنا علی المرتضیٰ پاک علیہ السلام، سردار شباب اہل الجنہ ، شاہِ جود و سخا ، حضرت سیدنا امام حسن المجتبٰی پاک علیہ السّلام بے حد اور بے حساب درود وسلام یا سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ کریم پاک صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلّم پاک کی پاک ذات اقدس پر اور سیدنا حضرت امام حسن پاک علیہ السلام پاک کی پاک ذات اقدس پر اور آ پ علیہ السلام پاک کی پاک آ ل پاک علیہ السلام اور سلام ﷲ علیہا پر

ماشاءاللہ ــــــــــــ سبحان اللّٰہ ادب پہلا قرینہ ہے ــــــــ محبّت کے قرینوں میں سلسلہ چشتیہ کے عظیم روحانی پیشوا (14)...
04/08/2026

ماشاءاللہ ــــــــــــ سبحان اللّٰہ
ادب پہلا قرینہ ہے ــــــــ محبّت کے قرینوں میں

سلسلہ چشتیہ کے عظیم روحانی پیشوا
(14) ویں سجادہ نشین پیشوائے چشت
حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی
رحمۃ اللّٰہ علیہ چشت شریف میں پیدا ہوئے ۔
آپ کے والد کا نام
حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی
رحمۃ اللّٰہ علیہ ہے
آپ کے بھائی کا نام
حضرت شیخ تاج الدین ابو الفتح
رحمۃ اللّٰہ علیہ تھا۔
قطب الدین،
سلطان خواجہ مودود،
آقا مودود چشتی،
شمس الصوفیاء،
چراغ چشتیاں کے نام سے مشہور ہوئے ۔
سات سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کرچکے تھے۔
اور سولہ سال کی عمر میں
تحصیل علوم ظاہریہ فرما چکے تھے۔
آپ نے پندرہ سال کی عمر میں
کتاب منہاج العارفین لکھ ڈالی،
آپ کے دوسرے کتاب کا نام خلاصہ الشریعہ ہے
انتیس سال کی عمر میں والد کے انتقال کے بعد
آپ اپنے والد کے سچے جانشین تھے
اور ہدایت خلق میں
والد کی نیابت کا حق ادا کیا۔
چنانچہ کہتے ہیں
کہ آپ کے دس ہزار خلفاء تھے
اور مریدین کی تو کوئی انتہا ہی نہیں ہے۔
آپ کا سلسلہ دعوت اس قدر وسعت اختیار کر گیا،
اس کے اثرات صرف ہرات تک محدود نہ رہے،
بلکہ دور دور علاقوں مغرب میں خراسان،
عراق، شام اور حجاز تک
اور جنوب میں سیستان، بلوچستان
اور برصغیر پاک ہند و سندھ تک پہنچے،
مغرب میں آپ کے نظریات کی پرچار
آپ کے خلفاء نے کی،
ان میں حضرت خواجہ شریف زندنی
رحمۃ اللّٰہ علیہ
اور حضرت خواجہ عثم
ان ہارونی رحمۃ اللّٰہ علیہ قابل ذکر ہیں۔
آپ کے فرزند حضرت خواجہ نجم الدین احمد مشتاق
رحمۃ اللّٰہ علیہ بھی چست کے مقام پر دفن ہیں،
حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
رحمۃ اللّٰہ علیہ بھی آپ کی نسل سے تھے۔
پاکستان میں آپ کی اولاد مختلف علاقوں میں آباد ہے۔
آپ کی اولاد میں سے ایک مشہور بزرگ
حضرت خواجہ نظام الدین علی
رحمۃ اللّٰہ علیہ گذرے ہیں۔
جن کا مزار صوبہ بلوچستان کے شہر پشین کے نواح میں منزکی نامی مقام پر ہے۔ اس مقام پر آپ کی اولاد کثیر تعداد میں مقیم ہیں۔ صوبہ بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ کے مقام پر آپ کی اولاد میں سے ایک مشہور بزرگ حضرت خواجہ نقرالد ین چشتی مودودی المعروف شال پیر بابا رحمۃ اللّٰہ علیہ جن کا مزار کوئٹہ چھاونی میں قلعہ میری خان قلات کے قریب واقع ہے۔
آپ نے (93–94 سال) کی عمر میں وصال فرمایا آپ کا مزار چشت شریف ہرات میں ہے۔

عقیدت ــــــــــــــ مند

حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰہ علیہ قصبہ ’’ہارون یاہرون‘‘میں پیدا ہوئے ۔نام عثمان کنیت ابو النور تھی۔لقب: شیخ الاسل...
02/08/2026

حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰہ علیہ قصبہ ’’ہارون یاہرون‘‘میں پیدا ہوئے ۔نام عثمان کنیت ابو النور تھی۔لقب: شیخ الاسلام۔آپ ہارون کے رہنے والے تھے یہ نیشا پور کا ایک گاؤں ہے جس کی وجہ سے آپ کے نام کے ساتھ ہارونی لکھا جاتا ہے۔والد ماجد بھی جیدعالم تھے، اس لیے شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی علم کی طرف راغب ہو گئے اور والد ماجد کی بارگاہ میں رہ کر ابتدائی تعلیم حاصل کی، قرآن شریف حفظ کیا، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے اس زمانے کے علمی و فنی مرکز نیشاپور کا رخ کیا اور وقت کے مشاہیر علما و فضلا سے اکتساب علم کر کے جملہ علوم مروجہ ومتداولہ میں دسترس حاصل کی۔جلد ہی آپ کاشمار وقت کے علماءوفضلاءمیں ہونے لگا۔

ظاہری علوم کی تکمیل اس مرد باصفا کی آخری منزل نہ تھی۔اس لیے علوم باطنیہ کی تحصیل کاعزم مصمم کیا اللہ جل شانہ نے آپ کے پرخلوص ارادے کی بدولت امام الاولیاء،قطب الاقطاب سرتاج سلسلہ عالیہ چشتیہ بہشتیہ حضرت خواجہ محمد شریف زندنی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی خانقاہ معلیٰ میں پہنچادیا۔سلسلہ عالیہ چشتیہ میں ان کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور ان کی خدمت میں رہ کر سلوک کی منازل طے کرنے لگے۔عبادت وریاضت اور مجاہدۂ ومکاشفہ نے جب کندن بنادیا تونگاہ ِمرشدنے منصبِ خلافت کے لیے منتخب فرمالیا۔سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت سے سرفراز ہوئے۔اسی طرح حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے بھی فیض یاب ہوئے۔

جس دن حضرت عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰہ علیہ کو خرقہ خلافت ملا تو آپ کے پیرومرشد شریف زندنی نے کلاہ چار ترکی بھی آپ کے سر پر رکھا اور فرمایا کہ اس چار ترکی کلاہ سے مراد چار چیزوں کو ترک کردینا ہے:
۔ ترک دنیا۔
۔ ترک عقبیٰ۔ یعنی اللہ کی ذات کے سوا کوئی بھی مقصود نہ ہونا
۔ ترک کھانا پینا۔ اس سے مراد کم کھانا اور کم سونا ہے۔
۔ ترک خواہش نفس۔ یعنی جو کچھ نفس کہے اس کے خلاف کیا جائے۔

آپ کے چار مشہور خلفاء
حضرت خواجہ معین الدین چشتی سنجری رحمۃ اللّٰہ علیہ
حضرت خواجہ نجم الدین صغریٰ رحمۃ اللّٰہ علیہ
حضرت شیخ سعدی گنگوہی رحمۃ اللّٰہ علیہ
حضرت خواجہ محمد ترک رحمۃ اللّٰہ علیہ
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللّٰہ علیہ 32 سال اپنے مرشد کی بارگاہ میں رہے۔ 20 سال کی عمر میں آئے اور 52 سال کی عمر میں خلافت سے نوازے گئے۔

آخری وقت میں مکہ مکرمہ میں چلے گئے۔جنت المعلیٰ کے قریب دفن ہوئے۔

(بہار چشت ذکر خواجہ عثمان ہارونی)

بارگاہِ رسالت ﷺ میں قصیدۂ بردہ کی پیشی اور دنیا بھر میں شہرت عامامام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں سویا تو...
23/07/2026

بارگاہِ رسالت ﷺ میں قصیدۂ بردہ کی پیشی اور دنیا بھر میں شہرت عام

امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں سویا تو خواب میں مسیحِ کونین، شافیِ دارین، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوا۔ اسی عالمِ رؤیا میں میں نے یہ قصیدہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پڑھا۔

قصیدہ ختم ہونے کے بعد میں نے دیکھا کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے اعضاءِ حقیرہ پر اپنے دستِ نورانی کو پھیر رہے ہیں۔ جب آنکھ کھلی تو میں نے اپنے آپ کو بالکل صحت یاب پایا۔

اس خوشی، فرحت اور مسرت کے عالم میں علی الصباح اپنے گھر سے نکلا تو راستے میں حضرت شیخ ابو الرجاء الصدیق رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی، جو اپنے وقت کے قطب الاقطاب تھے۔

انہوں نے فرمایا:

"اے امام! وہ قصیدہ سناؤ جو تم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت میں تالیف کیا ہے۔"

چونکہ اس قصیدۂ شریف کا علم میرے سوا کسی کو نہ تھا، اس لیے میں نے عرض کیا:

"حضرت! آپ کون سا قصیدہ سننا چاہتے ہیں؟ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت میں بہت سے قصائد لکھے ہیں۔"

شیخ ابو الرجاء رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

"وہ قصیدہ سناؤ جس کا مطلع یہ ہے:"

أَمِنْ تَذَكُّرِ جِيرَانٍ بِذِي سَلَمِ
مَزَجْتَ دَمْعًا جَرَى مِنْ مُقْلَةٍ بِدَمِ

میں نے حیرت سے عرض کیا:

"یا ابا الرجاء! مِنْ أَيْنَ حَفِظْتَهَا؟"

"اے ابو الرجاء! آپ کو یہ قصیدہ کہاں سے یاد ہوا؟ میں نے تو یہ قصیدہ آج تک اپنی سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی کو نہیں سنایا، اور نہ ہی اب تک کوئی ایسا شخص میرے پاس آیا جسے میں نے یہ قصیدہ سنایا ہو۔"

حضرت ابو الرجاء رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

لَقَدْ سَمِعْتُهَا الْبَارِحَةَ تُنْشِدُهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَتَمَايَلُ وَيَتَحَرَّكُ اسْتِحْسَانًا، تَحَرُّكَ الْأَغْصَانِ الْمُثْمِرَةِ بِهُبُوبِ نَسِيمِ الرِّيَاحِ۔

پھر فرمایا:

"اے بوصیری! گزشتہ رات میں نے یہ قصیدہ اس وقت سنا جب تم بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اسے پڑھ رہے تھے، اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اظہارِ پسندیدگی کے لیے اس طرح تمایل و تحرک فرما رہے تھے جیسے پھلوں سے لدی ہوئی شاخ نرم ہوا کے جھونکوں سے جھومنے لگتی ہے۔"

علامہ بوصیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے فوراً وہ قصیدہ حضرت شیخ ابو الرجاء رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ اس کے بعد اس قصیدۂ مبارک کی شہرت پورے شہر میں عام ہو گئی۔





ٰﷺ




پاسِ انفاس(سانسوں کی حفاظت)حبس دم (شغلِ صوفیاء) ۔۔۔شغل کی جمع اشغال ہے۔ شغل سے مراد کسی کام ، بات، خیال یا آواز پر مکمل ...
21/07/2026

پاسِ انفاس(سانسوں کی حفاظت)

حبس دم (شغلِ صوفیاء)

۔۔۔
شغل کی جمع اشغال ہے۔ شغل سے مراد کسی کام ، بات، خیال یا آواز پر مکمل قلبی توجہ اور ذہنی یکسوئی کے ساتھ مشغول ہوجانا ہے۔اصطلاحاتِ تصوف میں ذات و صفات کا تصور کرنا اور اس میں محو ہوجانا شغل کہلاتا ہے جو منتج ہوتا ہے مراقبے پر۔ صوفیاء کے ہاں بہت سے اشغال رائج ہیں اور ان اشغال کا آخر و انجام مراقبہ ہے اور یہ اشغال صرف اس ہی حد تک عمل کرنے کے لیے ہیں کہ تصور ذات قائم ہوجائے۔
آیت قرآنی
إِنَّ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ ٱلۡيَوۡمَ فِي شُغُلٖ فَٰكِهُونَ (سورہ یٰسین آیت نمبر 55) ۔
بے شک آج کے دن جنتی لوگ اپنے شغل میں ہشاس بشاس ہیں۔

بالفاظ دیگر شغل یا مراقبہ کا مطلوب اپنی سوچ کو ایک خاص شئے پر مرکوز کرنا۔ مراقبہ یعنی ذہنی یکسوئی حاصل کرنا صدیوں سے انسانی عمل کا حصہ رہا ہے۔ مراقبہ ایک قلبی عمل ہے جو انسان سکون حاصل کرنے لیے کرتا ہے۔ جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مراقبہ ٹینشن ، بلند فشار خون ، ذہنی بیماریوںاور دل کی دیگر بیماریوں‌کے لیے موثر ہے ۔اسکے ساتھ ساتھ یہ ذہنی قابلیت،درازئ عمر اور قوت ارادی کو بھی مضبوط کرتا ہے۔

صوفیا ء کی اصطلاح کے مطابق مراقبہ کے معنی غور کرنا یا کسی چیز پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ جس کا مقصود یہ ہے کہ اپنے ذہن کو منتشر خیالات اور افکارِ پریشاں سے ہٹا کر یکسر بے نیاز ہو کر اللہ کی طرف یا اللہ کی کسی صفت کی طرف یا اس کی کسی نشانی کی طرف متوجہ ہو جانا ہے۔ اس معنی میں مراقبہ کی غرض وغایت یہ ہے کہ آدمی ظاہری حواس کو ایک نقطے پر مرتکز کر کے اپنی روح یا باطن کی طرف متوجہ ہو جائے تاکہ اس کے اوپر روحانی دنیا کے معانی و اسرار روشن ہو جائیں۔ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ایسے اشخاص جو اشعال سے عاری ہوتے ہیں ان میں دل کی کی قوت پیدا نہیں ہو پاتی ہےاور وہ مراقبے کے نتائج و فوائد سے بھی محروم رہتے ہیں کیونکہ صوفیانہ شغل کی غرض وغایت فقط تصور ِخیال کو قائم کرنا ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شغل کے اصل اصول سے ناواقف ہے گو وہ اپنے دل میں کچھ ہی کیوں نہ سمجھے لیکن کمال محویت کو نہیں پہنچ سکتا۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی زبردست ولیِ کامل اس کے حواس عشرہ کو قوی وقائم کردے مگر یہ اعزاز ونسبت ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی ۔

حبس دم بھی صوفیوں میں ایک شغل ہے اور اس شغل کی غرض و غایت بھی سوچ کو ایک مرکز پر قائم کرنا ہے ۔ اصطلاحی معنیٰ میں حبس دم سے مراد سانس کو قابو کرنا۔ سانس کو دماغ میں لے جا کر روکنا اور اس حالت میں خدا کا خیال باندھنا ہے۔ ہندو ازم میں بھی حبس دم ایک طرح کی عبادت میں شمار ہوتی ہے جس میں وہ سانس روکنے کی اس قدر مشق کرتے ہیں کہ سیکڑوں برس زندہ رہ سکتے ہیں۔ اس طریقہ ریاضت میں یوگی یا سادھو اتنی دیر تک سانس روک لیتے ہیں کہ موت کا شبہ ہونے لگتا ہے اور ان کی دل کی حرکت پر اثر نہیں ہوتا ۔ یہ شغل مسلم صوفیاء میں بھی رائج ہے اور اسلامی تصوف کے بہت سے سلسلوں میں فنا فی ا ﷲیا فنا فی الشیخ یا ذکر قلب کے اوراد میں حبسِ دم بھی شامل ہے جن کے صوفیاء عامل ہوتے ہیں جسکی غایت فقظ تصور ذات قائم کرنا ہوتی۔

حضرت غوث گوالیاری ؒ کا شمار شطاری سلسلے کے عظیم المرتب صوفیوں میں ہوتا ہے۔ آپ نے شطاری سلسلہ تصوف کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اسے ایک مستحکم سلسلے کی شکل دی اور ان طرائق روحانی کو بھی اسلامی تصوف میں شامل کیا جو ہندوستان میں رائج ہیں اور جن پر کوئی شرعی اختلاف نہ ہو۔۔آپ کی ابتدائی کتاب جواہر خمسہ میں بھی اس کی ایک جھلک نظر آتی ہے۔

حضرت غوث علی شاہ قلندر کی تعلیمات کے مطابق حبس دم میں دو امر بہت ٖ ضروری ہیں :

1۔ حبسِ نفس جو دو طرح پر ہے، اول بطریق تخلیہ اور دوئم بطریق تملیہ
2۔ حضر ِنفس ۔
سانس کا بطن و ناف سے اور ان کے اطراف سے پشت کی طرف کھینچنا ، اور سانس کا سینہ یا دماغ میں روکنا تخلیہ کہلاتا ہے۔ سانس کا شکم میں کھینچنا اور شکم کو ہوا سے بھر کر سانس کو بطن میں بند کرنا تملیہ ہے۔

مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں حد درازی نفس سے قطع نفس کرنا حضر نفس ہے۔
اس شغل کی اصل ترکیب یہ ہے کہ پانی میں غوط لگا کر کرئے۔ جیسا کہ حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت شیخ عبد الحق غجدوانی ؒ کو پانی میں اس شغل کے کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ اگر غوط لگانے کے قابل پانی نہ ملے تو مندرجہ ذہل طرائق پر یہ شغل کرنا چاہیے۔

عمومی طریقہ اس کا یہ ہے کہ پرسکون جگہ پر التی پالتی مارکر ترجیح دو زانونشست بیٹھ جائےجس طرح نماز کی حالت میں بیٹھا جاتا ہے، آنکھیں بند کریں اور دونوں ہونٹ بند کرکے آہستہ آہستہ ناک سے سانس اندرکھینچنا شروع کریں اور شکم کو مکمل ہوا سے بھر لیں۔ جب تک سانس سینے میں رک سکتی روکے رکھیں جب دم گھٹنے لگے یا سانس کا روکنا سینے میں بوجھل لگے تو جتنی آہستگی کے ساتھ سانس کو اندر کھینچا تھا اتنی ہی آہستگی کے ساتھ یاحی یا قیوم کا ورد کرتے ہوئے ناک کے نتھنوں سے رک رک کر سانس خارج کریں۔
اس ہی طرح سانس کھینچے ، سانس کو سینے میں روکنے اور خارج کرنے کی مدت میں رفتہ رفتہ اضافہ کیا جائے۔ یعنی اگر سانس کی مشق کی ابتدا پانچ سیکنڈ میں سانس کھینچنے، دس سیکنڈ تک سانس روکنے اور پانچ سیکنڈ میں سانس خارج کرنے کی مدت سے کی ہے تو چند دنوں بعد سانس کھینچنے، سانس روکنے اور نکالنے کی مدت دس سیکنڈ، بیس سیکنڈ اور دس سیکنڈ تک کردینا چاہیے اور یہ بتدریح اس ہی تناسب سے بڑھاتے رہیں۔ بہرحال مشق سے رفتہ رفتہ سانس کی مدت پر قابو پاسکتا ہے، باکمال لوگ رفتہ رفتہ سانس کی مشق پر اتنا قابو پالیتے ہیں کہ ایک ایک گھنٹے تک سانس کو سینے میں روکنے، پندرہ منٹ سانس کو اندر کھینچنے اور تیس منٹ تک سانس کو آہستہ آہستہ خارج کرنے پر قادر ہوجاتے ہیں۔ واضح رہے کہ سانس کھینچنے اور خارج کرنے کا عمل جتنی نرمی اور آہستگی کے ساتھ ہوگا۔ قوت ارادی اور خود اعتمادی میں اتنا ہی اضافہ ہوگا، نیز یہ بھی کہ جتنی دیر تک سانس کو سینے میں روکیں گے (کوشش کیجیے کہ سانس روکنے کی مدت میں برابر اضافہ ہوتا رہے) روحانی ترقی میں اتنا ہی اضافہ ہوتا رہے گا۔

𝗠𝘂𝗿𝘀𝗵𝗮𝗱

سورت اخلاص۔۔(سورت و صورت)اللہ پاک کی ذات غیب الغیوب ہے۔ جب اس نے اپنی پہچان کا ارادہ فرمایا تو وجود کے مختلف مراتب میں ا...
21/07/2026

سورت اخلاص۔۔
(سورت و صورت)
اللہ پاک کی ذات غیب الغیوب ہے۔ جب اس نے اپنی پہچان
کا ارادہ فرمایا تو وجود کے مختلف مراتب میں اپنی تجلیات کو ظاہر کیا۔ زیرِ نظر خاکہ (Diagram) سورت اخلاص کی آیات کو صوفیاء کے "تنزلاتِ ستہ" (چھ مراتبِ وجود) کے ساتھ ایک خوبصورت ترتیب میں پیش کرتا ہے:
​✨ ۱۔ مرتبہ احدیت (اَحدہ / لا تعین)
​آیت: قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ
​مفہوم: یہ ذاتِ الٰہی کا وہ اعلیٰ ترین مرتبہ ہے جہاں وہ تمام صفات اور نقوشِ کائنات سے پاک ہے۔ یہ "غیبِ الغیوب" ہے جہاں ذات کے سوا کچھ موجود نہیں۔
​✨ ۲۔ مرتبہ واحدیت (وحدہ / تعینِ اول)
​آیت: اَللّٰهُ الصَّمَدُ
​مفہوم: جب ذات نے اپنی پہچان کے لیے صفات اور اسماء کا ظہور فرمایا۔ "الصمد" (بے نیاز) اس بات کی علامت ہے کہ کائنات کے تمام ممکنات اپنے وجود کے لیے اس کے محتاج ہیں، جبکہ وہ خود غنی ہے۔
​✨ ۳۔ مرتبہ وحدیہ (وحدیہ / تعینِ ثانی)
​آیت: لَمْ یَلِدْ
​مفہوم: یہاں اشیاء کی حقیقتیں (اعیانِ ثابتہ) اللہ کے علم میں ممتاز ہوتی ہیں۔ لَمْ یَلِدْ واضح کرتا ہے کہ کائنات الٰہی ذات سے اس طرح الگ ہو کر پیدا نہیں ہوئی جیسے کوئی مادی وجود جنم لیتا ہے، بلکہ یہ حق کے علم کا پرتو ہے۔
​✨ ۴۔ عالمِ روح (عالمِ جبروت)
​آیت: وَلَمْ یُولَدْ
​مفہوم: یہاں سے عالمِ خلق کا آغاز ہوتا ہے جہاں سب سے پہلے ارواح پیدا کی گئیں۔ ذاتِ حق خود کسی کا معلول (Effect) نہیں ہے، وہ کسی سے پیدا نہیں کیا گیا۔
​✨ ۵۔ عالمِ مثال (عالمِ ملکوت)
​آیت: وَلَمْ یَکُنْ لَّهٗ
​مفہوم: یہ مادی اور روحانی دنیا کے درمیان لطیف پل ہے، جسے صوفیانہ فکر میں "حقیقتِ محمدیہ" سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہاں سے کائنات کی اشکال و صورتیں بننا شروع ہوتی ہیں۔
​✨ ۶۔ عالمِ اجسام (عالمِ ناسوت)
​آیت: کُفُوًا
​مفہوم: یہ ہماری مادی اور حسی دنیا ہے جہاں مادی قوانین پائے جاتے ہیں۔ اس مادی دنیا میں رسول پاکﷺ کا وجودِ مسعود حق کی سب سے بڑی نشانی بن کر ظاہر ہوا۔
​✨ ۷۔ عالمِ انسان (انسانِ کامل)
​آیت: اَحَدٌ
​مفہوم: یہ دائرہ وجود کا آخری اور جامع ترین مرتبہ ہے۔ انسانِ کامل وہ آئینہ ہے جس میں ذاتِ حق اپنے تمام اسماء و صفات کا مشاہدہ کرتی ہے۔ دائرہ جہاں سے شروع ہوا تھا، انسانِ کامل کی معرفت کے ذریعے مخلوق واپس اپنے اصل (اللہ) کو پا لیتی ہے۔
​حاصلِ کلام:
اگر اس خاکے کے بائیں جانب اوپر سے نیچے دیکھا جائے تو کلمہ طیبہ کا فریم ورک بنتا ہے: "لا اِلہ اِلا اللہ، محمد رسول اللہ"۔ یہ نقشہ ہمیں بتاتا ہے کہ ظاہر میں جو کثرت نظر آ رہی ہے، حقیقت میں وہ اسی ایک "احد" کا مختلف مراتب اور پردوں میں ظہور ہے۔

𝗠𝘂𝗿𝘀𝗵𝗮𝗱

​ #تصوف #معرفت

حضرت زینب بنتِ علی۔ وہ زینب بنتِ علی جو کربلا کے میدان میں اپنے جلیل القدر بھائی کا سب سے مضبوط سہارا تھیں۔ وہ بی بی زین...
18/07/2026

حضرت زینب بنتِ علی۔
وہ زینب بنتِ علی جو کربلا کے میدان میں اپنے جلیل القدر بھائی کا سب سے مضبوط سہارا تھیں۔ وہ بی بی زینب جو کربلا سے لے کر دمشق تک میدانِ جنگ کا احوال بیان کرتی رہیں۔ وہ جو اس قافلے کی سردار تھیں جس کے اونٹوں پر نہ کوئی زین تھی نہ ہودج اور ان اونٹوں پر خانوادۂ رسولۖ کی خواتین کو ننگے سر بٹھادیا گیا تھا۔ ان کے گلے میں رسیاں باندھی گئی تھیں۔ لیکن ہر وہ شہر جہاں سے یہ قافلہ گزرا، وہاں حضرت زینب کی آواز سوتے ہوؤں کو جگاتی چلی گئی۔ جس راستے سے قافلہ گزرا، ایک آگ سی جلتی چلی گئی۔
یزید نے مشہور کیا تھا کہ یہ شام کے چند باغی ہیں جنہیں یوں زنجیروں میں جکڑ کر لایا جارہاہے۔ لوگ یہ نہ جانتے تھے کہ یہ اہلِ بیت ہیں۔ لیکن یہ خبر نہ چھپ سکی۔ جہاں سے یہ قافلہ گزرتا، لوگ جوق در جوق جمع ہوجاتے۔ ہر مقام پر حضرت زینب اس فصاحت و بلاغت سے جو انہوں نے اپنے والد سے ورثے میں پائی تھی، کربلا کے حالات بیان کرتیں ۔ قافلہ آگے بڑھتا گیا۔ قدم قدم پر حضرت زینب کے الفاظ یزید کی بادشاہت کی قبر کھودتے رہے۔
ان خستہ حال قیدیوں کو یزید کے دربار میں پیش کیا گیا تو حضرت زینب نے وہاں یزید کو مخاطب کر کے ایک خطبہ دیا۔ وہ بادشاہ جس کے آگے لوگ سانس لینے سے ڈرتے تھے، وہاں ایک نہتی، بھوکی پیاسی، زنجیروں میں جکڑی ہوئی عورت سر اٹھائے کھڑی اسے للکار رہی تھی۔ ان کا خطبہ سُن کر دربار میں لوگ منہ چھپائے روتے تھے کیونکہ انہیں یوں لگتا تھا کہ یہ حضرت علی بن ابی طالب خطاب کر رہے ہیں۔ یہ ان کی آواز ہے، ان کا لہجہ ہے، ان کی گھن گرج ہے۔ آئیے اس تاریخی خطبے کے چند حصے پڑھتے ہیں۔
حضرت زینب بنتِ علی نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا:
''اے یزید سن! (عربی کا یہ ''سن'' اس لہجے میں تھا جیسے کوئی مالکن اپنے غلام سے مخاطب ہوتی ہے) کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے تنگ کردیئے ہیں اور آلِ رسولۖ کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھروانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز ہوا اور ہم رسوا ہوئے ہیں؟ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہوکر ذلیل ہوگئے اور تو ظالم بن کر سربلند ہوا ہے؟''
'' اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور ہوش کی سانس لے۔ اے طلقاء کے بیٹے(آزاد کردہ غلاموں کی اولاد) کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی عورتوں کو چاردیواری کا تحفظ دے کر پردے میں بٹھا رکھا ہے جبکہ رسول زادیوں کو برہنہ سر دربدر پھرا رہا ہے۔آج رسول زادیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں۔ آج ان کے مرد موجود نہیں جو ان کی سرپرستی کریں۔ آج آلِ محمدۖ کا مددگار کوئی نہیں۔''
''اس شخص سے بھلائی کی کیا توقع ہوسکتی ہے جس کی ماں (یزید کی دادی ہندہ) نے پاکیزہ لوگوں کا جگر چبایا ہو اور اس شخص سے انصاف کی کیا امید ہوسکتی ہے جس نے شہیدوں کا خون پی رکھا ہو۔''
''اے یزید! کیا تجھے شرم نہیں آتی کہ تو اتنا بڑا جرم اور ایسا بڑا گناہ کرنے کے باوجود بڑے فخر سے یہ کہہ رہا ہے کہ اگر آج میرے اجداد موجود ہوتے تو اُن کے دل باغ باغ ہوجاتے اور وہ دعائیں دیتے ہوئے کہتے کہ اے یزید تیرے ہاتھ کبھی شل نہ ہوں۔ اے یزید کیا تجھے حیا نہیں آتی کہ تو جوانانِ جنت کے سردار حسین ابنٰ علی کے دندانِ مبارک پر چھڑی مارتاہے؟''
''آج تو آلِ رسولۖ کو قتل کر کے اپنے بد نہاد اسلاف کو پکارتاہے اور انہیں فتح کے گیت سناتاہے؟ تو سمجھتاہے کہ وہ تیری آواز سن رہے ہیں؟ جلدی نہ کر، عنقریب تو بھی اپنے ان کافر بزرگوں کے ساتھ جا ملے گا اور اس وقت پشیمان ہو کر یہ آرزو کرے گا کہ کاش میرے ہاتھ شل ہوجاتے اور میری زبان بند ہوجاتی اور میں نے جو کچھ کیا اور کہا اس سے باز رہتا۔''
''اے یزید! یہ گردش ایام ہے کہ مجھے تجھ جیسے برے انسان سے ہمکلام ہونا پڑرہا ہے۔ یاد رکھ کہ میری نظر میں تو ایک نہایت پست اور گھٹیا شخص ہے جس سے بات کرنا بھی شریفوں کی توہین ہے۔ میری اس جرأت سخن پر تو مجھے اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنائے گا لیکن میں صبر اور استقامت اختیار کروں گی۔''
''اے یزید! تو جتنی چاہے کوشش کرکے دیکھ لے مگر تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹاسکتاہے اور نہ ہی اس جرم کا بدنما داغ اپنے دامن سے دھوسکتاہے۔ تیرا نظریہ بہت کمزور اور گھٹیا ہے۔ تیری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑجائیں گے اور تیرے پاس اس دن کی حسرت اور پشیمانی کے سوا کچھ نہ بچے گا۔''
''ہم رب تعالیٰ کی بارگاہ میں سپاس گزار ہیں کہ ہمارے شہیدوں کے اجر کی تکمیل فرمائے اور ہمیں اپنی عنایتوں سے نوازے۔ ہمیں اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔ ہمیں صرف اور صرف اسی کی ذات پر بھروسہ ہے اس لئے کہ اس سے بہتر کوئی سہارا نہیں۔''
حضرت زینب کے یہ الفاظ اس قدر طاقتور تھے کہ دربار میں بیٹھے لوگوں کے دل دہل گئے۔ وہاں بیٹھے لوگ جھڑی کی طرح بہتے آنسوؤں سے روتے تھے اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا تھا گویا اس کو سانپ سونگھ گیا ہو۔
وہ کائناتوں کا شہنشاہ جسے اس بات سے کچھ غرض نہیں کہ اس کی مخلوق میں کون مرد ہے،کون عورت۔جسے صرف کردار اور تقویٰ کی پروا ہے، اس نے اس زمین کے بادشاہ کے سامنے کھڑی اس بے بس عورت کے ایک ایک لفظ کا پاس رکھا۔ ان کی اس وقت کی گئی ہر پیش گوئی کو پورا کیا۔ ان کے الفاظ کو، ان کے کردار کو، ان کی جرأت کو تاریخ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا۔

*حسینٌ* کا تعلق صرف محرم سے نہیں روح اور ہر سانس سے ہے۔ اسی طرح کربلا کا تعلق صرف ماتم اعزاداری سے ہی نہیں بلکہ اسکا تعل...
29/06/2026

*حسینٌ* کا تعلق صرف محرم سے نہیں روح اور ہر سانس سے ہے۔ اسی طرح کربلا کا تعلق صرف ماتم اعزاداری سے ہی نہیں بلکہ اسکا تعلق کعبہ اور مالکِ کعبہ سے ہے۔ ماتم اعزاداری کرنا کسی فقے کا اپنا انفرادی فعل ہو سکتا ہے لیکن صرف ایک اختلافی مسلئہ کی وجہ سے فلسفہ شہادت حسینٔ کے معنی بدلنے کی کوشش کرنا، فقہ شیعہ/جعفریہ کی مخالفت کی وجہ سے یزید کی صفعات بیان کرنا قطعاً درست نہیں۔ حسینٔ یا کربلا صرف شعیہ کے کھاتے میں ڈال دینا، محرم میں حسینٔ کی شہادت کے ساتھ اور مقدس ہستیوں کی شہادت منانے کی کوششیں کرنا بچگانہ فعل ہے۔
ہم دنیاوی زندگی میں مسلم یا غیر مسلم درجنوں شخصیات کی مثال دے سکتے ہیں جنہوں نے اپنے وطن قوم یا مخصوص خطے کے لیے قربانی دی اور سینکڑوں سالوں سے لوگ انکی یاد منا رہے ہیں جبکہ حسینٔ، اہل بیت اور کربلا کے شہدا کی قربانیاں تو ان دنیاوی شخصیات سے ہزار درجے افضل ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کسی حادثے کے بعد اکثر اقوام، کی سوچ منزل تبدیل ہو جایا کرتی ہے یہ سچ ہے کہ اگر حسینٔ کربلا میں اپنے خاندان کی قربانی نہ دیتے کوئ معاہدہ کر لیتے تو آج مسلم امہ، مسلم قوانین، مسلم معاشرے میں حق، ناحق، حلال حرام، صحیح غلط کی جو تمیز یے وہ کبھی نہ ہوتی۔ آج جس طرح جبر ظلم اور برائی کے لیے ہم یزید کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں یہ نہ ہوتا اور حق کے لیے ہم حسینٔ کی طرح ڈٹ جانے کا کہتے ہیں تو یہ بھی نہ ہوتا۔
حسینٔ علیہ السلام کی قربانی کو سیاسی، سماجی، مذہبی، علاقائی، جس پراہے میں بھی دیکھیں یہ ایک بے مثال قربانی ہے اسکی مثال نہیں ملتی اگر حسینٔ کربلا میں قربانی نہ دیتےتو اسلام کے مخالفین یہ ظنز کرسکتےتھے کے جبر کے آگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل نے کیوں مزاحمت نہیں کی،
اس سے انٌ کی تربیت اور اسلام کے بنیادی اصولوں پہ سوال اٹھتا لیکن حسینٔ نے وہ نوبت نہ آنے دی۔
لیکن ساتھ ہی میں اپنی بساط مطابق یہ بھی واضح کر دوں حسینٔ کی قربانی کو اگر سمجھنا ہے تو کسی عالم کو پڑھا یا سنا جائے
حسینٔ سے دوری ہمیں یزید کے پاس لے جائے گئی۔محرم میں دو طبقہ

محرم الحرام جب آتا ہے تو میں دو طبقہ کو دیکھتا ہوں کہ وہ سرگرم ہوجاتے ہیں ـ
(۱) پہلا طبقہ وہ ہے جو محرام الحرام شروع ہوتے ہی خالص ذکر اہل بیت چھوڑ کر وہ بس بدعات ، خرافات اور محرم کے غلط رسومات کے سدباب میں لگ جاتا ہے اور پورے دس دن اس میں سرگرم رہتے ہیں پھر گیارہ محرم سے ذی الحجہ آخری دن تک کے لیــے خاموش ہوجاتے ہیں ـ

(۲) دوسرا طبقہ بھی محرم الحرام شروع ہوتے ہی پہلے طبققے والے کو نشانہ بنانا شروع کردیتے ہیں خالص ذکر اہل بیت چھوڑ کر اپنی تقریروں میں سامنے والے کو ڈوز دینا شروع کردیتے ہیں اور اسی میں پورا ہفتہ نکال دیتے ہیں ـــــ

ایسے دونوں طبقے کو اپنے رویے پر خاص توجہ دینا چاہیے بدعات و خرافات کا رد اس کے لیے پورے گیارہ مہینے آپ کے پاس ہیں کم سے کم اس ماہ میں آپ خالص امام عالی مقام کے فضائل بیان کریں ان کی سیرت پر روشنی ڈالیں ان کے کارہائے نمایا بیان کریں ان کے عادات و اطوار پر روشنی ڈالیں ان کے علمی شان و شوکت پر گفتگو کریں ان کی عبادت و ریاضت والی زندگی لوگوں کے سامنے لائیں کربلا کیوں واقع ہوئی یہ بیان کریں شھادت بیان کریں اور اس نیت سے بیان کریں کہ بچہ بچہ حسینی تادم حیات بنا رہے ـ

دوسرے طبقہ کو چاہیے کہ آپ مثبت انداز میں ذکر اہل بیت اطہار کریں بغیر کسی پر طنز کیے اتنے خوبصورت انداز میں اہل بیت اطہار کے فضائل اور ان کے شان اقدس بیان کریں کہ ســامنے والا اپنے رویے پر سوچنے پر مجبور ہوجائے ـــــــــــــــ

تاریخ کربلا  (قسط 33)آخری قسطقاتلان حسین (علیہ السلام) کا انجامکنزالغرایب میں حضرت سدی سے روایت نقل کی گئی ہے کہ میرے پا...
29/06/2026

تاریخ کربلا (قسط 33)
آخری قسط

قاتلان حسین (علیہ السلام) کا انجام

کنزالغرایب میں حضرت سدی سے روایت نقل کی گئی ہے کہ میرے پاس خارجیوں میں سے ایک شخص تھا اور ہم امام حسین (علیہ السلام) کے قاتلوں کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے اہلِ مجلس میں سے ایک شخص نے کہا کہ امام حسین (علیہ السلام) کے قتل پر جس شخص نے بھی خوشی کی وہ بدترین موت مرا ۔ تو ایک خارجی نے فوراً کہا ! اے اہلِ عراق تم جھوٹ کہتے ہو کیونکہ میں بھی ان کے قتل پر خوش تھا اور مجھے کوئی مکروہ عمل نہیں پہنچا ۔ ابھی وہ مجمع میں ہی تھا کہ چراغ کی لو اٹھی اور اس کی داڑھی پر گری اور جلنے لگا وہ پلید اٹھا اور اس نے قریب نہر میں چھلانگ لگادی مگر پانی کی وجہ سے بھی اس کی آگ نا بجھی اور اسی پانی میں اس کا گوشت جل گیا ۔

اسطرح کے کئی واقعات کتب میں موجود ہیں جن میں یہ درج ہے کہ جو بھی امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت پر خوش ہوا اللّٰہ ﷻ نے اس کو ذلت و رسوائی کے ساتھ مارا ۔

بعد ازاں عظیم ترین عاشقِ اہلبیت (علیہم السلام) حضرت مختار بن ابی عبیدہ الثقفی (رضی اللّٰہ عنہما) نے تمام یزیدیوں کو چن چن کر قتل کیا ۔

حضرتِ مختار کا نام مختار کنیت ابواسحاق اور والد کا نام ابی عبید اور قبیلہ بنو ثقیف میں سے تھے ۔ حضرت مختار (رضی اللّٰہ عنہ) کے والد حضرت ابی عبید الثقفی (رضی اللّٰہ عنہ) حضرت عمر ابن الخطاب (رضی اللّٰہ عنہ) کے دور میں ایک جنگ کے دوران ہاتھی کے نیچے آ کر شہید ہو گئے ۔

جنابِ مختار (رضی اللّٰہ عنہ) ایک نہایت عمدہ شخصیت کے مالک تھے آپ نے امام حسین (علیہ السلام) کے تقریباً تمام قاتلوں کو جہنم واصل کیا اور آپ (رضی اللّٰہ عنہ) کی فوج کے سپہ سالار حضرت ابراہیم بن مالک اشتر (رضی اللّٰہ عنہما) تھے۔

حضرت مختار بن ابی عبیدہ الثقفی (رضی اللّٰہ عنہ) کا شمار بھی حضرت سیدنا ابوطالب (علیہ السلام) کی طرح تاریخ کی مظلوم ترین شخصیات میں ہوتا ہے ۔ اور معاذ اللّٰہ ﷻ ان کو مرتد اور اسلام سے خارج قرار دیا اور اور دعویٰ نبوت کا الزام لگایا۔ لیکن حضرتِ مختار الثقفی (رضی اللّٰہ عنہ) شہادت سے پہلے بھی اس الزام کی تردید کی مگر ان کی نا سنی گئی (تاریخ طبری : باب قیامِ مختار)
۔
۔
14 رمضان شہادت جناب مختار (رضی اللہ عنہ)

جناب عبداللہ ابن زبیر نے حضرت عبداللہ ابن عباس کو مختار ثقفی کے قتل کی خبر دی تو جناب ابن زبیر نے دیکھا کہ حضرت عبداللہ ابن عباس یہ خبر سن کر غمگین ہو گئے۔ ابن زبیر نے عبداللہ ابن عباس سے کہا ! کیا تم مختار ثقفی کے قتل کی وجہ سے غمگین ہو اور کیا تم اس کو کذاب نہیں کہنا چاہتے؟
تو حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا! ہمارا مختار ثقفی کو ایسا کہنا مناسب نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا اس نے ہمارے خون کا انتقام لیا اور اس نے ہمارے سینوں میں موجود غموں کو سکون بخشا ہے۔
(الانساب الاشراف جلد ۲ صفحہ ۳۷۱)

ابو صالح کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عباس (رضی اللہ عنہ) فرمایا کرتے تھے مختار ثقفی نے ہمارے خون کا بدلہ لیا ہے اور ہمارے قاتلوں کو قتل کیا ہے ۔ ملائکہ اور کراما کاتبین کا درود و سلام ہو مختار پر ۔
(الانساب الاشراف جلد ۲ صفحہ ۳۷۱)

حضرت عبداللہ ابن عمر (رضی اللہ عنہ) نے مصعب بن زبیر کو فرمایا ! تم وہ ہو جس نے صبح کے وقت سات ہزار اہل قبلہ کو قتل کیا
(ابن جوزی فی التاریخ الملوک والامم جلد ۶ صفحہ ۶۶)

سن ۱۰ ہجری میں مکہ اور طائف میں قبیلہ بنو قریش اور بنو ثقیف میں سے کوئی فرد بھی ایسا نہیں تھا جو حجة الوداع میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے ساتھ شریک نا ہوا ہو۔ اسی وجہ سے مختار اس قسم کے اصحاب میں بھی شمار ہوتا ہے۔
(الاصابہ فی التمیز الصحابہ جلد ۶ صفحہ ۳۵۰)

شعبى کہ جو دشمنان مختار میں سے تھا، اس نے خود کہا ہے کہ:

وعن الشعبي قال: رأيت في النوم كأن رجالا من السماء نزلوا معهم حراب يتتبعون قتلة الحسين فما لبثت أن نزل المختار فقتلهم رواه الطبراني وإسناده حسن.

شعبى سے روايت ہوئی ہے کہ اس نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ چند مرد آسمان سے نازل ہوئے ہیں اور انکے ساتھ تلواریں بھی ہیں اور وہ امام حسین (علیہ السلام) کے قاتلوں کی تلاش میں ہیں۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مختار نے قیام کیا اور ان سب قاتلوں کو قتل کر دیا۔

اس روایت کو طبرانی نے نقل کیا ہے اور اس روایت کی سند حسن ہے۔

الهيثمي، ابوالحسن علي بن أبي بكر (متوفى807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج9، ص 195، ناشر: دار الريان للتراث/‏ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت – 1407هـ.

اس روايت سے معلوم ہوتا ہے کہ مختار ان آسمانی مردوں کی تعبیر ہے کہ جو خواب شعبی نے دیکھا تھا۔

اہلسنت کتب کی ان روایات کو تمام دوست احباب زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ لوگوں کہ ذہنوں سے شکوک دور ہو سکیں۔ جزاک اللہ

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اہل بیت اطہار علھیم سلام کے توسل سے ہماری یہ حقیر و عاجزانہ کوشش کو اپنی بارگاہ بلند میں قبول فرمائے اور شہداء کربلا لے توسل سے ہمیں دنیا و آخرت میں اہل بیت علیہ السلام کے ساتھ رکھے آمین

Address

Bilaspur

Telephone

9993326286

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khankahe Yasiniya Pamgarh Sharif" posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category