28/04/2025
ہدایت: قرآن و حدیث کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا فرمایا تاکہ وہ حق و باطل میں فرق کر سکے۔ انسان کی فطری ضرورتوں میں سب سے اہم ضرورت ہدایت کی ہے، کیونکہ ہدایت کے بغیر انسان دنیا میں بھٹکتا رہتا ہے اور آخرت میں نقصان اٹھاتا ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"بے شک ہدایت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔"
(سورۃ النحل، آیت 93)
ہدایت وہ نور ہے جو انسان کے دل کو روشن کرتا ہے، اس کی راہوں کو صاف اور سیدھا کرتا ہے، اور اسے دنیا اور آخرت کی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دعا فرمائی:
"اے اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمیں ہدایت یافتہ بنا۔"
(سنن ترمذی)
قرآن مجید کو اللہ نے "ھُدًی لِّلنَّاسِ" یعنی "لوگوں کے لیے ہدایت" قرار دیا ہے۔ ہدایت کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ کی کتاب اور نبی ﷺ کی سنت ہے۔ جو شخص قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے، اللہ اس کے دل کو نورِ ایمان سے بھر دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، اگر تم انہیں مضبوطی سے پکڑ لو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے؛ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت۔"
(صحیح مسلم)
ہدایت کے لیے اخلاصِ نیت، اللہ سے دعا، قرآن کی تلاوت اور عمل کی سچی کوشش ضروری ہے۔ ہدایت طلب کرنا، اس پر قائم رہنا اور دوسروں کو بھی اس کی طرف بلانا ایک مومن کی ذمہ داری ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ہر نماز میں سچے دل سے اللہ سے دعا کریں:
"اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ"
(سورہ الفاتحہ)
یعنی: "اے اللہ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔"
آخر میں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سچی ہدایت نصیب فرمائے، اس پر استقامت عطا فرمائے اور ہدایت کی روشنی میں ہماری زندگیوں کو کامیاب بنائے۔ آمین۔