03/09/2018
مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی وفات پر میں ندوة العلماء میں منعقد جلسہ تعزیت میں تاریخی خطاب کے دوران فرمایا؛
"مولانا کی بڑائی کا راز یہ ہے کہ وہ سرتاپا اخلاص تھے۔ ان کا ادنی سے ادنی معمولی سے معمولی غیر دینی سے غیر دینی کام اخلاص کے ساتھ ہوتا تھا۔ ان کی ساری سیاسی جدوجہد محض إتباع رضوان الله تھی، وہ صرف اس لیے اس میں منہمک رہے کہ وہ اس کو رضائے الہی کا ذریعہ سمجھتے تھے، وہ اس سے قرب الہی چاہتے تھے، وہ ان کے لیے سلوک بن گیا تھا، یہ ان کے لیے جہاد تھا، وہ اس میں شرکت سے محض تقرب بالجہاد چاہتے تھے۔ جس نیت سے وہ رات کو تہجد پڑھتے تھے آپ یقین کریں کہ اسی نیت سے وہ اسٹیج پر تقریر کرتے تھے۔ وہ وہاں اس نیت کے ساتھ مشغول رہتے تھے جس نیت سے وہ نوافل پڑھتے تھے۔ جو ثواب ان کو تہجد کی آٹھ یا دس رکعتوں میں ملتا ہو گا وہ ان کو رات کو کسی جلسے کی شرکت میں ملتا ہو گا۔ جس طرح مجاہد میدان جنگ میں جاتا ہو گا اسی طرح وہ جیل خانے میں جاتے رہے ہوں گے۔ یہ آسان کام نہیں، یہ مقام وہ ہے جو صرف اہل اللہ کو بھی نہیں کاملین اولیاء اللہ ہی کو حاصل ہو سکتا ہے۔"
(الفرقان لکھنؤ دسمبر 1957)