Mufti Huzaifah Qasmi Fans - محبّینِ مفتی محمد حذیفہ قاسمی

  • Home
  • India
  • Bhiwandi
  • Mufti Huzaifah Qasmi Fans - محبّینِ مفتی محمد حذیفہ قاسمی

Mufti Huzaifah Qasmi Fans - محبّینِ مفتی محمد حذیفہ قاسمی Here you are looking at a page of M***i Huzaifa Qasmi's fans.

مفتی حذیفہ صاحب قاسم

مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی وفات پر میں ندوة الع...
03/09/2018

مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی وفات پر میں ندوة العلماء میں منعقد جلسہ تعزیت میں تاریخی خطاب کے دوران فرمایا؛
"مولانا کی بڑائی کا راز یہ ہے کہ وہ سرتاپا اخلاص تھے۔ ان کا ادنی سے ادنی معمولی سے معمولی غیر دینی سے غیر دینی کام اخلاص کے ساتھ ہوتا تھا۔ ان کی ساری سیاسی جدوجہد محض إتباع رضوان الله تھی، وہ صرف اس لیے اس میں منہمک رہے کہ وہ اس کو رضائے الہی کا ذریعہ سمجھتے تھے، وہ اس سے قرب الہی چاہتے تھے، وہ ان کے لیے سلوک بن گیا تھا، یہ ان کے لیے جہاد تھا، وہ اس میں شرکت سے محض تقرب بالجہاد چاہتے تھے۔ جس نیت سے وہ رات کو تہجد پڑھتے تھے آپ یقین کریں کہ اسی نیت سے وہ اسٹیج پر تقریر کرتے تھے۔ وہ وہاں اس نیت کے ساتھ مشغول رہتے تھے جس نیت سے وہ نوافل پڑھتے تھے۔ جو ثواب ان کو تہجد کی آٹھ یا دس رکعتوں میں ملتا ہو گا وہ ان کو رات کو کسی جلسے کی شرکت میں ملتا ہو گا۔ جس طرح مجاہد میدان جنگ میں جاتا ہو گا اسی طرح وہ جیل خانے میں جاتے رہے ہوں گے۔ یہ آسان کام نہیں، یہ مقام وہ ہے جو صرف اہل اللہ کو بھی نہیں کاملین اولیاء اللہ ہی کو حاصل ہو سکتا ہے۔"
(الفرقان لکھنؤ دسمبر 1957)

تقسیم کے مہاجرین کے حوالے سے کسٹوڈین ڈپارٹمنٹ کے قانون Administration of Evacuee Properties Actکا اصولی اطلاق یہ تھا کہ ...
31/08/2018

تقسیم کے مہاجرین کے حوالے سے کسٹوڈین ڈپارٹمنٹ کے قانون
Administration of Evacuee Properties Act
کا اصولی اطلاق یہ تھا کہ پاکستان ہجرت کرنے والے کی متروکہ جائداد کسٹوڈین ڈپارٹمنٹ کے قبضے میں آ جائے گی۔ مگر قانون کی من مانی تشریح کر کے ایسے مسلمانوں کی جائدادیں بھی غصب کی جانے لگیں جو ہندوستان میں تھے، اور ان کے خاندان کا کوئی فرد ہجرت کر گیا ہو۔ اس کے علاوہ بھی اس ڈپارٹمنٹ نے فرقہ پرستانہ ناانصافی کے کئی بہانے تلاش کیے۔ جمعیت علمائے ہند کی قانونی امدادی کمیٹی نے چھ سال تک ہزاروں جائدادوں کی بازیابی کی۔ نجی طور پر وزارتی سطح پر بھی کارروائی کی گئی خصوصاً محمد دین جعفری کی ساٹھ لاکھ کی جائداد غصب کیے جانے پر مولانا حسین احمد مدنیؒ نے وزیراعظم کو توجہ دلائی، مولانا حفظ الرحمان سیوہارویؒ نے معاملے کی پیروی کی اور وزارتی سطح پر کسٹوڈین کا فیصلہ غلط ثابت کیا۔ اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے کسٹوڈین جنرل نے انکار کر دیا نتیجتاً انہیں سبکدوش کر دیا گیا۔ یہ کیس ایسے بہت سے مقدمات کے لیے نظیر بن گیا اور مسلمانوں کی بے شمار جائدادیں کسٹوڈین کے قبضے میں جانے سے بچ گئیں۔ بعد میں بھی مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ نے بھی اس مسئلے پر پارلیمنٹ میں بعض جامع تاریخی تقاریر کیں۔

صدی کے بدترین سیلاب سے متاثر کیرالہ میں کام کر رہی جمعیت علمائے ہند کی ریلیف ٹیم کے ساتھ بڑی تعداد میں کرناٹک تمل ناڈ او...
30/08/2018

صدی کے بدترین سیلاب سے متاثر کیرالہ میں کام کر رہی جمعیت علمائے ہند کی ریلیف ٹیم کے ساتھ بڑی تعداد میں کرناٹک تمل ناڈ اور بہار کے پلمبر الیکٹریشین اور کارپینٹر جڑ گئے ہیں جو جنگی پیمانے پر رہائشی مکانات کی مرمت کا کام انجام دے رہے ہیں۔ جمعیت علمائے ہند کی خصوصی ریلیف ٹیم پینے کے پانی کے انتظام کے لیے کنوؤں کی صفائی کا کام کر رہے ہیں جو کہ کیچڑ سے ڈھک چکے ہیں اور پینے کے پانی کا واحد ذریعہ ہیں۔ جمعیت علمائے ہند کے تینوں ریلیف زون کے کارکنان ترویندرم کوچی کالی کٹ اور کورگ علاقوں میں راحت رسانی کی جدوجہد وسیع پیمانے پر کر رہے ہیں۔

"دستور کے بہت سے اجزاء جن کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق مسلمانوں سے تھا حالات و ماحول کے لحاظ سے جو بھی ممکن تھا مولانا ...
29/08/2018

"دستور کے بہت سے اجزاء جن کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق مسلمانوں سے تھا حالات و ماحول کے لحاظ سے جو بھی ممکن تھا مولانا حفظ الرحمن ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند دستور ساز اسمبلی کے رکن ہونے کی حیثیت سے کر دکھایا۔ آج دستور میں اقلیتوں کو جو سہولتیں مراعات اور ضمانتیں دی گئی ہیں ان میں سے بیشتر جمعیت علمائے ہند کے نمائندہ کی ہی جدوجہد کا ثمرہ ہیں۔ اسلامی ہند کے لیے جمعیت علمائے ہند کی سب سے اہم خدمت اور کارگزاری ہندوستانی دستور کا موجودہ ڈھانچہ ہے۔ دستور میں اقلیتوں کو جو حقوق دیے گئے ہیں اس میں سب سے بڑا ہاتھ مولانا حفظ الرحمن کا ہے۔ آج دستور کی وہی دفعات ہیں جو مسلمانوں کو ہندوستان میں سربلند رکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں، اگر ان حقوق کو حاصل کرنے کی طاقت پیدا ہو جائے اور مسلمان احساس کمتری سے نکل آئیں تو ان کا مستقبل تابناک ہو سکتا ہے۔"
(تاریخ جمعیت علمائے ہند ج اول ص 256)

ملت کی سر بلندی و عظمت کے پاسبانتوحید کے فدائی رسالت کے پاسبانہندوستاں میں دین کی شوکت کے پاسبانسو سال کی عظیم روایت کے ...
28/08/2018

ملت کی سر بلندی و عظمت کے پاسبان
توحید کے فدائی رسالت کے پاسبان
ہندوستاں میں دین کی شوکت کے پاسبان
سو سال کی عظیم روایت کے پاسبان
اک نخلِ پر بہار ہے صحرائے ہند کا
پرچم بلند جمعیتِ علمائے ہند کا

جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کیرالہ سیلاب سے بری طرح متاثر ضلع کایانوکُلم پہنچے۔ راحت رسانی اور با...
27/08/2018

جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کیرالہ سیلاب سے بری طرح متاثر ضلع کایانوکُلم پہنچے۔ راحت رسانی اور باز آباد کاری کے منصوبوں کے لیے میٹنگ میں شرکت کی۔ عبوری ریلیف ورک کے لیے ایک کروڑ روپے کا اعلان جب کہ کرناٹک کے کورَگ ساحلی علاقے کے لیے الگ سے 15 لاکھ روپے کی رقم جاری کی۔ مکانات کی مرمت، 500 نئے مکانات کی تیاری اور 2000 خاندانوں کو سروے کے بعد ضروریاتِ زندگی مہیا کرنے کا اعلان کیا۔ متاثرین سے ملاقات کر کے دلاسا دینے کے علاوہ مولانا نے جمعیت کے رضاکاروں کی بھی ستائش کی جنہوں نے متاثرین کو اشیائے خوردونوش مہیا کرنے کے ساتھ اُنہیں کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل بھی کیا۔

تقسیم کے بعد کے مخصوص حالات میں جمعیت علمائے ہند نے جس جرات و استقامت، بیباکی و استقلال اور عزم و حوصلے کا مظاہرہ کیا تھ...
26/08/2018

تقسیم کے بعد کے مخصوص حالات میں جمعیت علمائے ہند نے جس جرات و استقامت، بیباکی و استقلال اور عزم و حوصلے کا مظاہرہ کیا تھا وہ ہندوستان میں کسی ایسی ہی جماعت کے لیے ممکن تھا جس کا کردار آزادی کی جدوجہد اور متحدہ ہندوستان کی جدوجہد میں دیگر تمام جماعتوں اور طبقات سے زیادہ عظیم رہا ہو!

جون 1953 میں جمعیت علمائے ہند نے اترپردیش کے 23 اضلاع کی جمعیت کانفرنس طلب کی جس کے تیسرے روز اردو کو علاقائی زبان بنانے...
25/08/2018

جون 1953 میں جمعیت علمائے ہند نے اترپردیش کے 23 اضلاع کی جمعیت کانفرنس طلب کی جس کے تیسرے روز اردو کو علاقائی زبان بنانے اور دستخطی مہم کامیاب بنانے کی قرارداد پاس ہوئی جس کے بعد اترپردیش میں دستخطی مہم کی لہر چل گئی۔ جولائی 1953 میں انجمن ترقی اردو کی کانفرنس ڈاکٹر ذاکر حسین کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ شریک ہوئے۔ فروری 1954 میں ڈاکٹر ذاکر حسین کی زیر صدارت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ اور متعدد ہندو و مسلم رہنماؤں کے وفد نے صدر جمہوریہ کے سامنے 20 لاکھ تحریری مطالبوں کا ضخیم ترین ریکارڈ پیش کیا !
(زیر نظر تصویر میں مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اسی سلسلے کی ایک کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں جس میں مولانا ابوالکلام آزاد، پنڈت جواہر لال نہرو، سردار پٹیل اور ڈاکٹر ذاکر حسین دیکھے جا سکتے ہیں)

بابائے قوم مہاتما گاندھی کا مشہور گیت "ایشور اللہ تیرو نام" ایک سرکاری اسکول کے مسلم طلباء کو پڑھائے جانے کے اصرار پر مو...
24/08/2018

بابائے قوم مہاتما گاندھی کا مشہور گیت "ایشور اللہ تیرو نام" ایک سرکاری اسکول کے مسلم طلباء کو پڑھائے جانے کے اصرار پر مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ کا ایک خط جو اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر کو لکھا گیا تھا:
"محترمی ! آپ کا خط ملا، شکریہ !
گاندھی جی کا یہ مشہور گیت اسلام کے عقیدۂ توحید کے بالکل خلاف ہے۔ اس لیے کہ اسلام کا سب سے بڑا اور بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ اللہ، ایشور، خدا اس ذات کا نام ہے جو نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کی اولاد۔ نہ کسی کا شوہر نہ بیوی۔ وہ ان تمام رشتوں سے پاک ہے۔ اس کا کوئی ہمسر اور برابر نہیں ہے۔ (سورہ اخلاص)
جس گیت میں رام ایشور اور اللہ کو ایک ہی بتایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی رام کو سیتا جی کا پتی اور سیتا کو رام جی کی دھرم پتنی کہا جا رہا ہے تو ظاہر ہے کہ اسلام اس کو قبول نہیں کر سکتا ! مسلمان بچے اگر پہلے اس گیت پر اعتراض نہیں کرتے تھے تو ممکن ہے کہ وہ اس کی حقیقت سے ناواقف رہے ہوں لیکن اگر اب واقف ہونے کے بعد ان کو اعتراض ہے تو بجا ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ان کو اس گیت کے گانے پر مجبور کیا جائے اس لیے کہ ایک سیکولر اسٹیٹ میں یہ کبھی جائز نہیں ہو سکتا۔
آپ کو غلط فہمی نہ ہو...گاندھی جی نے اس گیت کو کیوں پسند کیا اور اگر پسند کیا تو مسلمان جو گاندھی کو اپنا پیارا اور محبوب لیڈر مانتے ہیں وہ اس پرارتھنا کو پسند کیوں نہیں کرتے؟ اس لیے کہ گاندھی جی خود اس اصول کے حامی تھے کہ کسی کے مذہبی عقیدے کو زبردستی دوسرے پر نہیں ٹھونسا جا سکتا اور صحیح اصول بھی یہی ہے۔ رہی یہ بات کہ خود گاندھی جی اس پرارتھنا میں دونوں باتوں میں مطابقت کیوں رکھتے تھے اور اس کو عقیدۂ توحید کے خلاف کیونکر نہیں سمجھتے تھے یہ بات گاندھی جی جان سکتے ہیں ہم اس کے لیے مجبور نہیں ہیں۔ اس لیے یہ ذہن ہرگز نہیں بننا چاہیے کہ ہر وہ بات جو گاندھی جی نے اپنے لیے پسند کی ہر مذہب والا اس کو اپنے لیے ضرور روا رکھے خواہ وہ اس کے مذہب کے بنیادی اصول کے خلاف ہی کیوں نہ ہو !"

مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ نے 1948  آزاد کانفرنس لکھنؤ میں فرمایا:"کانفرنس نے تمہیں مشورہ دیا ہے کہ تم مشترک سیاست میں ...
23/08/2018

مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ نے 1948 آزاد کانفرنس لکھنؤ میں فرمایا:
"کانفرنس نے تمہیں مشورہ دیا ہے کہ تم مشترک سیاست میں حصہ لو۔ کسی بھی سیاسی جماعت میں حصہ لو جو ہندو مسلمانوں کی مشترک ہو۔
میں کہتا ہوں تم کانگریس میں شرکت کرو کیونکہ اس سے بہتر کوئی جماعت ہمارے سامنے نہیں ہے، مگر کسی خوف و ڈر سے کانگریس میں ہرگز شریک نہ ہو ! اگر تم پناہ ڈھونڈنے کے لیے کسی جماعت میں شریک ہوتے ہو تو اس سے نہ جماعت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے نہ تمہاری یہ شرکت ملک کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ فرقہ وارانہ سیاسی پلیٹ فارم غلط ہے، اس غلطی کو ختم کرو اور مشترک پلیٹ فارم پر ملک کی مشترک سیاست میں حصہ لے کر ملک کی ترقی پذیر جماعت کی طاقت بڑھاؤ، ہمت بلند رکھو، خدمت وطن کے سچے جذبے کے ساتھ آگے بڑھو۔"

Address

Bhiwandi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Huzaifah Qasmi Fans - محبّینِ مفتی محمد حذیفہ قاسمی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Mufti Huzaifah Qasmi Fans - محبّینِ مفتی محمد حذیفہ قاسمی:

Shortcuts

Share

Category