Please follow this page
برائے مہربانی اپنے اس پیز کو فولو کریں
Insha Publication Alwar
Insha Education Alwar
09/11/2024
Rahbar-E-Urdu By Rahbar Education,Alwar
Written By 👉👇
Mr. Jaikam Khan Sir Alwar
Ms. Yasmeen Fatima Jaipur
Ist, 2nd,IIIrd Grade Books & R**T Pre Booklet 2025 Available in All Rajasthan
सभी जगह उपलब्ध👇👇
* तनु स्टोर, नई सड़क चुरू
* स्टुडेंट बुक डिपो, कोटा
* खण्डेलवाल बुक डिपो,मन्नी का बड अलवर
* शर्मा बुक डिपो, मन्नी का बड अलवर
* सुशील बुक डिपो,मन्नी का बड अलवर
* इण्डियन बुक डिपो, जामा मस्जिद रामगढ
* गोपाल ब्रोदर्स, काॅलेज रोड भीलवाड़ा
* सरस्वती बुक डिपो, काॅलेज रोड भीलवाड़ा
* भाटी एण्ड संस नियर इस्लामिया काॅलेज सीकर
* रमेश बुक हाउस टोंक फाटक जयपुर
* जैन बुक डिपो चौड़ा रास्ता जयपुर
* सेकेंड हेंड बुक डिपो, जालोरी गेट जोधपुर
* अल-कौसर ट्रेडर्स, मेडती गेट जोधपुर
* नूर बुक डिपो, हाथीपोल उदयपुर
* मुहम्मद मुसा उर्दू व्याख्याता बीकानेर
* शमा बुक डिपो टोंक
* चौधरी बुक डिपो, पटेल सर्किल टोंक
* चौधरी बुक डिपो टोंक रोड,निवाई
* जैन पुस्तक मन्दिर, पुरानी मंडी अजमेर
* नाजिम सर , लोहा खान पुलिस लाइन,अजमेर
* जितेन्द्र बुक स्टोर, गंगापुर सिटी
* मसीह बुक डिपो, फुटला बाजार झुंझुनूं
* जैन ब्रोदर्स बुक डिपो, सवाई माधोपुर
* काॅलेज बुक डिपो बजरीया ,सवाई माधोपुर
* अनिल स्टेशनरी, सवाई माधोपुर
* हस्सान कंम्प्यूटर & ई-मित्र सेंटर,मलारना डूंगर
* नेशनल स्टेशनर्स & जनरल स्टोर ,मलारना डूगर
* गोल्डन स्टेशनर्स &जनरल स्टोर जैसलमेर
* कौसर बुक डिपो, तालाब पाड़ा,बारां
* अली स्टेशनरी, पाली
* सेकेंड हैंड बुक डिपो नागौर
* रहीम मेडिकल & जनरल स्टोर कुचामन सिटी
* राजा जेराॅक्स कस्टम चौराहा बांसवाड़ा
* फैजाने आली शाह बुक सेलर, माल गोदाम रोड बाड़मेर
* मां भारती बुक डिपो, पंकज कम्प्यूटर के पास सीकरी
* गुप्ता बुक डिपो, नुंह , हरियाणा
* अग्रवाल बुक डिपो नुंह, हरियाणा
👉 जहां तक बुक नहीं पहुंच सकी तो By post के लिए सम्पर्क करें.. https://wa.me/c/916377625531
*محمد قلی قطب شاہ اردو کے اولین شعرا میں شمار ہوتے ہیں اور انہیں اردو کا پہلا باقاعدہ شاعر بھی کہا جاتا ہے۔ وہ قطب شاہی سلطنت کے پانچویں حکمراں تھے اور 1565ء میں گولکنڈہ (موجودہ حیدرآباد، دکن) میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری اردو زبان کی ابتدائی نشوونما اور ترقی کا ایک اہم جزو ہے، جس نے اردو کو ایک مقبول اور مضبوط ادبی زبان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
قلی قطب شاہ کی زندگی
محمد قلی قطب شاہ، سلطان ابراہیم قطب شاہ کے بیٹے تھے اور انہوں نے گولکنڈہ کی حکمرانی 1580ء سے 1611ء تک کی۔ وہ ایک علم دوست اور ثقافتی حکمران تھے جنہوں نے اپنے دور میں ادب، فنون لطیفہ، اور موسیقی کی سرپرستی کی۔ ان کی سلطنت میں ہندو مسلم ثقافتی ہم آہنگی کا ایک منفرد ملاپ دیکھنے کو ملتا ہے، جو ان کی شاعری میں بھی منعکس ہوتا ہے۔ قلی قطب شاہ نہ صرف ایک بہترین حکمران تھے بلکہ ایک حساس شاعر بھی تھے جن کی شاعری میں محبت، عشق، قدرت، اور صوفیانہ تصورات کی گہری جھلک ملتی ہے۔
قلی قطب شاہ کی شاعری کی خصوصیات
1. **محبت اور رومانویت کا اظہار**: قلی قطب شاہ کی شاعری کا سب سے نمایاں پہلو ان کی محبت بھری شاعری ہے۔ وہ اپنے محبوب کے حسن اور عشق کی شدت کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں محبوبہ کے لب و رخسار، زلفوں، اور چال کی تعریف کا خاص ذکر ہوتا ہے۔ ان کی شاعری کی زبان میں سادگی اور بے ساختگی ہے، جو اسے عام فہم بناتی ہے۔
2. **ثقافتی ہم آہنگی**: قلی قطب شاہ کی شاعری میں ہندو مسلم ثقافت کا ایک منفرد امتزاج پایا جاتا ہے۔ انہوں نے فارسی، اردو، اور مقامی زبانوں کے الفاظ کا استعمال کیا، جو ان کی سلطنت کی کثیر الثقافتی معاشرت کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں دیسی اور دیومالائی کرداروں، روایات اور مناظر کا ذکر بھی ملتا ہے جو ان کی شاعری کو منفرد بناتا ہے۔
3. **صوفیانہ اور روحانی عناصر**: قلی قطب شاہ کی شاعری میں صوفیانہ تصورات بھی شامل ہیں۔ وہ عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں صوفیانہ عشق کی جھلکیاں ملتی ہیں جہاں وہ خدا کی محبت کو دنیاوی محبت سے برتر قرار دیتے ہیں۔ ان کی شاعری کا مقصد محض عشقیہ جذبات کا اظہار نہیں بلکہ عشق حقیقی کی طرف رہنمائی بھی ہے۔
4. **فطرت کی عکاسی**: ان کی شاعری میں فطرت کے حسین مناظر کا ذکر بھی بڑی تفصیل سے ملتا ہے۔ وہ پھولوں، بلبلوں، جھیلوں، درختوں، اور پہاڑوں کی منظر کشی کرتے ہیں اور فطرت کی خوبصورتی کو اپنے اشعار کے ذریعے زندہ کرتے ہیں۔ ان کے کلام میں بارش کا ذکر، بہار کی رعنائیاں، اور قدرت کے رنگوں کی جھلکیاں عام ہیں۔
5. **لسانی خصوصیات**: قلی قطب شاہ کی شاعری میں اردو کی ابتدائی شکل کا ایک خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔ ان کے اشعار میں سنسکرت، ہندی، اور فارسی کے الفاظ کا منفرد امتزاج پایا جاتا ہے، جو اردو زبان کی ابتدائی ترقی میں ایک اہم قدم تھا۔ ان کی زبان سادہ، مگر اثر انگیز ہے، جس میں عام لوگوں کی بول چال کی جھلک نمایاں ہے۔
6. **سماجی اور مذہبی موضوعات**: قلی قطب شاہ کی شاعری میں نہ صرف عشقیہ موضوعات ملتے ہیں بلکہ سماجی اور مذہبی موضوعات پر بھی ان کی نظر ہے۔ وہ اپنے دور کے معاشرتی مسائل، مذہبی ہم آہنگی، اور عوامی جذبات کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بناتے ہیں۔ ان کے کلام میں تصوف، مذہب، اور اخلاقیات پر مبنی اشعار بھی ملتے ہیں جو ان کی وسیع النظری اور روشن خیالی کو ظاہر کرتے ہیں۔
قلی قطب شاہ کی شاعری کے نمونے
قلی قطب شاہ کی شاعری کے نمونے ان کی فنکارانہ مہارت اور زبردست تخیل کی گواہی دیتے ہیں۔ ان کی ایک مشہور غزل کا مطلع ہے:
"پیا باج پیالا پیا جائے نا
پیا باج ایک دن جیا جائے نا"
یہ اشعار ان کی عشقیہ شاعری کی عمدہ مثال ہیں، جہاں وہ محبت کے بغیر زندگی کی بے معنویت کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے دوسرے مشہور اشعار میں قدرت کی خوبصورتی، موسموں کی تبدیلی، اور محبوب کی یاد میں تڑپ کا بیان بھی ملتا ہے۔
اردو ادب پر قلی قطب شاہ کا اثر
قلی قطب شاہ کی شاعری نے اردو ادب کی دنیا میں ایک نئی جہت متعارف کروائی۔ وہ پہلے شاعر تھے جنہوں نے اردو زبان میں باقاعدہ شاعری کی بنیاد رکھی۔ ان کی شاعری نے دکنی اردو کی ابتدائی شکل کو فروغ دیا اور بعد میں شمالی ہند کی اردو شاعری پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کی شاعری نے اردو کو ایک ادبی زبان کے طور پر مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
*نتیجہ*
قلی قطب شاہ کی شاعری اردو ادب کا ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ ان کی شاعری نے نہ صرف اردو زبان کو مقبول بنایا بلکہ اس کے ادبی ورثے کو بھی غنی کیا۔ ان کے کلام میں محبت، عشق، صوفیانہ تصورات، اور معاشرتی موضوعات کی ایک خوبصورت آمیزش ہے، جو آج بھی اردو ادب کے طلباء اور شائقین کے لیے دلکش ہے۔ ان کی شاعری کا مطالعہ اردو زبان کی تاریخ، اس کی ترقی، اور اس کے ثقافتی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
*
سرسید کی مضمون نگاری:
سرسید احمد خان کو اردو مضمون نگاری کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک مغربی نثری صنف Essayکی طر ز پر اردو میں مضمون نگاری شروع کی۔ وہ بیکن، ڈرائڈن، ایڈیشن اور سٹیل جیسے مغربی مضمون نگاروں سے کافی حد تک متاثر تھے۔ انہوں نے بعض انگریزی انشائے نگاروں کے مضامین کو اردو میں منتقل کیا۔ انھوں نے اپنے رسالہ ”تہذیب الاخلاق“ میں انگریز انشائیہ نگاروں کے اسلوب کو کافی حد تک اپنایا اور دوسروں کو بھی اس طر ز پر لکھنے کی ترغیب دی۔
سید صاحب کے سارے مضامین Essayکی حد میں داخل نہیں ہو سکتے، مگر مضامین کی کافی تعداد ایسی ہے جن کو اس صنف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً تہذیب الاخلاق کے کچھ مضامین تعصب، تعلیم و تربیت، کاہلی، اخلاق، ریا، مخالفت، خوشامد، بحث و تکرار، اپنی مدد آپ، عورتوں کے حقوق، ان سب مضامین میں ان کا اختصار قدر مشترک ہے۔ جو ایک باقاعدہ مضمون کا بنیادی وصف ہے۔
مضامین سر سید کے موضوعات:
سرسید نے اُردو میں مضمون نگاری کی ابتدا کی تو ڈپٹی نذیر احمد نے ناول نگاری کی صنف کو متعارف کروایا۔ حالی نے سوانح نگاری سے اُردو ادب کا ناتا جوڑااورمقدمہ شعر و شاعری کی صورت میں جدید تنقید کے اصول وضع کیے۔شبلی نے سیرت نگاری جیسی صنف کا تحفہ اردو ادب کو دیا۔حالی اور آزاد نے جدید نظم میں نت نئے تجربات کیے۔ یہ زمانہ اردو ادب کا شاندار عہد ہے۔
سلیس اُردو نثر:
سرسید احمد خاں نے نہ صرف اس مشکل وقت میں مسلمانوں کی ڈوبتی نیا کو سنبھالا دینے کی کوشش کی بلکہ اس زوال پذیر قوم کی زبان کو غیر معمولی ترقی دے کر اردو ادب کے ارتقاء میں بھی حصہ لیااور اردو نثرکو اجتماعی مقاصد سے روشناس کیا۔سر سید نے اُردو نثر کو سہل اور سلیس بنا کر عام اجتماعی زندگی کا ترجمان اور علمی مطالب کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس سے قبل فورٹ ولیم کالج کے ادبا نے بھی اردو نثر کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا اور اردو نثر کو الفاظ پرستی سے نجات دلا کراس کو بے تکلف اظہارِ خیال کا ذریعہ بنایا۔مگر اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ فورٹ ولیم کالج کی نثر کی زبان تو سادہ تھی لیکن اس نثر کو صرف قصوں سے سروکار تھا۔ عام آدمی کی زندگی، اس کے مسائل، اس کی اصلاح اس نثر کا موضوع نہ بن سکی۔ مرزا غالب نے بھی نثر کے میدان میں طبع آزمائی کی اور سرسید کی نثر پر مرزا کے اسلوب کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔
مذہب، تاریخ،سیاست اور تعلیم کے موضوعات:
یہ سر سید جیسی اولعزم شخصیت کا حوصلہ اور محنت کا نتیجہ ہے تھاکہ انہوں نے اس کڑے وقت میں نہ صرف انگریزوں کے دلوں سے مسلمانوں کی نفرت ختم کرنے کی کوششیں کیں بلکہ اپنے رفقا کے ساتھ مل کر ایسا ادب تخلیق کیا جس نے ایک طرف تو اس کڑے وقت میں مسلمانوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور دوسری طرف اردو ادب کو ایسی بنیادیں مہیا کیں کہ آئندہ آنے والی نسلیں اس پر مضبوط عمارت قائم کر سکیں۔ سر سید نے اُردو نثر کی حدود کو وسیع تر کر دیا۔ سرسید اور ان کے رفقا نے اردو نثر کے موضوعات کو وسعت دی۔ وہ نثر جو اس سے قبل مافوق الفطرت کہانیوں تک محدود تھی، اس نثر کے دامن نے مذہب، تاریخ، سیاست اور تعلیم جیسے موضوعات کو جگہ دی۔ سرسید اور ان کے رفقا کے طفیل اردو میں توضیحی، استدلالی اور وصفیہ نثر کے علاوہ اعلیٰ درجے کی مقالہ نگاری، صحیفہ نگاری اور قصہ نویسی پیدا ہو کرپروان چڑھی۔
تنقیدی موضوع:
سرسید کا دور ادرو ادب کی ترقی کا ابتدائی زمانہ تھا۔اس دور میں کسی ترقی یافتہ اور مکمل صنفِ ادب کی توقع نہیں کی جاسکتی۔اردو کی ادبی تنقید بھی اس دور میں کسی حد تک ناپختہ تھی۔تا ہم کہا جا سکتا ہے کہ یہ وہی زمانہ تھا جس میں فن کے شعور اور اصولِ تنقیدکے صحیح ادراک کا آغاز ہوا۔ سر سید نے بذاتِ خود کوئی تنقیدی کتاب نہیں لکھی لیکن ان کے خیالات نے تنقیدی رجحان پر گہرا اثر ڈالا۔مقدمہ شعر و شاعری حالی کی اردو تنقید پر لکھی گئی کتاب ہے۔ اس کتاب میں شعر و ادب کی ماہیت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مقدمہ شعر و شاعری سر سید کے خیالات کی تفصیلی تفسیر ہے۔ سر سیدادب کے جمالیاتی پہلو کی بجائے ادب کو زندگی کے مقاصد سے جوڑتے ہیں اور ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ اس سے قومی اور اجتماعی کام لینے پر یقین رکھتے تھے۔ اس لیے سر سید اردو کے غالباً سب سے پہلے ترقی پسند ادیب اور نقاد تھے۔ حالی نے فنِ تنقید پر انگریزی اور عربی سے مواد لے کر ایک جگہ جمع کیا جو بعد میں آنے والے ناقدین کے لیے شمع ہدایت ثابت ہوا۔حالی نے اس کتاب کے ذریعے اردو شعر و ادب میں ایک نئی لہر پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہ سب سر سید کی صحبت کا ہی نتیجہ تھا:
پرانے رجحانات کے خلاف بغاوت:
سر سید کی تحریک اور ان کے رسالہ”تہذیب الاخلاق“نے اس ادبی انقلاب میں اور بھی زیادہ تنقیدی تلخی اور تیزی کی کیفیت پیدا کر دی اور پرانے رجحانات کے خلاف بغاوت کا پیغام دیا۔کیوں کہ اس وقت ہمارے ادب میں تھک کر بیٹھ جانے والی جو کیفیت تھی اور اس میں جو غلط معیار قائم ہو گئے تھے ان کا وجود ہماری سماجی زندگی کے منافی تھا۔اس پس منظر میں حالی نے مقدمہ شعر و شاعری مرتب کیا۔
ٹھوس علمی مسائل:
سرسید اور ان کے رفقا ء نے ٹھوس علمی مسائل(مثلاً ریاضی اور طیبعیات)کی طرف بھی توجہ دی جس کا نتیجہ یہ ہواکہ سر سید اور ان کے جماعت کے لوگوں نے اُردو کوجو علمی اعتبار سے اس وقت تک ایک بے مایہ زبان تھی، تھوڑے عرصے میں اسے اعلیٰ علمی جواہر ریزوں سے مالا مال کر دیا۔ مغربی علوم کی کتب کے اردو زبان میں تراجم بھی سر سید کا ایک اہم کارنامہ ہے۔ صحافت کے میدان میں بھی سر سید کوکامیابی نصیب ہوئی۔ اخبارات کی زبان عمدہ اور صاف ہوتی تھی۔ بہت کم اخبارات ایسے ہوں گے جن میں ہر ہفتہ کوئی نہ کوئی آ رٹیکل عمدہ سلیس عبارت میں کسی نہ کسی مضمون پر نہ لکھا جاتا ہو۔سر سید نے صحافت کا رشتہ عام آدمی کی زندگی سے جوڑنے کی کوشش کی۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ اور تہذیب الاخلاق نے صحافت میں علمی متانت، فکر و فلسفہ اور سیاست و معاشرت میں جدید تصورات کو جگہ دی۔ تہذیب الاخلاق کا پرچہ قوم کی اصلاح کے لیے نکالا اور اردو انشا پردازی کو اس رتبے پر پہنچا دیا جس سے آگے اب تک ایک قدم بڑھنا بھی ممکن نہیں۔ تہذیب الاخلاق نے اردو نثر نگاری کے لیے سادہ اور سیدھا راستہ کھول دیا۔
صحافت اور سیاسی رجحانات:
سر سید کے اخبارات کے زیرِ اثر صحافت میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ دوسرے معاصر اخبارات نے بھی قومی اور سیاسی رجحانات کو بے خوفی سے پیش کرنا شروع کیا۔ اردو نثر میں مضمون نگاری کی ابتدا اورفروغ کا سہرا تہذیب الاخلاق اور سر سید کے سر جاتا ہے۔ اس سے قبل سیاسی، معاشی، معاشرتی و سماجی مسائل پرسنجیدہ مضامین لکھنے کا رواج نہ تھا۔ سر سید خود اس حوالے سے لکھتے ہیں:
”مضمون نگاری دوسری چیز ہے جو آج تک اردو زبان میں نہ تھی۔ یہ اسی زمانے میں پیدا ہوئی اور ابھی بچپن کی حالت میں ہے۔“
مغربی تہذیب:
سرسید نے جہاں مذہبی، اخلاقی اور سیاسی موضوعات پر قلم اٹھایاوہاں تعلیم، سائنس، انگریزدوستی، مغربی تہذیب کی اچھائیاں اور عام مسلمانوں کے حالات جیسے موضوعات کو نظر انداز نہیں کیا۔ان مضامین نے نہ صرف سر سید کی تحریک کے مفادات کو آگے بڑھایا بلکہ اردو نثر کا وقار بھی بلند کیا۔
اخلاقی مضامین:
نئے اسالیب کو متعارف کرانے اورقابلِ قبول بنانے میں سر سید اور ان کے رفقاکا حصہ ناقابلِ فراموش ہے۔ بہ قول شبلی سرسید ہی کی بدولت اُردواس قابل ہوئی کہ عشق و عاشقی کے دائروں سے نکل کر ملکی، سیاسی، اخلاقی، تاریخی ہر قسم کے مضامین اس زورِ اثر وسعت و جامعیت، سادگی وصفائی سے اداکر سکتی ہے کہ خود اس کے استاد یعنی فارسی میں آج تک یہ بات نہیں۔
اصلاحی تحریک:
سرسید سے قبل کی اردو شاعری کے موضوعات زیادہ تر عشق و محبت، گل و بلبل اور ہجر و وصال تک محدود تھے۔سرسید نے اُردو کی روایتی اصناف اور ان کے موضوعات پر تنقید کرتے ہوئے اُردو شاعری میں وقت کے تقاضوں کے مطابق نئی اصناف کو فروغ دینے کی وکالت کی۔ حالی و شبلی سر سید کی اس سوچ کو فروغ دینے میں سر عمل نظر آئے۔ سرسید کے دور سے پہلے کی شاعری اس منظم اجتماعی اور معاشرتی احساس کی حامل نہیں تھی جو حالی و شبلی کی نظموں کا خاصہ ہے۔سر سید نے ایک اصلاحی تحریک کے ذریعے ادب کی معاشرتی اور تہذیبی اہمیت کو سامنے رکھ کراردو میں مقصدی شعر و ادب کی تخلیق کی ایسی روایت قائم کی کہ اردو شاعری حیات و کائنات کے مسائل کی ترجمانی کے قابل ہوگئی۔
سرسید کا اسلوب:
اس سے پہلے کہ ہم سرسید کے تصور اسلوب کے بارے میں لکھیں۔ اپنے اسلوب کے بارے میں سرسید کے قول کو نقل کرتے ہیں،
”ہم نے انشائیہ کا ایک ایسا طرز نکالا ہے جس میں ہر بات کو صاف صاف، جیسی کہ دل میں موجود ہو، منشیانہ تکلفات سے بچ کر، راست پیرایہ اور بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور لوگوں کو بھی تلقین کی ہے۔
دراصل سرسید احمد خان ”ادب برائے ادب“ کے قائل نہیں، بلکہ وہ ادب کو مقصدیت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وہ کسی خاص طبقہ کے لیے نہیں لکھتے۔ بلکہ اپنی قو م کے سب افراد کے لیے لکھتے ہیں۔ جن کی وہ اصلاح کے خواہاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام سے قریب تر ہونے کے لیے انہوں نے تکلف اور تصنع کا طریقہ اپنانے سے گریز کیا اور سہل نگاری کو اپنا شعار بنایاہے۔ کیونکہ وہ مضمون نگاری میں اپنے دل کی بات دوسروں کے دل تک پہنچانے کے خواہاں ہیں۔ ان کی تحریر کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔
سادگی:
سرسید احمد کی نثر سادہ، سہل اور آسان ہوتی ہے اور اسے پڑھتے ہوئے قاری کو کوئی الجھن محسوس نہیں کرتا۔ ذیل میں ان کے ایک مضمون ”دنیا بہ امید قائم ہے“ سے ایک اقتباس دیا جار ہا ہے۔ جو سادگی کا خوبصورت نمونہ ہے۔ اس مضمون میں وہ خوشامد کے بارے میں کتنے آسان اور سادہ الفاظ میں بات کر رہے ہیں:
”جبکہ خوشامد کے اچھا لگنے کی بیماری انسان کو لگ جاتی ہے تو اس کے دل میں ایک ایسا مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو ہمیشہ زہریلی باتوں کے زہر کو چوس لینے کی خواہش رکھتا ہے۔ جس طرح کہ خوش گلو گانے والے کی راگ اور خوش آئند با جے کی آواز انسان کے دل کو نرم کر دیتی ہے۔ اسی طرح خوشامد بھی انسان کو ایسا پگھلا دیتی ہے کہ ہر ایک کانٹے کے چبھنے کی جگہ اس میں ہو جاتی ہے۔“
بے تکلفی اور بے ساختگی:
سرسید احمد خان نہایت بے تکلفی سے بات کرنے کے عادی ہیں۔ وہ عام مضمون نگاروں کی طرح بات کو گھما پھرا کر بیان کرنے کے قائل نہیں۔ ان کی تحریریں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ان میں آمد ہے آورد نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ فی البدیہہ بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ بات ان کی تحاریر میں بے ساختگی کا ثبوت ہے۔ لیکن بعض ناقدین کے خیال میں اس بے ساختگی کی وجہ سے ان کی تحریر کا ادبی حسن کم ہو گیا ہے۔ لیکن اگر یہ بھی تو سوچیے کہ جب آدمی بے ساختہ طور پر باتیں کرتا ہے، تو وہ فقرات اور تراکیب کو مدنظر نہیں رکھتا۔ آپس کی باتیں ادبی محاسن کی حامل ہوں، نہ ہوں ان میں بے ساختگی کا عنصر ضرور شامل ہوتا ہے۔ ویسے بھی سرسید احمد خان کا مقصد خود کو ایک ادیب منوانا نہیں تھا۔ بلکہ تحریروں کے ذریعے اپنی بات دوسروں تک پہنچانا تھا۔ سر سید کی بے ساختگی کا نمونہ دیکھیے، وہ اپنے مضمون”امید کی خوشی“ میں لکھتے ہیں۔
”تیرے ہی سبب سے ہمارے خوابیدہ خیال جاگتے ہیں۔ تیری ہی برکت سے خوشی،خوشی کے لیے۔ نام آوری، نام آوری کے لیے، بہادری،بہادری کے لیے، فیاضی، فیاضی کے لیے، محبت، محبت کے لیے، نیکی، نیکی کے لیے تیار ہے۔ انسان کی تمام خوبیاں اور ساری نیکیاں تیری ہی تابع اور تیری ہی فرماں بردار ہیں۔“
اصلاح:
سرسید کے مضامین میں مقصد کا عنصر غالب ہے اور وہ ہمیشہ اپنے مقصد ہی کی بات کرتے ہیں۔ ان کی کسی بھی تحریر کے ایک دو پیراگراف پڑھ کر ہمیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ ہمیں کس جانب لے جانا چاہتے ہیں۔ اور ان کا اصل مقصد کیاہے وہ اپنے مدعا کو چھپاتے نہیں بلکہ صاف صاف بیان کردیتے ہیں۔ کوئی مضمون تحریر کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ایک بلند پایہ ادیب ہیں۔ وہ صرف یہ یاد رکھتے ہیں کہ وہ ایک مصلح قوم ہے۔ اس ضمن میں وہ اپنے نظریات کو واضح طور بیان کر دینے کے عادی ہیں۔ ان کی تحریروں میں مقصدیت و افادیت کا عنصر اس حد تک غالب ہے کہ انہیں زبان کے حسن اور ادب کی نزاکت و جمال پر توجہ دینے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ نزاکت خیال اور خیال آفرینی ان کے نزدیک تصنع کاری ہے۔ جو عبارت کا مفہوم سمجھنے میں قاری کے لیے دقت کا موجب بنتی ہے۔
ظرافت:
سرسید کی تحاریر میں کافی حد تک شگفتگی پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے مضامین میں شگفتگی پیدا کرنے کے لیے کبھی کبھی ظرافت سے بھی کام لیتے ہیں۔ لیکن اس میں پھکڑ پن پیدا نہیں ہونے دیتے۔ اس کے متعلق ڈاکٹر سید عبد اللہ لکھتے ہیں،
”سرسید کی تحریروں میں ظرافت اسی حد تک ہے، جس حد تک ان کی سنجیدگی، متانت اور مقصد کو گوارا ہے۔“
ذیل میں اُن کی ظرافت کی ایک مثال مندرجہ ذیل ہے،
”اس نے کہا کیا عجب ہے کہ میں بھی نہ مروں، کیونکہ خدا اس پر قادر ہے ایک ایسا شخص پیدا کرے، جس کو موت نہ ہو اور مجھ کو امید ہے کہ شاید وہ شخص میں ہوں۔ یہ قول تو ایک ظرافت(ظریف) کا تھا مگر سچ یہ ہے کہ زندگی کی امید ہی موت کا رنج مٹاتی ہے۔“
متانت اور سنجیدگی:
سرسید کے زیادہ تر مضامین سنجیدہ ہوتے ہیں، وہ چونکہ ادب میں افادیت کے قائل ہیں، اس لیے ہر بات پر سنجیدگی سے غور کرتے اور اسے سنجیدہ انداز ہی سے بیان کرتے ہیں۔ اکثر مقامات پر ان کے مصلحانہ انداز فکر نے ان کی تحریروں میں اس حدتک سنجیدگی پیدا کر دی ہے۔ کہ شگفتگی کا عنصر غائب ہو گیا ہے۔ بقول سید عبد اللہ،
”سرسید کے مقالا ت کی زبان عام فہم ضرور ہے۔ ان کا انداز بیان بھی گفتگو کا انداز بیان ہے مگر سنجیدگی او ر متانت شگفتگی پیدانہیں ہونے دی۔ البتہ ایسے مقامات جن میں ترغیبی عنصر کی کمی ہے۔“
اثر انگیزی:
سرسید احمد خاں اپنی تحاریر میں اثر پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ان کے بات کرنے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے۔ کہ کسی نہ کسی ڈھب سے قاری کے ذہن پر اثر انداز ہوا جائے اور اسے اپنے نظریات کی لپیٹ میں لے لیا جائے۔ اس مقصد کے لیے وہ کئی حربے اختیار کرتے ہیں۔ مذہب اور اخلاقیات کا حربہ اثر آفرینی کے لیے ان کا سب سے بڑا حربہ ہے۔ اس ضمن میں وہ اشارات و کنایات، تشبیہات اور دیگر ادبی حربوں سے بھی کام لیتے ہیں۔ لیکن قدرے کم، بقول ڈاکٹر سید عبد اللہ:
”اثر و تاثیر کی وجہ تو یہ ہے کہ ان کے خیالات میں خلوص اور سچائی ہے۔ یعنی دل سے بات نکلتی ہے۔ کل پر اثر کرتی ہے۔“
تسلسل و روانی:
سرسید کا قلم رواں ہے۔ وہ جس موضوع پر لکھتے ہیں، بے تکان لکھتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی بعض تحریریں پڑھ کر تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی مشتاق کھلاڑی بلادم لیے بھاگتا ہی چلا جاتا ہے۔ بقول ڈاکٹر سیدعبداللہ:
”وہ ہر مضمون پر بے تکان اور بے تکلف لکھنے پر قادر تھے چنانچہ انہوں نے تاریخ، فن تعمیر، سیرت، فلسفہ، مذہب، قانون، سیاسیات، تعلیم، اخلاقیات مسائل ملکی، وعظ و تدکیر، سب مضامین میں ان کا رواں قلم یکساں پھرتی اور ہمواری کے ساتھ رواں دواں معلوم ہوتا ہے۔ یہ ان کی قدرت کا کرشمہ ہے۔“
متنوع اسلوب:
سرسید کانظریہ تھا کہ ہر صنف نثر ایک خاص طرز نگارش کی متقاضی ہے۔ مثلاً تاریخ نگاری، فلسفہ، سوانح عمر ی الگ الگ اسلوب بیان کا تقاضا کرتی ہیں۔ چنانچہ ہر صنف نثر کوسب سے پہلے اپنے صنفی تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے۔ چنانچہ ہر لکھنے والے صنفی تقاضوں کے مطابق اسلوب اختیارکرنا چاہیے۔
سرسید کے ہاں موضوعات کا تنوع اور رنگارنگی ہے اور سرسید کے اسلوب نگارش کی یہ خوبی اور کمال ہے کہ انہوں نے موضوع کی مناسبت سے اسلوب نگارش اختیار کیا ہے۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کو بیان پر اس حد تک قدرت حاصل تھی کہ وہ سیاسی، سماجی، مذہبی، علمی، ادبی، اخلاقی، ہر قسم کے موضوعات پر لکھتے وقت موضوع جس قسم کے اسلوب بیان کا متقاضی ہوتا اس قسم کا اسلوب اختیار کرتے۔
راست بازی:
سرسید کے فقروں اور پیراگراف میں تناسب اور موزونیت کی کمی ہے۔ جملے طویل ہیں۔ انگریزی الفاظ کا استعمال بھی طبع نازک پر گراں گزرتا ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سرسید کی تحریریں ادبیت سے خالی ہیں۔ خلوص اور سچائی ادب کی جان ہے۔ سرسید اکھڑی اکھڑی تحریروں، بے رنگ اور بے کیف، جملوں، بوجھل، ثقیل اور طویل عبارتوں کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ کہ لکھنے والا، محسوس کرکے لکھ رہا ہے۔ کسی جذبے کے تحت لکھ رہا ہے۔ اس کے پیش نظرنہ کوئی ذاتی غرض ہے اور نہ اسے کسی سے کوئی بغض و عناد اور ذاتی رنجش ہے۔ ان تحریروں کو دیکھ کر جہاں ہم سچائی محسوس کرتے ہیں جو دل پر اثر کرتی ہے، وہاں ان کی تحریروں میں مقصد کی جلالت اور عظمت پائی جاتی ہے۔
مقصدیت:
سرسید کی تحریریں یقین و اعتماد تو پیدا کرتی ہیں مگر قاری کو محظوظ اور مسرور بہت کم کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مقصد کی رو میں بہتے چلے جاتے ہیں۔ وہ خیالات کے اظہار میں اتنے بے تکلف اور بے ساختہ ہو جاتے ہیں کہ الفاظ کی خوبصورتی، فقروں کی ہم آہنگی کی کوئی پروا نہیں کرتے۔ وہ کسی پابندی، رکاوٹ اور احتیاط کا لحاظ نہیں کرتے۔ وہ اسلوب اور شوکت الفاظ پر مطلب اور مدعا کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس طرح سرسید کی تحریروں میں حسن کی کمی پیدا ہو جاتی ہے اور یہی کمی اس کے اسلوب کا خاصہ بھی بن جاتی ہے اور ان کی تحریر ہمہ رنگ خیالات ادا کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔
... خاکہ کی صنفی خصوصیات – آغاز وارتقا
خاکہ غیرافسانوی نثری صنف ہے۔ اسے مرقع یا قلمی تصویر بھی کہتے ہیں۔ اس میں کسی شخصیت کے ظاہری اور باطنی اوصاف بیان کیے جاتے ہیں۔ اس میں شخصیت کی خوبیوں یا خامیوں کا بیان اس طرح کیا جاتا ہے کہ پڑھنے والے کے سامنے اس شخصیت کی ایک قلمی تصویر اُبھر آئے۔ اردوادب میں خاکہ نگاری ایک منفرد، مقبول اور ترقی یافتہ صنف کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے ابتدائی نقوش اردو کے قدیم تذکروں میں ملتے ہیں۔ محمد حسین آزاد کی ’آب حیات‘ میں خاکہ نگاری کے بعض عمدہ نمونے موجود ہیں۔ مگر باضابطہ اس صنف کا آغاز بیسویں صدی کی دوسری اور تیسر دہائی میں مرزافرحت اللہ بیگ کی تحریروں سے ہوا۔ بقول پروفیسرشمیم حنفی:
’’اصطلاحی معنوں میں اردوخاکہ نگاری کا آغاز مرزا فرحت اللہ بیگ سے ہوتا ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد اور مولوی وحیدالدین سلیم کی جیسی بے مثال تصویریں فرحت اللہ بیگ نے لفظوں میں اتاری ہیں انہیں آج بھی اردوخاکہ نگاری کی روایت کا روشن ترین نقش کہا جاسکتا ہے۔ ‘‘ (1)
خاکہ انگریزی لفظ "SKETCH” کا مترادف ہے جس کے لفظی معنی اس نقشہ کے ہیں جو صرف حدودکی لکیریں کھینچ کر بنایا جائے یا ڈھانچہ تیار کیا جائے۔ اصطلاحی معنوں میں خاکہ سے مراد وہ نثری تحریریں ہیں جن میں کسی شخصیت کی مرقع کشی کی گئی ہو۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ خاکہ نگاری شخصیت کی عکّاسی کا فن ہے جس میں خاکہ نویس کسی شخص کی زندگی سے متعلق اہم اور مخصوص حالات وواقعات، اس کی منفرد خصوصیات، ظاہری وباطنی اوصاف، عادات واطوار، حرکات وسکنات، اس کے حلیہ، لباس، رہن سہن اور طرزِ گفتگو کو ایجاز واختصار کے ساتھ اس چابکدستی سے بیان کرتا ہے اور اس کی نفسیات، مزاج، افتادطبع پر اس طرح روشنی ڈالتا ہے کہ اس انسان کی پوری شخصیت، جیتی جاگتی، چلتی پھرتی قاری کی نگاہوں کے سامنے جلوہ گر ہوجاتی ہے۔ خاکہ شخصیت کی دلکش تصویرکشی کا نام ہے مگر ضروری ہے کہ یہ تصویر جاذب نظر اور دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقت سے دور نہ ہو اور زندگی اور اس کی حرکت وحرارت سے بھرپور ہو۔ اس لیے خاکہ نگار کو چاہئے کہ وہ شخصیت کو بغیر کسی مبالغہ آرائی اور جانبداری کے پیش کرے اور اس کے بیان میں تعریف وتنقیص یا مدح سرائی سے کام نہ لے بلکہ حقیقی اور ہمدردانہ انداز اپنائے۔ ڈاکٹر نثار احمد فاروقی نے خاکہ کی تعریف ان جملوں میں کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اچھے اسکیچ کی تعریف ہی یہ ہے کہ بعض گوشوں کی نقاب کشائی ایسی ماہرانہ نفاست کے ساتھ کی جائے کہ اس شخصیت کا خاص تاثر پڑھنے والے کے ذہن میں خود بہ خود پیدا ہو۔ اچھا خاکہ وہی ہے جس میں کسی انسان کے کردار اور افکار دونوں کی جھلک ہو۔ خاکہ پڑھنے کے بعد اس کی صورت، اس کی سیرت، اس کا مزاج، اس کے ذہن کی افتاد، اس کا زاویئہ فکر، اس کی خوبیاں اور خامیاں سب نظروں کے سامنے آجائیں۔ شاعری میں مبالغہ ہوسکتا ہے، نثر میں عبارت آرائی اور تخیل کی آمیزش ہوسکتی ہے لیکن خاکہ ایک ایسی صنف ہے جس میں ردورعایت ہو یا مبالغہ اور مدح سرائی ہو تو پھر وہ خاکہ نہیں رہتا۔ ‘‘ (2)
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک خاکہ کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’خاکہ، لفظوں سے تصویر تراشنے اور کسی شخصیت کی نرم گرم پرتیں تلاشنے کا وہ لطیف فن ہے، جو شوخی، شرارت، ذہانت، زندہ دلی اور نکتہ آفرینی کے ہم رکاب ہوکر میدان ادب میں بار پاتا ہے۔ خاکہ انگریزی لفظ Sketch کا مترادف ہے جس کے معنی ڈھانچہ کچا نقشہ یا لکیروں کی مدد سے بنائی ہوئی تصویر کے ہیں لیکن ادبی اصطلاح میں اس سے مراد وہ تحریر ہے جس میں نہایت مختصر طور پر، اشارے کنائے میں کسی شخصیت کے ناک نقشہ، عادات واطوار اور کردار کو فن کارانہ انداز اور روانی وجولانی کے ساتھ بیان کردیا جائے۔ اس میں جواب مضمون کی سی سنجیدگی درگار ہوتی ہے، نہ یہ سوانح کی سی باقاعدگی اور ذمہ داری کا متحمل ہوسکتا ہے۔ خاکہ کسی شخص یا شخصیت سے وابستہ عقیدت، احترام، محبت، دلچسپی یا یادوں کی ایک ایسی لفظی تصویر ہوتی ہے جو کسی جگہ سے نہایت بے ساختہ انداز میں شروع ہوکر کسی مقام پر غیرروایتی انداز میں ختم ہوجاتی ہے۔ ‘‘ (3)
یحیٰ امجد صنف خاکہ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
خاکہ ایک تخلیقی صنف ادب ہے جس میں زندہ شخصیت گوشت پوست کا بدن لیے، علمیت کی بھاری بھرکم عبائوں کو دم بھر کے لیے اتارکر، روزمرّہ کے لباس میں نظر آتی ہیں اور ہم انھیں ویسا دیکھتے ہیں جیسا کہ وہ سچ مچ تھے۔ نہ کہ جیسا بننا چاہتے تھے، یا جیسا ظاہر کرتے تھے۔ ‘‘ (4)
خاکہ میں شخصیت کی سیرت وصورت کو ضرور بیان کیا جاتا ہے مگر خاکہ نگاری، سوانح نگاری اور خودنوشت سوانح نگاری سے جداگانہ صنف ہے۔ سوانح اور خودنوشت سوانح میں کسی شخص کی پوری زندگی کے حالات وواقعات کو تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے جب کہ خاکہ میں کسی فرد کی زندگی اور اس کی شخصیت سے متعلق چند انوکھے اور منفرد پہلوئوں کو اس فن کاری سے بیان کیا جاتا ہے کہ اس شخص کی زندہ جاوید تصویر نگاہوں کے سامنے گھوم جائے اور ذہن پر اس کا نقش قائم ہوجائے۔ خاکہ نگاری اورسوانح نگاری کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے اور خاکہ کی انفرادیت اور اس کی صنفی خصوصیات وامتیازات پر روشنی ڈالتے ہوئے معروف ومعتبر نقاد پروفیسر شمیم حنفی رقم طراز ہیں:
’’خاکہ نگاری نہ تو سوانحی مضمون ہے، نہ زندگی کے کسی شعبے میں موضوع بننے والی شخصیت کے کارناموں کی تفصیل، خاکہ نگاری تاریخ اور تخیّل سے یکساں تعلق رکھتی ہے۔ لکھنے والا جب کسی شخصیت کو موضوع بناتا ہے تو واقعات، سوانح، خارجی مشاہدات کے ساتھ ساتھ اپنے تاثرات اور قیاسات سے بھی مدد لیتا ہے۔ اسی لیے خاکہ ایک جیتی جاگتی، حقیقی شخصیت کی تصویر ہوتے ہوئے بھی افسانے جیسی دلکشی اور دلچسپی کا سامان رکھتا ہے اور پڑھنے والا اسے گویا کہ بیک وقت واقعے کے طور پر بھی پڑھتا ہے اور کہانی کے طور پر بھی۔ چنانچہ ایک کامیاب خاکہ جو اس صنف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، ہماری فکر اور ہمارے احساسات، دونوں سے رشتہ قائم کرتا ہے۔ اس صنف کے مطالبات فکری بھی ہوتے ہیں اور تخلیقی بھی۔ کامیاب خاکہ نگار وہ ہے جس کی آستین میں روشنی کا سیلاب چھپا ہوا ہو اور جو واقعات کی اوپری پرت کے نیچے، معمولات کے ہجوم میں کھوئی ہوئی، ایسی حقیقتوں کو بھی اپنی گرفت میں لے سکے جن تک عام لکھنے والوں کی نگاہ پہنچتی ہی نہیں۔ اس لئے ہر اچھا خاکہ ایک دریافت ہوتا ہے کسی کہانی یا شعر کی طرح۔ ہم اس کے واسطے سے زندگی کی کسی عام سچائی تک پہنچنے کے بعد بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس سچائی کو ہم نے آج ایک نئے زاویے سے دیکھا ہے اور یہ کہ معنی کی ایک نئی جہت ہم پر روشن ہوئی ہے۔
خاکہ نگار کا رویّہ، موضوع بننے والی شخصیت کی طرف سوانح نگار کے رویّے سے اس معاملے میں مختلف ہوتا ہے کہ اس کی توجّہ تصویر کے چند نمایاں نقطوں پر مرکوز ہوتی ہے۔ وہ نہ تو اس شخصیت سے منسوب ہر واقعے کی تفصیل میں جاتا ہے نہ شخصیت کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کی نظر انتخابی ہوتی ہے۔ وہ جہاں تہاں سے چند واقعات، شخصیت کے چند پہلوئوں تک اپنے آپ کو محدود کر لیتا ہے اور انہی واقعات اور پہلوئوں کی مدد سے ایسی تصویر بناتا ہے جو ادھوری نہ لگے۔ خاکہ نگار ایک چابکدست مصوّر ہوتا ہے جو گنتی کی چند لکیروں یا ہوش کے چند اسٹروکس STROKES کے وسیلے سے ایک جامع اور ہمہ گیر اور متحرک تصویر لفظوں میں اتار دیتا ہے۔ کسی شخصیت کے ایسے عناصر جو مرکزی حوالوں کی حیثیت رکھتے ہوں یا اس سے وابستہ ایسے واقعات جن سے شخصیت کے بھید کھلتے ہوں، خاکہ نگار کا بنیادی سروکار ان ہی سے ہوتا ہے۔ ‘‘ (5)
خاکہ کی مذکورہ تعریفوں کے مطالعہ کے بعد یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ خاکہ شخصیت کی تصویرکو لفظوں میں ڈھالنے کا نام ضرور ہے مگر یہ چند فنی لوازم کا متقاضی ہے۔ خاکہ ایک ادبی صنف ہے۔ دوسری ادبی اصناف کی طرح اس کے بھی فنّی لوازمات ہیں جن کی پابندی کرنا خاکہ نگار کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ خاکہ کے فنّی لوازمات جسے ہم اس کے اجزائے ترکیبی بھی کہہ سکتے ہیں یہ ہیں۔ (1) اختصار، (2) وحدت تاثر، (3) کردارنگاری، (4) واقعہ نگاری، (5) منظرکشی، (6) زبان و بیان۔
اختصار:
خاکہ کا ایک اہم وصف ایجازواختصار ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ خاکہ میں کسی بھی شخص کی زندگی کے چند منفرد، انوکھے اوراہم واقعات کو فن کارانہ انداز میں بیان کر کے اس کے جیتے جاگتے کردار، اس کی سیرت کی جھلکیوں اور اہم خط وخال کو نمایاں کیاجائے۔ اختصار کا یہی وصف خاکے کو مرقع اور سوانح سے ممتاز کرتا ہے۔ اختصار کی اس خصوصیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے طویل خاکے بھی لکھے جاسکتے ہیں۔ خاکہ میں کبھی بھی غیرضروری واقعات اور بے جاطویل مباحث ومسائل کو بیان کرکے اسے بے جان واقعات کا پُشتارہ اور ثقالت اور غیردلچسپی کا حامل نہیں بنانا چاہئے۔ اہم اور انوکھے واقعات کا انتخاب، اس کی عمدہ ترتیب اور اس کا دلکش اندازِ بیان خاکہ کو کامیاب بناتا ہے۔
وحدت تاثر:
خاکہ کا ایک اہم جز وحدت تاثر ہے۔ خاکہ میں اس کی بڑی اہمّیت ہے۔ یہاں وحدت تاثر سے مراد یہ ہے کہ خاکہ نگار شروع سے آخر تک فنی ہنرمندی سے واقعات کی کڑی سے کڑی ملائے اور ربط وتسلسل بنائے رکھے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خاکہ نگار تمہید، درمیانی حصے اور خاتمے کو اس خوبی سے ایک دوسرے میں پیوست کرے کہ ایک خاص تاثر شروع سے آخر تک قائم رہے۔ خاکہ نگار کی کوشش قاری کے ذہن پر اپنے موضوع کا واحد تاثر مرتسم کرنا ہوتا ہے مگر کہیں یہ نقش دھندلا ہوتا ہے اور کہیں گہرا۔ تاثر کا نقش جتنا گہرا ہوگا خاکہ اتنا کامیاب سمجھا جائے گا۔
کردارنگاری:
کردارنگاری، فن خاکہ نگاری کا ایک لازمی جز ہے۔ خاکے کا موضوع کوئی نہ کوئی شخصیت ہوتی ہے۔ یہ شخصیت اپنی انفرادی خصوصیات رکھتی ہے۔ ان خصوصیات کو اجاگر کرنا ہی دراصل خاکہ نگاری کا اہم منصب ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے کردار، خاکے کا ایسا بنیادی جز ہے جس کے بغیر خاکے کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ خاکہ میں کردارنگاری کی اہمّیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر صلاح الدین رقم طراز ہیں:
’’خاکہ کے جملہ عناصر ترکیبی میں کردارنگاری کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ ایک ایسا بنیادی جز ہوتا ہے کہ اس کے بغیر خاکہ کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کردارنگاری کے ضمن میں مذکورہ شخصیت کے خدوخال، حرکات سکنات، لباس، نفسیاتی اور ذہنی کیفیات وتغیرات سب کچھ پیش کیا جاتا ہے۔ ‘‘ (6)
کردارنگاری خاصا مشکل فن ہے۔ ایک اچھا کردار وہ مانا جاتا ہے جو زندگی کی حرکت وحرارت سے پُر ہو اور جس میں شخصیت اپنی خوبیوں، خامیوں، متضاد خصوصیات، منفرد اوصاف اور مختلف رنگوں کے ساتھ ہمارے سامنے جلوہ گر ہو۔ عمدہ کردار نگاری کے لیے خاکہ نگار کا نفسیات داں ہونا اور شبیہہ نگاری اور شخصیت نگاری کے فن کا ماہر ہونا ضروری ہے تاکہ خاکہ نگار کسی شخصیت کے جذبات واحساسات اس کی ذہنی کیفیات کی دلچسپ عکّاسی کرتے ہوئے اس کے رنگ روپ، وضع قطع، عادات واطوار اور حرکات وسکنات کی ایسی موثر جھلک دکھائے کہ وہ شخص اپنی تمام ظاہری وباطنی خصوصیات کے ساتھ قاری کی نگاہوں کے سامنے آکھڑا ہو اور اس کے ذہن پر اس کا گہرانقش قائم ہوجائے۔ خاکہ میں کردار جتنا حقیقی اور اثرانگیز ہوگا خاکہ اتنا کامیاب ہوگا۔
واقعہ نگاری:
خاکے کی تعمیر میں واقعات سے مدد لی جاتی ہے مگر خاکے میں واقعات کی بہتات نہیں ہونی چاہئے۔ کسی بھی شخصیت سے متعلق وہی اہم اور منفرد واقعات بیان کیے جانے چاہئیں جس سے موضوع کی شخصیت کے چھپے ہوئے گوشے سامنے آئیں اور اس کی انفرادیت نمایاں ہو۔ اس لیے خاکہ میں واقعات کا انتخاب، اس کے بعد ان میں ربط وتسلسل اور توازن کا سلیقہ بے حد ضروری ہے تاکہ قاری ان کے شامل ہونے سے الجھن محسوس نہ کرے۔ خاکے میں واقعات کو دلکش انداز میں بیان کیا جانا چاہئے کیوں کہ خاکے کی دلچسپی اور اثرانگیزی کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوتا ہے کہ واقعات کو کس ڈھنگ سے بیان کیا گیا ہے۔ بیان ایسا ہونا چاہئے کہ پڑھنے والے کو واقعہ اپنی نظروں کے سامنے ہوتا ہوا دکھائی دے۔
منظرکشی:
منظرکشی بھی خاکہ نگاری کا ایک اہم جز ہے۔ کسی چیز، کسی حالت یا کسی کیفیت کا بیان اس انداز سے کیا جائے کہ اس کی تصویر قاری کی آنکھوں کے سامنے پھر جائے، اس کا نام منظر کشی ہے۔ جیسے دریا کی روانی، جنگل کی ویرانی اور صبح کی شگفتگی وغیرہ کابیان اس طرح ہو کہ وہ منظر نظروں کے سامنے گھوم جائے اور مدت تک ذہن پر اس کا نقش رہے۔
منظر کرداروں کی شخصیت کو مصورانہ انداز میں اُبھارنے اور اس کے منفرد پہلوئوں کو اُجاگر کرنے میں مدد دیتا ہے۔ منظرکشی کے ذریعہ کرداروں کی شخصیت نکھر کر صاف شفاف، منفرد اور پہلودار انداز میں سامنے آتی ہے۔ خاکہ نگار کو چاہئے کہ جب وہ کسی منظر کو دیکھے تو اس پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے نہیں گزر جائے بلکہ پس منظر کی روح تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ فن کارانہ منظرکشی سے خاکہ میں شگفتگی ودلکشی اور جان پیدا ہوجاتی ہے۔
زبان وبیان:
ادب کی کوئی صنف ہو اس میں زبان وبیان کی اہمّیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہی حال خاکے کا ہے۔ یہ بیانیہ نثری صنف ہے۔ اس میں زبان وبیان کی بڑی اہمّیت ہے۔ اسی کے سہارے خاکہ نگار کسی شخص کو چلتا پھرتا، ہنستا بولتا دکھاتا ہے۔ وہ واقعات میں جان پیدا کرنے اور کردار کو حرکت میں لانے اور احساس کے قابل بنانے کے لیے الفاظ ہی کا سہارا لیتا ہے۔ خاکہ نگار کواپنے بیان میں زور پیدا کرنے کے لیے موزوں الفاظ، حسین تشبیہات، دل کش استعارات اور دوسری صنعتوں سے مدد لینی پڑتی ہے تاکہ حقیقی شخصیت بھی اُبھر کر سامنے آئے اور خاکہ میں ادبی لطف وچاشنی بھی پیدا ہو۔ خاکہ نگار کو چاہئے کہ وہ ایسا اندازبیان اختیار کرے جس کے ذریعے شخصیت کا ہلکا ساتعارف یا لمحہ بھر کی زیارت کا نقش قاری کے دل ودماغ پر ثبت کردے۔ وہ مصائب بھی اس طرح بیان کرے کہ شخصیت بُرے پہلوئوں کے باوجود دلچسپ معلوم ہو۔ اس کے علاوہ خاکہ میں یہ ضروری ہے کہ واقعات کے بیان کا انداز اور اسلوب حقیقی ہوتے ہوئے بھی ایسا حسین ودلکش ہو جو پڑھنے والے کو اپنی جانب متوجّہ کرلے اور اپنا اسیر بنا لے۔
خاکہ نگاری کے فنّی آداب:
خاکہ شخصیت کی تصویرکشی کا فن ہے۔ یہ فن چند فنی لوازم کا متقاضی ہے۔ جیسے اس میں اختصار، حقیقی واقعات کا بیان، واقعات کی عمدہ ترتیب اور ان کے درمیان ربط وتسلسل، صحیح مرقع کشی، دیانت داری، غیرجانبداری، اظہار کی جرئات اورشعوری فراست ہو اور نپے تلے الفاظ میں دلکش انداز میں شخصیت کو بیان کیا گیا ہو۔ خاکہ نگارجب کسی شخصیت پر خاکہ لکھے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس سے متعلق وہی باتیں بیان کرے جو اس شخص کے اندر پائی جاتی ہوں۔ وہ کسی شخصیت کے بیان کے وقت اپنی ذاتی پسند وناپسند اور بے جا تعصُّبات کا شکار نہ ہو۔ وہ اپنی تحریر میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے من گھڑت اور فرضی واقعات بھی بیان نہ کرے۔ خاکہ میں کسی شخصیت کو نہ تو بڑھاچڑھا کر پیش کیا جاتا ہے نہ اس کے قد کو گھٹانے اور اسے نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ خاکہ میں شخصیت کے بیان میں بے جا تعریف و تنقیص اور مبالغہ آرائی یا مدح سرائی سے کام نہیں لیا جاتا ہے نہ کسی شخصیت پر تنقید کی جاتی ہے۔ یہ سب باتیں فن خاکہ نگاری کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ خاکہ کی اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں شخصیت کو اچھا یا بُرا بنائے بغیر جیسی وہ ہوتی ہے ویسی ہی پیش کردی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں یحیٰ امجد رقم طراز ہیں:
’’خاکہ میں کسی شخصیت کو جیسی وہ ہوتی ہے من وعن ویسا ہی پیش کردیا جاتا ہے۔ اسے اچھا یا برا یا کچھ اور ’’ثابت‘‘ کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اس کی زندگی کے مختلف واقعات کا علمی بصیرت سے انتخاب کرکے پوری فنی مہارت سے ان کی ترتیب قائم کی جاتی ہے اور یوں زندہ شخصیت سامنے آتی ہے۔ اچھے خاکہ نگار کا نقطئہ نظر ضرور ہمدردانہ ہوتا ہے لیکن وہ حتی الوسع غیرجانبدار ہی رہتا ہے۔ ‘‘ (7)
خاکہ نگاری کا اہم اصول یہ ہے کہ اس میں شخصیت کو سچائی اور دیانتداری سے پیش کیا جائے۔ اس کی خوبیوں کے ساتھ اس کی خامیوں کو بھی بیان کیا جائے۔ کسی بھی شخص کی بُرائیوں کو اس ہمدردانہ انداز میں بیان کیا جائے کہ دل میں اس شخصیت سے نفرت پیدا نہ ہو۔ خاکہ نگاری کا ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ خاکہ نگار کسی بھی شخصیت کو بیان کرتے ہوئے اس کے منفرد، اچھوتے اور اہم پہلوئوں پر روشنی ڈالے اور اس کے باطنی تہوں کو ٹٹول کر شخصیت کے ان تاریک گوشوں کو بھی بے نقاب کرے جس سے عام لوگ واقف نہیں ہیں۔ ڈاکٹر صابرہ سعید خاکہ نگاری کی ماہیت و فن پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
’’خاکہ نگاری کا فن خاکہ نویس سے کئی چیزوں کا طالب ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی شخصیت کو الفاظ وزبان کے ذریعے حیاتِ نو بخشی جائے۔ دوسرے زیرِ مطالعہ شخصیت کو اس کے اصلی رنگ وروپ اور اس کے ماحول میں پیش کیا جائے۔ اس کی تحریر صرف حقیقت کی عکاسی کرے۔ وہ شخصیت کے صرف نمایاں اور مسلم خصوصیتوں کو زیرِ قلم لائے۔ ایسے پہلو ہی منتخب کرے جن سے شخصیت کی ذہنی افتاد، افکارو نظریات قاری کے سامنے عیاں ہوسکیں۔ اس کے علاوہ اپنے جذبات اور جوش کو اعتدال میں رکھ کر ہمدردی لیکن غیرجانبداری کے ساتھ تما مواد کو اس طرح ترتیب دے کہ شخصیت کی سیرت کے مخصوص ومنفرد پہلو منور ہوسکیں۔ اس کے ساتھ وہ قاری میں بھی اس شخصیت کے لیے ویسے ہی ہمدردانہ جذبات پیدا کردے جو وہ خود رکھتا ہے۔ شخصیت کا مطالعہ متوازن ہو، دقتِ نظر کے ساتھ وسعتِ نظری بھی لازمی وضروری ہے۔ واقعات صحت کے ساتھ پیش کیے جائیں۔ ‘‘ (8)
خاکہ نگاری کے یہی وہ فنّی آداب ہیں جن کوبرت کر دلکش اور بہترین خاکے لکھے جاسکتے ہیں۔ خاکہ نگار کے پاس غیرمعمولی قوّتِ مشاہدہ کا ہونا ضروری ہے تاکہ شخصیت کے باریک سے باریک گوشوں تک اس کی رسائی ہوسکے۔ خاکہ نگار اپنی بصیرت وبصارت، ذہانت اور مصورانہ مہارت سے کام لے کر شخصیت کے چند انوکھے، منفرد اور اہم پہلوئوں کو اپنے حقیقی مگر دلکش اندازِ بیان اور حسین اسلوب میں اس طرح بیان کرے کہ اس کی جیتی جاگتی، متحرک تصویر قاری کی نگاہوں کے سامنے گھوم جائے اور ماضی کی شخصیت حال میں زندہ ہوجائے۔
اردو میں خاکہ نگاری کی ابتدا باضابطہ طور پرجیسا کہ ذکر کیا جاچکا ہے مرزا فرحت اللہ بیگ کی تحریروں ’’نذیراحمد کی کہانی کچھ ان کی اور کچھ میری زبانی‘‘، ’’دلی کا ایک یادگار مشاعرہ‘‘ اور ’’ایک وصیت کی تعمیل‘‘ وغیرہ سے ہوئی۔ مرزا فرحت اللہ بیگ کے بعد جو خاکہ نگار سامنے آئے ان میں خواجہ حسن نظامی، آغا حیدر حسن، مولوی عبدالحق، شاہد احمد دہلوی، اشرف صبوحی، رشید احمد صدیقی، سردار دیوان سنگھ مفتون، جوش ملیح آبادی، خواجہ محمد شفیع دہلوی، مرزا محمود بیگ، مالک رام، منٹو، عصمت چغتائی، شوکت تھانوی، محمد طفیل، سید اعجاز حسن، کنھیالال کپور، شورش کاشمیری، فکرتونسوی، چراغ حسن حسرت، خواجہ غلام السیدین، مجید لاہوری، عبدالمجید سالک، کرشن چندر، ظ۔ انصاری، حامد جلال، احمد بشیر اور قرۃ العین حیدر وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ خواجہ احمد فاروقی، خلیق انجم، اسلم پرویز، ڈاکٹر عبادت بریلوی، سید ضمیر جعفری اور قدرت اللہ شہاب وغیرہ نے بھی عمدہ خاکے لکھے ہیں۔ عصرحاضر کے نمائندہ اور ممتاز خاکہ نگار مجتبیٰ حسین ہیں۔ ان کے علاوہ جن ادیبوں نے اس فن کووسعت دی ان میں انتظار حسین، یوسف ناظم، عابد سہیل اور اقبال متین وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے۔ آج بھی اردو میں خاکہ کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ صنف عصرِ حاضر میں بھی جس طرح ترقی کے منازل طے کررہی ہے، وہ اس کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ خاکہ نگاری کی بڑھتی مقبولیت اور اس کی ترقی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی تامُّل نہیں کہ خاکہ یقیناََاُردو کی بے حد مقبول اور ترقی یافتہ صنف ہے اور یہ اُردو نثر کی آبرو بھی ہے۔
حوالے:
(1) پروفیسر شمیم حنفی، مرتب: آزادی کے بعد دہلی میں اُردو خاکہ، اُردو اکادمی، دہلی، 2009ء، ص، 16۔
(2) ڈاکٹر نثار احمد فاروقی، اُردو میں خاکہ نگاری، مشمولہ، دیدودریافت، آزاد کتاب گھر، دہلی، 1964ء، ص، 18۔
(3) ڈاکٹر اشفاق احمد ورک، آزاد:اُردو کا پہلا خاکہ نگار، مشمولہ، موقف، کتاب سرائے پبلشرز، لاہور، 2008ء، ص، 65۔
(4) یحیٰ امجد، اُردو میں خاکہ نگاری، مشمولہ، اردونثرکافنّی ارتقا، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی، 2015ء، ص، 373۔
(5) پروفیسر شمیم حنفی، آزادی کے بعد دہلی میں اُردو خاکہ، ص، 9 تا 11۔
(6) ڈاکٹر صلاح الدین، مرتب: دلّی والے، اُردواکادمی، دہلی، 1986ء، ص، 25۔
(7) یحیٰ امجد، اُردو میں خاکہ نگاری، مشمولہ، اردونثرکافنّی ارتقا، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ص، 364تا365۔
(8) ڈاکٹر صابرہ سعید، اردوادب میں خاکہ نگاری، ایجوکیشنل بُک ہائوس، علی گڑھ، 2013ء، ص، 9تا10۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Bharatpur
321024