Al Jamiatul Alimia Official

Al Jamiatul Alimia Official

Share

دارالعلوم علیمیہ شاہراہ بستی سے تقریباً 15 کلو میٹر کے ف

24/08/2021

*نذرانہ عقیدت*
درشان حضور مفتی اعظم ہند، حضرت علامہ *مفتی مصطفی رضا خان* علیہ الرحمہ(متوفی:14 محرم 1402 ہجری/11 نومبر 1981)
*نتیجہ فکر* :اسیر مفتی اعظم ہند *کمال احمد علیمی نظامی* جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

05/06/2021
25/05/2021

13 شوال یومِ ولادت حضرت امام بخاری رحمۃ الله عليه

12/05/2021

علیمی دارالافتاء کا اعلان

12/05/2021

معين العلماء حضرت مولانا معين الحق عليمي عليه الرحمه كا آج یوم وصال ھے
آپ حضرات انكے لئے فاتحه خواني ايصال ثواب كرين
خصوصا اساتذه كرام طلبه فارغين عليميه اپنی دعاون مین حضرت عليمي صاحب كو ياد فرما ئین
دعاون کا طالب
محمد شفيق الرحمن

12/05/2021

*آج پھر تیری یاد آئی ہے*

*کمال احمد علیمی نظامی*

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

رمضان المبارک کی انتیسویں شب کبھی نہ بھولے گی، گزشتہ شب بڑے کرب و اضطراب میں گزری، رہ رہ کر میرے عظیم ترین محسن *حضرت علامہ معین الحق صاحب علیمی* علیہ الرحمہ کی یاد آتی رہی، ان کا نورانی چہرہ، درخشندہ پیکر، ان کی فکر ونظر، ان کی نفاست ونظافت، ان کی زیر لب مسکراہٹ، علیمیہ سے ان کی بے لوث محبت، علما ومشائخ سے ان کی عقیدت، بزرگوں سے ان کی قلبی ارادت، طلبہ سے ان کی غیر معمولی مودت، حاجت مندوں پر ان کی نگاہ عنایت،ان کی بے مثال سخاوت، ان کا شاہانہ شان وشوکت ،مشکلات میں ان کا صبر وعزیمت، ان کی سادگی، روح کی تابندگی، قلب کی رخشندگی، اصول کی پابندی،خدمت دین سے معمور زندگی....کیا کیا یاد کروں:

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
ان کے احسانات، ان کی عنایات، ناچیز کے حق میں ان کی خصوصی توجہات.... کیا کیا یاد کروں.
وہ صحیح معنوں میں معین العلما تھے، اہل علم کے لیے ان کا دل بھی کشادہ تھا اور ان کا دستر خوان بھی، علیمی دربار ہوٹل ممبئی کا دروازہ ہر کسی کے لیے کھلا رہتا تھا، مجھے اچھی طرح سے یاد ہے، جب میں سخت بیمار تھا، ممبئی علاج کے لیے بلایا، مہنگے ہاسپٹل میں علاج کرایا، ڈاکٹر نے مقوی غذا کی صلاح دی، حضرت نے مجھ سے فرمایا :مولانا! میرے ہوٹل میں جو سب سے اچھا کھانا بنتا ہے آپ وہ کھائیں اور پانی کی جگہ پر فروٹ کا جوس پئیں:

آج کیا لوٹتے لمحات میسر آئے

یاد تم اپنی عنایات سے بڑھ کر آئے
علیمیہ ان کی کرامت ہے، یہاں کا معیاری نصاب ونظام تعلیم ان کی بے نظیر خدمت ہے، یہاں کے ہر گل بوٹے میں ان کے خون جگر ک رنگت ہے،علیمیہ ہی ان کا حیز طبعی تھا، وہی ان کی توجہات کا قبلہ تھا، وہی ان کا سرمایہ حیات اور توشہ آخرت تھا، جب بھی جمدا شاہی آتےموسم کی سردی وگرمی برداشت کرکے علیمیہ ہی میں بودوباش اختیار فرماتے، اساتذہ کے ساتھ ان کی نورانی مجلسیں یاد ہیں، طلبہ کے ساتھ ان خصوصی نشستیں یاد ہیں، ہم سب پر ان کی شفقتیں، ان کی رحمتیں سب یاد ہیں...

خوش دلی مہربانیاں شفقت
حسن شبنم مزاجیاں نکہت

علیمیہ ان کی زندگی تھا، اس سے فرقت موت تھی، علیمیہ سے دست برداری کے بعد میں نے انہیں کبھی کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا،آخری عمر میں کئی ملاقاتیں رہیں مگر اب پہلے والے "علیمی صاحب" سے ملاقات نہیں ہوتی تھی بلکہ خاموشی اور رنج وغم کی چادر اوڑھے ہوئے ایک بوڑھے انسان سے ملاقات ہوتی تھی، اللہ تعالیٰ انہیں قبر میں شاد فرمائے.
وفات کے پانچ چھ مہینے بعد خواب میں دیکھا، وہی دمکتا چہرہ، چہرے پر حسین مسکراہٹ، قیمتی پوشاک زیب تن کیے ہوئے شان سے بیٹھے تھے، خواب سے بیدار ہوا تو زبان پر ساختہ یہ آیات کریمہ آگئیں :
(( يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ))
اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے.
بڑھتی جاتی ہے زخموں کی تعداد
بڑھتا جاتا ہے درد سینے کا

حوصلہ اب نہیں ہے جینے کا

یاد ماضی عذاب ہے یا رب

*کمال احمد علیمی* نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

11/05/2021

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

*Afsos Naak Khabar*
Khalifa E Huzoor M***i E Azam E Hind , Khalifa E Qutub E Madina Hazrat Allama *Qari Amanat Rasool Sahab Qibla* Aaj Inteqal Farma Gaye...
[Pilibhit Shareef,U.P., India]

Allah Ta'ala Aapke Darajaat Ko Buland Farmaye Apne Habibﷺ Ke Sadqe Aur Tamam Murideen Aur Ahle Khana Ko Sabr E Jameel Ata Farmaye.....Ameen

08/05/2021

*درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو*

خدمت خلق دین کی بنیادی ضروریات میں سے ہے،ایک انسان دوسرے انسان کے کام آئے یہی مذہب اسلام کی اساسی تعلیم اور دین فطرت کا تقاضا ہے، اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے:
۞ لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ.
ان آیات طیبات میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ نیکی صرف نماز روزے کا نام نہیں ہے بلکہ خدمت خلق، غریبوں کی مدد، ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں کام آنا یہ بھی بہت بڑی نیکی کا کام ہے.
حدیث شریف میں خلق خدا کو اللہ کا کنبہ قرار دیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد نبوی ہے:
3 - الخَلقُ عيالُ اللَّهِ ، فأحبُّ الخلقِ إلى اللَّهِ مَن أحسنَ إلى عيالِهِ
الراوي : عبدالله بن مسعود | المحدث : البيهقي | المصدر : شعب الإيمان الصفحة أو الرقم: 6/2528
تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو خلق خدا کے ساتھ اچھا سلوک کرے.
اسی طرح سے حدیث شریف میں اس شخص کو سب سے اچھا انسان قرار دیا گیا ہے جو لوگوں کو زیادہ سے زیادہ نفع پہونچائے، چنانچہ حدیث میں ہے :
:”خَیْرُ النَّاسِِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاس یعنی لوگوں میں بہتر و ہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔“(کنز العمال،ج 8،ص54، جزء: 16، حدیث: 44147)
مذکورہ آیات وأحاديث سے ثابت ہوا کہ خدمت خلق اللہ و رسول کے نزدیک حد درجہ محبوب عمل ہے، اور انسانیت کی مدد، ضرورت مندوں کی حاجت برآری دین اسلام کی شناخت ہے.
کرونا کال میں جب کہ ہر طرف قیامت کا سماں ہے، انسان بھوکوں مر رہے ہیں، ایک ایک سانس کے لیے لوگ دم توڑ رہے ہیں، طبی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے لاشوں کا انبار لگا ہے، دوا علاج کے لیے لوگوں کے پاس پیسے نہیں، ایسے میں ہم تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کی امداد کے لئے آگے بڑھیں، اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی ہمیں دیا ہے اور جس لائق بنایا ہے ہم حیثیت کے مطابق غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مندوں کا تعاون کریں.
جمدا شاہی جو جامعہ علیمیہ کی وجہ سے عالم گیر شہرت کا حامل ہے وہاں کے حالات بہت خراب ہیں،روزانہ موتیں ہو رہی ہیں، ہر کوئی خوف زدہ ہے، ان حالات میں ہمیں سب سے پہلے تو اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے، پھر سارے اختلافات وسیاست کو بالاے طاق رکھ کر حسب حیثیت غریبوں اور محتاجوں کی امداد کرنی چاہیے.
اس وقت سب بڑی دقت ضروری دواؤں اور آکسیجن کی قلت ہے، جو غریب بے چارے دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں وہ بھلا دوا اور آکسیجن کا انتظام کہاں سے کرپائیں گے، ایسے میں ہمارا دینی فریضہ بنتا ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور ہر کوئی یہ عہد کرے کہ ہم اپنی آبادی کے کسی بھی فرد کو دوا اور آکسیجن کی عدم فراہمی کی وجہ سے مرنے نہیں دیں گے، نوجوان ایک ٹیم بن کر ضروری ادویات اور آکسیجن کی حصول یابی میں لگ جائیں، جیسے بھی ممکن ہو ضروری دوائیں اور آکسیجن سلنڈر جامعہ علیمیہ میں انتظام کرکے رکھ دیں، اس سلسلے میں مجھ سے جو بھی تعاون ہوسکے گا میں اس کے لیے حاضر ہوں، الحمد للہ میں نے ایک آکسیجن مشین جمدا شاہی کے لیے بک کرادی ہے،جو جلد ہی جمدا شاہی پہونچ جائے گی،اسی طرح سے میں سب سے گزارش کروں گا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم سب ایک ہوکر ایک دوسرے کا تعاون کریں، باقی اللہ کی مرضی، رب جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے، تدبیر کرنا اپنا کام ہے تقدیر اللہ کے دست قدرت میں ہے.
مجھے یقین ہے کہ اہل جمدا شاہی میری اس مخلصانہ گزارش پر توجہ دیں گے اور سب مل کر اس مہاماری کا مقابلہ کریں گے.

عرض گزار
*شہنشاہ حسین برکاتی*
متوطن جمدا شاہی ،مقیم حال سورت گجرات

Want your school to be the top-listed School/college in Basti?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Jamda Shahi
Basti
272002