Al-Ehsan educational trust

Al-Ehsan educational trust Al-Ehsan educational trust

24/01/2023

*مسلم خواتین اور گروپ لون*


تحریر :
أشرف شاكر ریاضی

(مدرس کلیہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ گمانی جھارکھنڈ)

- - - - - - - - - - - - - - - - - -

یقیناً آج کا دور گردش ایام کے ساتھ ساتھ بالکل بدل چکا ہے، ہر چیز کے طور و طریقے بدل چکے خواہ وہ امن کا طریقہ ہو یا جنگ کا ، کل تک جو ناممکن تھے وہ آج ممکن نظر آرہے ہیں، ایسے دور پرآشوب میں ہر قوم دوسری قوم کو نظریاتی مات دینے کی کوشش میں لگی ہے، لہذا کوئی اثرانداز ہے تو کوئی اثر پذیر ہے، مغلوب قوم غالب قوم کی تہذیب و کلچر کا دلدادہ ہے، بہرحال غالب قوم کی نظریات و ثقافت اورطور طریقے اور انکے عقائد کو لوگ خوب ترجیح دے رہے ہیں، حالانکہ اسلام کی ثقافت و تہذیب دنیا کی تمام ثقافت پر ہمیشہ ممتاز و غالب رہی ہے، کیوں کہ دیگر ثقافتیں و تہذیب انسان کے خود ساختہ ہیں جبکہ اسلامی ثقافت منزل من اللہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام کی تاریخ میں ہر دور میں اسلامی ثقافت پر اغیار کا شدید حملہ ہوا ہے، اسلامی نظریات کو مات دینے کیلئے نہ جانے کتنے نظام و پروٹوکول مرتب کئے گئے، لیکن اسلام کا نظام روز اول ہی سے ترقی کے لامتناہی منازل طئے کئے جا رہا ہے، اور ان شاء اللہ یہ چراغ تاقیامت گمراہی و بے راہ روی کے خلاف لوگوں کو روشنی پہنچاتے رہے گا!
قارئین کرام!!
گروپ لون جسے ہم معاشی و اقتصادی بحران سے بچنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں در اصل یہ اغیار کی جانب سے مرتب شدہ ایک زہر ہلاہل اور سم قاتل ہے، جس کی زد میں بآسانی کوئی بھی آسکتا ہے اور پھر اسکے دلدل میں پھنس کر اپنی پوری زندگی وعاقبت تباہ کر سکتا ہے، جسے ہم اپنی بدحالی و فاقہ کشی سے نکلنے کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں فی الحقیقت اس سے مزید غربت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالخصوص مزدور طبقے کے لوگ قرض کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ بھیگ مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں
قارئین کرام!
ذیل کے سطور میں گروپ لون کی وضاحت درج کرنے کی سعی کی جا رہی ہے ، دراصل یہ بندھن بنک کی طرف سے عورتوں کیلئے ایک مخصوص اسکیم ہے جو عورتوں کیلئے معاشی استحکام کا محض ایک جھانسہ ہے، یہ لون متعدد خواتین کی گروپ بندی کے ذریعہ سے پاس ہوتا ہے پھر ماہانہ یا ہفتواری قسطوں میں سود کے ساتھ بنک اپنا رقم واپس لینا شروع کرتا ہے، واضح رہے کہ اس لون کا فائدہ اسی وقت ایک خاتون کو مل سکتا ہے جب تک وہ ایک خاص عمر کو تجاوز نہ کرے ساتھ ہی ساتھ گروپ لون میں کسی مرد کی شراکت قطعی طور پر ناقابل قبول ہے، بنک کے طرف سے جو کارندے آتے ہیں وہ نوجوان ہوتے ہیں ساتھ ہی ساتھ انکو مخصوص انداز میں تربیت دی جاتی ہے، بالخصوص مسلم معاشرے کے لئے جن کارندے کو مسلط کیا جاتا ہے کلی طور پر ان کا مائنڈ واش ہوتا ہے انکے ذہن ودماغ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کی جاتی ہے اور بالخصوص مسلم بہو بیٹیوں کو اپنے چنگل میں پھنسانے پر ابھارا جاتا ہے، جس کا منفی نتیجہ آج ہمارے سامنے موجود ہے ہندوستان کے مختلف مسلم معاشرے سے ہزاروں خواتین ان کے اس ناپاک عزائم کا شکار بن چکیں ہیں،اس سلگتے ہوئے چنگاری سے نہ جانے کتنے آباد گھر اجڑ چکے ہیں، کتنی بہن بیٹیوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے،
بنک کے طرف سے معمور غیر مسلم نوجوان جہاں ایک طرف تعلیم یافتہ ہوتے ہیں وہیں دوسری طرف ہینڈسم بھی ہوتے ہیں، بالفاظ دیگراں وہ مخصوص انداز و دلکش لب و لہجے کے مالک ہوتے ہیں، واضح رہے کہ انکے پاس ان خواتین کی پوری تفصیل بھی موجود ہوتی ہے، جو گاہے بگائے جسے چاہتا اپنا شکار بنا لیتا ہے، اس پر مستزاد یہ کہ دونوں کا تبادلہ خیال جاری رہتا ہے، مشکلات میں کچھ خصوصی مراعات آفر کی جاتی ہے، بلکہ بسااوقات انکے مادی مسائل کا حل بھی نکالا جاتا ہے، ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے اپنائیت کا احساس دلایا جاتا ہے، اگر وہ خاتون جوائنٹ فیملی سے ہے اور سسرال والوں کی طرف سے کچھ پریشانی کا سامنا کر رہی ہو تو مزید آگے بڑھ کر اظہار محبت کے گلدستے پیش کئے جاتے ہیں عورت چونکہ فطری طور پر پیار ومحبت کا شوقین ہوتیں ہیں، اس لیے وہ اپنے ایمان و عقیدہ کو بھینٹ چڑھاکر انکے ناپاک جسارت کو پایہ تکمیل تک پہنچا ہی دیتیں ہیں، پھر جب دو تین دن کے بعد حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے تب پھر ساری عمر ذلت رسوائی کے زنجیروں میں جکڑ کر رہ جاتیں ہیں!!
محترم قارئین کرام!! ان سارے حوادث کے لئے صرف ہماری مسلم خواتین ہی قصوروار نہیں ہیں بلکہ اس میں ہم مسلم مردوں کی بھی برابر کی شراکت ہے کیونکہ اس مذکورہ بالا لون کو لینے پر ہم ہی انہیں آگے بڑھاتے ہیں ان پیسے کا استعمال بھی ہم ہی کرتے ہیں، ہر ہفتے مہینے ان غیر مسلم مردوں کی مجلس کا حصہ بننے کی اجازت بھی ہم ہی دیتے ہیں، ہمارے سامنے ہی گھر کی نوجوان عورتیں زیب و زینت اختیار کرکے گروپ میں شرکت کیلئے نکلتیں ہیں اور ہمیں ذرہ برابر بھی غیرت نہیں آتی ہے ، پھر کچھ دنوں میں جب ہمارے گھروں سے بہو بیٹی غیروں کے ساتھ نکل جاتی ہے تب پھر غیرت کا جام لبریز ہوجاتا ہے اور چاروں طرف اس بہو کے بداخلاق ہونے کا ڈھنڈورا پیٹنے لگتے ہیں اور پھر اپنے بے ثباتی نااہلی و تمام گناہوں کا ٹھیکرا اس بہو پر پھوڑتے ہیں.
قارئین کرام!!
دور حاضر میں ہمیں نہایت ہی حساس و دور اندیش ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی قوم کی رہنمائی نہایت ہی ضروری ہے، بالخصوص علماء کرام کو چاہیے کہ جب بھی معاشرے میں کوئی نیا فتنہ انگڑائی لے اس کے سدباب کیلئے لوگوں کو متنبہ کرے، اسکے منفی نتائج سے آگاہ کرے، کیوں کہ علماء کرام کو اللہ تعالیٰ نے علم و بصیرت سے نوازا ہے اور ممبر و محراب کی زینت بھی بنایا ہے، لیکن افسوس کہ دور حاضر میں بیشتر علماء قوم کے تئیں بہت کم فکرمندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں!!

گروپ لون کی شرعی حیثیت!
ذیل کے سطور میں سود کی حرمت پر کچھ شرعی دلائل پیش کی جارہی ہیں :

اگر گروپ لون کی شرعی حکم کی بات کی جائے تو سراسر یہ ربا ہے جو کہ اسلام میں حرام ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۷۸)
ترجمہ:
اے ایمان والو! اگر تم ایمان والے ہو تواللہ سے ڈرو اور جو رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو۔ اسی آیت کریمہ میں
سودی کاروبار ترک نہ کرنے والوں کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیا ہے، جس سے آپ سود کی قباحت کا اندازہ لگا سکتے ہیں!
سود کی حرمت کا ذکر صرف اسلام ہی میں نہیں بلکہ دیگر ادیان میں بھی موجود ہیں
اسی طرح اللہ تعالی نے ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ:
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ.
ترجمہ : ’’جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ لوگ اس طرح کھڑے ہوں گے جس طرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر خبطی بنا دیا ہو، یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں بے شک تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ پس جس شخص کے پاس اس کے رب کی نصیحت پہنچی اور وہ باز آ گیا تو جو پہلے ہو چکا وہ اس کا ہے، اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔‘‘ البقرۃ : 275

مذکورہ آیتِ کریمہ میں سود خوروں کی حالت زار کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ قبر سے اٹھنے کے وقت قیامت کے دن انتہائی ذلیل و رسوا ہوں گے اور ان کی یہ حالت اس وجہ سے ہوگی کہ وہ بیع کی طرح سود کو بھی جائز قرار دیتے تھے جب کہ اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ اور اللہ علیم و خبیر ہے جو ہر بات سے بخوبی واقف ہے کہ کس چیز میں بندوں کے لیے نفع ہے اور کس چیز میں بندوں کے لیے ضرر پایا جاتا ہے۔ بندوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت و پیروی کریں۔

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

إياك والذنوبَ التي لا تُغفَرُ وفي رواية: وما لا كفارةَ من الذنوبِ) : (الْغُلُولُ) فمن غَلَّ شيئًا أُتِيَ به يومَ القيامةِ، وأكلُ الرِّبا؛ فمن أكل الرِّبا بُعِثَ يومَ القيامةِ مجنونًا يتخبَّطُ، ثم قرأ:
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبا لا يَقُومُونَ إِلّا كَما يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطانُ مِنَ الْمَسّ
ترجمہ : ’’خبردار! ان گناہوں سے بچو جن کی بخشش نہیں ہوگی (ایک روایت میں ہے : جن گناہوں کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔)

مال غنیمت میں خیانت اور چوری کرنا، پس جس نے خیانت کیا وہ قیامت کے دن اسی کے ساتھ لایا جائے گا۔ اور سود خور، پس جس نے سود خوری کی وہ قیامت کے دن پاگل بنا کر اٹھایا جائے گا کہ وہ خبطی ہوگا۔ پھر آپ نے الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبا. والی آیت تلاوت فرمائی۔‘‘ أخرجه الطبراني في المعجم الكبير (18/ 60/ 100) بحوالہ : السلسلة الصحيحة رقم: 3313

محترم قارئین کرام! دور حاضر میں فتنہ ارتداد کا تسلسل جاری ہے جو قوم و ملت کیلئے شرمساری کا موضوع ہے، لہذا ملت اسلامیہ کے ہر ذی شعور و بیدار مغز مسلم کو اس پہلو پر آپسی تبادلہ خیال کی اشد ضرورت ہے، اگر دیکھا جائے تو آج فتنہ ارتداد کے اہم اسباب میں سے ایک سبب گروپ لون کے نام پر مسلم علاقوں میں غیر مسلم نوجوانوں کا آنا اور مسلم خواتین کو سود پر قرض دینا وغیرہ وغیرہ جسمیں عام طور پر شادی شدہ اور غیر شادی شدہ خواتین شامل ہیں،
لہذا ہمیں چاہیے کہ ایسی سرگرمیوں پر سخت نظر رکھیں اور محتاج و ضرورت مند خواتین کے لئے انکے تعاون کا نظم ونسق کریں، اور ساتھ ہی مسلم خواتین کو اقتصادی طور پر آگے بڑھانے کیلئے کوئی ایسی اسیکم مرتب کرائی جائے جسمیں عورتیں چہار دیواری میں رہ کر اپنی معاشی ضرورت بآسانی پوری کر سکے!!

اخیر میں دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری مسلم خواتین کو ہر قسم کے شر وفساد سے محفوظ رکھے! آمین۔

26/01/2022

*سوانح مولانا آفتاب الدین رحمانی رحمہ اللہ تعالیٰ*!!

تحریر🖋️ أشرف شاكر

نسب : آفتاب الدین بن إحسان اللہ بن حنیف بن فاتح....!
مولانا آفتاب الدین رحمانی رحمہ اللہ کی پیدائش تقریباً 1955ء میں مودیکولہ گاؤں میں ہوئی تھی جو کہ صوبہ جھارکھنڈ کے صاحب گنج ضلع میں واقع ہے، شیخ کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا، باپ احسان اللہ اور ماموں منشی اسحاق کی خواہش تھی کہ وہ عالم دین بنے کیوں کہ مودیکولہ گاؤں میں عالم دین بہت کم تھے، ایک طرف غربت تھی تو دوسری طرف دین کی محبت بالآخر دین کی محبت غالب آئی اور شیخ رحمہ اللہ کو جو کہ اپنے بھائیوں میں تیسرے نمبر کے تھے ابتدائی تعلیم ماموں منشی اسحاق کے پاس حاصل کرنے کے بعد پاکوڑ کے اطراف میں واقع راجگرام کے ایک مدرسہ میں داخلہ کرایا گیا، پھر کچھ سالوں کے بعد جھارکھنڈ کے معروف دینی ادارہ جامعہ شمس الہدی دلال فور صاحب میں داخل ہوئے اور علمی تشنگی بجھاتے رہے....!! غربت کے باوجود علمی تشنگی نے یوپی کے مشہور علمی شہر مئو اعظم گڑھ کے طرف رخت سفر باندھنے کا دعوت دیا، لہذا والد احسان اللہ رحمہ اللہ اور دیگر بھائیوں کے تعاون سے شہر مئو میں کئے سالوں تک تعلیم حاصل کئے اور آخر میں بہار کا مشہور تعلیم گاہ جامعہ رحمانیہ مونگیر سے فراغت حاصل کئے!!

*تدریسی خدمات!!*
شیخ رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی دینی مدارس کی خدمات میں صرف کی ہے:
1- فراغت کے بعد سب سے پہلے صوبہ بہار میں واقع برونی ضلع میں کئے سال تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے.....

2- مغربی بنگال کے ضلع بیربھوم میں تقریباً تین چار سال تک اپنی تدریسی خدمات سے سینکڑوں طلبہ کی علمی تشنگی بجھاتے رہے......
3-سعید پور دلیلفور الجامعة الإسلامية إصلاح المؤمنين غاجل مالدة میں تقریباً 1982ء میں بطور صدر مدرس بحال ہوئے لگ بھگ دو سال تک مذکورہ جامعہ میں تدریسی خدمات انجام دئے...

4- جامعہ اصلاح المؤمنين برہیٹ صاحب گنج جھارکھنڈ جو انصاری برادری کا ایک مرکزی ادارہ ہے مزکورہ ادارہ میں بھی شیخ رحمہ کو تدریسی خدمات کا شرف حاصل ہوا تھا کئے سال تک وہاں تدریسی فریضہ سے منسلک رہے!!

5- جامعہ سلفیہ نورالہدی نیماں کلاں للمٹیہ گڈا جھارکھنڈ میں دو مرتبہ شیخ رحمہ گئے اور مختلف علوم کی کتابیں کو پڑھانے کا شرف حاصل ہوا.... سن 1999ء کا وہ دن مجھے آج بھی یاد ہے جس دن مدرسہ کا میرا پہلا دن تھا چچا رحمہ اللہ مجھے لیکر..

अल - एहसान एजूकेशनल ट्रस्ट के तरफ से आप सभी देशवासियों को 15 अगस्त के सुभ अवसर पर बधाई हो। हमारी कामना है कि हमारा देश ह...
15/08/2020

अल - एहसान एजूकेशनल ट्रस्ट के तरफ से आप सभी देशवासियों को 15 अगस्त के सुभ अवसर पर बधाई हो। हमारी कामना है कि हमारा देश हमेशा ऊंचा रहे!
हम में से हर व्यक्ति को चाहिए कि वह अपने देश के समर्थन में अपना योगदान दे!और मेरे ख्याल से शिक्षा ही देश के लिए सब से बड़ा योगदान है!!

31/07/2020

अल-एहसान एजूकेशनल ट्रस्ट के तरफ से आप सभी को ईद मुबारक हो!
كل عام وانتم بخير!
تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال!!

30/07/2020

**इल्म का एक और सितारा गिरा**
बड़े अफसोस के साथ आपको सूचीत किया जा रहा है कि आज दिनांक 30/08/20 को डाक्टर मोहम्मद ज़ियाउर रहमान आज़मी का मदीना अल-मनव्वरा में निधन हो गया है, जो दर्जनों किताब के लेखक एवं हदीस के बड़े जानकार थे!!
अल्लाह उन्हें जन्नत प्रदान करे!!

انا لله وانا اليه راجعون اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد!!

अबु शाफीया शाकिर

29/07/2020

*अर्फा का दिन*

9, ज़िलहिजजा को अर्फात का दिन कहा जाता है, और इसमें चाँद का ऐतबार किया जाएगा।
अर्फात के दिन की बड़ी फज़ीलत है, एक तरफ जहां हजी हजरात के लिए मैदान अर्फात में दिन गुजराने का हुक्म है तो वहीं दूसरी तरफ दुनिया के सारे लोगों के लिए रोज़ा रखने का हुक्म है!! जो अपने देश के हिसाब से
9 ज़िलहिजजा को रखा जाता है, एक रोज़ा से दो साल का गुनाह माफ हो जाता है, यह इस दिन की सब से बड़ी फज़ीलत है!!

*अर्फा के दिन की फज़ीलत*
1- इसी दिन इस्लाम मोकमम्ल हुआ है।

2- मैदान अर्फात में गुजराने वाले हाजियों के लिए यही ईद का दिन होता है।

3-यह वह दिन है जिसकी कसम स्वयं अल्लाह ने खाई है।

4-इस दिन के एक रोज़ा से आने वाले एक साल और गुजरे हुऎ एक साल का गुनाह माफ हो जाता है।

5-यह वही दिन है जिसमे आदम के संतानों से अल्लाह ने वचन लिया था!!

6-इस दिन मैदान अर्फात में खड़े होने वाले हाजियों के सारे गुनाहों को अल्लाह माफ कर देता है।

*कृपया आप से अनुरोध है कि आप जरूर इस साल 9 ज़िलहिज्जा का रोज़ा रखें!*

अबु शाफीया शाकिर

21/07/2020

بسم الله الرحمن الرحيم

*कुर्बानी की हकीकत*

( अबु शाफीया शाकिर)

कुर्बानी शरीयात के कुछ अहम मसलों से एक है जो एक विशेष ऐतिहासिक घटना की ओर हमारा ध्यान आकर्षित करता है।
इस लिए कुर्बानी का उद्देश्य केवल जानवर ज़िब्ह करना ही नहीं है।
बल्कि इबादत और बलिदान की इस अविस्मरणीय भावना को समझना और उसे गले लगाने की कोशिश करना भी आवश्यक है!
जैसा कि हाजियों के लिए, सफा मारवाह का सई करना केवल एक दौड़ नही है, बल्कि यह एक ऐतिहासिक घटना की याद है, जिसमें एक तरफ एक छोटा बच्चा अत्यधिक प्यास के कारण जमीन पर लात मारता हुआ दिखाई देता है और दूसरी तरफ हज़रत हाजरा (अ.स.) पानी के तलाश में सफा एवं मरवा पहाड़ी का चक्कर लगाते नज़र आती हैं जिन्होंने इब्राहिम (अ.स.) की आज्ञा पर अपने सभी ख्वाहिश का बलिदान दिया, और मक्का की बंजर भूमि में अकेले रह गईं ।

*कुर्बानी करने का हुक्म*

कुर्बानी इब्राहीम और (मुहम्मद)स0 दोनों की सुन्नत है और अल्लाह तआला ने कुरआन में इन दो पैगंबरों की सुन्नतों का पालन करने का निर्देश दिया है।

(1) हज़रत अनस कहते हैं कि
नबी (सल्लल्लाहु अलैहि व सल्लम) दो मेंडहों की कुर्बानी करते थे , और मैं भी दो मेंडहों की कुर्बान करता था। ”(बुखारी: 5553)

(2) हज़रत अबू हुरैरा कहते हैं कि अल्लाह के रसूल ने कहा:
"जिसके पास माल एं कुर्बानी करने की शक्ति हो और वह कुर्बानी नहीं देता है, तो उसे हमारी ईदगाह के पास नहीं आना चाहिए।" (इब्न माजः 3123)

(4) हज़रत अनस बिन मलिक बताते हैं कि अल्लाह के रसूल ने कहा:
"जो कोई ईद की नमाज़ के पहले (जानवर) का वध करता है, वह फिर से कुर्बानी दें।" (बुखारी: 5549)
कुर्बानी सुन्नत है या वाजिब है इस सिलसिले में कुछ ओलमाओं का इख्तेलाफ है।
कुछ ओलमाओं ने मालदारों और उद्योगपतियों के लिए वाजिब कहा है। परंतु सही यह है कि कुर्बानी करना सुन्नत मोवक्कदा है।
- इब्न उमर का फतवा है कि कुर्बानी करना सुन्नत है और यही लोगों के बीच मशहूर है (बुखारी 5545)

-इमाम तिरमिज़ी रह0 का फतवा है कि कुर्बानी करना वाजिब नही है बल्कि यह नबी स0 की सुन्नतों में से एक सुन्नत है और इसी पर अमल करना मुस्तहब है। और यह राय इमाम सुफ्यान सोवरी और इमाम इब्न मुबारक रह0 का है (तिरमज़ी 1506 के बाद )

*कुर्बानी की शर्तें*

इस्लाम धर्म में कुर्बानी करना अन्य और इबादतों की तरह एक इबादत है। और इस की कबूलीयत के लिए कुछ विशेष शर्तें हैं!

1- कुर्बानी खालीस अल्लाह के लिए हो, नियत में इख्लास का होना जरूरी है। जौसा कि नबी स0 की हदीस है सारे अमलों का दारोमदार नियतों पर है
(बुखारी 1)

2- कुर्बानी का जानवर हलाल माल से खरीदा गया हो। क्योंकि हराम कमाई से कुर्बानी करना जायज़ नही है। जैसा कि एक हदीस में नबी स0 फरमाते हैं कि अल्लाह पाक है और पाक चीजों ही को कबूल करता है (सही मुस्लिम 2346)

3- कुर्बानी नबी स0 की सुन्नत के अनुसार हो। जैसा कि ईद की नमाज़ के बाद हो वगैरा।

4- कुर्बानी उन्हीं जानवरों की जाये जो जिसका ज़िक्र हदीस में हो। ऐसे जानवरों की कुर्बानी न की जाए जो कबूल न हो।

*कुर्बानी के जानवर*

सब से पहले आपको जानना जरूरी है कि किन जानवरों की कुर्बानी जायज़ है!
ऐसे जानवरों की कुर्बानी जायज़ है जिन पर चौपाई (بهيمة الأنعام ) का शब्द प्रयोग होता है
जैसा कि अल्लाह ने सुरा हज - 34 में ज़िक्र किया है। और इसमें चार प्रकार के जानवर शामिल हैं।
1- ऊँट
2-गाय
3-भैड़
4-बकरी

इन सारे जानवरों का दाँता होना आवश्यक है अगर दुध का दाँत न झड़ा हो तो कुर्बानी करना सही नही होगा।

अबु शाफीया शाकिर

29/06/2020

God bless your time with your happiness!!
Firstly!! thank all of you!!
As you know that our institute will be open for your best education, I believe that you will be part of our mission inshallah!!
So please don't forget to admite in our E-LEARNING institute!!! Direct by Mr shakir mohammad .....
Yoy can improve yourself by e-learning service Beacouse we have best Teachers group in all avaliable subjects!!!

Mr, shakir mohammad

26/06/2020

may God bless your time with happiness!!

****Notice ***
We inform you that Our institute will open E-LEARNING Sarvice from next month so if you want to learn any your favorite subject, please contact us...!! You know what There are many ways to learn in thees days!! So it is our best tray for you & your children!!
Yoy can make improve yourself by e-learning system!!
Available subjects :
1- Islamic studys
-2 Islamic history
3-Arabic language
4- English language
5-Arabic grammar

We have a great group of teachers in every subject!!!

God bless you and your family!!!

Director of institute!!!
Mr Shakir Mohamad
919939629687

We Wel come in Al-Ehsan educational trust, you can learn your favorite subject bye-learning service!!!!
25/06/2020

We Wel come in Al-Ehsan educational trust, you can learn your favorite subject by
e-learning service!!!!

22/06/2020

अल-एहसान एजूकेशनल ट्रस्ट के तरफ से आप सभी देशवासियों को आश्वासन दिया जाता है कि यह करोना वायरस कोई घातक बिमारी नही है जिस तरह की हम सोच रहे हैं!! इस करोना काल में आप केवल अपने स्वास्थ का ख्याल रखें,और घबराहट से अपने आपको दूर रखें,क्योंकि एक रिसर्च के अनुसार अधिकतर मौत केवल घबराहट से हो रही है, यह करोना वायरस उतना खतरनाक नही जितना मिडिया के मध्यम से हमें बताया जा रहा है...!!!
अंतरराष्ट्रीय स्तर पर यह एक बड़ी साजिश के तहत पूरे विश्व में एक भैय का वातावरण बनाया गया है ताकि इसके बाद कालाबाजारी का धंधा चले!!!
मैं ज्यादा डिटेल में न जाकर केवल आप से यही अनुरोध करता हूँ कि आप बिल्कुल न घबराऐं, बस अपने स्वास्थ का ख्याल रखें, अपने डिमाग से हर प्रकार के भैय को दूर करें!! क्योंकि साईकलाॉजी के थिवरी हमें यही बताती है!!

जहाँ रहें स्वास्थ रहें यही हमारा कामना है!!

डायरेक्टर:
अल-एहसान एजूकेशनल ट्रस्ट

Address

Modikola
Barharwa
816110

Telephone

+919939629687

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Ehsan educational trust posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Al-Ehsan educational trust:

Shortcuts

Share

Category