مجمع الإمام أحمد رضا للبحوث والدراسات الإسلامية

  • Home
  • India
  • Bareilly
  • مجمع الإمام أحمد رضا للبحوث والدراسات الإسلامية

مجمع الإمام أحمد رضا للبحوث والدراسات الإسلامية للبحوث والدراسات الإسلامية

09/09/2026

> العَسَلُ المُصَفّٰى في عَقَائِدِ أَرْبَابِ سُنَّةِ المُصْطَفٰى
> المعروف بـ عقائد اہل سنت

عقیدہ کو اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے اس لیے کہ جس کا عقیدہ درست، اس کی آخرت درست، اور جس کا عقیدہ خراب، اس کی آخرت خراب. یہی وجہ ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام نے عقائد کی درستگی کو اپنی دعوت کا نقطۂ آغاز بنایا. خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی امت کے عقائد کی اصلاح پر خصوصی توجہ فرمائی. عہد رسالت سے لے کر آج تک ہمارے اکابر نے تحفظِ عقائد کو مقدم رکھا اور باطل عقائد کے رد و ابطال کو اپنی سب سے اہم دینی ذمہ داری شمار کیا. چنانچہ جب ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے عقائدِ اہل سنت کے تحفظ کے لیے مدلل اور مفصل کتابیں تصنیف فرمائی ہیں. خصوصاً چودہویں صدی ہجری اہل سنت کے لیے ایک نہایت پرآزمائش دور رہی، جس میں نت نئے فتنوں نے جنم لیا اور مختلف باطل نظریات و افکار نے پروان چڑھنے کی کوشش کی. لہذا اس صدی کے علماء نے دفاع عقائد اہل سنت میں متعدد کتاب تصنیف فرمائیں، جن میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ سب سے نمایاں نظر آتے ہیں. اسی دور میں سیدی اعلیٰ حضرت کے پیر و مرشد، سیدی سرکار پرنور حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری برکاتی علیہ الرحمہ نے بھی عقائد اہل سنت کے موضوع پر ایک نہایت اہم اور مختصر رسالہ بنام *«العَسَلُ المُصَفّٰى في عَقَائِدِ أَرْبَابِ سُنَّةِ المُصْطَفٰى»* تصنیف فرمایا.

یہ رسالہ اگرچہ حجم کے اعتبار سے مختصر ہے، مگر اپنے موضوع کے اعتبار سے نہایت جامع اور نافع ہے. حضرت مصنف علیہ الرحمہ نے ارکان ایمان، ضروریات دین اور ضروریات مذہب اہل سنت سے متعلق اہم عقائد کو نہایت سادہ اور عام فہم زبان میں بیان فرمایا ہے، اس کا مطالعہ کرنے کے بعد یقین ہو جاتا ہے کہ کوزے میں سمندر کو سما دیا گیا ہے.

رسالے کا منہج بھی نہایت آسان اور سادہ ہے، تاکہ عام مسلمان بھی اسے پڑھ کر بنیادی عقائد سے واقف ہو سکے، اس مقصد کی وضاحت خود مصنف علیہ الرحمہ نے مقدمے میں فرمائی ہے:
> *"بنظرِ خیر خواہی برادران دین چند سطر عقائد اہل سنت و جماعت میں بسلاست زبان و وضاحت بیان، وشرح مسائل و طرحِ دلائل منصۂ تحریر پر جلوہ نما اور رسالے کو بنام تاریخ «العَسَلُ المُصَفّٰى في عَقَائِدِ أَرْبَابِ سُنَّةِ المُصْطَفٰى» مسمی کرتا ہے*

کتاب کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے حضرت مصنف علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
> اس کتاب کو ہر گھر میں لازمی طور پر موجود ہونا چاہیے اور اہل خانہ اس کو پڑھیں بالخصوص گھر کے بچے بچیاں (جو قوم کے مستقبل ہیں) اس کتاب کے تمام عقائد و مسائل خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیں تاکہ اہل سنت کے عقائد کا علم ہو اور پھر اس پر عمل کر کے اپنی اخرت کا سامان کریں.

قارئین کے ذوق طبع کے لیے جی چاہا کہ اس رسالے سے چند اقتباسات بھی پیش کروں، لیکن فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ کہاں سے اقتباس لوں اور کہاں سے نہ لوں، اس لیے کہ *ہر سطر، ہر جملہ، بلکہ ہر کلمہ پڑھنے کے لائق ہے.* تاہم ذوق مطالعہ کی تسکین کے لیے دو تین اقتباسات پیش کرنا مناسب ہوگا.
اللہ رب العزت کی توحید و تنزیہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
> *"سب باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ عقل میں آتا ہے خدا نہیں، اور جو خدا ہے اس تک عقل رسا نہیں. پاکی ہے اسے جو سب عیبوں سے پاک ہے."*
صحابہ کرام میں تفضیل کی تفصیل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
> *"صحابہ تمام امت سے افضل ہیں، اور صحابہ میں سب سے افضل اور اللہ کے نزدیک رتبہ اور عزت میں سب سے زیادہ، اور خدا سے بہت نزدیک حضرت ابوبکر صدیق ہیں، حضرت عمر فاروق، پھر حضرت عثمان غنی، پھر مولا علی، اور افضل کے یہی معنی ہیں کہ اوروں سے رتبے میں بڑا اور خدا کے یہاں عزت و وجاہت و ثواب و کرامت میں زیادہ ہو."*
اسی طرح ایمان ابو طالب کے متعلق فرماتے ہیں:
> *"مولا علی کے باپ ابو طالب کافر مرے اور بلحاظِ عار وحمیت، باوجود معرفت کے دین اسلام اختیار نہ کیا. بخاری و مسلم کی احادیث صحیحہ سے کفر ان کا ثابت ہے، مگر سب کافروں میں عذاب ان کا اہون، از روئے احادیث متفق علیہا کے.*

ان مختصر اقتباسات ہی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رسالہ کس قدر جامع وواضح، اور عقائد اہلسنت کی ترجمانی کرنے والا ہے.

> `جدید ترتیب و تحقیقی حواشی`
کتاب کی اہمیت کے پیش نظر عالمی شہرت یافتہ ادارے *دارالملک* نے اس رسالے کو جدید تقاضوں سے آراستہ کرکے شائع کیا ہے، تاکہ اس کا نفع زیادہ سے زیادہ عام اور تام ہو. اس مقصد کے لیے جگہ جگہ مفہوم کی وضاحت کے لیے اصل عبارت کے اندر ضروری الفاظ کو بین القوسین رکھا گیا ہے، جبکہ حسب ضرورت مشکل الفاظ کی وضاحت کے لیے حواشی و تعلیقات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، البتہ یہاں ایک معمولی سی گزارش ضرور ہے کہ مشکل الفاظ کے معانی کے ساتھ اگر متعلقہ لغت کا حوالہ بھی درج کردیا جاتا تو یہ علمی اعتبار سے مزید مفید ہوتا. اس کے علاوہ مختلف مقامات پر قرآن کریم کی آیات اور احادیث مبارکہ سے بھی حواشی کو مزین کیا گیا ہے، رسالے میں جن احادیث کا مفہوم آیا ہے، ان کی تخریج کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جس سے اس ایڈیشن کی علمی افادیت دوبالا ہو گئی ہے. اور پھر سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وہ اشعار جو حاشیہ میں وقتاً فوقتاً شامل کیے گئے ہیں، انہوں نے تو کتاب کے حاشیے پر چار چاند لگا دیے ہیں اور اس کی معنوی و ادبی اہمیت کو بڑھا دیا ہے. یہ عظیم علمی و تحقیقی کام ادارے کے بانی *حضرت مولانا شیراز احمد نظامی ازہری حفظہ اللہ* نے انجام دیا ہے، جس پر وہ بجا طور پر تحسین و تبریک کے مستحق ہیں.

اس نایاب رسالے کی ایک خاص اور قابل ذکر خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کی تاریخ جمع و تالیف سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اپنی طبع لطیف اور ذوق شریف سے استخراج فرمائی اور کتاب کے آخر میں سولہ عربی اشعار تحریر فرمائے، جن کا اردو ترجمہ حضرت محشی نے پیش کیا ہے. اسی موقع پر سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی تعریف و توصیف میں فارسی میں بارہ اشعار بھی تحریر کیے گئے ہیں. یونہی سیدی *استاذ زمن* نے طویل بحر میں نو اشعار کہے، جبکہ علامہ غلام غوث صاحب غوثی عباسی بدایونی اور مولانا فصیح الدین صاحب شوق بدایونی علیہم الرحمہ نے بھی اس کتاب کی تاریخ تالیف کے سلسلے میں اشعار تحریر فرمائے ہی. یوں یہ مختصر سا رسالہ اپنے اندر علم عقائد کے ساتھ ساتھ تاریخ، ادب اور اکابر اہل سنت کی علمی و ادبی روایت کی ایک خوب صورت جھلک بھی سمیٹے ہوئے ہے. البتہ ان فارسی اشعار کا ترجمہ بھی شامل کر لیا جاتا تو اس کی خوبصورتی دوگنی ہو جاتی.

کتاب کے آغاز میں عرض ناشر اور ایک معلوماتی مقدمہ شامل ہے، جس کے بعد مصنف علیہ الرحمہ کا اجمالی تعارف، کلماتِ تبریک اور قلمک نسخے کے عکس بھی ہیں، کتاب کے آخر میں مصادر و مراجع کی فہرست اور مضامین کی تفصیلی فہرست شامل ہے، یوں یہ جدید اور خوب صورت ایڈیشن تقریباً ٧٢ صفحات پر مشتمل ہے. حجم مختصر ہونے کے باوجود مواد کی جامعیت ایسی ہے کہ اگر ذوق و شوق کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ان شاء اللہ ایک ہی نشست میں پورا رسالہ مکمل ہوجائے گا اور قاری کو وقت گزرنے کا احساس بھی نہ ہوگا.

الغرض *«العَسَلُ المُصَفّٰى في عَقَائِدِ أَرْبَابِ سُنَّةِ المُصْطَفٰى»* ایک مختصر مگر نہایت قیمتی رسالہ ہے، جس میں سیدی سرکار پرنور حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری برکاتی علیہ الرحمہ نے عقائد اہل سنت کے بنیادی ابواب کو سادہ اور آسان انداز میں جمع فرمایا ہے، جبکہ موجودہ ایڈیشن نے حواشی، تخریجات، تعلیقات، مصادر و مراجع اور دیگر علمی و ادبی اضافات کے ذریعے اس کی افادیت کو دگنا کر دیا ہے. ایسے رسائل خصوصا موجودہ دور میں گھر گھر پہنچنے چاہئیں، اس لیے کہ عقیدہ مسلمان کی زندگی کی بنیاد ہے، اور بنیاد درست ہو تو عمارت کا استحکام ہوتا ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اکابر کی تصانیف کا شوق و ذوق کے ساتھ مطالعہ کرنے، ان سے استفادہ کرنے، مسلک اعلیٰ حضرت پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین.

طارق محمود رضوی
بتاریخ: ٢٤/ربیع الاول ١٤٤٨ھ
مطابق: ٧/ستمبر ٢٠٢٦ء

19/08/2026
18/08/2026

📚 دار المَلِكْ فاؤنڈیشن پر دستیاب

📖 امام احمد رضا کا اجتہاد، استخراج، استنباط اور فقہی مقام

✍🏻 تألیف: ڈاکٹر مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی

امام احمد رضا خان رحمہ اللہ کے اجتہادی بصیرت، استخراج و استنباط اور فقہی مقام پر ایک اہم اور تحقیقی کتاب، جو اہلِ علم و تحقیق کے لیے خاصی مفید ہے۔

📚 یہ کتاب اب دار المَلِكْ فاؤنڈیشن پر دستیاب ہے۔

🛒 حصولِ کتاب کے لیے رابطہ کریں:
📱 واٹس ایپ: 1438 708 703
📞 فون: 2017 808 707

🌐 daralmalik.com

17/08/2026

من الإصدارات الحديثة لـ مؤسسة دار المَلِكْ 🌿

🕌 بمناسبة الذكرى الثامنة والمئة للإمام أحمد رضا خان الحنفي القادري البريلوي (المتوفى: ١٣٤٠هـ) -رحمه الله تعالى-.

بشرى سارة لقُرّاء ومُحبّي مؤسسة دار المَلِكْ بصدور كتاب قيّم يتضمن خطبة الفتاوى الرضوية الجامعة للإمام أحمد رضا خان الحنفي القادري البريلوي -رحمه الله تعالى-.

📖 خُطبه فتاوى رضويه
(مع ترجمة أردية)

✍🏻 تقديم وتعليق:
الشيخ شيراز أحمد النظامي الأزهري -حفظه الله تعالى-.

🏦 الإشراف والاعتناء:
مجمع الإمام أحمد رضا للبحوث والدراسات الإسلامية.

📚 الناشر:
دار المَلِكْ (القاهرة-مصر / بريلي-الهند).

📓 طبعة ممتازة فاخرة

🤗 ومن دواعي الفرح والسرور أن هذا الكتاب القيّم قد تمّ طبعه ونشره -بحمد الله تعالى- من مؤسسة دار المَلِكْ.

📚 لشراء هذا الكتاب وسائر إصداراتنا:
https://daralmalik.com/
📱 واتساب: 1438 708 703
📞 الهاتف: 2017 808 707
📧 [email protected]

17/08/2026

📚 من الإصدارات الحديثة لـ مؤسسة دار المَلِكْ

بشرى سارة لقُرَّاء ومُحبِّي مؤسسة دار المَلِكْ بصدور كتابٍ قيّمٍ نافعٍ في العقيدة:

📖 العسل المصفى في عقائد أرباب سنة المصطفى
المعروف بـ «عقائد أهل السنة»

✍🏻 تصنيف:
السيد الشاه أبو الحسين أحمد النوري البركاتي المارهروي -رحمه الله تعالى-
(ت: ١٣٢٤هـ).

✍🏻 تقديم وتحشية وترتيب جديد:
الشيخ شيراز أحمد النظامي الأزهري -حفظه الله تعالى-.

📚 الناشر: مؤسسة دار المَلِكْ – بريلي، الهند.

🤗 ومن بواعث الفرح والسرور أن هذا الكتاب القيّم قد تمّت طباعته ونشره -بحمد الله تعالى- من مؤسسة دار المَلِكْ.

نسأل الله تعالى أن ينفع بهذا الكتاب القرّاء وطلبة العلم، وأن يجزي مؤلفه ومعتنيَه وناشره خير الجزاء. 🤲🏻

🛒 يمكنكم شراء جميع إصداراتنا من موقعنا:
daralmalik.com

📞 الهاتف: 2017 808 707
📱 الواتساب: 1438 708 703
📧 البريد الإلكتروني: [email protected]

#العقيدة

من الإصدارات الحديثة المباركة  لـ *مؤسسة دار المَلِكْ*🕌 بمناسبة: *الذكرى الثامنة والمئة للإمام أحمد رضا خان الحنفي القاد...
14/08/2026

من الإصدارات الحديثة المباركة لـ *مؤسسة دار المَلِكْ*

🕌 بمناسبة: *الذكرى الثامنة والمئة للإمام أحمد رضا خان الحنفي القادري البريلوي (المتوفى: ١٣٤٠هـ)* -رحمه الله تعالى-.

بشرى سارة لقُرَّاء ومُحبِّي *مؤسسة دار المَلِكْ* بصُدُور *مشروع عظيم مبارك* لإمام أهل السنة، شيخ الإسلام والمسلمين، الإمام أحمد رضا خان البريلوي -رحمه الله تعالى-، تحت عنوان رئيسي *مجاميع رسائل علماء علماء الهند (٣)* باللغة الأردية.

📖 *كتاب*: *مجموعہ رسائل امام احمد رضا خان*.

📚 *المجموعة الثانية* منه
تسمى *مجموعہ رسائل رسم الافتاء*، وهي تشمل مجلدا واحدا.
✍🏻 *تحقيق وتخريج، وتسهيل وترتيب: الشيخ شيراز أحمد النظامي الأزهري* -حفظه الله تعالى-.

*🏦 إشراف واعتناء*: *مجمع الإمام أحمد رضا للبحوث والدراسات الإسلامية*.

*📚 الناشر*: *دار المَلِك* (بريلي-الهند).

*📓 طبعة ممتازة فاخرة منقحة*

🤗 ومن بواعث الفرح والسرور بأن هذا المشروع القیم المبارك لقد تمّ طبع ونشر مجلدين منه -بحمد الله تعالى- من *مؤسسة دار المَلِكْ*.

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
يمكنكم شراء جميع إصداراتنا من موقعنا على الإنترنت:
https://daralmalik.com/
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

رقم الهاتف: 2017 808 707
رقم الواتس: 1438 708 703
البريد الإلكتروني: [email protected]
موقع الإنترنيت: daralmalik.com

08/08/2026

بسم اللہ چل میرے خامہ

> علمائے عرب کے قرطاس وقلم کی میز پر ایک گلدستہ روح افزا

سیدی حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان -علیہ الرحمہ- کی ذاتِ بابرکات، جامع کمالات ومجموع الصفات ہے، آپ کے علمی جاہ وجلال والے قلم کا طرز استدلال وقوت استدلال بے مثال اور تحقیقات جلیلہ وتدقیقات انیقہ خالی از قیل وقال ہیں. آپ کی بے نظیر شخصیت کے نام لیوا فقیر کے نزدیک دو قسم کے ہیں:
ایک وہ جو محض تفریح طبع یا وقت گزاری کے لیے لیتے ہیں اور آپ کے نام کے ساتھ معانقہ کرتے ہوئے نہ تو کسی قسم کی دشواری میں مبتلا ہونا چاہتے ہیں اور نہ ہی شاید وہ اس کے اہل ہوتے ہیں.
دوسرے وہ ہوتے ہیں جو آپ کے مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کے نام وذات کے ساتھ آپ کے مسلک کو فروغ دینے کی نیت سے سنجیدگی کے ساتھ معانقہ کرتے ہیں، اس لیے کہ مسلک وملت کی خدمات ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتی ہیں.
اسی دوسری قسم سے عالمی ادارے دار المَلِک کا گہرا رشتہ ہے، جس نے مختصر سی مدت میں لائق صد تحسین اور قابلِ قدر خدمات سرانجام دی ہیں، اور یہ صرف شعبہ نشر واشاعت سے موسوم نہیں بلکہ ایک مقصد ہے، جس کی منصوبہ بندی تعلیمات سیدی اعلی حضرت علیہ کے مطابق ہوئی ہے، آپ کا مندرجہ ذیل فرمان اس ادارے کے اساسی دستور کا جزء غیر منفک ہے، آپ فرماتے ہیں: ان شاء اللہ العزیز زمانہ ان بندگانِ خدا سے خالی نہ ہوگا جو مشکل کی تسہیل، معضل کی تحصیل، صعب کی تذلیل، مجمل کی تفصیل سے ماہر ہوں. بحر سے صدف سے ،صدف سے گوہر، بذر سے درخت، درخت سے ثمر نکالنے پر باذن اللہ تعالی قادر ہوں ("فتاوی رضویہ شریف: ج:٨، ص:٢٥١، امام احمد رضا اکیڈمی)

اس ادارے میں متنوع شعبہ جات ہیں، جہاں مختلف علوم وفنون کے کہنہ مشق ماہرین اپنی قیمتی تحقیقی خدمات پیش کرنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں. انہیں میں ایک شعبہ ہے، اس شعبہ نے ادارے کی وقعت میں چار چاند لگا دیے ہیں اور اہلِ دل کی نگاہ میں اسے ایک منفرد حسن وگلکاری عطا کی ہے.

سیدی حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ہمہ گیر شخصیت کے تبحرِ علمی، وسعتِ فکر و نظر اور مختلف جہات پر متعدد پہلوؤں سے تحقیق وتصنیف کا کام ہوا، اور بے شمار خوشہ چینوں نے اپنے گلستان قرطاس کو آپ کے گلہائے رنگا رنگ سے معطر کیا لیکن یہ امر نہایت تعجب خیز ہے کہ علماے عرب کے مابین آپ کی بیش بہا تصنیفات و تالیفات نہ تو شائع ہو سکیں اور نہ ہی ان کا تعارف عام ہوا. ایک طرف سیدی اعلی حضرت کا والہانہ انداز میں تذکرہ، اور دوسری طرف آپ کے علمی سرمایہ کی اشاعت سے بے اعتنائی، محبینِ اعلی حضرت کے لیے باعثِ استعجاب ہے. #دارالمَلِک نے اس علمی تشنگی کو دور کرنے کا عزم بالجزم کیا؛ تاکہ سیدی حضور اعلی حضرت -علیہ الرحمہ- کے متعلق ہونے والی کوتاہی اور غفلت کی تلافی کی جا سکے، اور آپ کی عالمانہ، محققانہ، مجددانہ، مجتہدانہ میراث کو عالمِ عرب تک پہنچایا جائے، اس طرح ایک دیرینہ قرض جو تاحال باقی تھا، دار _المَلِک نے اس کے ادائیگی کا بیڑا اٹھایا. شاید ازل ہی سے اس خدمتِ جلیلہ کی ذمہ داری #دارالمَلِک کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی، اور "قرعہ فال بنامِ من دیوانہ زدند" کے مصداق، یہ عظیم بار اسی کے کاندھوں کے لیے منتخب کیا گیا. اسی لیے یہ ادارہ اس علمی خلاء کو پُر کرنے کے لیے ہمہ تن من دھن سرگرم ہے، سیدی اعلی حضرت کی تصانیف و تالیفات کو اہل عرب کے مابین متعارف کرانے اور آپ کے افکار ونظریات کو وہاں کے علمی حلقوں تک پہنچانے میں اپنا دینی فریضہ سمجھ کر شب وروز کوشاں ہے. چنانچہ #دارالملک تاحال دلائل و براہین سے اراستہ، تحقیقِ انیق اور تدقیقِ عمیق سے پیراستہ تقریباً دس رسائل پیش کر چکا ہے، جنہیں علمائے عرب نے قدر کی نگاہ سے دیکھا اور عوام و خواص نے پسند کیا. رضویات کے حوالے سے مصر و دیگر عرب ممالک میں ہونے والے متعدد کاموں میں_خواہ وہ مواد کی فراہمی ہو یا تعارف کا معاملہ__ #دارالملک نے نمایاں کردار ادا کیا ہے. مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ایک تازہ مثال رسالہ «الجهود الكلامية والصوفية للشيخ أحمد رضا خان القادري دراسة نقدية» ہے، جو مصر کی ایک محقّقہ نے ایم اے کے لیے سیدی اعلی حضرت پر تحریر کیا، #دارالملک نے انہیں مطلوبہ مواد فراہم کرنے کے ساتھ قدم قدم پر ان کی اعانت بھی کی.

بایں ہمہ، رضوی میکدے کے کچھ بادہ خوار ایسے بھی تھے جن کی پیاس تاحال نہ بجھی تھی، لہٰذ ساقی کی عطا کا پیالہ " _أحمد_رضا_خان" کی صورت میں جلوہ گر ہوا. ایک ایسا گراں قدر خزانۂ علم و حکمت اور بے نظیر تحقیقی شاہکار، جو عالمِ اسلام کے لیے نایاب تحفہ ہے. اس کے پسِ پشت نہ کوئی معاوضے کی غرض ہے، نہ نام ونمود یا شہرت و تحسین کی طلب؛ بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ مجددِ اعظم کے سلسلے میں اپنے فرض سے عہدہ برآ ہوں اور عالمِ عرب کو آپ کی تعلیمات سے روشناس کرائیں. ان شاء اللہ یہ شاہکار عالمِ اسلام کے لیے عشق و عرفان کا وہ تاج محل ثابت ہوگا جو محبت کی نشانی تاج محل سے کہیں زیادہ دل آویز اور مستحکم ہے.

اس علم و عرفان کے تاج محل کی تفصیل یہ ہے کہ اس کی چھ عظیم منزلیں ہیں جنہیں جلدوں کی شکل میں ترتیب دیا گیا ہے. پہلی جلد باب کی صورت میں چار کمروں پر محیط ہے:
پہلا کمرہ سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی سیرتِ مبارکہ کے جواہر پاروں سے مزین ہے.
دوسرا کمرہ آپ کے مشائخ واساتذہ کی معلومات سے آراستہ ہے.
تیسرا کمرہ آپ کے تلامذہ، خلفاء اور اجازت یافتہ علما کے تذکروں سے لبریز ہے.
چوتھا کمرہ مختلف علوم و فنون میں آپ کی مہارت، عبقریت اور نادر تحقیقات وتدقیقات کا گنجینہ ہے.
ہر کمرہ اپنے اندر فصلوں کی صورت میں مضبوط ستون اور مباحث کی شکل میں دیدہ زیب دیواریں لیے ہوئے ہے، جنہوں نے اس عمارت کی اہمیت وافادیت میں چار چاند لگانے کا کام کیا ہے.

دوسری منزل یعنی جلد میں دو مضبوط فصلوں کے ستون قائم ہیں؛ پہلا ستون فنِّ تفسیر میں آپ کی تحقیقات و توجیہات کے تابناک موتیوں سے جگمگا رہا ہے، جبکہ دوسرا ستون الفاظِ قرآن کے معانی ومطالب کی خوشبو سے معطر ہے. ہر ستون کے اندر متعدد علمی و فکری مباحث کی دیواریں کھڑی ہیں، جن پر تحقیق و تدقیق کے نفیس نقش و نگار کندہ ہیں.

تیسری منزل یعنی جلد سات فصلوں کے ستونوں پر قائم ہے، ہر ستون اپنی ساخت میں منفرد اور اپنے مضمون میں وقیع ہے. پہلا ستون: حدیث کے معنی ومفہوم، تاریخِ تدوین اور اس کے مراحل، حدیث و اثر میں فرق، برصغیر کے جلیل القدر محدثین اور علمِ حدیث میں ان کی خدمات، سیدی اعلی حضرت -علیہ الرحمہ- کی ان سے اجازت اور آپ کی خدمات پر مشتمل ہے. دوسرا ستون: علمِ حدیث میں آپ کی تصانیفِ جلیلہ کا تعارف لیے ہوئے ہے. تیسرا ستون: علمِ درایت پر قائم ہے. چوتھا ستون: علمِ روایت پر مشتمل ہے.
پانچواں ستون: اصولِ حدیث میں آپ کی مہارتِ تامہ کا مظہر ہے. چھٹا ستون: احادیثِ مختلفہ میں آپ کے موقف کی توضیح پر مبنی ہے. اور ساتواں ستون: علومِ حدیث میں آپ کی عبقریت اور کمالات کا بیان اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے. ان ستونوں میں سموئے ہوئے مباحث کی دیواریں نایاب علمی خزانے کی الماریاں اپنے اندر جمع کیے ہوئے ہے.

چوتھی منزل تین کمروں پر مشتمل ہے. پہلا کمرہ: سیدی اعلی حضرت -علیہ الرحمہ- کے عقائد و نظریات اور مسلمانوں کے عقائد و نظریات کی اصلاح سے معمور ہے. دوسرا کمرہ: امتِ مسلمہ کی سیاسی اصلاح اور اس حوالے سے آپ کی رہنمائی سے مزین ہے. تیسرا کمرہ: آپ کے معاشی افکار ونظریات، اسلامی تجارت وبینکاری میں آپ کی وقیع تحقیقات، اور مسلمانوں کے اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کی تدابیر پر مشتمل ہے. اس کے مؤلف مایہ ناز محقق ڈاکٹر انوار احمد بغدادی ہیں، جنہوں نے اسے بڑی عرق ریزی اور نہایت دل نشین اسلوب سے تالیف کیا ہے.

پانچویں منزل ایک دلکش گلستان کی مانند ہے، جس کے تین حسین و جمیل صحن ہیں، اور ہر صحن اپنی ساخت، حسن اور معنویت میں نرالا ہے. پہلا صحن: افتتاحی خطبات کے خوشبو بھرے پھولوں سے آراستہ ہے، ہر پھول اپنی رعنائی اور نکہت میں اپنی مثال آپ ہے.
دوسرا صحن: اسانید و طرق کی بہاروں سے مہکا ہوا ہے، جو چار مضبوط ستونوں پر قائم ہے: پہلا ستون: فقہ میں اسانید و طرق، دوسرا ستون: حدیث میں اسانید و طرق، تیسرا ستون: مصافحات کے سلسلے، چوتھا ستون: سلاسلِ صوفیہ میں اسانید وطرق.
تیسرا صحن: اجازات ومرویات کے نایاب خزینے سے مزین ہے، جس کے دو کشادہ کمروں میں علمی جواہر سجے ہوئے ہیں: پہلا کمرہ: علماء عرب کو دی گئی اجازات پر مشتمل ہے، دوسرا کمرہ: علماءِ ہند کو عطا کی گئی اجازات کا مرکز ہے، دونوں پندرہ دقیق مباحث پر مشتمل ہیں، اور ہر بحث اپنی معنوی عظمت میں ایک قیمتی پتھر کی مانند ہے.

سیدی حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے فقہ وافتا اور ان کے اصول کو جلا بخشی ہے، آپ نے مسلک حنفیت کو اردو عربی میں اپنی کتب ورسائل وفتاوی کے ذریعے ایسا منقح فرمایا کہ آنے والے کئی صدی تک کے لیے احناف کو رسم افتا اور فقہ واصول کے اکثر ابواب کے حل سے بےنیاز کر دیا. چھٹی منزل میں ایسے ہی قیمتی کمروں کی ایک قطار ہے، جو فقہ و افتا کے اصولی جواہر سے آراستہ ہیں اور اقوالِ سلف کے استقصاء، احتمالِ شقوق کے استیعاب، اور ضوابطِ کلیہ جیسی آہنی دیواروں میں محفوظ ہے. ان کمروں کی چھتوں سے دلائل کی خوشبو پھوٹتی ہے، اور دیواروں پر علمی انوار و تجلیات کی ایسی نقش و نگار ہیں کہ ماہرین حیرت زدہ اور حاسدین انگشت بدنداں رہ جائیں. ہر کونے میں ایک ایسا لعل جڑا ہے جس کے پیچھے نہ جانے کتنے کوہِ نور قربان ہیں، اور جس کی پہچان کسی ماہر جوہر شناس ہی کو ہوسکتی ہے، جبکہ ہمیں تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے. پھر بھی جرات کرتے ہیں؛
پہلا کمرہ: ایک نادر و نایاب کان ہے، جس کا نام أجلى الإعلام أن الفتوى مطلقا على قول الإمام ہے، اس میں قول امام پر فتوی دینے کے ایسے انمول ہیروں کی قطاریں ہیں جن کی مثال تقریباً نایاب ہے.
دوسرا کمرہ: بیش بہا اصولی موتیوں کی کان جلي النص في أماكن الرخص ہے، اس میں مقاماتِ رخصت میں واضح نصوص کے جواہر ہیں، اور ہر گوہر ایک فقہی مسئلے کی کنجی ہے.
تیسرا کمرہ: جو سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ کے فیوض وبرکات کی کان ہے، وہ الفضل الموهبی في معنى إذا صحّ الحديث فهو مذهبي کے عنوان سے جگمگا رہا ہے. یہ اپنے اندر امامِ اعظم ابو حنیفہ کے اس مشہور فرمان: "جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے" کے نورانی جلوے بسائے ہوئے ہے.
یہ تینوں کمرے ایک ہی حسین ستون سے جڑے ہیں، وہ ستون اعلی حضرت کی اصولی بصیرت، استنباطی مہارت اور ضابطے سازی کا مجموعہ ہے.

اس مختصر سی مدت میں چھ منزلوں پر مشتمل یہ عظیم الشان تاج محل کا معرضِ وجود میں آ جانا یقیناً سیدی حضور اعلی حضرت -علیہ الرحمہ- کے فیوض و برکات کا صدقہ ہے، ورنہ اس میدان کے شہسوار خوب جانتے ہیں کہ تحقیق کا میدان وہ بھی عربی زبان میں کس قدر وسیع اور جفا کش ہے، بالخصوص دینیات میں اور وہ بھی مسلکِ اعلی حضرت کے آب و تاب کے ساتھ. مزید برآں موجودہ پر فتن دور میں، جب ہر طرف فکری یلغار اور فتنہ سامانی کا سیلاب رواں ہے، ایسے حالات میں بانیِ # دار الملک، مولانا شیراز احمد نظامی ازہری اور ان کے رفقاء نے ان تمام رکاوٹوں کی پرواہ کیے بغیر جس عزم و استقلال اور جس بلند فکری شان کے ساتھ یہ کارنامہ انجام دیا ہے، وہ نہ صرف لائق تقلید ہے بلکہ تحسین و ستائش کے اعلیٰ ترین مراتب کا مستحق بھی ہے.

ان شاء اللہ! علمائے کرام کے توسط سے درِ رضا میں اسی طرح حاضری جاری رہی تو یہ چھ منزلہ عمارت بہت جلد تیس منزلوں بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ کی رفعتوں کو چھو لے گی، کیونکہ یہ کوئی کاغذ کے پھول نہیں، جو خوشبو کے جامہ سے محروم ہوں، اور نہ ہی کچی مٹی پراگنے والے وہ لالہ زار ہیں جن کے نازک چہرے خزاں کی پہلی تپش ہی سے مرجھا جائیں، بلکہ یہ تو مصنف اعظم، مجدد اعظم کی صورت میں خدا رسیدہ بزرگ یعنی سیدی و مرشدی، حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی تصنیفات وتالیفات کو عام کرنے کے تذکروں کا سدا بہار گلشن ہے، جس میں خزاؤں کو بہار میں بدل دینے کی قدرت ہے، اور یہ عشق و فکر کا وہ ابدی چراغ ہے جس میں تہ بہ تہ پھیلی تاریکیوں کو چیر کر اجالوں سے بھر دینے کی طاقت ہے ، ساتھ ہی جہاں قدم رکھے وہاں افق در افق نور ہی نور پھیلا دے. انہیں کی نسبت و برکت سے یہ علمی و فکری تاج محل عنقریب تیس منزلوں کی عظمت کو پہنچے گا، اور عالمِ عرب بلکہ پورے عالم اسلام میں اپنی نوعیت کا پہلا لازوال عجوبہ شمار ہوگا. اللہ تعالیٰ دارین کی سعادتوں سے مالا مال فرمائے. آمین ثم آمین.


بتاریخ: ٢٢/صفر المظفر ١٤٤٦ھ
مطابق: ١٧/اگست ٢٠٢٥ء

07/08/2026

على إصدارات مؤسسة دار المَلِكْ
بمناسبة الذكرى الثامنة والمائة للإمام أحمد رضا خان الحنفي القادري البريلوي -رحمه الله تعالى-
في معرض بريلي الوطني للكتاب

#مؤسسةدارالمَلِك (DMF)

07/08/2026

بشرى سارة لمحبي ومتابعي
#مؤسسةدارالمَلِك
بمشاركتها في أكبر معرض الكتب في الهند الذي يعقد في مدينة بَرَيلي من ولاية أترابراديش

بمناسبة الذكرى الثامنة والمائة للإمام أحمد رضا خان -تغمده الله تعالى بالرحمة والرضوان-

#مؤسسةدارالمَلِك (DMF)

05/08/2026

Address

Bareilly
243003

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مجمع الإمام أحمد رضا للبحوث والدراسات الإسلامية posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to مجمع الإمام أحمد رضا للبحوث والدراسات الإسلامية:

Shortcuts

Share