09/09/2026
> العَسَلُ المُصَفّٰى في عَقَائِدِ أَرْبَابِ سُنَّةِ المُصْطَفٰى
> المعروف بـ عقائد اہل سنت
عقیدہ کو اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے اس لیے کہ جس کا عقیدہ درست، اس کی آخرت درست، اور جس کا عقیدہ خراب، اس کی آخرت خراب. یہی وجہ ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام نے عقائد کی درستگی کو اپنی دعوت کا نقطۂ آغاز بنایا. خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی امت کے عقائد کی اصلاح پر خصوصی توجہ فرمائی. عہد رسالت سے لے کر آج تک ہمارے اکابر نے تحفظِ عقائد کو مقدم رکھا اور باطل عقائد کے رد و ابطال کو اپنی سب سے اہم دینی ذمہ داری شمار کیا. چنانچہ جب ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے عقائدِ اہل سنت کے تحفظ کے لیے مدلل اور مفصل کتابیں تصنیف فرمائی ہیں. خصوصاً چودہویں صدی ہجری اہل سنت کے لیے ایک نہایت پرآزمائش دور رہی، جس میں نت نئے فتنوں نے جنم لیا اور مختلف باطل نظریات و افکار نے پروان چڑھنے کی کوشش کی. لہذا اس صدی کے علماء نے دفاع عقائد اہل سنت میں متعدد کتاب تصنیف فرمائیں، جن میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ سب سے نمایاں نظر آتے ہیں. اسی دور میں سیدی اعلیٰ حضرت کے پیر و مرشد، سیدی سرکار پرنور حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری برکاتی علیہ الرحمہ نے بھی عقائد اہل سنت کے موضوع پر ایک نہایت اہم اور مختصر رسالہ بنام *«العَسَلُ المُصَفّٰى في عَقَائِدِ أَرْبَابِ سُنَّةِ المُصْطَفٰى»* تصنیف فرمایا.
یہ رسالہ اگرچہ حجم کے اعتبار سے مختصر ہے، مگر اپنے موضوع کے اعتبار سے نہایت جامع اور نافع ہے. حضرت مصنف علیہ الرحمہ نے ارکان ایمان، ضروریات دین اور ضروریات مذہب اہل سنت سے متعلق اہم عقائد کو نہایت سادہ اور عام فہم زبان میں بیان فرمایا ہے، اس کا مطالعہ کرنے کے بعد یقین ہو جاتا ہے کہ کوزے میں سمندر کو سما دیا گیا ہے.
رسالے کا منہج بھی نہایت آسان اور سادہ ہے، تاکہ عام مسلمان بھی اسے پڑھ کر بنیادی عقائد سے واقف ہو سکے، اس مقصد کی وضاحت خود مصنف علیہ الرحمہ نے مقدمے میں فرمائی ہے:
> *"بنظرِ خیر خواہی برادران دین چند سطر عقائد اہل سنت و جماعت میں بسلاست زبان و وضاحت بیان، وشرح مسائل و طرحِ دلائل منصۂ تحریر پر جلوہ نما اور رسالے کو بنام تاریخ «العَسَلُ المُصَفّٰى في عَقَائِدِ أَرْبَابِ سُنَّةِ المُصْطَفٰى» مسمی کرتا ہے*
کتاب کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے حضرت مصنف علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
> اس کتاب کو ہر گھر میں لازمی طور پر موجود ہونا چاہیے اور اہل خانہ اس کو پڑھیں بالخصوص گھر کے بچے بچیاں (جو قوم کے مستقبل ہیں) اس کتاب کے تمام عقائد و مسائل خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیں تاکہ اہل سنت کے عقائد کا علم ہو اور پھر اس پر عمل کر کے اپنی اخرت کا سامان کریں.
قارئین کے ذوق طبع کے لیے جی چاہا کہ اس رسالے سے چند اقتباسات بھی پیش کروں، لیکن فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ کہاں سے اقتباس لوں اور کہاں سے نہ لوں، اس لیے کہ *ہر سطر، ہر جملہ، بلکہ ہر کلمہ پڑھنے کے لائق ہے.* تاہم ذوق مطالعہ کی تسکین کے لیے دو تین اقتباسات پیش کرنا مناسب ہوگا.
اللہ رب العزت کی توحید و تنزیہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
> *"سب باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ عقل میں آتا ہے خدا نہیں، اور جو خدا ہے اس تک عقل رسا نہیں. پاکی ہے اسے جو سب عیبوں سے پاک ہے."*
صحابہ کرام میں تفضیل کی تفصیل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
> *"صحابہ تمام امت سے افضل ہیں، اور صحابہ میں سب سے افضل اور اللہ کے نزدیک رتبہ اور عزت میں سب سے زیادہ، اور خدا سے بہت نزدیک حضرت ابوبکر صدیق ہیں، حضرت عمر فاروق، پھر حضرت عثمان غنی، پھر مولا علی، اور افضل کے یہی معنی ہیں کہ اوروں سے رتبے میں بڑا اور خدا کے یہاں عزت و وجاہت و ثواب و کرامت میں زیادہ ہو."*
اسی طرح ایمان ابو طالب کے متعلق فرماتے ہیں:
> *"مولا علی کے باپ ابو طالب کافر مرے اور بلحاظِ عار وحمیت، باوجود معرفت کے دین اسلام اختیار نہ کیا. بخاری و مسلم کی احادیث صحیحہ سے کفر ان کا ثابت ہے، مگر سب کافروں میں عذاب ان کا اہون، از روئے احادیث متفق علیہا کے.*
ان مختصر اقتباسات ہی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رسالہ کس قدر جامع وواضح، اور عقائد اہلسنت کی ترجمانی کرنے والا ہے.
> `جدید ترتیب و تحقیقی حواشی`
کتاب کی اہمیت کے پیش نظر عالمی شہرت یافتہ ادارے *دارالملک* نے اس رسالے کو جدید تقاضوں سے آراستہ کرکے شائع کیا ہے، تاکہ اس کا نفع زیادہ سے زیادہ عام اور تام ہو. اس مقصد کے لیے جگہ جگہ مفہوم کی وضاحت کے لیے اصل عبارت کے اندر ضروری الفاظ کو بین القوسین رکھا گیا ہے، جبکہ حسب ضرورت مشکل الفاظ کی وضاحت کے لیے حواشی و تعلیقات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، البتہ یہاں ایک معمولی سی گزارش ضرور ہے کہ مشکل الفاظ کے معانی کے ساتھ اگر متعلقہ لغت کا حوالہ بھی درج کردیا جاتا تو یہ علمی اعتبار سے مزید مفید ہوتا. اس کے علاوہ مختلف مقامات پر قرآن کریم کی آیات اور احادیث مبارکہ سے بھی حواشی کو مزین کیا گیا ہے، رسالے میں جن احادیث کا مفہوم آیا ہے، ان کی تخریج کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جس سے اس ایڈیشن کی علمی افادیت دوبالا ہو گئی ہے. اور پھر سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وہ اشعار جو حاشیہ میں وقتاً فوقتاً شامل کیے گئے ہیں، انہوں نے تو کتاب کے حاشیے پر چار چاند لگا دیے ہیں اور اس کی معنوی و ادبی اہمیت کو بڑھا دیا ہے. یہ عظیم علمی و تحقیقی کام ادارے کے بانی *حضرت مولانا شیراز احمد نظامی ازہری حفظہ اللہ* نے انجام دیا ہے، جس پر وہ بجا طور پر تحسین و تبریک کے مستحق ہیں.
اس نایاب رسالے کی ایک خاص اور قابل ذکر خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کی تاریخ جمع و تالیف سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اپنی طبع لطیف اور ذوق شریف سے استخراج فرمائی اور کتاب کے آخر میں سولہ عربی اشعار تحریر فرمائے، جن کا اردو ترجمہ حضرت محشی نے پیش کیا ہے. اسی موقع پر سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی تعریف و توصیف میں فارسی میں بارہ اشعار بھی تحریر کیے گئے ہیں. یونہی سیدی *استاذ زمن* نے طویل بحر میں نو اشعار کہے، جبکہ علامہ غلام غوث صاحب غوثی عباسی بدایونی اور مولانا فصیح الدین صاحب شوق بدایونی علیہم الرحمہ نے بھی اس کتاب کی تاریخ تالیف کے سلسلے میں اشعار تحریر فرمائے ہی. یوں یہ مختصر سا رسالہ اپنے اندر علم عقائد کے ساتھ ساتھ تاریخ، ادب اور اکابر اہل سنت کی علمی و ادبی روایت کی ایک خوب صورت جھلک بھی سمیٹے ہوئے ہے. البتہ ان فارسی اشعار کا ترجمہ بھی شامل کر لیا جاتا تو اس کی خوبصورتی دوگنی ہو جاتی.
کتاب کے آغاز میں عرض ناشر اور ایک معلوماتی مقدمہ شامل ہے، جس کے بعد مصنف علیہ الرحمہ کا اجمالی تعارف، کلماتِ تبریک اور قلمک نسخے کے عکس بھی ہیں، کتاب کے آخر میں مصادر و مراجع کی فہرست اور مضامین کی تفصیلی فہرست شامل ہے، یوں یہ جدید اور خوب صورت ایڈیشن تقریباً ٧٢ صفحات پر مشتمل ہے. حجم مختصر ہونے کے باوجود مواد کی جامعیت ایسی ہے کہ اگر ذوق و شوق کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ان شاء اللہ ایک ہی نشست میں پورا رسالہ مکمل ہوجائے گا اور قاری کو وقت گزرنے کا احساس بھی نہ ہوگا.
الغرض *«العَسَلُ المُصَفّٰى في عَقَائِدِ أَرْبَابِ سُنَّةِ المُصْطَفٰى»* ایک مختصر مگر نہایت قیمتی رسالہ ہے، جس میں سیدی سرکار پرنور حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری برکاتی علیہ الرحمہ نے عقائد اہل سنت کے بنیادی ابواب کو سادہ اور آسان انداز میں جمع فرمایا ہے، جبکہ موجودہ ایڈیشن نے حواشی، تخریجات، تعلیقات، مصادر و مراجع اور دیگر علمی و ادبی اضافات کے ذریعے اس کی افادیت کو دگنا کر دیا ہے. ایسے رسائل خصوصا موجودہ دور میں گھر گھر پہنچنے چاہئیں، اس لیے کہ عقیدہ مسلمان کی زندگی کی بنیاد ہے، اور بنیاد درست ہو تو عمارت کا استحکام ہوتا ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اکابر کی تصانیف کا شوق و ذوق کے ساتھ مطالعہ کرنے، ان سے استفادہ کرنے، مسلک اعلیٰ حضرت پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین.
طارق محمود رضوی
بتاریخ: ٢٤/ربیع الاول ١٤٤٨ھ
مطابق: ٧/ستمبر ٢٠٢٦ء