Al MUSTAFA TRUST Barabanki

Al MUSTAFA TRUST Barabanki This trust is made to spread knowledge in islamic environment. Anybody interested to help will be greatly appreciated.

عَظَّمَ اللّهُ أُجُورَنا بِمُصابِنا بِالْحُسَیْنِ عَلَیْهِ السَّلامُ، وَ جَعَلَنا وَ إِیّاکُمْ مِنَ الطّالِبِینَ بِثارِه...
01/10/2017

عَظَّمَ اللّهُ أُجُورَنا بِمُصابِنا بِالْحُسَیْنِ عَلَیْهِ السَّلامُ، وَ جَعَلَنا وَ إِیّاکُمْ مِنَ الطّالِبِینَ بِثارِهِ، مَعَ وَلِیِّهِ الاِْمامِ الْمَهْدِىِّ مِنْ آلِ مُحَمَّد عَلَیْهِمُ السَّلامُ

Assalamu alykum. Happy Eid Ul Azha to you n your Family ... May The Almighty Allah accept all our Qurbani on this precio...
13/09/2016

Assalamu alykum.
Happy Eid Ul Azha
to you n your Family ...
May The Almighty Allah accept all our Qurbani on this precious occassion... Stay Blessed Remember in Dua ...

AL MUSTAFA TRUST
BARABANKI

03/01/2016

آیۃ اللہ نمر اور انکے ساتھیوں کی مظلومانہ شھادت کی مذمت کرتے ہوے اس سانحہ کی امام وقت اور جھان تشیع کو تعزیت پیش کرتے ہیں اور ہماری دعا یہ ہے کہ جلد از جلد آل سعود اور آل یہود صفحہ ہستی سے نابود ہو جائ
Almustafa Trust Barabanki

कौन थे शेख बाक़िर अन्निम्र?सऊदी अरब के प्रसिद्ध धर्मगुरु और संघर्षकर्ता शेख बाक़िर अन्निम्र जिन्हें फांस दिये जाने का सऊ...
03/01/2016

कौन थे शेख बाक़िर अन्निम्र?सऊदी अरब के प्रसिद्ध धर्मगुरु और संघर्षकर्ता शेख बाक़िर अन्निम्र जिन्हें फांस दिये जाने का सऊदी अरब ने एलान किया है, सऊदी अरब की एक जानी-मानी हस्ती थे।शेख बाक़िर अन्निम्र वर्ष 1968 ईसवी में पूर्वी सऊदी अरब के अलक़तीफ़ प्रान्त के अलअवामिया शहर में जन्मे थे। बड़े होने पर आरंभिक शिक्षा उन्होंने अलअवामिया शहर में हासिल की और सन 1989 में ईरान की क्रांति के बारे में अधिक जानकारी प्राप्त करने के लिए ईरान की यात्रा की और तेहरान के एक मदरसे में शिक्षा प्राप्त करना आरंभ कर दिया।शेख बाक़िर अन्निम्र ने दस वर्षों तक तेहरान के धार्मिक शिक्षा केन्द्र में शिक्षा प्राप्त करने के बाद सीरिया कीयात्रा की और वहां आगे की पढ़ाई जारी रखी।उन्होंने तेहरान और सीरिया में धार्मिक शिक्षा प्राप्ति के दौरान बड़े-बड़े धर्मगुरुओं से ज्ञान प्राप्त किया।उन्होंने सऊदी अरब वापसी के बाद हज़रत क़ायम मदरसे की स्थापना की और वर्ष 2011 में इस्लामी केन्द्र की स्थापना की।शेख बाक़िर अन्निम्र को पहली बार वर्ष 2006 में सऊदी सुरक्षा बलों ने हिरासत में लिया। उन्हें बहरैन में कुरआन सम्मेलन में भाग लेने के बाद वापसी के समय सऊदी अरब में हिरासत में लिया गया था।उन पर आरोप था कि इस सम्मेलन में उन्होंने, बक़ीअ क़ब्रिस्तान के पुनर्निमाण और सऊदी अरब में शिया समुदाय को औपचारिकता दिये जाने की मांग की थी।अगस्त 2008 में शेख बाक़िर अन्निम्र को दोबारा गिरफ्तार किया गया। इस बार उन पर आरोप था कि उन्होंने सऊदी अरब के शिया समुदाय को सरकार के खिलाफ भड़काने की कोशिश की है किंतु शिया मुसलमानों में बढ़ती नाराज़गी के कारण उन्हें 24 घंटों बाद रिहा कर दिया गया किंतु मार्च 2009 में उन्हें फिर गिरफ्तार कर लिया गया।वास्तव में शेख बाक़िर अन्निम्र हमेशा अपने भाषणों में सऊदी सरकार की विशेषकर पूर्वी प्रान्तों में भेदभावपूर्ण नीतियों के कारण आलोचना करते थे। वह सदैव कहा करते थे कि सच्ची बात कहने में उन्हें डर नहीं लगता भले की उन्हें जेल में डाला जाए या मौत की सज़ा दी जाए।वह कहते थे कि सऊदी मीडिया, मुफ्ती और धर्मगुरु सरकार के हाथों बिके हुए हैं और यह सब मिल कर, सऊदी अरब में शिया- सुन्नी मतभेद उत्पन्न करके राजशाही को जारी रखने का प्रयास कर रहे हैं।बार बार गिरफ्तार किये जाने औरयातनाएं दिये जाने के बावजूद शेख बाक़िर अन्निम्र ने हमेशा सऊदी शासकों के क्रिया कलापों की आलोचना की और कहते थे कि अंतिम सांस तक वह सऊदी अरब के नागरिकों के अधिकारों के लिए लड़ते रहेंगे।

سوانح حیات آیت اللہ شیخ النمرشیخ نمر باقر آلنمر 1379 ہجری بمطابق 1968 عیسوی صوبہ قطیف کے شہر  #العوامیہ میں ایک علمی اور...
03/01/2016

سوانح حیات آیت اللہ شیخ النمر

شیخ نمر باقر آلنمر 1379 ہجری بمطابق 1968 عیسوی صوبہ قطیف کے شہر #العوامیہ میں ایک علمی اور دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کے چچا آیت اللہ شیخ محمد بن ناصر آل نمر رحمہ اللہ اسی خاندان کے چشم و چراغ تھے اور اس خاندان میں کئی نمایاں علماء و ذاکرین ہوگذرے ہیں جن میں ان کے دادا الحاج علی بن ناصر آل نمر قابل ذکر ہیں۔
انھوں نے ابتدائی تعلیم العوامیہ میں مکمل کرنے کے بعد سنہ 1400 ہجری (1989) کو انقلاب اسلامی کو بہتر سمجھنے اور اعلی دینی تعلیم کے حصول کی غرض سے اسلامی جمہوریہ ایران ہجرت کی اور تہران کے حوزہ علمیہ حضرت قائم(عج) میں حاضر ہوئے جو اسی سال آیت اللہ سید محمد تقی مدرسی نے تاسیس کیا تھا۔
شیخ نمر نے حوزہ علمیہ حضرت قائم(عج) میں 10 سال تک تعلیم جاری رکھی اور اس کے بعد شام میں حوزہ علمیہ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا پہنچے اور وہاں تعلیم جاری رکھی۔
انھوں نے اصول الفقہ میں اصول المظفر، رسائل شیخ انصاری اور آخوند خراسانی کی کتاب کفایۃالاصول کے ساتھ ساتھ علم فقہ میں شہید اول کی کتاب اللمعۃ الدمشقیہ، خوانساری کی کتاب جامع المدارک، شیخ انصاری کی کتاب المکاسب اور سید حکیم کی کتاب مستمسک عروۃ الوثقی مکمل کرلی۔
انھوں نے اس عرصے میں کئی نامور ایرانی، عراقی، شامی اور افغانی علماء سے فیض حاصل کیا اور مشہد میں بھی کافی عرصے تک آیت اللہ شیرازی کے درس میں حاضر ہوئے جبکہ قم میں بھی درس اخلاق کے مراتب طے کئے جس کے بعد انہیں علمی مراکز میں تدریس کی اجازت مل گئی۔
آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر اس وقت حوزات علمیہ کے نمایاں ترین اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں اور ایران اور شام میں بھی لمعہ، جامع المدارک، مستمسک العروۃ الوثقی اور شہید آیت اللہ محمد باقر الصدر کی کتاب الحلقات کی تدریس کرتے رہے ہیں اور کئی سالوں تک تہران اور دمشق میں حوزہ علمیہ حضرت قائم(عج) کے منتظم رہے ہیں اور ان مراکز کی ترقی میں شاندار کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
وہ سعودی عرب جاکر العوامیہ میں مذہبی مرکز "الامام القائم(عج)" کی بنیاد رکھی اور اس مرکز کا سنگ بنیاد 2001 میں رکھا گیا۔
اخلاقی حوالے سے نہایت اعلی خصلتوں کے مالک ہیں اور دینی اقدار کے تحفظ کے حوالے سے کسی قسم کی سودے بازی کے قائل نہیں ہیں اور یہ خصلتیں آل سعود کی فاسد اور ظالم ملوکیت کے خلاف ان کی جہادی تحریک میں نمایاں ہیں۔
آیت اللہ نمر سعودی عرب کے اندر اور خطے کی سطح پر گرد و پیش کے حالات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں جس کے باعث ان کا نظریہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے حوالے سے مدلل تجزیئے پر مبنی ہے اور وہ خود کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ قرآن اور اہل بیت(ع) کے ساتھ مسلسل تعلق کا نتیجہ ہے۔
شیخ باقر نمر آل نمر اس سے پہلے بھی 2006 اور 2008 میں آل سعود کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل رہے ہیں۔ ایک بار بحرین میں قرآن کریم بین الاقوامی سیمینار میں شرکت کے بعد وطن واپسی پر گرفتار کئے گئے تھے اور الزام یہ تھا کہ انھوں نے اس سے قبل آل سعود سے جنت البقیع کی تعمیر اور مذہب اہل بیت(ع) کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کی درخواست کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ سعودی طرز تعلیم کو تبدیل کیا جائے یا پھر اس کو سرے سے منسوخ کرکے نیا نظام تعلیم متعارف کرایا جائے۔
اس کے بعد 23 اگست 2008 کو القطیف شہر میں گرفتار کئے گئے اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انھوں نے منطقۃالشرقیہ کے شیعہ اکثریتی شہروں کے عوام کو ہدایت کی تھی ہ وہ اپنے اور اپنے معاشروں کے دفاع کی تیاری کریں! اور یہ کہ وہ الشرقیہ کے عوام کو حکومت کے خلاف بغاوت کرنے اور اپنے علاقے آل سعود کی عملداری سے جدا کرنے کی دعوت دے رہے ہیں!
بہر حال سعودی حکام جانتے تھے کہ الزامات جھوٹے ہیں چنانچہ انہيں 24 گھنٹے قید کرکے رہا کیا گیا اور ایک بار 2009 میں بھی مختصر مدت تک قید کئے گئے۔
آل سعود کے بارے میں آیت اللہ نمر کے خیالات:
٭ نجد و حجاز اور مشرق و جنوب پر ایک صدی سے مسلط آل سعود نامی خاندان کی ملوکیت پورے میں ملک میں منظم فرقہ وارانہ امتیازات پر استوار ہے اور خاص طور پر الشرقیہ کے دو علاقوں الاحساء اور القطیف کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
٭ میں کلمۂ حق کے اظہار سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوتا خواہ سعودی خاندان مجھے گرفتار کرے، خواہ مجھے تشدد کا نشانہ بنایا اور اذیت و آزار دے اور حتی مجھے شہید کردے۔
٭ ہم آل سعود کی طرف سے عوام اور بالخصوص شیعیان آل رسول(ص) کی عزت و حیثیت پر تجاوز اور انہیں تمام شہری حقوق سے محروم کرکے انہیں دوسرے درجے کے شہریوں کا درجہ دیئے جانے کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور ہم اس ملک میں رہنے والے شیعیان آل محمد(ص) کا بہرصورت، تحفظ کریں گے۔
٭ میں آل سعود کے خلاف جدوجہد کے اگلے مورچے میں خود ہی بیٹھا ہوا ہوں، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ جدوجہد کے بغیر کسی مقصد تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ اور مقاصد کے حصول کے لئے ایثار اور شجاعت وجہاد کی ضرورت ہے؛ اور ہم پرامن جدوجہد پر اصرار کرتے ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں مسلح تحریک کبھی بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا کرتی، اور ملک میں عدل و انصاف قائم نہیں ہوا کرتا اور ملک کے باشندے حریت کے ساتھ نہيں جی سکتے؛ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے خطبہ جہاد میں بھی زور دیا گیا ہے کہ عدل جہاد کے سوا قائم نہیں کیا جاسکتا اور حق ایثار، جہاد اور شجاعت کے بغیر نہیں لیا جاسکتا۔
٭ شیعیان آل رسول(ص) آل سعود کے ظلم و تجاوز کے سامنے خاموش نہيں رہیں گے؛ اے آل سعود! ہم خاموش نہیں رہیں گے، تم جو ظلم بھی چاہو ہم پر روا رکھو، جو بھی چاہتے ہو کرو اور ہماری شخصیت اور ہماری حیثیت کو پامال کرو۔
٭ سعودی عرب کے تمام ذرائع ابلاغ اور اخبارات و جرائد آل سعود سے وابستہ ہونے کی وجہ سے حکمران خاندان کی تشہیری مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور ان کا رویہ آزاد صحافت سے کوسوں دور ہے۔
٭ سعودی مفتی آل سعود کے بنے بنائے افراد ہیں؛ سعودی حکام انہیں پیسہ دیتے ہیں اور تاکہ وہ فرقہ وارانہ اور مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر شیعہ اور سنی مسلمانوں کو آپس میں الجھائے رکھیں اور یوں سعودی شہزادے پورے چین و سکون کے ساتھ ملکی وسائل لوٹتے رہیں۔
٭ اے آل سعود! میں جاتنا ہوں کہ آج نہیں تو کل مجھے گرفتار کرنے کے لئے آؤگے؛ میں تمہیں خوشامدید کہتا ہوں کیونکہ تمہاری منطق ہی یہی ہے: "گرفتاری، ٹارچر اور قتل و غارت"۔ لیکن ہم قتل و غارت سے نہيں ڈرتے، ہم کسی بھی مصیبت سے نہيں ڈرتے۔
٭ اگر آل سعود کے حکام ہیں پرامن مظاہروں کی مخالفت کرتے ہيں اور دھرنوں پر پابندی لگاتے ہیں تو ہم اپنا احتجاج جاری رکھنے کے لئے نئے نئے راستے اختیار کریں گے اور اپنے جائز حقوق لے کر رہیں گے۔ اور مظاہرے اور دھرنے ہمارے احتجاجی طریق کار کا ایک ہی جزو ہے۔
#آیت اللہ شیخ نمر آل نمر سعودی حکام کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک میں بھی استبدادی اور آمر حکمرانوں پر تنقید کرتے رہے ہیں اور خاص طور پر بحرین پر مسلط آل خلیفہ کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی درباری عدالت نے شیخ نمر کے لیے سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے جس کے بعد سے تمام مراجع عظام اور دینی و مذہبی شخصیات نے سعودی عرب کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے جبکہ کئی ممالک میں شیخ نمر کی حمایت اور آل سعود کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔
Saudiyo'n pe ho Laanat, Salaam NIMR tumhe.

Ali ki hogi Ziyaarat, Salaam NIMR tumhe.

Ali ke ishq ka tumne diya jahaa'n ko suboot.

Tumhe mili hai Shahadat, Salaam NIMR tumhe.

"Shaheed Ayatullah Sheikh Baqar Nimr ke liye Sureh Fateha aur Namaz-e-Wehshat ki guzarish."

पैगम्बर मोहम्मद साहब के जनम दिवस के अवसर पर जिला अस्पताल बाराबंकी में एमरजेंसी वार्ड में भर्ती मरीजों को AL MUSTAFA TRUS...
30/12/2015

पैगम्बर मोहम्मद साहब के जनम दिवस के अवसर पर जिला अस्पताल बाराबंकी में एमरजेंसी वार्ड में भर्ती मरीजों को AL MUSTAFA TRUST BARABANKI की तरफ से फल वितरित किए गए

Jashne Eide Miladunnabi  karbala Civil Line Barabanki
29/12/2015

Jashne Eide Miladunnabi karbala Civil Line Barabanki

Mah e Ramzanulmubarak me mustahqeen ko zarooriyat ka saman taqseem kiya gaya
16/07/2015

Mah e Ramzanulmubarak me mustahqeen ko zarooriyat ka saman taqseem kiya gaya

Address

Masood Manzil 1250, Munshiganj Barabanki
Barabanki
225001

Telephone

09838776699

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al MUSTAFA TRUST Barabanki posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category