11/05/2026
علامہ محمد شہاب الدين ندوى (رح) اور فرقانيه اكيڈمى كى علمى خدمات پر
حضرت مولانا قارى محمد طيب قاسمى (رح)
سابق صدر آل انڈيا مسلم پرسنل لا بورڈ ومہتمم دارالعلوم، ديوبند
كا تبصره
(١)
"يہ ايک امر مسلّم ہے کہ محققين اسلام نے ہميشہ اپنى تحرير وتقرير سے عقل انسانى کو نقل ايمانى کے ہمرنگ رکھنے اور افکار کو الہام کے تحت چلانے کى کوشش کى ہے۔ اور ہر قرن اور ہر دور ميں ان کى کوشش مختلف رنگوں سے بروئے کار آتى رہى ہے۔ دين حق کى ترجمانى کا يہ سلسلہ الحمد للہ آج بھى مسلسل جارى ہے۔ اور آج کے دور الحاد و فساد ميں بھى صحيح الفکر اور صحيح المذاق خدّام دين اپنى اپنى جگہ اپنى اپنى صلاحيتوں کے مطابق دين کى اشاعت و تبليغ اور وقت کى زبان و بيان کے ساتھ اس کے دفاع و استحکام ميں مصروف ہيں۔ ليکن آج علم وسائنس اور تحقيق واکتشافات کے نام پر جن نئے نئے ہتھياروں سے حق اور اہل حق پر يلغار کى جارہى ہے اس کا تقاضا ہے کہ عہد حاضر کى ضرورتوں سے باخبر مستند فضلائے دين کتاب وسنت کے مذاق و مزاج سے واقف محققين اور عصرى علوم سے آگاہ ارباب فکر متين دفاع عن الدين کے اس محاذ پر اپنى ذمہ دارياں پورى کرنے کےلئے مزيد ہمت و مستعدّى سے انہيں اور دين کى حقانيت کو آيات انفس و آفاق سے مُبرہن کر دکھائيں۔
ہمارے محترم جناب مولانا شہاب الدين صاحب ندوى اور ان کا ادارہ ’’فرقانيہ اکيڈمى، بنگلور‘‘ اسى ضرورت کے تحت جن علمى و تحقيقى خدمات ميں مصروف ہے ان سے اہل علم کافى حد تک روشناس ہوچکے ہيں۔ اور يہ ناکارہ تو مولانا کى متعدد تصانيف سے کافى متاثر اور کافى مستفيد بھى ہوا ہے۔ اس ذيل ميں مولانا موصوف نے اب سہ ماہى مجلہ ’’ندائے فرقان‘‘ جارى کيا ہے، جس کا اولين مقصد تحقيقات جديدہ کى روشنى ميں قرآن مجيد کى حقانيت ثابت کرنا ہے۔ نيز اسى طرح دين کے مقاصد مُہمّہ بھى ان کے پيش نظر ہيں۔ الحمد للہ يہ ايک مبارک اقدام اور وقت کى نبض شناسى ہے جس کے تحت اُصول دين اور ذوق نبوت کى صحيح ترجمانى کى جارہى ہے۔
دعا ہے کہ رب کريم مولانا موصوف اور ان کے ادارے سے دين حق کى صحيح خدمت لے اور انہيں مسلک مستقيم پر کام کرنے کى زيادہ سے زيادہ ہمت اور توفيق ارزانى فرمائے اور اس کے مفيد ثمرات سے اُمت کو مستفيض ہونے کے مواقع ميسر فرمائے۔
ايں دعا از من و از جملہ جہاں آمين باد۔"
(٢٥/شوال المکرم ١٣٩٦ھ)
(٢)
"گرامى نامہ نے مشرف فرمايا، گاہ بگاہ آپ کى ياد آورى تعلق خاطر کى دليل ہے جو موجب معنوى ہے۔ جناب کى تصانيف کے مطالعہ سے دل ميں بار بار جذبہ آيا کہ اپنا تأثر اور اس سے استفادہ کے ثمرات خير عرض کروں ليکن ہجوم کار و اسفار اور اعذار کى بناپر يہ خواب شرمندئہ تعبير نہ ہوسکا، مگر جناب سے قلمى علاقہ روز افزوں رہا...
تاہم اپنے اہل تعلق کى خدمات و مصرفيات کى نوعيت و اہميت سے مطلع ہونے پر دلى خوشى بھى ہوتى ہے اور ان حضرات کے لئے دعا بھى کرتا رہتا ہوں کہ خداوند کريم ان کى مخلصانہ خدمات ملى و مشاغل دينى کو قبول فرمائے اور ان کى توفيقات ميں روز افزوں ترقى عطا فرمائے۔ تاہم آپ کى محققانہ تحريروں اور مقالات باوجود عدم فرصت جاذب نظر ہوتے رہتے ہيں اور پورى دلچسپى کے ساتھ اس کے مطالعہ کى توفيق بھى ہوتى رہتى ہے۔ اللہ تعالى نے آپ کو قلم کى زبان عطا فرمائى ہے اور موجودہ دور کى نفسيات پر الحمد للہ عبور بھى حاصل ہے، اس لئے يہ تحريرات مؤثر بھى ہوئى ہيں۔ حق تعالى آپ کو جزائے خير عطا فرمائے۔"
(٣)
"آپ كى تصانيف بہت اونچے درجے كى ہيں."