Abu Awana Syed Abdul Mateen S/O Syed Muneer Ahmed

Abu Awana Syed Abdul Mateen S/O Syed Muneer Ahmed

Share

TAZKIRAH || Syed Abdul Mateen

19/03/2026


12/03/2026

سبحان الله!

جهود المملكة العربية السعودية!
حفظ الله هذه المملكة من كيد الكائدين وعدوان المعتدين، وأدام الله عليها أمنها واستقرارها
#مكة #مدينة #السعودية

07/03/2026

*رب سے محبت اور مُصلِّي کے آگے سے نہ گزرنے میں حکمت*

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسوله الأمين، أما بعد!

انسان مختلف چیزوں سے محبت کرتا ہے، لیکن اسکی سب سے نمایا اور اعلی درجہ کی محبت اسکے خالق، مالک اور رب دو جہاں سے ہوتی ہے، اور اس محبت میں کمال اس وقت پیدا ہوجاتا ہے جب *ربِ ذو الجلال بھی اپنے بندے سے محبت کا اعلان ساتوں آسمانوں کے اوپر سناتا ہے* ۔

ﷲ تعالی کی ایک صفت *المحبة* بھی ہے، اور وہ ہم بندوں سے بھی محبت کرتا ہے؛ متفق علیه روایت میں نبی ﷺ نے فرمایا:

*إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ*......الحديث
بیشک جب ﷲ تعالی کسی بندے سے *محبت کرتا ہے* تو جبریل عليه السلام کو آواز دیتا ہے۔۔۔۔۔
📚 صحيح البخاري: ٧٤٥٨، صحيح مسلم؛ [ ٦٧٠٥] ١٥٧- (٢٦٣٧)

*رب سے محبت میں کسی کی شراکت گوارہ نہیں*

انسان جب ( مخلوق میں سے ) کسی سے محبت کرنے لگ جاۓ، تو وہ چاہے گا کہ اپنے محبوب سے گفتگو کرے، تنہائیوں میں اسکے ساتھ بیٹھے، وقت گزارے *اور جب تنہائی میں وہ باتیں کررہا ہو، اپنے دل کا درد سنا رہا ہو* اور اسی عین موقع پر وہاں کوئی تیسرا آجاۓ ( *یہ دخل اندازی* ) اسکے لیے ناقابلِ برداشت ہوری ہے اور وہ اسے کبھی بھی برداشت نہیں کرپاۓ گا اور بسا اوقات *یہ کراہت چہرے پر بھی واضح نظر آ ہی جاتی ہے ۔*

ﷲ تعالی *غفور و ودود* ہیں، اپنے بندوں سے انتہائی محبت بھی کرتے ہیں۔
رب العالمین کے آگے جب کوئی بندہ خلوت میں ( *اکیلے* ) کھڑے ہوکر ( *نماز میں* ) اس سے گفتگو کررہا ہو، اپنے مشکلات کا حل ڈھونڈ رہا ہو، *رب کی تحمید بیان کرتے ہوۓ اسکی تعظیم میں کھڑا ہوا ہو،*
اس خلوت بھری گفتگو میں ( جہاں بندے کی زبان سے نکلنے والے کلمات کا جواب بھی پروردگار دیتا ہے ) اس موقع پر وہاں کوئی تیسرا شخص آجاۓ تو رب کریم جسکی ایک صفت *الغيرة* ہے وہ کیسے برداشت کرسکتا ہے ...؟ *اسکو بھی یہ دخل اندازی پسند نہیں۔*

اسی لیے بخاری و مسلم کی روایت میں نبی ﷺ نے *نمازی کے اگے سے گزرنے کی وعید سنائی* اور فرمایا:
*لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ* ۔

اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا یہ جان لے کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے سامنے سے گزرنے پر *چالیس* تک وہیں کھڑے رہنے کو ترجیح دیگا ۔

حدیث میں *أبو النضر* ایک راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم نبی ﷺ نے چالیس دن کہے یا چالیس ماہ یا چالیس سال!
*قَالَ أَبُو النَّضْرِ : لَا أَدْرِي أَقَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً.*

📚متفق عليه. صحيح البخاري: ٥١٠، صحيح مسلم: [١١٣٢] ٢٦١ - (٥٠٧)

*مصلی کے آگے سے نہ گزرنے میں حکمت*

اسلام کا جو بھی حکم ہے اسکے پھیچے یا تو *ظاہری حکمت واضح معلوم ہوتی ہے یا پھر علمائے راسخین اسکو عیاں کرتے ہیں*

اسی طرح *نمازی کے آگے سے نہ گزرنے میں کیا حکمت ہے؟ اسکے لیے اتنی سخت وعید کیوں سنائی گئی؟* اسکو واضح کرتے ہوۓ عالمِ اسلام کے مشہور عالم دین *ابن القیم* (٧٥١ه‍) رحمه اللّٰه نے لکھا؛

*محبت و الفت* کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انسان ( اپنے محبوب کے ساتھ ) تنہائی میں رہنا چاہتا ہے، کچھ اس سے سننا اور کچھ سنانا چاہتا ہے، اکیلا رہ کر اس سے باتیں کرنا چاہتا ہے، اسکو اپنے سے مانوس کرنا چاہتا ہے، ( *اور اس محبت بھرے ماحول میں* ) کسی *تیسرے انسان کی دخل اندازی ان دونوں سے برداشت نہیں ہوتی!*

اور محبت کی یہی *اعلی قسم* اس وقت پیدا ہوجاتی ہے جب *ایک بندہ اپنے خالق و مالک کے سامنے کھڑے ہوکر نماز ادا کررہا ہو،* اس سے گفتگو کررہا ہو، اپنے مشکلات سنا کر اسکا حل پوچھ رہا ہو، ( *مخلوق کی آپسی گفتگو کو کوئی سنے تو سن لے* ) مگر *خالق و مخلوق کے درمیان ہونی والی اس گفتگو کو کوئی سن بھی نہیں سکتا،* تو اسی لیے منع کیا گیا ( اور سخت وعید بھی سنائی گئی ) کہ *خالق اور مخلوق کی اس محبت میں کوئی سامنے سے بھی نہ گزرے!*

_ابن القيم رحمه اللّٰه نے لکھا:_

*ولهذا السرِّ ــ والله أعلم ــ أمر النبي - صلى الله عليه وسلم - بردِّ المارّ بين يدي المُصلِّي حتى أمر بقتاله، وأخبرَ أنَّه لو يدري ما عليه من الإثم؛ لكان وقوفُه أربعين خيرًا له من مروره بين يديه .*
ولا يجدُ ألم المرور وشدَّته إلا قلب حاضرٌ بين يدي محبوبه، مقبلٌ عليه، قد ارتفعت الأغيار بينه وبينه، فمرورُ المارِّ بينه وبين ربِّه بمنزلة دخول البغيض بين المحب ومحبوبه، وهذا أمرٌ الحاكم فيه الذوق، ولا يُنكره

📚روضة المحبين ونزهة المشتاقين: ص/ ٣٩٣

🔷 ﷲ تعالی جزاۓ خیر دے استادِ محترم فضيلة الشيخ *حافظ عبد الحسيب عمري مدني* حفظه اللّٰه کو، کلاس میں تدریس کے دوران یہ نکتہ آپ ہی نے بتلایا تھا۔

*✒️ أبو عوانة سيد عبد المتين بن سيد منير أحمد محمدی*

٢٧/محرم/١٤٤٥ه‍ | الثلثاء
15-08-2023

#المحبة #المدينة

14/02/2026

Ramdhan Se Pehle Apni Niyyat Durust Kar lei!

27/11/2025

*درودِ ابراہیمی میں خلیل ﷲ ابراہیم علیه السلام کے ذکرِ خاص کی وجہ*

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسوله الأمين، أما بعد!

شریعتِ محمدیہ میں مختلف مقامات پر *أبو الانبیاء ابراہیم علیہ السلام* کا ہمے ذکر ملتا ہے۔
اسکی ایک واضح مثال یہ ہے کہ نبی ﷺ نے *صبح وشام* کے جو اذکار ہمے سکھاۓ ہیں ان میں سے ایک دعا یہ بھی سکھائی، جسکو صحابی رسول *عبد الرحمن بن أبزى الخزاعي* رضي الله عنه نے روایت کرتے ہوۓ بیان فرمایا:

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى ﷲ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى: أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ، وَعَلَى كَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ، وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، *وَعَلَى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا* وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔
(مسند أحمد؛ ١٥٣٦٣، صححه الألباني رحمه اللّٰه۔ شیخ شعیب الأرنؤوط رحمه اللّٰه نے *حدیثٌ صحیحٌ* کہا)۔

*رب العالمین کے دو خلیل انبیاء*

خلیل ﷲ [ *محمد ﷺ* ] نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ﷲ تعالی کے خلیل [ *ابراہیم علیہ السلام* ] کا کئی مرتبہ ذکرِ خیر کرتے ہوۓ *آپ کو یاد کیا* جسکی چند مثالیں یہ ہیں؛

١) انس بن مالک رضي الله عنه فرماتے ہیں ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آۓ اور آپ کو مخاطب کرتے ہوۓ فرمایا *يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ* (تمام لوگوں میں سب سے افضل اور بہتر) تو نبی ﷺ نے فوراً کہا *ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ* وہ تو ابراہیم علیہ السلام تھے۔ (صحیح مسلم؛ ٢٣٦٩)

٢) نبی ﷺ جب اپنے دو نواسوں پر نظرِ بد کی دعا پڑھتے تو کہتے:
*إِنَّ أَبَاكُمَا* كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ۔
انہیں کلمات کے ذریعہ آپ کے والد (ابراہیم علیہ السلام) بھی اپنے (اسماعیل و اسحاق) دونوں بچوں کے لیے ﷲ کی پناہ مانگا کرتے تھے ۔ (صحيح البخاري، ٣٣٧١)

٣) نبی ﷺ اپنے صحابہ کو انبیاء کی سیرت تو بتاتے ہی مگر ایک دفعہ گزشتہ انبیاء میں سے جب آپ نے *بعض کی خِلقت* کا ذکر کرتے ہوۓ ابراہیم علیہ السلام کا تعارف کرایا تو ایک ہی لفظ میں آپ ﷺ نے فرمایا *أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ* ابراہیم علیہ السلام کی خِلقت کے بارے میں جاننا ہو تو مجھے دیکھ لینا، میں انکے مشابہ نظر آتا ہوں۔
(صحیح البخاري؛ ٣٣٥٤، صحيح مسلم؛ (١٦٦) )

*واقعۂ معراج میں ﷲ کے دو خلیل انبیاء کی آپسی گفتگو*

معراج کا واقعہ سیرتِ رسول ﷺ کے مختلف اور اہم اسباق اپنے اندر سموئے ہوۓ ہے جسکی مکمل تفصیل
*صحیح بخاری* ٣٤٩، ٣٣٤٢،
*صحیح مسلم* (١٦٣) میں وغیرہ مذکور ہے۔

اسی واقعہ کا ایک حصہ سنن الترمذی میں بھی مذکور ہے۔
جب نبی ﷺ ساتویں آسمان پر پہنچ کر ابو الانبیاء سے ملاقات کی تو *ابراہیم خلیل ﷲ* علیہ السلام نے *محمد خلیل ﷲ* ﷺ سے کہا:
*يَا مُحَمَّدُ، أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ،* وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ، وَأَنَّهَا قِيعَانٌ ، وَأَنَّ غِرَاسَهَا : سُبْحَانَ الله، وَالْحَمْدُ لِله، وَلَا إِلَهَ إِلَّا الله، وَالله أَكْبَرُ.

اے محمد! [ﷺ] اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتادینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی (زرخیز) ہے، اسکا پانی بہت میٹھا ہے، اور وہ خالی پڑی ہوئی ہے، اور اسکی باغبانی: : *سُبْحَانَ الله، وَالْحَمْدُ لِله، وَلَا إِلَهَ إِلَّا الله، وَالله أَكْبَرُ* سے ہوتی ہے۔
(سنن الترمذي: ٣٤٦٢، حسنه الألباني رحمه اللّٰه)

نبی ﷺ نے معراج کی رات آسمانوں پر آدم، عیسی و یحییٰ، یوسف، ادریس، موسی، ہارون، ابراہیم علیہم الصلاۃ والسلام سے ملاقات کی، کسی سے مختصر تو کسی سے مفصل گفتگو فرمائی، البتہ ابراہیم علیہ السلام نے *امتِ محمدیہ کو سلام سناکر ہم پر ایک احسان کیا،* اور اسی احسان کے بدلے *مسلمان درودِ ابراہیمی میں خلیل ﷲ علیہ السلام کو یاد کرکے انکے اس احسان کا اعتراف کرتے ہیں.*

*علامہ بدر الدین عینی رحمه اللّٰه کی لطیف توجیہ*

سنن ابی داود کی حدیث (٩٧٦) جو دراصل متفق علیہ ہے،
صحیح البخاری: ٤٧٩٧، ٦٣٥٧
صحیح مسلم: (٤٠٦)
جس میں صحابہ نے نبی ﷺ سے درود پڑھنے کا طریقہ پوچھا تو نبی ﷺ نے طریقہ بتلاتے ہوۓ *درودِ ابراہیمی سکھایا۔*

عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : قُلْنَا - أَوْ قَالُوا - : يَا رَسُولَ ﷲ، أَمَرْتَنَا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ وَأَنْ نُسَلِّمَ عَلَيْكَ ؛ فَأَمَّا السَّلَامُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ". ( *واللفظ لأبي داود* )

اس حدیث کی شرح کرتے ہوۓ *علامہ بدر الدین عینی رحمه اللّٰه (٨٥٥ھ)* نے ایک اچھی توجیہ بیان فرمائی اور لکھا،
یہ سوال ضرور پیدا ہوگا -اور علماء نے اس پر مفصل لکھا بھی ہے- کہ *درود میں تمام انبیاء کے علاوہ صرف ابراہیم علیہ السلام کا ذکرِ خاص کرنے میں کیا حکمت ہے؟*

*آپ فرماتے ہیں؛*
معراج کی رات نبی ﷺ نے انبیاء سے ملاقات کی لیکن کسی نبی نے وہ نہیں کہا جو ابراہیم نے کہا کہ *اے محمد! میری جانب سے اپنی امت کو سلام کہہ دینا* اور یہی وجہ ہے، جو احسان ابراہیم علیہ السلام کا ہم پر ہے *اسی کے بدلے قیامت تک آنے والے ہر مسلمان کو حکم دیا گیا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے اس احسان کو فراموش نہ کرے اور جس طرح پوری امت محمدیہ کو آپ نے سلام سنایا تو پوری امتِ محمدیہ بھی بدلے میں قیامت تک آپ پر درود بھیجتی رہے گی۔*

*عبارت ملاحظہ کریں؛*
فإن قيل: لم خص إبراهيم عليه السلام من بين سائر الأنبياء عليهم السلام بذكرنا [إياه] في الصلاة؟

*قلت:* لأن النبي- عليه السلام- رأى ليلة المعراج جميع الأنبياء والمرسلين، وسلم على كل نبي ولم يسلم أحد منهم على أمته غير إبراهيم- عليه السلام-، *فأمرنا النبيﷺ أن نصلي عليه في آخر كل صلاة إلى يوم القيامة مجازاة على إحسانه.*

📚 شرح سنن ابی داود: ٢٦٠/٤
ط؛ مكتبة الرشد، الرياض

*نوٹ:*

مزید تفصیل کے لیے ابن القیم رحمه اللّٰه کی کتاب *جلاء الأفهام في فضل الصلاة والسلام على خير الأنام* کے باب ثانی سے فصل خامس *في ذكر إبراهيم خليل الرحمن ﷺ* ضرور ملاحظہ کریں۔

*✒️ ابو عوانہ سید عبد المتين بن سيد منير أحمد*
(طالب؛ كلية الحديث الشريف بنگلور)

١/ذو الحجة/١٤٤٥ه‍
ليلة السبت
07-06-2024

19/11/2025

*دن کی خاموشی اور رات کی ندا، نمازِ پنجگانہ کی روحانی صدا*

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسوله الأمين، أما بعد!

شریعتِ اسلامیہ میں جس کسی چیز کا حکم دیا گیا یا کسی سے روکا گیا اس میں ہمارے لیے خیر ہی خیر ہے، اسکی *حکمت کبھی منصوص اور کبھی پوشیدہ رہتی ہے*۔

*بحر حال!* حکمت معلوم ہوکے نا ہو اگر شریعتِ اسلامیہ میں اسکا حکم آیا ہے تو اسکو بقدرِ استطاعت انجام دینا چاہیے، اگر کسی چیز سے روکا گیا ہے تو اس سے فوری رک جانا چاہیے ۔ ہاں یہ بات ضرور ہے اگر کسی عمل کی حکمت شرعاً وارد ہے یا پھر علماء استخراج کرتے ہیں، اس عمل کو انجام دینے میں فطرتاً زیادہ رغبت محسوس کی جاسکتی ہے۔ اسی لیے علماء ربانیین جنکو ﷲ تعالی علم میں رسوخ ادا کرتا ہے، *بغیر تعسف و تکلف* کے ان پوشیدہ حکمتوں کو ظاہر کرنے کی عظیم کوشش کرتے ہیں۔

*دن کی نمازیں سرّی اور رات کی جہری ہونے میں رب تعالی کی عظیم حکمت*

پنچ وقتہ فرض نمازوں میں دن کی نمازیں (ظہر و عصر) *سرّی* (یعنی ہر انسان اپنے طئیں آہستہ سے تلاوت کرلے گا، سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد *چند آیتوں کی تلاوت بھی خود ہی کرے گا* ) اور رات کی نمازیں (مغرب، عشاء اور فجر) *جہری* (یعنی مقتدی سورۂ فاتحہ پڑھ لینے کے بعد *امام کی تلاوت کو بغور سنے گا*)۔

*غور طلب پہلو!*
ایسا بھی تو ہوسکتا تھا کہ دن کی نمازیں جہری اور رات کی سری ہوجاتی! یا پھر ساری نمازیں سرّی یا جہری ہی ہوجاتی!
*یہ ربِّ حکیم کا حکم ہے،* اس میں یقینا ڈھیر ساری حکمتیں اور فوائد ہیں ۔

*علامہ ابن القیم رحمه الله*، جنکو ﷲ تعالی نے قوتِ فہم کے ساتھ ہی ساتھ استنباط و استخراج کا قوی ملکہ بھی عطاء فرمایا تھا، اسی پوشیدہ حکمت کو ظاہر کرتے ہوۓ لکھتے ہیں؛
دن کی نمازوں میں سراً اور رات کی نمازوں میں جھراً تلاوت کرنے کے اس حکم میں ربِ تعالی کی بڑی حکمتیں ہیں،
دن میں انسان فطرتاً بہت سارے کاموں میں مشغول رہتا ہے، اسکا ذہن منتشر رہتا ہے، ڈھیر ساری ذمہ داریوں سے وہ بوجھل رہتا ہے، اگر *نماز کو حاضر ہوکر اسکو امام کی قراءت سننے کا حکم دے دیا جاتا تو وہ دل جمعی اور پورے خشوع و خضوع سے نہ پڑھ پاتا،* اسی لیے دن کی نمازوں میں اسے بھی مکمل تلاوت کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ جب وہ اپنی زبان سے کلام الہی پڑھنے لگے تو اسکا ذہن؛ تجارت، کھیتی باڑی، کاروبار اور اسکی مختلف مشغولیات ہی میں نہ لٹکا رہے، بلکہ مکمل توجہ کے ساتھ اپنی زبان سے نکلنے والے کلمات پر غور و فکر بھی کرسکے۔ (اور اگر ان نمازوں میں بھی صرف امام کو سننے کا حکم دے دیا جاتا، تو انسان نماز میں حاضر ہوکر بھی کہیں اور سوچتا رہ جاتا)۔

*اب رہی بات جہری نمازوں کی؛*
رات میں سکون و اطمینان غالب رہتا ہے، لوگوں کی چہل پہل، بازاروں کا شور شرابہ، دن کے بانسبت بہت کم رہتا ہے، دن بھر کی تھکان سے وہ چور چور ہوجاتا ہے، انسان اپنے آپ کو اطمینان و سکون کی دنیا میں داخل کرلینا چاہتا ہے، *کچھ بولنے اور کہنے سے زیادہ وہ سننے کو پسند کرتا ہے*۔ تجارت، کاروبار سے وہ فارغ ہوجاتا ہے، دل میں سکون، ذہن میں کسی قسم کی ذمہ داری کا بوجھ نہیں، اسی لیے رات کی ان نمازوں میں امام کو جھراً پڑھنے کا حکم دیا گیا تاکہ *لوگ نماز میں حاضر ہوکر کلام ﷲ کو بغور سن سکیں، تدبر و تفکر کی جو صلاحیت وہ دن کے وقت اپنی تجارت، کاروبار، دنیوی امور میں صرف کررہے تھے اب اسی صلاحیت کو أكمل اور أحسن انداز میں ربِّ رحمن کے کلام کو سمجھنے میں لگا سکے*، اور پوری توجہ سے تدبر و تفکر کی نیت سے قرآن کی تلاوت بغور سن سکے۔

*اب رہی بات نمازِ فجر کی؛*
انسان اپنی دن بھر کی مکمل تھکان دور کرکے جب دوبارہ نشیط ہوکر فجر کے لیے اٹھتا ہے تو اسکے دل و دماغ میں کسی قسم کا بوجھ نہیں رہتا، ذہن مکمل فارغ رہتا ہے، اسی لیے نبی ﷺ ہوں یا خلفاء راشدین جب فجر کی امامت فرماتے تو ساٹھ سے سو (٦٠ - ١٠٠) آیتوں کی لمبی قراءت کرتے تاکہ قرآن مجید کے نزول کا جو مقصدِ حقیقی ( *تدبر* ) ہے اسکے حصول میں کوئی چیز آڑ نہ بن سکے!

*`ابن القیم رحمه الله کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:`*
وأما التفريق بين صلاة الليل وصلاة النهار في الجهر والإسرار، *ففي غاية المناسبة والحكمة*. فإنَّ الليل مظنّةُ هدوء الأصوات، وسكون الحركات، وفراغ القلوب، واجتماع الهمم المشتَّتة بالنهار. فالنهارُ محلُّ السَّبح الطويل بالقلب والبدن، والليلُ محلُّ مواطأةِ القلب للسان، ومواطأةِ اللسان للأذن. ولهذا كانت السنة تطويل قراءة الفجر على سائر الصلوات. وكان رسول الله ﷺ يقرأ فيها بالستِّين إلى المائة ، وكان الصدِّيق يقرأ فيها بالبقرة، وعمر بالنحل وهود وبني إسرائيل ويونس ونحوها من السور؛ لأن القلب أفرغ ما يكون من الشواغل حين انتباهه من النوم، فإذا كان أولَ ما يقرع سمعَه كلامُ الله الذي فيه الخير كلُّه بحذافيره صادفه خاليًا من الشواغل، فتمكَّن فيه من غير مزاحم۔

*فائدہ*
دن کے وقت بعض نمازیں (مثلاً: صلاة الكسوف، عیدین، استسقاء، جمعہ کی نماز وغیرہ) ایسی ہیں جس میں لوگوں کی حاضری بھی زیادہ رہتی ہے لیکن *ان نمازوں کو پھر کیوں جھراً ادا کرنے کا حکم دیا گیا؟*
ان نمازوں میں لوگوں کی کثیر تعداد کا لحاظ کرتے ہوۓ کہ انکو اصل مقصود حاصل ہوجاۓ، قرآن مجید کی تلاوت انکے کانوں سے ٹکرا جاۓ، قرآن کا پیغام اس بڑے مجمع تک بآسانی پہنچ جائے، کلام ﷲ کا پیغام لوگوں کے دل کو دستک دے سکے، اسی مقصد کے حصول کے لیے نبی ﷺ کو بھی بھیجا گیا تھا اور اسی حکمتِ بالغہ کا لحاظ کرتے ہوۓ ان نمازوں کو (دن کے وقت میں ہونے کے باوجود) سراً نہیں بلکہ جھراً فرض کیا گیا!

*`ابن القیم رحمه الله کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:`*
وأما النهار فلما كان بضدِّ ذلك كانت قراءة صلاته سرِّيَّة، إلا إذا عارض ذلك معارضٌ أرجَحُ منه، كالمجامع العظام في العيدين والجمعة والاستسقاء والكسوف، فإن الجهر حينئذ أحسن وأبلغ في تحصيل المقصود، وأنفع للجمع، وفيه من قراءة كلام الله عليهم وتبليغه في المجامع العظام ما هو من أعظم مقاصد الرسالة. والله أعلم۔

📚 (إعلام الموقعين: ٤٤٥/٢) ط: دار عطاءات العلم۔
(تصرف يسير کی ساتھ)

▪️مفسرین کرام رحمهم الله نے ﷲ تعالی کے فرمان: *﴿إِنَّ نَاشِئَةَ ٱلَّیۡلِ هِیَ أَشَدُّ وَطۡـࣰٔا وَأَقۡوَمُ قِیلًا﴾* [المزمل ٦] میں اسی معنی کی وضاحت کی اور مزید بہت مفید نکات بھی قلمبند کیے ہیں، *بطور خلاصہ علامہ عبد الرحمن بن ناصر السعدى رحمه الله* کی عبارت یہاں نقل کردیتا ہوں:
ثم ذكر الحكمة في أمره بقيام الليل، فقال: ﴿إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ﴾ أي: الصلاة فيه بعد النوم ﴿هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا﴾ أي: أقرب إلى تحصيل مقصود القرآن، يتواطأ على القرآن القلب واللسان، وتقل الشواغل، ويفهم ما يقول، ويستقيم له أمره، وهذا بخلاف النهار، فإنه لا يحصل به هذا المقصود.
(📚 تفسير السعدي: ص/٨٩٢)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*✒️ سيد عبد المتين بن سيد منير أحمد محمدى*
٢٢/شعبان/١٤٤٦ه‍ | السبت
22-02-2025
[حرمِ مكی سے]

#الحرمين #ابن‌القيم #الصلاة #الحكمة #السعودية
#السعودي #السعوديه

13/11/2025

*نا فرمانوں سے رب ذو الجلال کا طرزِ گفتگو*

الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد!

رب العالمين نے اس دنیا میں اپنی رحمت کا صرف ایک ہی درجہ نازل فرمایا ہے بقیہ ننانوے (٩٩) درجے اس نے اپنے پاس روکے رکھے ہیں تاکہ *انکے ذریعہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم کرے۔*

صحیح مسلم کی روایت میں أبو هريرة رضي ﷲ عنه نے نبی ﷺ سے روایت بیان کی؛

إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ، أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ، فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ، وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا، *وَأَخَّرَ اللَّهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً، يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ*

( صحیح مسلم : [٦٩٧٤] ١٩ - (٢٧٥٢) )

اس حدیث کے آخر میں نبی ﷺ نے کہا: ﷲ تعالی نے اپنے پاس ننانوے درجے روکے رکھے ہیں تاکہ *انکے ذریعہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے ۔*

اس رحم و کرم کا حقیقی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا *کیونکہ یہ غیب ہونے کے ساتھ ہی ساتھ رب العالمین کی شان ہے ۔*

رب ذو الجلال جو اتنا رحیم و کریم ہے، اپنے بندوں کو انکی اپنی سگی ماں سے بھی زیادہ بڑھ کر رحم کرتا ہے ۔۔۔۔۔ *یہ تمام نعمتیں اور خوشیاں انھیں لوگوں کو نصیب ہوں گی جنکے نامہ اعمال انکے داہنے ہاتھ میں دیے جائیں گیں ۔*

وہیں پر دوسرا گروہ وہ بھی ہوگا جنکو نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گیں اور *حقیقتاً یہی لوگ نامراد اور خسارہ اٹھانے والے ہوں گے ۔*

*ﷲ تعالی کا اپنے بندوں سے گفتگو کرنا*

انسان جس سے جس قدر محبت کرتا ہے اس سے گفتگو کا اتنا ہی شوقین ہوتا ہے، *رب العالمین کی نیک لوگوں سے کفتگو ایک نعمت عظمیٰ ہے تو وہیں پر گناہ گاروں کے لیے یہ کوئی عذاب سے کم نہیں!*

قرآن و حدیث میں نافرمانوں کی ایک سزا یہ بھی بتائی گئی ہے کہ انکو قیامت کے دن ﷲ تعالی بات نہیں کریں گیں اور یہ *انکے لیے یہ بہت بڑا عذاب ہوگا ۔*

*مثلاً دیکھیے
البقرة: ١٧٤ ، آل عمران: ٧٧ .
صحيح البخاري: ٢٣٦٩ ، ٢٦٧٢ .
صحيح مسلم: ١٠٦، ١٠٧، ١٠٨ .

*اور حافظ نووی رحمه اللّٰه نے صحیح مسلم کے كتاب الإيمان کا (٤٦) واں باب ہی اسی عنوان سے قائم کیا؛*
بَابُ بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ إِسْبَالِ الْإِزَارِ وَالْمَنِّ بِالْعَطِيَّةِ وَتَنْفِيقِ السِّلْعَةِ بِالْحَلِفِ، *وَبَيَانِ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ* وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ۔

( صحیح مسلم: کتاب الإيمان باب نمبر ؛ ٤٦)

*نوٹ:*
رب العالمین کا بات نہ کرنے سے مراد جیسا کہ قدیم و جدید شارحین نے لکھا وہ یہی ہے کہ
*رب العالمین انہیں رضامندی کے ساتھ گفتگو نہیں فرمائیں گیں.* ( *ورنہ گفتگو تو سب سے کریں گیں* ) بعض کو *رضامندی* کے ساتھ اور بعض کو *ناراضگی* کے ساتھ ۔

( *رب ذو الجلال کا بات نہ کرنا* ) اسی عذاب کو ﷲ تعالی نے سورة المؤمنون میں نہایت ہی بلیغ اسلوب میں بیان کیا اور فرمایا؛

*﴿قَالَ ٱخۡسَـُٔوا۟ فِیهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾* [المؤمنون ١٠٨]

ﷲ فرماۓ گا پھٹکارے ہوۓ یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو ۔
( *ترجمہ؛* مولانا محمد جوناگڑھی رحمه الله )

*(نافرمانوں سے) رب العالمين کا بات کرنا بھی ایک مستقل عذاب*

ایک بندہ کو جب اخروی زندگی میں کامیابی کا اعلان کردیا جائے تو *اسکے بعد ہونے والا ہر معاملہ اسکے لیے نعمت ہی شمار کیا جاۓ گا ۔*
اسکے بر خلاف اگر کسی کے حق میں ناکامی کا اعلان کردیا جائے *تو اسکے ساتھ ہونے والا ہر معاملہ اسکے لیے عذاب ہی رہے گا ۔*

سورة المؤمنون میں موجود اس سخت اسلوب کی شرح کرتے ہوۓ شیخ *محمد بن صالح العثیمین* رحمه اللّٰه نے لکھا؛

*وَكلامُ الغضبِ ليسَ بشيء بلْ عدمُه خيرٌ مِن وُجُودِه*
رب العالمین کا ( غصے کے ساتھ ) کفتگو یہ ان لوگوں کے لیے اتنا بڑا عذاب ہوگا کہ
اسکے مقابلے، اگر ربِّ رحیم ان سے گفتگو ہی نہ کرتا تو بہتر ہوتا، گفتگو کرنا یہ بھی انکے لیے ایک مستقل عذاب ہوگا ۔
گفتگو کا لہجہ، اسلوب اور جملے اتنے سخت رہیں گیں کہ اسکو سننے کے بعد ایسا احساس ہوگا کہ *کاش رب سے گفتگو ہی نہ ہوتی تو بہتر ہوتا، گفتگو نہ کرنے ہی میں ہمارے لیے خیر تھا.*

( *فتح ذي الجلال والإكرام: ٢٠٨/٦* )

*غور کریں!*

وہ رب کہ جس نے اپنی رحمت کے ننانوے درجے *اپنے بندوں پر رحم کرنے کے لیے ہی روکھ لیے ہیں* اور اسی قیامت کے دن اپنے بعض بندوں سے اتنی سخت گفتگو کررہا ہے تو *اندازہ لگائیے وہ رب اُس دن کتنا غصے میں ہوگا!*

ﷲ تعالی ہم سے راضی ہو اور ہمے پہلے مرحلے میں ہی بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل فرمادے ۔

*أبو عوانة سيد عبد المتين بن سيد منير أحمد*

يوم الأحد
٢٤/رمضان/١٤٤٤ه‍
16-04-2023

30/09/2025

شرعی علم صبر چاہتا ہے اور اسکا عملی نمونہ سلفی علماء نے ہمیشہ سے پیش کیا ہے۔

طالب علم ہو یا معلم، دونوں نے صبر کیا، پھر چاہے؛
١) *شیخ بکر أبو زيد* رحمه الله کی مجلس میں بیٹھنے والے اس طالب کا صبر ہو یا صرف ایک طالب کو پڑھانے کے لیے شیخ ہی کا صبر!

٢) *شیخ سعدی* رحمه الله کی *أصول الفقه* کی مجلس میں حاضر ہونے والے اس ایک طالب کا صبر ہو یا پھر خود علامہ سعدی کا اس ایک طالب کو پڑھانے کے تئیں صبر! جسکو دنیا بعد میں *علامہ ابن عثیمین* رحمه الله کے نام جاننے لگی۔

٣) اور پھر خود شیخ *ابن عثیمین* رحمه الله ہی کیوں نا ہوں! اپنے استاد سے سیکھا ہوا یہ سبق کبھی فراموش نہیں کیا، صبر کیا، دین اسلام کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا، پھر اسکے بعد کبھی قلت و کثرت کی پرواہ نہیں کی، آپ کی مجلس میں حاضر ہونے والے کبھی *چار*، کبھی *دو*، اور کبھی *ایک ہی طالب رہتا!‌*

سلف صالحین کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو ان کے ہاں ایک عام سی بات تھی۔
• *عطاء بن أبي رباح رحمه الله*، انہیں کون نہیں جانتا!؟ امام *ذھبی رحمه الله* نے انکے ترجمہ حیات کا آغاز ہی *الإِمَامُ، شَيْخُ الإِسْلاَمِ، مُفْتِي الحَرَمِ* جیسے القاب سے کیا۔
بنو امیہ کے دور میں جب لاکھوں لوگ حج کے لیے آتے تو باقاعدہ طور پر آواز دی جاتی: *لاَ يُفْتِي النَّاسَ إِلاَّ عَطَاءُ بنُ أَبِي رَبَاحٍ* (احکامِ حج) سے متعلق عطاء بن ابی رباح کے علاوہ کوئی فتوی نہیں دیگا ۔
اور کیوں نہ ہو انہوں نے اپنی زندگی میں ستر (٧٠) سے زیادہ حج کردیے تھے ۔ (السير: ٥/ ٧٨-٨١)
یہ سب محاسن اپنی جگہ، مگر اس جلیل القدر تابعی و عالم دین کے صبر کا اندازہ آپ *امام اوزاعی* رحمه الله کے اس قول سے لگائیے، انہوں نے کہا:
مَاتَ عَطَاءُ بنُ أَبِي رَبَاحٍ يَوْمَ مَاتَ وَهُوَ أَرْضَى أَهْلِ الأَرْضِ عِنْدَ النَّاسِ، *وَمَا كَانَ يَشْهَدُ مَجْلِسَهُ إِلاَّ تِسْعَةٌ أَوْ ثَمَانِيَةٌ.*
عطاء بن ابی رباح تمام لوگوں کے پاس محبوب تھے، بہت بڑے عالم تھے، اسکے باوجود انکی مجلس میں صرف آٹھ سے نو (9-8) لوگ ہی حاضر ہوتے!
(تاريخ دمشق: ٣٩١/٤٠) ط؛ دار الفكر
(سیر أعلام النبلاء: ٨٤/٥)

مكمل تحرير 👇
https://www.facebook.com/share/p/1KYsJX3nCS/

30/09/2025

شرعی علم صبر چاہتا ہے اور اسکا عملی نمونہ سلفی علماء نے ہمیشہ سے پیش کیا ہے۔

طالب علم ہو یا معلم، دونوں نے صبر کیا، پھر چاہے؛
١) *شیخ بکر أبو زيد* رحمه الله کی مجلس میں بیٹھنے والے اس طالب کا صبر ہو یا صرف ایک طالب کو پڑھانے کے لیے شیخ ہی کا صبر!

٢) *شیخ سعدی* رحمه الله کی *أصول الفقه* کی مجلس میں حاضر ہونے والے اس ایک طالب کا صبر ہو یا پھر خود علامہ سعدی کا اس ایک طالب کو پڑھانے کے تئیں صبر! جسکو دنیا بعد میں *علامہ ابن عثیمین* رحمه الله کے نام جاننے لگی۔

٣) اور پھر خود شیخ *ابن عثیمین* رحمه الله ہی کیوں نا ہوں! اپنے استاد سے سیکھا ہوا یہ سبق کبھی فراموش نہیں کیا، صبر کیا، دین اسلام کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا، پھر اسکے بعد کبھی قلت و کثرت کی پرواہ نہیں کی، آپ کی مجلس میں حاضر ہونے والے کبھی *چار*، کبھی *دو*، اور کبھی *ایک ہی طالب رہتا!‌*

سلف صالحین کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو ان کے ہاں ایک عام سی بات تھی۔
• *عطاء بن أبي رباح رحمه الله*، انہیں کون نہیں جانتا!؟ امام *ذھبی رحمه الله* نے انکے ترجمہ حیات کا آغاز ہی *الإِمَامُ، شَيْخُ الإِسْلاَمِ، مُفْتِي الحَرَمِ* جیسے القاب سے کیا۔
بنو امیہ کے دور میں جب لاکھوں لوگ حج کے لیے آتے تو باقاعدہ طور پر آواز دی جاتی: *لاَ يُفْتِي النَّاسَ إِلاَّ عَطَاءُ بنُ أَبِي رَبَاحٍ* (احکامِ حج) سے متعلق عطاء بن ابی رباح کے علاوہ کوئی فتوی نہیں دیگا ۔
اور کیوں نہ ہو انہوں نے اپنی زندگی میں ستر (٧٠) سے زیادہ حج کردیے تھے ۔ (السير: ٥/ ٧٨-٨١)
یہ سب محاسن اپنی جگہ، مگر اس جلیل القدر تابعی و عالم دین کے صبر کا اندازہ آپ *امام اوزاعی* رحمه الله کے اس قول سے لگائیے، انہوں نے کہا:
مَاتَ عَطَاءُ بنُ أَبِي رَبَاحٍ يَوْمَ مَاتَ وَهُوَ أَرْضَى أَهْلِ الأَرْضِ عِنْدَ النَّاسِ، *وَمَا كَانَ يَشْهَدُ مَجْلِسَهُ إِلاَّ تِسْعَةٌ أَوْ ثَمَانِيَةٌ.*
عطاء بن ابی رباح تمام لوگوں کے پاس محبوب تھے، بہت بڑے عالم تھے، اسکے باوجود انکی مجلس میں صرف آٹھ سے نو (9-8) لوگ ہی حاضر ہوتے!
(تاريخ دمشق: ٣٩١/٤٠) ط؛ دار الفكر
(سیر أعلام النبلاء: ٨٤/٥)

• *امام احمد بن حنبل رحمه الله* نے "مسند" تیار کرنے میں کتنی محنت نہیں کی ہوگی، اتنی ضخیم مسند کو سننے کے لیے مجلس میں صرف تین لوگ تھے (حنبل بن اسحاق، صالح اور عبد اللہ رحمهم الله أجمعين)
*خود حنبل بن اسحاق* رحمه الله فرماتے ہیں: *جَمعنا أحمد بن حنبل أنا وصالح وعبد الله وقرا علينا «المسند» وما سمعه منه غيرنا۔*
(مناقب الإمام أحمد: ص/٢٦٢)

• سعودی عرب کے ایک بڑے عالم دین *ابن حبرين رحمه الله*، جب آپ نے تدریس کا آغار کیا تو آپ کے درس میں *صرف ایک غیر سعودی طالب شریک ہوتا تھا۔*

ہاں یہ بات ہے کہ ان علماء کی ابتدائی زندگیوں کی یہ مثالیں ہیں، ورنہ جب انکے علم کا چرچہ ہونے لگا، تو قریب و بعید سے اتنے طلبہ حاضر ہوجاتے کہ وسیع مساجد بھی تنگی کی شکایت کرنے لگ جاتی۔

عزائم بلند رکھنے، اپنے اندر حوصلہ پیدا کرنے کے لیے *عبد الکریم الخضیر* حفظه اللّٰه ومتعه بالصحة والعافية کی ایک بات یہاں نقل کردیتا ہوں، *آپ خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں:*
جب میں نے تدریس کا آغاز کیا تو بہت کم لوگ حاضر ہوتے، یہ تو ایک فطری بات ہے مگر بہت سارے لوگ اسى وجہ سے تدریس سے دور ہوجاتے ہیں کہ انکی مجلس میں زیادہ لوگ حاضر نہیں ہوتے! جبکہ *سب سے زیادہ فائدہ تو خود معلّم اور مدرس کو ہوتا ہے* (جو اتنی تیاری کرکے درس دیتا ہے) اسی لیے میں یہ کہا کرتا تھا: ..... *"هذا الشخص الواحد أنت أحوج له من حاجته إليك، ولو تدفع له مالا"*
وہ ایک شخص جو آپ کی مجلس میں حاضر ہوتا ہے جتنی ضرورت اسکو آپ کی ہے اس سے کہیں زیادہ تو آپ کو اسکی ضرورت ہے (جتنا فائدہ وہ آپ سے حاصل کرتا ہے اس سے کہیں گناہ زیادہ تو آپ اس سے مستفید ہوتے ہو) اسی لیے اگر اسکو *قیمت ادا کرکے بھی مجلس میں حاضر کرانے کی نوبت آئے تو وہ بھی بھی کرلینا!*
آگے فرمایا:
*....لا بد أن يمتحن العالم بقلة العدد، فإن ثبت وعلم الله منه صدق نيته أقبل بالناس عليه*
ﷲ تعالی ایک عالم دین کو ابتداء میں *طلبہ و حاضرین کی قلت* سے آزماتا ہے، اگر وہ صدقِ نیت کے ساتھ ثابت قدم ہوجائے تو پھر لوگ اس سے علم حاصل کرنے کے لیے ٹوٹ پڑیں گیں۔

*محمد بن عبد الوھاب رحمه الله* نے کتاب التوحید کے باب؛ *"من حقق التوحيد دخل الجنة بغير حساب"* میں ایک فائدہ یہ بھی ذکر کیا: *ثمرة هذا العلم، وهو عدم الاغترار بالكثرة، وعدم الزهد في القلة*
اور آپ سے بڑھ کر اسکی گواہی کون دے سکتا ہے جب آپ اکیلے ہی شہرِ *حریملاء* سے دعوتی بیڑا اٹھاۓ نکلے تھے، عيينة پہنچے اسکے بعد شہر *درعية* میں *امام محمد بن سعود* رحمه الله کے ساتھ مل کر جو *توحید کا پودا* آپ نے لگایا وہ آج صرف ایک گھنا درخت ہی نہیں بلکہ پورے *ممملکہ عربیہ سعودیہ* کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔
*رب العالمین سب سے پہلے مجھے اور پھر تمام لوگوں کو شرعی علم کے تعليم و تعلم میں صبر عطاء فرماۓ، اور ہمے دینِ اسلام کا خادم بنائے.* آمین۔

*ٹوٹ:* معاصر علماء کی جو مثالیں میں نے ذکر کی اسکی مصادر تک رسائی نہ ہوسکی، اس لنک میں اسکا ذکر ہے۔
https://share.google/bhpWja73itNVqq9Js

*✒️ سيد عبد المتين بن سيد منير أحمد محمدى*
٥/ربيع الآخر/١٤٤٧ه‍ | ليلة الأحد
27-09-2025

Want your school to be the top-listed School/college in Bangalore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Bangalore
560045