ریاست بنانے کامقصد کیا تھا
ریاست کا تصور سب سے پہلے قدیم یونان سے شروع ہوا۔ جہاں ریاست کیلیۓ "Polls" کا ٹرم استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کا باقاعدہ اور مناسب ٹرم "State" اٹلی کے مڈل ایج میں ہوا۔ امریکی صدر Woodrow Wislon کہتے ہے۔ کہ ریاست ایک متعین علاقہ یا ٹکڑا ہوتا ہے۔ جہاں لوگ قانون کے دائرے کے اندر منظم ہوتے ہیں ۔ اسی طرح ارسطو کہتے ہے۔ کہ ریاست خاندانوں اور دیہاتوں پر مشتمل ایک کمیونٹی ہوتی ہیں۔ جس کا مقصد اچھی اور خودکفیل زندگی ہوتی ہیں۔ جس سے مراد خوشخال اور عزت کی زندگی ہیں۔ نزیر احمد اپنے کتاب "Jurisprudence" میں لکھتے ہے۔ کہ ریاست کا مقصد ہوتا ہے۔ کہ وہ اپنے لوگوں کو ایکسٹرنل اینمی سے تحفظ دے۔ اور ریاست کے اندر خود اچھے, پرامن تعلقات کو برقرار رکھے۔ ریاست کا کام ہوتا ہے۔ کہ وہ ایسی قانون سازی کرے۔ کہ انصاف کا بول بالا ہو۔ ریاست لوگوں کو سستا انصاف فراہم کرے۔ ریاست ایسے ٹیکس لگاۓ۔ جس سے ریونیو جنریٹ ہو۔ اور عوام پر بھی بوجھ نہ پڑے۔ ریونیو ریاست کو اس قابل بناتا ہے ۔ کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کیلیۓ اچھے کام کرسکے۔ عوام کے فائدے کیلیۓ پروجیکٹس شروع کرسکے۔ ریاست کا کام صرف Law and order اور ٹیکس collection نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کا کام فلاح و بہبود کا بھی ہوتا ہے۔ ریاست کا کام ہوتاہے۔ کہ وہ لوگوں کیلیۓ ہسپتال , سکول, مسافر خانے, کالجیز, یونیورسٹیز, تفریحی مقامات ,کھیلوں کی سرگرمیاں , لنگر خانے, free health facilities , پانی کے مسائل , سستی بجلی اور سڑکوں کے مسائل حل کریں۔ ریاست کو چاہیے۔ کہ جو پروجیکٹس پچھلی حکومت نے شروع کیے ہو۔ ان میں تسلسل لاۓ۔ ناکہ ان کو بند کرے۔ ریا ست کو چاہیۓ۔ کہ وہ شہروں کے اندر فری ٹرانسپورٹ کا بندوبست عوام کیلیۓ کرے۔ ریاست کو چاہیۓ۔ کہ وہ ریلوے میں جدت لاۓ ۔ اور عوام کیلیۓ اسے سستا اور مفید بنائیں۔ مظہر الحق اپنے کتاب "Political science theory and practice " میں بیان کرتے ہے۔ کہ ہر انسان کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔ کیونکہ انسان ہی ریاست کو جنم دیتی ہے۔ اگر انسان نہیں۔ تو ریاست ہی نہیں۔ یہ دونوں لازم و ملزوم ہے۔ انسان کو ازادی اور فری موومنٹ کا حق حاصل ہے۔ اپ کسی انسان کی ازادی اور فری موومنٹ پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ ہاں اگر کوئی بندہ کسی مشکوک سرگرمی میں ملوث پایا جاۓ۔ تو وہ الگ بات ہے۔ باقی ہر انسان کو فری موومنٹ کا حق ہے۔
preparation group of NTS PSC FPSC
آج 31 دسمبر
شمس العلماء خواجہ الطاف حسین حالی پانی پتی کا یوم وفات ہے
خواجہ الطاف حسین حالی ، ہندوستان میں ’’اردو‘‘ کے نامورشاعراورنقاد گذرے ہیں۔ حالی 1837ء میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام خواجہ ایزؔو بخش تھا – ابھی 9 سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا، اور کچھ عرصہ بعد ہی اُن کی والدہ کا دماغ ماؤف ہو گیا تو حالی کے بڑے بھائی امدؔاد حسین نے پرورش کی۔ اسلامی دستور کے مطابق پہلے قرآن مجید حفظ کیا۔ بعد ازاں عربی کی تعلیم شروع کی۔ 17 برس کی عمر میں ان کی مرضی کے خلاف شادی کر دی گئی۔ اب انہوں نے دلی کا قصد کیا اور 2 سال تک عربی صرف و نحو اور منطق وغیرہ پڑھتے رہے۔ حالؔی کے بچپن کا زمانہ ہندوستان میں تمدن اور معاشرت کے انتہائی زوال کا دور تھا۔ سلطنتِ مغلیہ جو 300 سال سے اہل ِ ہند خصوصاََ مسلمانوں کی تمدنی زندگی کی مرکز بنی ہوئی تھی، دم توڑ رہی تھی۔ سیاسی انتشار کی وجہ سے جماعت کا شیرازہ بکھر چکا تھا اور انفرادیت کی ہوا چل رہی تھی۔
1856ء میں ہسار کے کلکٹر کے دفتر میں ملازم ہو گئے لیکن 1857ء میں پانی پت آ گئے۔ 3-4 سال بعد جہانگیر آباد کے رئیس مصطفٰی خان شیفؔتہ کے بچوں کے اتالیق مقرر ہوئے۔ نواب صاحب کی صحبت سے مولانا الطاف حسین حالی کی شاعری چمک اٹھی۔ تقریباَ 8 سال مستفید ہوتے رہے۔ پھر دلی آکر مرزا غاؔلب کے شاگرد ہوئے۔ غاؔلب کی وفات پر حالؔی لاہور چلے آئے اور گورنمنٹ بک ڈپو میں ملازمت اختیار کی۔ لاہور میں محمد حسین آزؔاد کے ساتھ مل کر انجمن پنجاب کی بنیاد ڈالی یوں شعر و شاعری کی خدمت کی اور جدید شاعری کی بنیاد ڈالی۔
4 سال لاہور میں رہنے کے بعد دلی چلے گئے اور اینگلو عربک کالج میں معلم ہو گئے۔ وہاں سرسؔید احمد خان سے ملاقات ہوئی اور ان کے خیالات سے متاثر ہوئے۔ اسی دوران1879ء میں ’’مسدس حالؔی‘‘ سر سیؔد کی فرمائش پر لکھی۔ ’’مسدس‘‘ کے بعد الطاف حسین حالی نے اِسی طرز کی اوربہت سی نظمیں لکھیں جن کے سیدھے سادے الفاظ میں انہوں نے فلسفہ، تاریخ، معاشرت اور اخلاق کے ایسے پہلو بیان کیے جن کو نظر انداز کیا جا رہا تھا۔
ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد پانی پت میں سکونت اختیار کی۔ 1904ء میں ’’شمس اللعلماء‘‘ کا خطاب ملا 31 دسمبر 1914ء کو پانی پت میں وفات پائی۔
سرسید جس تحریک کے علمبردار تھے حالی اسی کے نقیب تھے۔ سرسؔید نے اردو نثر کو جو وقار اور اعلیٰ تنقید کے جوہر عطا کیے تھے۔
چار مشہور – فرشتے، کتابیں، خُلفاء، اور اماموں کے نام اور انکے کام
👈چار مشہور آسمانی کتابیں
(1)پہلی آسمانی کتاب تورات ہے: جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔
(۲)دوسری آسمانی کتاب زبور ہے: جو حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی۔
(۳) تیسر ی آسمانی کتاب انجیل ہے: جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی۔
(۴)آخری آسمانی کتاب قرآن مجید ہے: جوہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔
👈چار مشہور فرشتوں کے نام اور کام
(۱) حضرت جبرئیل علیہ السلام جو خدا کے پیغام پیغمبروں کے پاس لاتے تھے۔
(۲) حضرت عزرائیل علیہ السلام جو مخلوق کی جان نکالنے پر مامور ہیں۔
(۳) حضرت میکائیل علیہ السلام جو مخلوق کی روزی پہنچانے کے کام پر مقرر ہیں۔
(۴) حضرت اسرافیل علیہ السلام جو قیامت کے دن صور پھونکنے پر مقرر ہیں۔
👈خلفائے راشدین
(۱) اسلام کے پہلے خلیفہ: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ۔
(۲) اسلام کے دوسرے خلیفہ: حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
(۳) اسلام کے تیسرے خلیفہ: حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ۔
(۴) اسلام کے چوتھے خلیفہ: حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ۔
👈فقہ کے چار مشہور امام
(۱) حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
(۲) حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
(۳) حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ،
(۴) حضرت امام احمد ابن حنبل رحمتہ اللہ علیہ۔
کچھ ضرب المثل اشعار
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
شہیر مچھلی شہری
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے
ثاقب لکھنوی
بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
ثاقب لکھنوی
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
مہتاب رائے تاباں
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
امیر مینائی
قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
میاں داد خان سیاح
لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
علامہ اقبال
قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
مولانا محمد علی جوہر
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں
مرزا غالب
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
کلیم عاجز
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
مرزا غالب
وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے
ظریف لکھنوی
فسانے اپنی محبت کے سچ ہیں، پر کچ کچھ
بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لئے
شیفتہ
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
علامہ اقبال
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فشاں لا الہ الا اللہ
علامہ اقبال
دیارِعشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
علامہ اقبال
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر
اقبال
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
اقبال
اقبال بڑا اپدیشک ہے ، من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا
اقبال
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
علامہ اقبال
ہم نہ کہتے تھے کہ حالی چپ رہو
راست گوئی میں ہے رسوائی بہت
حالی
خلاف شرع کبھی شیخ تھوکتا بھی نہیں
مگر اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں
اکبر الہ آبادی
لگا رہا ہوں مضامینِ نو کے انبار
خبر کرو میرے خرمن کے خوشہ چینوں کو
میر انیس
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
میرتقی میر
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل
سید محمد خاں رند
وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا
پھر اسکے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
مہاراج بہادر برق
رندِ خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
ابراہیم ذوق
آئے بھی لوگ، بیٹھے بھی، اٹھ بھی کھڑے ہوئے
میں جا ہی ڈھونڈتا تیری محفل میں رہ گیا
آتش
وہ شیفتہ کہ دھوم ہے حضرت کے زہد کی
میں کیا کہوں کہ رات مجھے کس کے گھر ملے
شیفتہ
چل ساتھ کہ حسرت دلِ محروم سے نکلے
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
فدوی عظیم آبادی
اب یادِ رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی
یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں
فراق گورکھپوری
داور حشر میرا نامۂ اعمال نہ دیکھہ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
محمد دین تاثیر
فصل بہار آئی، پیو صوفیو شراب
بس ہو چکی نماز، مصلّا اٹھائیے
آتش
مری نمازہ جنازہ پڑھی ہے غیروں نے
مرے تھےجن کے لئے، وہ رہے وضو کرتے
آتش
امید وصل نے دھوکے دئیے ہیں اس قدر حسرت
کہ اس کافر کی ہاں بھی اب نہیں معلوم ہوتی ہے
چراغ حسن حسرت
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آجا اب تو خلوت ہو گئی
عزیز الحسن مجذوب
دی مؤذن نے شب وصل اذاں پچھلی رات
ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا
داغ دہلوی
درم و دام اپنے پاس کہاں
چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں
غالب
چتونوں سے ملتا ہے کچھ سراغ باطن کا
چال سے تو کافر پہ سادگی برستی ہے
یگانہ چنگیزی
دیکھہ کر ہر درو دیوار کو حیراں ہونا
وہ میرا پہلے پہل داخل زنداں ہونا
عزیز لکھنوی
اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن
بھولتا ہی نہیں عالم تیری انگڑائی کا
عزیز لکھنوی
دینا وہ اُس کا ساغرِ مئے یاد ہے نظام
منہ پھیر کر اُدھر کو اِدھر کو بڑھا کے ہاتھہ
نظام رام پوری
گرہ سے کچھ نہیں جاتا ہے پی لے زاہد
ملے جو مفت تو قاضی کو بھی حرام نہیں
امیر مینائی
یہی فرماتے رہے تیغ سے پھیلا اسلام
یہ نہ ارشاد ہوا توپ سے کیا پھیلا ہے
اکبر الہ آبادی
بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
اکبر الہ آبادی
توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
بندہ پرور جائیے اچھا خفا ہو جائیے
حسرت موہانی
تمہیں چاہوں، تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں
مرا دل پھیر دو، مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا
مضطر خیر آبادی
دیکھہ آؤ مریض فرقت کو
رسم دنیا بھی ہے، ثواب بھی ہے
حسن بریلوی
الجھا ہے پائوں یار کا زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
مومن خان مومن
دیکھا کئے وہ مست نگاہوں سے بار بار
جب تک شراب آئے کئی دور ہو گئے
شاد عظیم آبادی
کوچۂ عشق کی راہیں کوئی ہم سے پوچھے
خضر کیا جانیں غریب، اگلے زمانے والے
وزیر علی صبا
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
داغ دہلوی
گو واں نہیں ، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
غالب
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
غالب
غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
غالب
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
غالب
اسی لئے تو قتلِ عاشقاں سے منع کرتے ہیں
اکیلے پھر رہے ہو یوسفِ بے کاررواں ہو کر
خواجہ وزیر
زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں
کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا
ذوق
ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی
مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی
اکبر الہ آبادی
فکر معاش، عشقِ بتاں، یادِ رفتگاں
اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کیا کرے
سودا
یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
اقبال
یہ بزم مئے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھہ میں وہ جام اسی کا ہے
شاد عظیم آبادی
حیات لے کے چلو، کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھہ لے کے چلو
مخدوم محی الدین
صد سالہ دور چرخ تھا ساغر کا ایک دور
نکلے جو مے کدے سے تو دنیا بدل گئی
گستاخ رام پوری
اگر بخشے زہے قسمت نہ بخشے تو شکایت کیا
سر تسلیمِ خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے
میرتقی میر
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
اقبال
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
مرزاغالب
دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی
صوفی غلام مصطفےٰ تبسم
دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا
ناصرکاظمی
نیرنگئ سیاست دوراں تو دیکھئے
منزل انھیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
محسن بھوپالی
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھہ بھول ہوئی ہے
ساغر صدیقی
اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میر
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
میر تقی میر
شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئیے
میر تقی میر
بہت کچھ کہنا ہے کرو میر بس
کہ اللہ بس اور باقی ہوس
میر تقی میر
بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں
مادھو رام فرخ جوہر آبادی
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو
جو تیرے آستاں سے اٹھتا ہے
میر تقی میر
ہم فقیروں سے بے ادائی کیا
آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا
میر تقی میر
سخت کافر تھا جس نے پہلے میر
مذہبِِ عشق احتیار کیا
میر تقی میر
دن کٹا، جس طرح کٹا لیکن
رات کٹتی نظر نہیں آتی
سید محمد اثر
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب
اب جان ہی کے ساتھہ یہ آزار جائے گا
میر تقی میر
میرے سنگ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے، یا استاد
میر تقی میر
سرخ رو ہوتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد
رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ پس جانے کے بعد
سید غلام محمد مست کلکتوی
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانےکس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
ساغر صدیقی
ہشیار یار جانی، یہ دشت ہے ٹھگوں کا
یہاں ٹک نگاہ چوکی اور مال دوستوں کا
نظیر اکبر آبادی
دنیا میں ہوں، دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں، خریدار نہیں ہوں
اکبر الہ آبادی
اے عدم احتیاط لوگوں سے
لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں
عبدالحمید عدم
دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے
سبط علی صبا
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
شعیب بن عزیز
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
خاطر غزنوی
جہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں
ہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں
اقبال ساجد
سیف اندازِ بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
سیف الدین سیف
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
احمد فراز
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ذوق
سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
میر حسن
بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
محبوب خزاں
ایک محبت کافی ہے
باقی عمراضافی ہے
محبوب خزاں
FPSC Lecturer Islamiat test
Today 30 Dec 2023
__________________________
جو جواب آتے ہیں کمنٹ میں لکھتے جائیں۔۔
ولیم میوری کا موضوع تحقیق کیا ہے؟؟
سیرت النبی
پہلی ہجرت حبشہ کے امیر کون تھے؟؟
خبر کی تصدیق کے اصول کس صورت میں بیان ہوئے ہیں؟؟
سورہ الحجرات
سفر طائف میں کتنے سرداروں کو دعوت دین دی گئی؟؟
عیسائی وفد کس علاقے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نو ہجری کو ملنے ایا؟؟
صلح اور مفاہمت کا معاملہ کس صورت میں بیان ہوا ہے؟؟
عقیدہ نروان کس مذہب کا عقیدہ ہے؟؟
بدھ مت
عبداللہ بن اوریقط کس علم کا ماہر تھا؟؟
دور صدیقی میں قران مجید کس رسم الخط میں لکھا گیا؟؟
مکنون سے کیا مراد ہے
گمارا نامی کتاب کس مذہب کی ہے؟؟
اشترا کی نظریہ کو عملی شکل کس نے دی
طریقت اور تصوف میں ایسے جملے جو حد سے متجاوز کر جائیں کیا کہلاتے ہیں
امام رازی نے کس طبقہ پر شدید تنقید و جرح کی؟؟
خوارج پر
دلائی لامہ کا تعلق کس مذہب سے ہے؟؟
بدھ مت
ابو الاسود دولی نے کس علم کی بنیاد رکھی؟؟
صرف و نحو، اعراب
سردی کے موسم میں جو ایات نازل ہوئی کیا کہلاتی ہیں؟؟
دور نبوی میں مدینہ کے کتنے حصے تھے
50-60-77-none of these
زبانوں کے ماہر صحابی کون تھے؟؟
رسالہ فی ادلۃ الاحکام مصنف کا نام کیا ہے؟؟
امام ابو حنیفہ
امام منصور ماتریدی کے ماننے والے زیادہ تر کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں؟؟
نہضة العلماء نامی تحریک کا تعلق کس ملک سے ہے؟؟
معروف تحقیق رسالہ "معارف" کہاں سے شائع ہوتا ہے؟؟
دور نبوی میں بیت المال کی ذمہ داری کس صحابی کے سپرد تھی؟؟
حضرت بلال
عہد صدیقی میں تدوین قران کی رائے کس صحابی نے دی؟؟
حضرت عمر
معاشی اعتدال سے متعلق احکام کی صورت مبارکہ میں بیان ہوئے؟
سورہ البقرہ
عبدالقاہر جرجانی نے کس علم کے متعلق قوانین بنائے؟؟
کس حکمران نے سرکاری سطح پر قران مجید کے ترجمہ کی طرف توجہ کی؟؟
حضرت عمر بن عبدالعزیز
ابو القاسم الزہراوی نے اپنی تحقیق کا موضوع کس علم کو بنایا
لاطینی دینا میں colliget کس مصنف کی کتاب ہے
ابو اسحاق یعقوب الکندی کا تعلق کس علم سے تھا؟
Math
صورۃ الارض کس مصنف کی کتاب ہے
الفوظ الکبیر میں کتنے علوم بیان ہوئے ہیں؟
پانچ علوم
اونٹوں کا قصاص کتنا ہے؟
تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ؟
محاضرات حدیث ۔فقہ محاضرات قران کے مصنف کا نام بتائیں؟
مساکات کی تعریف
تہذیب التہذیب کے مصنف کا نام
مدینہ کے پہلے
تدریس کے 35 طریقے
تدریس کے دو پہلو ہیں:
(1) استاذ مرکوز طریقہ
(2) طالب علم مرکوز طریقہ
پہلے استاذ مرکوز طریقہ تدریس کی زیادہ اہمیت تھی؛ لیکن دور حاضر میں طالب علم مرکوز طریقہ تدریس کو اہمیت حاصل ہے۔ ذیل کی سطروں میں تدریس کے 35 طریقوں کا تعارف پیش کیا جارہا ہے۔
(1) کہانی طریق تدریس(Story Telling Method)
اس میں بچوں کو کہانی سناکر معلومات فراہم کی جاتی ہیں، جو بچوں کی نفسیات سے بہت ہم آہنگ ہوتا ہے۔آئیڈیل شخصیات، سماجی کارکنان، بادشاہوں اور اخلاقیات پر مشتمل قصے کہانیاں زیادہ موثر ہوتی ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد بچوں میں ترغیب اور شوق پیدا کرنا ہوتاہے۔ کہانیوں کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کی قوت فہم اور زبان کے مطابق لکھا جائے۔یہ طریقہ بالعموم 6 سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفید ہوتا ہے۔
خصوصیات
(1) کسی چیز پر فوکس کرنا۔
(2) تصورات میں تخلیقیت۔
(3) ذخیرہ الفاظ میں اضافہ۔
(2) متن تدریس طریقہ (Text Book Method)
اس میں اساتذہ بلند آواز سے کتاب کے متن کو پڑھتے ہیں اور اہم اہم پوائنٹ کی تشریح کرتے ہیں۔ اس میں طالب علموں کو بھی متن پڑھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ متن آسان زبان میں لکھی جائے۔ مضمون کو بچوں کی عمر کے لحاظ سے عام فہم رکھا جائے۔ کتابت، طباعت اور مشمولات میں ایسی چیزیں شامل کی جائیں، جو بچوں کے لیے دل کشی اور تفریح کا ذریعہ بنیں۔
(3) تقریری طریقہ (Lecture Method)
اس طریقے کو چاک اینڈ ٹاک میتھڈ (Chalk & Talk Method) بھی کہا جاتا ہے۔ اس طریقے میں اساتذہ درس گاہ میں زبانی تقریر کے ذریعہ موضوع پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں۔مثالیں دے کر عنوان کو سمجھاتے ہیں۔ اسباق کو سمجھانے کے لیے یہ انتہائی موثر طریقہ ہے۔
خصوصیات
(1) سسٹمیٹک ہونا ضروری ہے۔
(2) منطقی ہونا۔
(3) موثرہونا۔
(4) بڑی تعداد کو پڑھانے کا اچھا طریقہ ہے۔
منفی خصوصیات
(1) بورنگ طریقہ ثابت ہوسکتا ہے۔
(2) سننے کو بڑھاوا دیتا ہے، جو کرکے سیکھنے کے متضاد ہے۔
(3) استاذ مرکوز طریقہ ہے۔
(4) طالب علم کی قوت فہم کو نہیں بڑھاتا ہے۔
(4) مشاہداتی طریقہ (Demonstration Method)
اس میں بنیادی طور پر کسی چیز کو دکھاکر تعلیم دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر دنیا کو سمجھانے کے لیے گلوب ، یا نقشہ دکھایا جائے۔ سائنس اور دیگر علوم کی تعلیم کے لیے یہ طریقہ انتہائی مفید ہے۔ تاہم اس کی کچھ منفی خصوصیات بھی ہیں:
(1) عملی سرگرمیاں بہت کم
28/12/2023
مکہ کے پہلے کاتب وحی: عبداللہ ابن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ
مدینہ کے پہلے کاتبِ وحی: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ
اسلام کے پہلے کاتبِ وحی۔۔۔۔حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ
آخری کاتبِ وحی:. حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Bandipora