Faizan E Ghazi

Faizan E Ghazi Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Faizan E Ghazi, School, Katiya Chauraha Risia to Mirzapur Road, Bahraich.

15/02/2026

Kalam E Tajushshariya | Jakir Ismaily Bahraichi

تحفظ سنیت کے لیے سفر جاریگجرات کے دیہی علاقوں کی حالت تعلیم و تربیت، تہذیب و تمدن اور دنیوی ترقی میں یوپی کے دیہاتی علاق...
09/02/2026

تحفظ سنیت کے لیے سفر جاری
گجرات کے دیہی علاقوں کی حالت تعلیم و تربیت، تہذیب و تمدن اور دنیوی ترقی میں یوپی کے دیہاتی علاقوں سے بھی زیادہ خستہ حالت ہے ۔
پچھلے چار ہفتوں سے ہر جمعہ اور اتوار کو مختلف گاؤں کا تعلیمی دورہ جاری ہے جس کا واحد مقصد تعلیمی بیداری پیدا کرنا اور علم دین سے شناسائی ہے۔
کچھ علاقے تو ایسے ہیں کہ وہاں اگر بقر عید میں دھوراجی سے قربانی کا گوشت نہ بھیجا جائے تو ان کے یہاں گوشت نہ پکے۔ مطلب اتنی زیادہ خستہ حالت ہے کہ انھیں یہ تک نہیں پتہ کہ کس پر قربانی واجب ہے کس پر نہیں ۔ حالاں کہ اچھے اچھے زمین دار اور مال دار لوگ ہیں ۔ یہ سب علم دین سے ناآشنائی کا نتیجہ ہے ۔

دھوراجی سے تقریباً 30 کلو میٹر کا واقعہ ہے جہاں ایک گاؤں میں ایک دیوبندی عالم 15 کلومیٹر دور سے ہر دن بچوں کو پڑھانے کے لیے آرہا ہے۔ نہ آنے جانے کا خرچہ لیتا ہے اور نہ پڑھانے کی اجرت۔ فری میں تعلیم دے رہا ہے ۔ اس گاؤں میں مسجد نہیں ہے صرف ایک چھوٹا سا عبادت خانہ ہے ۔ جہاں لوگ پنج وقتہ نماز ادا کرتے ہیں ۔ اس دیوبندی عالم کا یہ منصوبہ ہے کہ اس رمضان میں وہیں تراویح سنائے گا اور رمضان میں ہی اس گاؤں میں ایک مسجد اور مکتب تعمیر کرے گا ۔

جب سے یہ خبر ملی ہے جامعہ فاطمۃ الزہرا اور سیرانی ٹرسٹ میں بے چینی پائی جارہی ہے ۔ جشنِ ردائے فضیلت و دستارِ حفظ و قراءت کے پروگرام کی وجہ سے اس طرف مکمل توجہ نہیں ہو پا رہی تھی لیکن جیسے ہی کل جلسہ سے فارغ ہوئے ہیں تو آج ہی ہمارے ناظم صاحب نے مجھ سے کہا کہ حضرت! آپ سنی مسجد کا آفر لے کر ان کے پاس جائیں اور انھیں سمجھائیں اور اپنی مسجد بنانے کا راستہ ہموار کریں ۔ کسی بھی شرط پر دیوبندی/ تبلیغی جماعت کی مسجد نہ بننے پائے ۔

الحمدللہ! عصر کے وقت ہمارا چھوٹا سا قافلہ روانہ ہوا ہے جس میں دو مفتی ، ایک عالم ، ایک سید صاحب ، ایک پولیس افسر ، ایک وکیل اور تین چار بزنس مین دیندار حضرات شامل ہیں ۔ مقصد یہی ہے کہ دیوبندی منصوبے کو ناکام بنایا جائے اور حتی الامکان مسجد نہ بننے دیا جائے اور گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں سنیت کو فروغ حاصل ہو۔

آپ حضرات سفر کی کامیابی کی دعا فرمائیں ۔

✍️ انور رضا مصباحی
خادم التدریس والافتا جامعہ فاطمۃ الزہرا دھوراجی
9/ فروری 2026

04/02/2026

Nikaali Hai to aane walon Ki Hasrat nikali hai

03/02/2026

Huzoor M***i Azam Hind ki Bargah Mein padha Gaya Kalam aap khade ho gaye

تذکرہ حضرت اُوَیۡس قرنی رضی اللّٰه عنہقسط .۲(1)حالات و مناقب(2)یمن کی جانب سے رحمت کی ہَوا(3)قیامت کے دن ستر ہزار ملائکہ...
03/02/2026

تذکرہ حضرت اُوَیۡس قرنی رضی اللّٰه عنہ
قسط .۲
(1)حالات و مناقب

(2)یمن کی جانب سے رحمت کی ہَوا

(3)قیامت کے دن ستر ہزار ملائکہ آپ کے مانند

(4)آپ کی شفاعت سے قبیلہ ربیعہ و مضر کی بھیڑوں کے بال کے برابر گناہگاروں کو بخش دیا جاۓ گا
(1)
حالات و مناقب:

حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اویس احسان و مہربانی کے اعتبار سے بہترین تابعین میں سے ہے.
(تذکرۃ الاولیاء صفحہ:11)
جس کی تعریف حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمادیں اس کی شان کتنی بلند ہوگی ۔
(2)
یمن کی جانب سے رحمت کی ہَوا:

بعض اوقات جانبِ یمن روۓِمبارک کر کےحضور صلّی اللہ علیہ وسلّم فرمایا کرتے تھے کہ ”مَیں یمن کی جانب سے رحمت کی ہَوا آتی ہوئی پاتا ہوں ۔
(تذکرۃ الاولیاء صفحہ 11)
(3)
اوصاف:

(۱)حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:"قیامت کے دن ستر ہزار(٧٠,٠٠٠)ملائکہ کے آگے جواویس قرنی کے مانند ہوں گے اویس کو جنت میں داخل کیا جاۓ گا تاکہ مخلوق ان کو شناخت نہ کر سکےسواۓِ اس شخص کے جس کو اللّٰه پاک ان کے دیدار سے مشرف کرنا چاہے اس لئے کہ آپ نے خلوت نشین ہو کر اور مخلوق سے روپوشی اختیار کرکے محض اس لئے عبادت وریاضت اختیار کی کہ دنیا آپ کو بر گزیدہ تصور نہ کرے اور اس مصلحت کے پیشِ نظر قیامت کے دن آپ کی پردہ داری قائم رکھی جاۓ گی۔ "
(تذکرۃ الاولیاء صفحہ 11)
(4)
(۲)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایک ایسا شخص ہے جس کی شفاعت سے قبیلہ ربیعہ و مضر کی بھیڑوں کے بال کے برابر گناہگاروں کو بخش دیا جاۓ گا۔(ربیعہ و مضر دو قبیلے ہیں جن میں بکثرت بھيڑيں پائی جاتی تھیں)اور جب صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وہ کون شخص ہے اور کہاں مقیم ہے ؟ تو آپ نے فرمایاکہ اللہ پاک کا ایک بندہ ہے ۔ پھر صحابہ کےاصرار کے بعد فرمایا کہ وہ اویس قرنی ہے۔
جب صحابہ کرام نے پوچھا کہ کیا وہ کبھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی نہیں لیکن چشم ظاہری کے بجاۓ چشمِ باطنی سے اس کو میرے دیدار کی سعادت حاصل ہےاور مجھ تک نہ پہنچنے کی دو وجوہ ہیں۔
اول غلبہ حال۔
دوم تعظیمِ شریعت
کیونکہ اس کی والدہ مومنہ بھی ہیں اور ضعیف و نابینا بھی اور اُوَیۡسۡ شتربانی کے ذریعہ ان کے لئے معاش حاصل کرتا ہے ۔
پھر جب صحابہ نے پوچھا کہ کیا ہم ان سے شرف نیاز حاصل کر سکتے ہیں ۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”نہیں“ البتہ عمر و علی (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما) سے ان کی ملاقات ہوگی اور ان کی شناخت یہ ہے کہ پورے جسم پر بال ہیں اور ہتھیلی کے بائیں پہلو پر ایک درہم کے برابر سفید رنگ کا داغ ہے لیکن وہ برص کا داغ نہیں ۔
(تذکرۃ الاولیاء صفحہ 11 -12)

حضور صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم کا علمِ غیب

۱)قبیلہ ربیعہ و مضر کے بھیڑوں کے بالوں کی تعداد کا بھی علم ہے،قیامت کے دن اتنی تعداد میں شفاعت کروائیں گے

۲)قرن کے رہنے والے ہیں

۳)والدہ مومنہ،ضعیف،نابیناہیں

۴)شتر بانی ذریعہ معاش ہے

۵)سیدنا حضرت عمر و سیدنا حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما دیکھ سکیں گے

۶)جسم پر بال ہیں،ہتھیلی کے بائیں پہلو پر درہم کےبرابر سفید رنگ کا داغ ہے یہ شناخت ہے ۔

طالبِ دعا:-
اسیر تاج الشریعہ
عبد الوحید قادری
امن نگر بلگام کرناٹک

نوٹ:-
ٹائپنگ(لکھنے)میں اگر کوئی غلطی پائیں تو فورًا مطّلع فرمائیں نوازش ہوگی

اَمِیْرُ الْمُؤمنین مولا علی  رَضِیَ اللہُ عنہ  سے روایت ہے ،  نبئ کریم ، رَءُوْف رَّحیم  صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ...
02/02/2026

اَمِیْرُ الْمُؤمنین مولا علی رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے ، نبئ کریم ، رَءُوْف رَّحیم صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظیم ہے : جب 15 شعبان کی رات آئے تو اس میں قیام (یعنی عِبَادت) کرو اور دِن میں روزہ رکھو!
اِبْنِ ماجہ ، جلد : 2 ، صفحہ : 160 ، حدیث : 1388۔

طلاق پہلا راستہ نہیں:اسلام نے انسانی معاشرے کی بنیاد جس ادارے پر رکھی ہے وہ خاندان ہے، اور خاندان کی بنیاد نکاح پر قائم ...
01/02/2026

طلاق پہلا راستہ نہیں:
اسلام نے انسانی معاشرے کی بنیاد جس ادارے پر رکھی ہے وہ خاندان ہے، اور خاندان کی بنیاد نکاح پر قائم ہے۔ نکاح اسلام میں محض ایک قانونی معاہدہ نہیں بلکہ ایک ایسا مقدس اور پائیدار رشتہ ہے جو انسان کی فطری، نفسیاتی اور سماجی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ قرآنِ مجید نے ازدواجی زندگی کو محض باہمی تعلق تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سکونِ قلب، محبت اور رحمت کا سرچشمہ قرار دیا، تاکہ انسان یہ سمجھے کہ نکاح وقتی جذبات یا وقتی مفادات کا نام نہیں بلکہ پوری زندگی کا ایک ذمہ دارانہ سفر ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً، یعنی اللہ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم ہی میں سے تمہارے لیے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ اس آیت کی تشریح میں مفسرین نے واضح کیا ہے کہ ازدواجی تعلق کا اصل مقصد سکون ہے، اور سکون اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب تعلق صبر، برداشت اور باہمی احترام پر قائم ہو۔
اسلام چونکہ دینِ فطرت ہے، اس لیے وہ یہ حقیقت تسلیم کرتا ہے کہ انسانوں کے مزاج مختلف ہوتے ہیں اور ازدواجی زندگی میں اختلاف کا پیدا ہونا بعید نہیں، مگر شریعت نے اختلاف کو رشتہ توڑنے کی بنیاد نہیں بنایا بلکہ اس کے حل کے لیے تدریجی اور حکیمانہ طریقے مقرر کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں طلاق کو کبھی بھی پہلا راستہ قرار نہیں دیا گیا بلکہ اسے آخری مجبوری کے طور پر رکھا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللّٰهِ الطَّلَاقُ، یعنی اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔ اس حدیث کا مفہوم یہ نہیں کہ طلاق حرام ہے، بلکہ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ شریعت کا مزاج طلاق کی طرف رغبت دلانا نہیں بلکہ حتی الامکان اس سے بچانا ہے، کیونکہ طلاق کے اثرات صرف میاں بیوی تک محدود نہیں رہتے بلکہ اولاد، خاندان اور پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔
اسی مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے قرآنِ مجید سب سے پہلے شوہر کو حسنِ معاشرت کا پابند بناتا ہے اور حکم دیتا ہے: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، یعنی بیویوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔ اس آیت کی تشریح میں فقہاء اور مفسرین نے لکھا ہے کہ معروف سے مراد وہ تمام رویے ہیں جو شریعت، اخلاق اور عرف کے مطابق ہوں، خواہ طبیعت ان پر آمادہ ہو یا نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معمولی ناچاقی، وقتی غصہ یا پسند و ناپسند کا فرق طلاق کا جواز نہیں بن سکتا۔
اگر اس حسنِ سلوک کے باوجود اختلاف شدت اختیار کر جائے تو قرآن فوراً طلاق کا حکم نہیں دیتا بلکہ اصلاح کے مراحل بتاتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ، یعنی جن عورتوں کی نافرمانی کا اندیشہ ہو انہیں نصیحت کرو اور پھر بستروں میں ان سے علیحدگی اختیار کرو۔ اس آیت میں شریعت نے واضح کر دیا کہ پہلے مرحلے میں گفتگو، سمجھانا اور نصیحت ہے، اور دوسرے مرحلے میں وقتی علیحدگی ہے، تاکہ جذبات ٹھنڈے ہوں اور عقل کو فیصلہ کرنے کا موقع ملے۔ یہاں بھی طلاق کا ذکر نہیں، بلکہ اصلاح کی تاکید ہے۔
اگر معاملہ اس حد تک پہنچ جائے کہ میاں بیوی خود مسئلہ حل نہ کر سکیں تو اسلام اسے خاندانی اور سماجی سطح پر لے جاتا ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا، یعنی ایک حکم مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے مقرر کرو۔ اس آیت کی روح یہ ہے کہ طلاق جیسا فیصلہ فرد کے غصے یا انا پر نہیں بلکہ سنجیدہ مشاورت اور خیر خواہی پر ہونا چاہیے، تاکہ حتی الامکان رشتہ باقی رہ سکے۔
فقہِ حنفی نے انہی قرآنی اصولوں کو بنیاد بنا کر طلاق کے احکام مرتب کیے ہیں۔ چنانچہ فقہِ حنفی میں سب سے بہتر طریقہ طلاقِ احسن کو قرار دیا گیا ہے، جس میں شوہر ایک طلاق دیتا ہے اور عدت کے دوران رجوع کا پورا حق باقی رہتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شریعت شوہر کو سوچنے، ندامت اور اصلاح کا وقت دینا چاہتی ہے، نہ کہ ایک لمحے کے غصے میں پوری زندگی کا فیصلہ کروا دے۔ اس کے برخلاف ایک ساتھ تین طلاقیں دینا اگرچہ فقہِ حنفی میں واقع ہو جاتی ہیں، مگر فقہاء نے اسے بدعت، گناہ اور شریعت کی منشا کے خلاف قرار دیا ہے، کیونکہ اس میں اصلاح اور رجوع کے تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ شریعت کے اس حکیمانہ نظام سے دور ہو چکا ہے۔ معمولی گھریلو جھگڑے، معاشی دباؤ، انا کی کشمکش اور جذباتی ناپختگی کی بنا پر طلاق کو آسان راستہ سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ یہ عمل اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے اور اس کے نتائج نسلوں تک بھگتے جاتے ہیں۔ اگر قرآن و سنت کی بتائی ہوئی تدابیر کو صحیح معنوں میں اپنایا جائے، اور یہ شعور عام کیا جائے کہ طلاق فرسٹ آپشن نہیں بلکہ آخری چارۂ کار ہے، تو معاشرے میں طلاق کی یہ بھرمار خود بخود کم ہو سکتی ہے۔
آخر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی شریعت کا اصل مقصد رشتے توڑنا نہیں بلکہ انہیں بچانا ہے۔ طلاق کی اجازت شریعت کی وسعت اور حکمت کی دلیل ہے، مگر اس کا غلط اور جلد باز استعمال شریعت کی روح کے خلاف ہے۔ اگر ہم قرآن، حدیث اور فقہِ حنفی کی ان تعلیمات کو سنجیدگی سے اپنالیں تو ہمارا خاندانی نظام دوبارہ استحکام، سکون اور رحمت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

مفتی انیس الرحمٰن حنفی رضوی بہرائچ شریف استاذ و ناظم تعلیمات جامعہ خوشتر رضائے فاطمہ گرلس اسکول سوار ضلع رامپور یوپی

Duniya Ki Haqeeqat: Sayyad Salar Masood Ghazi, Duniya ki Lajjaten khatm, Best Speech, M***i Furkan Raza Manzri Ki Takrir...
01/02/2026

Duniya Ki Haqeeqat: Sayyad Salar Masood Ghazi, Duniya ki Lajjaten khatm, Best Speech, M***i Furkan Raza Manzri Ki Takrir

Best Islahi Bayan: Duniya Fani Hai | M***i Furkan Raza Manzri New Takrir 2024
Auliya Allah Ki Azmat Aur Duniya Ki Haqeeqat
Sayyad Salar Masood Ghazi
M***i Furkan Raza
Video Description:
Assalamu Alaikum Wa Rahmatullahi Wa Barakatuhu,
Is video mein M***i Furkan Raza Manzri Sahab ne bahut hi pyare aur naseehat-amez andaaz mein "Duniya Ki Lajjaten Aur Uska Khatma" par roshni dali hai. Saath hi, Hazrat Sayyad Salar Masood Ghazi (Rehmatullah Alaih) ki azmat aur Auliya Ikram ki mohabbat ke talluq se behtarin guftgu farmayi hai.
Agar aap apni zindagi mein sukoon aur islahi raah talash kar rahe hain, to is takrir ko pura zaroor sunein. Auliya Allah ki bargah mein aqeedat aur duniya ki fani lazzaton se bachne ka behtarin dars is bayan mein maujood hai.
Key Topics Covered:
Sayyad Salar Masood Ghazi Ki Hayat-e-Tayyaba.
Duniya ki lazzaten aur maut ki haqeeqat.
Auliya Ikram se mohabbat kyun zaroori hai?
Islahi Bayan for youth and elders.
Video Highlights: - Hamd-o-Naat aur Shuruat - Sayyad Salar Masood Ghazi Ka Zikr - Duniya Ki Lajjaten Aur Insaan - Auliya Ki Azmat Aur Unki Karamat
Video pasand aaye to Like karein, Share karein aur channel ko Subscribe karna na bhoolein.
***iFurkanRaza

Sayyad Salar Masood Ghazi
M***i Furkan Raza Manzri
Best Islahi Bayan
Duniya ki lajjaten khatm
New Takrir 2024
Auliya Ikram ki Azmat
Hazrat Salar Masood Ghazi Status
M***i Furkan Raza New Bayan
Islamic Speech Hindi, Nasihat Bhari Takrir
Sufism, Karamat-e-Auliya
Bahraich Sharif Dargah
Deeni Malumat
Emotional Bayan

Hazrat Sayyad Salar Masood Ghazi ki dargah ki photo aur M***i Sahab ki tasveer ke saath "Duniya Ki Lajjaten Khatm" bade alphabets mein likhein.

Duniya Ki Haqeeqat: Sayyad Salar Masood Ghazi, Duniya ki Lajjaten khatm, Best Speech, M***i Furkan Raza Manzri Ki TakrirBest Islahi Bayan: Duniya Fani Hai | ...

شبِ براءت (پندرہ شعبان المعظم کی رات)کے فضائل(1)شبِ براءت کی رات اللہ تعالٰی کی طرف سے قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی ت...
31/01/2026

شبِ براءت (پندرہ شعبان المعظم کی رات)کے فضائل
(1)شبِ براءت کی رات اللہ تعالٰی کی طرف سے قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد کے برابر لوگ جہنم سے آزاد ہوتے ہیں

(2)دعا مقبول ہونے کی پانچ مخصوص راتیں

(3)اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام۔
(پارہ ۲۵سورۃ الدخان آیت٤)

(4)شب براءت کے چند نام اور اس رات میں چوں کہ گنہگاروں کی مغفرت اور مجرموں کی براءت ہوتی ہے ، اس لیے اس کو شب براءت کہتے ہیں

(5)شعبان کی پندرہویں رات آ جائے تو اس رات کو قیام کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو
کہ اللّٰہ تعالٰی غروبِ آفتاب سے آسمانِ دنیا پر خاص تجلّی فرماتا ہے

(6)دوزخ سے امان

(7)شبِ براءت کی رات فیصلے
(1)
طویل حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا بیان فرماتی ہیں
کہ حضور صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم نے(اس رات مجھ سے) فرمایا:
((يَا حُمَيۡرَاءُ، أَمَا تَعۡلَمِيۡنَ أَنَّ هٰذِهِ اللَّيۡلَةَ لَيۡلَةُ النِِّصۡفِ مِنۡ شَعۡبَانَ؟ إِنَّ لِلّٰهِ فِيۡ هٰذِهِ اللَّيۡلَةِ عُتَقَاءَ مِنَ النَّارِ بِقَدۡرِ شَعۡرِ غَنَمِ كَلۡبٍ، قُلۡتُ: يَا رَسُوۡلَ اللّٰهِ وَمَا بَالُ شَعۡرِ غَنَمِ كَلۡبٍ؟ قَالَ: لَمۡ يَكُنۡ فِي الۡعَرَبِ قَبِيۡلَةُ قَوۡمٍ أَكۡبَرُ غَنَمًا مِنۡهُمۡ، لَا أَقُوۡلُ سِتَّةُ نَفَرٍ: مُدۡمِنُ خَمۡرٍ، وَلَا عَاقٌّ لِوَالِدَيۡهِ، وَلَا مُصِرٌّ عَلٰى زِنًا، وَلَا مُصَارِمٌ، وَلَا مُصَوِِّرٌ، وَلَا قَتَّاتٌ))
یعنی’’اے حمیراء! کیا تم جانتی ہو کہ یہ رات شعبان کی پندرہویں رات ہے،
اِس رات اللہ تعالٰی کی طرف سے قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد کے برابر لوگ جہنم سے آزاد ہوتے ہیں
میں نے عرض کیا: یا رسولَ اللہ ! صلّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کا کیا معاملہ ہے؟
حضور صلّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: عرب میں کسی قبیلہ کے پاس ان کی بکریوں سے زیادہ تعداد میں بکریاں نہیں ہیں ۔
تاہم چھ(٦)لوگوں کے لیے (میں بخشش کی یہ خوشخبری) نہیں دے رہا:
(١)شرابی،
(٢)والدین کے نافرمان،
(٣)بدکاری پر اصرار کرنے والے،
(٤)قطع تعلق کرنے والے،
(٥)مُصَوِِّر(جاندار کی تصویر بنانے والا)،
(٦)چغل خور ۔‘‘
(بیہقی، فضائل الأوقات/۱۲۹، رقم/۷۲)
فائدہ:
بنی کلب، ربیع اور مضر۔ عرب میں یہ تین قبیلے تھے۔ ان کے یہاں بکریاں بکثرت تھیں، کہتے ہیں کہ ہر ایک قبیلے کے پاس تیس ہزار(٣٠,٠٠٠)سے کم بَکریاں نہ تھیں۔ اسی لیےحضورِ اقدس صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم نے ان قبیلوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔
(منیر الایمان فی فضائلِ شعبان شبِ برات کے فضائل و معمولات صفحہ،٦٩)
(2)
دعا مقبول ہونے کی پانچ مخصوص راتیں:

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ پانچ راتوں میں دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔
(۱) جمعہ کی رات
(۲) پہلی رجب کی رات
(۳) شبِ براءت
(۴) شبِ قدر
(۵) عید و بقر عید کی رات ۔
(مصنف عبد الرزاق ٤ / ۳۱۷ ، دارالكتب العلمية، بيروت،
نور الإيضاح مع مراقى الفلاح، ص : ٢٠٦، المدينة العلمية، پاکستان)
(3)
قرآن مجید

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍ()اَمْرًا مِِّنْ عِنْدِنَا-اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ()

ترجمۂِ کنز الایمان

اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام۔ ہمارے پاس کے حکم سے بیشک ہم بھیجنے والے ہیں ۔
(پارہ ٢٥سورۃ الدخان آیت٤-٥)
تفسیر صراط الجنان

[فِیْهَا یُفْرَقُ: اس رات میں بانٹ دیا جاتا ہے۔]
اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس برکت والی رات میں سال بھر میں ہونے والاہر حکمت والا کام جیسے رزق،زندگی،موت اور دیگر احکام ان فرشتوں کے درمیان بانٹ دئیے جاتے ہیں جو انہیں سرا نجام دیتے ہیں اور یہ تقسیم ہمارے حکم سے ہوتی ہے ۔بیشک ہم ہی رسولُ اللہ (صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم) اوران سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کو بھیجنے والے ہیں ۔
(تفسیرِ جلالین، الدخان، تحت الآیۃ: ۴-۵، ص۴۱۰،
تفسیرِروح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۴-۵، ۸ / ۴۰۴)
یاد رہے کہ کئی احادیث میں بیان ہوا ہے کہ پندرہ(۱۵)شعبان کی رات لوگوں کے اُمور کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے، جیسا کہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں ، نبی کریم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا:’’ کیا تم جانتی ہو اس رات یعنی پندرہویں شعبان میں کیا ہے؟
میں نے عرض کی :یا رسولَ اللہ! صلّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم، اس میں کیا ہے؟
ارشاد فرمایا’’
اس رات میں اس سال پیدا ہونے والے تمام بچے لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس سال مرنے والے سارے انسان لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس رات میں ان کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور ان کے رزق اُتارے جاتے ہیں۔‘‘
(مشکٰوۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، باب قیام شہر رمضان ، الفصل الثالث، ۱ / ۲۵۴)
(4)
شب براءت کے نام:

ليلة الرحمۃ، رحمت والی رات
ليلة مباركة، برکت والی رات
ليلة البراءة، نجات والی رات
ليلة القسمة
ليلة الإجابة،
ليلة الشفاعة،
ليلة عيد الملائكة،
ليلةالصّك،(نجات کاپروانہ) ملنےوالی رات
ليلة الجائزة،
ليلة الغفران،
ليلة المغفرة،
ليلة العتق من النيران -
(فضائلِ شعبان و شب برات صفحہ٣١،
منیر الایمان فی فضائلِ شعبان شبِ برات کے فضائل و معمولات صفحہ،٤٨)
"ليلة البراءة“ یعنی شبِ براءت۔ براءت کے لغوی معنی "بری ہونے“ کے ہیں۔
اس رات میں چوں کہ گنہگاروں کی مغفرت اور مجرموں کی براءت ہوتی ہے ، اس لیے اس کو شب براءت کہتے ہیں۔
(تفسیرِروح البیان١١٠/١٣)
(5)
شبِ براءت کی فضیلت:

((عَنۡ عَلِى رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسـلـم قـَالَ إِذَا كَانَتۡ لَيۡلَة النِِّصۡفِ مِنۡ شَعۡبَانَ فَقُوۡمُوۡا لَيۡلَهَاوَصُوۡمُوۡا نَهَارَهَا فَإِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتـَعَـالـٰى يَـنـۡزِلُ فِيۡهَا لِغُرُوۡبِ الشَّمۡسِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنۡيَا فَيَقُوۡلُ: "أَلَا مِنۡ مُسۡتَغۡفِرٍ فَأَغۡفِرَلَهٗ ،أَلَا مِنۡ مُسۡتَرۡزِقٍ فَأَرۡزُقَهٗ ،أَلَامِنۡ مُبۡتلًى فَأَعَافِيَهٗ ، أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتّٰى يَطۡلُعَ الۡفَجۡر))
(الترغیب :،٥٢,٢ - ۱۲۰،
ابن ماجه ۱۰۰، فی صوم شعبان،
مشكٰوۃ ص ۱۱۵)
حضرت مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے،
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جب شعبان کی پندرہویں رات آ جائے تو اس رات کو قیام کرو( یعنی نماز وعبادت میں گزارو )
اور اس کے دن میں روزہ رکھو
کہ رب تبارک وتعالٰی غروبِ آفتاب سے آسمانِ دنیا پر خاص تجلّی فرماتا ہے
اوراعلان فرماتا ہے کہ ہے کوئی بخشش چاہنے والا کہ اسے بخش دوں،
ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کہ اسے روزی دوں،
ہے کوئی مبتلا کہ اسے عافیت دوں،
ہے کوئی ایسا،
ہے کوئی ایسا
اوریہ اس وقت تک فرماتا ہےکہ فجر طلوع ہو جاۓ ۔
(بہارِ شریعت: ۵/ ۱۳۸)
(6)
دوزخ سے امان:

(۱)ایک حدیث میں ہے کہ
نبی اکرم صلّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ شبِ براءت کی عزت و حرمت کرو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مکرم و معظم کیا ہے تو جو شخص دوزخ سےامان چاہے ، وہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔
(منير الایمان فی فضائلِ شعبان شبِ برات کے فضائل و معمولات صفحہ۷۲)

(۲)مفسر قرآن حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے یہ واقعہ نقل فرمایا ہے کہ:
((إن عمر بن عبد العزيز لما رفع راسه من صلوته ليلة النصف من شعبان وجد رقعة خضراء قد اتصل نورها بالسماء مكتوب فيها هذا براءة من النار من الملك العزيز لعبده عمر بن عبد العزيز))
ترجمہ: پندرہویں شعبان (شبِ براءت) کو جب حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ سامنے ایک سبز رقعہ پڑا ہے اور نور سے جگمگا رہا ہے۔ اس رقعہ میں لکھا ہوا تھا ” یہ اللہ رب العزت کی جانب سے عمر بن عبدالعزیز(رحمۃاللہ تعالٰی علیہ)کے لیے جہنم سے امن وامان اور دوزخ سے آزادی کا پروانہ ہے۔
(تفسير روح البيان، ٤٠٢/٨ ، ٤٠٣ ، دار احياء التراث العربي، بيروت)
(7)
شبِ برات کی رات فیصلے:

ابن ابی الدنیا حضرت عطاء بن یسار سے روایت کرتے ہیں
((قال: إذا كانت ليلة النصف من شعبان دفع إلى ملك الموت صحيفة فيقال: اقبض من في هذه الصحيفة، فإن العبد ليغرس الغراس، وينكح الأزواج، ويبني البنيان، وإن اسمه قد نسخ في المؤتى))
’’جب نصف شعبان کی رات آتی ہے تواللہ تعالٰی کی طرف سے ملک الموت کو ایک فہرست دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ جن لوگوں کا نام اس فہرست میں درج ہے، ان کی روحوں کو قبض کر لے،
کوئی بندہ تو باغوں کے درخت لگا رہا ہوتا ہے، کوئی شادی کر رہا ہوتا ہے، کوئی تعمیر میں مصروف ہوتا ہے، حالانکہ اس کا نام مُردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے ۔‘‘[۱]
حضرت عطاء بن یسار ہی روایت کرتے ہیں:
”جب نصف شعبان کی رات آتی ہے تو ملک الموت کو ایک صحیفہ دیا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: اس صحیفہ کو تھام لو، ایک بندہ بستر پر لیٹا ہوگا اور بیویوں سے نکاح کرےگا اور گھر بناۓگا اور اس کا نام مُردوں میں لکھا جا چکا ہو گا۔“[٢]
امام الدینوری نےراشد بن سعد سے روایت کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلّم نے نصف شعبان کی رات کے متعلق فرمایا: ’’اللہ تعالٰی اس سال جس بندہ کی روح قبض کرنا چاہتا ہے ملک الموت کو اس رات اس کی روح قبض کرنے کا حکم دیتا ہے۔‘‘[٣]
امام ابن جریر طبری (م ۳۱۰ھ) اپنی سند کے ساتھ
حضرت عکرمہ رضی اللّٰه عنه سے روایت کرتے ہیں:
((قال: في ليلة النصف من شعبان يبرم فيه أمر السنة وتنسخ الأحياء من الأموات ويكتب الحاج فلا يزاد فيهم أحد ولا ينقص منهم أحد. [٤]
فرمایا: یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے،اس میں ایک سال کا حال لکھ دیا جاتا ہے۔ اورزندوں کا نام مُردوں سے بدل دیا جاتا ہے۔ اور حج کرنے والوں کا نام لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر (سال بھر)اس میں کمی ہوتی ہے نہ کوئی اضافہ ہوتا ہے ۔‘‘
(۱)ابنِ رجب حنبلی،لطائف المعارف
صفحہ،١٤٠
غزالی،احیاء علوم ال جلد٤ صفحه،٤٦٨
سیوطی،شرح الصدور صفحه،٦٠
(۲)سیوطی،الدر المنثور، ۴۰۲/۷
(۳)سیوطی،الدر المنثور، ۴۰۱/۷
(٤)طبری،جامع البیان، ۱۰۹/۲۵)
طالبِ دعا:-
اسیر تاج الشریعہ
عبد الوحید قادری
امن نگر بلگام کرناٹک

نوٹ:-
ٹائپنگ(لکھنے)میں اگر کوئی غلطی پائیں تو فورًا مطّلع فرمائیں نوازش ہوگی

شب برات کے تعلق سے ایک تمیل بنا کر کے دیجیے تو تحریر میں ہے

31/01/2026

رحمت پہ ان آنکھیں

بغداد کے مشہور شراب خانے کے دروازے پر دستک ہوئی,شراب خانے کے مالک نے نشے میں دُھت ننگے پاؤں لڑکھڑاتے ہوئے دروازہ کھولا ت...
30/01/2026

بغداد کے مشہور شراب خانے کے دروازے پر دستک ہوئی,
شراب خانے کے مالک نے نشے میں دُھت ننگے پاؤں لڑکھڑاتے ہوئے دروازہ کھولا تو اُس کے سامنے سادہ لباس میں ایک پر وقار شخص کھڑا تھا مالک نے اُکتائے لہجہ میں کہا
" معذرت چاہتا ہوں سب ملازم جا چکے ہیں یہ شراب خانہ بند کرنے کا وقت ہے آپ کل آئیے گا "
اس سے پہلے کہ مالک واپس پلٹتا, اجنبی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
" مجھے بشر بن حارث سے ملنا ہے اُس کے نام بہت اہم پیغام ہے "
شراب خانے کے مالک نے چونک کر کہا
بولیے ! میرا نام ہی بشر بن حارث ہے
اجنبی نے بڑی حیرت سے سر سے لے کر پاؤں تک سامنے لڑکھڑاتے ہوئے شخص کو دیکھا اور بولا
کیا آپ ہی بشر بن حارث ہیں ؟؟
مالک نے اُکتائے ہوئے لہجے میں کہا
کیوں کوئ شک ؟؟
اجنبی نے آگے بڑھ کر اُس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور بولا
سُنو بشر بن حارث !
خالقِ ارضِ وسما نے مجھے کہا ہے کہ
میرے دوست بشر بن حارث کو میرا سلام عرض کرنا اور کہنا جو عزت تم نے میرے نام کو دی تھی وہی عزت رہتی دنیا تک تمہارے نام کو ملے گی "
اتنا سُننا تھا کہ بشر بن حارث کی نگاہوں میں وہ منظر گھوم گیا جب اک دن حسبِ معمول وہ نشے میں دُھت چلا جا رہا تھا کہ اُس کی نظر گندگی کے ڈھیر پر پڑے اک کاغذ پر پڑی جس پر اسم " اللہ " لکھا تھا, بشر نے کاغذ کو بڑے احترام سے چوما صاف کر کے خوشبو لگائی اور پاک جگہ رکھ دیا اور کہا
" اے مالکِ عرش العظیم یہ جگہ تو بشر کا مقام ہے تمہارا نہیں "
بس یہی ادا بشر بن حارث کو " بشر حافی رحمت اللہ علیہ" بنا گئی۔ جس وقت آپ کو یہ پیغام ملا آپ اس وقت ننگے پاؤں تھے اور پھر آپ نے ساری زندگی ننگے پاؤں گزار دی آپ جن گلیوں سے گزرتےتھے ان گلیوں میں چوپائے بھی پیشاب نہیں کر تے تھے کہ آپ کے پاؤں گندے نہ ہو ں۔
وہی بشر حافی رحمت اللہ علیہ جس کے متعلق اپنے وقت کے امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے
" لوگوں
جس اللہ کو احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ مانتا ہے
بشر حافی رحمت اللہ علیہ اُسے پہچانتا ہے۔"
کوشش کریں کہ کہیں اخبار یا کاغذ کے کسی ٹکڑے پر اللہ پاک یا نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم یا مقدس ہستیوں کا نام نظر آئے تو اسے کسی پاک جگہ پر رکھ دیا کریں۔

اس تحریر سے کچھ خاص الفاظ کو چن کر ایک تھمیل بنا دیجیے

Address

Katiya Chauraha Risia To Mirzapur Road
Bahraich
271875

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faizan E Ghazi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share