Gulshan -E- Fatima Online academy Lilbanaat

Gulshan -E- Fatima Online academy Lilbanaat 🌸 Gulshan E Fatima Online Academy Lilbanaat 🌸
Authentic Islamic platform offering Quran, Tafseer, Tajweed & Deeni classes for females and kids.

Learn Islam with knowledge & love 💫
Contact Us:
https://wa.me//+916203310414📱

07/06/2026

*اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ*

*▪️SABHI STUDENT'S KE LIYE GOOD NEWS ‼️*

_▪️ALIMA COURSE (DARSE NIZAMI) ME ADMISSION OPEN🤩_

▪️`JAMAT E EADADIYA`

▪️`JAMAT E ULA`

▪️`JAMAT E SANIA`

▪️`JAMAT E SALESA`

▪️`JAMAT E RABIA`

▪️ `JAMAT E FAZILAH`

_⚠️ IN ME SE KISI BHI JAMAT ME ADMISSION KE LIYE ABHI CONTACT KIJIYE‼️_

*▪️CONTACT FOR REG▪️*
https://wa.me/918292194211

_CONTACT FOR REG & ALL DETAILS_

> MADARSA GULSHAN E FATIMA LILBANAAT

عورتوں کا گھر میں نماز پڑھنا اور عورت کا امامت کروانا٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭محترم قارئینِ ...
27/05/2026

عورتوں کا گھر میں نماز پڑھنا اور عورت کا امامت کروانا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : ابتدائے اسلام میں عورتوں کو دین کے بنیادی احکامات ،مسائل اور آداب سے روشناس کرنے کےلیے مختلف اجتماعات مثلاً فرض نماز ،جمعہ ، عیدین وغیرہ میں شرکت کی اجازت تھی ۔ جب یہ ضرورت پوری ہوئی اور عورتیں بنیادی مسائل و احکام سے واقف ہو گئیں تو انہیں ان اجتماعات سے روک دیا گیا ۔ مندجہ ذیل روایات اس پر شاہد ہیں : ⬇

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ لَوْاَدْرَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَااَحْدَثَ النِّسَائُ لَمَنَعَھُنَّ الْمَسْجِدَ کَمَا مُنِعَتْ نِسَائُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ ۔ (صحیح البخاری جلد 1 صفحہ 120 باب خروج النساء الی المساجد الخ)(صحیح مسلم جلد 1 صفحہ 183 باب خروج النساء الی المساجدالخ)
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آج اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان باتوں کو دیکھ لیتے جو عورتوں نے اختیار کر رکھی ہیں تو انہیں کو مسجد جانے سے ضرور روک دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتیں روک دی گئی تھیں ۔

مسندِ احمد میں حضرت اُمِّ حمید ساعدیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قد علمت انک تحبین الصلٰوة معی وصلٰوتک فی بیتک خیر لک من صلٰوتک فی حجرتک ، وصلٰوتک فی حجرتک خیر من صلٰوتک فی دارک ، وصلٰوتک فی دارک خیر لک من مسجد قومک ، وصلٰوتک فی مسجد قومک خیر لک من صلٰوتک فی مسجدی ۔ قال : فأمرت فبنی لھا مسجد فی اقصی شی من بیتھا واظلمہ ، فکانت تصلی فیہ حتی لقیت الله عز وجل ۔ (مسندِ احمد جلد ۱ صفحہ ۳۷۱ ، وقال الھیثمی ورجالہ رجال الصحیح غیر عبدالله بن سوید الأنصاری ، وثقہ ابن حبان ، مجمع الزوائد جلد ۲ صفحہ ۳۴)
ترجمہ : مجھے معلوم ہے کہ تم کو میرے ساتھ نماز پڑھنا محبوب ہے ، مگر تمہارا اپنے گھر کے کمرے میں نماز پڑھنا گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور گھر کے صحن میں نماز پڑھنا گھر کے احاطے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور احاطے میں نماز پڑھنا اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنا میری مسجد میں (میرے ساتھ) نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ : حضرت اُمِّ حمید رضی اللہ عنہا نے یہ ارشاد سن کر اپنے گھر کے لوگوں کو حکم دیا کہ گھر کے سب سے دُور اور تاریک ترین کونے میں ان کےلیے نماز کی جگہ بنادی جائے، چنانچہ ان کی ہدایت کے مطابق جگہ بنادی گئی ، وہ اسی جگہ نماز پڑھا کرتی تھیں ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جاملیں ۔

وعن أبي عمرو الشيباني أنه رأى عبد الله يخرج النساء من المسجد يوم الجمعة ويقول أخرجن إلى بيوتكن خير لكن ۔ رواه الطبراني في الكبير ورجاله موثقون ۔
ترجمہ : ابو عمر شیبانی رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں کہ بیشک حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن عورتوں کو مسجد سے نکلتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ تم گھر چلی جاو تمہارے لیے یہی بہتر ہے ۔ علامہ ہیثمی رحمة اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس کے راوی ثقہ ہیں ۔ (معجم الکبیر الطبرانی جلد 9 صفحہ 340،چشتی)(مجمع الزوائد جلد 2 صفحہ 35)

اُمّ الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے : لو ادرک رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ما احدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل ۔ (صحیح بخاری جلد ۱ صفحہ ۱۲۰)(صحیح مسلم جلد ۱ صفحہ ۱۸۳)(مٶطا امام مالک صفحہ ۱۸۴)
ترجمہ : عورتوں نے جو نئی رَوش اختراع کرلی ہے ، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دیکھ لیتے تو عورتوں کو مسجد سے روک دیتے ، جس طرح بنواسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔

محدث الوہابیہ ناصر البانی لکھتے ہیں : خير مساجد النساء بيوتهن ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عورتوں کی بہترین مساجد ان کے گھر ہیں ۔ (سلسله احاديث صحيحه الاذان و الصلاة حدیث نمبر 670)(سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی: 1396)

مزید لکھتے ہیں : لأن تصلي المرأة في بيتها خير لها من أن تصلي في حجرتها، ولأن تصلي في حجرتها خير لها من أن تصلي في الدار ولأن تصلي في الدار خير لها من أن تصلي في المسجد ۔
ترجمہ : ام امومنن حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عورت کا (اپنی مخصوص) اقامت گاہ میں نماز پڑھنا (عام) کمرے میں پڑھنے سے بہتر ہے اور عام کمرے میں نماز پڑھنا گھر کے صحن میں پڑھنے سے بہتر ہے اور گھر کے صحن میں نماز پڑھنا مسجد میں پڑھنے سے بہتر ہے ۔ (سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 671،چشتی)(سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی : 2142)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ اَنَّہٗ کَانَ لَا یُخْرِجُ نِسَاءَ ہٗ فِی الْعِیْدَیْنِ ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ جلد 4 صفحہ 234 باب من کرہ خروج النساء الی العیدین)
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی بیویوں کو نماز عیدین کےلیے نہیں جانے دیتے تھے ۔

عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّہٗ کَانَ لَایَدَعُ اِمْرَأۃً مِّنْ اَھْلِہٖ تَخْرُجُ اِلٰی فِطْرٍ وَلَااَضْحٰی ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ جلد 4 صفحہ 234 باب من کرہ خروج النساء الی العیدین)
ترجمہ : ہشام بن عروہ اپنے والد عروہ بن زبیر بن عوام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کی کسی عورت کو عیدالفطر اور عید الاضحی کی نماز پڑھنے کےلیے نہیں جانے دیتے تھے ۔

عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ القَاسِمِ قَالَ کَانَ الْقَاسِمُ اَشَدَّ شَیْئٍ عَلَی الْعَوَاتِقِ ، لَایَدَعُھُنَّ یَخْرُجْنَ فِی الْفِطْرِ وَالْاَضْحٰی ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ جلد 4 صفحہ 234 باب من کرہ خروج النساء الی العیدین)
ترجمہ : حضرت عبدالرحمن بن قاسم کہتے ہیں کہ قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رحمہ اللہ نوجوان عورتوں کے بارے میں بہت سخت تھے کہ انہیں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ میں نہیں جانے دیتے تھے ۔

عَنْ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ یُکْرَہُ خُرُوْجُ النِّسَائِ فِی الْعِیْدَیْنِ ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ جلد 4 صفحہ 234 باب من کرہ خروج النساء الی العیدین،چشتی)
ترجمہ : جلیل القدر تابعی حضرت ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ عورتوں کو عیدین کی نمازوں کےلیے جانا مکروہ ہے ۔

عورتوں کا گھر میں نماز پڑھنا افضل : ⏬

جمعہ ، جماعت اور عیدین کی نماز عورتوں پر واجب نہیں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بابرکت زمانہ چونکہ شر و فساد سے خالی تھا ، ادھر عورتوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اَحکام سیکھنے کی ضرورت تھی ، اس لیے عورتوں کو مساجد میں حاضری کی اجازت تھی ، اور اس میں بھی یہ قیود تھیں کہ باپردہ جائیں ، میلی کچیلی جائیں ، زینت نہ لگائیں ، اس کے باوجود عورتوں کو ترغیب دی جاتی تھی کہ وہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں ۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لا تمنعوا نسائکم المساجد، وبیوتھن خیر لھن۔ترجمہ۔”اپنی عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، اور ان کے گھر ان کےلیے زیادہ بہتر ہیں ۔ (رواہ ابوداوٴد، مشکوٰة صفحہ ۹۶،چشتی)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صلٰوة المرأة فی بیتھا افضل من صلٰوتھا فی حجرتھا ، وصلٰوتھا فی مخدعھا افضل من صلٰوتھا فی بیتھا ۔
ترجمہ : عورت کا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا ، اپنے گھر کی چار دیواری میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے ، اور اس کا پچھلے کمرے میں نماز پڑھنا اگلے کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۔ (رواہ ابوداوٴد ، مشکوٰة صفحہ ۹۶)

عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے پر برپا ہونے والے فتنہ کے متعلق یہ حديث صحيح ہے ، اسے ترمذی نے اس لفظ کے ساتھہ ذکر کیا ہے : عورت پوشیدہ رکھنے کی چیز ہے ، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے جھانکتا ہے ۔ (سنن ترمذی جلد 3 صفحہ 476 حدیث نمبر 1173)(صحیح ابنِ خزیمہ جلد 3 صفحہ 93 ، 94 حدیث نمبر 1687 - 1685)(صحیح ابنِ حبان جلد 12 صفحہ 412 ، 413 حدیث نمبر 5599 - 5598)(طبرانی نے اسے المعجم الکبیر کی جلد 8 صفحہ 101 حدیث نمبر 10115)(المعجم الاوسط میں جلد 8 صفحہ 101 حدیث نمبر 8096،چشتی)(مسند بزار البحر الزخار جلد 5 صفحہ 428 - 427 حدیث نمبر 2061،2062،2065 )(ابنِ عدی نے کتاب الکامل جلد 3 صفحہ 423 سوید بن ابراہم کی سوانح عمری میں نقل کیا)

شرح حدیث : عورت جب تک پردہ میں رہے گی یہ اس کےلیے زیادہ بہتر اور حفاظت کا باعث ہے، اور وہ اپنے فتنے اور اپنے ذریعہ دوسروں کو فتنے میں ڈالنے سے دور رہے گی ، جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس میں راغب ہوتا ہے تو وہ اسے گمراہ کرتا ہے، اور اس کے ذریعہ لوگوں کو بھی گمراہ کرتا ہے، مگر اللہ جس پر رحم کر دے ، اس لیے کہ اسی نے شیطان کو اپنے اوپر غالب آنے کے اسباب میں سے ایک سبب دیا، اور وہ اس کا اپنے گھر سے نکلنا ہے ، مسلمان عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے حق میں مشروع ہے کہ وہ اپنے گھر کو لازم پکڑے رہے، اور گھر سے کسی ضرورت کی بنا پر اپنے پورے جسم کا مکمل پردہ کرکے نکلے، اور زینت اور خوشبو استعمال نہ کرے، تاکہ اللہ سبحانہ و تعالی کے اس فرمان:وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۔ (سورہ الاحزاب آیت نمبر 33)
ترجمہ : ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺍﺭ ﺳﮯ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﯾﻢ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﻛﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻛﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺎؤکا ﺍﻇﮩﺎﺭ ﻧﮧ ﻛﺮﻭ ۔ پر عمل ہو جائے : اور الله سبحانه و تعالى كا فرمان : وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ ۔ (سورہ الاحزاب آیت نمبر 53)
ترجمہ : ﺟﺐ ﺗﻢ ﻧﺒﯽ ﻛﯽ ﺑﯿﻮﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﻛﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻃﻠﺐ ﻛﺮﻭ ﺗﻮ ﭘﺮﺩﮮ ﻛﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﮯ ﻃﻠﺐ ﻛﺮﻭ ۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻛﮯلیے کاﻣﻞ ﭘﺎﻛﯿﺰﮔﯽ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ الآيۃ ۔ ورنہ وہ فاسق و فاجر لوگوں کے جال میں پھنس جائیگی،بالخصوص بازاروں اور پارکوں اور مخلوط جگہوں میں ، اور اس زمانے میں تو ایسی جگہیں بہت ہیں : مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنْ النِّسَاءِ ۔ (صحيح بخاری و صحیح مسلم) میں نے اپنے بعد مرد حضرات کےلیے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیویاں نماز عید کےلیے عید گا نہیں جاتی تھیں ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 4 صفحہ 234 حدیث نمبر 5845)

حضرت عروہ بن زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما اپنی گھر کی کسی عورت کو نماز عید کےلیے عید گاہ نہیں جانے دیتے تھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 4 صفحہ 234 حدیث نمبر 5846)

حضرت قاسم بن حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنی عورتوں کے بارے میں شدید پابندی فرماتے انہیں عیدین کی نماز کےلیے عید گاہ نہیں جانے دیتے تجھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 4 صفحہ 234 حدیث نمبر 5847 )

جلیل القدر تابعی حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں عورتوں کو عیدین کی نماز کےلیے جانا مکروہ ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 4 صفحہ 234 حدیث نمبر 5844،چشتی)

امتدادِ زمانہ کی وجہ سے جب حالات بدل گئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے مشورہ سے عورتوں کا مردوں کے ساتھ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا بند کر دیا ۔(یعنی اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم ہے) ۔ غور کیا جائے تو آج کا زمانہ نہ تو سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہ عنہما کے عہد مبارک کے جیسا ہے اور نہ ہی احکامِ شریعت کی پابندی و پاسداری اُس عہد مبارک جیسی ہے ۔ سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ نے عورت کے گھر سے باہر نکلنے کے فتنہ کو اپنے عہد مبارک میں ہی جان لیا سو عورتوں کی مسجدوں میں نماز پر پابندی لگا دی ۔

مذکورہ احادیثِ مبارکہ سے صراحةً ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جماعتوں میں حاضر ہونا، محض رخصت واباحت کی بنا پر تھا ، کسی تاکید یا فضیلت و استحباب کی بنا پر نہیں ، اس رخصت واباحت کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم اور ارشاد ، ان کےلیے یہی تھا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں ، اور اسی کی ترغیب دیتے تھے اور فضیلت بیان فرماتے تھے ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے ، تو میں نماز عشاء قائم کرتا ، اور اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ گھروں میں آگ لگادیں ۔(رواہ أحمد ، مشکواة)

غور کریں اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مردوں کو جو جماعت عشاء میں حاضر نہ ہوتے تھے ، آگ سے جلادینے کا ارادہ فرمایا مگر عورتوں ، بچوں کا گھروں میں ہونا اس کی تکمیل سے مانع آیا ، عورتوں کا اس حدیث میں ذکر فرمانا اس کی دلیل ہے کہ وہ جماعت میں حاضر ہونے کی مکلف نہ تھیں، اور جماعت ان کے ذمے موٴکد نہ تھی ، ورنہ وہ بھی اسی جرم کی مجرم اور اسی سزا کی مستوجب ہوتیں ۔

مندرجہ بالا احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عورت کی کوٹھری کے اندر کی نماز، دالان کی نماز سے افضل او ردالان کی نماز، صحن کی نماز سے افضل اور صحن کی نماز محلہ کی نماز سے افضل ہے، پس اس میں کیا شبہ رہا کہ عورتوں کو جماعت میں اورمسجد نبوی میں حاضر ہونا کسی استحباب و فضیلت کی وجہ سے نہ تھا ، بلکہ محض مباح تھا ۔ کس قدر افسوس ہے ان لوگوں کے حال پر جو عورتوں کو مسجد میں بلاتے اور جماعتوں میں آنے کی ترغیب دیتے ہیں، اورغضب یہ کہ اسے سنت بتاتے ہیں اوراپنے اس فعل کو احیائے سنت سمجھتے ہیں ۔ اگر عورتوں کےلیے جماعتوں میں حاضر ہونا سنت ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی مسجد کی نماز سے مسجد محلہ کی نماز کو اور مسجد محلہ کی نماز سے گھر کی نماز کو افضل کیوں فرماتے۔ کیوں کہ اس صورت میں گھر میں تنہا نماز پڑھنا عورتوں کے لیئے ترک سنت ہوتا تو کیا ترک سنت میں ثواب زیادہ تھا، اور سنت پر عمل کرنے میں ثواب کم؟ اور کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنے کی ترغیب دے کر گویا ترک سنت کی ترغیب دیتے تھے ؟
شاید یہ لوگ اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ بزرگ اور اپنی مسجدوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد شریف سے افضل سمجھتے ہیں ۔ جن حدیثوں میں خاوندوں کو عورتوں کو مسجد میں جانے سے روکنے کی ممانعت ہے ، ان حدیثوں سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ عورتوں کو مسجد میں جانا، مستحب یا سنت مٶکدہ ہے ، عورتوں کو چونکہ آپ کے زمانہ میں مسجدوں میں جانا مباح تھا ، تو اس اباحت ورخصت سے فائدہ اٹھانے کا حق انھیں حاصل تھا؛ اس لیے مردوں کو ان کے روکنے سے منع فرمایا کہ ان کا یہ حق زائل نہ ہو، دوسرے یہ کہ اس وقت عورتوں کے مسجد میں آنے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ عورتوں کو تعلیم کی بہت حاجت تھی ، اور اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ مسجد میں حاضر ہوکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افعال نماز کو دیکھیں اور سیکھیں ۔ کوئی بات پوچھنی ہو تو خود پوچھ لیں ۔

مسئلہ عورت کا امامت کروانا : ⏬

ہمارے ایک محترم بھاٸی نے جوکہ خود ایک جگہ خطیب ہیں اور عالمِ دین ہیں انہوں نے اس مسئلہ پر لکھنے کےلیے خصوصی حکم فرمایا کہ اس مسئلہ پر لازمی لکھیں بہت ہی کم وقت میں جتنا ممکن ہو سکا فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے مکمل حوالہ جات کے ساتھ اس موضوع پر یہ مختصر مضمون لکھا ہے اہل علم کہیں غلطی پائیں تو ضرور اصلاح بھی فرمائیں اور فقیر کو بھی مطلع فرمائیں تاکہ اصلاح کی جا سکے ۔ ⏬

عورت کا دیگر عورتوں کی امامت کرانا خواہ پنجگانہ نمازیں یا جمعہ ہو یا عیدین ہوں خواہ نماز تراویح ہو یا عظمت والی راتوں ۔ (لیلۃ القدر ،شب برأت ،شب معراج وغیرہ ) کے نوافل کی ہو مکروہ تحریمی ہے ۔ امامت کا حق دراصل مرد کےلیے ہے ۔ اہل سنت و جماعت کے نزدیک عورت کی امامت درست نہیں ‘ شریعت کا یہ حکم عورت کے حاجات و ضروریات کی مناسبت سے دیا گیا ہے (اس میں عورت کی تنقیص کا کوئی پہلو نہیں) عورت کےلیے پنجگانہ فرض نمازیں گھر میں پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے ، جب فرض نماز کے لئے ان کی جماعت نہیں رکھی گئی تو سنت و نفل کےلیے ان کی جماعت کیسے درست ہوگی ؟ عورتوں کےلیے جماعت کا مقرر نہ کیا جانا ان کےلیے اللہ کی ایک رحمت ہے اور اس میں بے شمار فوائد و مصالح ہیں ۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ، اس نے معاشرے کے ہر فرد کےلیے حدود اور علیحدہ دائرہ کار متعین کر دیا ہے ، خواتین کےلیے تدبیر منزل ، امور خانہ داری اور تربیت اولاد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور مرد کو من جملہ اسکی ذمہ داریوں کے ایک منصب امامت بھی دیا گیا ہے ۔ جہاں تک خواتین کی امامت کا مسئلہ ہے توچونکہ عورتوں کےلیے امامت اصلاً نہیں ہے اسی لیے خواتین کی امامت مرد حضرات کےلیے درست نہیں اور خواتین کےلیے کسی خاتون کی امامت خواہ فرائض میں ہو یا نوافل میں مکروہ تحریمی ہے ۔ فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 75 میں ہے : ویکرہ امامۃ المراءۃ للنساء فی الصلوۃ کلھامن الفرائض والنوافل اورفتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 75میں ہے : وصلو تھن فرادی افضل ۔
ترجمہ : عورتوں کےلیے نماز باجماعت ادا کرنے سے بہتر و افضل ہے کہ وہ تنہا بغیر جماعت ادا کریں ۔

اگر عورت کا مردوں کی امامت کرنا جائز ہوتا ، تو کم از کم ایک آدھ مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیانِ جواز کے طور پر ثابت ہونا چاہیے تھا ، حالانکہ ایسا نہیں ہے (مذکورہ بالا روایت سے جواز ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ واضح ہوچکا) نیز حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں بھی کسی نے اس پر عمل نہیں کیا ۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح کی بات ثابت ہوتی ، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں کوئی تواس پر عامل پایا جاتا ۔ اس کے بالمقابل حسبِ ذیل روایات سے معلوم ہوتا ہے ، کہ عورت ، مردوں کی امامت نہیں کر سکتی یا عورت کو مردوں کی امامت نہیں کرنا چاہیے : عن عبد اللّٰہ (بن مسعود) عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم قال : صلوة المرأة فی بیتہا افضل من صلوتہا فی حجرتہا، وصلوتہا فی مخدعہا افضل من صلوتہا فی بیتہا ۔ (سنن ابی داود جلد ۱ صفحہ ۸۴،چشتی)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا : عورت کا صحنِ کمرہ میں نماز پڑھنے سے کمرہ کے اندر نماز پڑھنا بہتر ہے ، اور بڑے کمرہ میں نماز پڑھنے سے کوٹھری میں نماز پڑھنا بہتر ہے ۔
اس روایت سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورتوں کو امامت نہیں کرنا چاہیے ۔ کیونکہ کوٹھری بہت تنگ و مختصر جگہ ہوتی ہے ، جس میں عادةً جماعت قائم کرنا متعذر اور دشوار ہوتا ہے ۔

ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے : لو ادرک النبی صلی اللّہ علیہ وسلم ما حدث النساء، لمنعہن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل ۔ (صحیح بخاری جلد ۱ صفحہ ۱۲،چشتی)
ترجمہ : اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ صورت حال ہوتی ، جو اب عورتوں نے نئی پیدا کی ہے ، تو آپ ان کو ضرور مسجد میں آنے سے روک دیتے ، جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا ۔ روایتِ بالا کی دلالت مدعا پر نہایت واضح ہے ۔

عن ابی ہریرة عن النبی صلی اللّہ علیہ وسلم قال : التصفیق للنساء والتسبیح للرجال ․۔(صحیح بخاری جلد ۱ صفحہ ۱۶۰،چشتی)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : تصفیق (خاص طریقے سے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارنا) عورتوں کےلیے ہے اور تسبیح (سبحان اللہ کہنا) مردوں کے لیے ہے ۔

محدثین علیہم ارحمہ فرماتے ہیں کہ نماز میں امام کو غلطی پر متنبہ کرنے کےلیے عورتوں کو سبحان اللہ کہنے سے اس لیے منع کیا گیا تاکہ ان کی آواز نہ سنی جائے ۔ جب امام کو غلطی پر متنبہ کرنے میں صرف سبحان اللہ کہنے میں اس قدر لحاظ کیا گیا ، تو مردوں کی امامت میں تکبیراتِ انتقالات کہنے اور جہری نمازوں میں قرأت کرنے کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے ؟ ماٰل اس کا یہ ہے کہ وہ مردوں کی امامت نہ کریں ۔

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابیات نماز میں امامت کراتی تھیں ۔ امام حاکم نے المستدرک میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے : انها کانت تؤذن وتقيم وتؤم النساء، فتقوم وسطهن . (المستدرک جلد 1 صفحہ 320 رقم : 731)
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اذان دیتی تھیں ، نماز کےلیے اقامت کہتی تھیں اور صف کے درمیان میں کھڑی ہو کر عورتوں کی امامت کراتی تھیں ۔

اس روایت کی رُو سے ثابت ہے کہ دینی تربیت اور عبادت الہٰی میں رغبت اور شوق پیدا کرنے کےلیے اگر عورتیں جمع ہو کر باجماعت نماز ادا کریں تو اجازت ہے ۔ اس صورت میں امامت کرانے والی خاتون صف کے درمیان میں کھڑی ہوں گی ۔ عیدین کے موقع پر خطبہ عید بھی پڑھے گی کیونکہ عورت کا عورتوں کے سامنے خطبہ پڑھنا درست ہے ۔

فقہا کرام علیہم الرحمہ نے لکھا ہے کہ عورت عورتوں کی اور نابالغ نابالغوں کا امام ہو سکتا ہے ۔ (فتاویٰ عالمگيری جلد 1 صفحہ 84،چشتی)

حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے : (وکرہ جماعۃ النساء) تحریم للزوم احد المحظورین ،قیام الامام فی الصف الاول وھو مکروہ ،او تقدم الامام وھو ایضاً مکروہ ‘‘یعنی،’’ عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ اس سے دو ممنو ع چیزوں میں سے ایک ضرورصادر ہو گی ایک امام عورت کا پہلی صف میں ہونا یا امام عورت کا آگے امام کی جگہ پر کھڑا ہونا بھی مکروہ تحریمی ہے ۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح صفحہ ۳۰۴ مطبوعہ قدیمی کراچی،چشتی)

الجوھرۃ النیرہ میں ہے : (یکرہ للنساء ان یصلین وحدھن جماعۃ )یعنی بغیر رجال ،وسواء فی ذلک الفرائض والنوافل والتراویح‘‘یعنی،’’ اکیلے عورتوں کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہ ہے فرائض ،نوافل اور تراویح سب کا ایک حکم ہے ۔ (الجوھرۃ النیرۃ جلد ۱ صفحہ ۱۶۲ مکتبہ رحمانیہ لاہور)

فتح القدیر میں ہے : (یکرہ للنساء ان یصلین جماعۃ لانھن فی ذلک لا یخلون عن ارتکاب محرم )ای مکروہ لان امامتھن اما ان تتقدم علی القوم او تقف وسطھن ،وفی الاول زیادۃ الکشف وھی مکروھۃ ،وفی الثانی ترک الامام مقامہ وھو مکروہ والجماعۃسنۃ وترک ماھو سنۃ اولی من ارتکاب مکروہ ‘‘یعنی،’’ اکیلی عورتوں کی جماعت حرام(کراہت تحریمی) کے ارتکاب سے خالی نہیں ہوگی کیونکہ امام عورت تما م نماز پڑھنے والیوں کے آگے ہوگی یا صف کے درمیان میں کھڑی ہو گی ۔پہلی میں تو بے پردگی ہے اور وہ مکروہ ہے اور دوسری میں امام کی جگہ کو چھوڑ دینا ہے وہ بھی مکروہ تحریمی ہے ۔ جماعت سنت ہے اور مکروہ تحریمی کے ارتکاب کے وقت سنت کو چھوڑ دینا افضل ہے ۔ (فتح القدیر جلد ۱ صفحہ ۳۶۲ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ،چشتی)

اگر عورت کے امام بننے سے مراد مرد کی امامت کرانا ہے تو وہ کسی صورت میں بھی مرد کی امام نہیں بن سکتی کیونکہ امام بننا مرد کا کام ہے عورت کا نہیں فتاوی عالمگیری میں ہے : لایجوز اقتداء رجل بامرأۃ ھکذا فی الھدایۃ ‘‘ یعنی مرد کسی عورت کی اقتدء نہیں کر سکتا اسی طرح ھدایہ میں ہے ۔ (فتاوی عالمگیری جلد ۱ صفحہ ۹۴ قدیمی کتبخانہ کراچی)

مذکورہ بالا دلاٸل سے واضح ہو کہ شریعت نہیں بدلی ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو شریعت کے بدلنے کا اختیار نہیں ، لیکن جن قیود و شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو مساجد میں جانے کی اجازت دی ، جب عورتوں نے ان قیود و شرائط کو ملحوظ نہیں رکھا تو اجازت بھی باقی نہیں رہے گی ، اس بنا پر فقہائے اُمت علیہم الرحمہ نے ، جو درحقیقت حکمائے اُمت ہیں ، عورتوں کی مساجد میں حاضری کو مکروہ قرار دیا ، گویا یہ چیز اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہے ، مگر کسی عارضے کی وجہ سے ممنوع ہوگئی ہے ۔ اور اس کی مثال ایسی ہے کہ وبا کے زمانے میں کوئی طبیب امرود کھانے سے منع کر دے ، اب اس کے یہ معنی نہیں کہ اس نے شریعت کے حلال و حرام کو تبدیل کر دیا ، بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک چیز جو جائز و حلال ہے ، وہ ایک خاص موسم اور ماحول کے لحاظ سے مضرِ صحت ہے ، اسی لیے اس سے منع کیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ احکامِ شرع کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

16/05/2026

MehfiL e milad

شادی بیاہ کو آسان کرو            ***i
02/04/2026

شادی بیاہ کو آسان کرو
***i

اظہار ہوگا تو کیوں۔۔۔۔ ۔ادغام نہیں ہوگا تو کیوں حالانکہ نون ساکن بعد حروف یرملون میں سے واو موجود ہے
01/04/2026

اظہار ہوگا تو کیوں۔۔۔۔ ۔ادغام نہیں ہوگا تو کیوں
حالانکہ نون ساکن بعد حروف یرملون میں سے واو موجود ہے

        *Girl's & Boy's ke Liye Khushkhabri 🥳🎉*_Kya Aap *Qur’an Pak* Ko Sahi *Tajweed* Ke Saath *Padhna* Aur  *Dua* Karn...
23/03/2026


*Girl's & Boy's ke Liye Khushkhabri 🥳🎉*

_Kya Aap *Qur’an Pak* Ko Sahi *Tajweed* Ke Saath *Padhna* Aur *Dua* Karne Ka Sunnati *Tariqa* Seekhna Chahte Hain?_

*2 Behtareen Courses Bilkul FREE 🥳🎉*

*1️⃣ Tajweed O Qirat Course (Free)📖🫀*
*2️⃣ Tareeqa-E-Dua Course (Free)🤲🫀*

_Ghar Baithe Asaan Andaz Mein Seekhiye🤗_

*📲 Abhi Hamara WhatsApp Channel Follow Karein:👇*
https://whatsapp.com/channel/0029VaVicXA8vd1OiE9mdK0l

*_📩 Zaroor Share Karein_*
_Ho Sakta Hai *Aap Ki*_ _Wajah Se Kisi Ko *Qur’an* Seekhne Ka Mauqa Mil Jaye —_
_Aur Yeh Aap Ke Liye *Sadaqa-E-Jariya* Ban Jaye🤗🥳 🤍_

_⚠️ Chennal Follow Karne ke baad Contact kare ‼️_
*+918292194211 📲*

*الــــــوداع مـــــــــــاہ رمــضـــــان 😭🤲*
18/03/2026

*الــــــوداع مـــــــــــاہ رمــضـــــان 😭🤲*

16/03/2026

*Girl's & Boy's ke Liye Khushkhabri 🥳🎉*

_Kya Aap *Qur’an Pak* Ko Sahi *Tajweed* Ke Saath *Padhna* Aur *Dua* Karne Ka Sunnati *Tariqa* Seekhna Chahte Hain?_

*2 Behtareen Courses Bilkul FREE 🥳🎉*

*1️⃣ Tajweed O Qirat Course (Free)📖🫀*
*2️⃣ Tareeqa-E-Dua Course (Free)🤲🫀*

_Ghar Baithe Asaan Andaz Mein Seekhiye🤗_

*📲 Abhi Hamara WhatsApp Channel Follow Karein:👇*
https://whatsapp.com/channel/0029VaVicXA8vd1OiE9mdK0l

*_📩 Zaroor Share Karein_*
_Ho Sakta Hai *Aap Ki*_ _Wajah Se Kisi Ko *Qur’an* Seekhne Ka Mauqa Mil Jaye —_
_Aur Yeh Aap Ke Liye *Sadaqa-E-Jariya* Ban Jaye🤗🥳 🤍_

_⚠️ Chennal Follow Karne ke baad Contact kare ‼️_
*+918292194211 📲*

Address

Azamnagar
855113

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gulshan -E- Fatima Online academy Lilbanaat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share