11/04/2025
موٹیویشنل اسپیکر: وقت کی اہم ترین ضرورت
(فرحان فیضان)
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، تعلیم، سوچ اور تربیت کے انداز میں انقلاب آ چکا ہے۔ ایسے میں بچوں، نوجوانوں اور حتیٰ کہ اساتذہ و والدین کو اندرونی طور پر بیدار رکھنے اور زندگی کی سست روی یا مایوسی سے نکالنے کے لیے کچھ ایسے افراد کی ضرورت ہے جو نہ صرف ان کے اندر جوش، ہمت، اور ولولہ بھر دیں بلکہ انہیں زندگی کے مقاصد، سمت اور حوصلہ بھی عطا کریں — یہی کام موٹیویشنل اسپیکرز کرتے ہیں۔
یہ کہنا کہ موٹیویشنل اسپیکنگ صرف چرب زبانی کا اشتہار ہے، یا یہ کہ یہ پیشہ ناکام لوگوں کا سہارا ہے، ایک حد تک تعصب پر مبنی بیان ہے۔ کیونکہ اگر ہم ایمانداری سے دیکھیں تو آج کے بچے صرف نصابی تعلیم سے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ انہیں جذباتی طاقت، اعتماد، کمیونیکیشن، مقصدِ حیات اور اندرونی ڈر کو شکست دینے جیسے کئی غیر نصابی پہلوؤں میں رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہاں موٹیویشنل اسپیکرز کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔
آج کی نسل بے شمار ذہنی دباؤ، سوشل میڈیا کے منفی اثرات، کمزور خود اعتمادی، احساسِ کمتری اور تعلیم سے دوری جیسے چیلنجز کا شکار ہے۔ اگر ایک اچھی تقریر، ایک اچھا جملہ، ایک سچے جذبے کے ساتھ دیا گیا پیغام کسی ایک طالب علم کی زندگی میں نیا رخ پیدا کر دے، تو وہ مقرر واقعی وقت کا بہترین مصرف ہے۔
موٹیویشنل اسپیکر ہونا صرف بولنے کا فن نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ اس میں سننے والے کو اپنی بات سے اس طرح جوڑ دینا ہوتا ہے کہ وہ اپنی سوچ بدلنے پر مجبور ہو جائے۔ دنیا کے بڑے ادارے، کمپنیاں، یونیورسٹیاں اور حتیٰ کہ آرمی بھی اپنے افراد کو مسلسل موٹیویٹ رکھنے کے لیے ایسے مقررین کی خدمات لیتی ہیں — کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ذہنی تحریک کے بغیر جسمانی محنت بھی بے روح ہو جاتی ہے۔
رہی بات اخلاص اور تجربے کی، تو یقیناً ہر فیلڈ میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں: ایک وہ جو شہرت اور پیسہ کمانے آتے ہیں، دوسرے وہ جو دل سے تبدیلی لانے نکلتے ہیں۔ اسی طرح موٹیویشنل اسپیکرز میں بھی ایسے افراد ہیں جو واقعی حقیقی جذبے کے ساتھ دوسروں کی زندگی بہتر بنانے نکلے ہیں۔ ہمیں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ ہم فرق پہچان سکیں اور سچے، جینوئن مقررین کی قدر کریں، نہ کہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکیں۔
ایک طالب علم جسے کئی سال سے پڑھایا جا رہا ہو اور وہ سبق نہیں لے رہا، ایک جملہ، ایک واقعہ، ایک تقریر اس کی آنکھ کھول سکتی ہے — تو کیا یہ پیغام دینے والا شخص بے معنی ہے؟ کیا وہ "فیشن" ہے یا فائدہ مند سہارا؟
آخر میں اتنا عرض ہے کہ جس طرح اچھے استاد، اچھے ڈاکٹر، اچھے لکھاری اور اچھے تاجر ہوتے ہیں، ویسے ہی اچھے موٹیویشنل اسپیکرز بھی ہوتے ہیں۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ان کا انتخاب دیانتداری، تجربے اور اثر پذیری کی بنیاد پر کریں، نہ کہ صرف رائے کی شدت سے انہیں رد کر دیں۔