Fikr e Gule Jame Ashraf

Fikr e Gule Jame Ashraf

Share

Jame Ashraf dargah kichhoucha sharif district Ambedkar Nagar Up:

06/04/2026

*{تعطیل کلاں کے بعد مادرِ علمی جامع اشرف،درگاہ کچھوچھہ شریف کی تعلیم کا متبرک و پر فیض آغاز }*

مادرِ علمی جامع اشرف، درگاہ کچھوچھہ شریف برصغیر کے ان عظیم علمی و روحانی مراکز میں سے ایک ہے جہاں علم، عمل، تقویٰ اور محبتِ رسول ﷺ کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ یہ وہ مبارک درسگاہ ہے جس نے نہ صرف علومِ دینیہ کی آبیاری کی بلکہ ایسے ایسے رجالِ کار پیدا کیے جنہوں نے دینِ اسلام کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ جو ملک و بیرونِ ممالک اپنے اپنے منصبوں پہ اپنی دینی و ملی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ (مولی تعالیٰ مرے تمام جامعی برادران کو سلامت رکھے! آمین)
یہاں کی فضا میں اخلاص کی مہک، ادب کی لطافت اور روحانیت کی تاثیر رچی بسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بجا طور پر جامعی برادران “مادرِ علمی” کہا کرتے ہیں ، کیونکہ اس کی آغوش سے نکلنے والے علماء دنیا بھر میں علم و ہدایت کے چراغ روشن کرتے ہیں۔مادرِ علمی جامع اشرف، محض ایک دینی درسگاہ نہیں بلکہ علم و ادب کا ایسا درخشاں مرکز ہے جہاں تعلیم کی اہمیت صرف نصاب تک محدود نہیں بلکہ فکر و شعور اور کردار کی تشکیل تک پھیلی ہوئی ہے۔

*(افتتاح دروس بزبان شیخ جامعہ)*
بتاریخ ١٧ شوال المکرم ١٤٤٧ھ بمطابق 6 اپریل 2026ء بروز پیر کو مادر علمی جامع اشرف درگاہ کچھوچھہ شریف کی تعطیل کلاں کے بعد اس سال کی تعلیم کا پر فیض آغاز، بزبان فیض ترجمان استاذ العلماء، استاذ الاساتذہ ،استاذ السادات و المشائخ، استاذی المکرم، مخدوم گرامی حضرت حافظ و قاری علامہ و مولانا مفتی محمد قمر عالم صدیقی قادری اشرفی مصباحی مظفر پوری شیخ الحدیث جامع اشرف درگاہ کچھوچھہ شریف (سابق شیخ الحدیث جمدا شاہی بستی یوپی ) ہوا۔آپ کی ذاتِ گرامی علم و فضل، تقویٰ و پرہیزگاری اور تدریسی مہارت کا حسین امتزاج ہے۔ آپ نے دارالعلوم علیمیہ، جمدا شاہی یوپی میں بھی بحیثیت مدرس و شیخ الحدیث ایک عرصہ دراز تک اپنے علمی جواہر لٹائے اور بے شمار طلبہ کو علمِ نحو و صرف ،حدیث و اصول حدیث ،فقہ و اصول فقہ ،منطق و فلسفہ خصوصا حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے منور و مجلی فرمایا۔

*(ٹیسٹ میں کامیابیوں سے سرخرو طلباء)*
اس بابرکت موقع پر داخلہ ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنے والے بلکہ جدید و قدیم طلبہ کا منظر نہایت دلکش اور ایمان افروز تھا۔اپنا مخصوص سفید، لباس جامع اشرف میں ملبوس، ادب و خاموشی کے ساتھ بیٹھے ہوئے یہ طلبہ گویا علم کے متلاشی پروانے نظر آتے تھے جو شمعِ علم کے گرد جمع ہیں۔ ان کی آنکھوں میں شوق کی چمک، دلوں میں عزم کی حرارت اور چہروں پر سنجیدگی کی جھلک صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔ ہر طالب علم گویا یہ عہد کر رہا تھا کہ وہ علم کے اس سفر کو اخلاص کے ساتھ طے کرے گا اور دینِ اسلام کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے گا۔

*(ناظمِ اعلیٰ و صدر المدرسین کا ناصحانہ خطاب نایاب)*
مادرِ علمی جامع اشرف، درگاہ کچھوچھہ شریف کی افتتاح دروس کی یہ نورانی محفل یقیناً اپنے اندر ایک خاص جاذبیت اور روحانیت لیے ہوئے تھی، مگر جب اس میں ناظمِ اعلیٰ، فصیح اللسان، ساحر البیان، خطیبِ ذی شان حضرت علامہ و مولانا قمر احمد اشرفی مصباحی مدّ ظلّہ العالی کی باوقار تشریف آوری ہوئی تو گویا محفل میں جان سی آ گئی۔ آپ کے پرجوش اور دلنشیں ناصحانہ اندازِ گفتگو نے سامعین کے قلوب کو گرما دیا اور مادر علمی جامع اشرف کی تعلیمی معیار کی جھلکیاں دکھا دیں، علم و ادب کی ایک نئی فضا قائم کر دی۔ آپ کی زبان کی فصاحت اور بیان کی سحر انگیزی نے محفل کو مسحور کن بنا دیا۔آپ کا اندازِ گفتگو راقم الحروف کے اپنی مادر علمی کی شان کو اجاگر کرتے ہوئے اشعار کو جا ٹکرایا جو کہ یہ ہیں:

بحر: رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
ارکان: فاعلاتن فعِلاتن فعلاتن فعلن
==================================
*گلشنِ اشرف سمنان ہے جامع اشرف*
*چشتیُ و قادری ریحان ہے جامع اشرف*

*فقہُ و قرآنُ و تفاسیرُ و حدیثُ و تجوید*
*جس کے اندر ہیں وہ جزدان ہے جامع اشرف*

*شیخ اعظم کی سعی اور فیوض خواجہ*
*سر بسر چشتیہ فیضان ہے جامع اشرف*

*جسکی تعلیم کی بنیاد ہے قرآن و حدیث*
*اہلسنت کی وہ پہچان ہے جامع اشرف*

*جسکی دیواروں سے آتی ہے ادب کی خوشبو*
*علم و حکمت کا وہ ایوان ہے جامع اشرف*

*اہلِ سنّت کے مقدر کا چمکتا سورج*
*صبحِ امید کی پروان ہے جامعِ اشرف*

*جس کے اسباق سے روشن ہے چراغ ایماں*
*نورِ قرآن کا عنوان ہے جامعِ اشرف*

*غوث و خواجہ و شہِ سمناں کے جلوے ہیں جہاں*
*ہاں وہی جلوۂ جانان ہے جامع اشرف*

*جس کی دیوار سے ٹکرائے تو باطل ٹوٹے*
*حق کا میزانِ درخشان ہے جامعِ اشرف*

*یہ وہ مرکز ہے جہاں فکرِ رضاؔ زندہ ہے*
*علم و حکمت کا وہ دیوان ہے جامع اشرف*

*یہ وہ گلشن ہے جہاں علم کے پھولوں کی بہار*
*ہر قدم رشکِ گلستان ہے جامع اشرف*

*ہر طرف نعت کی خوشبو سے معطر ہے فَضا*
*محفلِ عشق کا گلدان ہے جامع اشرف*

*اشرفی فیض کا یہ چشمہ رواں دائم ہے*
*موجِ فیضان کا طغیان ہے جامع اشرف*

*علم کے موتی بکھرتے ہیں جہاں صبح و مسا*
*عقل و دانش کا وہ سامان ہے جامعِ اشرف*

*اس سے ہر دور یقینا ہی ضیا پائے گا*
*شمعِ حق شمعِ شبستان ہے جامع اشرف*

*اولیاء غوث و قطب کا ہے جو مخزن ناظم !*
*فیضُ و برکت کا وہ ایوان ہے جامع اشرف*
==================================
اسی نورانی سلسلے کو مزید جِلا اُس وقت ملی جب استاذ العلماء، استاذ الاساتذہ، مشفق و مربی، ماہرِ درسیات حضرت علامہ و مولانا مفتی عبد الخالق اشرفی جامعی راج محلی مدّ ظلّہ العالی صدر المدرسین و صدر شعبۂ افتاء جامع اشرف نے اپنے ناصحانہ کلمات سے حاضرین کے قلوب کو منور فرمایا۔ آپ کی گفتگو نہایت حکیمانہ، دلنشیں اور اثر آفرین تھی۔ ہر جملہ گویا نصیحت کا موتی اور ہر بات دل کی گہرائیوں میں اتر جانے والی تھی۔

آپ نے طلبہ کو اخلاصِ نیت، محنت و استقامت، اور علم کے ساتھ عمل کی اہمیت پر نہایت مؤثر انداز میں متوجہ فرمایا۔ آپ کے انداز میں شفقتِ پدرانہ اور دردِ دل نمایاں تھا، جس نے طلبہ کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ایک مہربان استاد اپنے شاگردوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے نہایت خلوص کے ساتھ رہنمائی کر رہا ہے۔
آپ کی نصیحتوں نے محفل کو محض علمی نہیں بلکہ اصلاحی رنگ بھی عطا کیا، جس سے حاضرین کے دلوں میں عمل کا جذبہ بیدار ہوا اور علم کی قدر و قیمت مزید اجاگر ہوئی۔
بلاشبہ، ان دونوں عظیم شخصیات کی شرکت نے اس محفل کو محض ایک اجتماع نہیں رہنے دیا بلکہ اسے علم، ادب اور اخلاص کا ایک حسین سنگم بنا دیا۔ یہ وہ مبارک لمحہ تھا جب الفاظ میں تاثیر، نگاہوں میں شفقت اور فضا میں علم کی خوشبو محسوس کی جا رہی تھی۔
یقیناً، ایسی باکمال ہستیوں کی موجودگی کسی بھی محفل کی رونق کو دوبالا ہی نہیں بلکہ چار چاند لگا دیتی ہے، اور یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جو دلوں میں نقش ہوکر ہمیشہ کے لیے یادگار بن جاتے ہیں۔

*(مادرِ علمی کے معزز اساتذۂ کرام کی موجودگی)*
ستونوں کا ذکر ہو بنیادوں کو فراموش کردیا جائے نہیں! ایسا نہیں بلکہ مضمون کا حق ہی ادا نہ ہو جب تک کہ بنیادی ارکان کا تذکرہ نہ کردوں! میری مراد مادر علمی جامع اشرف کے ہمارے مغزز و مکرم ، مشفق و محترم اساتذۂ کرام ہے۔
اساتذۂ کرام کسی بھی معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ صرف علم منتقل کرنے والے نہیں بلکہ کردار سازی کرنے والے، اخلاق سنوارنے والے اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ ایک استاذ اپنے شاگرد کے ذہن کو روشن کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے دل کو بھی آداب، اخلاص اور انسانیت کی روشنی سے منور کرتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں استاذ کا مقام نہایت ہی بلند ہے۔ استاذ کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا ہے، کیونکہ وہ انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کی محنت اور خلوص سے ایک عام طالب علم ،علم و عمل کا پیکر بن جاتا ہے اور معاشرے کے لیے مفید فرد ثابت ہوتا ہے۔

اساتذۂ کرام کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے شاگردوں میں صرف معلومات نہیں بلکہ فکر، شعور اور سلیقۂ زندگی پیدا کرتے ہیں۔ وہ صبر، تحمل اور محبت کے ساتھ طلبہ کی رہنمائی کرتے ہیں اور انہیں مشکلات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔

درحقیقت، ایک بہترین استاذ ہی ایک بہترین قوم کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگر اساتذہ مخلص، باکردار اور علم دوست ہوں تو پوری نسل سنور جاتی ہے۔

*(مادرِ علمی کی چند خصوصیات)*
پس یہاں کا تعلیمی معیار نہایت بلند اور معیاری ہے۔ علومِ قرآن، حدیث، فقہ، اصول، عربی ادب و اردو ادب،فارسی ادب اور دیگر دینی و دنیاوی علوم و فنون کو انتہائی تحقیق اور تدقیق کے ساتھ ہمارے معزز اساتذۂ کرام پڑھاتے ہی۔ طلبہ کی علمی و فکری تربیت اس انداز سے کرتے ہیں کہ وہ زمانے کے فتنوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بن جائیں اور دینِ اسلام کے سچے نمائندہ ثابت ہوں۔

مادرِ علمی جامع اشرف کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں علم کے ساتھ ادب کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ اساتذہ کا احترام، درسگاہ کا تقدس اور علم کی عظمت طلبہ کے دلوں میں راسخ کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے فارغین جہاں بھی جاتے ہیں، اپنے علم، کردار اور اخلاق کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔

مادرِ علمی جامع اشرف درگاہ کچھوچھہ شریف کی روحانی فضا اس ادارے کی علمی عظمت کو مزید جِلا بخشتی ہے۔یاں خانقاہی رنگ ہے طلباء کو صلوٰۃ و صوم ،ورد و وظائف اور خلقۂ ذکر سے نفس کو پاکیزہ بنانے کی بھی پھر پور کوششیں کی جاتی ہیں یہاں علم اور روحانیت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے، جو طلبہ کے ظاہر و باطن دونوں کی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔

*(دعائیہ کلمات)*
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے مولی تعالیٰ اپنے حبیب مکرم نورِ مجسم فخر دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم و آلہ و اصحابہ و ازواج مطہراتہ و اولیاء امتہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے صدقہ و توسل سے مادرِ علمی جامع اشرف، درگاہ کچھوچھہ شریف کو تا قیامت قائم و دائم رکھے، اس کے فیوض و برکات کو مزید عام فرمائے اور اسے علم و ہدایت کا ایسا ہی روشن مینار بنائے رکھے۔ اساتذۂ کرام کو صحت و عافیت،علم میں برکت اور اخلاص میں اضافہ عطا فرمائے، ان کی محنتوں کو قبول فرمائے اور انہیں دنیا و آخرت کی کامیابیوں سے نوازے۔ طلبہ کو علمِ نافع، عملِ صالح، حسنِ اخلاق اور دین پر استقامت عطا فرمائے، انہیں ملتِ اسلامیہ کا سچا خادم اور دین کا مضبوط سپاہی بنائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم و آلہ و اصحابہ و ازواج مطہراتہ و اولیاء امتہ رضوان اللہ علیہم اجمعین

پروردۂ جامع اشرف
گدائے حضور شیخ اعظم
محمد ناظم حبیبی اشرفی جامعی
بتاریخ: ١٨ شوال المکرم ١٤٤٧ھ
بمطابق 7 اپریل 2026ء بروز منگل

08/01/2026

*💐مادر علمی جامع اشرف کی بلند ترین درسگاہ💐*

ہر قوم کی شناخت اس کے تعلیمی اداروں سے ہوتی ہے، اور ہر درسگاہ اپنے فیضانِ علم و عمل سے تاریخ کے سینے پر نقوش چھوڑتی ہے۔ مادر علمی کی درسگاہ بھی انہیں روشن میناروں میں سے ایک مینار ہے، جو سالہا سال سے سے علم و عرفان کی مشعل بلند کیے کھڑی ہے۔

یہ درسگاہ ایک روحانی و عرفانی علم و ادب کی پناہ گاہ، ایک فکری مرکز، اور ایک ایسی معنوی چراگاہ ہے جہاں عقل و روح دونوں کو غذا ملتی ہے۔ یہاں جو قدم رکھتا ہے، وہ صرف تعلیم نہیں حاصل کرتا بلکہ انسانیت کا سبق بھی پڑھتا ہے۔

*(مادر علمی کا سنگ بنیاد )*
اس کی بنیاد حضور مخدوم العلماء شیخ اعظم حضرت علامہ و مولانا سید شاہ محمد اظہار اشرف اشرفی الجیلانی شہزادۂ حضور مخدوم المشائخ حضرت علامہ و مولانا مفتی سید شاہ محمد مختار اشرف اشرفی الجیلانی المعروف بہ سرکار کلاں (علیہما الرحمہ) نے اخلاص و مؤدت ،محبت و الفت پر سن 1399ھ/ 1978ء میں رکھ کر علوم اسلامیہ کی ایسی شمع جلائی جسکے نورانی و عرفانی انوار سے عوام و خواص کے قلوب و اذہان منور و مجلی ہوگئے، جسکی کرنوں سے ہزاروں گم گشتگان راہ نے ہدایت پائی، اس کے بانی نے نہ دولت و ثروت دیکھی، نہ دنیا کی چمک دمک بلکہ اپنی پوری توجہ مع جد و جہد کے اسی میں صرف کردی گویا کہ ان کی نگاہیں صرف رب کی رضا پر تھیں ،

*(مادر علمی کی شان )*
مادر علمی کیلئے اس سے زیادہ قابلِ فخر، فرحت ومسرت، انبساط و شادمانی، امتیازی شان و فیض روحانی ، باعث برکت عظمت و رفعت، سعادت اور آن بان شان کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ یہ آستانۂ حضور قدوۃ الکبری ،غوث العالم ، محبوب یزدانی ،تارک السلطنت حضرت سلطان سید اوحد الدین مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی نور بخشی رضی اللہ عنہ کے قرب و جوار میں فضائے روحانی و عرفانی سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔
جہاں مادر علمی سالک مسالک شریعت و طریقت ، واقف اسرار حقیقت و معرفت ،منبع برکات،پیکر انوار و تجلیات، مجدد سلسلۂ اشرفیہ جاجی الحرمین الشریفین حضرت سید شاہ ابو احمد محمد علی حسین اعلی حضرت اشرفی میاں رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نظر کیمیا اثر سے فیضیاب ہو رہی ہے، وہیں پہ حضور عالم ربانی واعظ لاثانی عارف حقانی سلطان الواعظین و سلطان المناظرین حضرت علامہ و مولانا حضرت سید شاہ محمد احمد اشرف اشرفی الجیلانی شہزادۂ حضور اعلی حضرت اشرفی میاں رحمۃ اللّٰہ علیہ سے بھی اکتسابِ فیض و فیضان کر رہی ہے۔

جہاں مادر علمی مظہر غوث العالم، آفتاب اشرفیت،گل و گلزار روحانیت،حضور مخدوم المشائخ حضرت علامہ و مولانا مفتی سید شاہ محمد مختار اشرف اشرفی الجیلانی المعروف بہ سرکار کلاں رحمۃ اللّٰہ علیہ کے انوار ولایت سے منور ہو رہی ہے،
وہیں حضور شیخ اعظم بانئ جامع اشرف مخدوم العلماء شیخ طریقت حضرت علامہ و مولانا سید شاہ محمد اظہار اشرف اشرفی الجیلانی شہزادۂ حضور سرکار کلاں رحمۃ اللّٰہ علیہ سے دعائیں حاصل کر رہی ہے گویا کہ آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ کے خامۂ زریں سے روحانی فیوض و برکات سے بھر پور روزانہ یہ پیاری سی صدا آتی ہے:
*جامع اشرف ہے فروغ سنیت کا شاہکار*
*جامع اشرف فیض مخدومی کی ہے اک یادگار*
*جامع اشرف احمد اشرف کے تخیل کا منار*
*ہو سلامت تا ابد پھولے پھلے لیل و نہار*

یہی وجہ ہے کہ مادر علمی کی فضا ہر سحر اک نئی علمی و ادبی روحانی و عرفانی ماحول لاتی ہے جس میں علوم دینیہ کی خوشبو مثل گل و گلزار ہر طالب علم کی مشام جاں کو معطر کرتی ہے ۔ پھر فجر کی جب آواز گونجتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے پھر اک نئی صبح کے ساتھ علمی دنیا بیدار ہو رہی ہے ۔ ترانہ کے بعد طلبائے جامع اشرف کے قدموں کی کھرکھراہٹ، طلباء کے درسگاہ میں باادب جلوہ افروز ہونے کے بعد اساتذۂ کرام کے افہام و تفہیم کے سریلے لہجے، کتابوں کے اوراق کی سرسراہٹ ، یہ سب مل کر ایک علمی نغمہ تخلیق کرتے ہیں۔

*(مادر علمی کے اساتذۂ ذوی الاحترام )*
ہوں تو مادر علمی میں ایک سے بڑھ کے ایک ماہر علوم و فنون ہے کوئی ماہر فن نحو و صرف ،کوئی ماہر فن فقہ و اصول فقہ ،کوئی ماہر فن تفسیر و میراث ،کوئی ماہر فن حدیث و تفسیر ،کوئی ماہر منطق و فلسفہ ،کوئی ماہر فن عربی ادب ،کوئی ماہر درس قرآن ،کوئی ماہر فتویٰ نویسی ،کوئی ماہر فارسی ادب ،کوئی ماہر عصری علوم کئی ہستیاں تو ایسی بھی ہیں جو آل راؤنڈر ہیں ماشاءاللہ مگر اس درسگاہ کے روحانی ستون تو باعمل ہی ہیں۔ ان کے چہروں پر علم و فضل، زہد و تقویٰ ،اخلاص و محبت کا نور اور لبوں پر نصیحت کی مٹھاس ہے۔
وہ محض معلم نہیں، مربی ہیں؛ محض استاذ نہیں، محسن ہیں، ان کی نگاہیں شاگردوں کے دلوں میں ایمان کے چراغ جلا دیتی ہیں ان کی خاموشی بھی درس ہے، انکی طرز زندگی نمونۂ عمل ہے مولی تعالیٰ میرے تمام تر اساتذۂ کرام کو اپنے حبیب مکرم نورِ مجسم فخر دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل سے سدا اپنے حفظ و امان میں رکھے انہیں سلامت با کرامت رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

*(طالبان علومِ نبویہ )*
یہ درسگاہ کے پھول ہیں، جو علم و اخلاق کی خوشبو پھیلاتے ہیں دن میں نور علم سے منور ہوتے ہیں، راتوں کو جاگ کر مطالعہ کرتے ہیں گویا کہ ٫٫من طلب العلی سھر اللیالی'' کے مصداق ہیں انکے دلوں میں امت کا درد ہوتا ہے ان کے ہاتھوں کا قلم تلوار سے زیادہ قیمتی ہے،

درسگاہیں علم کے سمندر کا کنارہ ہوتی ہیں، جہاں سے ہر قطرہ نور علم و ادب سے منور و مؤدب ہوکر باہر ٹپکتا ہے جہاں اذہان کو رہنمائی ملتی ہے، قلوب کو تسکین، ارواح کو غذا،اور زندگیوں کو مقصد، ہماری درسگاہیں امت کی امید ہیں اور اس کے ایسے چراغ ہیں جو کبھی بھی بجھ نہیں سکتے، کیونکہ یہ چراغ رحمت الٰہی کے تیل سے جلتے ہیں۔

مادر علمی کی درسگاہ بھی انہیں روشن چراغوں میں سے ایک ہے جو اپنی مثال خود آپ ہے یہ وہ زمین ہے جہاں علم کے بیج بوئے جاتے ہیں،اور دین کے درخت اگتے ہیں، یہ امت کی امید، معاشرت کی ضمیر، اور تہذیبِ اسلام کے رہبر ہیں۔
پس جہاں دنیائے سنیت میں کثیر مدارس اسلامیہ کی درسگاہوں کی عمارتیں "نور کے مینار" کہلاتی ہیں،
وہیں بلا شبہ مادر علمی جامع اشرف کی درسگاہ بھی علم کا مینار ہے جس سے یہ دلکش و دلنشیں صدا گونجتی ہے :

*گلشنِ اشرف سمنان ہے جامع اشرف*
*چشتی و قادری ریحان ہے جامع اشرف*

*شیخ اعظم کی سعی اور فیوض خواجہ*
*سر بسر چشتیہ فیضان ہے جامع اشرف*

*جسکی دیواروں سے آتی ہے ادب کی خوشبو*
*علم و حکمت کا وہ ایوان ہے جامع اشرف*
(ز شیخ حبیبی اشرفی جامعی متعلم )

المختصر
مادر علمی کی درسگاہ دراصل وہ باغ ہے جہاں علم کے پھول کھل کر امت کے دامن کو مہکاتے ہیں،اور جہاں سے اڑنے والی ہر تتلی، علم و عمل کی خوشبو لے کر جہالت کی بستیوں کو روشن کرتی ہے۔
یہ درسگاہ دراصل وہ روحانی و فکری قلعہ ہے جہاں علم و عرفان کا جام پلایا جاتا ہے گویا کہ یہ علم کی وہ نرسری ہے جہاں نونہالانِ ملت کو ایمان، تقویٰ، فہم و بصیرت اور خدمتِ دین کے رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ یہاں ہر صبح امید کی ضیا اور ہر شام ذکرِ الٰہی کی صدا سے مہکتی ہے۔ حقیقت میں یہ درسگاہ ایک ایسی مقدس سرزمین ہے جس پر ہر شب و روز ہزاروں متقین کی نگاہیں پڑتی ہیں جہاں سے علم کا سمندر بہنے کے ساتھ ساتھ فیض و فیضان کا سمندر بھی بہتا ہے، جسکی لہریں مارتی ہوئی موجیں جہالت کی ساکت موجوں کو بہانے اور اپنی لہروں میں شامل کرنے میں ہمیشہ مستعد رہتی ہیں۔

مولی تعالیٰ اپنے حبیب مکرم نورِ مجسم فخر دوعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے توسل سے ہماری مادرِ علمی پر اپنی خاص رحمتوں اور برکتوں کی بارش ہمیشہ کے لیے جاری فرمائے۔ اس مقدس گلشن سے ایمان کے پودے پروان چڑھتے رہیں، عقلیں منور ہوتی رہیں، اور قلوب نورِمعرفت سے جگمگاتے رہیں۔ اس درسگاہ کے در و دیوار علم و حکمت کی تجلیات سے منور رہیں، اور اس کی فضاؤں کو ذکر و فکر کی خوشبو سے لبریز فرمائے
ہمارے تمام تر اساتذہ کو اخلاصِ نیت، وسعتِ علم، اور نورِ بصیرت عطا فرمائے، تاکہ وہ نسلِ نو کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ، محبتِ دین، اور خدمتِ انسانیت کے چراغ روشن کرتے رہیں۔ ان کے وجود سے علم کی روشنی پھیلتی رہے اور ان کی زبانوں سے حکمت کے موتی جھڑتے رہیں۔

مادرِ علمی کے طلباء کو علم کے ساتھ عمل، فہم و فراست کے ساتھ اخلاق حسنہ،اور عقل کے ساتھ تدبر و تفکر کا ملکہ عطا فرمائے۔ ان کے دلوں میں دین کی عظمت، امت کی خیر خواہی، اور خدمتِ خلق کا جذبہ ہمیشہ زندہ رکھے۔ انہیں علم کے ایسے چراغ بنائے جو جہالت کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیں۔
یہ درسگاہ ہمیشہ چراغِ ہدایت بنی رہے، اس کی بنیادیں اخلاص، تقویٰ، اور ایمان کے ستونوں پر قائم رہیں۔ اسے ہر فتنے، ہر زوال، اور ہر بد نیتی سے محفوظ رکھے۔ اس ادارے سے نکلنے والے علماء و مصلحین، دنیا بھر میں دینِ اسلام کی سربلندی کا سبب بنیں۔
مادرِ علمی کو تا ابد علم و عرفان کا مرکز، خیر و برکت کا منبع، اور امتِ مسلمہ کے لیے ہدایت و روشنی کا مینار بنائے
آمین ثم آمین یا ربَّ العالمین بجاہ سید المرسلین خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم و آلہ و اصحابہ و ازواج مطہراتہ و اولیاء امتہ رضوان اللہ علیہم اجمعین


گدائے حضور شیخ اعظم
محمد ناظم حبیبی اشرفی جامعی
تخصص فی الفقہ سال آخر
بتاریخ: ١٨ رجب المرجب ١٤٤٧ھ
بمطابق 8 جنوری 2026ء بروز جمعرات



26/06/2025

ماہ محرم الحرام اسلامی نیاں سال تمام عالم اسلام کو تہے دل سے بہت مبارک ہو 🌹🌹🌹🌹

22/09/2024

حضور شیخ الاسلام حضرت سید علامہ مدنی اشرف اشرفی الجیلانی کچھوچھوی کی لاجواب تحقیق
✅💯

04/09/2024

Mah e Rabiunnoor bahut bahut Mubarak ho Sarkar ki aamad Marhaba
🥰🥰🥰❤️🥰🥰

12 Rabiunnoor ka chand Nazar nahi aaya

29/08/2024

*اعلیٰ حضرت اور سادات کرام کی عظمت*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محمد شاہ مخدوم رضا اشرفی جامعی ۔۔۔۔۔
استاذ:الجامعۃ الرضویۃ کلیان مہاراشٹر۔۔۔۔۔۔

شمع شبستان ولایت، بہار چمنستان معرفت، منبع علم و حکمت، قاطع دیوبندیت ووہابیت، امام الواصلین، سید العارفین، مولیٰ المسلمین، عاشق رسول، نائب انبیا، وارث غوث الوریٰ، امام عشق و محبت، مجدد دین و ملت، عظیم المرتبت، اعلیٰ حضرت، مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی ذات عالم اسلام میں محتاج تعارف نہیں، آپ نے ایسے ایسے کار ہائے نماں انجام دئے ہیں جن کو رہتی دنیا فراموش نہیں کر سکتی، حق و باطل کے درمیان ایسا خطِ امتیاز کھینچ دیا ہے جس سے باطل فرقوں میں کہرام مچ گیا ہے، آج آپ ( رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کا نام لیتے ہی فرقۂ باطلہ کے سینوں میں زلزلہ برپا ہوجاتا ہے۔
آپ نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ دین متین کی خدمت میں صرف کردی۔ اپنی خدا داد صلاحیتوں کے ذریعہ سیکڑوں کتابیں تصنیف فرماکر سعادتِ کونین اور شرافت دارین حاصل کی، جو امت مسلمہ کے لیے عظیم و بہترین سرمایہ ہیں۔ آپ نے جہاں ہمیں قرآن کو سمجھنے کے لیے ’’ کنز الایمان ‘‘ فقہ و افتاء کے لیے ’’ فتاویٰ رضویہ‘‘ نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علوم غیب پر ’’ الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ‘‘ اور فرقۂ باطلہ کے عقائد و نظریات کو جاننے کے لیے ’’ حُسام الحرمین‘‘ دیا، تو وہیں پر آپ نے عشق رسول و محبت رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم )میں جینا، مرنا بھی سکھایا، آپ کی آل و اصحاب کی تعظیم و تکریم کر کے ادب و احترم کا سلیقہ بتایا ، اور خود بھی ادب واحترام کا خوب خیال فرمایا۔

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ جس کے دل میں نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سچی محبت ہوگی، بلاشبہ اس کے دل میں سرکار مصطفی( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) کی آل کی بھی محبت ہوگی، اس لیے کہ محبت رسول ہو اور آل رسول کی محبت نہ ہو، تو یہ محبت کامل نہیں کہلائے گی، بلکہ ناقص کہلائے گی۔

قربان جائیں اعلیٰ حضرت امام عشق و محبت امام احمد رضا خان قدس سرہ پر کہ آپ نے اس محبت و الفت ، تعظیم و توقیر کا ثبوت اپنے اقوال و افعال، اشعار و ابیات، اور اخلاق و کردار سے اس طرح دیا، کہ آج بھی دنیا اس بات کو بلا تردد تسلیم کرتی ہے کہ امام احمد رضا نے جس طرح سادات کرام کی تعظیم و تکریم، محبت و الفت کر کے دکھائی ہے اس طرح، نہ کسی نے دکھائی ہے اور نہ ہی بتائی ہے۔ آپ کے اس طرز عمل کو دیکھنے والوں نے دیکھا، سماعت کرنے والوں نے سماعت بھی کی، اور عمل کر نے والے آج بھی عمل کر رہے ہیں۔

اعلیٰ حضرت اور سادات کرام کی عظمت:

اس میں کوئی رد و قدح نہیں کہ اس خطۂ ارض میں اگر اعلیٰ حسب و نسب کی بات کی جائے تو وہ سادات کرام و اہل بیت اطہار ہی ہیں کیوں کہ وہ نبی اکرم نورمجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذریت ہیں۔ جیسا کہ وارث علوم اعلیٰ حضرت، تلمیذ خاص، خلیفۂ اول حضرت علامہ ظفر الدین رضوی بہاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رقم طراز ہیں:’’ سادات کرام، جزِ رسول ( نبی پا ک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ منور کا ٹکڑا ) ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ تعظیم و توقیر کے حق دار ہیں اور اِس پر پورا عمل کرنے والا میں نے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو پایا۔ اس لئے کہ کسی سید صاحب کو وہ اس کی ذاتی جان پہچان یا قابلیت کے اعتبار سے نہیں دیکھتے تھے بلکہ اِس حیثیت سے ملاحظہ فرمایا کرتے تھے کہ وہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا جز ہیں، پھر اِس عقیدت و نظریے کے بعد جو کچھ اِن (ساداتِ کرام ) کی تعظیم و توقیر کی جائے، سب درست و بجا ہے۔
اعلیٰ حضرت (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ) اپنے قصیدۂ نور میں عرض کرتے ہیں:
تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانا نور کا
[حیاتِ اعلی حضرت ، ج: ۱، ص: ۱۶۵]

اعلیٰ حضرت امام عشق محبت امام احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سادات کرام کی عظمت کے متعلق کئی احادیث مبارکہ کو نقل فرما تے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’ جو شخص اولاد عبد المطلب میں سے کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اس کا صلہ دنیا میں نہ پائے، میں بہ نفس نفیس روزِ قیامت اس کا صلہ عطا فرماؤںگا ‘‘ ملخصا [ فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: ۲۱، ص: ۴۱۹ ]

اسی میں ایک اور حدیث پاک کے حوالے سے فرماتے ہیں: ’’ جو میری اولاد اور انصار اور عرب کا حق نہ پہچانے وہ تین علتوں سے خالی نہیں۔ یا تو منافق ہے یا حرامی یا حیضی بچہ۔ ( یہ بیہقی کے الفاظ زیدبن جبیر نے داؤو بن حصین سے انھوں نے ابن ابی رافع سے انھوں نے اپنے والد کے حوالہ سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا )
دوسروں کے الفاظ یوں ہیں۔ یا منافق، ولد زنا، یا اس کی ماں نے ناپاکی کی حالت میں اس کا حمل لیا‘‘ ملخصا [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: ۲۲؍ ۴۲۰ ]

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ خود اپنا ذاتی عمل کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’ یہ فقیر ذلیل بحمدہ تعالیٰ حضرات سادات کرام کا ادنیٰ غلام و خاک پا ہے ان کی محبت و عظمت ذریعۂ نجات و شفاعت جانتا ہے، اپنی کتابوں میں چھاپ چکا ہے کہ سید اگر بد مذہب بھی ہوجائے تو اس کی تعظیم نہیں جاتی، جب تک بدمذہبی حد کفر تک نہ پہنچے، ہاں بعد کفر سیادت ہی نہیں رہتی، پھر اس کی تعظیم حرام ہو جاتی ہے‘‘ ملخصاً
[فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: ۲۹، ص: ۵۸۷]

اعلیٰ حضرت کا تعظیم ِسادات نہ کر نے پر تنبیہ کرنا:

اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دل سادات کرام کی محبت و عظمت سے اس قدر بھراہوا تھا کہ کسی سید زادے کو نام لے کر پکارنا بے ادبی و گستاخی سمجھتے تھے۔ اگر کوئی آپ کے سامنے نام لے کر پکار لیتا تو اسی وقت اس کی اصلاح فرماتے ہوئے کہتے کہ سید زادے کو نام لے کرمت پکارو۔

ملِک العلما، حضرت علامہ ظفر الدین قادری بہاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’ حضرت مولانا نور محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اورحضرت مولانا سید قناعت علی رحمۃ اللہ الولی یہ دونوں حضرات مجددِ دین وملت، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی صحبتِ بابرکت میں رہ کر علم دین حاصل کر تے تھے۔ ایک مرتبہ مولانا نور محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سیدصاحب کا نام لے کر اِس طرح پکارا: قناعت علی، قناعت علی! جب حضونبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عاشق صادق، اعلیٰ حضر ت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو گوارا نہ کیا کہ خاندانِ رسول کے شہزادے کواس طرح نام لے کرپکارا جائے۔ فوراً مولانا نور محمد صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوبلوایا اور اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے فرمایا: کیا سید زادوں کو اِس طرح پکارتے ہیں؟ کبھی مجھے بھی اِس طرح پکارتے ہوئے سنا؟ ( یعنی میں تو استاد ہوں پھر بھی کبھی ایسا انداز اِختیارنہیں کیا) یہ سن کرمولانا نور محمد صاحب بہت شرمندہ ہوئے اورندامت سے نِگاہیں جھکالیں۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ’’ جائیے! آئندہ خیال رکھئے گا‘‘
[ حیات اعلیٰ حضرت ، ض: ۱، ص: ۱۷۹]

اعلیٰ حضرت اور پالکی پر سواری:

اعلیٰ حضرت کو سیکڑوں علوم و فنون پر مہارت تامہ حاصل تھی،آپ کے علم کا شہرہ افق فلک کی بلندی پر گونج رہا ہے، لیکن اس کے باوجود آپ کے قلب اطہر میں سادات کرام کی عظمت اس قدر بسی تھی جس کی مثال دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس کا اندازہ مندرجہ ذیل واقعہ سے لگا یا جاسکتا ہے۔

حیات اعلیٰ حضرت میں ہے:’’ بریلی شر یف کے کسی محلے میں اعلیٰ حضرت، امامِ اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مدعو ( دعوت پر بلائے گئے) تھے۔ اِرادت مندوں نے اپنے یہاں لانے کے لئے پالکی کا اِہتما م کیا تھا۔ چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سوار ہوگئے اورچار مزدور، پالکی کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر چل دیئے۔ ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ یکایک، امامِ اہل سنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پالکی میں سے آوازدی:’’ پالکی روک دیجئے‘‘ پالکی رک گئی۔ آپ فوراً باہر تشریف لائے اور بھرائی ہوئی آواز میں مزدوروں سے فرمایا:’’ سچ سچ بتایئے! آپ میں سید زادہ کون ہے؟
کیونکہ میرا ذوقِ ایمان سرورِ دوجہان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو محسوس کررہا ہے‘‘ ایک مزدور نے آگے بڑھ کر عرض کی: ’’ حضور! میں سید ہوں‘‘ ابھی ان کی بات مکمل بھی نہ ہونے پائی تھی کہ عالم اسلام کے پیشوا اور اپنے وقت کے عظیم مجدد نے اپناعمامہ شریف اس سید زادے کے قدموں میں رکھ دیا۔ امامِ اہل سنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گررہے ہیں اور ہاتھ جوڑ کر التجا کر رہے ہیں: ’’ معزز شہزادے! میری گستاخی معاف کردیجئے، بے خیالی میں مجھ سے بھول ہوگئی، ہائے غضب ہوگیا! جن کی نعلِ پاک میرے سرکاتاجِ عزت ہے، ان کے کاندھے پر میں نے سواری کی، اگربروزِ قیامت تاجدارِ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ واٰٰلہ وسلم نے پوچھ لیاکہ احمد رضا! کیا میرے فرزند کا دوشِ نازنیں (یعنی نازک کندھا) اِس لئے تھا کہ وہ تیری سواری کا بوجھ اٹھائے؟
تو میں کیا جواب دوں گا! اس وقت میدانِ محشر میں میرے ناموسِ عشق کی کتنی زبردست رسوائی ہوگی۔ کئی بارزبان سے معاف کردینے کا اِقرار کروالینے کے بعد امامِ اہل سنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آخری التجائے شوق پیش کی: محترم شہزادے! اس لاشعوری میں ہونے والی خطا کا کفارہ جبھی ادا ہوگا کہ اب آپ پالکی میں سوار ہوں گے اور میں پالکی کو کاندھا، دوں گا۔ اس اِلتجا پر لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اوربعض کی تو چیخیں بھی بلند ہوگئیں۔ ہزار اِنکار کے بعد آخر کار مزدور شہزادے کو پالکی میں سوار ہونا ہی پڑا۔ یہ منظر کس قدردل سوز ہے، اہل سنت کا جلیل القدر امام مزدوروں میں شامِل ہو کر اپنی خداداد علمیت اورعالمگیر شہرت کاسارا اِعزاز خوشنودیِ محبوب کی خاطر ایک گمنام مزدور شہزادے کے قدموں پر نِثار کررہا ہے‘‘ [انوار رضا، ص: ۴۱۵]

اعلیٰ حضرت کے دولت کدہ میں ایک کمسن سید زادے کا واقعہ:

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز سادات کرام کے متعلق کس طرح احتیاط برتتے تھے اوران کی عظمت و احترام آپ کے دل میں کس حد تک جاں گزیں تھا زیر اقتباس سے ملاحظہ فرمائیں:
چناں چہ حیات اعلیٰ حضرت میں ہے، جناب سید ایوب علی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بیان کرتے ہیں: ’’ ایک کم عمرصاحبزادے خانہ داری کے کاموں میں اِمداد کے لیے ( اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ) کاشانہ اقدس میں ملازم ہوئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سید زادے ہیں لہٰذا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے گھر والوں کو تاکید فرما دی کہ صاحبزادے سے خبر دار کوئی کام نہ لیا جائے کہ مخدوم زادہ ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فرزندِ ارجمند ہیں ،ان سے خدمت نہیں لینی بلکہ ان کی خدمت کرنی ہے، لہٰذاکھانا وغیرہ اور جس شے کی ضرورت ہو ان کی خدمت میں حاضر کی جائے۔ جس تنخواہ کا وعدہ ہے وہ بطورِ نذرانہ پیش ہوتا رہے، چنانچہ حسب الارشاد تعمیل ہوتی رہی۔ کچھ عرصہ کے بعد وہ صاحبزادے خود ہی تشریف لے گئے‘
[ حیات اعلیٰ حضرت،ج: ۱، ص: ۲۲۳]

اعلیٰ حضرت کی ناراضگی اور قولِ سید کی فرما برداری:

سیرت اعلیٰ حضرت میں ہے:’’ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کبھی ناراض ہوتے تو کھانا، پینا اور حقہ، پان چھوڑ دیتے تھے جس سے آپ کو کافی پریشانی ہوتی تھی، بسااوقات یہ معاملہ پیش آہی جاتا تھا۔ اس ناگواری کو دور کر نے کے لیے سب سے پہلے تو خاندان والے اور احباب اس غصے کے فروکرنے کی کوشش کرتے۔ اگر وہ اس مجاہدے کو نہ ختم کرا سکے تو سید صاحبان سے عرض کیا جا تا تھا۔ اعلیٰ حضرت کو سید صاحب کے حکم کی تعمیل کرنا پڑتی تھی۔ اعلیٰ حضرت قبلہ نے ایک بارکھانا چھوڑا اور صرف ناشتے پر قناعت کی۔ اس میں بھی کوئی اضافہ منظور نہ فرمایا۔ سارے خاندان اور ان کے احباب کی کوشش رائگاں ہو گئی۔ سید مقبول صاحب کی خدمت میں نومحلہ حاضر ہوئے، عرض کیا! آج دو مہینے ہونے کو آئے کہ اعلیٰ حضرت نے کھانا چھوڑ دیا ہے، ہم سب کوشش کر کے تھک گئے ہیں، آپ ہی انہیں مجبور کر سکتے ہیں۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ ہماری زندگی میں انہیں یہ ہمت ہوگئی ہے کہ وہ کھانا چھوڑ بیٹھے ہیں، ابھی کھانا تیار کرا تا ہوں اور لے کر آتا ہوں، حسب وعدہ سید مقبول صاحب ایک نعمت خانہ میں کھانالے کرخود تشریف لائے، اعلیٰ حضرت قبلہ زنانے مکان میں تھے۔ سید صاحب کی اطلاع پاتے ہی باہر آگئے۔ سید صاحب سے قدم بوس ہوئے۔ اب بات چیت شروع ہوئی۔ سید صاحب نے فرمایا میں نے سنا ہے کہ آپ نے کھانا چھوڑ دیا ہے۔ اعلیٰ حضرت نے عرض کیا کہ میں تو روز کھا تا ہوں۔ سید صاحب نے فرمایا مجھے معلوم ہے جیسا آپ کھاتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے عرض کیا کہ حضور میرے معاملات میں اب تک کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ میں اپنا سب کام بدستور کر رہا ہوں، مجھے اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں معلوم ہوتی تو سید صاحب قبلہ برہم ہو گئے اور کھڑے ہو کر فرمانے لگے: اچھا ! تو میں کھانا لیے جا تا ہوں، کل میدان قیامت میں سرکار دوجہاں کا دامن پکڑ کر عرض کروں گا کہ ایک سیدانی نے بڑے شوق سے کھانا پکایا او رسید لے کر آیا مگر آپ کے احمد رضا خاں نے کسی طرح نہ کھایا۔ اس پراعلیٰ حضرت کانپ گئے، عرض کیا کہ میں تعمیلِ حکم کے لیے حاضر ہوں۔ ابھی کھائے لیتا ہوں۔ سید صاحب قبلہ نے فرمایا کہ اب تو یہ کھانا تم جب ہی کھا سکتے ہوجب یہ وعدہ کرو کہ اب عمر بھر کھانا نہ چھوڑو گے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت قبلہ نے عمر بھر کھانا نہ چھوڑ نے کا وعدہ کیا تو سید صاحب قبلہ نے اپنے سامنے انہیں کھلایا اور خوش خوش تشریف لے گئے۔
اعلی حضرت کے لیے سادات کرام کا جائز حکم آخری ہوتا تھا۔ سادات کرام کے حکم کے بعد اعلیٰ حضرت کو سواے تعمیلِ حکم کے کوئی چارہ ٔکا رہی نہ ہوتا تھا۔ ہم نے ان کے والد ماجد کا دور تو نہ دیکھا مگر یہ دیکھا کہ اللہ اور رسول کے حکم کے بعد اعلیٰ حضرت کے یہاں سادات کرام ہی کا حکم نافذ ہوسکتا تھا۔ یہ نا قابل انکار حقیقت ہے کہ سرکار دو عالم کی آخری وصیت ’’ ان تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی‘‘ترجمہ: میں دو بھاری امانتیں چھوڑ تا ہوں،اللہ کی کتاب اوراپنی اولاد۔ اس پر پورا پوراعمل کر کے اس دور میں اعلیٰ حضرت قبلہ ہی نے دکھایا‘‘
[سیرت اعلیٰ حضرت، ص: ۹۵؍ ۹۷]

اعلیٰ حضرت اور سادات مارہرہ مقدسہ:

مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب فریدی صدر مدرس ’’ مدرسہ شمس العلوم بدایوں ‘‘ کا بیان ہے : ’’ حضرت مہدی حسن سجادہ نشین سرکارکلاں مارہرہ شریف نے فرمایا: میں جب بریلی آتا تواعلیٰ حضرت خود کھانا لاتے اور ہاتھ دھلاتے۔ حسب دستور ہاتھ دھلاتے وقت فرمایا۔ حضرت شہزادہ صاحب! یہ انگوٹھی اور چھلے مجھے دیجیے، میں نے فوراً اتار کر دے دی اور وہاں سے بمبئی چلا گیا۔ بمبئی سے مارہرہ واپس آیا، تو میری بیٹی فاطمہ نے کہا ابا! بریلی کے مولانا صاحب کے یہاں سے پارسل آیا تھا، جس میں چھلے اور انگوٹھی تھے، یہ دونوں طلائی تھے۔ والانامہ اس میں مذکور تھا، شہزادی صاحبہ یہ دونوں طلائی اشیا آپ کی ہیں۔ یہ تھااعلیٰ حضرت کا سادات اور پیرزادوں کا احترام ‘‘ [ حیات اعلیٰ حضرت، ج:۱، ص: ۲۳۴]

اعلیٰ حضرت اور احترام سادات کچھو چھ مقدسہ:

مولانا تقدس علی خان رضوی تحریر فرماتے ہیں : ’’ ہم شبیہ غوث اعظم سید شاہ علی حسین اشرفی الجیلانی اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ اولاد امجاد سرکار غوث اعظم اکثر و بیشتر اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ سے ملاقات کے لئے بریلی تشریف لاتے، تو اعلیٰ حضرت ان کا بہت احترام فرماتے، دست بوسی فرماتے، اور اعلیٰ حضرت جس مسند پر بیٹھتے تھے اس پر کسی کو نہیں بٹھاتے تھے، ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ ہم شبیہ غوث اعظم سید شاہ علی حسین اشرفی میاں علیہ الرحمہ آپ سے ملنے آئے تو آپ نے اپنی مسند پر ان کو بٹھایا مولانا عبد الحکیم ا شرفی قادری تحریر فرماتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت، سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کی قدم بوسی فرماتے تھے‘‘ [ ماہنامہ کنز الایمان و البریلوی کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ]

محدث اعظم اعلیٰ حضرت کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں، امام اہل سنت، بوجہ سیادت آپ کاغایت درجہ احترام فرماتے تھے چنانچہ جب محدث اعظم ہند علامہ سید محمد اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ بریلی پہونچے ابھی پہلا ہی جمعہ تھا کہ آپ کو سب سے پچھلی صف میں جگہ ملی اعلیٰ حضرت نے نماز جمعہ پڑھائی نماز جمعہ کے دو فرض سے فارغ ہونے کے بعد اگلی صف کے لوگوں سے سید صاحب کے بارے میں پوچھا، جاننے والوں نے کہا: حضور وہ سب سے پچھلی صف میں ہیں، فوراً اعلیٰ حضرت، محدث اعظم ہند والی صف میں پہونچے اور مصافحہ کیا، اگلی صف میں جگہ دلوائی، پھر سنن و نوافل ادا فرمائی، حاضرین نے امام اہل سنت کا جب یہ عمل دیکھا تو شہزادہ مخدوم اشرف سے مصافحے کے لئے بھیڑ جمع ہوگئی، محدث اعظم فرماتے ہیں: اس کے بعد عالم یہ تھا جدھر نکل جاتا تو سلام کا جواب دینے اورلوگوں سے مصافحہ سے فرصت نہ ملتی تھی یہ واقعہ خود محدث اعظم ہند نے ’’ ناگپور ‘‘ کی سر زمین پر ماہ شوال المکرم میں منعقدہ ۱۴۷۹؁ھ کو جشن یوم ولادتِ اعلیٰ حضرت کے مبارک موقع پر خطبہ صدارت میں بیان فرمایا‘‘
[استفادہ: مضمون محمد قاسم القادری نعیمی چشتی]

اکرام ِسادات کے لیے نہ یقین کی ضرورت ، نہ سندکی حاجت:

کسی سید کی تعظیم و توقیر کے لیے ہمیں نہ یقین کی ضرورت ہے اور نہ ہی سند کی، لہٰذا جو لوگ سادات کہلاتے ہیں ان کا ادب و احترام ہم پر لازم ہے۔ ہمیں ان کے حسب و نسب کی چھان پھٹک کر نے کی کوئی ضرورت نہیں، اور نہ ہی شریعت ہمیں اس کا حکم دیتی ہے۔ ہاں اگر کسی کے بارے میں یقین قطعی ہو کہ واقعی یہ سید نہیں ہے، تو اس کی تعظیم ہم پر واجب نہیں، اور یہ بھی بہتر ہے کہ اس کے متعلق لوگوں کو بتا دیں تاکہ لوگ اس کے فریب سے بچ سکے۔
اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ مرقدہ سے ساداتِ کرام کے متعلق ’’ سید ‘‘ ہونے کی’’ سَنَد‘‘ دریافت کرنے اور نہ ملنے پر بُرا کہنے والے شخص کے بارے میں سوال ہوا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ فقیر بارہا فتویٰ دے چکا ہے کہ کسی کو سید سمجھنے اور اس کی تعظیم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذاتی علم سے اسے سید جاننا ضروری نہیں، جو لوگ سید کہلائے جاتے ہیں ہم ان کی تعظیم کریں گے، ہمیں تحقیقات کی حاجت نہیں، نہ سیادت کی سند مانگنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اورخواہی نخواہی سند دکھانے پر مجبور کرنا اور نہ دکھائیں تو برا کہنا، مطعون کرنا ہر گز جائز نہیں۔ ’’الناس امنأ علی انسابِھِم‘‘ ( لوگ اپنے نسب پر امین ہیں )۔

ہاں جس کی نسبت ہمیں خوب تحقیق معلوم ہو کہ یہ سید نہیں اور وہ سید بنے، اس کی ہم تعظیم نہ کریں گے، نہ اسے سید کہیں گے اور مناسب ہوگا کہ ناواقفوں کو اس کے فریب سے مطلع کر دیا جائے۔
میرے خیال میں ایک حکایت ہے جس پرمیرا عمل ہے کہ ایک شخص کسی سید سے اُلجھا، انہوں نے فرمایا: میں سید ہوں، کہا: کیا سند ہے تمہارے سید ہونے کی؟ رات کو زیارتِ اقدس سے مشرف ہوا کہ معرکۂ حشر ہے، یہ شفاعت خواہ ہوا، اِعراض فرمایا، اس نے عرض کی: میں بھی حضور کا امتی ہوں! فرمایا: کیا سند ہے تیرے امتی ہونے کی؟‘‘ ملخصا
[ فتاوی رضویہ مترجم، ج: ۲۹، ۵۸۷]

سادات کرام کی تعظیم فرض، توہین حرام:

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فراما تے ہیں :’’ سادات کرام کی تعظیم فرض ہے۔ اور ان کی توہین حرام، بلکہ علمائے کرام نے ارشاد فرمایا: جو کسی عالم کو مولوی' یا کسی کو میروا، بروجہ تحقیر کہے کافر ہے۔ ’’مجمع الانہر‘‘ میں ہے:’’ الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال لعالم عویلم اولعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر‘‘ سادات کرام اور علما کی تحقیر کفر ہے، جس نے عالم کی تصغیر کر کے عویلم یا علوی کو علیوی تحقیر کی نیت سے کہا تو کفر کیا‘‘ ملخصاً [ فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: ۲۲، ص: ۴۲۰ ]
تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانا نور کا

ساکن: کوچگڑھ، روٹا، پورنیہ، بہار
استاذ: الجامعۃ الرضویہ بیل بازار کلیان ممبئی

Want your school to be the top-listed School/college in Azamgarh?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Dargah Kichhoucha Sharif
Azamgarh
224155