06/04/2026
*{تعطیل کلاں کے بعد مادرِ علمی جامع اشرف،درگاہ کچھوچھہ شریف کی تعلیم کا متبرک و پر فیض آغاز }*
مادرِ علمی جامع اشرف، درگاہ کچھوچھہ شریف برصغیر کے ان عظیم علمی و روحانی مراکز میں سے ایک ہے جہاں علم، عمل، تقویٰ اور محبتِ رسول ﷺ کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ یہ وہ مبارک درسگاہ ہے جس نے نہ صرف علومِ دینیہ کی آبیاری کی بلکہ ایسے ایسے رجالِ کار پیدا کیے جنہوں نے دینِ اسلام کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ جو ملک و بیرونِ ممالک اپنے اپنے منصبوں پہ اپنی دینی و ملی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ (مولی تعالیٰ مرے تمام جامعی برادران کو سلامت رکھے! آمین)
یہاں کی فضا میں اخلاص کی مہک، ادب کی لطافت اور روحانیت کی تاثیر رچی بسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بجا طور پر جامعی برادران “مادرِ علمی” کہا کرتے ہیں ، کیونکہ اس کی آغوش سے نکلنے والے علماء دنیا بھر میں علم و ہدایت کے چراغ روشن کرتے ہیں۔مادرِ علمی جامع اشرف، محض ایک دینی درسگاہ نہیں بلکہ علم و ادب کا ایسا درخشاں مرکز ہے جہاں تعلیم کی اہمیت صرف نصاب تک محدود نہیں بلکہ فکر و شعور اور کردار کی تشکیل تک پھیلی ہوئی ہے۔
*(افتتاح دروس بزبان شیخ جامعہ)*
بتاریخ ١٧ شوال المکرم ١٤٤٧ھ بمطابق 6 اپریل 2026ء بروز پیر کو مادر علمی جامع اشرف درگاہ کچھوچھہ شریف کی تعطیل کلاں کے بعد اس سال کی تعلیم کا پر فیض آغاز، بزبان فیض ترجمان استاذ العلماء، استاذ الاساتذہ ،استاذ السادات و المشائخ، استاذی المکرم، مخدوم گرامی حضرت حافظ و قاری علامہ و مولانا مفتی محمد قمر عالم صدیقی قادری اشرفی مصباحی مظفر پوری شیخ الحدیث جامع اشرف درگاہ کچھوچھہ شریف (سابق شیخ الحدیث جمدا شاہی بستی یوپی ) ہوا۔آپ کی ذاتِ گرامی علم و فضل، تقویٰ و پرہیزگاری اور تدریسی مہارت کا حسین امتزاج ہے۔ آپ نے دارالعلوم علیمیہ، جمدا شاہی یوپی میں بھی بحیثیت مدرس و شیخ الحدیث ایک عرصہ دراز تک اپنے علمی جواہر لٹائے اور بے شمار طلبہ کو علمِ نحو و صرف ،حدیث و اصول حدیث ،فقہ و اصول فقہ ،منطق و فلسفہ خصوصا حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے منور و مجلی فرمایا۔
*(ٹیسٹ میں کامیابیوں سے سرخرو طلباء)*
اس بابرکت موقع پر داخلہ ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنے والے بلکہ جدید و قدیم طلبہ کا منظر نہایت دلکش اور ایمان افروز تھا۔اپنا مخصوص سفید، لباس جامع اشرف میں ملبوس، ادب و خاموشی کے ساتھ بیٹھے ہوئے یہ طلبہ گویا علم کے متلاشی پروانے نظر آتے تھے جو شمعِ علم کے گرد جمع ہیں۔ ان کی آنکھوں میں شوق کی چمک، دلوں میں عزم کی حرارت اور چہروں پر سنجیدگی کی جھلک صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔ ہر طالب علم گویا یہ عہد کر رہا تھا کہ وہ علم کے اس سفر کو اخلاص کے ساتھ طے کرے گا اور دینِ اسلام کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے گا۔
*(ناظمِ اعلیٰ و صدر المدرسین کا ناصحانہ خطاب نایاب)*
مادرِ علمی جامع اشرف، درگاہ کچھوچھہ شریف کی افتتاح دروس کی یہ نورانی محفل یقیناً اپنے اندر ایک خاص جاذبیت اور روحانیت لیے ہوئے تھی، مگر جب اس میں ناظمِ اعلیٰ، فصیح اللسان، ساحر البیان، خطیبِ ذی شان حضرت علامہ و مولانا قمر احمد اشرفی مصباحی مدّ ظلّہ العالی کی باوقار تشریف آوری ہوئی تو گویا محفل میں جان سی آ گئی۔ آپ کے پرجوش اور دلنشیں ناصحانہ اندازِ گفتگو نے سامعین کے قلوب کو گرما دیا اور مادر علمی جامع اشرف کی تعلیمی معیار کی جھلکیاں دکھا دیں، علم و ادب کی ایک نئی فضا قائم کر دی۔ آپ کی زبان کی فصاحت اور بیان کی سحر انگیزی نے محفل کو مسحور کن بنا دیا۔آپ کا اندازِ گفتگو راقم الحروف کے اپنی مادر علمی کی شان کو اجاگر کرتے ہوئے اشعار کو جا ٹکرایا جو کہ یہ ہیں:
بحر: رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
ارکان: فاعلاتن فعِلاتن فعلاتن فعلن
==================================
*گلشنِ اشرف سمنان ہے جامع اشرف*
*چشتیُ و قادری ریحان ہے جامع اشرف*
*فقہُ و قرآنُ و تفاسیرُ و حدیثُ و تجوید*
*جس کے اندر ہیں وہ جزدان ہے جامع اشرف*
*شیخ اعظم کی سعی اور فیوض خواجہ*
*سر بسر چشتیہ فیضان ہے جامع اشرف*
*جسکی تعلیم کی بنیاد ہے قرآن و حدیث*
*اہلسنت کی وہ پہچان ہے جامع اشرف*
*جسکی دیواروں سے آتی ہے ادب کی خوشبو*
*علم و حکمت کا وہ ایوان ہے جامع اشرف*
*اہلِ سنّت کے مقدر کا چمکتا سورج*
*صبحِ امید کی پروان ہے جامعِ اشرف*
*جس کے اسباق سے روشن ہے چراغ ایماں*
*نورِ قرآن کا عنوان ہے جامعِ اشرف*
*غوث و خواجہ و شہِ سمناں کے جلوے ہیں جہاں*
*ہاں وہی جلوۂ جانان ہے جامع اشرف*
*جس کی دیوار سے ٹکرائے تو باطل ٹوٹے*
*حق کا میزانِ درخشان ہے جامعِ اشرف*
*یہ وہ مرکز ہے جہاں فکرِ رضاؔ زندہ ہے*
*علم و حکمت کا وہ دیوان ہے جامع اشرف*
*یہ وہ گلشن ہے جہاں علم کے پھولوں کی بہار*
*ہر قدم رشکِ گلستان ہے جامع اشرف*
*ہر طرف نعت کی خوشبو سے معطر ہے فَضا*
*محفلِ عشق کا گلدان ہے جامع اشرف*
*اشرفی فیض کا یہ چشمہ رواں دائم ہے*
*موجِ فیضان کا طغیان ہے جامع اشرف*
*علم کے موتی بکھرتے ہیں جہاں صبح و مسا*
*عقل و دانش کا وہ سامان ہے جامعِ اشرف*
*اس سے ہر دور یقینا ہی ضیا پائے گا*
*شمعِ حق شمعِ شبستان ہے جامع اشرف*
*اولیاء غوث و قطب کا ہے جو مخزن ناظم !*
*فیضُ و برکت کا وہ ایوان ہے جامع اشرف*
==================================
اسی نورانی سلسلے کو مزید جِلا اُس وقت ملی جب استاذ العلماء، استاذ الاساتذہ، مشفق و مربی، ماہرِ درسیات حضرت علامہ و مولانا مفتی عبد الخالق اشرفی جامعی راج محلی مدّ ظلّہ العالی صدر المدرسین و صدر شعبۂ افتاء جامع اشرف نے اپنے ناصحانہ کلمات سے حاضرین کے قلوب کو منور فرمایا۔ آپ کی گفتگو نہایت حکیمانہ، دلنشیں اور اثر آفرین تھی۔ ہر جملہ گویا نصیحت کا موتی اور ہر بات دل کی گہرائیوں میں اتر جانے والی تھی۔
آپ نے طلبہ کو اخلاصِ نیت، محنت و استقامت، اور علم کے ساتھ عمل کی اہمیت پر نہایت مؤثر انداز میں متوجہ فرمایا۔ آپ کے انداز میں شفقتِ پدرانہ اور دردِ دل نمایاں تھا، جس نے طلبہ کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ایک مہربان استاد اپنے شاگردوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے نہایت خلوص کے ساتھ رہنمائی کر رہا ہے۔
آپ کی نصیحتوں نے محفل کو محض علمی نہیں بلکہ اصلاحی رنگ بھی عطا کیا، جس سے حاضرین کے دلوں میں عمل کا جذبہ بیدار ہوا اور علم کی قدر و قیمت مزید اجاگر ہوئی۔
بلاشبہ، ان دونوں عظیم شخصیات کی شرکت نے اس محفل کو محض ایک اجتماع نہیں رہنے دیا بلکہ اسے علم، ادب اور اخلاص کا ایک حسین سنگم بنا دیا۔ یہ وہ مبارک لمحہ تھا جب الفاظ میں تاثیر، نگاہوں میں شفقت اور فضا میں علم کی خوشبو محسوس کی جا رہی تھی۔
یقیناً، ایسی باکمال ہستیوں کی موجودگی کسی بھی محفل کی رونق کو دوبالا ہی نہیں بلکہ چار چاند لگا دیتی ہے، اور یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جو دلوں میں نقش ہوکر ہمیشہ کے لیے یادگار بن جاتے ہیں۔
*(مادرِ علمی کے معزز اساتذۂ کرام کی موجودگی)*
ستونوں کا ذکر ہو بنیادوں کو فراموش کردیا جائے نہیں! ایسا نہیں بلکہ مضمون کا حق ہی ادا نہ ہو جب تک کہ بنیادی ارکان کا تذکرہ نہ کردوں! میری مراد مادر علمی جامع اشرف کے ہمارے مغزز و مکرم ، مشفق و محترم اساتذۂ کرام ہے۔
اساتذۂ کرام کسی بھی معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ صرف علم منتقل کرنے والے نہیں بلکہ کردار سازی کرنے والے، اخلاق سنوارنے والے اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ ایک استاذ اپنے شاگرد کے ذہن کو روشن کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے دل کو بھی آداب، اخلاص اور انسانیت کی روشنی سے منور کرتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں استاذ کا مقام نہایت ہی بلند ہے۔ استاذ کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا ہے، کیونکہ وہ انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کی محنت اور خلوص سے ایک عام طالب علم ،علم و عمل کا پیکر بن جاتا ہے اور معاشرے کے لیے مفید فرد ثابت ہوتا ہے۔
اساتذۂ کرام کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے شاگردوں میں صرف معلومات نہیں بلکہ فکر، شعور اور سلیقۂ زندگی پیدا کرتے ہیں۔ وہ صبر، تحمل اور محبت کے ساتھ طلبہ کی رہنمائی کرتے ہیں اور انہیں مشکلات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔
درحقیقت، ایک بہترین استاذ ہی ایک بہترین قوم کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگر اساتذہ مخلص، باکردار اور علم دوست ہوں تو پوری نسل سنور جاتی ہے۔
*(مادرِ علمی کی چند خصوصیات)*
پس یہاں کا تعلیمی معیار نہایت بلند اور معیاری ہے۔ علومِ قرآن، حدیث، فقہ، اصول، عربی ادب و اردو ادب،فارسی ادب اور دیگر دینی و دنیاوی علوم و فنون کو انتہائی تحقیق اور تدقیق کے ساتھ ہمارے معزز اساتذۂ کرام پڑھاتے ہی۔ طلبہ کی علمی و فکری تربیت اس انداز سے کرتے ہیں کہ وہ زمانے کے فتنوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بن جائیں اور دینِ اسلام کے سچے نمائندہ ثابت ہوں۔
مادرِ علمی جامع اشرف کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں علم کے ساتھ ادب کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ اساتذہ کا احترام، درسگاہ کا تقدس اور علم کی عظمت طلبہ کے دلوں میں راسخ کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے فارغین جہاں بھی جاتے ہیں، اپنے علم، کردار اور اخلاق کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔
مادرِ علمی جامع اشرف درگاہ کچھوچھہ شریف کی روحانی فضا اس ادارے کی علمی عظمت کو مزید جِلا بخشتی ہے۔یاں خانقاہی رنگ ہے طلباء کو صلوٰۃ و صوم ،ورد و وظائف اور خلقۂ ذکر سے نفس کو پاکیزہ بنانے کی بھی پھر پور کوششیں کی جاتی ہیں یہاں علم اور روحانیت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے، جو طلبہ کے ظاہر و باطن دونوں کی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔
*(دعائیہ کلمات)*
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے مولی تعالیٰ اپنے حبیب مکرم نورِ مجسم فخر دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم و آلہ و اصحابہ و ازواج مطہراتہ و اولیاء امتہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے صدقہ و توسل سے مادرِ علمی جامع اشرف، درگاہ کچھوچھہ شریف کو تا قیامت قائم و دائم رکھے، اس کے فیوض و برکات کو مزید عام فرمائے اور اسے علم و ہدایت کا ایسا ہی روشن مینار بنائے رکھے۔ اساتذۂ کرام کو صحت و عافیت،علم میں برکت اور اخلاص میں اضافہ عطا فرمائے، ان کی محنتوں کو قبول فرمائے اور انہیں دنیا و آخرت کی کامیابیوں سے نوازے۔ طلبہ کو علمِ نافع، عملِ صالح، حسنِ اخلاق اور دین پر استقامت عطا فرمائے، انہیں ملتِ اسلامیہ کا سچا خادم اور دین کا مضبوط سپاہی بنائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم و آلہ و اصحابہ و ازواج مطہراتہ و اولیاء امتہ رضوان اللہ علیہم اجمعین
پروردۂ جامع اشرف
گدائے حضور شیخ اعظم
محمد ناظم حبیبی اشرفی جامعی
بتاریخ: ١٨ شوال المکرم ١٤٤٧ھ
بمطابق 7 اپریل 2026ء بروز منگل