07/08/2026
Jawab shikwa
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہے خاک سے اڑتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے عشق تھا فتنہ گرو سرکش و چالاک میرا آسماں چیر گیا نالہ بے باک میرا پیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئی بولے سیارے سر عرش بری ہے کوئی چاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئی کہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئی کچھ جو سمجھا میرے شکوے کو تو رضواں سمجھا مجھے جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا عرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیا تاسر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا آ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا غافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیں شوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے تھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہے