Al-Qasas:Centre for Learning History and Teaching

Al-Qasas:Centre for Learning History and Teaching Al-Qasas (Arabic: القصص) in English means “The Story” or” The History .”
A strong grasp of history is vital for aspirants preparing for the UPSC examination

Today's paper : History of World and IslamOrganized by Al-Qasas:Centre for Learning History and Teaching  under supervis...
05/12/2024

Today's paper
: History of World and Islam
Organized by Al-Qasas:Centre for Learning History and Teaching under supervision of Taleem al Qur'an Institute

16/11/2024



07/11/2024

حضرت مُعاذبن جبل( رض)

مکہ شہرمیں جب دینِ اسلام کاسورج طلوع ہوا ٗاوراللہ عزوجل کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کوتمام دنیائے انسانیت کیلئے رہبرورہنماکی حیثیت سے مبعوث فرمایاگیا…تب مکہ سے بہت دورمدینہ (جسے اُس دورمیں یثرب کہاجاتاتھا)میں مشہورومعروف خاندان ’’بنوسَلَمَہ‘‘سے تعلق رکھنے والا معاذبن جبل نامی یہ شخص بالکل ہی نوجوان تھا،اپنے ہم عمرنوجوانوں میں اسے اپنی فہم وفراست ٗ فصاحت وبلاغت ٗ قوتِ بیان ٗ نیزجرأت وشجاعت کے لحاظ سے منفرداورممتازمقام ومرتبہ حاصل تھا،مزیدیہ کہ اس کے سراپااوررنگ وروپ میں فطری طورپرکچھ ایسی کشش تھی کہ جس کی وجہ سے اس معاشرے میں اس کی شخصیت مزیداہمیت اختیارکرگئی تھی،گویا یہ ہردلعزیزقسم کانوجوان تھا۔
یہ تقریباًاُن دنوں کی بات ہے کہ جب دعوتِ حق کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں نبوت کے گیارہویں سال حج کے موقع پرمنیٰ میں ’’یثرب‘‘یعنی مدینہ سے تعلق رکھنے والے چھ افرادمشرف باسلام ہوئے تھے،اورپھراس کے اگلے سال یعنی نبوت کے بارہویں سال حج کے موقع پرمنیٰ میں ہی آپؐ کی دعوتِ حق پرلبیک کہتے ہوئے مدینہ سے تعلق رکھنے والے بارہ افرادنے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خفیہ ملاقات کی تھی،نیز اس موقع پرانہوں نے آپؐ کے دستِ مبارک پربیعت بھی کی تھی ،جسے بیعتِ عقبہ اُولیٰ کہاجاتاہے۔
اس موقع پرانہوں نے گذارش کی تھی کہ ’’اے اللہ کے رسول!آپ اپنے ساتھیوں میں سے کسی کوہمارے ساتھ مدینہ روانہ فرمائیے…تاکہ وہ وہاں ہمیں اللہ کے دین کی تعلیم دے سکے‘‘
اس پرآپؐ نے اپنے نوجوان صحابی حضرت مصعب بن عمیرؓ کوان کے ہمراہ مدینہ روانہ فرمایاتھا،یوں حضرت مصعب ؓ رسول اللہ ﷺ کے اولین سفیراورنمائندے کے طورپر ٗ نیزمعلم ومربی کی حیثیت سے مدینہ پہنچے تھے۔
مدینہ پہنچنے کے بعدان کی محنت وکوشش اوردعوتی سرگرمیوں کے نتیجے میں اب وہاں بڑی سرعت کے ساتھ دینِ اسلام کی نشرواشاعت ہونے لگی تھی،دینِ اسلام ٗاورپیغمبرِ اسلام کے چرچے گھرگھرہونے لگے تھے،اوریوں بہت جلدمدینہ شہر’’لاالٰہ الاللہ‘‘کے نورسے جگمگانے لگاتھا…
چنانچہ انہی دنوں ایک بارمدینہ کے کسی محلے میں نوجوان (مُعاذبن جبل)نے بھی حضرت مصعب بن عمیرؓ کی گفتگوسنی تھی جوکہ اس کے دل میں اترتی چلی گئی تھی ،اورتب اس نوجوان نے اپنے آبائی دین یعنی کفروشرک سے توبہ کرکے دینِ برحق قبول کرلیاتھا۔
اورپھرنبوت کے تیرہویں سال حج کے موقع پرمدینہ سے آئے ہوئے حجاج میں سے بہتّرافرادنے منیٰ میں عقبہ کے مقام پرجب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خفیہ ملاقات ٗنیزآپؐ کے دستِ مبارک پربیعت بھی کی تھی ٗجسے ’’بیعتِ عقبہ ثانیہ‘‘کے نام سے یادکیا جاتا ہے، تب ان بہتّرخوش نصیب افرادمیں یہ نوجوان معاذبن جبل بھی شامل تھا،یہی وہ یادگارموقع تھاکہ جب اس نوجوان کوزندگی میں پہلی باررسول اللہ ﷺ کادیداراورشرفِ ملاقات نصیب ہواتھا…یہ نوجوان اپنی زندگی کے اس یادگارترین لمحے کوتادمِ آخرکبھی بھلانہیں سکا تھا… کہ جب اس نے شدتِ جذبات سے لرزتاہوااپناہاتھ رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک کی طرف بڑھایاتھا…اورپھربیعت کی تھی…
یہی وہ تاریخی لمحہ تھاکہ جب مدینہ کایہ نوجوان معاذبن جبل اب ہمیشہ کیلئے بدل گیا تھا … اب یہ رسول اللہ ﷺ کے انتہائی جلیل القدرصحابی حضرت معاذبن جبل ؓ تھے، جواُن عظیم ترین انسانوں میں سے تھے جن کی مخلصانہ دعوت اورپرزوراصرارکے نتیجے میں ہی ’’ہجرتِ مدینہ‘‘کاتاریخی واقعہ پیش آیاتھا،اورپھرمسلمانوں کے حالات ہمیشہ کیلئے بدل گئے تھے،ایک نئی زندگی کاآغازہواتھا…ایسی زندگی …جوہرلحاظ سے مکی زندگی سے یکسر مختلف تھی۔
بیعتِ عقبہ ثانیہ کے بعدحضرت معاذبن جبل ؓ جب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکہ سے واپس مدینہ لوٹے ،تب انہوں نے اپنے ہم عمرنوجوان ساتھیوں اوردوستوں کی مددسے مدینہ میں یہ عجیب وغریب مشغلہ اپنایاکہ یہ لوگ رات کے اندھیرے میں خفیہ طورپرلوگوں کے گھروں سے ان کے بتوں کواٹھاکرکہیں غائب کردیاکرتے تھے…لوگوں کے گھروں سے یوں اچانک ان کے خداؤں (بتوں )کاغائب ہوجانا…یہ چیزان لوگوں کیلئے بڑی پریشانی اورغصے کاباعث تھی…لیکن یہ صورتِ حال جہاں ایک طرف ان لوگوں کیلئے بہت زیادہ غصے اورجھنجھلاہٹ کاسبب بنی ہوئی تھی …وہیں اس کاایک بہت بڑافائدہ یہ ظاہرہواکہ رفتہ رفتہ اب بہت سے لوگ اپنے ان خداؤں (بتوں ) کی حقیقت کواوران کی بے بسی وبے چارگی کوسمجھنے لگے…وہ لوگ جوسالہاسال سے نسل درنسل کچھ سوچے سمجھے بغیران بتوں کی عبادت کرتے چلے آرہے تھے…اب ان پریہ حقیقت منکشف ہونے لگی کہ’’ یہ کیسے ہمارے خداہیں …کہ جوخوداپنی ہی حفاظت نہیں کرسکتے …توپھرہمیں یہ کیادے سکتے ہیں …؟‘‘لہٰذایہی چیزاب غصے اوراشتعال کی بجائے ان کے قبولِ اسلام کاسبب بننے لگی… اوریوں وہ لوگ بڑی تعدادمیں دینِ اسلام قبول کرتے چلے گئے۔
اسی طرح کاایک واقعہ جوکہ اُن دنوں بہت مشہورہواتھا،وہ یہ کہ مدینہ میں ’’بنوسَلَمَہ‘‘کے نام سے ایک مشہورومعروف خاندان تھا(مسجدِقبلتین جس جگہ واقع ہے وہیں یہ خاندان آباد تھا) عمروبن الجموح نامی شخص اس معززخاندان کاسربراہ تھا،جوکہ کافی صاحبِ حیثیت انسان تھا،اس نے عبادت کی غرض سے اپناایک خاص بت بنارکھاتھاجوکہ کافی قیمتی اورنفیس قسم کی لکڑی کابناہواتھا(۱)جس کی وہ بہت زیادہ دیکھ بھال کیاکرتاتھا،ریشمی غلاف اسے پہنارکھا تھا، اورصبح وشام اسے خوب عمدہ خوشبؤوں کی دھونی دیاکرتاتھا۔(۲)
ایک روزحضرت معاذبن جبل ؓ اوران کے ساتھی نوجوانوں نے رات کے وقت موقع پاکراس بت کواس کی جگہ سے اٹھالیا(۳)اورپھراسے لے جاکرایسی جگہ پھینک دیاجہاں اس خاندان کے لوگ کوڑااورگندگی وغیرہ پھینکاکرتے تھے۔
اس سردارنے جب دیکھاکہ میرابت گھرمیں اپنی جگہ سے غائب ہے …تووہ انتہائی پریشان ہوگیا،اوراس کی تلاش میں نکل کھڑاہوا،آخرتلاش کرتے کرتے اسے اپنابت کوڑے کے ڈھیرپراوندھے منہ پڑاہواملا…تب اسے بہت زیادہ افسوس ہوا،اوراس بت کے ساتھ ایساسلوک کرنے والے پراسے بہت زیادہ غصہ بھی آیا،لہٰذاوہ بت کی طرف دیکھتے ہوئے یوں کہنے لگا’’جس کسی نے میرے اس خداکے ساتھ یہ سلوک کیاہے …وہ بربادہوجائے‘‘ اورپھراسے وہاں سے اٹھاکروہ واپس اپنے گھرلایا،نہلادھلاکرصاف ستھرے نئے ریشمی کپڑے پہنائے ،خوب عمدہ خوشبوبھی لگائی …اورنہایت احترام کے ساتھ اسے اس کی مخصوص جگہ پرسجاکررکھدیا،اورپھرخوب گڑگڑاکراس سے معذرت کرتے ہوئے اورمعافی مانگتے ہوئے یوں کہنے لگا’’کاش اگرمجھے معلوم ہوجائے کہ یہ حرکت کس نے کی ہے تومیں اس کابراحال کرڈالوں …‘‘
اس کے بعدجب دوسرادن گذرااوررات کااندھیراپھیل گیا…تب حضرت معاذبن جبل ؓ کی زیرِقیادت نوعمرلڑکوں کاوہی گروہ پھراُسی طرح چھپتاچھپاتاعمروبن الجموح کے گھرجاپہنچا،جہاں سے انہوں نے اس بت کواٹھایا،اوراس بارکوڑے کیلئے مخصوص ایک دوسری جگہ پرلے جاکراسے پھینک دیا…
صبح جب بوڑھاسردارنیندسے بیدارہواتواسے پھروہی کیفیت نظرآئی ،یعنی اس کاخدا گھر سے غائب تھا…لہٰذاآج پھروہ اس کی تلاش میں نکل کھڑاہوا،پہلے توسیدھااسی جگہ پہنچا جہاں اسے کل یہ بت پڑاہواملاتھا،لیکن آج وہاں اسے مایوسی ہوئی ،لہٰذامسلسل تلاش کے بعدآخردوسرے ایک مقام پراسے وہ غلاظت کے ڈھیرپرپڑاہواملا،کل سے بھی زیادہ بری حالت میں …
تب وہ حسبِ سابق اسے لئے ہوئے واپس اپنے گھرپہنچا،جہاں پہلے تواس نے اسے نہلا دھلاکرصاف ستھراکیا،ریشمی لباس پہنایا،خوب عمدہ خوشبولگائی…لیکن اتناکرنے کے بعدآج اس سے معافی مانگنے کی بجائے اس نے یہ کیاکہ اپنی تلواراس کی گردن میں لٹکادی ، اوراسے مخاطب کرتے ہوئے یوں کہا’’مجھے نہیں معلوم کہ تمہارے ساتھ یہ حرکت کون کرتا ہے؟ لہٰذااگرتم کسی قابل ہو…توآئندہ اپنی حفاظت خودکرلینا…اس لئے میں نے اپنی یہ تلوارتمہارے حوالے کردی ہے‘‘
اس کے بعدجب رات ہوئی تویہی نوعمرلڑکے پھروہاں پہنچ گئے،بوڑھے سردارکودیکھاکہ خوب گہری نیندسورہاہے،تب وہ سیدھے اس بت کے قریب پہنچے ،اس کے گلے میں لٹکی ہوئی تلواراتاری ، اورپھراسے ہمراہ لئے ہوئے روانہ ہوگئے…حسبِ سابق کوڑے کے ایک ڈھیرکے قریب جب پہنچے تواتفاقاًانہیں وہاں ایک مراہواکتانظرآیا،تب انہوں نے رسی کے ذریعے اس بت کواُس مردہ کتے کے ساتھ باندھ دیا،یعنی اب یہ بت اورمردہ کتا دونوں ساتھی ہوگئے…ایک ہی رسی میں بندھے ہوئے…
جب صبح کاسورج طلوع ہوا،بوڑھاسرداراپنے بت کی تلاش میں نکلا…حسبِ سابق اس باربھی اسے اپنابت کوڑے کے ڈھیرپرہی ملا،البتہ اس بارمزیدافسوسناک منظراس نے یہ دیکھاکہ اس کابت اورکتادونوں ایک ساتھ رسی میں بندھے ہوئے اوندھے منہ پڑے ہیں اورکیفیت یہ ہے کہ بت کامنہ مردہ کتے کے جسم کوچھورہاہے…
بوڑھے سردارنے جب یہ حال دیکھاتواپنے بت کومخاطب کرتے ہوئے بڑی ہی حسرت کے ساتھ یوں کہنے لگا’’آہ…اگرتُوواقعی خداہوتاتوآج تُواوریہ مردارکتادونوں گندگی کے اس ڈھیرپریوں ایک ساتھ نہ پڑے ہوتے‘‘
چنانچہ اپنے بت کی اس قدربے چارگی وبے بسی دیکھنے کے بعداب اسے شدت کے ساتھ یہ احساس ہونے لگاکہ ’’جوخوداپنے لئے خیراورشرکامالک نہیں … وہ کسی اورکے کس کام آئیگا؟‘‘
اورپھربالآخرعمروبن الجموح نامی اس سردارنے دینِ اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کیں …جن سے متأثرہونے کے بعداب دینِ برحق قبول کرلیا،یوں مدینہ میں جہاں مسجدِقبلتین موجودہے ،اس مقام پرآبادمشہورخاندان بنوسَلَمَہ کے یہ سرداراب رسول اللہ ﷺ کے صحابی ’’حضرت عمروبن الجموح رضی اللہ عنہ‘‘بن گئے۔اوران کے اس قبولِ اسلام کے پیچھے …توفیقِ الٰہی کے بعد…حضرت معاذبن جبل ؓ اوران کے نوعمرساتھیوں کی گذشتہ سطور میں بیان کی گئی کوشش ہی کاعمل دخل تھا۔
٭…شب وروزکایہ سفرجاری رہا…آخررسول اللہ ﷺ جب ہجرت فرماکرمکہ سے مدینہ تشریف لائے ،تب نوجوان معاذبن جبل ؓ کی کیفیت یہ رہنے لگی کہ ہمہ وقت سائے کی مانند آپؐ کی صحبت ومعیت میں رہتے،بالخصوص یہ کہ فطری طورپرہی چونکہ استعداد وصلاحیت اورذہانت وفطانت میں ان کی ممتازحیثیت تھی …لہٰذاآپؐ کی خدمت میں رہتے ہوئے اب یہ ہمہ وقت تحصیلِ علمِ دین اورکسبِ فیض میں مشغول ومنہمک رہنے لگے…
رسول اللہ ﷺ بھی نوجوان معاذبن جبلؓ کی علمی استعداد ٗ ذہنی صلاحیت ٗ نیزشوق وجستجو کو دیکھتے ہوئے ہمیشہ ان کے ساتھ نہایت ہی شفقت وعنایت کامعاملہ فرماتے تھے،بالخصوص یہ کہ آپؐ نے متعددمواقع پرانہیں انتہائی کارآمداورمفیدونافع قسم کی وصیتیں اورنصیحتیں بھی فرمائیں ۔
مثلاًایک باررسول اللہ ﷺ نے نہایت ہی شفقت کے ساتھ ان کاہاتھ تھامتے ہوئے ارشادفرمایا: یَا مُعَاذ! وَاللّہِ اِنِّي لَأُحِبُّکَ ۔ یعنی’’اے معاذ!اللہ کی قسم میں تم سے محبت کرتاہوں ‘‘ اس کے بعدفرمایا : أُوصِیکَ یَا مُعَاذ! لَاتَدَعَنَّ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ تَقُول: ((اَللّھُمَّ أعِنِّي عَلَیٰ ذِکرِکَ وَشُکرِکَ وَحُسنِ عِبَادَتِکَ))(۱)
یعنی’’اے معاذ!میں تمہیں یہ وصیت کرتاہوں کہ تم ہرنمازکے بعدیہ کلمات کہناکبھی ترک نہ کرنا(اَللّھُمَّ أعِنِّي عَلَیٰ ذِکرِکَ وَشُکرِکَ وَحُسنِ عِبَادَتِکَ)
(اے اللہ!تومیری مددفرمااپنے ذکر ٗ اپنے شکر ٗ اوراچھے طریقے سے اپنی عبادت کرنے پر) یعنی: ’’اے اللہ تومیری مددفرماتاکہ میں تیراذکرکرتارہوں ٗ تیراشکرگذاربنارہوں ٗ اورخوب اچھی طرح تیری عبادت کیاکروں ‘‘۔
رسول اللہ ﷺ کااس طرح معاذبن جبل ؓ کاہاتھ تھامنا،اوریوں شفقت ومودّت کااظہار…حالانکہ آپ ﷺ کو تواللہ عزوجل کی جانب سے انتہائی اعلیٰ وارفع مقام ومرتبے سے نوازاگیا،آپؐ توخیرالبشر ٗسیدالأولین والآخرین ٗ اورافضل الأنبیاء والمرسلین تھے…اس کے باوجودآپؐ کااپنے ایک امتی کے ساتھ یہ اندازِگفتگو…یقینایہ آپؐ کے بلنداخلاق کا ٗ نیزآپؐ کے قلبِ مبارک میں اپنی امت کیلئے خیرخواہی اور شفقت ورحمت کے جذبات کا ایک مظہرتھا(۱)مزیدیہ کہ اس سے اس قدرومنزلت کااظہارہوتاہے جو آپؐ کے قلبِ مبارک میں حضرت معاذبن جبلؓکیلئے تھی۔
حضرت معاذبن جبل ؓ کواللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے جوبے مثال علمی استعداداورصلاحیت وقابلیت عطاء کی گئی تھی ٗنیز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کا جووالہانہ تعلقِ خاطرتھااورآپؐ کی مجلس میں مسلسل حاضری اورکسبِ فیض کاجوسلسلہ تھا…اسی کایہ نتیجہ تھاکہ علم ومعرفت کے میدان میں انہیں نہایت بلندترین مقام ومرتبہ نصیب ہوا،حتیٰ کہ ایک بارخودرسول اللہ ﷺ نے یہ ارشادفرمایا: أعلَمُھُم بِالحَلَالِ وَالحَرَامِ مُعَاذُ بن جَبَل ۔(۲) یعنی ’’میری امت میں حلال وحرام کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے معاذبن جبل ہیں ‘‘
حضرت معاذبن جبل ؓ کویہ شرف بھی حاصل تھاکہ یہ اُن چندگنے چنے افرادمیں سے تھے جن سے رسول اللہ ﷺ وحی لکھوایاکرتے تھے،یعنی ’’کاتبینِ وحی‘‘میں سے تھے، جس سے یقینایہ بات واضح وثابت ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک یہ انتہائی قابلِ اعتمادتھے،لہٰذایہی وجہ تھی کہ آپؐ کے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برگزیدہ جماعت میں اور اس تمام معاشرے میں حضرت معاذبن جبل ؓ کی خاص حیثیت تھی اورانہیں بڑی ہی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا۔
حضرت معاذبن جبل ؓ کے اسی علمی مقام ومرتبے کومدِنظررکھتے ہوئے خودرسول اللہ ﷺ ٗاورپھرآپؐ کے بعدخلفائے راشدین بھی علمی معاملات میں ہمیشہ ان کی خدمات حاصل کرتے رہے۔
چنانچہ ماہِ رمضان ۸ھ؁میں فتحِ مکہ کے یادگارواقعے کے نتیجے میں جب قریش مکہ بہت بڑی تعدادمیں فوج درفوج دینِ اسلام قبول کرنے لگے،تب اس صورتِ حال کے پیشِ نظر آپؐ نے بڑی شدت کے ساتھ اس بات کومحسوس فرمایاکہ اتنی بڑی تعدادمیں ان نومسلموں کی دینی واخلاقی تعلیم وتربیت کیلئے کوئی انتظام بہت ضروری ہے۔
چنانچہ اس مقصدکیلئے آپؐ نے حضرت معاذبن جبل ؓ کوفتحِ مکہ کے بعدوہاں اولین معلم ومربی کی حیثیت سے مقررفرمایا،چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی اپنے لشکرسمیت مکہ سے مدینہ کی جانب واپسی کے بعدبھی کافی عرصے تک یہ وہاں مکہ میں تعلیم وتربیت کے میدان میں گراں قدرخدمات انجام دیتے رہے۔
اسی طرح جب ملکِ یمن کے بہت سے علاقے فتح ہوچکے جس کے نتیجے میں نہایت سرعت کے ساتھ وہاں دینِ اسلام کی نشرواشاعت ہونے لگی …تب وہاں بڑی تعدادمیں ان نومسلموں کی طرف سے بکثرت اس قسم کے پیغام موصول ہونے لگے جن میں ان کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں یہ گذارش کی گئی تھی کہ’’ ہماری دینی واخلاقی تعلیم وتربیت کی غرض سے چندمناسب افراد کوہماری طرف روانہ کیاجائے…‘‘
اس موقع پربھی آپؐ نے اپنے جلیل القدرصحابۂ کرام میں سے چندحضرات کواس کام کیلئے منتخب فرمایا،اوران سب کاسربراہ حضرت معاذبن جبل ؓ کومقررفرمایا۔
اورجب ان حضرات کی روانگی کاوقت آیا،تب رسول اللہ ﷺ بذاتِ خودانہیں رخصت کرنے کی غرض سے کچھ دورتک ان کے ہمراہ چلتے رہے،اس موقع پرآپؐ کی کیفیت یہ تھی کہ آپؐ حضرت معاذبن جبل ؓ کی سواری کے ہمراہ پیدل چل رہے تھے،جبکہ حضرت معاذؓ سوارتھے…یہانتک کہ اسی کیفیت میں چلتے چلتے کافی دورنکل آئے… اور پھرایک جگہ پہنچ کرآپؐ رک گئے،اورحضرت معاذؓ کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے استفسار فرمایا : بِمَ تَقْضِي بَینَھُم یَا مُعَاذ؟ یعنی’’اے معاذ!تم اُن(یمن والوں )کے درمیان کس چیزکے مطابق فیصلے کیاکروگے؟‘‘عرض کیا’’اللہ کی کتاب کے مطابق‘‘آپؐ نے دریافت فرمایا’’اگرتمہیں وہ مسئلہ اللہ کی کتاب میں نہیں ملا، تب کیاکروگے؟‘‘عرض کیا’’تب اللہ کے رسولؐ کی سنت کے مطابق …‘‘آپؐ نے دریافت فرمایا’’اگراللہ کے رسولؐ کی سنت میں بھی نہیں ملا،تب کیاکروگے؟‘‘عرض کیا’’تب میں اجتہادکروں گا‘‘ اس پرآپؐ نے نہایت مسرت کااظہارکرتے ہوئے یہ ارشادفرمایا:
اَلحَمدُلِلّہِ الّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللّہِ ۔ (۱) یعنی’’اللہ کاشکرہے کہ اس نے اپنے رسول کے قاصدکوتوفیق عطاء فرمائی‘‘(یعنی اسے درست بات سُجھائی…)
اورپھررسول اللہ ﷺ کی طرف سے اس مسرت واطمینان کے اظہار کے فوری بعدہی ان الوداعی لمحات میں کچھ ایسی گفتگوہوئی جس کی وجہ سے اب مسرت کی بجائے کچھ صدمے اور رنج وغم کاماحول بن گیا…ہوایہ کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذبن جبل ؓ کو رخصت کرتے ہوئے بالکل ہی آخری لمحات میں یوں ارشادفرمایا: یَا مُعَاذ! اِنَّکَ عَسَیٰ أن لَاتَلْقَانِي بَعدَ عَامِي ھٰذَا … یعنی’’اے معاذ!شایدآج کے بعدتمہاری مجھ سے کبھی ملاقات نہیں ہوسکے گی…‘‘
اورپھرپیچھے مدینہ کی جانب مڑکربغوردیکھتے ہوئے ارشادفرمایا: وَلَعَلَّکَ تَمُرُّ بِمَسجِدِي وَقَبْرِي …(۱) یعنی’’شایدتم میری مسجداورمیری قبرکے قریب سے گذروگے‘‘
(مقصدیہ کہ آج تک توہمیشہ کیفیت یہ رہی تھی کہ تم جب بھی میری اس مسجدمیں آیاکرتے تھے تووہاں مجھ سے ملاقات ہواکرتی تھی،لیکن اب اس سفرسے واپسی پرجب تم میری مسجدمیں پہنچوگے تووہاں مجھ سے ملاقات کی بجائے تم فقط میری قبرہی دیکھ سکوگے)
رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے یہ گفتگوسننے کے بعدحضرت معاذؓ پھوٹ پھوٹ کر رو دئیے …تب ان کے سبھی ساتھی بھی رونے لگے…(۲)
رسول اللہ ﷺ نے جب ان حضرات کویوں رنجیدہ وافسردہ دیکھاتواب ان کی دلجوئی کی خاطرآپؐ نے ارشادفرمایا: اِنّ أولَیٰ النّاسِ بِي المُتَّقُونَ ، مَن کَانُوا وَحَیثُ کَانُوا (۱) یعنی’’میرے ساتھ سب سے زیادہ تعلق والے توبس ’’متقین‘‘ہی ہیں ، وہ جوکوئی بھی ہوں اورجہاں کہیں بھی ہوں ‘‘(۲)
اورپھرحضرت معاذبن جبل ؓ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں سے اس طویل ترین سفرپرروانہ ہوگئے…مدینہ سے یمن…محض اللہ کے دین کی خدمت اوراس کی نشر واشاعت کی خاطر…
حضرت معاذبن جبل ؓ اوران کے ساتھیوں کی اس سفرپرروانگی کے بعدرسول اللہ ﷺ کی طرف سے انہیں دی گئی اطلاع درست ثابت ہوئی،چنانچہ حضرت معاذؓ کی یمن سے واپسی سے قبل ہی آپؐ اپنے اللہ سے جاملے،حضرت معاذؓ کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جوالوداعی ملاقات ہوئی تھی…واقعی وہ ہمیشہ کیلئے ’’الوداعی‘‘ثابت ہوئی،حضرت معاذؓکو اس کے بعدکبھی رسول اللہ ﷺ کادیدارنصیب نہیں ہوسکا،یمن سے واپس مدینہ آمدکے بعداب ان کی اداس اوربے رونق نگاہیں رسول اللہ ﷺ کوتلاش کرتی رہیں ،مسجدِنبوی میں ٗ مدینہ کے گلی کوچوں میں ٗ ہرجگہ ٗ نگری نگری اوربستی بستی ٗ اب معاذؓ کی آنکھیں اس عظیم شخصیت کے دیدارکیلئے تاحیات بس ترستی ہی رہیں کہ جس کادیداراب ممکن نہیں تھا،وہاں اب رسول اللہ ﷺ نہیں تھے،اب فقط آپؐ کی یادیں ٗ آپؐ کی باتیں ٗ اورآپؐ کی نشانیاں باقی تھیں ۔

13/10/2024

When you have outstanding , feel proud. The hardwork of students can be seen through their notebooks.






#


09/06/2024

Amazed when my named some countries and also showed their location.
_____
We have to develop a 's mentality through interactive activities: and crafts, experiments, , , play, exploration, music, sensory play, building projects, activities, and mindfulness exercises.






03/06/2024

:Divided into three main periods:

1. History**: This period spans from the earliest recorded human history until the fall of the Western Roman Empire in 476 AD. Key civilizations include Mesopotamia, Ancient Egypt, Ancient Greece, and Ancient Rome.

2. History**: Also known as the Middle Ages, this period runs from the fall of the Western Roman Empire (476 AD) to the beginning of the Renaissance around the 15th century. It includes significant events such as the rise of feudalism, the spread of Christianity and Islam, and the Crusades.

3. History**: This period extends from the Renaissance (approximately the 15th century) to the present day. It is characterized by major events such as the Reformation, the Age of Exploration, the Industrial Revolution, and the two World Wars.

Islamic education holds significant importance for individuals and society alike. It imparts spiritual guidance, moral v...
24/04/2024

Islamic education holds significant importance for individuals and society alike. It imparts spiritual guidance, moral values, and a sense of community, fostering a deeper understanding of Islam's principles. Additionally, it promotes critical thinking, tolerance, and social responsibility, contributing to personal development and societal cohesion. Moreover, Islamic education preserves cultural heritage and traditions, ensuring continuity across generations.



The Seljuk Empire. سلجوقی سلطنتThe Seljuk Empire was a medieval Turkic Muslim state that existed from the 11th to the 13...
11/04/2024

The Seljuk Empire. سلجوقی سلطنت

The Seljuk Empire was a medieval Turkic Muslim state that existed from the 11th to the 13th century. It was founded by the Seljuk Turks, a nomadic people from Central Asia. At its peak, the Seljuk Empire stretched from Anatolia to Persia, encompassing parts of the Middle East. The Seljuks played a significant role in the spread of Islam and the cultural exchange between the Islamic world and the West during the Crusades. They were known for their military prowess and administrative skills, establishing a network of trade routes and promoting the development of arts and sciences in the regions they controlled.

Today's   10th grade The Ottoman was the largest empire, but in the eighteenth century it gradually declined and one sta...
19/03/2024

Today's 10th grade

The Ottoman was the largest empire, but in the eighteenth century it gradually declined and one state after another fell. One of them was Greece which fell via Treaty of Constantinople signed in 1832 and finally the empire ended in 1923. Seeing this MCQ in today's paper all that history came to my eyes😰.
However, Allama Iqbal (RA) said...
"اگر عثمانیوں پر کوہ گم ٹوٹا تو کیا غم
کہ خون ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا"

04/03/2024

Schools-The Beacon of Enlightenment
Welcome back to school
March 202

03/03/2024

Introduction to History
Syllabus
___________
General introduction to History
Definition and importance of History
Aims and objectives of History
Nature and Scope of History
Sources and Division of History Relationship of History with Geography, Economics and Political Science. Historiography
Methodology of Teaching History
Major important books of World History

04/02/2024

Address

Larkipora/A Awantipora
Awantipur

Telephone

+916006772169

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Qasas:Centre for Learning History and Teaching posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Al-Qasas:Centre for Learning History and Teaching:

Shortcuts

Share

Category