01/01/2026
نئے سال کی ابتدا: شور یا شعور؟
آسنسول کے کچھ علاقوں کے دورے نے ایک تلخ حقیقت آشکار کی کہ آج کے دور میں نیا سال زیادہ تر ڈی جے، باجا اور بے مقصد رقص تک محدود ہو چکا ہے۔ گویا خوشی کا مطلب صرف شور، ہنگامہ اور لمحاتی لذت رہ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی تہذیب ہے؟ کیا یہی ترقی کا معیار؟
اگر ہم ذرا رک کر سوچیں تو نیا سال ہمیں نئی نیت، نئی سمت اور نئی ذمہ داری کا پیغام دیتا ہے۔ کاش ہم سال کی ابتدا اپنے محلے اور شہر کی صفائی سے کرتے، ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت بانٹتے، تعلیمی مقابلوں کے ذریعے نوجوان ذہنوں کو ابھارتے، غریبوں کی مدد اور کمزوروں کا سہارا بنتے—تو یہی جشن حقیقی، پائیدار اور بامقصد ہوتا۔
شور وقتی ہے، مگر اچھا عمل دیرپا ہوتا ہے۔ ڈی جے کی آواز ختم ہو جاتی ہے، مگر کسی بھوکے کو کھانا، کسی بچے کی تعلیم، یا کسی بیمار کی تیمارداری دلوں میں برسوں گونجتی ہے۔ اصل خوشی وہ ہے جو دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ بن کر نمودار ہو۔
نیا سال اگر ذمہ داری کے احساس کے ساتھ شروع ہو تو معاشرہ بدلتا ہے۔ ہمیں ایسے جشن کی ضرورت ہے جو انسانیت کو جوڑے، علم کو بڑھائے اور اخلاق کو مضبوط کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمارے شہروں کو شور سے نکال کر شعور کی طرف لے جاتا ہے—اور یہی نئے سال کی اصل کامیابی ہے۔