QURAN For HUMAN

QURAN For  HUMAN to make the Quran Message viral plz join this group.

10/03/2026
06/03/2026

اتباع کا ایک مفہوم یہ ہے کہ کسی کے پیچھے اس رفتار سے چلنا کہ اس کو پالینا چھو لینا پکڑ لینا۔
سبحان اللہ العظیم۔
القرآن - سورۃ نمبر 26 الشعراء
آیت نمبر 52

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِىۡۤ اِنَّكُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:
اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل تم سب پیچھا کئے جاؤ گے۔

قرآن مجید کے مطابق خود کو آپ ڈیٹ کریں
05/03/2026

قرآن مجید کے مطابق خود کو آپ ڈیٹ کریں

26/02/2026

کتمان حق اور علماء دین
قمر فلاحی

یہ بات بڑے زور شور سے بیان کی جاتی ہے کہ رمضان المبارک میں قرآن مجید سننے کا بڑا ثواب ہے،اسی بنیاد پہ متعینہ دنوں کی تراویح اور شبینہ کا چلن ہوا ہے۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید پڑھنے پہ ثواب ہے سننے پہ نہیں۔
سننے پہ کیا ثواب ہے یہ کسی حدیث میں میرے علم کے مطابق مذکور نہیں ہے ،یقینا وہ لوگ جو قرآن پڑھ ہی نہیں سکتے وہ اگر بیٹھ کر لیٹ کر بھی قرآن مجید سنیں گے تو یقینا ان کو ثواب ضرور ملے گا مگر کتنا یہ نہیں معلوم۔

مگر جو لوگ پڑھ سکتے ہیں ان کا سننے پر اکتفاء کرنا تو قرآن مجید وحدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن مجید پڑھا کرتے تھے اور ہم صرف سننے پہ اکتفاء کر رہے ہیں ۔
اگر یہ بات مان لی گئی تو تراویح کی روح بحال ہو جائے گی ان شاءاللہ ۔

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
«مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ {الم} حَرْفٌ، وَلَكِنْ {أَلِفٌ} حَرْفٌ، وَ{لَامٌ} حَرْفٌ، وَ{مِيمٌ} حَرْفٌ».
[حسن] - [رواه الترمذي] - [سنن الترمذي - 2910]

آج ایک نورانی مجلس کا میں حصہ بنا۔موقع تھا المنار ایجوکیٹر ارریہ کے سالانہ قرآن مجید مسابقہ کا۔اللہ تعالیٰ حاسدین کی حسد...
14/02/2026

آج ایک نورانی مجلس کا میں حصہ بنا۔
موقع تھا المنار ایجوکیٹر ارریہ کے سالانہ قرآن مجید مسابقہ کا۔
اللہ تعالیٰ حاسدین کی حسد سے ادارے کو محفوظ رکھے اور قوم وملت کے حق میں مفید بنائے رکھے آمین ۔
قمر فلاحی

27/01/2026

ایک آیت اور حیرتناک نکتے
قمر فلاحی

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(11)
الله پہلے بناتا ہے پھر دوبارہ بنائے گا پھر اس کی طرف پھرو گے۔
سورہ روم
آیت کریمہ میں بہت باریک نکتے موجود ہیں:
مخلوق کی ابتدا ہوئی ہے۔یعنی پنر جنم نہیں ہوا ہے۔ہر مخلوق اپنی منفرد حیثیت پہ قائم ہے کسی سے متصل نہیں ہے۔
اب آپ کسی پیڑ پودا کو سامنے میں رکھ کر اسے بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ ہر پیڑ کی ایک ابتدا ہوتی ہے یا تو اس کی بنیاد بیج ہوتی ہے یا پھر ٹہنی بطور قلم کے اسے لگایا گیا ہوتا ہے
اب ان دونوں طریقوں کو اگر دہرایا نا جائے تو کوئ بھی پیڑ اگ ہی نہیں سکتا۔

ثُمَّ یُعِیْدُهٗ
اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کا اعادہ کرےگا یعنی قیامت میں اس مخلوق کی پھر ابتدا ہوگی۔ایک مفہوم تو یہ سمجھ میں آتا ہے۔
مخلوق کی ابتدا جہاں سے ہوئ ہے اللہ تعالیٰ پھر اسے اسی حالت پہ لوٹا دیگا۔
انسان کی پیدائش کا ذریعہ نطفہ ہے اور نطفہ آگ ہوا پانی مٹی خوراک اور اناج کے استعمال کے بعد ہی تیار ہوتا ہے۔
اب دوسرا مفہوم یہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد پھر کائنات میں سما جائے گا۔اب چاہے انسان کو دفن کیا جائے یا پھر جلایا جائے اسے کائنات میں ضم ہونا ہی ہے۔
ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
پھر ساری مخلوقات کو اور خصوصا انسانوں کو لوٹنا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف۔
جہاں سے سفر شروع ہوتا ہے اسی جگہ پہ دوبارا پہونچنے کو رجعت کہتے ہیں۔
اب آپ حیرت انگیز نکتہ ملاحظہ فرمائیں کہ حضرت آدم علیہ السلام عرش سے بھیجے گئے اور ساری انسانیت اک دن اسی عرشِ کی طرف لوٹ جائے گی۔

ایک ہی آیت میں تین فعل، تینوں الگ الگ اور تینوں کا ایک ہی فاعل ۔
آخری فعل مجہول ہے ،اور اس میں بھی بڑی بلاغت کہ انسانوں کو خواہی نا خواہی پلٹنا ہی ہے۔اس میں انسانوں کیلئے کوئ چوائس نہیں ہے کہ چلو ہم دنیا میں رہ لیتے ہیں ہمیں جنت جہنم سے کیا لینا دینا ۔

تصور کریں ایک آیت میں جب اس قدر اہتمام ہے تو پھر مکمل قرآن کا کیا حال ہوگا۔
سبحان اللہ العظیم

12/12/2025

سورہ بنی اسرائیل تدبرانہ مطالعہ
ڈاکٹر محمد شمیم قمر فلاحی
سلسلہ ( 7)
مندرجہ ذیل آیات میں چند نکات قابل غور ہیں:

(الف) غلبہ ایک نعمت ہے۔
اسلام ہمیشہ غالب ہونا چاہتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام الہی دین ہے، تو پھر بھلا یہ مغلوب کیسے رہ سکتا ہے؟

(ب) مال واولاد کی کثرت ایک مدد ہے (asset)
جن کو اللہ تعالیٰ نے مال و اولاد میں کثرت دی ہے ان پہ خاص انعام کیا ہے۔
یہ عجیب بات ہے کہ اکثریت مال میں کثرت کا طلب گار ہے مگر اولاد کی کثرت جو کہ ایک عظیم نعمت ہے اس کو عیب سمجھتی ہے اور اسے اپنی غربت کا باعث سمجھتی ہے۔
ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ نعمت زحمت کیسے ہوسکتی ہے؟

(ج)کسی قوم وملت کا اکثریت میں ہونا بھی ایک نعمت ہے۔
آج دنیا کی سب سے بڑی اکثریت عیسائیوں کی ہے۔اور یہ کثرت کسی ڈر وخوف اور لالچ کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کیوں کہ عیسائیت ایک مشنری قوم ہے۔
دوسری اکثریت اسلام اور مسلمانوں کی ہے اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اسلام بھی ایک مشنری امت ہے۔
----------۔

القرآن - سورۃ نمبر 17 الإسراء
آیت نمبر 6

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ رَدَدۡنَا لَـكُمُ الۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ وَاَمۡدَدۡنٰـكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ وَجَعَلۡنٰكُمۡ اَكۡثَرَ نَفِيۡرًا ۞

ترجمہ:
پھر ہم نے ان پر تمہارا غلبہ دے کر تمہارے دن پھیرے اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تمہیں بڑے جتھے والا بنادیا ۔

08/12/2025

اے آئ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور اسلام
ڈاکٹر محمد شمیم قمر فلاحی

اسلام میں دجل اور دجال کا تذکرہ بھرا پڑا ہے۔اسی طرح فسق کا تذکرہ بھی کثرت سے موجود ہے۔اگر یہ دو تصورات آپ کے سامنے واضح ہوں تو پھر اے آئ کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔
اے آئ معلومات اور ٹکنالوجی کی جدید ترین سہولیات کا نام ہے جو بہت سریع اور فاسٹ ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اکثریت ابھی فاسٹ ہوئ نہیں ہے۔آج بھی اکثریت نٹ کا استعمال صرف سوشل میڈیا کیلئے کرتی ہے۔اکثریت کے پاس سسٹم نہیں ہے آئ فون نہیں ہے تو پھر اے آئ کس کیلئے ہے؟ ظاہر ہے اس کا جواب یہ ہے کہ بروقت یہ مالداروں کی سہولیات کیلئے ہے اور کم پیسے والوں کو عادت ڈلوانے کیلئے ہے۔

اے آئ کی معلومات کو مکمل طور پہ پرفیکٹ نہیں کہا جاسکتا۔خصوصا اسلام کے متعلق تو یہ بالکل متعصب اور دجالی ہے۔

علم اور معلومات کے متعلق اسلام کی تعلیمات بالکل واضح اور روشن ہیں:

(الف) علم کا حصول فزیکل ہوگا

اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو سکھایا۔ اس میں فاعل اللہ تعالی ہے۔اس سے مراد براہ راست اور فزیکل سکھانا بھی لیا جاسکتا ہے۔

(ب) سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو براہ راست سکھایا۔اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فزیکلی عوام کو سکھایا۔

اس سے معلوم ہوا کہ جس سے علم لیا جائے وہ ذات معتبر ہو۔
(ج) احادیث کی درجہ بندی : متواتر ،صحیح اور ضعیف بھی اسی اصول کو واضح کرتے ہیں کہ گرچہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے مگر اس کی روایت کس نے کی ہے اسے دیکھنا لازم ہے۔
یعنی ہر وہ بات جسے حدیث کہہ دی جائے درست اور قابل اتباع نہیں ہو سکتی۔

(د) قرآن مجید میں واضح طور پہ کہا گیا ہے کہ فاسق اگر کوئ خبر دے تو اس کی چھان پھٹک ہونی چاہیے ورنہ مصیبت میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ(6) الحجرات
ترجمہ:
اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ

اور طاہر ہے کہ اے آئ کا کنٹرول فاسقوں کے ہاتھ میں ہے۔
قرآن مجید میں دوسری جگہ ہے : اھل ذکر سے معلومات حاصل کرو اگر تم نہیں جانتے۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْــٴَـلُـوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(43) النحل
ترجمہ:
اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے اے لوگو!اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو ۔اھل ذکر اھل قرآن وحدیث کو کہتے ہیں یعنی باعمل مومن۔
اسلام نے گواہی کیلئے شرط رکھی ہے کہ وہ مومن ہو اور عادل ہو۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنَّ اللَّهَ لا يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ العِبادِ، ولَكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بقَبْضِ العُلَماءِ، حتّى إذا لَمْ يُبْقِ عالِمًا اتَّخَذَ النّاسُ رُؤُوسًا جُهّالًا، فَسُئِلُوا فأفْتَوْا بغيرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وأَضَلُّوا.
الراوي: عبدالله بن عمرو • البخاري، صحيح البخاري (١٠٠) • [صحيح] • أخرجه مسلم (٢٦٧٣) باختلاف يسير اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے زبردستی چھین کر نہیں چھینتا بلکہ علماء کو چھین کر اسے چھین لیتا ہے۔ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہل لیڈروں کو لے لیں گے جن سے سوالات کیے جائیں گے اور بغیر علم کے احکام دیں گے، اس طرح گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
آگر آج اس حدیث کو وسیع نظریے سے دیکھا جائے تو محسوس ہوگا کہ یہ حدیث شاید اسی زمانے کیلئے کہی گئ تھی۔

إنَّ مِن أشْراطِ السّاعَةِ: أنْ يُرْفَعَ العِلْمُ ويَثْبُتَ الجَهْلُ، ويُشْرَبَ الخَمْرُ، ويَظْهَرَ الزِّنا.
الراوي: أنس بن مالك • البخاري، صحيح البخاري (٨٠) • [صحيح] • أخرجه مسلم (٢٦٧١)، والنسائي في ((الكبرى)) (٥٨٧٤)، وأبو يعلى (٤١٧٩) واللفظ لهم.
قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہیں کہ علم چھین لیا جائے گا اور جہالت غالب آ جائے گی، شراب پی جائے گی اور زنا عام ہو جائے گا۔

مذکورہ بالا تمام دلائل کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ شرعی اعتبار سے دینی معلومات کیلئے اے آئ معتبر نہیں ہے۔

اب ایک اور نکتہ ملاحظہ فرمائیں کہ آے آئ کے پاس مذاکرہ اور ڈسکشن کا آپشن نہیں ہے اس کیلئے لامحالہ کسی بشر سے رجوع کرنا ہی ہوگا۔
غور طلب یہ بھی ہے کہ جب کسی بشر سے رجوع ہوگا تو اس کی عزت بھی ہوگی اور اس شوق میں علم وتحقیق کے میدان میں آگے بھی بڑھیں گے ورنہ اھل علم دنیا سے ناپید ہوجائیں گے۔اس کی مثال ہم آج کل ڈاٹا آپریٹر کی شکل میں دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک میٹرک انٹر پاس طالب علم کسی آئ اے ایس کو بریف کرتا ہے یا پھر اس کے سامنے ایک قابل آفسر خود کو ان پڑھ گردانتا ہے۔سوچ کر دیکھیں تو اس سے بڑی ذلت اور کچھ نہیں ہو سکتی۔
زندوں کی موجودگی میں مردہ اور غیر مرئ چیزوں کو اپنا امام اور معلم بنانا یہ کھلا دجل وفریب ہے اور کچھ نہیں۔

25/11/2025

حیرتناک کلام
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہود سے متعلق فرمایا کہ ان میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ اگر انہیں ڈھیر ساری دولت (قنطار) کا امین بناؤ تو وہ اسے واپس کر دیں گے اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر انہیں ایک ادھیلہ( دینار) کا امانت دار بنادو تو وہ اسے واپس نہیں کریں گے۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے ایک بڑی سی بڑی رقم جس کی کوئ حد نہ ہو اس کیلئے قنطار استعمال کیا اور اس کے مقابل روپئے پیسے کی یونٹ دینار کو پیش کیا ۔
اس سے اچھی تمثیل ممکن نہیں ہوسکتی۔

ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ یہود سارے کے سارے ایک طرح کے نہیں ہیں۔ ان میں اچھے لوگ بھی ہیں۔

ہمیں یہ آیت وسعت ظرفی سکھاتی ہے۔

آگے اسی سورہ میں :۞ لَيْسُوا سَوَاءً ۗ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ (113) آل عمران
کہا گیا ہے اور اس میں یہود کی مومنانہ صفات کا ذکرہے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے "لیس بظلام للعبید"( وہ اپنے بندوں پہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ،نا انصافی نہیں کرتا)
جو کہا ہے یہ اس کی اعلی ترین مثال ہے۔
سبحان اللہ العظیم

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَۚ-وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآىٕمًاؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌۚ-وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(75) سورہ آل عمران
ترجمہ: کنزالایمان
اور کتابیوں میں کوئی وہ ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک ڈھیر امانت رکھے تو وہ تجھے ادا کردے گا اور ان میں کوئی وہ ہے کہ اگر ایک اشرفی اس کے پاس امانت رکھے تو وہ تجھے پھیر کر نہ دے گا مگر جب تک تو اس کے سر پر کھڑا رہے- یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ اَن پڑھوں کے معاملہ میں ہم پر کوئی مؤاخذہ نہیں اور اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتے ہیں
قمرفلاحی

Address

Araria

Telephone

+919572855009

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when QURAN For HUMAN posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to QURAN For HUMAN:

Shortcuts

Share

Category