30/06/2022
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=178208877900593&id=100071344443534&sfnsn=wiwspwa
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
عیدالاضحیٰ غریبوں کے لیے باعث رحمت ہے
✍️ محمد موسیٰ عبد الغفور
دین اسلام کی دو اہم عیدوں میں سے ایک عید عید الأضحی ہے ۔ جو ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو عالم اسلام میں جوش وخروش کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ عیدالاضحیٰ انتہائی با مقصد اور یادگار دن ہے۔ امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالی کے بعد انبیاء کرام اور رسولوں کا مقام و مرتبہ سب سے اعلی و ارفع ہے۔ انبیائے کرام اور رسولوں نےہی دین اسلام کی ترویج و اشاعت کی۔ دین کی نشرواشاعت میں بہت ساری آزمائشوں کا سامنا کیا۔ اللہ تعالی کے جلیل القدر انبیاء میں سے ایک نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام ہے جنہوں نے استقامت دین کی خاطر اپنی پوری زندگی قربان کر دیے۔ یہاں تک کہ اپنے لخت جگر،نور نظر،کلیجے کی کور،جگر گو شہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ یہ جذبہ قربانی اور استقامت اللہ تعالی کو اس قدر پسند آئ کہ اسے ہر دور کے لیےایمانی معیار اور کسوٹی قرار دیاہے۔ قرآن کریم نے اس کی منظر کشی یوں فرمائ۔"فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰىؕ-قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ٘-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ"(الصافات:۱۰۲) پس اللہ تعالی کا حکم تھا۔ آپ نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے مان لیالیکن اللہ تعالی کو اسماعیل علیہ السلام کی قربانی نہیں چاہیے تھی بل کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تقوی اللہ تعالی کو مقصود تھا۔ ابراہیم علیہ السلام اس آزمائش میں کامیاب ہوئے۔ اللہ تعالی نے جنت سے ایک مینڈھا بطور ہدیہ قربانی کے لیے اتارا۔ جس کا قرآن یوں نقشہ کھینچتا ہے۔"إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ . وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ"(الصافات:١٠٦تا۱۰۷)
اب جاننے کی کوشش کرتےہیں کہ عیدالاضحی سے کن لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اور اس متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا فرمان ہے۔ جب ہم حدیث مبارکہ کا عمیق نگاہ سے مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ غرباء ومساکین کے لیے عید الاضحی باعث رحمت ہے۔ اس موقع اور مناسبت سے اس کی کچھ مالی امداد ہو جاتی ہے۔"عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَتُلْقِي سِخَابَهَا"(رواہ مسلم:٢٠٥٧) تو پتہ چلا کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن صدقہ کرنے پر ابھارا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔"قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ لِكَيْ تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا، أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"(رواہ ابوداؤد:٢٧١٣وصححہ البانی) اس حدیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کہ ابتدائے اسلام میں تین ہی دن تک قربانی کا گوشت کھانے کی اجازت تھی لیکن بعد میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نے تین دن کے بعد تک کھانے اور ذخیرہ کرنے کی اجازت دی۔ اور مساکین و غرباء کا بھی حق ادا کرنے کا حکم دیا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ" فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادَّخِرُوا الثُّلُثَ، وَتَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ"(رواہ ابوداؤد:٢٨١٢وصححہ البانی) مذکورہ تمام روشن دلائل قاطع سے یہ بات اظہر من الشمس کی طرح ظاہر و باہر ہو جاتی ہے کہ عید الاضحی کی قربانی سے ان غریبوں کے یہاں بھی گوشت کا چولہا جل جاتا ہے جو خود اپنے سے گوشت کا چولہا نہیں جلاپاتے ہیں۔
ہم یہ عزم مصمم کر لیں کہ اس مرتبہ عید کے مبارک وسعادت دن میں ان غریبوں کو بھی اپنے فرحت وانبساط میں شریک کریں جو عید کے پر مسرت موقع پرغمگینی کے شکار ہوتے ہیں۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سبھوں کو عیدالاضحیٰ کے فیوض و برکات سے مالا مال کرے آمین ثم آمین تقبل یارب العالمین۔
موبائل 8409415739
👈 نوٹ : - مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں۔ایس آر میڈیا کاان سےاتفاق ضروری نہیں
👈 ایس آر میڈیا پیج کو لائیک فالو اور شیر کر کے شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔